• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

سکھ مت پر ایک طائرانہ نظر

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
تحریر
محمد اسامہ حفیظ

گزشتہ کچھ دنوں سے یہ شور سننے میں آ رہا تھا کہ سکھوں نے اسلام پر اعتراضات کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، تحقیق سے معلوم ہوا دشمنان اسلام کے وہی پرانے اعتراضات پنجابی زبان میں پیش کیے جا رہے ہیں ۔
ان اعتراضات کے جوابات اہل اسلام بڑی تعداد میں دیتے چلے آ رہے ہیں اور دیتے رہیں گے ان شاءاللہ ۔ اگر آپ ان کے پیش کردہ کسی بھی اعتراض کی سوشل میڈیا پر ہی سرچ کر لیں تو ضرورت سے زیادہ مواد آپ کے سامنے آ جائے گا ، اسی وجہ سے ان اعتراضات کو نکل کر کے نئے سرے جوابات دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔ لیکن سکھ مذہب پر ایک طائرانہ نظر کرنے کا ارادہ ضرور بن گیا ۔ الفاظ کی شدت اگر محسوس ہو تو یاد رکھیں یہ جوابی کارروائی ہے۔

نالۂ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کر
اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
گرو نانک
سکھ مت کا بانی اس شخص کو سمجھا جاتا ہے ، 1469 میں اس کی پیدائش بتائی جاتی ہے ۔

ہندیوں کی اولاد
اس کے والد کا نام کالو رام تھا اور لالو ایک دکان دار تھا۔ ( سید محمد لطیف ، تاریخ پنجاب صفحہ 481)
SmartSelect_20240506_041053_Xodo.jpg

سوال
آج تک جو سکھ اہل اسلام پر بکواس کرتے رہے ہیں کہ تمہارے ابا و اجداد ہندو و سکھ تھے، سے ہمارا سوال ہے ہم پر بکواس کرنے سے پہلے اس بات کا جواب دو کہ تمہارے دھرم کا بانی ایک ہندو کی اولاد ہے۔ ہندیوں کے بچوں ہم پر اعتراض بعد میں کرنا پہلے اپنے کالو کا جواب دو۔

استاد کا بے ادب
گرو نانک شروع سے ہی استاد کا بے ادب تھا چنانچہ جب ایک ہندو استاد پنڈت گوپال نے اسے پڑھانے کی کوشش کی تو اپنے استاد سے ہی بدتمیزی کرنے لگ گیا ۔
چنانچہ جی۔این۔امجد (ایم۔اے) لکھتے ہیں
”جب پنڈت گوپال نے آپ کو پڑھانا شروع کیا ۔ تو انہوں نے اسے کھری کھری باتیں سنانی شروع کر دی“ ( تاریخ سکھ مت صفحہ 8٫9)
Screenshot_20240503_022421_Xodo.jpg

Screenshot_20240503_022433_Xodo.jpg

جو شروع سے ہی اپنے محسن(یعنی استاد) کا بے ادب ہو اس کے پاس علم کہاں سے آنا تھا ، اسی وجہ سے نانک نے ساری عمر چوری کے مال سے کام چلایا۔ (میری مراد علمی چوری ہے تفصیل آگے آ جائے گی ان شاءاللہ)

کم فہم اور بے عقل
نانک شروع سے ہی بے عقل تھا اس کا ثبوت تلونڈی جہاں نانک پیدا ہوا کے مسلم رئیس کا اس کے باپ کالو کو یہ مشورہ دینا ہے کہ
”اسے ”ملاوں“ کے پاس پڑنے کے لئے بٹھا دیں جب فارسی پڑھیں گے تو خود بخود عقلمند ہو جائیں گے۔ “ ( تاریخ سکھ مت صفحہ 9)
Screenshot_20240503_022433_Xodo.jpg

ہم پر اعتراض کرنے والے سکھ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ان کے مذہب کے بانی کا ناقص العقل( بیوقوف) ہونا اتنا واضح تھا کہ اس کے قصبے کے لوگ بھی مانتے تھے ۔

مسلمانوں کا شاگرد
نانک جو ان کے مذہب کا بانی تھا وہ ہمارا شاگرد تھا ،مسلم رائیس کے مشورے پر کالو نے نانک کو ایک مسلم بزرگ سید حسن کی شاگردی میں دے دیا ۔
” نانک نے فارسی اور دینیات کی تعلیم ایک بزرگ سید حسن سے حاصل کی تھی. “ ( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 108)
SmartSelect_20240502_231325_Xodo.jpg

سکھوں تمہارے گرو کا گرو ایک مسلمان تھا ، شرم کرو اپنے گرو کے گروں پر زبان دراز کرتے ہو۔

سکھوں کا گرو مسلمانوں کا نوکر
نانک کے والد کالو رام نے بڑی مشکل سے اسے نواب دولت خان لودھی کا نوکر رکھوا دیا ۔ ملاحظہ فرمائیں
” چنانچہ ان کے والد نے بڑی مشکل سے انہیں سلطان پور میں نواب دولت خان لودھی حاکم صوبہ کی ذاتی ملازمت اختیار کرنے پر امادہ کیا ۔ نواب نے انہیں اپنے گھر کے ساز و سامان کا محافظ مقرر کیا اور وہ سال ہا سال اپنے فرائض منصبی اپنے آقا کے حسب منشا سر انجام دیتے رہے۔ “
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 108)
SmartSelect_20240502_231325_Xodo.jpg

نانک اور چوری عقائد
اس کے بعد نانک نے چوری عقائد کا سلسلہ شروع کیا ، انسکلوپیڈیا کے مطابق نانک نے ملک بھر کا سفر اختیار کیا اور جہاں جاتا وہاں
”پنڈتوں اور صوفیوں سے مباحثے کرتے “ ( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 108)
SmartSelect_20240502_231325_Xodo.jpg

ایک وہ یہ بھی تھی کہ بچپن میں ہی ہندو اور مسلمان دونوں استادوں سے کچھ نہ کچھ تعلق رہا یہی وجہ ہے کہ اس نے عقیدہ توحید اہل اسلام سے چوری کیا گروبانی کے پہلے اشعار
”خدا صرف ایک ہے “
اس پر دلالت کرتے ہیں اسی طرح ہندوں سے حلول اور جنم کا عقیدہ چوری کر لیا ۔
مرنے سے پہلے نانک نے اپنے خاص مرید انگد کو جو سکھوں کا دوسرا گرو ہے اپنا جانشین بنایا ( یہ رسم بھی صوفیاء سے چوری شدہ ہے) اور اس کے بارے میں کہا کہ یہ خود وہی ہے ، (یعنی انگد خود نانک ہے) اور اس کے روح انگد میں حلول کر گئی ہے ۔ اسی وجہ سے سارے سکھ مانتے ہیں کہ ہر گرو میں نانک کی روح ہوتی ہے۔ ( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 108)
SmartSelect_20240502_231325_Xodo.jpg

چوروں کا مذہب
آپ نے اندازہ کر لیا مذہب بن رہا ہے اور عقائد ادھر ادھر سے چوری کیے جا رہے ہیں ، چور چونکہ کم فہم تھا اسی وجہ سے چوری بھی صحیح سے نہ کر سکا خیر ۔
بنیادی طور پر سکھ مت میں اپنا کچھ بھی نہیں ہے سب ادھر ادھر سے چوری کیا ہوا ہے ۔ اس دھرم کی کوئی بنیا ہی نہیں ہے ۔ ان کے اپنے ذاتی کوئی عقائد نہیں ہیں۔ ان کے بانی کی طرح کے ہی غبی لوگ اس دھرم میں شامل ہیں جن کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں کوئی عقیدہ نہیں فضول چیزوں کا مجموعہ ۔

نانک کے بارے میں کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن اختصار مد نظر ہے ، باقی پھر کبھی ۔ (ان شاءاللہ )
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
گرو انگد
سکھوں کا دوسرا گروہ انگد ہے نام سے ہی واضح ہے ہندیوں کی اولاد ہے ، نانک نے مرنے سے پہلے اس کے بارے میں کہا تھا میری روح اس میں حلول کر گئی ہے یعنی انگد اب انگد نہیں بلکہ نانک بن گیا ہے ، اسی وجہ سے تمام سکھ گرو اپنے آپ کو نانک کا اوتار ہی سمجھتے تھے ، انسکلوپیڈیا کے مطابق اسی عقیدے کی بنیاد پر تمام سکھ گروؤں نے
” اپنی تحریروں میں اپنا قدیم نانک اختیار کیا “ ( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 109)
SmartSelect_20240502_231346_Xodo.jpg

سکھوں سے سوال ہے کہ اگر نانک کی روح انگد میں حلول کر گئی اور انگد نانک بن گیا تو کیا نانک کی بیوی انگد کے لیے جائز کو گئی یا نہیں ؟
پنجابی اور گورمکھی میں فرق
خیر آگے چلتے ہیں انسکلوپیڈیا کے مطابق گورمکھی یعنی وہ رسم الخط جس میں سکھ پنجابی لکھتے ہیں ایک روایت کے مطابق اسے نانک کے مرنے کے بعد انگد نے ایجاد کیا تھا۔( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 109)
SmartSelect_20240502_231346_Xodo.jpg

اس روایت کو درست مانا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پنجابی کا اصل رسم الخط وہ ہے جس میں مسلمان پنجابی لکھتے ہیں دوسرا رسم الخط تو ایک بنیے کی اولاد نے گھر بیٹھ کر ایجاد کیا تھا ۔ پنجابی کے اصل وارث ہم ہیں یہ سکھ نہیں ہیں ۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
گرو امر داس
انگد نے مرنے سے پہلے امر داس کو اپنا گدی نشین بنایا ۔ جیسے میں نے پہلے عرض کیا سکھیوں کے پاس اپنا ذاتی کچھ بھی نہیں وجہ یہ ہے کہ ان کا بانی عقل سے پیدل تھا اسی وجہ سے دوسرے مذاھب سے چوری کر کے کام چلا رہے ہیں ، یہ جانشین بنانے والی رسم بھی سکھیوں کے گروؤں نے مسلم صوفیاء سے چوری کی ہے ۔

مغل بادشاہ کے ساتھ تعلقات
امر داس کے مغل بادشاہ اکبر کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے ، دیکھیں( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 109)
SmartSelect_20240502_231346_Xodo.jpg

آج مغل سلطنت پر بکواس کرنے والے سکھ جواب دیں کے اکبر بادشاہ جو مغل حکمران تھا اس کے ساتھ تمہارا تیسرا گرو امر داس دوستی کی پینگیں کیوں بڑھا رہا تھا ۔
اگر مغل بادشاہ برے تھے تو ان کے ساتھ دوستی کرنے والا تمہارا تیسرا گروہ کیوں برا نہیں ؟

مغلوں نے نمک خوار

سکھوں کا تیسرا گرو امر داس مغلوں کے ٹکڑوں پر پلتا تھا ، بادشاہ اکبر نے امر داس کو ایک جاگیر عطا کر رکھی تھی ۔( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 109)
SmartSelect_20240502_231346_Xodo.jpg

اسی سے اس کا گزر بسر ہوتا تھا ، آج مغل بادشاہوں کو گالیاں دینے والے سکھ اصل میں نمک حرام ہیں ، ان کا گرو امر داس مغلوں کے ٹکڑوں پر پلتا رہا اور یہ اپنے گرو کو پالنے والوں پر بکواس کرتے ہیں ۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
گرو رام داس
امر داس کے بعد یہ سکھوں کا چوتھا گرو بنا یہ امر داس کا داماد تھا ۔
امرتسر کی بنیاد مغلوں کی اجازت سے
یہ بھی اپنے سسر کی طرح اکبر بادشاہ کا وفادار تھا اسے کے آگے دم ہلاتا رہتا تھا ہر وقت اس کی مدد پر آمادہ رہتا تھا اسی نوکری کے نتیجے میں اکبر نے ”1577 میں اسے ایک قطعہ اراضی عنایت فرمایا “ جس پر اس نے ایک ”مقدس چھپڑ“ بنایا اور یہ عقیدہ رائج کیا کہ جو اس میں غصل کرے گا وہ سب گُناہوں سے پاک ہو جائے گا (ہندیوں کے گنگا اشنان سے چوری عقیدہ) اسی چھپڑ کے پاس اکبر کی عطا کردہ زمین پر ایک بستی بسائی اس کا نام رام داس پور رکھا جو بعد میں ایک شہر بنا گیا جسے امرتسر کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 109)
SmartSelect_20240502_231346_Xodo.jpg

یہ سکھوں کا مقدس شہر مغل بادشاہ اکبر کی دین ہے ۔ مغلوں کو برا کہنے والے سکھ کم از کم امرتسر سے تو باہر نکلیں کیونکہ امرتسر شہر بادشاہ اکبر کہ خیرات میں دی ہوئی زمین پر آباد ہے ۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
گرو ارجن
رام داس کے بعد پانچواں گرو ارجن بنایا گیا ، یہ رام داس کا بیٹا تھا ، اس کے بعد سے سکھوں میں موراثی گدی کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 110)
SmartSelect_20240502_231410_Xodo.jpg

لالچ و دولت کی محبت
چونکہ اس نے اپنے باپ اور اس سے پہلے گرو امر داس کو دیکھا تھا کہ بادشاہوں کی جانب سے مال و دولت اور جاگیر وغیرہ مل رہی ہے اسی لالچ میں کہ میں بھی گرو بن گیا تو مجھے بھی یہ مل جائے گا اس نے گدی پر قبضہ کر لیا ۔
گرو گرنتھ کی تدوین
سکھوں کی ”مقدس کتاب“ گرو گرنتھ کی تدوین کی پہلی کوشش بھی اسی نے کی ، سکھوں کے پہلے گرو نے نانک کی بانی اور سوانح عمری لکھوا دی تھی اس نے اس میں بعد میں آنے والے گروؤں کے کلام کا اضافہ کیا ساتھ ہی نانک سے پہلے کے ہندو یوگیوں اور مسلمان صوفیاء کے کلام کو بھی گرو گرنتھ میں شامل کیا ،
آدی گرنتھ کی تکمیل
اس طرح گرنتھ کا ایک حصہ جو نانک سے پہلے ہندو اور مسلم بزرگوں اور نانک سے لے کر ارجن تک سکھ گروؤں کے کلام کا مجموعہ ہے جسے ”آدی گرنتھ“ کہتے ہیں وجود میں آیا۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 110)
SmartSelect_20240502_231410_Xodo.jpg

چندے وصول کرنا
ارجن بنیادی طور پر لالچی انسان تھا جب اس نے محسوس کیا کہ بادشاہ وغیرہ کی جانب سے دی گئی جاگیر وغیرہ سے اس کا گزارہ نہیں ہوتا تو اپنے لالچ کی تسکین کے لیے اس نے اپنے
”کارندوں کو ملک کے مختلف اضلاع میں گرو کے نام پر چندہ وصول کرنے کے لیے بھیجا “
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 110)
SmartSelect_20240502_231410_Xodo.jpg

حکومت کا لالچ
یہی وہ پہلا شخص تھا جس کے دل میں حکومت کا لالچ آیا اور اس نے اپنے ماننے والوں کو کہا کہ اسے ”سچا بادشاہ “ کہا جائے ۔
انسائکلوپیڈیا کے مطابق گرو ارجن کی یہ حرکت اس کی ”سیاسی اقتدار کی ھوس کا آئینہ دار ہے “ ( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 110)
SmartSelect_20240502_231410_Xodo.jpg

مغل سلطنت سے بغاوت
حکومت کے لالچ میں اس نے مغل سلطنت کے باغیوں کی مالی مدد شروع کر دی ۔
”1606ء میں گرو ارجن نے شہزادہ خسرو کی ، جس نے اپنے والد شہنشاہ جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی تھی ، مالی امداد کی۔ ( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 110)
SmartSelect_20240502_231410_Xodo.jpg

قید اور موت
خسرو کو شکست ہو گئی بادشاہ جہانگیر کے حکم پر ”سچے بادشاہ “ کو لاہور میں قید کر دیا گیا وہی قید میں ہی مر گیا۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
گرو ہر گویند
گرو ارجن کے بعد اس کا بیٹا ہر گووند گرو بن بیٹھا ۔
اس نے عملی طور پر حکومت سے بغاوت شروع کی اسی کے دور میں سکھوں کی فوجی زندگی کا آغاز ہوا۔
اس مقصد کی تکمیل کے لیے اس نے ”عشر “ اور نذرانے وصول کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 110)
SmartSelect_20240502_231410_Xodo.jpg

اس مال سے اس نے اپنی فوج تیار کی جس کی تفصیل انسائکلوپیڈیا میں یوں درج ہے ۔
”اس نے اپنی ملازمت میں عادی مجرموں ، شورش پسندو اور قزاقوں( ڈاکوؤں) کی کافی تعداد بھرتی کر لی اور دریائے بیاس کے کنارے ھرگووند پور کا مضبوط قلعہ بنایا۔“( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 111)
SmartSelect_20240502_231440_Xodo.jpg

جہانگیر کی وفات کے بعد اس نے کھلی بغاوت کر دی ، شاہ جہاں کا خطرہ جب اسے محسوس ہوا یہ پہاڑوں کی طرف بھاگ کیا اور وہی پر اس کی موت ہوئی ۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 111)
SmartSelect_20240502_231440_Xodo.jpg

(اگر یہ اتنا ہی بہادر تھا تو بغاوت کے بعد میدان جنگ میں رہتا.)
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
گرو ہر رائے
ہر گوند کے بعد یہ گرو بنا اس کے شاہ جہاں کے بیٹے داراشکوہ کے ساتھ اچھے تعلقات تھے ، جب اورنگزیب عالمگیر(رحمۃ اللہ علیہ) کی فوج سے دارا بھاگتا پنجاب پہنچا تو اس نے اس کی مدد کی ، اس پر شاہ اورنگزیب عالمگیر ناراض ہو گئے اور اسے باز پرس کے لیے دہلی بلایا۔ اس نے اپنا بیٹا ”رام رائے“ بھیج دیا جسے گرو ھر رائے کے پر امن رویہ کی ضمانت کے طور پر بطور یرغمال شاہی دربار میں رکھ لیا گیا ۔( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 111)
SmartSelect_20240502_231440_Xodo.jpg

سکھ آج جو بکوس کرتے ہیں کہ ہم بڑی بہادر قوم ہیں اوقات تو ان کی اتنی ہی ہے کہ اپنی اولاد کو خود ہی ہمارے حوالے کرتے رہے ہیں وہ بھی تب جب ان کی فوج اور قلعے بن چکے تھے۔ گرو ھر رائے کی بغیرتی اس واقعہ سے واضح ہے ۔

سکھوں کا گرو بننے کے لیے جھگڑا
1661 ء میں گرو ھر رائے مر گیا تو اس کے دو بیٹے آپس میں گرو بننے کے لیے لڑھ پڑے ، ھر کرشن اور رام رائے دونوں گرو بننے کے مدعی تھے ، رام رائے نے شاہ اورنگزیب عالمگیر کی عدالت میں مقدمہ کر دیا کہ میرا چھوٹا بھائی کرشن رائے میرے حق پر زیادتی کرتا ہے ، شاہ نے کرشن رائے کو دہلی آنے کا حکم دیا ، سکھ گرو مسلمان بادشاہ کے حکم پر دہلی پہنچا اور وہی چیچک کی بیماری سے 1664 ء میں فوت ہو گیا ۔ ( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 111)
SmartSelect_20240502_231440_Xodo.jpg
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
گرو تیغ بہادر
ھر کرشن کی موت کے بعد سکھ گرو بننے کے لیے جھگڑتے رہی بلاآخر گرو ھر گووند کے بیٹے تیغ بہادر کو گرو مان لیا گیا ۔
لیکن اس کے مقابلے میں کچھ اور سکھ بھی گرو بن بیٹھے ۔ جس کی وجہ سے تیغ بہادر اپنے ساتھیوں کو لے کر ”کوہ سوالک “ کی طرف نکل گیا اور وہاں اس نے اپنا الگ شہر ”انند پور “ بسایا ۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 111)
SmartSelect_20240502_231440_Xodo.jpg

اب اپنی طاقت کو بڑھانے کے لیے اس شہر میں گرو تیغ بہادر نے
”مفروروں اور قانون شکنوں کو پناہ دینا شروع کر دی“
اس کے بعد اپنے گزارے کے لیے ارد گرد کے علاقوں میں کوڈ کھسوٹ کرنا شروع کر دی۔
اس نے آسام وغیرہ کا سفر کیا
”پھر پنجاب واپس آ گیا اور اپنے چیلوں سمیت لوٹ کھسوٹ پر زندگی بسر کی“
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 112)
SmartSelect_20240502_231508_Xodo.jpg

جب اس کا ظلم اور لوڈ مار زیادہ ہو گیا تو شاہی دستور نے اسے قید کر لیا اسے دہلی پیش کیا گیا اور شاہ اورنگزیب عالمگیر(رحمۃ اللہ علیہ ) کے حکم پر ان جرائم کی وجہ سے 1675 ء میں اسے سزائے موت دے دی گئی ۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 112)
SmartSelect_20240502_231508_Xodo.jpg
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
گرو گووند سنگھ
تیغ بہادر کی موت کے بعد یہ سکھوں کا دسواں اور آخری گرو بنا، یہ تیغ بہادر کا بیٹا تھا ، اسے اپنے باپ کی موت کا بہت دکھ تھا ، حضرت شاہ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ کے خلاف بہت نفرت تھی لیکن بدلہ لینے کی جرت نہ کر سکا ، گووند گرو بنتے ہی شاہ اورنگزیب رحمہ اللہ کے خوف سے پہاڑوں میں بھاگ گیا اور 20 سال تک وہی رہا۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 112)
SmartSelect_20240502_231508_Xodo.jpg

اسی نے سکھوں کی ”خالصہ“ فوج تیار کی، ایک رسم جس کے زریعے سکھ مذہب میں داخل کیا جاتا ہے جسے ”پاھل“ کہتے ہیں اسی نے جاری کی ، یہ رسم ادا کرنے کے بعد سکھ اپنے ساتھ خاندانی تعارف کی جگہ ”سنگھ“ لگاتے ہیں ، ہر سنگھ کے لیے ”پانچ ککے“ زیب تن کرنا ضروری ہوتے ہیں ۔
1 کچھ ( کچھا )
2 کرپان ( تلوار )
3 کڑا
4 کیس (لمبے بال)
5 کنگھا
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 112)
SmartSelect_20240502_231508_Xodo.jpg

لوٹ مار
اپنی یہ فوج تیار کرنے کے بعد سکھ گُرو نے ارد گرد کے علاقوں میں کوڈ مار شروع کر دی ۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 112)
SmartSelect_20240502_231508_Xodo.jpg

ارد گرد کے راجاؤں نے مل کر حضرت شاہ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ کو مدد کے لیے خط لکھا ، حضرت نے اپنے سرھند کے گورنر کو اس کے حل کا حکم دیا ۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 113)
SmartSelect_20240502_231527_Xodo.jpg

گرو گووند کے مرید لوٹ مار تو کر سکتے تھے میدان میں رکنا ان کے بس کی بات نہیں تھی ، گووند سنگھ کو شکست ہو گئی اور وہ اپنے ساتھیوں سمیت انندپور کے قلعے میں چھپ کر بیٹھ گیا ۔شاہی فوج نے قلعے کا محاصرہ کر لیا ، کچھ ہی دنوں میں رسد کی کمی ہو گئی گرو کے سکھ بھاگ کھڑے ہوئے ، ( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 113)
SmartSelect_20240502_231527_Xodo.jpg

گرو اکیلا کیا کرتا وہ بھی اپنے خاندان سمیت بھاگ کھڑا ہوا ، سرہند پہنچا تو وہاں کے ہندو اھل کاروں کی سازش سے اس کے دو بیٹے مارے گئے ۔( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 113)
SmartSelect_20240502_231527_Xodo.jpg

لیکن ”دسویں بادشاہ“ کسی طرح بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ، بچنے کے بعد اس نے گرو گرنتھ کا دوسرا حصہ جسے ”دسم گرنتھ “ کہتے ہیں جمع کیا ۔
( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 113)
SmartSelect_20240502_231527_Xodo.jpg

کچھ عرصہ کے بعد حضرت شاہ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ نے داعی اجل کو لبیک کہا تو ساتھ ہی سلطنت مغلیہ کا بھی اپنے حقیقی معنی میں خاتمہ ہو گیا ۔
دشمنوں سے انعامات وصول کرنا
حضرت شاہ اورنگزیب عالمگیر کے بعد بہادر شاہ بادشاہ بنا اس نے گرو گووند کو دکن کی فوجی کمان عطا کر دی ۔( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 113)
SmartSelect_20240502_231527_Xodo.jpg

گرو کا قتل
ایک افغان ملازم نے کسی ”ذاتی رنجش“ کی بنیاد پر اسے قتل کر دیا ۔( اردو دائرہ معارف اسلامیہ اردو ترجمہ، ENCYCLOPÆDIA
BRITANNICA ، جلد11 صفحہ 113)
SmartSelect_20240502_231527_Xodo.jpg

چونکہ اس کے بیٹے اس کی زندگی میں ہی مارے گئے تھے اسی وجہ سے اس نے کسی کو گرو نہ بنایا اور گروؤں کا سلسلہ اس پر ختم ہو گیا ۔
اس کے قول کے مطابق اب قیامت تک سکھوں کا گرو ان کی گرنتھ ہے۔ جس میں کچھ فضول اشعار کے علاؤہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ نہ حلال حرام کی تمیز بیاتی ہے نہ زندگی گزارنے کا کوئی طریقہ سمجھاتی ہے نہ ہی انسان کی زندگی کا مقصد بیان کرتی ہے ، فارغ لوگوں کی فضول باتوں کا مجموعہ گرو گرنتھ صاحب ۔
خیر یہ تھے کچھ مختصر حالات ۔
باقی اگر سکھوں کی بکواسات بند نہ ہوئی تو ہماری طرف سے بھی نرمی نہیں کی جائے گی ۔
 
Top