{مقدمۃ}
{ فصل اول:قرآن کا وجود ختم نبوت کی دلیل ہے}
{ فصل اول:قرآن کا وجود ختم نبوت کی دلیل ہے}
چونکہ اس کتاب کی تالیف بانی دار العلوم دیوبند حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ (المتوفی۱۲۹۷ھ)کی کتاب پر کام کرنے کی برکت سے ہوئی اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس کتاب کے شروع میںحضرت نانوتویؒ کی ذکرکردہ دلیل کو پیش کیا جائے حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک مکتوب میںفرماتے ہیں۔(!)
’’دوسرے نبیوں کی نبوت حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے فیضیاب ہے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت دنیا میں دوسروں کی نبوت سے فیض یاب نہیں ہے پس جیسا کہ چاند کی چاندنی سورج سے ہے اور آفتاب کا نور کسی اور نور سے نہیں بلکہ اور کسی سے حصول ِ فیض کا معاملہ ہی ختم ہوگیا اسی طرح دوسروںکی نبوت اور نبی آخر الزمان سمجھنا چاہئے جب صورتحال یہ ہو تو پھر کسی اور نبی کا سرور عالم ﷺ کے بعد آناخود بخود ممنوع ہوجاتا ہے اور باقی نہیں رہتا۔جس طرح سورج نکلنے کے بعد نورِ شفق کے ختم ہونے تک چاند اور ستاروں کی روشنی کی ضرورت نہیں پڑتی اسی طرح
ـ
(۱) حضرت کی فارسی عبارت یوں ہے
نبوت دیگراں مستفاد از حضرت محمدی استﷺ ونبوت آنحضرت ﷺ در عالم اسباب مستفاد از نبوت دیگراں نیست پس چناں کہ نورِ قمر از آفتاب است ونورِ آفتاب از نورِ دیگرنیست بلکہ قصہ استفادہ اختتام یافت ہمچنیں نبوت دیگراں ونبوت نبی آخر الزمان را باید شناخت ﷺ وچون این چنیں باشد آمدن نبی دیگران بعد آں سرورعالم ﷺخود ممنوع بود۔ بعد طلوع آفتاب تا غروب نور شفق چناں کہ حاجت نور کواکب ونور قمر نیفتہ ہمچنیں بعد طلوع ایں آفتاب نبوت تا بقاء نور کلام اللہ کہ از فیوض اوست ومشابہ نور شفق است حاجت نور نبوۃ دیگراں نباشد
(قاسم العلوم مترجم ص۵۶)
اس آفتاب نبوت محمدی ﷺ کے طلوع ہونے کے بعد قرآن شریف کے نور باقی رہنے تک کہ آپ کے فیوض میں سے ہے اور نور شفق کے مشابہ ہے دوسروں کی نبوت کے نور کی ضرورت نہیں رہتی ‘‘
(قاسم العلوم مترجم ص۵۶)
حضرت نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی تائید حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے بلکہ یوں کہئے کہ حضرت نانوتوی ؒ کے کلام کا ماخذ حدیث نبوی ہے حضرت امام بخاری ؒ فرماتے ہیں۔
عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ مَا مِنَ الْاَنْبِیَائِ نَبِیٌّ اِلَّا أُعْطِیَ مِنَ الْآیَاتِ مَا مِثْلُہٗ آمَنَ عَلَیْہِ الْبَشَرُ وَاِنَّمَا کَانَ الَّذِی أُوْتِیْتُہٗ وَحْیًا أَوْحَاہُ اللّٰہُ اِلَیَّ فَأَرْجُوْ أَنْ أَکُوْنَ أَکْثَرَھُمْ تَابِعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ
(بخاری مع فتح الباری ج۹ص۳)
’’ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایاجو بھی نبی ہوا اس کو ایسا معجزہ دیا گیا کہ انسان اس پر ایمان لے آئے اور مجھے جو معجزہ دیا گیا وہ تو وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے پیروکار یعنی میری امت سب سے زیادہ ہوگی‘‘۔
حافظ ابن حجر ؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں۔ اَلْمُرَادُ أَنَّ مُعْجِزَاتِ الْاَنْبِیَائِ انْقَرَضَتْ بِانْقِرَاضِ أَعْصَارِھِمْ فَلَمْ یُشَاھِدْھَا اِلَّا مَنْ حَضَرَھَا وَمُعْجِزَۃُ الْقُرْآنِِ مُسْتَمِرَّۃٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ
(بخاری مع فتح الباری ج۹ص۷)
’’ مراد یہ ہے کہ دیگر انبیاء کے معجزات ان کے زمانے کے کے جانے کے ساتھ ختم ہوگئے ان کا مشاہدہ وہی لوگ کرسکے جو اس وقت موجود تھے اور قرآن پاک کا معجزہ قیامت تک باقی ہے‘‘۔