قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر علاماتِ قیامت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ نشانیاں دو قسم کی ہیں:
سورۃ الزلزال (99:1-2)
سورۃ الدخان (44:10-11)
- علاماتِ صغریٰ (چھوٹی نشانیاں)
- علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)
1. علاماتِ صغریٰ (چھوٹی نشانیاں)
یہ وہ نشانیاں ہیں جو وقت کے ساتھ ظاہر ہوئیں اور ہو رہی ہیں، لیکن قیامت فوراً برپا نہیں ہوگی۔سورۃ الزلزال (99:1-2)
سورۃ التکویر (81:1-3)إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا
"جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی، اور زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی۔"
سورۃ محمد (47:18)إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ
"جب سورج لپیٹ دیا جائے گا، اور جب تارے بےنور ہو جائیں گے، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔"
فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا
"تو یہ لوگ صرف قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک آ جائے؟ حالانکہ اس کی نشانیاں آ چکی ہیں۔"
2. علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)
یہ وہ نشانیاں ہیں جو قیامت کے بالکل قریب ظاہر ہوں گی۔سورۃ الدخان (44:10-11)
سورۃ النمل (27:82)فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
"پس انتظار کرو جس دن آسمان واضح دھواں لے کر آئے گا، جو لوگوں کو گھیر لے گا، یہ ایک دردناک عذاب ہوگا۔"
سورۃ القمر (54:1-2)وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ
"اور جب ان پر وعدہ پورا ہونے کا وقت آ جائے گا تو ہم زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بات کرے گا۔"
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
"قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا، مگر جب وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔"