{سورۃ فاتحہ سے دلیل نمبر۱} چلا ہمیں صراط مستقیم پر {اس سورۃ کے اسلوب سے}
اللہ کی حمد وثنا اور اپنی بندگی کے اظہارکے بعد ہم یہ دعا کرتے ہیں۔
اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ { سورۃ الفاتحۃآیت نمبر۵}
ترجمہ : چلا ہمیں صراط مستقیم پر
دلیل کی وضاحت:
اس سے ختمِ نبوت کی دلیل یوں ہے کہ مولانا عبدالقادر محدث دہلویؒ موضح القرآن میں اس سورت کے تحت لکھتے ہیں کہ یہ سورت اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ اس طرح کہا کریں یعنی ان کلمات کے ساتھ دعا کیاکریں ۔ شاہ صاحب کا مقصد یہ ہے کہ یہ آسمانی درخواست ہے جس کو پیش کرنے سے ہدایت حاصل ہوتی ہے گویااس کی حیثیت سرکاری درخواست فارم کی طرح ہے اگر کسی کو مدرسہ،سکول یا کالج میں داخلہ لینا ہو تو اسے پہلے فارم پُر کرنا پڑتا ہے یہ فارم حقیقت میں ایک درخواست ہی ہوتی ہے جب تک داخلہ کھلا ہوتا ہے درخواست کے فارم ملا کرتے ہیں جب داخلہ بند ہوجائے تو فارم نہیں ملاکرتے ۔
حاصل یہ کہ سورت فاتحہ درخواست ہے اوریہ اسی ہدایت کیلئے درخواست ہے جو قرآن پاک میں موجود ہے جس کے بارے میں فرمایا ھُدًی لِلْمُتَّقِیْنَ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لئے اور اسی ہدایت کو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے تھے۔(۱)
اس سورت کا اور بالخصو ص اس دعا (درخواست )کا موجودرہنا بتاتا ہے کہ نبی ﷺکے ذریعے ملنے والی ہدایت باقی ہے جب وہ ہدایت باقی ہے تو کسی اور نبی کی کیا ضرورت ہے؟۔ اگر کسی اور نبی کوآنا ہوتا تو اس درخواست فارم کو اٹھا لیا جاتا تاکہ نیا نبی اپنی ہدایت بھی لائے اور اس کے لیے فارم بھی لائے ۔
الحاصل جب تک سورت فاتحہ موجود ہے کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) اس کی دلیل یہ ہے کہ سورت بقرۃ کے شروع میں ذٰلِکَ الْکِتَابُ فرمایا آگے جا کر {أُولٰئِکَ عَلٰی ھُدًی مِنْ رَبِّھِمْ وَأُولٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} (البقرۃ :۵) ان میں اسم اشارہ کے ساتھ کاف حرفِ خطاب واحد مذکر کا ملا ہوا ہے جو اس کی دلیل ہے کہ مخاطب ایک شخص ہے اگر سب انسان مخاطب ہوتے تو’’ ذٰلِکَ ‘‘کی جگہ کہا جاتا’’ ذٰلِکُمْ ‘‘اور’’ أُولٰئِکَ ‘‘ کی جگہ کہاجاتا’’ أُولٰئِکُم ‘‘ْاب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ایک شخص جس کو خطاب ہے وہ کون ہے ؟ وہ خود رسول اللہ د ﷺ ہی ہیں کیونکہ آپ کو خطاب کرکے فرمایا ہے { وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا أُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکََ} (البقرۃ : ۴)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ