• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

مجاہدین ختم نبوت کی جانب سےقادیانیوں سے 102 سوالات

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانیوں سے سوالات ( ۶۱ کیا مرزاقادیانی خودغرض تھا؟)
سوال نمبر:۶۱… مرزاقادیانی نے لکھا: ’’میری رائے یہ ہے کہ استخارہ تقویٰ کے بہت قریب ہے۔ کیونکہ وارث مفقود الخبر ہے اور ہمیں یقین نہیں کہ وہ مر چکا ہے یا زندہ ہے۔ پس اس کی جائیداد کو میت کے ترکہ کی طرح تقسیم کرنے میں عجلت روا نہیں۔ پس بہتر یہ ہے کہ اس معاملہ پر بحث ختم کی جائے۔ تاکہ عالم الغیب اور ذوالجلال آپ سے مشورہ کر لوں اور یقینی راہ پالوں۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۲، خزائن ج۵ ص ایضاً)
مرزاقادیانی کی یہ عبارت پکارپکار کر نہیں چیخ وچلّا کر اعلان کر رہی ہے کہ مرزااحمد بیگ نے جب ہبہ نامہ پر دستخطوں کے لئے مرزاقادیانی سے درخواست کی۔ چونکہ ہبہ نامہ غلام حسین مفقود الخبر کی زمین کی بابت تھا۔ اس لئے استخارہ کیا گیا کہ وہ غلام حسین زندہ ہے یا مردہ۔ اگر زندہ ہے تو ہبہ نامہ پر دستخط کر کے اس کی زمین کسی اور کو منتقل کرنا روا نہیں ہے۔ اگر مردہ ہے تو ہبہ نامہ پر دستخط نہ کر کے جائز وارث کو محروم کرنا روا نہیں۔ جب ’’عالم الغیب رب ذوالجلال سے مشورہ‘‘ کیا تو رب نے جواب دیا کہ محمدی بیگم کے رشتہ کی بابت بات کر۔ اگر رشتہ کر دیں تو ہبہ نامہ پر دستخط کر دو۔ گویا غلام حسین مفقود الخبر مرگیا ہے۔ اگر رشتہ نہ کریں تو ہبہ نامہ پر دستخط نہ کریں۔ گویا غلام حسین مفقود الخبر زندہ ہے۔ ہمارا قادیانیوں سے درد بھرے دکھے دل سے سوال ہے کہ کیا واقعی آپ اس جواب کو خدائی جواب سمجھتے ہیں یا کافر، ناہنجار، مرزاقادیانی کی زناری اور خود غرضی فراڈ ودھوکہ کی انوکھی مثال؟ اب آپ کی مرضی کہ خداتعالیٰ پر غلط جواب کا الزام لگا کر جہنم کا راستہ اختیار کریں یا مرزاقادیانی کے فراڈ پر محمول کر کے مرزاقادیانی کو جہنم روانہ کریں؟
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانیوں سے سوالات ( ۶۲ کیا مرزا قادیانی کے نزدیک ’’اعور‘‘ کا معنی کانا نہیں؟)
سوال نمبر:۶۲… مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ’’دجال کے اعور یعنی ایک آنکھ سے کانا ہونے سے مراد یہ ہے کہ دینی اور دنیوی علوم کی دونوں آنکھوں میں سے اس قوم (انگریز) کی ایک آنکھ روشن ہوگی اور دوسری ناکارہ اور یہ ظاہر ہے کہ افرنگ کو زمینی علوم میں نہایت درجہ کی مہارت حاصل ہے۔ لیکن روحانیت سے بے بہرہ ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۰۱، خزائن ج۳ص۳۶۹ملخص)
لیکن حدیث میں جہاں دجال کے اعور ہونے کا ذکر ہے وہاں اﷲ تعالیٰ کے اعور ہونے کی نفی ہے، تو اﷲ تعالیٰ کے اعور نہ ہونے سے کیا مراد ہے؟۔ کیا خدا تعالیٰ کی نسبت دینی ودنیوی علوم میں مہارت ہونے یا نہ ہونے کے سوال کا بھی تصور ہوسکتا ہے؟۔
پھر اسی حدیث شریف میں حضور علیہ السلام نے دجال کے اعور ہونے کے بارہ میں صحابہ کرامe کو کسی شبہ میں نہیں چھوڑا۔ بلکہ فرمایا کہ ایک آنکھ انگور کے ابھرے ہوئے دانہ کی مانند ہوگی اور ساتھ نمونہ بھی بتادیا کہ ابن قطن کو دیکھو۔ پس دجال کی آنکھ اس کی آنکھ کی مانند ہوگی۔ مرزا قادیانی روایت کے اس حصہ کو شیر مادر کی طرح ہضم کرگئے۔ کیوں؟۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانیوں سے سوالات ( ۶۳ کیا قرآن مجید میں ’’قادیان‘‘ کا نام ہے؟)
سوال نمبر:۶۳… مرزا قادیانی اپنے کشف کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’قادیان کا نام قرآن مجید میں درج ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۷،خزائن ج۳ص۱۴۰)
الحمد سے لے کر والناس تک پورے قرآن مجید میں کہیں قادیان کا نام ہے؟۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو قادیانی حضرات ارشاد فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے صریح کذب بیانی کی یا نہیں؟۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانیوں سے سوالات ( ۶۴ کیا مرزا قادیانی آدم زاد نہیں؟)
سوال نمبر:۶۴… مرزا قادیانی نے اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ ؎
کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
(درثمین اردوص۱۱۶، از مرزا غلام احمدقادیانی، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ص۱۲۷)
محققین حضرات کہتے ہیں کہ ’’نہ آدم زاد‘‘ میں ’’نہ‘‘ کا لفظ عطف کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔ گویا ’’کرم خاکی‘‘ کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے اور ’’آدم زاد‘‘ کے ساتھ بھی۔ اب مطلب یہ ہوگا کہ نہ تو میں مٹی کا کیڑا ہوں اور نہ ہی آدم زاد (یعنی بندے دا پتر) یہ جملہ منفیہ اگر نہ بنایا جائے تو اگلے مصرع ’’ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار‘‘ میں اثبات اور حصر سمجھ میں نہیں آسکتی۔
اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی بقول خود نہ مٹی کا کیڑا ہے ’’نہ بندے دا پتر‘‘ تو پھر نبی کیسے؟۔ نیز ’’جائے نفرت‘‘ اور ’’عار‘‘ کی تعیین بھی آپ کے ذمہ ہے؟۔ پھر انسان کے تحت مرد وعورت دونوں داخل ہوتے ہیں۔ متعین کرو کہ مرد کی ہے تو کونسی اور عورت کی ہے تو کونسی؟۔ پھر حکم لگایا جائے؟۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانیوں سے سوالات ( ۶۵ کیا مرزا قادیانی شراب پیتا تھا؟)
سوال نمبر:۶۵… مرزا قادیانی نے اپنے ایک مرید کے ہاتھوں لاہور سے عمدہ قسم کی شراب ’’ٹانک وائین‘‘ منگوائی۔ کیا مرزائی اس بات کا انکار کرسکتے ہیں؟۔
(خطوط امام بنام غلام ص۵ ، از حکیم محمدحسین بٹالوی)
کیا شراب پینے والا نبی، مسیح، مہدی، مجدد، ملہم من اﷲ بن سکتا ہے؟۔
جبکہ قرآن بتلاتا ہے کہ شراب پینا شیطانی عمل ہے اور احادیث بتلاتی ہیں کہ شرابی جنت میں نہیں جائے گا۔ اس کی دنیا میں نماز قبول نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ!
جب شرابی اس قدر خدا کی رحمت سے بعید ہوتا ہے تو مرزا قادیانی اتنا مقرب کیسے بنا؟ کہ نبی، مہدی، مسیح موعود بن بیٹھا؟۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانیوں سے سوالات ( ۶۶ کیا مرزا قادیانی کے آنے سے جہاد منسوخ ہوگیا؟)
سوال:۶۶… آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کے برعکس کہا کہ جہاد منسوخ ہوگیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی ’’ضمیمہ تحفہ گولڑویہ‘‘ میں لکھتا ہے کہ ؎
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ ص۴۱، خزائن ج۱۷ص۷۷،۷۸)
سوال یہ ہے کہ کیا قادیانی قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد بالسیف کی منسوخی پر کوئی عقلی اور نقلی دلیل پیش کرسکتے ہیں؟۔ جو اہل عقل کی دانست میں بھی آسکے؟۔
نیز مرزا قادیانی کے اس شعر سے پتہ چل رہا ہے کہ مرزا قادیانی کا نبوت تشریعہ کا دعویٰ تھا۔ مرزائیو! تم کہتے ہو غیر تشریعی کا؟۔ تو سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی سچا ہے یا تم؟۔ اور مرزا قادیانی کے مذکورہ دعویٰ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ اپنے آپ کو حضورﷺ سے افضل سمجھتا تھا۔ کیونکہ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ جہاد قیامت تک! اور مرزا لعین کہتا ہے کہ منسوخ۔
تو اب بتائو! مرزا قادیانی کے کفر اور دجل میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے؟۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانیوں سے سوالات ( ۶۷ کیا نبی گھر کی طعن وتشنیع سے خوف کھا کر سرکاری ملازمت کرتا ہے؟)
سوال نمبر:۶۷…
۱… ’’حضرت صاحب (مرزاقادیانی) اپنے گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لئے قادیان سے باہر چلے گئے اور سیالکوٹ جا کر رہائش اختیار کر لی اور گزارہ کے لئے ضلع کچہری میں ملازمت بھی کر لی۔‘‘
(تحفہ شہزادہ ویلز ص۵۳)
۲… ’’جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے تو اس وقت حکومت برطانیہ پنجاب میں مستحکم ہوچکی تھی اور لوگ سمجھ رہے تھے کہ اب اس گورنمنٹ کی ملازمت میں ہی عزت ہے۔ اس لئے شریف خاندانوں کے نوجوان اس کی ملازمت میں داخل ہو رہے تھے۔ حضرت صاحب بھی اپنے والد صاحب کے مشورہ سے سیالکوٹ بحصول ملازمت تشریف لے گئے۔‘‘
(سیرۃ مسیح موعود ص۱۳، روایت نمبر۴۹)
یہ دونوں عبارتیں مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تحریر کردہ ہیں۔ پہلی عبارت میں ہے۔ گھر والوں کے طعن سے قادیان کو چھوڑ کر باہر چلے گئے اور سیالکوٹ میں ملازمت کر لی۔ دوسری عبارت میں ہے کہ والد صاحب کے مشورہ سے گئے۔ ان دونوں میں سچ کون سا ہے اور جھوٹ کون سا؟ پھر اس کے ساتھ یہ عبارت ملا لی جائے۔
۳… ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت صاحب (مرزاقادیانی) تمہارے دادا کی پنشن (مبلغ سات صد روپے) وصول کرنے گئے۔ تو پیچھے پیچھے مرزاامام دین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو وہ آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت صاحب اس شرم کے مارے گھر نہیں آئے۔ بلکہ سیالکوٹ پہنچ کر ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ (پندرہ روپیہ ماہوار) پر ملازم ہوگئے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج۱ ص۴۳، روایت نمبر۴۹)
پہلی عبارت مرزامحمود، میں ہے گھر والوں کے طعنوں سے ملازمت دی۔
دوسری عبارت مرزامحمود، میں ہے والد صاحب کے مشورہ سے ملازمت کی۔
تیسری عبارت مرزابشیر بحوالہ زوجہ مرزاقادیانی میں ہے کہ سات صدروپیہ پنشن کے اڑا کر کھا گئے۔ مارے شرم کے قادیان آنے کی بجائے سیالکوٹ جاکر قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔
ان تینوں باتوں میں سے کون سی بات سچی ہے؟ ہے کوئی قادیانی جو مرزاقادیانی کے باپ، مرزا کے دو بیٹوں، مرزا کی گھر والی کی ان باتوں کو ایک دوسرے سے جدا کر کے بتا سکے؟ کہ ان تینوں باتوں میں سے کس بات میں کذب محض ہے اور کس کی بات سچی ہے؟ نیز نبی کی متوکلانہ زندگی ہوتی ہے اور امت کو توکل کی تعلیم دیتا ہے۔ تو پھر مرزاقادیانی تو نبی معلوم نہیں ہوتا؟ اگر نبی ہے تو سرکار انگریزی کا ملازم کیوں؟ جب کہ انگریز دشمن خدا اور دشمن رسولa ہے اور یہ بھی نقاب کشائی کریں کہ کیا نبی پنشن وصول کر کے آوارہ گردی کرتا ہے؟ وہ نفس پرست، گناہوں کا عادی، نفسیاتی مریض تو ہوسکتا ہے مگر نبی؟
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانیوں سے سوالات ( ۶۸ کیا ریل گاڑی دجال کا گدھا ہے؟)
سوال نمبر:۶۸… مرزاقادیانی نے کہا کہ: ’’ازاں جملہ ایک بڑی بھاری علامت دجال کی اس کا گدھا ہے۔ جس کے بین الاذلاذنین (دو کانوں کے درمیانی فاصلہ) کا اندازہ ستر باع اور ریل گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ لازمی ہوتا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۷۳۰، خزائن ج۳ ص۴۹۳)
کانوں کے درمیان کا فاصلہ ستر باع (قریباً ۱۴۰گز) ہوگا۔ مرزاقادیانی کانوں کے درمیان کا فاصلہ سے مراد سر اور دم کی لمبائی لیتے ہیں۔ ہے کوئی اس کا جواز؟
پھر گدھے کا رنگ سفید بیان کیاگیا۔ گاڑیوں کی رنگت ہر جگہ سفید ہو تو یہ بھی فٹ نہیں آتا۔ چلو۔ ایک کان سے مراد سر دوسرے کان سے مراد دم۔ ریل دجال کا گدھا، رنگ سفید، چلو اس کو چھوڑ دیں۔ دجال کی سواری ریل۔ اس پر جو سوار ہوئے وہ کون؟ پھر مرزاقادیانی مر کر بھی دجال کے گدھے پر سوار ہوکر قادیان گیا۔ سواری دجال کی، سوار ہوئے مرزاقادیانی۔ رہ گئی مرزاقادیانی کے دجال بننے میں کوئی کسر؟ اس کو کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانیوں سے سوالات ( ۶۹ جو بخاری شریف پر جھوٹ باندھے وہ مسیح کیسے؟)
سوال نمبر:۶۹… (شہادت القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷) پر لکھتا ہے: ’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان احادیث پر عمل کرنا چاہئے۔ جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً ’’صحیح بخاری‘‘ کی وہ احادیث جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری شریف میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ: ’’ہذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے۔‘‘
ہمارے سامنے صحیح بخاری کا جو نسخہ ہے۔ اس میں تو حدیث: ’’ہذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘ ہمیں کہیں نہیں ملی۔ لیکن جس طرح مرزاقادیانی کے گھر میں قرآن کریم کا ایسا نسخہ تھا۔ جس میں: ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ لکھا تھا۔ (ازالہ اوہام ص۷۶،۷۷، خزائن ج۳ ص۱۴۰ حاشیہ) اسی طرح شاید ان کے مسیح خانہ میں کوئی نسخہ صحیح بخاری کا ایسا بھی ہو۔ جس میں سے دیکھ کر مرزاقادیانی نے یہ حدیث لکھی ہو۔ بہرحال اگر مرزاقادیانی نے ’’صحیح بخاری شریف‘‘ کا حوالہ صحیح دیا ہے تو ذرا اس صفحہ کا عکس شائع کر دیں، اور اگر جھوٹ دیا ہے تو یہ فرمائیے کہ جو شخص صحیح بخاری جیسی معروف ومشہور کتاب پر جھوٹ باندھ سکتا ہے وہ اپنے دعویٰ مسیحیت میں سچا کیسے ہو گا؟ کیونکہ مرزاقادیانی ہی کا ارشاد ہے کہ: ’’ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری بات میں بھی اعتبار نہیں رہتا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)
لہٰذا مرزاقادیانی تمام تر دعاوی میں جھوٹا تھا! اگر سچا ہے تو قادیانی اس کا سچ ثابت کریں؟ اور بخاری شریف میں حوالہ دکھائیں؟
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانیوں سے سوالات ( ۷۰ مرزاقادیانی کی ’’سلطان القلمی‘‘ یا جہالت؟)
سوال نمبر:۷۰… مرزاقادیانی نے (اعجاز المسیح ٹائٹل، خزائن ج۱۸ ص۱) پر لکھا: ’’وقد طبع فی مطبع ضیاء الاسلام فی سبعین یوماً من شہر رمضان‘‘ کہ یہ کتاب مطبع ضیاء الاسلام میں ماہ رمضان کے ستردنوں میں چھپی ہے۔‘‘ حالانکہ رمضان کے دن انتیس یا تیس ہوتے ہیں۔ ستردن کبھی نہیں ہوسکتے۔ سلطان القلم کی فصاحت وبلاغت پر قادیانی کیا کہتے ہیں؟ جس شخص کی علمی سطح یہ ہو کیا اسے جاہل کہہ سکتے ہیں؟ اگر کہنے کی اجازت ہے تو تمہیں عار کیوں؟
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top