• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

تفسیر البیان از جاوید احمد غامدی پارہ نمبر 4 یونیکوڈ

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 121


وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَہۡلِکَ تُبَوِّیٴُالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲۱﴾ۙ
اصل میں لفظ ’ مَقَاعِدَ ‘ آیا ہے۔ یہ ’ مقعد ‘ کی جمع ہے جس کے معنی بیٹھنے کی جگہ کے ہیں، لیکن قرینہ موجود ہو تو اس سے جنگ کا مورچا بھی مراد ہوسکتا ہے۔ یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 122


اِذۡ ہَمَّتۡ طَّآئِفَتٰنِ مِنۡکُمۡ اَنۡ تَفۡشَلَا ۙ وَ اللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾
اِن دو گروہوں سے اشارہ، مورخین کے بیان کے مطابق قبیلہ خزرج کے بنو سلمہ اور قبیلہ اوس کے بنو حارثہ کی طرف ہے۔ یہاں جس واقعے کا ذکر ہوا ہے، اس کا پس منظر استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس طرح بیان فرمایا ہے : ”۔۔ اِن دونوں گروہوں کے اندر منافقین کی شرارت کی وجہ سے کچھ بزدلی پیدا ہوئی، لیکن پھر وہ سنبھل گئے۔ منافقین درحقیقت اس جنگ کے لیے نکلنا نہیں چاہتے تھے۔ آنحضرت ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ان کی اس کمزوری کا اندازہ تھا۔ چنانچہ آپ نے یہ چاہا کہ نکلنے سے پہلے صحیح صورت حال سامنے آجائے۔ اس کے لیے امتحاناً آپ نے مسلمانوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ قریش کا مقابلہ مدینہ کے اندر سے کیا جائے یا باہر نکل کر ؟ اس کا جواب سچے اور پکے مسلمانوں کی طرف سے تو ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتا ہے کہ باہر نکل کر۔ چنانچہ انھوں نے پورے جوش وجذبے کے ساتھ یہی جواب دیا۔ لیکن منافقین نے مدینہ میں محصور ہو کر مقابلے کی مصلحتیں سمجھانے کی کوشش کی۔ آنحضرت نے جب صورت حال کا اندازہ کرلیا، منافقین کی کمزوری آپ پر واضح ہوگئی تو آپ نے وہی کیا جو آپ کے دل میں تھا اور جس کا اظہار آپ کے جاں نثار ساتھیوں نے کیا تھا۔ منافقین نے جب دیکھا کہ ان کی یہ سازش ناکام ہوگئی تو وہ نکلنے کو تو مسلمانوں کے ساتھ نکلے، لیکن نکلنے کے بعد ان کے لیڈر ابن ابی نے ان کو ورغلایا اور اس چیز کو بہانہ بنا کر کہ اس کے مشورے کی قدر نہیں کی گئی، راستے میں تین سو آدمیوں کے لشکر کے ساتھ الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے قدرتی طور پر مسلمانوں کی بعض جماعتوں کے حوصلے پر اثر پڑا۔ اس لیے کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار کفار کے مقابلے میں کل ایک ہزار تھی۔ ایک ہزار آدمیوں میں سے تین سو آدمیوں کا عین موقع پر فرار، ظاہر ہے کہ ایک اہم حادثہ تھا جس سے کمزور طبائع کا اثر لینا قدرتی امر تھا۔ “ (تدبر قرآن ٢/ ١٧٠) تاریخ الامم والملوک، الطبری ٢/ ٥٩۔ البدایۃ والنہایہ، ابن کثیر ٤/ ٣٨٧۔ الکامل فی التاریخ، ابن الاثیر ٢/ ٤٠۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 124


اِذۡ تَقُوۡلُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَلَنۡ یَّکۡفِیَکُمۡ اَنۡ یُّمِدَّکُمۡ رَبُّکُمۡ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُنۡزَلِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾ؕ
مسلمانوں کا حوصلہ بحال کرنے کے لیے یہ بات رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے غالباً اس وقت فرمائی، جب عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر واپس ہوا اور مسلمانوں کے بعض گروہوں میں اس سے کچھ بددلی پیدا ہوئی۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 125


بَلٰۤی ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ یَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡرِہِمۡ ہٰذَا یُمۡدِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ بِخَمۡسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾
یعنی اس جنگ میں وہ اپنے امتیازی نشان لگا کر آئیں گے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خاص اہتمام کے ساتھ اس مہم کے لیے بھیجے گا۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 126


وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشۡرٰی لَکُمۡ وَ لِتَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُکُمۡ بِہٖ ؕ وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱۲۶﴾ۙ
مطلب یہ ہے کہ اس طرح کی کسی بشارت کے بغیر بھی ایمان والوں کا عقیدہ یہی ہونا چاہیے کہ فتح و نصرت ہمیشہ اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 128


لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ اَوۡ یُعَذِّبَہُمۡ فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾
نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے دل میں اپنی قوم کے مستقبل سے متعلق کوئی خیال یہاں گزرا ہے جس پر اس جملہ معترضہ کے ذریعے سے بات کو روک کر توجہ دلائی گئی ہے کہ لوگوں کی ہدایت و ضلالت اور جزاوسزا کا معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو تمہاری قوم کو توبہ کی توفیق دے گا اور چاہے گا تو ان پر بھی وہی عذاب نازل کر دے گا جو ان سے پہلے کی قوموں پر نازل ہوا ہے۔ اس کا فیصلہ اللہ کو کرنا ہے اور جو کچھ بھی وہ کرے گا، اپنی حکمت کے لحاظ سے اور اپنے قانون کے مطابق کرے گا، کسی دوسرے کے لیے اس میں دخل اندازی کی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم وہ غفور و رحیم ہے، اس لیے امید رکھنی چاہیے کہ وہ ان پر کرم فرمائے گا۔ جملہ معترضہ کے بعد یہ پوری بات قرآن نے ’ اَوْ یَکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآءِبِیْنَ ‘ پر اسی لیے عطف کردی ہے کہ اس کے قارئین اس نظم کلام پر متنبہ رہیں۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 130


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَۃً ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾ۚ
اس سے مقصود یہ نہیں ہے کہ ممنوع صرف سود درسود ہے، بلکہ صورت حال کی تصویر اور اس کے نفرت انگیز ہونے کو ظاہر کرنے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ (٢) کی آیت ٢٧٣ ’ لَا یَسْءَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ‘ میں بھی یہی اسلوب ہے۔ استاذ امام نے وہاں اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :”۔۔ اصل مقصود سوال کرنے کی نفی ہے، ’ اِلْحَافًا ‘ کی قید اس کے ساتھ صرف سوال کرنے والوں کی عام حالت کی تصویر اور اس کے گھنونے پن کے اظہار کے لیے لگائی ہے۔ مثلاً فرمایا ہے کہ ’ لاَ تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ ‘ (اپنی اولاد کو فقر کے اندیشے سے قتل نہ کرو) ۔ اس میں ممانعت درحقیقت قتل کی ہے، ’ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ ‘ کی قید محض اس کے گھنونے پن کو واضح تر کرنے کے لیے ہے۔۔ یا فرمایا ہے : ’ لَا تُکْرِہُوْا فَتَیٰتِکُمْ عَلَی الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا ‘ ** ( اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ قید نکاح میں آنا چاہتی ہیں) ۔ اس میں بھی مقصود مطلق اکراہ کی ممانعت ہے، ’ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا ‘ کی قید محض اس کے گھنونے پن کے اظہار کے لیے ہے۔ “ (تدبر قرآن ١/ ٦٢٤) پھر یہاں چونکہ انفاق میں سبقت کی دعوت دی گئی ہے، اس لیے یہ واضح کرنا بھی پیش نظر ہے کہ مسابقت کا میدان اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی جنت ہے نہ کہ سود کی زیادہ سے زیادہ مقدار جس کو سمیٹنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے دنیا کے یہ طلب گار سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں۔ بنی اسرائیل ١٧: ٣١۔ النور ٢٤: ٣٣۔

 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 132


وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ۚ
اس سے معلوم ہوا کہ اس تنبیہ کے بعد بھی جو لوگ سود کھانے پر مصر رہیں گے، وہ منکر ہیں اور ان کا انجام وہی ہوگا جو قرآن میں منکروں کے لیے بیان ہوا ہے۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 134


الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَ الۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۳۴﴾ۚ
یعنی اس وسعت کے باوجود انسان اگر چاہے تو اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اس جنت کو خرید سکتا ہے جس کی یہ تمثیل بھی کہ وہ زمین و آسمان جیسی ہے، ایک تمثیل ہی ہے۔ یہ اس لیے فرمایا ہے کہ اکثر مال داروں کے پاس مال تو ہوتا ہے، لیکن اس کی نسبت سے ظرف نہیں ہوتا، لہٰذاوہ سائلوں کے غلط رویے پر ان کو جھڑک کر یا ان پر غصے کا اظہار کر کے اپنے انفاق سے ثواب کمانے کے بجائے الٹا گناہ کما لیتے ہیں۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 135


وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۪ وَ مَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟ وَ لَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾
یہ انفاق کے راستے کی ایک نہایت اہم مزاحمت کا بیان ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں :”۔۔ جس طرح سود خوری کی علت روپے کی ایسی تونس پیدا کردیتی ہے کہ آدمی کے لیے کسی اچھے کام میں خرچ کرنا پہاڑ ہوجاتا ہے ، اسی طرح بدکاری اور عیاشی کی چاٹ بھی کسی نیکی کے کام میں خرچ کرنے کی راہ بند کردیتی ہے۔ جو لوگ اس راہ پر چل پڑتے ہیں، وہ اپنی خواہشوں کے ہاتھوں اس طرح بےبس ہوجاتے ہیں کہ ان کو کسی اور طرف نگاہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ اس وجہ سے قرآن نے انفاق کی تعلیم کے سلسلے میں جہاں سود خوری سے روکا ہے، وہیں بدکاری و بےحیائی اور اس کے لازمی نتیجہ اسراف و تبذیر سے بھی روکا ہے۔ “ (تدبر قرآن ٢/ ١٧٩)

لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران :
آیت136-137-138-139
تفسیر موجود نہیں۔
 
Top