• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

روحانی سفر از ریاض احمد گوہر شاہی یونیکوڈ

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
پتہ چلا کہ پلڑ ائی ایس کا اور تمہارا مقابلہ ہے جتنا جلد ہو سکے عمل تکبیر پڑ دو اور آج رات ہی عمل تحریر پڑھنے کا ارادہ کرلیا۔ رات کو جنگل میں گیا قبر مبارک کا نقشہ بنایا اور اپنے چاروں طرفن حصار کرلیا اور حصار سے لے کرحد نظر تک جنات اور مو کلات پھیل گئے اور میرے سر پربھی نگرانی کرنے لگے اذان کے بعد جب سورہ مزمل پڑھنے کا تو ایک اونٹ حصار کے اندر سے ہی زمین سے نکلا اس کی گردن بہت ہی اور منہ بہت چھوڑ اتھا آہستہ آہستہ میرے سر کی طرف لپکا اور میرا سرگردان تک اس کے منہ میں آگیا۔ با قاعدہ اس کے دانت مجھے اپنے گلے میں بچھے ہوئے خوں ہوئے اور میں موت سے بے نیاز سورہ مزمل پڑھتارہا۔ وہ دانت دبانے کی کو شش کر تالین دانتوں کی صرف رگڑ ہی گردن پرشوں ہوتی ۔ جب سورت مریمل ختم ہوئی تو ایسے کا بھی کسی نے اسے کوڑا مارا ہو اور پھیلا ہوا تھا

۔ اس کی چیخ سے جنات اور مونکلا ت ہوشیار ہوئے لیکن کسی کوبھی نظر که آیا پتہ چلا کہ میں اس عمل کی رکاوٹ کے لئے آیاتھا جو کامیاب نہ ہو سکا اب میری ہمت بڑھی اور باطنی طور پر جنات اور منگلات کو ساتھ لیا اور اس پر ملہ کرنے کی کوشس کی ۔ پہاڑوں میں بڑے بڑے محل اور قلے نظر آئے ۔ وہاں کے پہرہ داروں سے مقابلہ ہوتا اکثر بھاگ جاتے لیکن ابلیس نہیں ملتا۔ ایک دفعہ اس تک ایک قلے میں پانچ گئے لیکن و طوطا بن کر اڑ گیا۔ ہم نے بھی اس کا تعاقب نہ چھوڑا تین دن سے بھوکے پیاسے تھے یہی دھن تھی کہ ابلیس کو پکڑ کر مارا جائے تا کہ وہ کسی کا چھٹکارا ہو جائے صحرا میں بیٹھا کوئی تدبیر سوچ رہا تھا۔ دیکھا کچھ بزرگ گھوڑوں پر سوار میری طرف آئے ۔ کہنے لگے ادھر کیاڈھونڈتا ہے ۔ میں نے کہا ابلیس کو پر کر ختم کرنے کا ارادہ ہے وہ بہت ہنسے اور

کہنے لگے ارے نادان تو کس چکر میں لگ گیا اگر اس کا مرنا ہوتا تو کیا ہم چھوڑ دیتے۔ بات میری مجھ میں بھی آئی ۔ ان کا شکریہ ادا کیا اور واپس چھونپڑی میں بن گیا۔ میں نے اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لئے جموں کے ذریعے مل تحریر پڑھنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی رساله روی شریف اور دعائے بیٹی کا وئیر شروع کر دیا مل تکی کا فائدہ یہ دیکھا کہ ہر در باروالے بزرگ نے ہماری مناسب امداد کی بلکہ ہمارا کوئی بھی شخص کسی در بار پر جاتا بل قبر اس کی مدد کرتے اور اس عمل کی وجہ سے کشف القبور کا سلسلہ پھیلا۔

رساله روی شریف کایہ فائدہ دیکھا کہ مصیبت کے وقت ہفت سلطانوں کی ارواح مد دو باتیں ۔ دوسرا فائدہ یہ دیکھا کہ اگر کوئی آسیب دم وغیرہ سے دیکھا گیا اگر اس پر رساله روی پڑھا جاتا تو ضرور ہی ہٹ جاتا۔ تیسرائد و رسالہ روی کے پڑھنے والوں کو رجعت کا خطرہ نہیں ہے۔ ایک رات لیٹا ہوا تھا ان چناؤ والے تیرہ آدمیوں میں سے ایک آدمی میرے سامنے آگیا۔ اس نے مجھے سے ہاتھ ملا یا ایسا کہ میرے اندر سے کوئی چھینچ رہا ہے۔ میں نے چھوڑانے کی کوشش کی لیکن اپنے آپ کو بے بس پایا اتنے میں ایک تلوار اس کے ہاتھ کی طرف بڑھی اور اس نے اور ہاتھ بٹھالی اور کمرے سے نکل گیا۔ یتلوار دعائیفی کامل تھاجومیری مد دکو پہنچا۔ میں نے ان تینوں حملوں پرکئی بار مختلف طریقوں سے تجرہ کیا جوکامیاب ہوا اور پھر ان تین عملوں کی اجازت اپنے ذاکروں کو دی تاکہ وہ بھی اس سے مستفید ہوسکیں۔

لطیف آباد میں رہتے ہوئے تین سال ہو گئے۔ ایک دفعہ بیوی نے کچھ زیادہ ہی بتایا اور میں نے پھر جنگل کی راہ لی۔ لال باغ پہنچا تو دیکھا کہ باغ کے باہر بہت بڑی دیوار بن گئی ہے۔ سامنے بڑ اگیٹ ہے۔ جو قفل ہے ۔ میں کوشش کے باوجود باغ میں داخل ہو کر واپس ہوا اور مارک والے ہوٹل کے ملازمین سے پوچھا کہ یہ دیوار کب سے بنی ہے ۔ انہوں نے کہا کوئی دیواروغیر نہیں ہے۔ ایک نے کہا میں ابھی ابھی باغ سے ہو کر آیا ہوں ۔ میں سمجھ گیا داخلے کی اجازت نہیں ہے ہوٹل والے واقت تھے انہوں نے ہوٹل میں ہی بستر الا دیا اور میں سو گیا خواب میں دیکھا ہرقسم کے کھانے اور ہرقسم کے چل ایک جگہ ڈھیر لگے ہوئے ہیں کوئی صدا دے

رہا ہے۔

تیرا جنگل کا پل شهرداری میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور یمتیں تیرے نصیب میں لکھی جا چکی ہیں اب تیرا عروج عبادت سے نہیں بلکہ خدمت خلق سے ہے اب دنیامیں رہ کر اسم ذات کو پھیلانا ہے۔ بیوی سے گزارک ہ بھی صبر کاعلی مقام ہے اگر تاب نہیں تو ایک طلاق دے ۔ اس دن کے بعد میری بیوی کے مزاج میں تبد یلی ہوئی اور اس قسم کے چل اورکھانے لوگ پاپا کھلانے میں مصروف ہو گئے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔
 

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
آج ایبٹ آباد میں پرمستانی کا خیال آیا اور کہا کہ اس کو اپنے پاس رکھ لوں تا کہ اسے بھی راہ راست مل جائے۔ پھر خیال ہوا۔ ایسانہ ہو میری بیوی کو بی موان بنا د ے

اور خیال ترک کر دیا لیکن تھوڑے دنوں کے بعد پھر اس کی یاد ستائی کہ اس نے بھی کچھ دن خدمت کی ہے اسے بھی کچھ نہ کچھ مل ملنا چاہیے ہون شریف، بھٹ شاہ ، جے شادنورانی ا ب جبکہ اس کا پتہ کیا مگر اس کا ہمیں بھی سراغ ملا کیونکہ میں علیہ سے اس کا پتہ کرتا کچھ اسے مستانی اور پچھلا ہون کے نام سے پکارتے تھے۔

ایک دن لال باغ سے سہون کو جار ہا تھا خلیفہ کے گھر کے سامنے چبوترے پر ایک چھوٹا سا مزار ہے جب وہاں سے گزرا تو صاحب مزار نظر آئے اور اپنی طرف بلایا۔ میں ان کی قبر کے پاس پہنچا اور فاتحہ پڑھی سامنے ایک شخص جھاڑو دے رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ چیوں کے کش لگ رہا تھا اب وہ میرے

بالکل قریب آ گیا اور میں دھوئیں میں گھر گیا۔ صاحب مزار سے پوچھا ایسے لوگوں کو بھگانے کیوں نہیں کہنے لگے یہ موالی اور فاسق لوگ ہیں ہم خود ان سے بیزار ہیں لیکن یہ صرف اس وجہ سے برداشت

کئے ہوئے ہیں کہ اگر ہم نے انہیں قرار دیا تو لوگ شہروں میں جائیں گے اورخلوق خدا کو نقصان پہنچائیں گے اب میں ان کار از لینے کے لئے ان کے قریب ہو گیا جہاں دو چار مالک تھے نظر آتے بیٹھ جا تاوہ بھی اپنا ہی سمجھتے اور نشے میں ایک دوسرے پر اپنی بڑائی بتاتے معلوم ہوا کہ ولی مفرور چوروفی مفرور ڈاکو اور زیادہ تر سابقه لو اقول

کے دلال تھے۔

ایک دفعہ ذکر سے ستی کا عالم بڑھا اور پھر وہ کرو جذب میں تبدیل ہونا شروع ہوگیا۔ ہروقت الیو کے ذکر اور تصور میں ڈو بار بتا سخت دھوپ میں پہاڑوں پر ادھر ادھر دوڑتا رہتا نمازوں میں کوتاہی ہونا شروع ہوئی داڑھی مو چوسر اور بغلوں کے بال وغیرہ بہت بڑھ گئے حتی کہ دو روز کا جانا بھی جاستار با جسم سے بد بوحسوس ہونے لگی۔ بغیر وضو کے منہ دھونا بھی مصیبت بن گیا وضو ہی دن میں ایک ہی دفعہ ہونا منہ اور داڑھی پر نا کبھی بھی اسی حالت میں چشموں پیٹھا ایک اور باتھا کہ چند بزرگ

تشریف لائے میں تعظیم اٹھا ایک بزرگ نے بتایا کہ یہ پیران پیر ہیں اور میں ان کے قدموں میں لپیٹ گیا انہوں نے شفقت سے کمر پر ہاتھ پھیرا اور کہا اس وقت جنات اور تجھ میں کچھ فرق نہیں کیا تو نے نہیں سنا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ اب تیرا جسم مکروہ ہو چکا ہے یاد رکھی

ناپاک جسم سے نماز پڑھنا گناہ ہے مکروہ جسم سے نماز پڑھنا تباہی ہے

صاف ستھرے جسم سے نماز پڑھنا نصف ایمان ہے اور جب باطن صاف ہو جائے تو نماز پڑھنا پورا ایمان ہے یعنی و جقيقت نمازمل جاتی ہے جو مومن کی معراج ہے اب درودشریف کثرت سے پڑھے اس وقت تک پڑھجب تک حالت جذب ختم ہو اور پھر میں نے درود شریف کے وکیلے سے کرپے آغاز سے ہی قابو پالیا۔

ایک دفعہ جئے شاہ نورانی "جانے کا اتفاق ہوالاہوت کی پہاڑیوں میں ایک غار ہے جہاں پتھر کی اونٹنی کے نشان بنے ہوئ

ے ہیں غار کے اردگردمیلوں تک کوئی آبادی نہیں ہے بڑی بڑی خوف ناک پہاڑیاں ہیں جہاں شیر اور چیتے گھومتے دیکھے گئے۔ ایک جواں سال شخص غار کے پاس تنہائی میں رہتا ہے اس نے غار کار است دکھایا اور مغرب کا کھانا بھی کل یعنی تقریباڈیڑھ انچ موٹی روٹی کے کونے پیش کئے مغرب اور عشاء کی نماز ساتھ پڑھی میں سوچ رہا تھا کہ کبھی کوئی ستارک دنیا ہے۔

اتنے میں اس نے سگریٹ سلگایا اور چروں کی بو اطراف میں پھیل گئی اور مجھے اس سے نفرت ہونے لگی رات کو الہامی صورت پیدا ہوئی شخص ان ہزاروں عابدوں ، زاہدوں اور عالموں سے بہتر ہے جو ہر نشے سے پر یر کر کے عبادت میں ہوشیار میں بین بخل جسد اور نبی ان کا شعار ہے۔
 

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
يخص جس سے تو نے نفرت کریں ۔ اللہ کے دوستوں سے ہے شک اس کا شعار ہے اور بینش اس کی عادت ہے جبکہ عشق بدعت کو جلاتا ہے۔ نظر رحمت گناہوں کو جلاتی ہے۔ اور تبر و نخل عبادت کو جانتا ہے۔ بس پھر یہی سمجھا کہ

خدا ہے عقل و فہم سے دور مجھے بائے جس کو بندہ وہ خدا کیا

ایک دن میں نے اپنی آپ بیتی کا بغور ملالہ کی اور پھر شریعت کی رو سے دیکھا۔ ایک واقع ہے ۔ غوث پاک کے زمانے میں ایک شخص بہت عبادت کرتا لوگ آپ سے پوچھتے کہ اسے کچھ مل گیا ہو گا۔ آپ فرماتے کچھ بھی نہیں آخر ایک شخص کو تشویش ہوئی اور اس نے چوری پیچھے اس عابد کی نگرانی شروع کر دی وہ عابد اپنی جگہ سے اٹھا ایک جھاڑی کے پیچھے گیا۔ جہاں افیون کی ہوئی تھی اس نے اس میں سے کچھ تھائی لینی نوشکی اس شخص نے سارا واقعہ غوث پاک کو سنایا آپ نے فرمایاک نشه کرنے والے کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔

دوسرا واقعہ اس کے برعکس ہے ۔ حضور پاک کا ترین کے زمانے میں ایک مسلمان شراب نوشی کے الزام میں پکڑا گیا کوڑے لگائے گئے دوبارہ پھر اسی الزام میں کوڑے لگائے گئے۔ سہ بارجب اسی جرم میں لایا گیا تو صحابہ نے کہا کہ اس آدمی پرلعنت ہو۔ جو بار بار اسی جرم میں آتا ہے ۔ آپ سالی نے فرمایا اس پر لعنت مت کرو کیونکہ یا الله اور اس کے حبیب ملتان سے محبت رکھتا ہے اور جیت رکھنے والا کبھی دوزخ میں نہیں جائے گا یہ شخص بھی دیا تھا جس کی عبادت رائیگاں گئی ۔ دوسر شخص بھی نشہ باز تھا جو جنت کا حقدار ہوا۔ پہلخص میں ابھی محبت پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن دوسرے شخص کے دل میں محبت کی کیونکہ وہ دیدار رسول اسلام میں تھا معلوم ہو اگرکوئی محبت وشت کی منزل پالے تواس کی بدعتوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے اور یہ منزل بغیر نظر و قلب کے حاصل نہیں ہوتی۔

بہت سے اولیا بھی مرتبہ کے بعد خلاف شرع کاموں کا شکار ہوئے جیسے مظفر آباد میں ہیلی سرکار کی نماز پڑھتے ، داڑھی رکھنے وفات کے بعد مولویوں نے کہا کہ یہ بے دین تھا اس وجہ سے ہم اس کا جناز نہیں پڑھائیں گے لیکن جب منہ سے کپڑا اٹھایا تو میں موجو تھی مری میں لال شاہ نے بیٹھے رہتے نسوار کا نشہ کرتے رہتے اور نماز بھی نہ پڑھتے لیکن جو کلام منہ سے نکالتے پورا ہو جاتا۔ سدا سہاگن بھی عورتوں جیسا سرخ لباس اور چوڑیاں پہنتے سخی سلطان باتو فرماتے ہیں کہ جب کوئی جسم شفت الہی سے نور ہو جاتا ہے، اگر حرام کا تقم بھی کھائے تو نور کی گرمی اس نجاست کو حلال بنادیتی ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی ایران نے تو ایسے نہیں کیانی حالت محو میں رہتے ہیں کیونکہ ان سے دین کی کمی ہوتی ہے۔ ولی کی اور جب میں بھی آتے ہیں اگران میں کوئی خلاف شریعت بات پیدا ہو جائے تو دین کا کچھ ہوتا ہے اور کچھ کرتا ہے لیکن نبی سلام میں کوئی خلاف شرع بات پیدا ہو جاتی تو و بنت بن جاتی اور دین میں خرابی کاباعث بنتی ۔ امیر کلال نیپن سے ہی کبڈی کھیلا کرتے تھے ولایت کے بعد بھی آپ کبڈی کا شوق فرماتے لیکن ان کے وصال کے ان کے لیقوں نے ایسا نہیں کیا۔

اگر حضور پاک کاترین کبڈی کھیلتے۔ آج امت اس کو بھی سنت باسمتی یہی وجہ ہے کہ بوت کرو جذب اور گناہ و بدعت سے مبرا او معصوم ہے لیکن ولایت مبرا نہیں ۔ اگرکوئی ولی ظاہر و باطن میں مقام کمالیت تک پہنچ جائے تو وہ بھی مبرا ہو جاتا ہے اور اسی کے لئے حدیث ہے۔

"میرے عالم بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہوں گے “
 

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
روحانی سفر کے معترفین کے سوالوں کے جوابات

نوٹ : مینار نور تریاق قلب کے علاوہ روحانی سفر کی بھی کچھ انتشار پسند اور اس قسم کے علماء نے بیچ مخالفت کی میں الفاظ کے غاده عن نکال کر اشتہاری پروپیگنڈہ کے ذریعے ان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اس لئے عوام کالی کے لئے ان کے اعتراضات کے جواب دیئے جار ہے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ کتاب "روحانی سفر میں زیادہ تر خواب مکاشفات اور الہامات ہیں جو ابتداء میں دوران سلوک وارد ہوئے کسی بھی مکاشتے یا الہام وقت الیقین نہیں کہا گیا که معنون سمیت ہرشخص کی اپنی رائے ہے کون سا درست ہے اور کون سا استدراج ہو گا خواب مکاشتے الہامات اگر غیر اخلاقی بھی ہوں تو وہ شریعت کی زد میں نہیں آتے۔ روحانی سفر صف نمبر 33 پر اعتراض ہوا کہ اس شخص

نے حضرت رابعہ بصری کوطوائف کہا ہے۔ جواب :حضرت رابعہ بصری کاوالی کتابوں میں اس طرح ملتا ہے کہ آپ کے والدین نے ایک قافلے والوں کو حضرت رابع بسری کو فروخت کر دیا اور اس قافلہ والوں نے آپ کو ایک طوائقہ کے ہاتھوں فروخت کر دیا طوائف نے آپ کو ایک کوٹھے میں بٹھا دیا ایک دن طوائفہ نے یوں کیا کہ جوشخص ایک مرتبہ انکے پاس آتا ہے دوبارہ ان کے پاس کیوں نہیں آتا۔ جب ایک شخص کمرے میں گیا کمرہ بند ہوا تو طوائفہ نے دروازے کے سوراخ سے دیکھا کہ شخص جب حضرت رابعہ بصری کے سامنے گیا نظروں سے نظر میں ملیں اس پر ہیبت طاری ہوئی اور بے اختیار الله الله زبان سے شروع ہو گیا۔ آپ نے اسے فرمایا جب مجھے اللہ سے واصل کر دیا ہے اب ا س کے عشق میں تڑپتے رہنا اور آیند وبھی بھی ادھر کا خیال نہ کرنا۔ جب یہ ماجرا طواقم نے دیکھا تو اس دل بھی لرزنے لگا اور وہ آپ کے قدموں میں گئی اور معافی کی درخواستگار ہوئی کہ مجھے تیری عظمت کا پتہ تھا۔ آج سے تم آزاد ہو حضرت رابعہ بصری نے کہا کاش تو میرا راز نہ جانتی یہاں جو بھی آتا فقیر بن کے جاتا اب تک میں چارسو فقیر بنا چکی ہوں۔ مجدد الف ثانی نے صاحب فتوحات مکیہ کے حوالے سے اپنے مکتوبات شریف (حصہ پنج ص

731.730

) میں لکھا ہے کہ شیطان لعین آنخضرت کمائی کی اس صورت خاصہ کے ساتھ جو مد بین منورہ میں مدفون ہے مل نہیں ہوسکتا۔ اس خاص عورت کے سوا اور جس صورت میں حضور این این کود تھیں مل ہوسکتا ہے۔

مجدد صاحب فرماتے ہیں میں کہتا ہوں کہ اس عورت سے احکام کا اخذ کرنا اور مری کا معلوم کرنا مشکل ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ دن معین درمیان آگیا ہو اور خلاف واقع و واقع کی صورت میں ظاہر کیا ہو اور دیکھنے والے کو شک و شبہ میں ڈال دیا ہو اور اپنی عبارات و اشارات کو اس عورت کی صاجها اصلو تو اسلام کی عبارات و اشارات کر دکھایا ہو (از مکتوبات شریف شائع شدہ مد میز بیٹنگ کمپنی کراچی)

نوٹ :

روحانی سفر میں منانے والا واقعہ قابل اعتراض ہے بے شک ہم سے آغاز میں اتفاق اور ناسمجھی میں شریعت کے خلان کئی غلطیاں سرزد ہوئیں ۔ وہ صرف اتفاق ہی تھا کہ ہمارا معمول اور عقیدہ ہے۔ جب الله تعالی نے چھو نیت اور جھ دی تھی ہم نے روروک الله تعالی سے فریاد کتی تو کی تھی ، اور مشن کی دعائیں مانگی ھیں۔
 

مبشر شاہ

رکن عملہ
منتظم اعلی
پراجیکٹ ممبر
بسم الله الرحمن الرحيم

آج مورخہ 26 اکتوبر 1991 شب 11 بجی گاڑی کھاتہ حیدر آباد میں علماء السنت حضرت مولانامفتی احمد میاں برکاتی حضرت مولانا قاری عبد الرشیدنوری، اور انجمن سرفروشان اسلام کے مرکزی صدر جناب محمد عارف میمن صاحب، جناب وی مد قریشی مرکزی ناظم اعلی کے مابین مولانامحمد سعید احمد اسعد صاحب ، مرکزی کنوینئر پاکستان سنی اتحاد

کی موجودگی میں روحانی سفر مینار اور اور روشاس کی بعض عبارات پڑھتی ہوئی باہمی مشورہ کے بعد یہ طے پایا کہ مندرجہ ذیل عبارات کو ایسی تفصیل تبد یل کر دیا جائیگا۔

الی

نمبر 1 - و و ولایت کے باوجودگی بدعتوں میں مبتلا تھے۔ روحانی سفری 36 اس عبارت کو یوں لکھا جائے گا۔

کی ولایت ملتی لیکن ان سے بظاہری خلاف شریعت کام نظر آتے ہیں

10 اس عبارت یوں لکھا جائے گا۔

نمبر 2۔ کچھ مسلمان شیخ صنعان اور کچھ مرزا غلام احمدکو نبی مانتے ہیں ۔ روشاس کچھ انسان یخ صنعان اور کچھ مرزا غلام احم کو نبی مانتے ہیں۔

نمبر 3 ۔ یا اس کلمہ میں ردو بدل کیا، وہ سخت گمراہی میں پڑ گئے روشناس

یا اس کلمہ میں ردو بدل کی وہ کافر ہو گئے

10 اس عبارت کو یوں لکھا جائے گا۔

نمبر 4 - مرزائیت اور کچھ وہابیت کا اثر ہو گیا۔ روشاس

6اس عبارت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا جائے گا۔ "مرزائیت اور کچھ وہابیت کا اثر ہوگیا تھالحمد لله یا اثرات زائل ہو چکے ہیں۔ نمبر اس نے کیا سوچ کہ اب اس کی شرارت نہ ہوپاتی اس لئے آپ کے منہ سے اگر ہے میری اولاد میں کوئی یہ کہ اس مت کرنا ہوگا اور اس

اس ساری عبادت کو حذف کر دیا جائے گا...........

نمبر 6: او تھوک

سے آپ کے اس کو تقویت پہنچانا شروع کی روشاس اس عبادت کو مزین کردیا جائے گا۔

8

نمبر 7 'جس طرح وضو کے بغیر

خواہ سجدوں سے کم کیوں د ٹیڑھی کر لیں‘ روشاس 6 اس عبارت کو عبادت کو حذف کر کے مندرجہ ذیل الفاظ تحریر کیے جائیں گے ۔ اس طرح نماز کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے
 
Top