• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

محمدی بیگم اور مرزا قادیانی ، ایک ناکام اور نامراد عاشق کی کہانی ۔

خادمِ اعلیٰ

رکن عملہ
ناظم
رکن ختم نبوت فورم
پراجیکٹ ممبر
مرزا قادیانی کی مسماۃ محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کی پیشگوئی ۔


اس پیشگوئی کا مختصر پش منظر یہ ہے کہ مرزا کے رشتے داروں میں ایک شخص احمد بیگ نام کا تھا جس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام تھا محمدی بیگم ، اسے زمین کی منتقلی کے ایک مقدمے میں مرزا قادیانی کے دستخطوں کی ضرورت تھی چنانچہ وہ مرزا کے پاس آیا اور اپنا مدعا بیان کیا ، مرزا قادیانی نے اسے کہا کہ میری عادت ہے کہ میں ہر کام سے پہلے استخارہ کیا کرتا ہوں لہذا میں پہلے استخارہ کروں گا پھر فیصلہ کروں گا کہ دستخط کروں یا نہ کروں ۔ چنانچہ مرزا کے بقول اس نے استخارہ کیا تو اس کے خدا نے اسے یہ حکم دیا کہ صرف اس شرط پر احمد بیگ کی درخواست پر دستخط کرو کہ وہ اپنی بیٹی محمدی بیگم کا نکاح تمہارے ساتھ کر دے ( مرزا قادیانی نے یہ ساری بات مورخہ 10 جولائی 1888ء کو اپنے ایک اشتہار میں خود بیان کی ہے ، مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحات 157 تا 158 ) مرزا نے ساتھ ہی احمد بیگ کو ڈرانے کے لئے پیشگوئی بھی داغ دی کہ :۔

" اگر نکاح سے اںحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہوجائے گا " ( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 158 )

ذرا آگے لکھا :۔

" معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ ( یعنی احمد بیگ : ناقل ) کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا " ( حوالہ سابقہ )

مرزا قادیانی نے احمد بیگ کو لالچ بھی دیا اور یوں کہا :۔

" اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ اس سے اس کی بڑی لڑکی کا رشتہ اپنے لئے مانگو ، اور اس سے کہہ دو کہ پہلے تمہیں اپنا داماد بنائے پھر تم سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے ، اور یہ بھی بتاؤ کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں وہ زمین بھی دے دوں گا جو تم مانگ رہے ہو اور اس کے ساتھ اور زمین بھی دوں گا اور میں تم پر اس کے علاوہ اور احسانات بھی کروں گا " ( ترجمہ عربی تحریر ، خزائن جلد 5 صفحات 572 تا 573 )

بلکہ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے والد کو اس رشتے کے بدلے میں یہاں تک پیش کش کر دی کہ :۔

" میں تم سے عہد کرتا ہوں کہ تمہاری بیٹی کو اپنی زمین کا بلکہ اپنی کل مملوکہ ہر چیز کا تیسرا حصہ دوں گا اور جو کچھ تم مانگو گے وہ بھی دوں گا " ( خزائن جلد 5 صفحہ 573 )

لیکن محمدی بیگم کے باپ نے اپنی بیٹی کا رشتہ مرزا قادیانی کو دینے سے صاف انکار کردیا تو پھر مرزا نے پینترا بدلا اور کہا کہ تم جو مرضی کر لو اس لڑکی کو تو ہرحال میں میرے نکاح میں آنا ہی ہے ۔ چنانچہ لکھا :۔

" سو خدا تعالیٰ نے سب کے تدراک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں ( یعنی جو اس رشتہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں : ناقل ) تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہوجاتا ہے " ( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 158 )

اس سے پہلے بتاریخ 20 فروری 1886ء کو بھی مرزا قادیانی یہ لکھ چکا تھا :۔

" آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی " ( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 102 حاشیہ )

مورخہ 2 مئی 1891ء کو مرزا قادیانی نے ایک اور اشتہار نکالا جس میں لکھا :۔

" خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خوا پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے یا خدا تعالیٰ بیوہ کرکے اس کو میری طرف لے آوے " ( مجموعہ اشتہارات جلد1 صفحہ 219 )


بتاریخ 28 دسمبر 1891ء ایک بار پھر مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں یہ لکھا کہ اسے یہ الہام ہوا ہے :۔

" اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات شچ ہے ، کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے نہیں روک سکتے ، ہم نے خود اس سے تیرا عقد باندھ دیا ہے اور میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا " ( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 301 )

آپ نے دیکھا کہ مرزا کے دعویٰ کے مطابق اس کے خدا نے اس کا عقد یعنی نکاح محمدی بیگم کے ساتھ باندھ دیا تھا ۔
اس وقت چونکہ محمدی بیگم ابھی کنواری تھی اس لئے مرزا اپنی پیش گوئیوں میں یہی کہتا رہا کہ وہ میرے نکاح میں ضرور آئے گی چاہے کنواری ہونے کی حالت میں چاہے بیوہ کی حالت میں ، لیکن محمدی بیگم کے گھر والوں نے مرزا قادیانی کے لالچ اور بعد از دھمکی آمیز پیش گوئیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپرہل 1892ء میں محمدی بیگم کا نکاح موضع پٹی صلع لاہور کے رہنے والے ایک شخص سلطان محمد بیگ کے ساتھ کردیا اس طرح مرزا کی آسمانی منکوحہ کو سلطان محمد لے گیا ( آپ پڑھ چکے ہیں کہ مرزا کے مطابق اس کے خدا نے اس نکاح محمدی بیگم کے ساتھ کردیا تھا ) چنانچہ مرزا قادیانی کی امیدوں پر پانی پھر گیا ، اب اگر مرزا قادیانی کی جگہ کوئی شریف آدمی ہوتا تو خاموشی اختیار کر لیتا کیونکہ اب محمدی بیگم کسی اور کی منکوحہ تھی اور شریف آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے کی بیوی کے نام اشتہاروں میں اچھالتا رہے ، لیکن مرزا قادیانی نے انتہائی غیر شریفانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اشتہار پر اشتہار نکالنے شروع کردیے، محمدی بیگم کا باپ جس کے بارے میں مرزا قادیانی نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ محمدی بیگم کا نکاح کسی اور کے ساتھ ہونے کی صورت میں تین سال کے اندر مرجائے گا اور محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال کے اندر مرجائے گا ( جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمدی بیگم کے باپ کو اس کے خاوند کے بعد مرنا تھا ) وہ کبیرالسن ہونے کی وجہ سے فوت ہوگیا ، مرزا قادیانی نے چھلانگیں لگانی شروع کردیں کہ میری پیشگوئی کا پہلا حصہ پورا ہوگیا اور پھر مرزا قادیانی نے اپنی پیشگوئی میں اضافے کرنے بھی شروع کر دیئےاور ایسی تحریریں لکھنی شروع کیں۔
سنہ 1893ء میں مرزا کے مطابق اس پر اس کے خدا کی طرف سے یہ وحی ہوئی جو مرزا نے عربی میں لکھی:۔

" قال اننی ساجل بنتاََ من بناتھم آیۃ لھم فسماھا وقال انھا ستجعل ثیبۃ ویموت بعلھا وابوھا الی ثلاث سنۃ من یوم النکاح ثم نردھا الیک بعد موتھما ولایکون احدھما من العاصمین وقال انرا ادوھا الیک لاتبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لم یرید ومات ابوھا فی وقت موعود فکونوا لوعدہ الاخر من المنتظرین " اس نے کہا میں ان کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی ان کو ان کے لئے نشانی بناؤن گا اور اس نے کہا کہ وہ بیوہ ہوجائے گی ، اس کا خاوند اور باپ دونوں نکاح کے دن سے تین سال تک مرجائیں گے پھر ہم اس لڑکی کو اس دونوں کی موت کے بعد تیری طرف لوٹا دیں گے اور ان دونوں میں سے کوئی بھی بچنے والا نہیں اور کہا کہ ہم اس لڑکی کو تیری طرف واپس لانے والے ہیں اللہ کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا بے شک تیرا رب جو ارادہ کرتا ہے وہ کرتا ہے تو اس لڑکی کا باپ وقت مقررہ میں مر گیا پس اب تم اللہ کے دوسرے وعدے کا انتظار کرو ۔( خزائن جلد 7 صفحہ 162 )

آپ نے دیکھا کہ محمدی بیگم کے باپ کے مرنے بعد مرزا یہ لکھ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں نے پیشگوئی کی تھی کہ اگر محمدی بیگم کا نکاح میرے علاوہ کسی اور کے ساتھ کیا جائے گا تو اس کا باپ اور خاوند دونوں تین سال کے اندر مرجائیں گے اور ان کے مرنے کے بعد آخر کار محمدی بیگم میرے پاس واپس آجائے گی یہ اللہ کی بات ہے جو تبدیل نہیں ہوسکتی ، اور پھر مرزا کہتا ہے کہ دیکھو میری پیشگوئی کے مطابق اس کا باپ مر گیا ۔ اس طرح اللہ کا ایک وعدہ پورا ہوا اب دوسرا وعدہ پورا ہونے کا انتظار کرو ۔

آگے چلنے سے پہلے آپ کی توجہ اس طرف دلاتا جاؤں کہ مرزا نے اپنے خدا کی یہ جو عربی عبارت لکھی ہے اس میں لکھا ہے " ویموت بعلھا اوبوھا الی ثلاث سنۃ " عربی قواعد کی رو سے " ثلاث سنۃ " غلط ہے بلکہ " ثلاث سنوات یا ثلاث سنین " ہونا چاہیئے ۔لیکن مرزا جی ٹھہرے سلطان القلم ان کی عربی بھی ان کی نبوت کی طرح بناسپتی ہے ۔
تو سلطان محمد کا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ اپریل 1892ء میں ہوا ، اس طرح مرزا کی پیشگوئی کے مطابق اسے اڑھائی سال کے اندر یعنی اگست 1894ء تک مرنا تھا لہذا اب اس کی موت کا انتظار شروع ہوا ، اور مرزا قادیانی نے مورخہ اکیس ستمبر 1893ء کو لکھا :۔
" مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری کے داماد کی نسبت پیشگوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر 1893ء ہے قریباََ گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے یہ تمام اموار جو انسانی طاقتوں سے بلکل بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں " ( خزائن جلد 6 صفحہ 375 )

اس کتاب کے اگلے صفحے پر مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کی پیشگوئی کو عظیم الشان پیشگوئی لکھا اور اس کے چھ اجزاء تفصیل کے ساتھ یوں بیان کیے ۔
" اور ان میں سے وہ پیشگوئی جو مسلمان قوم کے ساتھ تعلق رکھی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں (1) مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (2) اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (3) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو (4) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے کے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو (5) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو(6) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہوجاوے "( خزائن جلد 6 صفحہ 376 )
اسی طرح مرزا قادیانی نے لکھا کہ میری اس پیشگوئی میں پورے چھ دعوے ہیں :۔
" اول نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا ، دوم نکاح کے وقت تک لڑکی کے باپ کا یقیناَ زندہ رہنا ، سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا ۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا ، پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا ، ششم پھر آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالف اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آنا " ( خزائن جلد 5 صفحہ 325 )
اب خود مرزا غلام قادیانی نے اپنی پیشگوئی کے چھ حصے بتائے اور پھر یہ بھی بتایا کہ اس پیشگوئی میں میرے چھ دعوے ہیں اس طرح بات بلکل صاف ہوگئی کہ پیشگوئی اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک اس کے چھ کے چھ اجزاء پورنے نہ ہوں اور مرزا اس وقت تک سچا نہیں ثابت ہوسکتا ، جب تک چھ کے چھ دعوے سچے نہ ہوں۔ نیز یہ بات زہن میں رہے کہ اب تک جہاں بھی مرزا غلام قادیانی نے یہ پیشگوئی کی وہاں کوئی شرط ذکر نہیں کی اگر فلاں کام ہوگیا یا فلاں نے توبہ کرلی یا فلاں ڈر گیا تو پھر میرا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ ملتوی یا کینسل ہوجائے گا ۔
اب وقت گزرتا گیا ۔ ہفتے گذرے ، مہینے گذرے ، سال ، دو سال ، اڑھائی سال گذر گئے لیکن محمدی بیگم کا خاوند سلطان محمد زندہ سلامت رہا ، مرزا قادیانی کو ہگر اپنی زلت سامنے نظر آنے لگی تو اس نے حسب عادت اپنی تاویل کی زنبیل سے وہی پرانا نسخہ نکالا اور کہنا شروع کردیا کہ سلطان محمد اپنے سسر احمد بیگ کی موت دیکھ کر ڈر گیا تھا اس لئے اس کی موت ٹل گئی ( یہ بات مرزا کو اس کے خدا نے نہ بتائی جب احمد بیگ فوت ہوا کیونکہ اوپر آپ نے پڑھا کہ 21 ستمبر 1893ء کو بھی مرزا نے یہی لکھا کہ محمدی بیگم کے خاوند کی موت میں گیارہ ماہ رہ گئے ہیں جبکہ اس سے کئی مہینے پہلے احمد بیگ کی موت ہوچکی تھی ) تو دلیل ملاخط فرمائیں ، مرزا قادیانی نے کہا کہ احمد بیگ کی موت کے بعد سلطان محمد کے کچھ رشتہ داروں کے خط آئے تھے اور انہوں نے پشیمانی کا اظہار کیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے توبہ کر لی تھی ( کیا سلطان محمد نے بذات خود کوئی معافی نامہ لکھا ؟ آج تک نہ مرزا قادیانی نے نہ ہی اس کا کوئی پیروکار یہ ثابت کرسکا ) ۔


مرزا غلام قادیانی کا اصرار اور بنیادی پیشگوئی اب بھی قائم ہے ۔


دوستو ! آج جماعت مرزائیہ کی طرف سے یہ دھوکہ دیا جاتا ہے کہ مرزا کی اصل پیشگوئی احمد بیگ اور اس کے داما سلطان محمد کی موت تھی اور محمدی بیگم کے ساتھ نکاح صرف اس صورت کے ساتھ مشروط تھا اگر سلطان محمد کی موت ہوجاتی ، مرزائی پاکٹ بک کے مصنف نے بھی یہی فریب دینے کی کوشش کی ہے کہ مرزا کو اس کے خدا نے یہ بتایا تھا کہ میں محمدی بیگم کے باپ اور خاوند دونوں کی موت بعد محمدی بیگم کو بیوہ کرکے تیری طرف لوٹاؤں گا ، اس طرح شرط یہ تھی کہ اگر وہ بیوہ ہوگی تو تیرے نکاح میں آئے گی ، چونکہ سلطان محمد توبہ کرکے ( جس کا ثبوت آج تک جماعت مرزائیہ پیش نہیں کرسکی اور نہ اس پیشگوئی کا مشروط ہونا ثابت کرسکی ) موت سے بچ گیا ، لہذا محمدی بیگم کے بیوہ ہونے کی شرط پوری نہ ہوئی نتیجہ یہ کہ نکاح کی پیشگوئی ملتوی ہوگئی ۔
یہ ایسا مرزائی دھوکہ ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے ، آپ لوگوں نے خود مرزا غلام قادیانی کی جو پیشگوئیاں پڑھی ہیں بحوالہ ان کے اندر کہیں بھی کوئی شرط نہیں ۔ بلکہ جب تک محمدی بیگم کا نکاح نہ ہوا تھا مرزا کی پیشگوئی یہ تھی کہ وہ کنواری بھی میرے نکاح میں آسکتی ہے اور بیواہ ہوکر بھی ۔ جب اس کا نکاح ہوگیا تو چونکہ کنواری والی بات اب ممکن نہیں تھی لہذا مرزا نے یہ لکھنا شروع کردیا کہ اب وہ بیوہ ہوکر آئے گی ، آئیے ہم خود مرزا غلام قادیانی سے پوچھتے ہں کہ اصل اور بنیادی پیشگوئی کیا تھی ؟ کسی کی موت کی یا نکاح کی ، اور کیا محمدی بیگم کے ساتھ مرزا کا نکاح مشروط تھا ؟ اور کیا سلطان محمد کے بچنے سے یہ اصل پیشگوئی ملتوی ہوگئی ؟
جب سلطان محمد اڑھائی سال کے اندر نہ مرا تو مرزا نے بتاریخ 6 ستمبر 1894ء کو ایک اشتہار جاری کیا اس میں لکھا :۔

" کیونکہ عذاب کی میعاد ایک تقدیر معلق ہوتی ہے جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہے جیسا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے ۔ لیکن نفس پیشگوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لئے الہام الہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لاتبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہ ٹلے گی پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے ۔ "
( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 43 اشتہار نمبر 120 )

مرزا قادیانی کی اس تحریر سے یہ باتیں سمجھ آتی ہیں

اڑھائی سال کے اندر محمد بیگم کے خاوند کی پیشگوئی دراصل اس پر عذاب آنے کی پیشگوئی تھی ، اور عذاب کی پیشگوئی تقدیر معلق ہوتی ہے جو خوف یا رجوع الی اللہ سے ٹل جاتی ہے اس لئے محمدی بیگم کا خاوند وقت مقررہ کے اندر نہ مرا ( یہ بھی مرزا قادیانی کا دھوکہ ہے محمدی بیگم کے خاوند نے ہرگز معذرت یا توبہ نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ پوری زندگی کبھی مرزا کی پیشگوئی سے ڈرا ، آج تک جماعت مرزائیہ اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کرسکی کہ سلطان محمد نے توبہ کی تھی ، وہ توبہ کیوں کرتا ؟ اس نے کون سا گناہ کیا تھا ؟ کیا کسی غیر منکوحہ عورت کے ساتھ اس کے گھر والوں کی رضا مندی سے نکاح کرنا گناہ ہے ؟ ) یہاں تک تو مرزا نے یہ بتایا کہ سلطان محمد کیوں نہ مرا ، لیکن آگے جو لکھا وہ ہے اصل پیشگوئی جسے مرزا نے " نفس پیشگوئی " کے الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے اور پہلے سلطان محمدی کی موت کی پیشگوئی کو تقدیر معلق بتایا لیکن محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کی پیشگوئی کو " تقدیر مبرم " بتایا اور یہ بھی بتایا کہ یہ ایسی تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اگر یہ نکاح ٹل گیا تو مرزا کے مطابق اس کا خدا جھوٹا ثابت ہوجائے گا ۔

مرزائی پاکٹ بک میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ تقدیر مبرم بھی ٹل سکتی ہے لیکن یہاں مرزا نے ان ساری تاویلات کا دروازہ یہ لکھ کر بند کردیا کہ " یہ ایسی تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی " نیز مرزا نے اس تقدیر مبرم کو محمدی بیگم کے خاوند کی موت کی پیشگوئی کے مقابلے میں ذکر کیا ہے جسے اس نے تقدیر معلق بتایا ، اگر تقدیر معلق اور تقدیر مبرم ٹل سکتی تھیں تو مرزا نے پھر یہ فرق کیوں کیا ؟ مرزا قادیانی نے تقدیر معلق اور تقدیر مبرم کا فرق ایک دوسری جگہ یوں بیان کیا ہے :۔

" تقدیر دو قسم کی ہوتی ہیں ایک کا نام معلق اور دوسری کو مبرم کہتے ہیں، اگر کوئی تقدیر معلق ہو تو دعا اور صدقات اس کو ٹلا دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس تقدیر کو بدل دیتا ہے ، اور مبرم ہونے کی صورت میں وہ صدقات اور دعا اس تقدیر کے متعلق کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی "
( ملفوظات ، جلد 3 صفحہ 24 )
ان تمام حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک اصل اور بنیادی پیشگوئی محمدی بیگم کے ساتھ نکاح ہونے کی تھی اور اس پیشگوئی کے ٹلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسے ہر صورت میں پورا ہونا ہے ۔

تو دوستو ! آپ نے دیکھا کہ محمدی بیگم کا خاوند جب مرزا کی بتائی ہوائی مدت میں نہ مرا تو مرزا نے کیسے تاویل کی کہ وہ ڈر گیا اس لئے بچ گیا ، جبکہ اس سے پہلے اس بارے مین وہ جتنی بھی پیشگوئیاں کر چکا تھا ان کے اندر ہرگز کہیں ایسی کوئی شرط نہیں تھی کہ اگر وہ ڈر جائے گا یا توبہ کر لے گا تو بچ جائے گا ، بلکہ ان پیشگوئیوں کے مطابق اسے ہر حال میں ضرور مرنا تھا کیونکہ اصل اور نفس پیشگوئی تب ہی پوری ہوتی ۔ اس بات کا احساس خود مرزا قادیانی کو بھی تھا چنانچہ اس نے یہ تاویل کرکے اڑھائی سال کی مدت میں سلطان محمد کے مرنے والی بات سے جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ اسے صرف مدت ڈھیل ملی ہے اس کی موت بہرحال اٹل ہے ، چنانچہ اس نے 1896ء میں یہ بیان شائع کیا :۔

" میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو ، اگر میں جھوٹا ہوں تو پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجاے گی ، اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کرے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہوگئی ۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہوتا ہے "
( خزائن جلد 11 صفحہ 31 حاشیہ )

اس تحریر سے معلوم ہوا کہ مرزا نے صرف اڑھائی سال کی مدت کے اندر سلطان محمد کے مرنے کی تقدیر کو تقدیر معلق بتایا تھا جبکہ اس کی موت اس کے نزدیک تقدیر مبرم تھی اور واضح طور پر اعلان کر رہا ہے کہ اگر یہ پیشگوی یعنی اس کی موت میری زندگی میں نہ ہوئی تو میں جھوٹا ہوں گا اور پھر اس نے مثال دے کر بتایا کہ جیسے احمد بیگ ( محمدی بیگم کا باپ ) اور آتھم مر گئے ایسے ہی یہ بھی مر جاے گا ۔
یہاں یہ بھی بتانا ضرور ہے کہ یہ مرزا کا صریح جھوٹ ہے کہ عیسائی پادری عبداللہ آتھم اس کی پیشگوئی کے مطابق مر گیا تھا ، بلکہ مرزا ہمیشہ کی طرح اپنی اس پیشگوئی میں بھی ذلیل ہوا تھا ۔ کیونکہ اس نے پیشگوئی کی تھی کہ آتھم پندرہ مہینے کے اندر مدر جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا ۔ وہاں بھی مرزا نے دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی کہ اس نے توبہ کر لی تھی اس لئے نہ مرا ، جب توبہ کا ثبوت مانگا گیا تو کہنے لگا کہ آتھم سے کہو کہ وہ قسم اٹھائے کہ اس نے توبہ نہیں کی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا آتھم عیسائی ہے اور موجودہ بائبل میں قسم کھانے سے منع کیا گیا ہے ، اس طرح مرزا نے یہ چالاکی کی کہ اگر وہ قسم اٹھا لے گا تو میں کہوں گا کہ دیکھو اس نے عیسائی عقیدہ چھوڑ دیا اور اگر قسم نہ اٹھائے تو میں یہ شور کرتا رہوں گا کہ اس نے توبہ کر لی تھی ہم اس پیشگوئی میں اس وقت تفصیل میں نہیں جائیں گے صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ مرزا نے قادیانی نے جو اس تحریر میں لکھا کہ آتھم کے متعلق پندرہ مہینے والی اس کی پیشگوئی پوری ہوئی تھی یہ صریح جھوٹ ہے لعنت اللہ علی الکاذبین

اب غور فرمائیں ! اوپر والی تحریر مرزا نے 1896ء میں لکھی ( مرزا کی کتاب انجام آتھم 1896ء میں چھپی تھی ) اس وقت سلطان محمد کی اڑھائی سالہ مدت کو گذرے ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوکچا تھا یعنی بقول مرزا رجوع الی اللہ کرکے اور ڈر کرکے وہ اپنی موت ٹال چکا تھا ، لیکن پھر بھی مرزا نے یہ لکھا کہ اس کی موت کی پیشگوئی اپنی جگہ پر قائم ہے اور اگر میری زندگی مٰن اس کی موت نہ ہوئی تو میں جھوٹا ، مرزا نے ہرگز یہ نہیں لکھا کہ چونکہ سلطان محمد توبہ کرکے بچ گیا اس لئے اب میرے نکاح والی پیشگوئی ملتوی ہوگئی ۔

محمدی بیگم سے نکاح نہ ہونے کی صورت میں ذلت اور نامرادی کے ساتھ ہلاکت کی دعا


مورخہ 27 اکتوبر 1894ء کو مرزا غلام قادیانی نے ایک اشتہار جاری کیا جس میں اس نے اپنے خدا سے یہ دعا مانگی :۔

" اور ہم اس مضمون کو اس پر ختم کرتے ہیں کہ اگر ہم سچے ہیں تو خدا تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو پورا کرے گا اور اگر یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں تو ہمارا انجام نہایت بد ہوگا اور ہرگز یہ پیش گوئیوں پوری نہیں ہونگی ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین ۔ اور میں بالاخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے علیم وقدیر اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دخترکلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کورباطن حاسدوں کا منہ بند ہوجائے اور اگر اے خدا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر " ۔ ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحات 155 تا 116 )

اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا محمدی بیگم کا نکاح مرزا کے ساتھ ہوا یا وہ نامرادی کے ساتھ دنیا سے چلا گیا ؟۔

اسی طرح سنہ 1896ء میں مرزا قادیانی نے یہ تحریر بھی لکھی ۔

" اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز صاحب اولاد ہوگا ۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے ۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے ۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی " ۔ ( خزائن جلد 11 صفحہ 337 حاشیہ )

اس جگہ مرزا قادیانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو اپنے اوپر لگانے کی کوشش کر رہا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیھما اسلام کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد شادی کریں گے اور آپ کی اولاد بھی ہوگی ۔ مرزا یعنی نقلی مسیح کہہ رہا ہے کہ یہ پیشگوئی میرے بارے میں تھی اور لکھ رہا ہے کہ اس سے شادی سے مراد جو شادی ہے وہ ابھی ( یعنی 1896ء کی اس تحریر کے بعد ) ہونی ہے اور یہ بات ضروری پوری ہوگی ۔

یاد رہے مرزا کی دوسری شادی مسماۃ نصرت جہاں بیگم کے ساتھ اس تحریر سے تقریباََ 12 سال پہلے سنہ 1883ء میں ہوچکی تھی اور اس وقت ابھی مرزا قادیانی نے نہ ہی مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور نہ عیسی ابن مریم ہونے کا بلکہ اس کا عقیدہ یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام نے ہی دوبارہ آنا ہے ، لہذا یہاں مرزا یقیناََ اس حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محمدی بیگم پر لگانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے بعد جب مرزا کو اپنی یہ عظیم الشان پیشگوئی ناکام ہوتی نظر آتی تو سنہ 1900ء میں اس نے اپنی 1896ء والی اس بات سے حسب عادت قلابازی کھائی اور اسی حدیث کو اپنی دوسری بیوی نصرت جہاں پر لگانے کی ناکام کوشش بھی کی اور لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خبر کا مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود کی شادی ایک سید خاندان میں ہوگی ( خزائن جلد 17 صفحہ 385 حاشیہ ) ۔ دراصل تضاد بیانیاں اور مرزا قادیانی کا چولی دامن کا ساتھ تھا ،

بتاریخ 12 دسمبر 1894ء مرزا قادیانی پر اس کے خدا نے یہ الہام کیا :۔

" ثم نادا مناد ان رجلاََ المسمی سلطان بیگ فی حالۃ الاحتضار فقلت سیموت وارایت من قبل ان المصالحۃ یکون فی یوم موتۃ " ہھر ایک آواز دینے والے نے آواز دی کہ ایک شخص جس کا نام سلطان بیگ ہے ، جان کندن میں ہے میں نے کہا وہ عن قریب مر جائے گا کیونکہ مجھے خواب میں دکھلا دیا گیا ہے کہ اس کی موت کے دن صلح ہوگی ۔ " ( تذکرہ ۔ صفحہ 223 ، چوتھا ایڈیشن )

مرزا کے اس الہام میں سلطان بیگ سے مراد وہ ہی محمدی بیگم کا خاوند ہے جس کا نام مرزا سلطان محمد بیگ تھا اور اس الہام میں مرزا یہ کہتا ہوا پایا گیا کہ وہ عن قریب مر جائے گا ۔

مرزا قادیانی کی ان مذکورہ تمام تحریروں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ محمدی بیگم کے باپ کی موت اور اس کے خاوند کے اڑھائی سال میں نہ مرنے کے باوجود مرزا قادیانی اپنی اصل پیشگوئی پر مصر رہا کہ محمدی بیگم کو ہر حال میں اس کے نکاح میں آنا ہی ہے اور مرزا نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ چونکہ اب سلطان محمد نہیں مرا اس لئے محمدی بیگم کے بیوہ ہونے کا امکان ختم ہوگیا لہذا میری پیشگوئی بھی ختم ، آئیے چند مزید شواہد پر نظر ڈالتے ہیں ۔

سنہ 1901ء میں یعنی محمدی بیگم کے خاوند کی موت کے لئے مرزا کی طرف سے مقرر کردہ اڑھائی سال کی مدت ختم ہونے کے تقریباََ 7 سال بعد مرزا قادیانی نے گورداسپور کی عدالت میں ایک بیان دیا ، چونکہ وہاں مرزا کی اس پیشگوئی کا ذکر بھی ہوا تھا اس لئے اپنے اس عدالتی بیان میں مرا نے اس پر بھ بات کی اور آخر میں کہا :۔

" عورت اب تک زندہ ہے میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گا امید کیسی یقین کامل ہے یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی " ( قادیانی اخبار الحکم مورخہ 10 اگست 1901 صفحات 14 تا 15 )

یعنی 1901ء تک مرزا قادیانی اپنی اصل پیشگوئی پر قائم تھا کہ محمدی بیگم کا نکاح اس کے ساتھ ضرور ہوگا ، صرف امید نہیں یقین کامل تھا کیونکہ اس کے خدا نے اسے یہ بتایا تھا ۔

اس کے 4 سال بعد مورخہ 1905ء کو اسی اخبار الحکم میں مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ اس نکاح کی پیشگوئی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا :۔

" اعتراض پنجم : مسماۃ محمدی بیگم کو دوسر شخص نکاح کرکے لے گیا اور وہ دوسری جگہ بیاپی گئی ۔ الجواب : وحی الہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہے کہ اول دوسری جگہ بیاہی جائے سو یہ ایک پیشگوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاپی جانے سے پورا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وعدہ یہ ہے کہ وہ پھر نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی سو ایسا ہی ہوگا " ( الحکم 30 جون 1905ء صفحہ 5 )

آپ نے دیکھا کہ مرزا ایک اعتراض کا جواب دے رہا ہے ، لیکن یہاں ایک صریح جھوٹ بول رہا ہے کہ اس کے خدا کی وحی یہ تھی کہ محمدی بیگم ضرور کسی دوسری جگہ بیاہی جائے گی اور یہ بھی پیشگوئی کا حصہ تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا کی 2 مئی 1891ء کے اشتہار میں پیشگوئی یی تھی کہ خدا کی طرف سے یہ مقدر اور اقرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کرکے اس کو میری طرف لے آوے ۔ یعنی یہ پیشگوئی نہیں تھی کہ اس کا نکاح ضرور کہیں اور ہوگا پھر بیوہ ہوکر آئے گی ۔ ورنہ مرزا قادیانی محمدی بیگم کے باپ اور دوسرے رشتے داروں کو خط پر خط نہ لکھتا کہ اس کا نکاح کہیں اور نہ کرنا اور نہ ہی سلطان محمد کو ڈراتا کہ اگر تم نے نکاح کیا تو اڑھائی سال کے اندر مر جاؤ گے بلکہ خود محمدی بیگم کا نکاح کسی اچھی سی جگہ پر کروا دیتا کہ اس کے خدا کی وحی یہی تھی کہ پہلے دوسری جگہ ضرور بیاہی جائے گی ۔ بلکہ مرزا نے تو اپنے ان رشتہ داروں کو جن میں اس کی پہلی بیوی حرمت بی بی اور اس بیوی سے دونوں بیٹے سلطان احمد اور فضل احمد بھی شامل تھے صاف طور پر یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے احمد بیگ اور اسکے رشتے داروں کو محمدی بیگم کا نکاح کہیں اور کرنے سے نہ روکا تو میری طرف سے حرمت بی بی کو طلاق اور میرے دونوں بیٹے عاق تصور ہونگے ( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحات 219 تا 221 ، مورخہ 2 مئی 1891ء ) ۔ لہذا اگر مرزا کے خدا کی وحی میں یہ بات تھی کہ ضرور محمدی بیگم کا نکاح کہیں اور ہوگا پھر وہ مرزا کی طرف لوٹائی جائے گی تو مرزا کا طلاق اور عاق کرنے کی دھمکی دینا کس لئے تھا ؟ اسے تو خوش ہونا چاہیئے تھا کہ اس کے رشتہ دار محمدی بیگم کا نکاح کہیں اور کر رہے ہیں اس طرح میرے خدا کی پیشگوئی جلد پوری ہوگی ( واضح رہے محمدی بیگم کا باپ اور مرزا قادیانی کی پہلی بیوی قریبی رشتہ دار تھے اس لئے مرزا اس کے زریعے احمد بیگ پر دباؤ ڈلوانا چاہتا تھا )

بہرحال ہم جس بات کو ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ 1905ء میں بھی وہ یہ لکھ رہا ہے کہ " وعدہ یہ ہے کہ وہ پھر نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی سو ایسا ہی ہوگا " وہ ہرگز نہیں مانتا کہ چونکہ سلطان محمد نہیں مرا اس لئے اب پیشگوئی مشروط ہونے کی وجہ سے ملتوی ہوگئی جیسا کہ آج کل مرائی جماعت کہتی ہے بلکہ مرزا خود 1905ء میں بھی اپنے خدا کے وعدے کا منتظر ہے اور اسے یقین ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح اس کے ساتھ ضرور ہوگا ۔

دوستو! اپنے خدا کے اسی وعدے کے انتظار میں مرزا قادیانی مورخہ 26 مئی 1908ء کو اس دنیا سے چلا گیا ( اس کی وہ دعا قبول ہوئی جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر محمدی بیگم سے نکاح کی پیشگوئی خدا کی طرف سے نہیں تو وہ نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک ہوجائے )۔ مرزا کے مرنے کے بعد بھی سلطان محمد تقریباََ چالیس سال زندہ رہا اور روایات کے مطابق اس کی وفات 1948ء میں ہوئی ، اسی طرح محمدی بیگم سنہ 1966ء میں فوت ہوئی اور لاہور کے مشہور قبرستان میانی صاحب میں مدفون ہے ۔
(جاری ہے )
 

خادمِ اعلیٰ

رکن عملہ
ناظم
رکن ختم نبوت فورم
پراجیکٹ ممبر
کیا سلطان محمد مرزا قادیانی کی پیشگوئی سے کبھی ڈرا ؟ یا اس نے کوئی توبہ کی ؟


یہ بات تو مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کو بھی مسلم ہے کہ سلطان محمد نے مرزا قادیانی کی طرف سے اس کی موت کی دھمکی پر مبنی پیشگوئی کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اور بلا کسی خوف کے محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کیا اور اسے اپنی دلہن بنا کر لے گیا ، یہ سب سے بڑا ثبوت ہے کہ سلطان محمد کے نزدیک مرزا قادیانی ایک جھوٹا شخص تھا ، جب وہ مرزا کی جھوٹی ہیشگوئی کے مطابق اڑھائی سال کے اندر نہ مرا تو یہ مرزا قادیانی کے لئے دوسرا جھٹکا تھا ، مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا کہ سلطان محمد نے توبہ کر لی تھی اس لئے وہ موت سے بچ گیا ، آج تک کوئی مرزائی ایسی دلیل نہیں پیش کر سکا جس سے ثابت ہو کہ محمد بیگم کے ساتھ نکاح کے بعد اڑھائی سال کے عرصے کے اندر سلطان محمد نے کبھی مرزا قادیانی کو کوئی خط لکھا ہو یا اس سے ملاقات کی ہو یا کوئی معذرت وغیرہ کی ہو ، باقی رہی مرزا قادیانی کی بات تو اس کی عادت تھی تاویلیں کرنا ، اس کی دلیل کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ سلطان محمد ڈر گیا تھا اور اس نے توبہ کرلی تھی اس لئے بچ گیا ، سوال ہوا کہ ثبوت کیا ہے ؟ تو جواب دیا اس کا نہ مرنا ثبوت ہے کہ وہ ڈر گیا تھا جاؤ جا کر سلطان محمد سے کہو کہ اگر وہ نہیں ڈرا تو اشتہار جاری کرے کہ میں نہیں ڈرا پھر دیکھو کیا ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے یہ دلیل احمقوں اور عقل کے اندھوں کو تو قائل کرسکتی ہے لیکن جس کے پاس رتی بھر بھی عقل ہے وہ اس مضحکہ خیز ثبوت کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا ، سلطان محمد نے محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرکے مرزا قادیانی کی تکذیب کا بزبان حال جو صریح اعلان کیا تھا اس کے بعد بھی کسی اشتہار کی ضرورت تھی ؟ دراصل مرزا قادیانی جانتا تھا کہ سلطان محمد ایک فوجی ہے اور نہ جانے وہ اس وقت کہاں ہوگا ، کون اسے ڈھونڈھے گا اور کون اس کو کہے گا کہ مرزا قادیانی کی تکذیب کا اشتہار جاری کرو ، یہ سلطان محمد کی شرافت تھی کہ ایک طرف مرزا قادیانی کی منکوحہ کا نام لیکر اشتہار جاری کرتا رہا لیکن سلطان محمد نے مرزا قادیانی کے منہ لگنا بھی مناسب نہ سمجھا ۔ پھر سلطان محمد نے اگر توبہ کی ہوتی تو سب سے پہلے وہ محمدی بیگم کو طلاق دیتا کیونکہ اس کا کوئی جرم تھا تو یہی کہ اس نے مرزا کی آسمانی منکوحہ کے ساتھ نکاح کیا تھا ، لیکن سلطان محمد اپنے اس جرم سے دست بردار نہ ہوا ، بہرحال اگر ایک منٹ کے لئے فرض بھی کرلیں کہ وہ توبہ کرکے اڑھائی سال کے اندر موت سے بچ گیا تو بھی مرزا کی پیشگوئی تو جھوٹی ہی ہوئی کیونکہ اس کے بعد بھی کئی سال تک یہی کہتا رہا کہ محمدی بیگم کو آخر کار میرے نکاح میں آنا ہی ہے ، جو کہ نہیں آئی ۔

دوستو ! مرزا قادیانی تو محمدی بیگم کا انتظار کرتے اس دنیا سے چلا گیا لیکن سلطان محمد کی توبہ کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا ، اللہ جزائے خیر دے مشہور عالم دین مولانہ ثناء اللہ امرتسری رحمتہ اللہ علیہ کو جنہوں نے مرزا قادیانی کی زندگی میں بھی اس کے ناک میں دم کیے رکھا اور اس کی موت کے بعد بھی آخر کار محمدی بیگم کے خاوند سلطان محمد کو ڈھونڈھ نکالا اور اس کی تحریر حاصل کرکے مورخہ 14 مارچ سنہ 1924ء کو اپنے اخبار اہل حدیث امرتسر میں شائع کردی جس پر چار گواہوں کے دستخط بھی تھے ، وہ تحریر کیا تھی آئیے پڑھتے ہیں ، سلطان محمد نے لکھا تھا :۔

" جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جو میری موت کی پیشگوئی فرمائی تھی میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی نہ میں اس پیشگوئی سے کبھی ڈرا ، میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیروکار ہوں ۔ سلطان محمد بیگ ساکن پٹی 3/3/1924 "۔

مولانہ ثناء اللہ امرتسری نے اس کے ساتھ ایک چیلنج بھی لکھا جو یہ ہے :۔

" ہم مرزائی امت کے دونوں بلکہ تینوں چاروں پارٹیوں بلکہ کل افراد امت مذکورہ کو چیلنج دیتے ہیں کہ اس تحریر کے متعلق وہ ایک مہینہ تک تحقیق کر لیں کہ یہ تحریر لفظ بلفظ مرزا سلطان محمد صاحب کی ہے یا نہیں ۔ اگر ان کی ثابت نہ ہو تو ہم لودھیانہ کی انعامی رقم مبلغ تین سو لی ہوئی واپس دینے کا وعدہ کرتے ہیں ۔ احمدی دوستو ! مردِ میدان بنو ہمت ہے تو آگے آؤ " ۔

جیسا کہ بیان ہوا سلطان محمد کا یہ بیان مارچ 1924ء میں شائع ہوا ، اس کے بعد سلطان محمد تقریباََ 24 سال مزید زندہ رہا لیکن جماعت مرزائیہ کا کوئی سپوت اس سے اس بیان کی تردید یا انکار نہ کروا سکا ۔

اس کے چھ سال بعد مورخہ 14 نومبر 1930ء کو اسی اخبار اہل حدیث میں سلطان محمد کا ایک اور خط شائع ہوا جو اس نے سید محمد شریف ساکن گھڑیالہ ضلع لاہور کو لکھا تھا اور سید صاحب نے اس کی نقل مولانہ ثناءاللہ امرتسری کو بیجھی تھی ، اس خط کی آخری سطور یہ ہیں :۔

" میں خدا کے فضل سے اہل سنت والجماعت ہوں ، میں احمد مذھب کو برا سمجھتا ہوں ، میں اس کا پیروکار نہیں ہوں اس کا دین جھوٹا سمجھتا ہوں ۔ والسلام ۔ تابعدار سلطان محمد بیگ پنشزاز پٹی صلع لاہور پنچاب "

اس کے بعد مولانہ امرتسری نے چند سطور لکھیں جو بڑی دلچسپ ہیں ، انہوں نے تحریر فرمایا :۔

" مرزائی دوستو ! جانتے ہو یہ سلطان محمد کون ہے ؟ یہ وہی ہے جسے بقول آپ کے رسول مرزا صاحب قادیانی کے پہلے 1894ء میں ، پھر مرزا صاحب قادیانی سے قبل مرنا تھا مگر وہ آج تک زندہ ہے مٹھائی کھلاؤ تو جواب بتا دیں ، کہدو کہ دل میں مر چکا ہے " ۔

اس خط کا انکار یا تردید بھی کوئی مرزائی سلطان محمد سے نہ کروا سکا ( اخبار اہل حدیث کی فوٹو کاپی ہمارے پاس موجود ہے ) ہم بھی یہ کہانی مرزا قادیانی کی اس بات پر ختم کرتے ہیں کہ :۔

" جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہوا اس کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی "
( خزائن جلد 5 صفحات 322 تا 323 )

مرزائی خلیفہ اول حکیم نورالدین بھیروی کی عجیب تاویل


قارئین محترم ! یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی نے جس پیشگوئی کو ایسی تقدیر مبرم بتایا تھا جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی وہ پوری نہ ہوئی ، اور یاد رہے کہ مرزا قادیانی کی پیشگوئی مے مطابق محمدی بیگم کا بیوہ ہونا اور پھر مرزا کے نکاح میں آنا مرزا کی زندگی میں ہی ہونا تھا جیسا کہ مرزا غلام قادیانی کی تحریروں میں موجود ہے ، آج کچھ مرزائی کہتے ہیں کہ یہ پیش گوئی جنت میں پوری ہوجائے گی ، لیکن مرزائی خلیفہ اول حکیم نورالدین کی بے بسی ملاخط فرمائیں ۔ جب اللہ کسی کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے تو وہ ہر طرح سے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ، مئی 1908 میں جب دل میں محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کا ارماں لئے مرزا قادیانی اس جہاں سے کوچ کر گیا اور اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگیا تو بجائے اس کے کہ اس پر لعنت بیجھ کر حکیم نورالدین واپس اسلام کی طرف آجاتا لیکن افسوس کہ اس نے ایک نئی منطق بھی پیش کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کی اولاد یا نسل میں سے کسی لڑکے کا نکاح محمدی بیگم کی نسل میں سے کسی لڑکی کے ساتھ کبھی ہوجائے تو یہ پیشگوئی پوری ہوجائے گی ، لکھتا ہے :۔

" اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن مجید پر ایمان لائے اور لاتے ہیں ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھتا ہوں کہ جب مخاطبت میں مخاطب کی اولاد ، مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہوسکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہوسکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات کو حکم البنات نہیں مل سکتا ؟ اور کیا مرزا کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں ۔ میں نے بارہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہوجائے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آوے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آسکتا " ( ریویو آف ریلیجنز ، ماہ جون و جولائی 1908ء صفحہ 279 )

حکیم نورالدین نے بھی شاید آج کل کے مرزائی مربیوں کی طرح مرزا قادیانی کی کتابیں نہیں پڑھی تھیں ، کیونکہ اگر پڑھی ہوتیں تو اسے شہادۃ القرآن خزائن جلد 6 صفحہ 376 پر مرزا کی اس تحریر کا پتہ ہوتا جس میں اس نے اپنی پیشگوئی کے چھ اجزاء گنوائے اور آخری دو جزز یہ لکھے کہ :۔

"(5) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورنے تک فوت نہ ہو (6) اور پھر یہ کہ اس عاجز کے نکاح ہوجاوے "

مرزا نے محمدی بیگم کا اہنی زندگی میں بیوہ ہونا اور پھر اس کے نکاح میں آنا پیشگوئی کا حصہ بتایا تھا اور صاف لکھا تھا کہ ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک وہ فوت نہیں ہوگا ۔


لاہوری جماعت یعنی مولوی محمدی علی لاہور کا اعتراف حقیقت


لاہوری مرزائی جماعت کے بانی اور مرزا قادیانی کے مرید خاص مولوی محمد علی لاہوری نے کسی قدر حقیقت پسندی کا ثبوت دیا لیکن افسوس کہ اپنی آںکھوں اور دل پر پڑے گمراہی کے پردے کو نہ اتار سکا ، لکھتا ہے :۔

" ان میں سب سے بڑی پیشگوئی نکاح والی پیشگوئی ہے میں اس کو اس وقت لیتا ہوں ، یہ سچ ہے کہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ے کہ نہیں ہوا ۔ اس کے متعلق میں یہ کہتا ہوں کہ ایک ہی بات کو لے کر باقی سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں ہے کسی امر کا فیصلہ مجموعی طور پر کرنا چاہئیے ، جب تک سب کو نہ لیا جائے ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے ، صرف ایک پیشگوئی کو لیکر بیٹھ جانا اور باقی پیشگوئیوں کو چھوڑ دینا جن کی صداقت پر ہزاروں گواہیاں موجود ہیں یہ طریق انصاف نہیں " ( اخبار پیغام صلح ، 16 جنوری 1921ء صفحہ 5 )

آپ نے دیکھا کہ مولوی محمد علی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں کہ مرزا جھوٹا ثابت ہوا ، اور کہتا ہے کہ صرف ایک پیشگوئی کے جھوٹے ہونے سے مرزا کی صداقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ( جبکہ حقیقت یہ کہ مرزا کی اکثر وبیشتر تمام پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں ) ، شاید مولوی محمد علی نے مرزا کی وہ تحریر نہیں پڑھی تھی جس میں مرزا نے لکھا تھا:۔

" ظاہر ہے جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا " ( خزائن جلد 23 صفحہ 231 )

اور یوں کہا تھا :۔

" اگر ثابت ہوا کہ میری سو پیشگوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی ہو تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں " ( خزائن جلد 17 صفحہ 461 حاشیہ )

ہم آج بھی جماعت مرزائیہ کو کہتے ہیں کہ وہ مرزائی پاکٹ بک سے باہر نکلیں اور مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں ان شاء اللہ ان پر مرزا کے فریب ، کذب بیانی اور تضاد بیانی روزِ روشن کی طرح واضح ہوجائے گی ۔


 

محمد عثمان غنی

رکن ختم نبوت فورم
ویسے بھی سیرت کے بعد صورت دیکھی جاتی ۔۔۔۔۔۔جناب کے پاس سیرت تو درکنار صورت بھی نہیں تھی۔۔۔:009
کوئی بے وقوف کا بچہ ہی عاشق ہو سکتا ایسے کانے پہ۔۔۔۔۔
 

خادمِ اعلیٰ

رکن عملہ
ناظم
رکن ختم نبوت فورم
پراجیکٹ ممبر
مرزائی کہتے ہیں کہ سلطان محمد کی موت توبہ سے مشروط تھی جیسا کہ یہ الہام ہے " اَیَّتُھَا الْمَرْأةُ تُوْبِیْ تُوْبِیْ "

مرزائی حضرات اول یہ الہام حسب تحریر مرزا صاحب محمدی بیگم کی نانی کے متعلق ہے اور " تُوْبِیْ تُوْبِیْ " صیغہ مؤنث کا بھی گواہی دے رہا ہے کہ یہ کسی عورت کے متعلق ہے اور سلطان محمد شوہر محمدی بیگم مرد تھا عورت نہیں ۔ دیگر یہ کہ محمدی بیگم کی نانی کی توبہ بھی یہی ہونی چائیے تھی کہ وہ اپنی نواسی مرزا جو کو دینے کی سفارشیں کرتیں جیسا کہ مرزا جی کے اپنے الفاظ سے ظاہر ہے کہ وہ باکرہ ہونے کی صورت میں بھی آسکتی ہے اور مرزا صاحب نے اپنی چھوٹی بہو عزت بی بی سے جو خط اس کے باپ مرزا علی شیر بیگ کو لکھوائے اور خود بھی لکھے ان سے ظاہر ہے کہ مرزا جی محمدی بیگم کے کنواری ہونے کی حالت میں بھی نکاح کی کوشش کرتے رہے ۔

پس محمدی بیگم کی نانی نے باوجود اس دھمکی کے کوئی پرواہ نہ کی اور اپنی نواسی مرزا جی خواہش کے خلاف سلطان محمد سے بیاہ دی اور کوئی توبہ نہ کی اور پھر نہ ہی اس کی نواسی محمدی بیگم پر کوئی بلا آئی تو لہذا اس الہام مرزا جی سے بھی سلطان محمد کی موت مشروط نہیں توبہ سے ۔
 
Top