• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

قومی اسمبلی کی کاروائی (بارھواں دن)

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(جو مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ کافر؟)
جناب یحییٰ بختیار: ’’کفر کی دو قسمیں ہیں۔ اوّل ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی اِنکار کرتا ہے۔۔۔۔۔۔‘‘
آپ ذرا سن لیجئے، میں ’’حقیقۃالوحی‘‘ سے پڑھ رہا ہوں، پھر آپ کو حوالہ دے دیتا ہوں:
1656’’۔۔۔۔۔۔اوّل، ایک یہ کفر کہ ایک شخص اِسلام سے ہی اِنکار کرتا ہے اور آنحضرتﷺ کو خدا کا سول نہیں مانتا۔ دوم، دُوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیحِ موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اِتمامِ حجت کے جھوٹا جانتا ہے، جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے، اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم کے کفر میں داخل ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)
جناب عبدالمنان عمر: آگے بھی ذرا اگر آپ کے پاس ہے تو پڑھ دیجئے۔
جناب یحییٰ بختیار: ’’۔۔۔۔۔۔ کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کرلینے کے خدا اور۔۔۔۔۔۔‘‘
اور آگے تو نہیں ہے، مگر یہ بڑا Clear (صاف) ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: آگے میں پڑھ دُوں گا تو آپ کو واضح ہوجائے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی اس کے بعد، اس سے آگے کیا ضرورت ہے؟ صفحہ۱۸۵۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ نکالتے ہیں حوالہ۔ میں عرض کرتا ہوں، اُسی جگہ، اُس کے آگے مرزا صاحب فرماتے ہیں، فرماتے ہیں: ’’میں اب بھی کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتا ہوں۔‘‘
دیکھ لیا، اب واضح ہوگیا۔ شروع میں بھی کہتے ہیں کہ ’’کفر کی دو قسمیں ہیں‘‘ اَخیر میں بھی کہتے ہیں…
جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔۔ ’’دونوں میں فرق بھی نہیں ہے۔‘‘
جناب عبدالمنان عمر: جی؟
1657جناب یحییٰ بختیار: ابھی آپ دیکھ لیجئے۔ میں ذرا عرض کرتا ہوں۔ میں ذرا موٹے دماغ کا آدمی ہوں، اور میں نے یہ کتابیں پڑھی نہیں ہیں، اور مجھے سمجھ نہیں آتی اور میں آپ سے…
جناب عبدالمنان عمر: میں کوشش کروں گا کہ میں خدمت کرسکوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔۔ میں Clarifications چاہتا ہوں۔ مرزا صاحب کہتے ہیں، جہاں تک میں سمجھ سکا، کہ:
’’کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو وہ جو آنحضرتﷺ کو نہیں مانتا۔‘‘ ایک وہ کافر ہوا جو آنحضرتﷺ کو نہیں مانتا، وہ تو کافر ہوگیا۔ ’’دُوسرا وہ جو مسیحِ موعود کو نہیں مانتا۔‘‘
وہ بھی کافر ہے۔ کیوں کافر ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اس کو مانو، خدا اور رسول نے کہا کہ اس کو مانو اور خدا اور رسول کے حکم سے اِنکار کر رہا ہے، وہ بھی کافر ہے۔ تو دراصل دونوں کفر ایک قسم کے ہوگئے۔
اور اس کے بعد پھر کہتے ہیں کہ نہیں، اس کو کچھ تھوڑا سا Concession دے دو، اب یہ کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، یہ نہیں ہم کہہ رہے، ہم یہ عرض کر رہے ہیں کہ مرزا صاحب کی اپنی عبارت کہہ رہی ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بنیادی طور پر وہ کفر کی دو قسمیں بتارہے ہیں۔ اُس سے کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ شاید دُوسری قسم کا جو کفر ہے اُس کے نتیجے میں کوئی مؤاخذہ نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، یہ دیکھیں ناں، یہ جو ہے، پھر آگے فرماتے ہیں:
’’جو خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے۔‘‘ غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔
1658جناب عبدالمنان عمر: معلوم ہوا، ہیں تو دو ہیں، دونوں کو بھی قائم رکھنا پڑے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: نتیجہ اُن کا ایک ہی ہوجائے گا۔
جناب عبدالمنان عمر: نتیجہ حصوں میں ایک ہوجائے گا۔ اب میں اُس کے متعلق عرض کرتا ہوں…
جناب یحییٰ بختیار: ’’چونکہ جو شخص باوجود شناخت کرلینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا اور بموجب قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا، اس میں شک نہیں کہ جس پر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اوّل قسم کفر یا دُوسری قسم کفر کی نسبت اِتمامِ حجت ہوچکا ہے، وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہوگا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۸۰، خزائن ج۲۲ ص۱۸۶)
جناب عبدالمنان عمر: اب دیکھئے کہ وہاں شروع میں ہی آپ فرماتے ہیں کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ یہ Stand جو میں پہلے آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا کہ کفر کی دو قسمیں ہیں، مرزا صاحب اس کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دُوسری قسم کے کفر کے نتیجے میں مؤاخذہ کوئی نہیں ہوگا؟ تو وہ ایک فضول سا کام ہے؟ بے شک کرتا رہے کوئی شخص؟ اُس کے لئے فرمایا کہ نہیں، اُس کے لئے مؤاخذہ ضرور ہوگا، اور مؤاخذہ کے لحاظ سے دونوں کفر جو ہیں وہ ایک کیٹگری میں آجائیں گے۔ یہ ہے نتیجہ جو اس سے نکالا ہے۔ چنانچہ عبارت میں عرض کردیتا ہوں: ’’ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے ہی اِنکار کرتا ہے اور آنحضرتﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔‘‘
یہ ایک اصلی کفر ہے جس کے متعلق میں پہلے عرض کرچکا ہوں۔ دُوسرا یہ کفر جس کی پھر مثالیں دے رہے ہیں، مثلاً یعنی دُوسرا کفر ایک اُس سے Low (کم) درجہ کا ہے، اس کی ایک مثال دیتے ہیں:
1659’’دُوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیحِ موعود کو نہیں مانتا، اور اُس کو باوجود اِتمامِ حجت کے، باوجود یہ سمجھ جائے کہ یہ شخص سچی بات کر رہا ہے، وہ پھر اُس کو جھوٹا جانتا ہے۔۔۔۔۔۔‘‘
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(اتمام حجت کا مطلب)

جناب یحییٰ بختیار: آپ، ایک منٹ، مرزا صاحب! ’’اِتمامِ حجت کے بعد‘‘ اُس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سچی بات کر رہا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: ’’اِتمامِ حجت‘‘ کا مطلب ہے کہ جو اُس نے۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔۔بیان کیا۔
جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔۔ بیان کیا اور اُس اگلے شخص کو اتنا مواد دے دیا کہ وہ اُس کی صداقت کو سمجھ جائے۔ ورنہ نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اُس کو یہ سارا Material دے دیا، اُس کو سارے Arguments (دلائل) دے دئیے۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔۔ اور وہ اب یہ یقین کرلیا اُس نے کہ یہ سچا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب ایک وکیل ایک عدالت میں پوری بحث کرجاتا ہے، اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس نے سچ کہہ دیا؟
جناب عبدالمنان عمر: نہ ’’اِتمامِ حجت‘‘ کے یہ معنی نہیں ہیں جو آپ نے فرمایا۔ ’’اِتمامِ حجت‘‘ یہ ہے کہ اُس نے جو دلائل دئیے ہیں۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔۔ وہ سب پورے دے دئیے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، پورے دے نہیں دئیے، اگلے شخص کے لئے قابلِ قبول ہیں، وہ پھر اِنکار کرتا ہے۔ یہ ہے ’’اِتمامِ حجت۔‘‘ قابلِ قبول صرف نہیں ہیں، بلکہ یہ کہ وہ اُس کو قبول کرلینے چاہئیں، مگر سمجھ لینے کے باوجود کہ یہ سچی بات کہہ رہا ہے، پھر اِنکار کرتا ہے، چلا جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں ’’اِتمامِ حجت۔‘‘ 1660تو میں عرض یہ کر رہا تھا کہ: ’’جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے۔‘‘
اپنے نہ ماننے انکار کی وجہ سے کافر نہیں قرار دیا اُس کو، اُس کو خدا اور رسول کے نہ ماننے کی وجہ سے کافر قرار دِیا: ’’اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں تحریر۔۔۔۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں، کیونکہ جو شخص ’’باوجود شناخت کرلینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔‘‘
’’باوجود شناخت کرلینے کے‘‘ … اب دیکھئے، کتنا بڑا جرم ہے، شناخت بھی کرتا ہے، پھر وہ اِنکار کرتا ہے۔ تو یہ خدا اور رسول کا اِنکار ہوگیا۔ مرزا صاحب کے اِنکار کی وجہ سے کہیں نہیں اُنہوں نے کہا کہ وہ شخص کافر ہوجاتا ہے:
’’وہ بموجب نصوصِ صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا کے نزدیک اوّل قسم یا دُوسری قسم کفر کی نسبت اِتمامِ حجت ہوچکا ہے، وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہوگا اور جس پر خدا کے نزدیک اِتمامِ حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے، تو وہ شریعت نے اُس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے۔ مگر ہم بھی اُس کو بہ اِتباعِ شریعت کافر کے نام سے پکارتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیۃ: ’’ لا یکلف اﷲ نفسًا الا وسعھا ‘‘ قابلِ مؤاخذہ نہیں ہوگا۔
پروفیسر غفور احمد: جناب! میری گزارش یہ ہے کہ گواہان کو بتادیا جائے کہ ہمارے پاس Earphones بھی ہیں۔ اگر وہ نارمل آواز سے بولیں تو آواز ہمیں بخوبی آجائے 1661گی۔ یہ لاؤڈاسپیکر جو اُن کے سامنے رکھا ہے، ہمارے پاس Earphones ہیں، یہ ہم اِستعمال کرتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: کون سی آواز؟
جناب یحییٰ بختیار: ذرا دُور رکھ لیجئے، آہستہ، آہستہ، کیونکہ وہ کانوں میں لگتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
اب مرزا صاحب بات یہ کہہ رہے ہیں کہ کفر خواہ کلمہ طیبہ کا ہو یا مسیحِ موعود کا، وہ خدا کے رسول کی وجہ سے کافر بنتا ہے نہ کہ مسیحِ موعود کے اِنکار کی وجہ سے۔ آپ نے اِن الفاظ پر غور نہیں فرمایا۔ اُس حوالے میں یہ امر غور طلب ہے کہ حضرت مرزا صاحب اپنے اِنکار کو کفر نہیں کہتے بلکہ محض گناہ قرار دے کر دادخواہ ہوتے ہیں، اور نہ ماننے والے کو کافر کی بجائے نافرمان کہتے ہیں۔ اُصولی طور پر آپ کے نہ ماننے والوں کے بارے میں آپ کا اِرشاد یہ ہے: ’’اِبتدا سے میرا یہی مذہب ہے۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ مرزا صاحب کی عبارت میں سنا رہا ہوں، جناب: ’’ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے اِنکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا۔‘‘
یہ ہے اُصولی مرزا صاحب کا موقف کہ آپ کے اِنکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر نہیں ہوتا۔ وہاں جو بات ہے وہ ’’قابلِ مؤاخذہ ہونی چاہئے۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(اس کا حوالہ کہ مسیح موعود کے نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: ایک حوالہ پڑھ کے سناتا ہوں:
’’مسیحِ موعود کے نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟‘‘ یہ سوال آیا: ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟ حضرتِ اقدس مسیحِ موعود نے فرمایا کہ: 1662مولویوں سے جاکے پوچھو کہ اُن کے نزدیک جو مسیح اور مہدی آنے والا ہے، جو اُس کو نہ مانے، اُس کا کیا حال ہے؟ پس میں وہی مسیح اور مہدی ہوں جو آنے والا تھا۔‘‘
جناب عبدالمنان عمر: تو یہ جواب تو اُن سے پوچھ لیجئے گا، کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ مرزا صاحب نے تو کہا ہے جو مسلمانوں کاموقف ہے۔۔۔۔۔۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(کیا خدا نے کہا کہ مرزا پر ایمان لانا چاہئے)

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ کافر ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ ایک اور کیٹگری کے کافر بن جاتے ہیں۔ یہ خدا نے کہاں کہا کہ مرزا صاحب پر اِیمان لانا چاہئے؟ کوئی ہے اُس کا حوالہ؟
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب پر اِیمان کی بحث نہیں، مسیح پر۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ماننا۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب کے ماننے اور نہ ماننے کا سوال نہیں، سوال اِس وقت اُصولی بحث ہے۔ اُصولی بحث یہ ہے کہ وہ جس کے متعلق نبی کریمﷺ نے فرمایا: (عربی)
اُس کے ماتحت جو شخص آئے گا دُنیا میں، اُس کا نہ ماننا قابلِ مؤاخذہ ہے یا نہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: اب آپ بتائیے یہی بات کہ کسی محدث کو کوئی نہ مانے تو وہ کسی قسم کا کافر ہوسکتا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: ہاںجی۔
جناب یحییٰ بختیار: محدث کو نہ مانے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں ’’کفر دون کفر‘‘ والا ہوجاتا ہے۔ وہ تو بہت میں نے بتایا۔
1663جناب یحییٰ بختیار: آپ مرزا صاحب کے علاوہ کسی محدث کا ذِکر کریں آپ کہ جو اُس کو نہ مانے۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: اِرادۃً کوئی شخص تارک الصلوٰۃ ہوجائے، حدیث اس کو بھی کافر کہتی ہے۔ مگر یہ ایک گناہ ہے، بمعنی گناہ ہے، اور یہ آپ جانتے ہیں کہ گناہ تو ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب جیسے عظیم انسان کو کوئی شخص نہ مانے، وہ خود کہتا ہے:
’’مجھے خدا نے اس زمانے میں مجدد بناکے بھیجا ہے۔‘‘
جناب یحییٰ بختیار: نہ ماننے کا یہ مطلب کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں جی: ’’مجھے نبی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔‘‘
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، نبی نہیں، بالکل نہیں، کہیں مرزا صاحب نے نہیں کہا کہ: ’’جو شخص مجھے نبی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔‘‘
جناب یحییٰ بختیار: اُس معنی میں جو آپ لے رہے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، مرزا صاحب نے کبھی کہا ہی نہیں کہ: ’’جو شخص مجھے نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔‘‘ ساری ایسی کتابیں مرزا صاحب کی موجود ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: میں بتاتا ہوں آپ کو اُن کی کتابیں۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: وہ نکالئے جی!
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا)
جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔۔ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ:’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۸۱ ص۱۳۲)
کیا مطلب تھا اس کا؟
جناب عبدالمنان عمر: مطلب اِس کا یہ ہے جی کہ تمام اولیاء کی تحریروں میں آپ کو ملے گا یہ کہ وہ لوگ محدثوں کے لئے بھی ’’رسول‘‘ اور ’’نبی‘‘ کا لفظ مجازی طور پر غیرنبی کے لئے اِستعمال ہوجاتا ہے، اور یہی اِستعمال مرزا صاحب نے کیا ہے اور مرزا صاحب نے کہا ہے کہ: 1664’’رسول کے لفظ میں محدث بھی شامل ہے۔‘‘
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(میری وحی ویسی ہی پاک ہے جیسی آنحضرتﷺ کی)
جناب یحییٰ بختیار: اور مرزا صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ: جو وحی اُن پر نازل ہوتی ہے، وہ ایسی ہی (خطاؤں سے) پاک وحی ہے جو کہ آنحضرتﷺ پر نازل ہوئی
(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
جناب عبدالمنان عمر: آپ نے یہ سوال کیا ہے کہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ:
’’مجھ پر ویسی ہی وحی نازل ہوتی ہے جیسی کہ قرآن‘‘۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: ’’میں اس پر ایسا اِیمان رکھتا ہوں اور اُسے ایسا ہی پاک سمجھتا ہوں۔‘‘
جناب عبدالمنان عمر: یہ دونوں الفاظ نہیں ہیں جی، ’’پاک سمجھتا ہوں‘‘ بھی نہیں ہے۔ میں عرض کردیتا ہوں وہ کیا چیز ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ:
’’مجھ پر جو وحی نازل ہوتی ہے، میں اُس بارے میں کسی شبہے میں نہیں ہوتا۔‘‘ وہ ’’یقینی اور قطعی سمجھتا ہوں۔ یہ کہ مجھے کوئی خیال آگیا، کوئی آواز سی سُن لی میں نے، کچھ شبہ سا مجھے ہوگیا کہ مجھ پر وحی ہو رہی ہے۔‘‘
فرماتے ہیں: ’’یہ کیفیت نہیں ہے میری۔ مجھے جس طرح دن چڑھا ہوا ہوتا ہے اِس طرح یقین ہے کہ میری وحی صحیح ہے۔‘‘
یہ کہ وہ قرآن کریم کے ہم پلہ ہے؟ قرآن کی حیثیت کے مطابق ہے؟ قرآن جیسی شان رکھتی ہے؟ حاشاوکلّا! مرزا صاحب نے یہ کبھی نہیں کہا۔ کبھی مرزا صاحب کی ساری کتابوں میں آپ نہیں دِکھاسکتے کہ انہوں نے اپنی وحی کو۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے صحیح فرمایا کہ جو وحی آتی ہے کسی محدث پر، اُس میں غلطی ہوسکتی ہے سننے والے کی۔
1665جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، سننے والے کی۔
جناب یحییٰ بختیار: اللہ کی طرف سے تو غلطی نہیں ہوسکتی؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: بات یہی ہے اصل کہنے والی۔ مگر نبی کے معاملے میں یہ نہیں سوال ہوسکتا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ غلطی ہوسکتی ہے۔ مگر مرزا صاحب کہتے ہیں کہ: ’’میری کوئی غلطی نہیں، مجھے کوئی شک نہیں۔‘‘
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، ’’غلطی‘‘ اور ’’شک‘‘ میں بڑا فرق ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: شک تو غلطی سے۔۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: نہ جی، شک یہ ہے کہ یہ وحی ہے یا نہیں؟ یہ شک ہے، یہ منجانب اللہ ہے یا نہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: اور پھر اُس میں کوئی غلطی مرزا صاحب کی وحیوں میں نہیں ہوئی آپ کے نزدیک؟
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، دیکھئے میں پھر دونوں چیزوں میں فرق کرنے کی کوشش کروں گا۔ ایک یہ کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہو کہ: ’’میری وحی جو ہے وہ قرآن کے ہم پلہ ہے۔‘‘ یہ کبھی نہیں فرمایا۔ ایک یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ: ’’میری وحی یقینی ہے، اس میں مجھے شک اور شبہ نہیں ہے۔‘‘ جس طرح میں نے مثال دی ہے کہ کوئی شخص کہے دن کے وقت کہ: ’’مجھے یقین ہے کہ اس وقت دن ہے۔‘‘ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اُس کے اس یقین کے متعلق ہم یہ کہیں کہ: ’’دیکھوجی! یہ تو قرآن کے برابر ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔‘‘ یہ نہیں ہے کیفیت۔ وہ یہ بتاتے ہیں کہ: ’’میری وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے، اُس 1666کے بارے میں مجھے کسی قسم کا شبہ نہیں ہے۔ میں اُس کو ویسا ہی خدا کی طرف سے سمجھتا ہوں جیسے کہ کسی اور وحی، کسی اور نبی کے۔‘‘
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، اُنہوں نے یہ فرمایا ہے، ابھی آپ سُن لیجئے، میں آپ سے عرض کررہا تھا کہ: ’’میں خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیسے رَدّ کرسکتا ہوں؟ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام وحیوں پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)
یہ ’’رُوحانی خزائن‘‘ آپ دیکھ لیجئے، ’’حقیقۃالوحی‘‘، جو بات میں نے کہی آپ سے، آپ کہتے ہیں کہ نہیں کہی اُنہوں نے: ایسی پاک ہے جیسے اُن سے پہلے انبیاء پر وحی آچکی ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا ہے جی کہ مرزا صاحب…
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا)
جناب یحییٰ بختیار: میں پھر پڑھ کر سناتا ہوں:
’’خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیسے رَدّ کرسکتا ہوں؟ میں اس پاک وحی پر ایسا ہی اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام وحیوں پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘
’’حقیقت الوحی‘‘ (لائبریرین سے) یہ آپ نکال کے دے دیجئے ’’رُوحانی خزائن‘‘ میں سے، ج۲۲، ص۱۵۴۔ یہ ہے جی، میں پڑھ کر سناتا ہوں، میں ذرا پھر آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں، اس طرح، یہ ص۱۵۳ پر:
’’اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابنِ مریم سے کیا نسبت ہے؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی اَمر میری ہی فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اُس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خداتعالیٰ کی 1667وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی تو اُس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور ’’نبی‘‘ کا خطاب مجھے دیا گیا۔۔۔۔۔۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۹،۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳،۱۵۴)
’’صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا‘‘ اللہ میاں جو تھے ناں، اُس کے ساتھ یہ ۔۔۔نعوذباللہ!۔۔۔ بھول گئے Define کرنا کہ مجازی ہو، اصلی نہیں ہو:
’’نبی کا خطاب مجھے دیا، مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی۔‘‘
اب اُن کا حاشیہ جو ہے، وہ بھی میں پڑھ کے سناتا ہوں۔ یہاں حاشیے میں وہ دیتے ہیں کہ:
’’یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سُن کر دھوکا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوّت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہِ راست نبیوں کو ملی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ میرا ایسا دعویٰ نہیں، بلکہ خداتعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرتﷺ کے افادہ اور رُوحانیت کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوّت کے مقام تک پہنچایا۔ اس لئے میں صرف نبی نہیں کہلاسکتا۔ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی۔۔۔۔۔۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۰، حاشیہ خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)
آپ جو صبح کہہ رہے تھے کہ: ’’ہو ہی نہیں سکتا اُمتی نبی۔‘‘ پھر آگے فرماتے ہیں:
’’اور جیسا کہ میں نے نمونے کے طور پر بعض عبارتیں خداتعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں۔ اُس میں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابنِ مریم کے مقابل پر خداتعالیٰ نے میری نسبت کیا فرماتا ہے، میں خداتعالیٰ کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رَدّ کرسکتا ہوں۔ میں اِس پاک وحی پر ایسا ہی اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام خدا کی وحیوں پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں اور میں 1668یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابنِ مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ نبی کا ہوں جو خیرالرسل ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)
اب وہ جو موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں عیسیٰ (علیہ السلام) کا Status (رُتبہ) ہے نبی کا، وہ محمدﷺ کے مقابلے میں اپنا Status (مقام) بتا رہے ہیں۔ وہ بھی اُمتی وہاں، یہ بھی اُمتی یہاں، وہ بھی شرع والا اور غیرشرعی، یہ بھی غیرشرعی۔
جناب عبدالمنان عمر: تین چیزیں اکٹھی ہوگئی ہیں، اس لئے میں کوشش کروں گا…
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے بتایا ناں، آپ نے کہا ناں۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: میں الگ الگ اس کے جواب عرض کرتا ہوں۔
پہلا یہ تھا کہ مرزا صاحب نے اپنی وحی کو قرآن کے ہم پلّہ قرار دِیا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ جناب! یہ ہم پلّہ نہیں ہے، بلکہ مضمون آپ یہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ وحی شبہ والی نہیں ہے، یقینی وحی ہے۔ ’’مجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ وحی ہے یا نہیں ہے۔‘‘ چنانچہ دیکھئے وہ اصل عبارت جو ہے جو ’’حقیقت الوحی‘‘ کی آپ نے پڑھی ہے، وہ صفحہ:۲۱۱ پر ہے:
’’درحقیقت یہ امر بارہا آزمایا گیا ہے کہ وحیٔ اِلٰہی کو میں دِلی تسلی دینے کے لئے ایک ذاتی خاصیت ہے اور صبر اس خاصیت کی وہ یقین ہے جو وحی اِلٰہی پر ہوجاتا ہے۔ افسوس کہ اُن لوگوں کے کیسے اِلہام ہیں کہ باوجود دعویٰ اِلہام کے یہ بھی کہتے ہیں کہ جی ہمارے اِلہام ظنّی اُمور ہیں۔ نہ معلوم یہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ ایسے اِلہاموں کا ضرر اُن کے نفع سے زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔‘‘
یہ بات فرما رہے ہیں کہ یہ بھی اُن کو پتا لگتا ہے: ’’یہ اِلہام مجھے رحمانی ہوا ہے شیطانی۔‘‘ فرماتے ہیں:
1669’’۔۔۔۔۔۔ مگر میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکے کہتا ہوں کہ میں اُن اِلہامات پر اُسی طرح اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دُوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اُسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘ فضیلت نہیں، اس کے یقین ہونے کو پیش فرما رہے ہیں: ’’۔۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔۔‘‘
جناب یحییٰ بختیار: ’’پاک ایسا ہی۔‘‘
جناب عبدالمنان عمر: ’’…کیونکہ اس کے ساتھ اِلٰہی چمک اور نور دیکھتا ہوں…‘‘
اب دیکھئے، دُوسری بات یہ تھی۔ غرض اس عبارت میں مرزا صاحب نے اپنی وحی کو قرآن مجید کے مقابل پر پیش نہیں کیا بلکہ اس امر کا اِظہار مقصود ہے کہ: ’’مجھ پر جو کلام نازل ہوتا ہے، وہ بھی قطعی اور یقینی طور پر ہے۔‘‘
جناب یحییٰ بختیار: یہ لیکچر ہے جی، یہ آپ کس حوالے…
جناب عبدالمنان عمر: یہ اس حوالے کے متعلق میں نے گزارش کی کہ یہ کوئی…
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ جو آپ پڑھ کر سنا رہے ہیں، یہ اپنا خیال ہے یا نوٹ ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ نوٹ دیا ہے جی میں نے۔ پھر مرزا صاحب یہ فرماتے ہیں، اُن کی کتاب ہے ’’الہدیٰ‘‘ اُس کے ص۳۳ پہ ہے: ’’جو شان قرآن کی وحی کی ہے، وہ اولیاء کی وحی کی شان نہیں۔‘‘ تو مرزا صاحب کی وحی، وحیٔ ولایت ہے، اولیاء کی وحی ہے، وحیٔ نبوّت نہیں ہے۔ اُن کی وحی کی وہ شان ہو نہیں سکتی جو نبیوں کی وحی کی ہے۔
1670جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ، آپ یہ ۔۔۔۔۔۔۔میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیوں نہیں ہوسکتی؟ یعنی اللہ کے دو بیان آتے ہیں۔ ایک انسان پر آتا ہے، ایک نبی پر آتا ہے۔ تو کیوں شان نہیں ہوتی؟ شان تو اللہ کی ہے، بیان تو اللہ کا ہے، یہ Source (منبع) تو وہی ہے، منبع وہی ہے، ویسا ہی پاک ہونا چاہئے اور وہی Status (مقام) ہونا چاہئے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی Status (رُتبہ) نہیں، محمد رسول اللہﷺ کی وحی کا Status (رُتبہ) ہمارے مذہب اور عقیدے کے لحاظ سے دُنیا کے کسی بھی انسان کی وحی کے برابر نہیں ہے۔ کوئی دُنیا کا بڑے سے بڑا اِنسان ہو، بڑے سے بڑا نبی ہو۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھیں۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔۔ وہ وحی محمد رسول اللہﷺ کی وحی سے فروتر ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، صاحبزادہ صاحب! میں آپ سے ایک اور عرض کروں گا۔ ابھی آنحضرت (ﷺ) کی حدیثیں ہیں ہمارے پاس۔ اگر انہوں نے کسی بہت بڑے آدمی سے بات کی یا بڑے غریب آدمی سے بات کی، بڑے گھٹیا قسم کے آدمی سے بات کی، تو آپ تو یہ نہیں کہیں گے کہ چونکہ گھٹیا آدمی سے بات کی اس لئے اس کا وہی Status (رُتبہ) نہیں، آپ کی حدیث کا جو کسی بڑے آدمی سے بات کی۔ یہ تو نہیں ہوسکتا۔
جناب عبدالمنان عمر: جنابِ والا! اگر کسی جگہ۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی بات اُن (ﷺ) کی ہے، اُن کی بات ایک برابر ہے، کسی سے بھی کہی ہو۔ اللہ جو باتیں کرتا ہے، اِلہام بھیجتا ہے، وحی نازل کرتا ہے تو اُس پہ آپ نہیں کہیں گے کہ اس کا Status Low (رُتبہ کم) ہوگیا۔ چونکہ ایک محدث سے اُس نے، یا کسی ولی کو یہ وحی بھیجی ہے، اور وہ دُوسرے نبی کو بھیجی ہے، اللہ میاں نے، اس وجہ سے اپنی جو وحی بھیجی ہے یا جو پیغام بھیجا ہے، اُس میں کوئی فرق کردیا ہے۔
1671جناب عبدالمنان عمر: جنابِ والا! یہ معتقدات کی بات ہے۔ ممکن ہے میں اپنے عقیدے کو آپ سے نہ منواسکوں۔ مگر میرا عقیدہ۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ اِرادہ نہیں ہے، دیکھیں ناںجی، ہم تو Clasification چاہ رہے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: میرا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا صاحب یا کسی ولی کی وحی محمد رسول اللہa کی وحی کے مطابق ہوسکتی نہیں۔ وہ وحی اس قدر بڑی ہے، میں اس کی ایک مثال عرض کروں گا آپ کو۔ نبی کریمﷺ پر وحی نازل ہوئی۔۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو کہتے ہیں ناں کہ:
’’میں اس وحی پر، اس پاک وحی پر ایسا ہی اِیمان لاتا ہوں جیسے ان تمام وحیوں پر اِیمان۔۔۔۔۔۔‘‘
جناب عبدالمنان عمر: اُس کے ظنّی ہونے کے مقابلے میں۔ میں نے اس لئے حوالے کا اُوپر کا حصہ جو چھوڑ دیا گیا تھا وہاں، وہ میں نے یہاں پڑھا ہے، اسی لئے، یہی بتانے کے لئے کہ وہاں عظمت کا ذِکر نہیں ہے۔ میں پھر عرض کردیتا ہوں۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناںجی، وہ ایسے ہی پاک ہے جیسے دُوسری وحی پاک ہے، اللہ کی طرف سے ہے۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: درحقیقت۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔۔ اور اِیمان دونوں پہ ایک جیسا لاتا ہے۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، دونوں پر ایک جیسا نہیں لاتا ہے۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتا ہے۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں ناں جی، وہ اُوپر بیان ہوا ہے ناںجی، اُس کی عبارت کو۔۔۔۔۔۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(اسلام سادہ لوگوں کے لئے آیا تھا یا وکیلوں کے لئے؟)
1672جناب یحییٰ بختیار: ابھی آپ ایک بات بتائیں، پیشتر اس کے کہ ہم ذرا کچھ آگے جائیں۔ یہ اسلام جو ہے، یہ بڑے سادہ لوگوں، غریب لوگوں، یہ عوام کا مذہب تھا یا وکیلوں کے لئے آیا تھا؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب! یہ تو بالکل ہمارے جیسے سادہ لوگوں۔۔۔۔۔۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(پتہ نہیں چلتا کہ مرزاصاحب کیا کہتے ہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: سادہ لوگوں کا۔ یہ باتیں جو مرزا صاحب کر رہے ہیں کہ: ’’میں نبی ہوں، بروزی ہوں، مجازی ہوں، نہیں ہوں، ہوں، ہوں‘‘ اس سے اسلام کو پھیلانے کا مطلب تھا کہ Confuse (خلط ملط) کرنے کا مطلب تھا؟ آپ یہ بتائیے۔ دیکھئے نا! میں ایک وکیل ہوں، ۲۶سال کا میرا تجربہ ہوچکا ہے، ایک ماہ سے لگا ہوا ہوں، پتا نہیں چلتا کہ مرزا صاحب کہتے کیا تھے؟ میں عرض کرتا ہوں جی۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں، جی۔۔۔۔۔۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(یہ بہت بڑا فتنہ ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: اور ایک ۱۵دِن اُنہوں نے تقریریں کیں، وہ نہیں Clear کرسکے۔ ابھی آپ کہہ رہے ہیں، آپ Clear نہیں کرسکے۔ آپ اندازہ لگائیں خدارا! مسلمانوں کی کیا حالت ہوگی؟ اس سے زیادہ کوئی فتنہ ہوسکتا ہے؟ یہ جو باربار آپ نے اُس سے معنی نکالے ہیں، ’’بروزی‘‘، ’’مجازی‘‘، ’’اصلی نبی‘‘، ’’نقلی نبی‘‘، ’’یہ وحی ایسی پاک ہے‘‘، ’’یہ وحی پاک نہیں ہے‘‘ اور اَب کہتے ہیں کہ یہ Simple (آسان) دِین ہے، Straight Forword، جس میں کوئی مغالطے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو آپ پھر بتائیں، وہ کہتا ہے کہ:
’’میری وحی ایسی پاک ہے جیسی باقی انبیاء پر آئی ہے۔ میں اُس پر ایسے ہی اِیمان رکھتا ہوں جو باقی۔۔۔۔۔۔‘‘ آپ کہتے ہیں کہ: ’’نہیں، یہ نہیں ہے ویسے۔‘‘ تو یہ تو صاحبزادہ صاحب! بڑی Confuse کردیتی ہے بات۔
1673جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں، Confusion جو ہے جی، یہ بعض دفعہ اس بات میں نہیں ہوتا، اگلے شخص کے سمجھنے میں ہوتا ہے۔ قرآن مجید بالکل سادہ۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: تو یہ کہتے ہیں کہ اگلے لوگ تو سادہ ہیں ناں جی؟
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں جی مگر دُنیا کی اکثریت اُس کی سادگی کے باوجود اُس کی صداقت کو نہیں مانتی۔ تو یہ دلیل جو ہے کہ جی لوگوں کو اُلجھاؤ ہے پیدا، یہ دلیل نہیں ہے۔ قرآن مجید بڑی صحیح چیز ہے، سادہ چیز ہے، آسان چیز ہے: (عربی)
جناب یحییٰ بختیار: جی، قرآن شریف تو بالکل صحیح ہے، جب اُس نے ’’خاتم النّبیین‘‘ کہہ دیا، ہم نے کہا کہ سلسلہ ختم، مہر لگ گئی، Sealed۔ آپ کہتے ہیں: ’’نہیں!‘‘ کوئی کہتے ہیں: ’’کھڑکی کھلی ہوئی ہے‘‘، کوئی کہتے ہیں: ’’بند ہے!‘‘
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، ہم نہیں کہتے۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ نہیں کہتے، ٹھیک ہے، نہیں، ’’لا نبیَّ بعدی‘‘ کی حدیث آئی کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ کہتے ہیں کہ: ’’نبی نہیں آئے گا، بالکل ٹھیک ہے، مگر وہ اس معنی میں کہ وہ بروزی ہوگی، مجازی ہوگا، اور اُس میں وہ خوبیاں ہوں گی، مگر نبی نہیں ہوگا، اس قسم کا آسکتا ہے، جو اپنے لئے یہ لفظ استعمال کرے، وہ ٹھیک ہے، اُس کو نہ ماننا گنہگار ہے، کافر نہیں ہے۔‘‘ آپ دیکھ لیجئے، آنحضرت (ﷺ) نے کوئی ایسی بات نہیں کی۔ اُنہوں نے کہا کہ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ آپ سارا دِن صبح سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس معنوں میں نہیں تھا، دُوسرے معنوں میں تھا۔
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا کہ اس قسم کا کوئی نبی نہیں، نہ اِس قسم کا، نہ اُس قسم کا، کسی قسم کا نہیں آسکتا، میں نے اپنا۔۔۔۔۔۔
1674جناب یحییٰ بختیار: اور جب وہ کہتے ہیں کہ: ’’میں نبی ہوں، خدا کا رسول ہوں‘‘؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ بمعنی محدّث کہا ہے، کیونکہ پہلے لوگوں نے بمعنی محدّث کہا ہے۔
 
Top