محمد اسامہ حفیظ
رکن ختم نبوت فورم
فروری ۱۹۳۴ء کی بات ہے جب قادیانیوں نے اسلامیہ کالج لاہور کے طلباء کو مرتد کرنے کی مردود کوشش کی تو اکابر ملت نے اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے مسجد مبارک میں تقریریں کیں۔ جس پر حکومت نے حضرت مولانا ظفر علی خان رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا عبدالحنان اور احمد یار خان سیکرٹری مجلس احرار اسلام کو مقید ومحبوس کر دیا۔ ایک دن مولانا ظفر علی خان رحمۃ اللہ علیہ سے ایک قیدی نے شکایت کی کہ جیل والے اسے اتنے دانے دیتے ہیں کہ پیسے نہیں جاتے۔ حضرت مولانا نے اپنے رفقاء کو بلالیا اور سب حضرات نے باری باری چکی پیس کر وہ باقی دانے ختم کر دئیے۔ اس دوران میں مولانا اختر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا (ظفر علی خان) سے ارشاد کی درخواست کی تو ارتجالاً حضرت مولانا کی زبان پر یہ شعر آگئے جو تاحال کسی کتاب میں شائع نہیں ہوسکے۔ حضرت مولانا اختر رحمۃ اللہ علیہ کے شکریہ کے ساتھ ہدیہ قارئین کرام ہیں۔ (مدیر)
غلام احمد بھلا کیا جان سکتا ہے کہ دیں کیا ہے
رموز علم الاسماچہ داند ذوق ابلیسی
ادھر توحید کی باتیں ادھر تثلیث کی گھاتیں
مری فطرت حجازی ہے سرشت اس کی ہے انگلیسی
یہ کہہ کر حق جتا دوں گا محمدؐ کی شفاعت پر
کہ آقا تیری خاطر میں نے چکی جیل میں پیسی
مقابل قادیانی ہو نہیں سکتے ہیں اختر کے
پڑے گا ایک ہی تھپڑ تو جھڑ جائے گی بتیسی
ہوا جب علم کا چرچا دیا فتویٰ یہ مرزا نے
ہمارا علم ہے دریا کہ نام اس کا ہے سائیسی
ہے امرتسر سے مغرب کی طرف مینارہ مرزا
یہ نکتہ حل کریں مرقد سے اٹھ کر آج ادریسی
غلام احمد بھلا کیا جان سکتا ہے کہ دیں کیا ہے
رموز علم الاسماچہ داند ذوق ابلیسی
ادھر توحید کی باتیں ادھر تثلیث کی گھاتیں
مری فطرت حجازی ہے سرشت اس کی ہے انگلیسی
یہ کہہ کر حق جتا دوں گا محمدؐ کی شفاعت پر
کہ آقا تیری خاطر میں نے چکی جیل میں پیسی
مقابل قادیانی ہو نہیں سکتے ہیں اختر کے
پڑے گا ایک ہی تھپڑ تو جھڑ جائے گی بتیسی
ہوا جب علم کا چرچا دیا فتویٰ یہ مرزا نے
ہمارا علم ہے دریا کہ نام اس کا ہے سائیسی
ہے امرتسر سے مغرب کی طرف مینارہ مرزا
یہ نکتہ حل کریں مرقد سے اٹھ کر آج ادریسی