قادیانی آذان و نماز
مقدمہ
آئینہٴ قادیانیت اور نمازِ نبوی ﷺ سے انحراف
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جس نے دینِ اسلام کو کامل فرمایا اور نماز کو مومن کی معراج اور دین کا ستون قرار دیا۔ کروڑوں درود و سلام ہوں سید الانبیاء، خاتم المرسلین، جنابِ محمد رسول اللہ ﷺ پر، جن کی ختمِ نبوت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا، اور جن کی سنت کی اتباع ہی نجات کا واحد راستہ ہے۔
اسلامی شریعت میں نماز محض چند حرکات کا نام نہیں، بلکہ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق کی معراج ہے۔ قرآن و حدیث میں نماز کے آداب، شرائط، ارکان اور خشوع و خضوع پر اس قدر زور دیا گیا ہے کہ اس کی ادنیٰ سی توہین یا تبدیلی پورے دین کے ڈھانچے کو متزلزل کر دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: صلوا کما رأيتمونی اصلی (نماز ویسے ہی پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے دیکھا ہے)۔
لیکن تاریخِ اسلام کے ایک بڑے کذاب اور مدعیِ نبوت، مرزا غلام قادیانی نے جہاں عقائدِ اسلامیہ پر ڈاکہ ڈالا، وہیں اس نے نماز جیسے مقدس فریضے کو بھی اپنی تضاد بیانیوں اور مضحکہ خیز حرکات کا نشانہ بنایا۔ مرزا قادیانی کی پوری زندگی قول و فعل کے تضادکا شاہکار تھی۔ ایک طرف وہ تحریروں میں اسلام کا لبادہ اوڑھتا تھا، تو دوسری طرف اس کے عملی افعال سنتِ نبوی ﷺ کے صریح خلاف تھے۔
اس کتاب کو مرتب کرنے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، بلکہ حق کے متلاشیوں پر یہ واضح کرنا ہے کہ جو شخص نماز جیسے بنیادی اور روزمرہ کے فریضے میں اس قدر تضادات اور غیر شرعی حرکات کا شکار ہو، وہ مسیحِ موعود تو کیا، ایک عام صالح مسلمان کہلانے کا حقدار بھی نہیں ہو سکتا۔
اس کتاب میں ہم نے قادیانی کتب (ملفوظات، سیرت المہدی، ذکرِ حبیب وغیرہ) کے حوالوں سے درج ذیل حقائق کو بے نقاب کیا ہے:
1. اذانِ نبوی ﷺ کی توہین: جہاں مرزا نے اذان کے دوران باتیں کرنے کو غذااور خاموشی کو بدہضمی قرار دیا۔
2. امامت سے فرار: جب اپنی ہی گھڑی ہوئی جھوٹی حدیث کا سہارا لے کر امامت سے پہلو تہی کی، مگر کچہریوں میں امامت کر کے اپنے ہی قول کی تردید کی۔
3. نمازِ جمعہ کی پامالی: ایک طرف جمعہ چھوڑنے والے کو اسلام سے خارج قرار دیا، مگر خود ایک بچے کی ضد پر جمعہ جیسا فرضِ عین قربان کر دیا۔
4. نماز میں بدعات: نماز کے اندر فارسی نظمیں پڑھنے اور عورتوں کو مردوں کے برابر کھڑا کرنے جیسی سنگین خلاف ورزیاں۔
5. جسمانی و روحانی عجز: نماز کے دوران رینگن، دورانِ سر اور بار بار نماز توڑ دینے کا اعتراف، جو منصبِ نبوت کے سراسر خلاف ہے۔
6. شرمناک حرکات: نمازِ باجماعت کے دوران مریدوں کا (بقولِ قادیانی کتب) مرزا کے جسم کو نامناسب طور پر ٹٹولنا اور اس کا ان حرکات پر خاموش رہنا۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ اس علمی کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اسے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فتنہٴ قادیانیت کے مکر و فریب سے محفوظ رکھے اور سیدِ عالم ﷺ کی سچی غلامی اور اتباعِ سنت میں موت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
اذانِ نبوی ﷺ کی توہین اور مرزا قادیانی کا تضاد
آذان سننا ضروری ہے
جو لوگ اذان سُن رہے ہوں وہ بھی موذن کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ کلمات اذان دھراتے جائیں۔البتہ جب مؤذن حَتَّى عَلَى الصَّلوة يا حَتَّى عَلَى الْفَلَاحِ کہے تو سننے والے صرف لا حَوْلَ وَلاَ قُوَة إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ پڑھیں۔اذان ختم ہونے پر مون اور سننے والے دونوں مندرجہ ذیل دعا مانگیں۔
(فقہ احمدیہ حصہ اول صفحہ119)
آذان سننا ضروری نہیں
عصر کی اذان ہوئی اور نواب صاحب اور مشیر اعلیٰ خاموش ہو گئے۔حضرت اقدس امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اذان میں باتیں کرنا منع نہیں ہیں۔آپ اگر کچھ اور بات پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھ لیں۔کیونکہ بعض باتیں انسان کے دل میں ہوتی ہیں اور وہ کسی وجہ سے ان کو نہیں پوچھتا اور پھر رفتہ رفتہ وہ برا نتیجہ پیدا کرتی ہیں جو شکوک پیدا ہوں ان کو فوراً باہر نکالنا چاہیئے۔یہ تیری غذا کی طرح ہوتی ہیں اگر نہ نکالی جائیں تو سود ہضمی ہو جاتی ہے۔17 اپریل 1902 کو ایک شخص اپنا مضمون اشتہار دربارہ طاعون سنار ہا تھا۔اذان ہونے لگی وہ چپ ہو گیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔پڑھتے جاؤ۔
(فقہ احمدیہ حصہ اول صفحہ 123)(فتاویٰ مسیح موعود صحفہ 16)
اسلام میں اذان شعائرِ اللہ میں سے ہے، جس کا ادب اور اس دوران خاموشی اختیار کرنا ہر مسلمان کا شیوہ ہے۔ مگر مرزا قادیانی اور اس کی نام نہاد فقہ میں اس حوالے سے شدید تضادات پائے جاتے ہیں جو اس کے دعویِٰ اتباعِ رسول ﷺ کے پرخچے اڑا دیتے ہیں۔
ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ
ترجمہ کنز الایمان:بات یہ ہے، اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔
(سورۃ الحج، آیت: 32)
جب اذان ہو رہی ہو تو خاموشی سے اسے سننا اور اس کا جواب دینا سنتِ مؤکدہ ہے، جیسا کہ فرمانِ رسالت ﷺ ہے:
إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ
جب تم مؤذن کی آواز (اذان) سنو، تو تم بھی وہی کلمات کہو جو وہ کہتا ہے۔
( صحیح بخاری: 611)
مرزا قادیانی کا دجل اور کھلے تضادات
مرزا قادیانی کی خود ساختہ فقہ اور اس کے معمولات میں اذان کے حوالے سے ایسی تضاد بیانی پائی جاتی ہے جو کسی مصلح تو کیا، ایک عام دیندار انسان کے لیے بھی زیب نہیں دیتی۔
قادیانی کتاب میں لکھا ہے کہ :
"جو لوگ اذان سُن رہے ہوں وہ بھی موذن کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ کلماتِ اذان دھراتے جائیں۔"
اسی کتاب میں چند صفحات کے بعد مرزا قادیانی کے اس "رسمی قول" کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔ لکھا ہے کہ عصر کی اذان ہوئی تو مرزا قادیانی نے لوگوں کو خاموش دیکھ کر فرمایا:
"اذان میں باتیں کرنا منع نہیں ہیں۔ آپ اگر کچھ اور بات پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھ لیں۔"
مزید براں، 17 اپریل 1902ء کو جب اذان ہونے لگی اور ایک شخص اشتہار پڑھتے ہوئے خاموش ہوا تو مرزا قادیانی نے سنتِ نبوی ﷺ کی صریح مخالفت کرتے ہوئے حکم دیا: "پڑھتے جاؤ۔"
ایک طرف کتاب میں لکھا ہے کہ اذان کا جواب دیں اور دعا مانگیں، دوسری طرف مرزا قادیانی خود اذان کے دوران باتیں کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ اس کے نزدیک شعائرِ اسلام کی کوئی حقیقی اہمیت نہ تھی۔
مرزا قادیانی نے اذان کے دوران گفتگو نہ کرنے کو سوءِ ہضمی(بدہضمی) سے تشبیہ دی۔ یہ کلمات ایک مدعیِ الہام کی زبان پر اذان جیسے مقدس کلمات کے مقابلے میں کتنے گستاخانہ ہیں، اس کا اندازہ ہر صاحبِ ایمان لگا سکتا ہے۔
صحیح احادیث میں اذان کے وقت کلام سے روکنے اور جواب دینے کی تاکید ہے، مگر مرزا قادیانی نے اسے غذا اور برا نتیجہ قرار دے کر لوگوں کو سنت سے دور کیا۔
باجماعت نماز کا تضاد اور مرزا قادیانی کی خود ساختہ امامت
باجماعت نماز واجب ہے
نماز با جماعت نماز با جماعت واجب ہے بلاعذرو مجبوری مردوں کے لئے فرض نمازہ اکیلے پڑھنا جائز نہیں۔اس طرح ان کی نمازہ صحیح نہ ہوگی مسجد میں نماز با جماعت کے لئے ہی بنائی جاتی ہیں۔
(فقہ احمدیہ حصہ اول صفحہ125)
مرزا قادیانی عورتوں کا امام
آخری سالوں میں حضرت مسیح موعود ایک بہت بڑے عرصہ تک اندر عورتوں میں خود پیش امام ہو کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک لمبے عرصہ تک جمع کراتے رہے۔
(ذکر حبیب صفحہ 51)
اسلامی شریعت میں باجماعت نماز کی اہمیت مسلم ہے اور مردوں کے لیے مسجد کی جماعت کا ایک خاص مقام ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے ہاں نہ صرف اقوال میں تضاد پایا جاتا ہے بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی سنتِ نبوی ﷺ کے صریح خلاف ہے۔
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ
ترجمہ کنز الایمان:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
(سورۃ البقرہ: 43)
نبی کریم ﷺ نے مردوں کے لیے مسجد میں باجماعت نماز کی سخت تاکید فرمائی ہے:
مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ قَالُوا وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى
جس نے مؤذن کی آواز سنی اور اسے (مسجد کی) اتباع سے کسی عذر نے نہ روکا، صحابہ نے پوچھا: عذر کیا ہے؟ فرمایا: خوف یا مرض، تو اس کی وہ نماز قبول نہیں ہوگی جو اس نے (اکیلے) پڑھی۔
( سنن ابوداؤد: 551)
مرزا قادیانی کے متضاد اقوال اور غیر شرعی فعل
مرزا قادیانی کے نزدیک ایک طرف تو جماعت کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی، لیکن دوسری طرف وہ خود مسجد کی جماعت چھوڑ کر عورتوں کا امام بنا رہا۔ایک طرف جماعت کو واجب اور اکیلے نماز کو باطل قرار دیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف مرزا قادیانی کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ مردوں کی جماعت اور مسجد چھوڑ کر گھر میں عورتوں کا امام بنتا تھا۔
شریعتِ مطہرہ میں مرد پر مسجد کی جماعت لازم ہے (بجز سخت عذر کے)۔ مرزا قادیانی کا ایک لمبے عرصہ تک مسجد چھوڑ کر گھر میں عورتوں کی امامت کرنا اس کے اپنے ہی بیان کردہ وجوبِ جماعت کے فتوے کی زد میں آتا ہے۔
مرد کا عورتوں کی صف میں کھڑے ہو کر امامت کرنا اور اسے اپنا مستقل معمول بنا لینا کسی طور سنت سے ثابت نہیں۔ اگر مرزا قادیانی مریض تھا تو اسے جماعت کی معافی تھی، لیکن پیش امام بن کر گھر میں عورتوں کو نماز پڑھانا ثابت کرتا ہے کہ وہ مسجد کی حاضری سے دانستہ گریز کرتا تھا۔
بلا عذرِ شرعی (سفر یا بارش وغیرہ) مستقل بنیادوں پر مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرنا تساہل پسندی اور دین میں اپنی مرضی چلانے کی کھلی دلیل ہے۔
امامت سے فرار اور مرزا قادیانی کا خود ساختہ عذر
امامت نہ کرانے کی وجہ امامت نماز کی نسبت ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کس لیے نماز نہیں پڑھا تے؟ فرمایا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔
(ملفوظات مسیح موعود جلد پنجم صفحہ 294)
مرزا قادیانی کے تضادات کی فہرست میں ایک بڑا تضاد امامتِ نماز کا ہے۔ ایک طرف وہ مسیح اور امام ہونے کا دعویدار تھا، مگر جب عملی طور پر امامت کا وقت آتا تو وہ مختلف حیلے بہانوں سے کام لیتا تھا۔
قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
ترجمہ کنز الایمان:فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والاہوں۔
(سورۃ البقرہ: 124)
احادیثِ مبارکہ میں صراحت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ مسلمانوں کی امامت فرمائیں گے، جیسا کہ صحیح روایات میں موجود ہے:
فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيَؤُمُّ النَّاسَ
پس عیسیٰ ابن مریم ﷺ (آسمان سے) نازل ہوں گے اور لوگوں کی امامت فرمائیں گے۔
( مسند البزار: 9642)( مجمع الزوائد: 12543)
مرزا قادیانی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ وہ خود امامت کیوں نہیں کراتا، تو اس نے حدیثِ رسول ﷺ پر افترا باندھتے ہوئے ایک نیا عذر تراشا۔
جب ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کس لیے نماز نہیں پڑھاتے؟ تو مرزا قادیانی نے جواب دیا حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والاہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔
صحیح احادیث (مثلاً صحیح مسلم) میں یہ ذکر ضرور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت جب نماز کا وقت ہوگا تو مسلمانوں کے امیر (امام مہدی علیہ السلام) انہیں امامت کی دعوت دیں گے اور وہ تواضع کے طور پر پہلی نماز ان کے پیچھے پڑھیں گے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ پوری زندگی دوسروں کے پیچھے ہی نماز پڑھیں گے۔ بلکہ کتبِ احادیث میں صراحت ہے کہ وہ دجال کے قتل کے بعد مسلمانوں کی امامت فرمائیں گے۔
پچھلے باب میں ذکر ہوا کہ مرزا قادیانی ایک لمبے عرصہ تک گھر میں عورتوں کا پیش امام بن کر نمازیں پڑھاتا رہا۔ اگر حدیث کے مطابق اس کے لیے دوسروں کے پیچھے نماز پڑھنا لازم تھا، تو پھر وہ عورتوں کا امام کیوں بنتا رہا؟ کیا عورتوں کی امامت کرنے سے وہ حدیث (جو اس نے خود گھڑی) متاثر نہیں ہوتی تھی؟
حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی امامت سے پہلو تہی اس کی علمی و عملی کمزوریوں کی پردہ پوشی تھی۔ وہ کبھی نماز پڑھتا ہی نہیں تھا اور اگر کھڑا ہوتا تو اکثر اسے توڑ دیتا تھا۔ اس نے اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے مسیح دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا والاجھوٹا سہارا لیا۔
مرزا قادیانی کی امامت اور تضادات کا مجموعہ
۱۸۹۹ء۔غالباً ٹیکس کا مقدمہ تھا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز ظہر گورداسپور کے احاطہ کچہری میں بعض لوگوں کی درخواست پر خود پیش امام ہو کر پڑھائی اور بہت سے لوگ دوڑ دوڑ کر اُس نماز میں شامل ہوئے۔
(ذکر حبیب صفحہ 49)
مرزا قادیانی کی زندگی تضاد بیانیوں سے عبارت ہے۔ ایک طرف وہ لوگوں کے سوال پر امامت سے یہ کہہ کر انکار کرتا ہے کہ مسیح دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا ، لیکن دوسری طرف اپنی ہی جماعت کی کتب اس کے اس خود ساختہ قانون کی دھجیاں اڑاتی نظر آتی ہیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ۔كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ
ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے۔کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔
(سورۃ الصف: 2,3)
نبی کریم ﷺ نے قول و فعل کے تضاد کو منافق کی علامت قرار دیا ہے:
آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اسے امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔
( صحیح بخاری: 33)
اب مرزا قادیانی کے پچھلے عذر (جو اس نے ملفوظات میں بیان کیا) اور اس کے اس عملی واقعے کا موازنہ کریں:
پچھلا دعویٰ یہ تھا کہ مرزا قادیانی نے کہا کہ وہ امامت اس لیے نہیں کراتا کیونکہ حدیث میں ہے کہ مسیح دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔
اگر مرزا قادیانی کے بقول آنے والے مسیح کے لیے دوسروں کے پیچھے نماز پڑھنا لازمی تھا، تو گورداسپور کی کچہری میں وہ پیش امام کیوں بنا؟ کیا وہاں اسے اپنی گھڑی ہوئی وہ حدیث یاد نہیں رہی تھی؟
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کے پاس کوئی مستقل اصول یا شرعی ضابطہ نہیں تھا۔ جہاں اسے ضرورت پڑتی یا جہاں وہ لوگوں کو متاثر کرنا چاہتا (جیسا کہ کچہری کے مجمع میں ہوا)، وہاں وہ پیش امام بن جاتا تھا، اور جہاں اسے سستی ہوتی یا علمی گرفت کا ڈر ہوتا، وہاں مسیح دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا کا جھوٹا سہارا لے لیتا تھا۔
1899ء میں وہ کچہری میں امامت کرا رہا ہے، جبکہ ملفوظات کی روایت میں وہ امامت سے انکار کے لیے حدیث کا بہانہ بنا رہا ہے۔ یہ صریح تضاد اس کے جھوٹے ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
نمازِ جمعہ سے پہلو تہی اور مرزا قادیانی کا غیر شرعی طرزِ عمل
مبارک احمد مرحوم کی خاطر نماز جمعہ میں نہیں گئے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم کی مرض الموت کے ایام میں ایک جمعہ کے دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حسب معمول کپڑے بدل کر عصاء ہاتھ میں لے کر جامعہ مسجد کو جانے کے واسطے طیار ہوئے۔جب صاحبزادہ کی چار پائی کے پاس سے گذرتے ہوئے ذرا کھڑے ہو گئے تو صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دامن پکڑ لیا اور اپنی چار پائی پر بٹھا دیا اور اُٹھنے نہ دیا۔صاحبزادہ صاحب کی خاطر حضور بیٹھے رہے اور جب دیکھا کہ بچہ اُٹھنے نہیں دیتا ، اور نماز جمعہ کے وقت میں دیر ہوتی ہے تو حضور نے کہلا بھیجا کہ جمعہ پڑھ لیں۔حضور کا انتظارنہ کریں۔
(ذکر حبیب صفحہ 135)
نمازِ جمعہ دینِ اسلام کے اہم ترین فرائض اور شعائر میں سے ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی سخت تاکید آئی ہے، مگر مرزا قادیانی کے ہاں ایک بچے کی ضد کے سامنے اس عظیم فریضے کی کوئی اہمیت نظر نہیں آتی۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔
(سورۃ الجمعہ: 9)
نبی کریم ﷺ نے بلا عذرِ شرعی جمعہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت وعید بیان فرمائی ہے:
لِيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ
لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافل لوگوں میں سے ہو جائیں گے۔
( صحیح مسلم: 865)(مشکوۃ المصابیح:1370)
یہ واقعہ مرزا قادیانی کی سیرت کا انمول واقعہ ہے جو اس کے نزدیک فرائضِ الٰہیہ کی حیثیت کو واضح کرتا ہے۔
شریعت میں جمعہ چھوڑنے کے اعذار (جیسے سخت بیماری یا خوف) واضح ہیں۔ ایک بچے کا دامن پکڑ لینا یا ضد کرنا ہرگز ایسا عذر نہیں کہ جس کی وجہ سے فرضِ عین (جمعہ) کو ترک کر دیا جائے۔
مرزا قادیانی کے نزدیک اللہ کے حکم (فاسعوا الی ذکر اللہ) کے مقابلے میں ایک بچے کی خواہش زیادہ مقدم تھی۔ کیا ایک مدعیِ نبوت کا یہ شیوہ ہو سکتا ہے کہ وہ فرضِ خداوندی پر بشری تعلقات کو ترجیح دے؟
مرزا قادیانی خود کو مسیح اور نبی کہتا تھا، جن کا کام لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور فرائض کی پابندی سکھانا ہوتا ہے۔ مگر یہاں وہ خود اپنے عمل سے جماعت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ معمولی گھریلو وجوہات پر جمعہ جیسا فریضہ چھوڑا جا سکتا ہے۔
اس نے مسجد میں پیغام تو بھیج دیا کہ میرا انتظار نہ کریں، مگر خود مسجد جانے کی کوئی متبادل کوشش نہیں کی، بلکہ بچے کی خاطر بیٹھا رہا۔
مرزا قادیانی کا فتویٰ اور اپنا عمل (تضاد کا عروج)
اس بارے میں خاص ایک سورۃقرآن شریف میں موجود ہے جس کا نام سورۃ الجمعہ ہے اور اس میں حکم ہے کہ جب جمعہ کی بانگ دی جائے تو تم دنیا کا ہر ایک کام بند کردو اور مسجدوں میں جمع ہو جائو اور نماز جمعہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو اور جو شخص ایسا نہ کرے گا وہ سخت گنہ گار ہے اور قریب ہے کہ اسلام سے خارج ہو اور جس قدر جمعہ کی نماز اور خطبہ سننے کی قرآن شریف میں تاکید ہے اس قدر عید کی نماز کی بھی تاکید نہیں ۔
( اشتہارات جلد سوم صفحہ 288،فتاویٰ مسیح موعود صفحہ 132،فقہ احمدیہ حصہ اول صفحہ 164)
مرزا قادیانی کی تحریروں میں ایک طرف تو نمازِ جمعہ کی ایسی تاکید ملتی ہے کہ اسے چھوڑنے والے کے ایمان پر سوال اٹھایا گیا ہے، لیکن جب باری اپنے عمل کی آئی تو ان تمام شد و مد والے فتووں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
اب مرزا قادیانی کے اس سخت فتوے کو اس کے پچھلے باب میں مذکور عمل (بچے کی خاطر جمعہ چھوڑنا) کے ترازو میں تولیں۔
مرزا قادیانی کے بقول جو شخص دنیا کا کام بند کر کے مسجد نہ پہنچے وہ سخت گنہگار اور اسلام سے خارج ہونے کے قریب ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک بچے کا دامن پکڑ لینا دنیا کا کام نہیں تھا؟ کیا مرزا قادیانی اپنے اس فتوے کی رو سے خود گنہگار ثابت نہیں ہوتا؟
مرزا لکھتا ہے کہ جمعہ نہ پڑھنے والااسلام سے خارج ہونے کے قریب ہے۔ اگر ایک عام مسلمان کے لیے یہ حکم ہے، تو ایک مدعیِ نبوت کے لیے تو یہ حکم بدرجہ اولیٰ سخت ہونا چاہیے تھا۔ مگر اس نے ایک بچے کی معمولی ضد (دامن پکڑنے) کو اللہ کے اس تاکیدی حکم پر ترجیح دے دی۔
تحریر میں جمعہ کی اہمیت کے لیے اتنی انتہا پسندی کہ اسے عید سے بھی بڑھ کر قرار دیا، مگر عملی زندگی میں اس قدر تساہل کہ گھر سے نکلتے ہوئے بھی محض بچے کے روکنے پر رک گیا۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تحریریں صرف دوسروں کو مرعوب کرنے کے لیے تھیں، جبکہ اس کا اپنا نفس ان احکامات سے آزاد تھا۔
نماز میں بدعتِ عظیمہ اور انسانی کلام کا شمول
ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی۔حضور علیہ السلام بھی اس نماز میں شامل تھے۔تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی۔جس کا یہ مصرع ہے۔
اے خدا! اے چارہ آزار ما !
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 644)
نماز اللہ تعالیٰ سے مناجات کا نام ہے جس میں صرف وہی کلمات ادا کیے جا سکتے ہیں جو قرآن و سنت سے ثابت ہوں۔ کسی انسان کی بنائی ہوئی نظم یا اشعار کو نماز کا حصہ بنانا نہ صرف بدعت ہے بلکہ نماز کے باطل ہونے کا سبب ہے۔
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ۔الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ
ترجمہ کنز الایمان:بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے۔جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں۔
(سورۃ المؤمنون: 1,2)
نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر نماز میں انسانی گفتگو یا کلام کو شامل کرنے سے منع فرمایا ہے:
إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ، لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ
بیشک اس نماز میں لوگوں کے کلام میں سے کوئی چیز درست نہیں، یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کی قرات ہے۔
( صحیح مسلم: 537،1199)
مرزا قادیانی کی سیرت میں اس کے مریدوں کا یہ حال درج ہے کہ وہ نمازِ نبوی ﷺ کے بجائے مرزا کی شاعری پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق نماز میں کلامِ ناس (انسانی گفتگو یا شاعری) شامل کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ پیر سراج الحق کا نماز میں فارسی نظم پڑھنا اور مرزا قادیانی کا اس پر خاموش رہنا ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک شریعتِ محمدی ﷺ کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
اللہ کے حضور کھڑے ہو کر اللہ کے کلام کے بجائے اپنے پیشوا کی نظمیں پڑھنا صریح شرک اور شخصیت پرستی کی بدترین مثال ہے۔ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کبھی نماز کے اندر نبی کریم ﷺ کی نعت یا شاعری پڑھی تھی؟ ہرگز نہیں!
مرزا قادیانی اس نماز میں مقتدی کی حیثیت سے موجود تھا۔ اگر وہ سچا مصلح ہوتا تو نماز کے فوراً بعد اس بدعت پر ٹوکتا اور نماز دہرانے کا حکم دیتا، مگر اس کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود اس قسم کی غلو پسندی اور بدعت سے خوش تھا۔
سنتِ نبوی ﷺ کی مخالفت اور مرزا قادیانی کی گھر میں امامت
ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت اُم الـمـؤمـنـيـن کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے۔حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے۔کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اُسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو۔تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔میں نے حضرت اُم المؤمنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 636،637)
نماز کے احکامات میں مرد اور عورت کی صفوں کی ترتیب ایک واضح شرعی مسئلہ ہے۔ سنتِ رسول ﷺ اور اجماعِ امت کے مطابق عورت، خواہ وہ بیوی ہی کیوں نہ ہو، مرد (امام) کے برابر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنی خود ساختہ شریعت میں اس مسلمہ اصول کی دھجیاں اڑا دیں۔
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا
ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔
(سورۃ الحشر: 7)
نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ اگر ایک مرد امام ہو اور ایک عورت مقتدی، تو عورت امام کے برابر نہیں بلکہ پیچھے کھڑی ہوگی:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ فِي بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےمروی ہے انہوں نے بتلایا کہ میں نے اور ایک یتیم لڑکے (ضمیرہ بن ابی ضمیرہ) نے جو ہمارے گھر میں موجود تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔
( صحیح بخاری: 727)
بخاری و مسلم کی متفق علیہ احادیث کے مطابق عورت کا مقام امام کے پیچھے ہے، برابر میں نہیں۔ مرزا قادیانی کا اپنی اہلیہ کو دائیں جانب (برابر) کھڑا کرنا سنتِ نبوی ﷺ سے اس کی مکمل لاپروائی اور جہالت کا ثبوت ہے۔
جو شخص نماز کے اتنے سادہ مسئلے سے واقف نہ ہو کہ عورت کو کہاں کھڑا کرنا ہے، وہ پوری امت کا امام اور مسیح ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟
روایت میں لفظ بارہا (کئی بار) استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ کوئی ایک بار کی بھول نہیں تھی بلکہ مرزا قادیانی کا مستقل طریقہ اور سنت بن چکی تھی، جو کہ دینِ اسلام میں ایک نئی بدعت کی ایجاد ہے۔
پچھلے ابواب میں گزرا کہ وہ مسجد میں امامت سے یہ کہہ کر بچتا تھا کہ مسیح دوسروں کے پیچھے پڑھے گا ، مگر گھر میں وہ نہ صرف امامت کراتا تھا بلکہ نماز کے نقشے کو بھی مسخ کر دیتا تھا۔
نماز کی قضا کا انکار اور شریعتِ محمدی ﷺ کی کھلی خلاف ورزی
نماز کی قضاء نہیں ہوتی
ایک شخص نے سوال کیا کہ میں چھ ماہ تک تارک صلوۃ تھا۔اب میں نے تو بہ کی ہے کیا وہ سب نمازیں اب پڑھوں؟ فرمایا نماز کی قضاء نہیں ہوتی۔اب اس کا علاج تو بہ ہی کافی ہے۔“
(فقہ المسیح صفحہ 168)
اسلامی شریعت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر کوئی نماز وقت پر ادا نہ کی جا سکے (خواہ بھول کر ہو یا سستی سے)، تو اس کی قضا کرنا لازم ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنے خود ساختہ الہامات کی آڑ میں اس مسلمہ اصول کا انکار کر دیا۔
فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۚ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا
ترجمہ کنز الایمان:پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسب دستور نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔
(سورۃ النساء: 103)
نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ چھوٹی ہوئی نماز کی قضا ہی اس کا واحد کفارہ ہے:
مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ
جو شخص نماز (پڑھنا) بھول جائے، تو جب اسے یاد آئے وہ اسے پڑھ لے، اس کا اس کے سوا کوئی کفارہ نہیں۔
( صحیح بخاری: 597)
بخاری اور مسلم کی متفق علیہ احادیث گواہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھوٹی ہوئی نماز کی ادائیگی (قضا) کا حکم دیا۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ نماز کی قضا نہیں ہوتی ، اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کی صریح بغاوت ہے۔
اگر توبہ ہی کافی ہوتی اور قضا لازم نہ ہوتی، تو ہر شخص مہینوں اور سالوں نمازیں چھوڑ کر آخر میں صرف توبہ کر لیتا۔ یہ فتویٰ مسلمانوں کو فرائض کی ادائیگی سے دور کرنے اور دین کو مذاق بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔
ایک طرف مرزا کہتا ہے کہ وہ شریعتِ محمدی ﷺ کا خادم ہے، مگر دوسری طرف وہ ان احکامات کو جڑ سے اکھاڑ رہا ہے جو امت میں چودہ سو سال سے متواتر چلے آ رہے ہیں۔ توبہ گناہ مٹاتی ہے، مگر ذمہ داری (فرائض کی ادائیگی) ختم نہیں کرتی۔
مرزا قادیانی کا یہ قول کہ قضا نہیں ہوتی ، اس کے دعویِٰ نبوت و مسیحیت پر کاری ضرب ہے۔ جس شخص کو دین کے بنیادی فرائض کا علم نہ ہو یا وہ دانستہ ان کا انکار کرے، وہ ہدایت کا علمبردار کیسے ہو سکتا ہے؟
نماز سے محرومی اور مرزا قادیانی کی بدتر جسمانی حالت
بیٹھ کر نماز پڑھنا اور نماز توڑ دینا
حالت صحت اس عاجز کی بدستور ہے کبھی غلبہ دورانِ سر اس قد رہو جاتا ہے کہ مرض کی جنبش شدید کا اندیشہ ہوتا ہے اور کبھی یہ دوران کم ہوتا ہے لیکن کوئی وقت دورانِ سر سے خالی نہیں گزرتا۔مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے بعض اوقات درمیان میں توڑنی پڑتی ہے۔اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن ہو جاتی ہے اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا۔قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرأت میں شائد بمشکل پڑھ سکوں، کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہوتی ہے۔دوستوں کی غائبانہ دعا مستجاب ہوا کرتی ہے۔آنمکرم اس عاجز کے حق میں دعا کریں۔
(مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 101)
شریعتِ مطہرہ میں نماز دین کا ستون ہے، مگر مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں سے ثابت ہے کہ وہ اس عظیم فریضے کی کامل ادائیگی سے بھی قاصر تھا اور بارہا نماز توڑ دیتا تھا۔
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
ترجمہ کنز الایمان:نگہبانی کرو سب نمازوں کی اور بیچ کی نماز کی اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے۔
(سورۃ البقرہ، آیت: 238)
نبی کریم ﷺ نے مرض کی حالت میں بھی نماز کے آداب سکھائے ہیں، مگر نماز کے دوران اسے توڑ دینے یا قرات سے عاجز ہونے کی ایسی کیفیت انبیاء علیہم السلام کی شان کے خلاف ہے۔
صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ
کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر۔
( صحیح بخاری: 1117)
مرزا قادیانی کا اعتراف کہ وہ بعض اوقات درمیان میں نماز توڑ دیتا تھا ، ثابت کرتا ہے کہ اس پر وہ شیطانی اثرات یا ایسی بیماریاں غالب تھیں جو اسے خالق کے حضور سکون سے کھڑے نہیں ہونے دیتی تھیں۔ ایک سچا نبی یا ولی تو نماز میں تمام دکھ بھول جاتا ہے، مگر مرزا کی نماز خود اس کے لیے بوجھ تھی۔
مرزا کا یہ کہنا کہ وہ مسنون وضع (یعنی سنت کے مطابق تشہد کی حالت) میں بھی نہیں بیٹھ سکتا تھا، اس کی جسمانی نااہلی کی دلیل ہے۔ جو شخص سنت کے مطابق بیٹھنے سے بھی عاجز ہو، وہ دوسروں کے لیے نمونہ کیسے بن سکتا ہے؟
مرزا نے تسلیم کیا کہ وہ توجہ کرنے سے تحریکِ بخارات کی وجہ سے قرات بھی نہیں کر سکتا تھا۔ قرآن کا حکم ہے کہ نماز میں جتنا میسر ہو قرآن پڑھو ، مگر مرزا قادیانی پر بخارات کا ایسا غلبہ ہوتا تھا کہ وہ کلامِ الٰہی پڑھنے سے بھی قاصر رہتا تھا۔
احادیث میں آنے والے مسیح علیہ السلام کی جو علامات بیان ہوئی ہیں، ان میں وہ ایک طاقتور، وجیہ اور رعب دار شخصیت ہوں گے، نہ کہ ایسے مریض جو رینگن اور دورانِ سر کی وجہ سے نماز بھی پوری نہ کر سکیں۔
قاضی یار محمد کی نازیبا حرکات اور مرزا قادیانی کی بے بسی
ایک زمانہ میں حضرت اقدس حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نماز کے لئے کھڑے ہوا کرتے تھے جو مسجد مبارک میں بجانب مغرب تھی۔مگر ۱۹۰۷ء میں جب مسجد مبارک وسیع کی گئی۔تو وہ کوٹھڑی منہدم کر دی گئی۔اس کو ٹھری کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے ہونے کی وجہ اغلبا یہ تھی کہ قاضی یار محمد صاحب حضرت اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے۔مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا۔جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہو گیا تھا کہ حضرت صاحب کے جسم کو ٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 781)
نماز اللہ کے حضور حاضری کا نام ہے جہاں انسان تمام دنیا سے کٹ کر معبودِ حقیقی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی نماز کا حال یہ تھا کہ اس کے مرید دورانِ نماز اس کے جسم کے ساتھ ایسی حرکات کرتے تھے جن کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔
وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
ترجمہ کنز الایمان: کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے۔
(سورۃ البقرہ: 238)
نبی کریم ﷺ نے نماز میں اعضاء کو ساکن رکھنے اور فضول حرکات سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔
اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ
نماز میں سکون اختیار کرو۔
( صحیح مسلم: 430،968)
مرزا قادیانی کی اپنی کتب (سیرت المہدی) میں اس کی نماز کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے، وہ کسی بھی ذی شعور انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔
ایک طرف اللہ کا گھر اور نماز جیسی عبادت، اور دوسری طرف ایک مرید کا اپنے پیشوا کے جسم کو ( مقعد) ٹٹولنا۔ کیا یہ کسی مقدس مقام اور عبادت کا نقشہ ہے؟ مرزا قادیانی کی خاموشی اور اس حرکت کو برداشت کرنا ثابت کرتا ہے کہ اس کی نماز محض ایک ڈھونگ تھی، جس میں نہ خشوع تھا اور نہ ہی کوئی شرعی رعب۔
مرزا کے مریدوں نے قاضی یار محمد کو مخلص مگر خللِ دماغ والاقرار دے کر اس شرمناک واقعے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک نبی کی نماز اتنی کمزور ہوتی ہے کہ ایک دیوانہ شخص بار بار آ کر اس کے جسم کے نازک حصوں کو ٹٹولے اور وہ اسے روکنے یا نماز درست کرنے کے بجائے کوٹھڑیوں میں چھپتا پھرے؟
سچے انبیاء اور اولیاء اللہ کا رعب تو ایسا ہوتا ہے کہ درندے بھی ان کے پاس سے گزرتے ہوئے راستہ بدل لیتے ہیں، مگر یہاں ایک مدعیِ نبوت کا یہ حال ہے کہ اس کے اپنے مرید اسے نماز میں ایسی اذیت دیتے ہیں جو اخلاقیات سے بھی گری ہوئی ہے۔
فقہِ اسلامی کے مطابق نماز میں ایسا عملِ کثیر یا کسی دوسرے کی ایسی مداخلت جس سے نماز کی ہیئت بدل جائے، نماز کو باطل کر دیتی ہے۔ مرزا کا ایسی حالت میں نماز جاری رکھنا یا بار بار اس کا شکار ہونا اس کی شرعی لاپروائی کی دلیل ہے۔
نمازِ باجماعت میں قاضی یار محمد کا مرزا کو ٹٹولنا
ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قدیم مسجد مبارک میں حضور علیہ السلام نماز جماعت میں ہمیشہ پہلی صف کے دائیں طرف دیوار کے ساتھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں سے آجکل موجودہ مسجد مبارک کی دوسری صف شروع ہوتی ہے۔یعنی بیت الفکر کی کو ٹھری کے ساتھ ہی مغربی طرف۔امام اگلے حجرہ میں کھڑا ہوتا تھا۔پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک شخص پر جنون کا غلبہ ہوا۔اور وہ حضرت صاحب کے پاس کھڑا ہونے لگا اور نماز میں آپ کو تکلیف دینے لگا۔اور اگر کبھی اس کو پچھلی صف میں جگہ ملتی تو ہر سجدہ میں وہ صفیں پھلانگ کر حضور کے پاس آتا اور تکلیف دیتا اور قبل اس کے کہ امام سجدہ سے سراٹھائے وہ اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا۔اس تکلیف سے تنگ آکر حضور نے امام کے پاس حجرہ میں کھڑا ہونا شروع کر دیا مگر وہ بھلا مانس حتی المقدور وہاں بھی پہنچ جایا کرتا اور تایا کرتا تھا۔مگر پھر بھی وہاں نسبتاً امن تھا۔اس کے بعد آپ وہیں نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مسجد کی توسیع ہوگئی۔یہاں بھی آپ دوسرے مقتدیوں سے آگے امام کے پاس ہی کھڑے ہوتے رہے۔مسجد اقصے میں جمعہ اور عیدین کے موقعہ پر آپ صف اول میں عین امام کے پیچھے کھڑے ہوا کرتے تھے۔وہ معذور شخص جو ویسے مخلص تھا، اپنے خیال میں اظہار محبت کرتا اور جسم پر نا مناسب طور پر ہاتھ پھیر کر تبرک حاصل کرتا تھا۔
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 784،785)
نمازِ باجماعت کی صفوں کی ترتیب اور وقارِ مسجد اسلام کے بنیادی آداب میں شامل ہے۔ مرزا قادیانی کی زندگی کا یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اس کی نام نہاد مقدس محفل میں کس قدر بدنظمی اور غیر شرعی حرکات کا دور دورہ تھا۔
فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
ترجمہ کنز الایمان:ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے، اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح اور شام۔
(سورۃ النور: 36)
نبی کریم ﷺ نے نماز کے دوران صفوں کے درمیان سے گزرنے اور بلاوجہ حرکت کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے:
لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ
اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس پر کتنا گناہ ہے، تو وہ چالیس (سال یا دن) تک کھڑا رہنے کو گزرنے سے بہتر خیال کرے۔
(صحیح بخاری: 510)
مرزا قادیانی کے مریدوں کی گواہی کے مطابق، نماز کے دوران ایک شخص صفیں پھلانگ کر مرزا کے پاس آتا اور اس کے جسم پر نامناسب ہاتھ پھیرتا تھا۔
ایک طرف امام سجدے میں ہے، اور دوسری طرف ایک شخص صفیں پھلانگ کر (جو کہ صریحاً گناہ اور نماز کی بے حرمتی ہے) مرزا قادیانی کے جسم کو نامناسب طور پر ٹٹول رہا ہے۔ کیا یہ کوئی عبادت گاہ ہے یا کوئی تماشہ گاہ؟ مرزا قادیانی کا اس حرکت پر خاموشی اختیار کرنا اور اسے محبت کا اظہار سمجھنا اس کے دین سے عاری ہونے کی دلیل ہے۔
سچے انبیاء علیہم السلام کا تو یہ رعب ہوتا تھا کہ دشمن بھی کانپ اٹھتے تھے، مگر یہاں مرزا قادیانی کا یہ حال ہے کہ اس کے اپنے مرید اسے تایا (تنگ کیا) کرتے تھے اور وہ ان سے بچنے کے لیے حجروں اور کوٹھڑیوں میں جگہ بدلتا پھرتا تھا۔
اسلام میں تبرک کا یہ طریقہ کہ کسی کے جسم کو (بقول آپ کے مقعد تک) ٹٹولا جائے، قطعی حرام اور غیر اخلاقی ہے۔ مرزا قادیانی نے اس شخص کو روکنے کے بجائے اپنی جگہ تبدیل کی، جو اس کی بزدلی اور اخلاقی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
صفیں پھلانگنا نماز کے ثواب کو ضائع کر دیتا ہے اور دوسروں کی نماز میں خلل ڈالتا ہے۔ مرزا قادیانی کی موجودگی میں اس کے مرید کا یہ فعل ثابت کرتا ہے کہ وہاں سنتِ نبوی ﷺ کا کوئی پاس و لحاظ نہیں تھا۔
حرفِ آخر: باطل کی شکست اور حق کا استقرار
اس رسالہ کے صفحات میں ہم نے مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کے اس گوشے کو بے نقاب کیا ہے جو براہِ راست نماز جیسی اہم ترین عبادت سے متعلق تھا۔ ایک مدعیِ نبوت اور مسیحیت کے لیے یہ لازم تھا کہ وہ اتباعِ سنت اور وقارِ بندگی کا بہترین نمونہ ہوتا، لیکن قادیانیت کی اپنی مستند کتب (ملفوظات، سیرت المہدی، ذکرِ حبیب) نے جو گواہی دی ہے، وہ اس کے دعووں کے بالکل برعکس ہے۔
حاصلِ مطالعہ، پانچ بڑے انکشافات
زیرِ نظر تحقیق سے چند ایسے حقائق سامنے آئے ہیں جو کسی بھی صاحبِ ایمان کو لرزا دینے کے لیے کافی ہیں:
1. سنتِ نبوی ﷺ سے بغاوت: مرزا قادیانی نے نہ صرف اذان کے جواب کو بدہضمی قرار دیا بلکہ نمازِ جمعہ جیسے فرضِ عین کو ایک بچے کی ضد پر قربان کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اس کے نزدیک شعائرِ اسلام کی کوئی حقیقی وقعت نہ تھی۔
2. نماز کا حلیہ بگاڑنا: نماز کے اندر فارسی نظمیں پڑھنے اور عورت کو مرد کے برابر کھڑا کرنے جیسی حرکات سے یہ واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا مقصد دین کی اصلاح نہیں بلکہ شریعتِ محمدی ﷺ کی ہیئت کو تبدیل کرنا تھا۔
3. جسمانی و روحانی نااہلی: دورانِ نماز سر چکرانا، رینگن ہونا اور بار بار نماز توڑ دینا اس بات کی علامت ہے کہ وہ شخص خالق کے حضور کھڑے ہونے کی روحانی و جسمانی سکت سے بھی محروم تھا۔
4. رعبِ ایمانی کا فقدان: ایک ایسا شخص جس کے اپنے مرید اسے نماز کے دوران (سجدے کی حالت میں) نامناسب طور پر ٹٹولتے ہوں اور وہ ان سے بچنے کے لیے حجروں میں چھپتا پھرے، وہ پوری امت کا امام کہلانے کا ہرگز حقدار نہیں ہو سکتا۔
5. تضاد بیانی کا عروج: امامت کے حوالے سے مرزا کا قول کچھ اور تھا اور کچہریوں میں عمل کچھ اور، جو اس کے کذبِ بیانی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔
قارئینِ کرام! حق بالکل واضح ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سچے انبیاء علیہم السلام کو ایک رعب، وقار اور کمالِ بندگی عطا فرمایا تھا۔ کیا مرزا قادیانی کی یہ پریشان کن نمازیں اور مضحکہ خیز واقعات کسی طور بھی نبوت یا مسیحیت کی شان کے مطابق ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! یہ محض ایک دجال کا فریب تھا جس نے اپنے ہی مریدوں کے سامنے اپنا وقار کھو دیا تھا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اس عاجزانہ کوشش کو قبول فرمائے اور امتِ مسلمہ کے نوجوانوں کو فتنہٴ قادیانیت کے زہریلے اثرات سے محفوظ رکھے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں خاتم النبیین ﷺ کی سچی محبت، ان کی سنت پر کامل عمل اور ان کی ختمِ نبوت کی چوکیداری پر استقامت عطا فرمائے۔
جاء الحق وزھق الباطل، ان الباطل کان زھوقا
(حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل مٹنے ہی والا ہے)