مرزا بشیر الدین محمود جو کہ مرزا قادیانی کا بڑا بیٹا اور مرزائیوں کا دوسرا خلیفہ تھا جس کو قادیانی مصلح موعود بھی کہتے ہیں اپنے دوست عبدالرزاق مہتہ جو کہ مشہور قادیانی اور مرزا غلام قادیانی کے ساتھی بھائی عبدالرحمان قادیانی کا بیٹا تھا کے ساتھ مل کر کئی سال تک اپنی ہی تین سگی بیٹیوں سے زنا کرتا رہا۔ عبدالرزاق مہتہ قادیانیوں میں زیادہ چندہ دینے کی وجہ سے بہت مشہور تھا اور مرزا محمود کا انتہائی قریبی دوست تھا جس کا بلا جھجھک مرزا محمود کے گھر آنا جانا تھا۔ عبدالرزاق مہتہ نے زنا کاری کے دوران مرزا محمود کی بیٹی کے ساتھ زنا کرتے ہوئے کی تصاویر بنا لیں جب مرزا محمود کو ان تصاویر کا علم ہوا تو ان دونں کے درمیان بہت بڑا فساد کھڑا ہوگیا۔ جس کے بعد عبدالرزاق مہتہ نے کراچی کے سیکرٹری امور عامہ احمدیہ کو چٹھی لکھ کر یہ سب حقائق بیان کیے۔ یہ خود بھی بنیادی طور پہ کراچی کا رہنے والا تھا۔ اس کے بعد اس نے یہ ساری تفصیلات مرزائیوں کی روحانی شکارگاہ کے نام سے ایک کتابچے کی شکل میں شائع کردیں۔ زنا کاری کی یہ داستان اور مرزا محمود کی قرآن پاک کی شان میں غلیظ ترین گستاخی اسی کتاب مرزائیوں کی روحانی شکارگاہ کے صفحہ 21۔22۔23۔ پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے
مکمل تفصیلات اس ویڈیو میں ملاحظہ کریں
مکمل تفصیلات اس ویڈیو میں ملاحظہ کریں