• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

مرزا قادیانی کی تفسیر مسیح موعود جدید جلد نمبر 1 یونیکوڈ ، صفحہ 33 تا 100

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
صفحہ 33



بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ‎﴿١﴾‏الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‎﴿٢﴾‏الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ‎﴿٣﴾‏مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ‎﴿٤﴾‏إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ‎﴿٥﴾‏اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ‎﴿٦﴾‏صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ‎﴿٧﴾‏


ترجمہ: خدا جس کا نام اللہ ہے تمام اقسام تعریفوں کا مستحق ہے۔ اور ہر ایک تعریف اسی کی شان کے لائق ہے کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔ وہ رحمان ہے، وہ رحیم ہے، وہ مالک یوم الدین ہے۔ ہم (اے صفات کاملہ والے) تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے۔ اور ان راہوں سے بچا جو ان لوگوں کی راہیں ہیں جن پر تیرا غضب طاعون وغیرہ عذابوں سے دنیا ہی میں وارد ہوا اور نیز ان لوگوں کی راہوں سے بچا کہ جن پر اگر چہ دنیا میں کوئی عذاب وارد نہیں ہوا مگر اخروی نجات کی راہ سے وہ دور جا پڑے ہیں اور آخر عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ (ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 246)

بسم اللہ الرحمن الرحيم

یہ آیت سورة مدوحہ٭ کی آیتوں میں سے پہلی آیت ہے اور قرآن شریف کی دوسری سورتوں پر بھی لکھی گئی ہے اور ایک اور جگہ بھی قرآن شریف میں یہ آیت آئی ہے اور جس قدر تکرار اس آیت کا قرآن شریف میں بکثرت پایا جا تا ہے اور کسی آیت میں اس قدر تکرارنہیں پایا جاتا۔ اور چونکہ اسلام میں یہ سنت ٹھہر گئی ہے کہ ہر ایک کام کے ابتدا میں جس میں خیر اور برکت مطلوب ہو بطریق تبرک اور استمداد اس آیت کو پڑھ لیتے ہیں اس لئے یہ آیت دشمنوں اور دوستوں اور چھوٹوں اور بڑوں میں شہرت پائی ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تمام قرآنی آیات سے بے خبر مطلق ہو تب بھی امید قوی ہے کہ اس آیت سے ہرگز اس کو بے خبری نہیں ہوگی۔
اب یہ آیت جن کامل صداقتوں پرمشتمل ہے ان کو بھی سن لینا چاہے سومنجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اصل مطلب اس آیت کے نزول سے یہ ہے کہ تا عا جز اور بے خبر بندوں کو اس نکتہ معرفت کی تعلیم کی جائے کہ ذات واجب الوجود ک اسم اعظم جواللہ ہے کہ جو اصطلاح قرآنی ربانی کے رو سے ذات مستجمع جميع صفات کا ملہ اور منزہ عن جمیع رذائل اور معبود برحق اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیض پر بولا جاتا ہے۔ اس اسم اعظم کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭سورة فاتحہ


page56output.jpg
 
آخری تدوین :

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
صفحہ34


بہت سی صفات میں سے جو دو صفتیں بسم اللہ میں بیان کی گئی ہیں یعنی صفت رحمانیت اور رحیمیت انہیں صفتوں کے تقاضا سے کلام الہی کا نزول اور اس کے انوار و برکات کا صدور ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا کے پاک کلام کا دنیا میں اترنا اور بندوں کو اس سے مطلع کیا جانا ہی صفت رحمانیت کا تقاضا ہے کیونکہ صفت رحمانیت کی کیفیت (جیسا کہ آگے بھی تفصیل سے لکھا جائے گا ) یہ ہے کہ وہ صفت بغیر سبقت عمل کسی عامل کے محض جود اور بخشش الہی کے جوش سے ظہور میں آتی ہے جیساخدانے سورج اور چاند اور پانی اور ہوا وغیرہ کو بندوں کی بھلائی کے لئے پیدا کیا ہے۔ یہ تمام جوداور بخشش صفت رحمانیت کے رو سے ہے۔ اور کوئی شخص دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ چیز یں میرے کسی عمل کی پاداش میں بنائی گئی ہیں ۔ اسی طرح خدا کا کلام بھی کہ جو بندوں کی اصلاح اور رہنمائی کے لئے اترا وہ بھی اس صفت کے رو سے اترا ہے۔ اور کوئی ایسا متنفس نہیں کہ یہ دعویٰ کرکر سکے کہ میرے کسی عمل یا مجاہدہ یا کسی پاک باطنی کے اجر میں خدا کا پاک کلام کہ جو اس کی شریعت پرمشتمل ہے نازل ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر چہ طہارت اور پاک باطنی کا دم مارنے والے اور زہد اور عبادت میں زندگی بسر کرنے والے اب تک ہزاروں لوگ گزرے ہیں لیکن خدا کا پاک اور کامل کلام کہ جو اس کے فرائض اور احکام کو دنیا میں لایا اور اس کے ارادوں سے خلق الله کومطلع کیا انہیں خاص وقتوں میں نازل ہوا ہے کہ جب اس کے نازل ہونے کی ضرورت تھی۔ ہاں بیضرور ہے کہ خدا کا پاک کلام انہیں لوگوں پر نازل ہوکہ جو تقدس اور پاک باطنی میں اعلی درجہ رکھتے ہوں ۔ کیونکہ پاک کو پلید سے کچھ میں اور مناسبت نہیں لیکن یہ ہر گز ضرور ہیں کہ ہر جگہ تقدس اور پاک باطنی کلام الہی کے نازل ہونے کو تلزم ہو بلکہ خدائے تعالی کی حقانی شریعت او تعلیم کا نازل ہونا ضرورات حلقہ سے وابستہ ہے۔ پس جس جگہ ضرورات حقہ پیدا ہو گئیں اور زمانہ کی اصلاح کے لئے واجب معلوم ہوا کہ کلام الہی نازل ہواسی زمانہ میں خدائے تعالی نے جعلیم مطلق ہے اپنے کلام کو نازل کیا اور کسی دوسرے زمانہ میں گولاکھوں آ دی تقوی اور طہارت کی صفت سے متصف ہوں اور ویسی ہی تقدس اور پاک باطنی رکھتے ہوں ان پر خدا کا وہ کامل کلام ہرگز نازل نہیں ہوتا کہ جو شریعت حقانی پرمشتمل ہو۔ ہاں مکالمات ومخاطبات حضرت احدیت کے بعض پاک باطنوں سے ہو جاتے ہیں اور وہ کبھی اس وقت کہ جب حکمت الہیہ کے نزدیک ان مکالمات اورمخاطبات کے لئے کوئی ضرورت حقہ پیدا ہو۔ اور ان دونوں طور کی ضرورتوں میں فرق یہ ہے کہ شریعت حقانی کا نازل ہونا اس ضرورت کے وقت پیش آتا ہے کہ جب دنیا کے لوگ باعث ضلالت اور گمراہی کے جادۂ استقامت سے منحرف ہو گئے ہوں اور ان کے

page57output.jpg
 
آخری تدوین :

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
صفحہ 35

راه راست پر لانے کے لئے ایک نئی شریعت کی حاجت ہو کہ جوان کی آفات موجودہ کا بخوبی تدارک کر سکے اور ان کی تاریکی اور ظلمت کو اپنے کامل اور شافی بیان کے نور سے بھی اٹھا سکے اور جس طور کا علاج حالت فاسدہ زمانہ کے لئے درکار ہے وہ علاج اپنے پر زور بیان سے کر سکے لیکن جو مکالمات ومخاطبات اولیاء اللہ کے ساتھ ہوتے ہیں ان کے لئے غالبا اس ضرورت عظمی کا پیش آنا ضروری نہیں بلکہ بسا اوقات صرف اسی قدر ان مکالمات سے مطلب ہوتا ہے کہ تا ولی کے نفس کو کسی مصیبت اور محنت کے وقت صبر اور استقامت کے لباس سے نقل کیا جائے یاکسی غم اور ان کے غلبہ میں کوئی بشارت اس کو دی جائے مگر وہ کامل اور پاک کلام خدائے تعالی کا کہ جو نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے وہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے اس ضرورت حلقہ کے پیش آنے پر زول فرماتا ہے کہ جب خلق الله کو اس کے نزول کی بشدت حاجت ہو۔ غرض کلام الہی کے نازل ہونے کا اصل موجب ضرورت حقہ ہے۔ جیا کی تم دیکھتے ہو کہ جب تمام رات کا اندھیر ہو جاتا ہے اور کچھ نور باقی نہیں رہتا تو اسی وقت تم مجھ جاتے ہو کہ اب مادونو کی آمدنزدیک ہے ۔ اسی طرح جب گمراہی کی ظلمت سخت طور پر دنیا پر غالب آجاتی ہے تو عقل سلیم اس روحانی چاند کے نکلنے کو بہت نزد یک نبھتی ہے۔ ایسا ہی جب امساک باراں سے لوگوں کا حال تباہ ہو جا تا ہے تو اس وقت قلمند لوگ باران رحمت کا نازل ہوتا بہت قریب خیال کرتے ہیں اور جیسا کہ خدا نے اپنے جسمانی قانون میں بھی بعض مہینے برسات کے لئے مقرر کر رکھے ہیں لیکن وہ مین جن میں فی احقیقت مخلوق ان کو بارش کی ضرورت ہوتی ہے اور ان مہینوں میں جو مینہ برستا ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاتا کہ خاص ان مہینوں میں لوگ زیادہ نیکی کرتے ہیں اور دوسرے مہینوں میں فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں ۔ بلکہ یہ جھنا چاہئے کہ یہ وہ مہینے ہیں جن میں زمینداروں کو بارش کی ضرورت ہے اور جن میں بارش کا ہو جا نا تمام سال کی سرسبزی کا موجب ہے ایسا ہی کلام الہی کا نزول فرمانا کسی شخص کی طہارت اور تقوی کے جہت سے نہیں ہے مین علت موجب اس کلام کے نزول کی نہیں ہوسکتی کہ کوئی شخص غایت درجہ کا مقدس اور پاک باطن تھا یا راستی کا بھوکا اور پیاسا تھا بلکہ جیسا کہ ہم کئی دفع لکھ چکے ہیں کتب آسانی کے نزول کا اصلی موجب ضرورت حقہ ہے یعنی وہ ظلمت اور تار کی کہ جو دنیا پر طاری ہو کر ایک آسانی نور کو چاہتی ہے کہ تاوہ نور نازل ہو کر اس تاریکی کو دور کرے اور اسی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ جو خدائے تعالی نے اپنے پاک کلام میں فرمایا ہے۔ انا الله في ليلة القدر (القدر:۲) ی لیلتہ القدر اگر چ اپنے مشہور معنوں کے رو سے ایک بزرگ رات ہے لیکن قرآنی اشارات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ

page58output.jpg
 
آخری تدوین :

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
صفحہ 36


دنیا کی ظلمانی حالت بھی اپنی پوشیده خوبیوں میں لیلۃ القدر کا ہی حکم رکھتی ہے اور اس ظلمانی حالت کے دنوں میں صدق اور صبر اور زہد اور عبادت خدا کے نزدیک بڑا قدر رکھتا ہے اور وہی ظلمانی حالت تھی کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت تک اپنے کمال کو بنا کر ایک عظیم الشان پور کے نزول کو چاہتی تھی اور اسی ظلمانی حالت کو دیکھ کر اورظلمت زدہ بندوں پر رحم کر کے صفت رحمانیت نے جوش مارا اور آسانی برکتیں زمین کی طرف متوجہ ہوئیں ۔ سو و ظلمانی حالت دنیا کے لئے مبارک ہوگئی اور دنیا نے اس سے ایک عظیم الشان رحمت کا حصہ پایا کہ ایک کامل انسان اور سید الرسل کہ جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہو گا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور دنیا کے لئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی ۔ پس یہ خدا کی کمال رحمانیت کی ایک بزرگ ملی تھی کہ جو اس نے ظلمت اور تاریکی کے وقت ایسا عظیم الشان پور نازل کیا جس کا نام فرقان ہے جوق اور باطل میں فرق کرتا ہے جس نے حق کو موجود اور باطل کو نابود کر کے دکھلا دیا ۔ وہ اس وقت زمین پر نازل ہوا جب زمین ایک موت روحانی کے ساتھ مر چکی تھی اور بڑ اور بھر میں ایک بھاری فساد واقع ہو چکا تھا میں اس نے نزول فرما کر وہ کام کر دکھایا جس کی طرف اللہ تعالی نے آپ اشارہ فرما کر کہا ہے اعلموا أن الله يخي ارض بموتها (الد ید : ۱۸) یعنی زمین مرگئی تھی اب خدا اس کو نئے سرے زندہ کرتا ہے۔ اب اس بات کو بخوبی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نزول قرآن شریف کا کہ جو زمین کے زندہ کرنے کے لئے ہوابی صفت رحمانیت کے جوش سے ہوا۔ وہی صفت ہے کہ جو بھی جسمانی طور پر جوش مارکر قیا دوں کی خبر دیتی ہے اور باران رحمت خشک زمین پر برساتی ہے اور وہی صفت بھی روحانی طور پر جوش مار کر ان بھوکوں اور پیاسوں کی حالت پر رقم کرتی ہے کہ جو ضلالت اور گمراہی کی موت تک جاتے ہیں اورحق اور صداقت کی غذا کہ جو روحانی زندگی کا موجب ہے ان کے پاس نہیں رہتی۔ پس رحمان مطلق جیسا جسم کی نزاکو اس کی حاجت کے وقت عطا فرماتا ہے ایسا ہی وہ اپنی رحمت کا ملہ کے تقاضا سے روحانی غذا کوبھی ضرورت حق کے وقت مہیا کر دیتا ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا کا کلام انہیں برگزیدہ لوگوں پر نازل ہوتا ہے جن سے خدا راضی ہے اور انہیں سے وہ مکالمات اور مخاطبات کرتا ہے جن سے وہ خوش ہےمگر یہ بات ہر گز درست نہیں کہ جس سے خدا راضی اور خوش ہو اس پر خواہ خواہ بغیر کسی ضرورت حلقه کے کتاب آسانی نازل ہوجایا کرے یا خدائے تعالی یونہی بلاضرورت حلقه سی کی طہارت لازمی کی وجہ سے لازمی اور دائی طور پر اس سے ہر وقت باتیں کرتا رہے بلکہ خدا کی کتاب اسی وقت نازل ہوتی ہے جب فی الحقیقت اس کے نزول کی

page59output.jpg
 
آخری تدوین :

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
صفحہ 37


ضرورت پیش آجائے ۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ وی اللہ کے نزول کا اصل موجب خدائے تعالی کی رحمانیت ہے کسی عامل کامل نہیں اور یہ ایک بزرگ صداقت ہے جس سے ہمارے مخالف برہم وغیرہ بے خبر ہیں۔

پھر بعد اس کے سمجھنا چاہئے کہ کسی فرد انسانی کا کلام الہی کے فیض سے فی الحقیقت مستفیض ہو جانا اور اس کی برکات اور انوار سے متمتع ہو کر منزل مقصود تک پہنچنا اور اپنی سی اور کوشش کے ثمرہ کو حاصل کرنا بی صفت رحیمیت کی تائید سے وقوع میں آتا ہے۔ اور اسی جہت سے خدائے تعالی نے بعد ذکر صفت رحمانیت کے صفت رحیمیت کو بیان فرمایا تا معلوم ہو کہ کلام الہی کی تاثیر میں جونغو انسانی میں ہوتی ہیں بی صفت رحیمیت کا اثر ہے۔ جس قدر کوئی اعراض صوری و معنوی سے پاک ہو جاتا ہے۔ جس قدر کسی کے دل میں خلوص اور صدق پیدا ہوتا ہے جس قدر کوئی جدوجہد سے متابعت اختیار کرتا ہے۔ اسی قدر کلام الہی کی تاثیر اس کے دل پر ہوتی ہے اور اسی قدر وہ اس کے انوار سے متمتع ہوتا ہے اور علامات خاصہ مقبولان الہی کی اس میں پیدا ہو جاتی ہیں۔

دوسری صداقت که جو و الله الرخين الرویو میں موقع ہے یہ ہے کہ یہ آیت قرآن شریف کے شروع کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اور اس کے پڑھنے سے مدعا یہ ہے کہ تا اس ذات جمع جمیع صفات کاملہ سے مدد طلب کی جائے جس کی صفتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ رحمان ہے اور طالب حق کے لئے محض تفضل اور احسان سے اسباب خیر اور برکت اور رشد کے پیدا کر دیتا ہے اور دوسری صفت یہ ہے کہ وہ رحیم ہے یعنی سعی اور کوشش کرنے والوں کی کوششوں کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان کے جد و جہد پر ثمرات حسنه مترتب کرتا ہے اور ان کی محنت کا پھل ان کو عطا فرماتا ہے اور یہ دونوں صفتیں لیکن رحمانیت اور رحیمیت ایسی ہیں کہ بغیر ان کے کوئی کام دنیا کا ہو یا دین کا انجام کو نہیں سکتا اور اگر غور کر کے دیکھو تو ظاہر ہوگا کہ دنیا کی تمام مہمات کے انجام دینے کے لئے ہی دونوں صفتیں ہر وقت اور ہر کام میں لگی ہوئی ہیں ۔ خدا کی رحمانیت اس وقت سے ظاہر ہورہی ہے کہ جب انسان ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ سودہ رحمانیت انسان کے لئے ایسے ایسے اسباب بہم پہنچاتی ہے کہ جو اس کی طاقت سے باہر ہیں اور جن کو وہ سی حیلہ یا تدبیر سے ہرگز حاصل نہیں کر سکتا اور وہ اسباب کسی عمل کی پاداش میں نہیں دیئے جاتے بلک فضل اور احسان کی راہ سے عطا ہوتے ہیں جیسے نبیوں کا آنا، کتابوں کا نازل ہونا، بارشوں کا ہونا ، سورج اور چاند اور ہوا اور بادل وغیرہ کا اپنے اپنے کاموں میں لگے رہنا اور خود انسان کا طرح طرح کی قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ مشرف ہوکر اس دنیا میں آنا اور


page60output.jpg
 
آخری تدوین :

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
صفحہ 38


تندرستی اور امین اور فرصت اور ایک کافی مدت تک عمر پانا یہ وہ سب امور ہیں کہ جو صفت رحمانیت کے تقاضا سے ظہور میں آتے ہیں ۔ اسی طرح خدا کی رحیمیت تب ظہور کرتی ہے کہ جب انسان سب تو فیقوں کو پا کر خداداد قوتوں کو کسی فعل کے انجام کے لئے حرکت دیتا ہے۔ اور جہاں تک اپنا زور اور طاقت اور قوت ہے خرچ کرتا ہے تو اس وقت عادت الہیہ اس طرح پر جاری ہے کہ وہ اس کی کوششوں کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ ان کوششوں پر ثمرات حسنه مترتب کرتا ہے۔ پس ہی اس کی سراسر رحیمیت ہے کہ جو انسان کی مرده مختوں میں جان ڈالتی ہے۔
اب جانا چا ہے کہ آیت مدوح کی تعلیم سے مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کے شروع کرنے کے وقت اللہ تعالی کی ذات جامع صفات کا ملہ کی رحمانیت اور رحیمیت سے استمداد اور برکت طلب کی جائے ۔ صفت رحمانیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذات کامل اپنی رحمانیت کی وجہ سے اس سب اسباب کوض لطف اور احسان سے میسر کردے کہ جو کلام الہی کی متابعت میں جدوجہد کرنے سے پہلے درکار ہیں جیسے عمر کا وفا کرنا، فرصت اور فراغت کا حاصل ہونا ، وقت صفا میسر آ جانا، طاقتوں اور قوتوں کا قائم ہونا، کوئی ایسا امر پیش نہ آ جاتا کہ جو آسائش اور ان میں خلل ڈالے۔ کوئی ایسامانع نا پڑ تا کہ جو دل کو متوجہ ہونے سے روک دے۔ غرض ہر طرح سے توفیق عطا کئے جانا یہ سب امور صفت رحمانیت سے حاصل ہوتے ہیں۔ اور صفت رحیمیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ زات کامل اپنی رحیمیت کی وجہ سے انسان کی کوششوں پرثمرات حسن مترتب کرے اور انسان کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچاوے اور اس کی سعی اور جدوجہد کے بعد اس کے کام میں برکت ڈالے۔ پس اس طور پر خدائے تعالی کی دونوں صفتوں رحمانیت اور رحیمیت سے کلام الہی کے شروع کرنے کے وقت بلکہ ہر یک ذیشان کام کے ابتدا میں تبرک اور استعداد چاہنا یہ نہایت اعلی درجہ کی صداقت ہے جس سے انسان کو حقیقت توحید کی حاصل ہوتی ہے اور اپنے اہل اور بے خبری اور نادانی اور گمراہی اور عاجزی اور خواری پر یقین کامل ہو کر میبد فیض کی عظمت اور جلال پر نظر جا ٹھہرتی ہے اور اپنے میں کئی مفلس اور سکین اور چین اور نا چیز تجھ کر خداوند قادر مطلق سے اس کی رحمانیت اور رحیمیت کی برکتیں طلب کرتا ہے۔ اور اگر چہ خدائے تعالی کی صفتیں خود بخود اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں مگر اس حکیم مطلق نے قدیم سے انسان کے لئے یہ قانون قدرت مقرر کر دیا ہے کہ اس کی دعا اور استمداد کو کامیابی میں بہت سا فعل ہے جولوگ اپنی مہمات میں دلی صدق سے دعا مانگتے ہیں اور ان کی دعا پورے پورے اخلاص تک بن


page61output.jpg
 
آخری تدوین :

کامران افضال

رکن ختم نبوت فورم
تفسیر مسیح موعود جدید پی ڈی ایف ٹو یونیکوڈ کنورٹ صفحہ 62

تفسیر حضرت سیح موعود علیہ السلام
۳۹
سورة الفاتحة
سورة الفاتحة جاتی ہے توضرور فيضان الہی ان کی مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتا ہے۔ ہر یک انسان جو اپنی کمزوریوں پر نگاہ کرتا ہے اور اپنےقصوروں کو دیکھتا ہے وہ کسی کام پر آزادی اور خود بینی سے ہاتھ نہیں اتا بلکہ بچی عبودیت اس کو یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالی کہ جو متصرف مطلق ہے اس سے مدد طلب کرنی چاہئے یہ بھی عبودیت کا جوش ہر یک ایسے دل میں پایا جاتا ہے کہ جو اپنی فطرتی سادگی پر قائم ہے اور اپنی کمزوری پر اطلاع رکھتا ہے۔ پس صادق آدمی جس کی روح میں کسی قسم کے غرور اور جب نے جگہ نہیں پڑھی اور جو اپنے کمزور اور پچ اور بے حقیقت وجود پر خوب واقف ہے اور اپنے میں کسی کام کے انجام دینے کے لائق نہیں پاتا اور اپنے اس میں کچھ توت اور طاقت نہیں دیتا جب کسی کام کو شروع کرتا ہے تو اتصنع اس کی کمزور روح آسانی قوت کی خواستگار ہوتی ہے اور ہر وقت اس کو خدا کی مقتدر ہستی اپنے سارے کمال و جلال کے ساتھ نظر آتی ہے اور اس کی رحمانیت اور رحیمیت ہر یک کام کے انجام کے لئے مدار دکھائی دیتی ہے۔ پس وہ بلا ساخته ا پنا ناقص اور ناکارہ زور ظاہر کرنے سے پہلے بسم الله الرحمن الرحيم کی دعا سے امداد الہی چاہتا ہے پس اس انکسار اور فروتنی کی وجہ سے اس لائق ہو جاتا ہے کہ خدا کی قوت سے قوت اور خدا کی طاقت سے طاقت اور خدا کے علم سے علم پاوے اور اپنی مرادات میں کامیابی حاصل کرے۔ اس بات کے ثبوت کے واسلے کسی منطق یا فلسفہ کے دلائل پر از تكلف در کار نہیں ہیں بلکہ ہر یک انسان کی روح میں اس کے مجھے کی استعداد موجود ہے اور عارف صادق کے اپنے ذاتی تجارب اس کی صحت پر بتواتر شہادت دیتے ہیں۔ بندہ کا خدا سے امداد چاہتا کوئی ایسا امر نہیں ہے جو صرف بیہودہ اور بناوٹ ہو یا جو صرف بے اصل خیالات پر بھی ہو اور کوئی معقول نتیجہ اس پر مترتب نہ ہو بلکہ خداوند کریم کہ جو فی الحقیقت قوم عالم ہے اور جس کے سہارے پر سچ مچ اس عالم کی کشتی چل رہی ہے۔ اس کی عادت قدیمہ کے رو سے یہ صداقت قدیم سے چلی آتی ہے کہ جو لوگ اپنے میں حقیر اور ذلیل سمجھ کر اپنے کاموں میں اس کا سہارا طلب کرتے ہیں اور اس کے نام سے اپنے کاموں کو شروع کرتے ہیں تو وہ ان کو اپنا سہارا دیتا ہے۔ جب وہ ٹھیک ٹھیک اپنی عاجزی اور عبود بیت سے رو بندا ہوجاتے ہیں تو اس کی تائید میں ان کے شامل حال ہو جاتی ہیں ۔ غرض ہر یک شاندار کام کے شروع میں اس مبدء فیوض کے نام سے مدد چاہتا کہ جو رحمان و رحیم ہے ایک نہایت ادب اور عبودیت اور مستی اور فقر کا طریقہ ہے۔ اور ایسا ضروری طریقہ ہے کہ جس سے توحيد في الاعمال کا پہلا زینہ شروع ہوتا ہے جس کے التزام سے انسان بچوں کی سی عاجزی اختیار کر کے ان قوتوں سے پاک ہو جاتا ہے کہ جو دنیا کے مغرور دانشمندوں کے دلوں میں بھری
Tafseer_Page_062.png
 

کامران افضال

رکن ختم نبوت فورم
تفسیر مسیح موعود جدید پی ڈی ایف ٹو یونیکوڈ کنورٹ صفحہ 63

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام
۴۰
سورة الفاتحة


ہوتی ہیں اور پھر اپنی کمزوری اور امداد الہی پر یقین کامل کر کے اس معرفت سے حصہ پالیتا ہے کہ جو خاص ابل اللہ کو دی جاتی ہے اور بلاشبہ جس قدر انسان اس طریقہ کو لازم پکڑتا ہے، جس قدر اس پر عمل کرنا اپنا فرض ٹھہرا لیتا ہے، جس قدر اس کے چھوڑنے میں اپنی ہلاکت دیکھتا ہے اسی قدر اس کی توحید صاف ہوتی ہے اور اسی قدرتیب اور خود مین کی آلائشوں سے پاک ہوتا جاتا ہے اور اسی قدر تکلف اور بناوٹ کی سیاہی اس کے چہرہ پر سے اٹھ جاتی ہے اور سادگی اور بھولا پن کا نور اس کے منہ پر چمکنے لگتا ہے۔ پس ہی وہ صداقت ہے کہ جو رفتہ رفتہ انسان کو فنا فی اللہ کے مرتبہ تک پہنچاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ دیکھتا ہے کہ میرا کچھ بھی اپنا نہیں بلکہ سب کچھ میں خدا سے پاتا ہوں ۔ جہاں کہیں بطریق کسی نے اختیار کیا ہیں توحید کی خوشبو پہلی دفعہ میں ہی اس کو پہنچنے لگتی ہے اور دل اور دماغ کا معطر ہونا شروع ہوتا جاتا ہے بشرطیکہ قوت شامہ میں کچھ فساد نہ ہو۔ غرض اس صداقت کے التزام میں طالب صادق کو اپنے ہیچ اور بے حقیقت ہونے کا اقرار کرنا پڑتا ہے اور اللہ جل شانه کے تصرف مطلق اور مبدد فیش ہونے پر شہادت دینی پڑتی ہے۔ اور یہ دونوں ایسے امر ہیں کہ جوق کے طالبوں کا مقصود ہے اور مرتبہ و فنا کے حاصل کرنے کے لئے ایک ضروری شرط ہے۔ اس ضروری شرط کے سمجھنے کے لئے ہیں مثال کافی ہے کہ بارش اگر چہ عالمگیر ہوکر تا ہم اس پر پڑتی ہے کہ جو بارش کے موقعہ پر آ کھڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح جولوگ طلب کرتے ہیں وہی پاتے ہیں اور جو ڈھونڈتے ہیں انہیں کو ملتا ہے۔ جو لوگ کسی کام کے شروع کرنے کے وقت اپنے ہنر یا عقل یا طاقت پر بھروسارکھتے ہیں اور خدائے تعالی پر بھروسہ نہیں رکھتے وہ اس ذات قادر مطلق کا کہ جو اپنی بیوی کے ساتھ تمام عالم پر محیط ہے کچھ قدر شناخت نہیں کرتے اور ان کا ایمان اس خشک ٹہنی کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو اپنے شاداب اور سرسبز درخت سے کچھ علاقہ نہیں رہا اور جوانی خشک ہوگئی ہے کہ اپنے درخت کی تازگی اور پھول اور پھل سے کچھ بھی حصہ حاصل نہیں کر سکتی صرف ظاہری جوڑ ہے جوذراسی جنبش ہوا سے یا کسی اور شخص کے ہلانے سے ٹوٹ سکتا ہے۔ پس ایسا ہی خشک فلسفیوں کا ایمان ہے کہ جو قیوم عالم کے سہارے پر نظر نہیں رکھتے اور اس مبدء فیض کوجس کا نام اللہ ہے ہر یک طرفه العین کے لئے اور ہر حال میں اپنا حتمان الی قرار نہیں دیتے۔ پس لوگ حقیقی توحید سے ایسے دور پڑے ہوئے ہیں جیسے نور سے ظلمت دور ہے۔ انہیں یہ سمجھ ھی نہیں کہ اپنے تئیں ہیچ اور لاشئے سمجھ کر قادر مطلق کی طاقت عظمی کے نیچے کپڑا عبودیت کے مراتب کی آخری حد ہے اور توحید ک انتہائی مقام ہے جسسے فنا اتم کا چشمہ جوش مارتا ہے اور انسان اپنے اور اس کے ارادوں سے بالکل کھو یا جا تا ہے اور بچےTafseer_Page_063.png
 

کامران افضال

رکن ختم نبوت فورم
تفسیر مسیح موعود جدید پی ڈی ایف ٹو یونیکوڈ کنورٹ صفحہ 64


تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام
۴۱
سورة الفاتحة

دل سے خدا کے تصرف پر ایمان لاتا ہے۔ اس جگہ ان خشک فلسفیوں کے اس مقولہ کو بھی کچھ چیز نہیں سمجھنا چاہئے کہ جو کہتے ہیں کہ کسی کام کے شروع کرنے میں استمداد الہی کی کیا حاجت ہے۔ خدا نے ہماری فطرت میں پہلے سے طاقتیں ڈال رکھی ہیں ۔ پس ان طاقتوں کے ہوتے ہوئے پھر دوبارہ خدا سے طاقت مانگنا تحصیل حاصل ہے۔ کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ بے شک یہ بات سچ ہے کہ خدائے تعالی نے بعض افعال کے بجالانے کے لئے کچھ کچھ ہم کو طاقتیں بھی دی ہیں مگر پھر بھی اس قیوم عالم کی حکومت ہمارے سر پر سے دور نہیں ہوئی اور وہ ہم سے الگ نہیں ہوا اور اپنے سہارے سے ہم کو جدا کرنا نہیں چاہا اور اپنے فیوض غیر متناہی سے ہم کوحروم کر نا روا نہیں رکھا۔ جو کچھ ہم کو اس نے دیا ہے وہ ایک امر محدود ہے۔ اور جو کچھ اس سے مانگا جاتا ہے اس کی نہایت نہیں۔ علاوہ اس کے جو کام ہماری طاقت سے باہر ہیں ان کے حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی ہم کو طاقت نہیں دی گئی۔ اب اگر غور کر کے دیکھو اور ذرا پوری فلسفیت کو کام میں لاو تو ظاہر ہوگا کہ کامل طور پر کوئی بھی طاقت ہم کو حاصل نہیں مثلا ہماری بدنی طاقتیں ہماری تندرستی پر موقوف ہیں اور ہماری تندرستی بہت سے ایسے اسباب پر موقوف ہے کہ کچھ ان میں سے سماوی اور کچھ ارضی ہیں اور وہ سب کی سب ہماری طاقت سے بالکل باہر ہیں اور یہ تو ہم نے ایک موٹی سی بات عام لوگوں کی سمجھ کے موافقت کہی ہے لیکن جس قدر درحقیقت وہ قیوم عالم اپنی علت العلل ہونے کی وجہ سے ہمارے ظاہر اور ہمارے باطن اور ہمارے اول اور ہمارے آخر اور ہمارے قوت اور ہمارے تحت اور ہمارے یمین اور ہمارے یسار اور ہمارے دل اور ہماری جان اور ہماری روح کی تمام طاقتوں پر احاطہ کر رہا ہے وہ ایک ایسا مسئلہ دقیق ہے جس کے کنہ تک عقول بشریہ پہنچ ہی نہیں سکتیں اور اس کے سمجھانے کی اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ جس قدر ہم نے اوپر لکھا ہے وہی مخالف کے الزام اور افہام کے لئے کافی ہے۔ غرض قيوم عالم کے فیض حاصل کرنے کا یہی طریق ہے کہ اپنی ساری قوت اور زور اور طاقت سے اپنا بچاو طلب کیا جائے اور یہ کچھ نیاطریق نہیں ہے بلکہ یہ و ہی طریق ہے جو قدیم سے بنی آدم کی فطرت کے ساتھ لگا چلا آتا ہے۔ جو شخص عبود بیت کے طریقہ پر چلنا چاہتا ہے وہ اسی طریق کو اختیار کرتا ہے اور جو خدا کے فیوض کا طالب ہے وہ اسی راستے پر قدم مارتا ہے۔ اور جوشخص مور در مست ہونا چاہتا ہے وہ انہیں قوانین قد یمیہ تعمیل کرتا ہے۔ یہ قوانین کچھ نئے نہیں ہیں۔ یہ عیسائیوں کے خدا کی طرح کچھ مستحدث بات نہیں۔ بلکہ خدا کا یہ ایک قانون محکم ہے کہ جو قدیم سے بندھا ہوا چلا آتا ہے اور سنت اللہ ہے کہ جو ہمیشہ سے جاری ہے جس کی سچائی کثرت تجارب سے ہریکTafseer_Page_064.png
 

کامران افضال

رکن ختم نبوت فورم
تفسیر مسیح موعود جدید پی ڈی ایف ٹو یونیکوڈ کنورٹ صفحہ 65


تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام
۴۲
سورة الفاتحة

طالب صادق پر روشن ہے اور ایک روشن نہ ہو۔ ہر عاقل سمجھ سکتا ہے کہ ہم لوگ کس حالت ضعف اور ناتوانی میں پڑے ہوئے ہیں اور بغیر خدا کی مددوں کے کیسے لکھے اور ناکارہ ہیں ۔ اگر ایک ذات متصرف مطلق ہر لحظہ اور ہر دم ہماری خبر گیراں نہ ہو۔ اور پھر اس کی رحمانیت اور رحیمیت ہماری کار سازی نہ کرے تو ہمارے سارے کام تباہ ہوجائیں۔ بلکہ ہم آپ ہی فنا کا راستہ ہیں ۔ میں اپنے کاموں کوخصوصا آسانی کتاب کو کہ جو سب امور عظیمہ سے ادق اور الطف ہے۔ خداوند قادر مطلق کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے بہ نیت تبرک و استمداد شروع کرنا ایک ایسی بدیہی صداقت ہے کہ بلا اختیار ہم اس کی طرف کھینچے جاتے ہیں کیوں کہ فی الحقیقت ہر یک برکت اسی راہ سے آتی ہے کہ وہ ذات جو تصرف مطلق اور علت العلل اور تمام فیوض کا مبدع ہے جس کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ ہے خود متوجہ ہو کر اقل اپنی صفت رحمانیت کو ظاہر کرے اور جو کچھ قبل از سعی درکار ہے اس کو محض اپنے تفضل اور احسان سے بغیر توسط عمل کے ظہور میں لاوے۔ پھر جب وہ صفت رحمانیت کی اپنے کام کو تمام و کمال کر چکے اور انسان توفیقی پا کر اپنی قوتوں کے دریہ سے محنت اور کوشش کا حق بجالائے تو پھر دوسرا کام الله تعالی کا یہ ہے کہ اپنی صفت رحیمیت کو ظاہر کرے اور جو کچھ بندہ نے محنت اور کوشش کی ہے اس پر نیک ثمر ہ مرتب کرے اور اس کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچا کر گوہر مراد عطا فرمائے ۔ اسی صفت ثانی کی رو سے کہا گیا ہے کہ جو ڈھونڈتا ہے پاتا ہے، جو مانگتا ہے اس کو دیا جاتا ہے، جوکھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جاتا ہے لیکنی خدائے تعالی اپنی صفت رحیمیت سے کسی کی محنت اور کوشش کو ضائع ہونے نہیں دیتا اور آخر جوئنده یا بندہ ہوجاتا ہے۔ غرض یہ صداقتیں امی بین انطہور ہیں کہ ہر ایک شخص خود تجربہ کر کے ان کی سچائی کو شناخت کرسکتا ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں کہ بشرط کسی قد نقلندی کے یہ بد ہی صداقتیں اس پر بھی رہیں۔ ہاں یہ بات ان عام لوگوں پر نہیں ملتی کہ جولوں کی سختی اور غفلت کی وجہ سے صرف اسباب معتادہ پر ان کی نظر ٹھہری رہتی ہے اور جوذات متصرف في الاسباب ہے اس کے تصرفات لطیفہ پر ان کوعلم حاصل نہیں ہوتا اور نہ ان کی عقل اس قدر وسیع ہوتی ہے کہ جو اس بات کو سوچ لیں کہ ہزار ہا بلکہ بے شمار ایسے اسباب سماوی و ارضی انسان کے ہر یک جسم کی آرائش کے لئے درکار ہیں جن کا بہم پہنچنا ہر گز انسان کے اختیار اور قدرت میں نہیں بلکہ ایک ہی ذات مستجمع صفات کاملہ ہے کہ جو تمام اسباب کو آسمانوں کے اوپر سے زمینوں کے نیچے تک پیدا کرتا ہے اور ان پر بہرطور تصرف اور قدرت رکھتا ہے مگر جو لوگ عقلند ہیں وہ اس بات کو بالاتر ود بلکہ بدیہی طور پر سمجھتے ہیں اور جو ان سے بھی اعلی اورTafseer_Page_065.png
 
Top