• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

احتسابِ قادیانیت جلدنمبر 14 (توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام )

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( اول دجال بعد میں عیسی ابن مریم آئیں گے)

حدیث نمبر:۲۱…
نوٹ: ہم اس حدیث کا ترجمہ (عسل مصفی قادیانی ج۲ ص۲۸۳) سے نقل کرتے ہیں۔ ’’نعیم بن حماد نے حذیفہ بن الیمانؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول خداﷺ سے پوچھا۔ دجال پہلے ہوگا یا عیسیٰ ابن مریم۔ فرمایا اوّل دجال ہوگا پھر عیسیٰ ابن مریم۔‘‘
(کنزالعمال ج۱۴ ص۵۹۹، حدیث نمبر۳۹۶۸۶، بحوالہ عسل مصفیٰ ج۲ ص۲۸۳)
تصدیق صحت حدیث

قادیانی مولوی خدابخش نے اس حدیث کی صحت کو ببانگ دہل صحیح تسلیم کیا ہے۔
(دیکھو حوالہ بالا)
نتائج:

۱… حذیفہ بن الیمانؓ صحابی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہ صرف نام ہی لے رہا ہے۔ بلکہ ساتھ ہی ابن مریم (مریم کا بیٹا) کہہ کر اس کی تخصیص کر رہا ہے اور رسول خداﷺ بھی اسی طرح مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم میں ہی محصور کر رہے ہیں۔
۲… صحابی اور رسول اﷲﷺ کے مکالمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال اور عیسیٰ ابن مریم دو اشخاص ہوں گے۔ دجال اگر شخص واحد نہ قرار دیا جائے تو رسول اﷲﷺ کی تکذیب لازم آتی ہے۔ کیونکہ آپﷺ نے فرمایا کہ دجال پہلے ہوگا عیسیٰ علیہ السلام سے۔ اگر مرزائیوں کا عقیدہ مان کر انگریزوں کو یا صرف پادریوں کو دجال کہا جائے تو وہ تو اب بھی ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام (مرزاقادیانی) آئے اور مر بھی گئے۔ مگر دجال اسی طرح دندناتا پھرتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ نازل ہونے والا موعود نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے ہیں۔ نہ کہ غلام احمد بیٹے چراغ بی بی کے۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( ابتداء میں (محمدﷺ) درمیان میں خلیفے آکر میں مسیح ؑ )

حدیث نمبر:۲۲…
’’ عن علیؓ قال قال رسول اﷲﷺ ابشروا ثم ابشروا… کیف تہلک امۃ انا اولہا واثنا عشر خلیفۃ من بعدی والمسیح عیسیٰ ابن مریم آخرہا ‘‘
تصدیق

یہ حدیث قادیانی مذہب کی شہرہ آفاق کتاب (عسل مصفی ج۲ ص۵۱۲) پر درج ہوکر مرزاقادیانی سے سند صحت حاصل کر چکی ہے۔
ترجمہ منقول از (عسل مصفی ج۲ ص۵۱۲)
’’رسول اﷲﷺ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ خوش ہو۔ خوش ہو… وہ امت کیونکر ہلاک ہوسکتی ہے کہ جس کی ابتداء میں میں ہوں اور درمیان میں میرے بعد بارہ خلیفے ہوں گے اور سب سے آخری مسیح عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہے۔‘‘
نتائج

رسول کریمﷺ نے ’’ والمسیح‘ ‘ کے بعد اس کی شخصیت کو واضح کرنے کے لئے عیسیٰ کا لفظ بڑھایا۔ پھر قادیانیوں کا ناطقہ بند کرنے کو ابن مریم یعنی مریم کا بیٹا عیسیٰ علیہ السلام فرمایا۔ مگر پھر بھی قادیانی ہیں۔ اس کے بمطابق ’’مان نہ مان میں تیرا مہمان‘‘ کی ایک ہی ہانکے جاتے ہیں۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( شروع میں میں (محمدﷺ)آخر میں عیسیؑ اوردرمیان میں امام مہدی ہوں گے)

حدیث نمبر:۲۳…
’’ عن ابن عباسؓ (مرفوعاً) قال رسول اﷲﷺ لن تہلک امۃ انا فی اولہا وعیسیٰ ابن مریم فی آخرہا والمہدی فی اوسطہا ‘‘
(کنزالعمال ج۱۴ ص۲۶۶، حدیث نمبر۳۸۶۷۱)
حضرت ابن عباسؓ راوی ہیں کہ فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے۔ جس کے شروع میں تو میں ہوں۔ آخر میں عیسیٰ بیٹا مریم کا اور درمیان میں امام مہدی۔
تصدیق

اس حدیث کے صحیح ہونے پر تو ڈبل مہر ثبت ہے۔ قادیانیوں کے دو مسلم مجددوں نے اس کو روایت کیا ہے۔ یعنی امام احمد اور حافظ ابونعیم نے دیکھو فہرست مجددین۔
نتیجہ

ظاہر ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس امت کے خادم کی حیثیت سے آئیں گے اور امت کی فلاح وبہبود کا کام کریں گے نہ کہ کفر کی مشین گن سے بڑے بڑے علماء اسلام اور صوفیائے عظام کو کافر بنادیں گے۔ رسول کریمﷺ تو فرمارہے ہیں۔ ان کی وجہ سے امت ہلاکت سے بچی رہے گی۔ یہاں بھی المسیح کا لفظ نہیں فرمایا۔ بلکہ عیسیٰ اور وہ بھی بیٹا مریم کا بتایا جو عیسیٰ علیہ السلام ہی کا نام ہے اور وہی عیسیٰ رسول الی بنی اسرائیل ہے۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( عیسی ابن مریم میری قبر پر تشریف لائیں گے ، حاکم عادل ہو گا)

حدیث نمبر:۲۴…
’’ عن ابی ہریرہؓ قال قال رسول اﷲﷺ لیہبطن بن مریم حکماً عدلاً واماماً مقسطاً ویسلکن فجا حاجاً ومعتمرا ولیأتین قبری حتی یسلم علی ولاردن علیہ ‘‘
(اخرج الحاکم وصححہ ج۳ ص۴۹۰، حدیث نمبر۴۲۱۸)
حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ فرمایا رسول اﷲﷺ نے کہ البتہ ضرور اترے گا عیسیٰ بیٹا مریم کا۔ حاکم عادل ہوگا اور امام انصاف کرنے والا۔ البتہ ضرور گزرے گا۔ ایک راہ سے حج یا عمرہ کرتا ہوا اور البتہ ضرور میری قبر پر تشریف لائے گا اور مجھے سلام کرے گا اور میں اسے جواب دوں گا۔
تصدیق حدیث

۱… قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ نے بھی اپنی کتاب انتباہ الاذکیا فی حیات انبیاء میں اس حدیث کو درج کیا ہے۔
نیز درمنثور ج۲ میں بھی ذکر کیا ہے۔
۲… پھر راوی اس حدیث کے امام حاکم قادیانیوں کے مسلم مجدد وامام صدی چہارم ہیں۔
نتیجہ

اس حدیث میں رسول کریمﷺ نے قادیانی کا ناطقہ کئی طریقوں سے بند کیا ہے۔
۱… ’’لیہبطن‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس کے معنی ہیں نیچے اترے گا قادیانی اس کے معنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا دکھائیں تو منہ مانگا انعام لیں۔
۲… پھر صرف ابن مریم کا نزول فرمایا۔ ابن چراغ بی بی نہیں۔
۳… منصف حاکم۔
۴… عیسیٰ علیہ السلام کا حاجی ہونا۔
۵… عیسیٰ علیہ السلام کا رسول اﷲ کی قبر پر حاضر ہوکر سلام کہنا اور جواب لینا۔
نوٹ: یہ باتیں مرزاقادیانی میں کہاں ہیں؟ اگر کوئی بھی ہے تو پیش کرو۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے)

حدیث نمبر:۲۵…
’’ عن عائشۃؓ قالت قال رسول اﷲﷺ فینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہ ثم یمکث عیسیٰ علیہ السلام فی الارض اربعین سنۃ اماماً عدلاً وحکماً مقسطاً ‘‘
(مسند احمد ج۶ ص۷۵)
’’حضرت عائشہؓ صدیقہ رسول کریمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا (کہ دجال کے خروج کے بعد) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ پس قتل کریں گے دجال کو۔ پھر بعد اس کے زمین میں رہیں گے چالیس برس امام عادل اور منصف مزاج حاکم کی حیثیت سے۔‘‘
تصدیق الحدیث

اس حدیث کی صحت کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ اس کے راوی امام احمد بن حنبل قادیانیوں کے مسلمہ امام ومجدد صدی دوم ہیں۔ وہ غلط حدیث کو روایت نہیں کر سکتے۔
نتیجہ

۱… ظاہر کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے اور قتل کے بعد زمین میں چالیس سال رہیں گے۔ زمین میں رہنے کی تخصیص بتلارہی ہے کہ اس سے پہلے وہ زمین سے کہیں باہر رہتے ہوں گے۔ ورنہ اگر مرزاقادیانی کی طرح ہی کسی آدمی نے عیسیٰ بن جانا تھا تو زمین میں رہنے کا ذکر فضول ہے۔ (زمین کا مقابل آسمان ہے۔ اس تقابل سے بھی اور لفظ نزول سے بھی ان کا آسمانوں پر رہنا ثابت ہوا)
۲… پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد بادشاہ ہوں گے۔ ورنہ جس آدمی کے پاس طاقت نہیں وہ عادل ومقسط کا عہدہ کیا مرزاقادیانی کی طرح زبانی جمع خرچ سے حاصل کر لے گا۔؟
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( دس علامات کے ظاھر ہونے سے پہلے قیامت نہیں آئے گی)

حدیث نمبر:۲۶…
’’ عن حذیفۃ بن اسیدؓ اشرف علینا۰ رسول اﷲﷺ ونحن نتذاکر الساعۃ قال لا تقوم الساعۃ حتیٰ ترو عشر آیات طلوع الشمس من مغربہا۰ الدخان الدجال یاجوج وماجوج۰ نزول عیسیٰ ابن مریم۰ دجال ‘‘
(رواہ مسلم ج۲ ص۳۹۳، باب اشراط الساعۃ)
’’حذیفہ بن اسیدؓ صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ درآنحالیکہ ہم صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ دس علامتوں سے پہلے قیامت نہیں آسکتی۔ سورج کا مغرب سے نکلنا۔ الدخان، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج، عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور دجال کا خروج کرنا۔ ‘‘ الیٰ اخر الحدیث!
تصدیق
یہ حدیث امام مسلم نے روایت کی ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کون مصدق چاہئے۔ امام مسلم کی احادیث کی صحت کا خود مرزاقادیانی اقرار کر چکے ہیں۔
(ازالہ خورد ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲)
نزول عیسیٰ ابن مریم کی تشریح مطلوب ہو تو ہم ایسے شخص کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ جس کے متعلق مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ چاروں اماموں میں سے ہر لحاظ سے افضل تر تھے اور قرآن اور حدیث کے سمجھنے میں ان کا مرتبہ سب سے بلند تھا۔ یہ بزرگ ہستی امام ابوحنیفہؒ ہیں۔ آپ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔
’’نزول عیسیٰ علیہ السلام من السمائ… حق کائن‘‘
(الفقہ الاکبر ص۸،۹)
’’یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا یقینا حق ہے۔‘‘
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث (زریب بن برتملا وصی کا پہاڑ سے نکل کر گواہی دینا)

حدیث نمبر:۲۷…
ناظرین! سینکڑوں حدیثیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے ثبوت میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مگر ساری احادیث کو لکھ کر ہر ایک کے متعلق بحث درج کرنے سے ایک بہت ہی ضخیم کتاب بن جائے گی۔ لہٰذا صرف اسی قدر پر اکتفا کرتا ہوں۔ ہاں سب احادیث مذکورۃ الصدر کی صحت اور اسلامی تفسیر کے معتبر ہونے پر ایسے شخص کی مہر توثیق ثبت کراتا ہوں کہ قادیانیوں کے لئے ’’نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ کا نقشہ کھچ جائے۔ یہ بزرگ ہستی رئیس المکاشفین حضرت شیخ محی الدین ابن عربی ہیں۔
جن کے متعلق مرزاقادیانی کا ارشاد ہے۔
’’کہ وہ احادیث کے غلط اور صحیح ہونے کا فیصلہ رسول پاکﷺ سے بالمشافہ گفتگو کر کے پوچھ لیا کرتے تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۵۲، خزائن ج۳ ص۱۷۷)
شیخ ابن عربی قدس سرہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب (فتوحات مکیہ ج۱ ص۲۲۳،۲۲۴) کے باب میں ایک حدیث درج کی ہے۔ چونکہ حدیث بہت طویل ہے۔ لہٰذا عربی عبارت کا ترجمہ شمس الہدایہ مصنفہ حضرت مولانا پیر سید مہر علی شاہ صاحبؒ مسند آرائے گولڑہ شریف سے نقل کرتے ہیں۔
’’فرمایا حضرت ابن عمرؓ نے کہ میرے والد عمرؓ بن الخطاب نے سعد بن وقاصؓ کی طرف لکھا کہ نضلہ انصاری کو حلوان عراق کی طرف روانہ کرو۔ تاکہ مال غنیمت حاصل کریں۔ پس روانہ کیا سعد نے نضلہ انصاری کو جماعت مجاہدین کے ساتھ۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر بہت سا مال غنیمت کا حاصل کیا اور ان سب کو لے کر واپس ہوئے تو آفتاب غروب ہونے کے قریب تھا۔ پس نضلہ انصاری نے گھبرا کر ان سب کو پہاڑ کے کنارے ٹھہرایا اور خود کھڑے ہوکر اذان دینی شروع کی۔ جب اﷲ اکبر، اﷲ اکبر کہا تو پہاڑ کے اندر سے ایک مجیب نے جواب دیا کہ اے نضلہ تو نے خدا کی بہت بڑائی کی۔ اسی طرح تمام اذان کا جواب پہاڑ سے اسی مجیب نے دیا۔ جب نضلہ اذان سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے کھڑے ہو کر دریافت کرنا شروع کیا کہ اے صاحب آپ کون ہیں؟ فرشتہ یا جن یا انسان جیسے آپ نے اپنی آواز ہم کو سنائی ہے۔ اسی طرح اپنا آپ ہمیں دکھائیے۔ اس واسطے کہ ہم خدا اور اس کے رسول اﷲﷺ اور نائب رسول عمر بن الخطابؓ کی جماعت ہیں۔ پس پہاڑ پھٹا اور ایک شخص باہر نکل آیا… اور السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ کہا۔ ہم نے جواب دیا اور دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ فرمایا زریب بن برتملا وصی عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ مجھ کو عیسیٰ علیہ السلام نے اس پہاڑ میں ٹھہرایا ہے اور اپنے نزول من السماء تک میری درازی عمر کے لئے دعا فرمائی۔ جب وہ اتریں گے تو خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور بیزار ہوں گے۔ نصاریٰ کے اختراع سے پھر دریافت فرمایا کہ وہ نبی صادق بالفعل کس حال میں ہیں… پھر ہم سے غائب ہوگئے۔ پس نضلہ نے یہ مضمون سعدؓ کی طرف لکھا اور سعد نے حضرت عمرؓ کی طرف۔ پھر حضرت عمرؓ نے سعدؓ کی طرف لکھا کہ تم اپنے ہمرائیوں کو لے کر اس پہاڑ کے پاس اترو۔ جس وقت ان سے ملو تو میرا سلام ان کو پہنچائیو۔ اس واسطے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصی عراق کے پہاڑوں میں اترے ہوئے ہیں۔ پس سعدؓ چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ہمراہ اس پہاڑوں کے قریب اترے… مگر ملاقات نہ ہوئی۔‘‘
(شمس الہدایہ ص۶۰تا۶۲)
تصدیق حدیث

۱… یہ حدیث بیان کر کے حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ اگرچہ ابن ازہر کی وجہ سے اسناد حدیث میں محدثین کے نزدیک کلام ہے۔ مگر اہل کشف کے نزدیک یہ صحیح حدیث ہے۔
۲… مجدد اعظم صدی یازدہم حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی نے بھی اس حدیث کو اپنی کتاب (ازالۃ الخفا مترجم ج۴ ص۹۱تا۹۳، مقصد دوم ص۱۶۷،۱۶۸، الفصل الرابع) میں درج فرمایا ہے۔
نتائج

۱… حدیث کی صحت کے متعلق حضرت شیخ قدس سرہ کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس کے خلاف زبان کھولنا مرزاقادیانی کے قول کے رو سے فسق اور کفر ہے۔
۲… زریب بن برتملا وصی حضرت مسیح علیہ السلام کو اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اس قدر طویل عمر عطا کی کہ وہ اب تک زندہ ہیں۔ گویا زریب بن برتملا بھی دوہزار سال سے زندہ ہیں۔
۳… زریب بن برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ الفاظ فرمائے۔ ’’ ودعالی بطول البقاء الیٰ نزولہ من السمائ ‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے نازل ہونے تک میرے زندہ رہنے کی دعا کی۔
۴… قریباً چار ہزار صحابہ کرامؓ نے زریب بن برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام کا جواب سنا اور گویا اس کی تصدیق کی۔
۵… چار ہزار صحابہؓ کی طرف سے حضرت سعد بن وقاص نے حضرت عمرؓ کو سارا حال لکھ بھیجا اور حضرت عمرؓ نے اس واقعہ کی حدیث نبوی سے تصدیق کر دی اور مزید انکشاف کے لئے حضرت سعدؓ کو خط لکھا۔
۶… کسی صحابیؓ سے انکار کسی کتاب میں مروی نہیں۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
حیات عیسیٰ علیہ السلام از اقوال صحابہؓ

ناظرین! صحابہ کرامؓ کے اقوال کی عظمت کا پتہ لگانا ہوتو مندرجہ ذیل اقوال سے ملاحظہ کیجئے۔
۱… قول مرزا اصول نمبر:۳۔
۲… قول خلیفہ نور الدین قادیانی: ’’صحابہ کے روزانہ برتاؤ اور زندگی ظاہر وباطن میں انوار نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ سب آنحضرتﷺ کی عکسی تصویریں تھیں۔ پس اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ کیا ہوگا۔‘‘
(اخبار بدر قادیان ص۴، مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۴ئ)
۳… قول مرزا: ’’صحابہ کا اجماع وہ چیز ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۲۰۳ حاشیہ، خزائن ج۲۱ ص۳۷۶، بحوالہ خزینہ العرفان ص۴۱۹)
۴… قول مرزا: ’’شرعی حجت صرف صحابہ کا اجماع ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۲۳۴، خزائن ج۲۱ ص۴۱۰)
۵… ’’اجماع کے خلاف عقیدہ رکھنے والے پر خدا کی لعنت اور اس کے فرشتوں کی لعنت۔‘‘
(انجام آتھم ص۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
۶… قول مرزا: ’’اور صحابہ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۴۷، خزائن ج۱۵ ص۴۶۱ حاشیہ)
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
اجماع صحابہ کی شرعی حجت

اجماع کی حقیقت تو یہ ہے کہ علماء محققین کا کسی مسئلہ پر اتفاق ہو۔ لیکن اگر ایک بزرگ نے کوئی مسئلہ بیان کیا ہے۔ اس کے خلاف امت کے کسی محقق کا خلاف منقول نہ ہو تو یہ بھی اجماع ہی کہلاتا ہے۔ اس کو اجماع سکوتی کہتے ہیں۔ جیسا کہ مرزاقادیانی بھی ہماری تائید میں فرماتے ہیں۔
’’اصول فقہ کی رو سے اجماع کی قسموں میں سے ایک سکوتی اجماع بھی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۸۷۴، خزائن ج۳ ص۵۷۶)
ناظرین! صبر کر کے دیکھتے جائیں کہ ہم کس طرح مرزاقادیانی کا ناطقہ بند کرتے ہیں۔ اب اجماع کس طرح ثابت کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا ارشاد ملاحظہ ہو۔
۱… ’’یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔ صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں۔ بھلا اگر ہے تو کم از کم تین سو چار سو صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارہ میں اپنی شہادت دے گئے ہوں۔ ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بددیانتی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۰۳، خزائن ج۳ ص۲۵۴)
۲… ’’ابن صیاد کے دجال ہونے پر صحابہ کا اجماع تھا۔ خداتعالیٰ آپ کے حال پر رحم کرے۔ کیا جو ابن صیاد کے بیان سے… ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ اس کو دجال معہود کہتے تھے۔ کیا اس حدیث میں کوئی صحابی باہر بھی رہا ہے۔ جو اس کو دجال معہود نہیں سمجھتا تھا۔ اس کا ذرا نام تو لو۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ اصول فقہ کی رو سے اجماع کی قسموں میں سے ایک سکوتی اجماع بھی ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر حضرت عمرؓ نے آنحضرتﷺ کے حضور میں قسم کھائی جس پر نہ خود آنجناب نے انکار کیا اور نہ صحابہ حاضرین میں سے کوئی منکر ہوا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۸۷۴، خزائن ج۳ ص۵۷۶)
۳… تمام امت کا اجماع کس طرح ثابت ہوسکتا ہے۔ بالفاظ مرزا سنئے: ’’امام ابن حزم اور امام مالکؒ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا تمام اکابر کا قائل ہونا ہے۔ کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اس کا ذکر ہوتا۔‘‘
(ایام الصلح ص۳۹، خزائن ج۱۴ ص۲۶۹)
ناظرین! مندرجہ بالا تینوں نمبروں کی عبارت کے لفظ لفظ میں جھوٹ اور دجل وفریب کا مظاہرہ کیاگیا ہے۔ میرا کام اس وقت اس کی تردید نہیں بلکہ اس کو اپنی تصدیق میں پیش کرنا مقصود ہے۔ مگر تاہم چند ایک فقروں میں کچھ دلچسپ ریمارکس دینا ضروری سمجھتا ہوں۔
۱… مرزاقادیانی جب ہم سے اجماع کا مطالبہ کرتے ہیں تو تین چار صد صحابہؓ کے نام پوچھتے ہیں۔ ایک آدھ کا نام لے کر اجماع کہنا سخت بددیانتی سمجھتے ہیں۔ مگر دوسرے اور تیسرے دونوں نمبروں میں اسی ’’سخت بددیانتی‘‘ کا خود ارتکاب کر رہے ہیں۔
۲… نمبر:۲ میں اپنی ضرورت کے وقت ’’سکوتی اجماع‘‘ کی قسم بھی بنالی ہے۔ لیکن ہمیں اس کا فائدہ اٹھانا ممنوع قرار دیتے ہیں۔
۳… حضرت عمرؓ کے قسم اٹھانے کا واقعہ لکھ کر رسول اﷲﷺ کی خاموشی ظاہر کرنا مرزاقادیانی کی بددیانتی کا ایک معمولی نمونہ ہے۔ دیکھئے اپنی تردید خود ہی کس عجیب پیرائے میں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’آنحضرتﷺ نے حضرت عمرؓ کو ابن صیاد کے قتل کرنے سے منع فرمایا اور نیز فرمایا کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی اشتباہ ہے۔ اگر یہی دجال معہود ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲۲۵، خزائن ج۳ ص۲۱۲)
باوجود اس کے مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ کسی نے انکار نہیں کیا۔ کس قدر دلاوری اور دیدہ دلیری ہے۔ مزید تحقیق ملاحظہ کریں۔ جو پہلے گزر چکی ہے۔
۴… مرزاقادیانی نے امام مالک اور امام ابن حزم رحمہما اﷲ کو موت عیسیٰ علیہ السلام کا قائل بتا کر دیدہ دلیری اور افتراء پردازی میں کمال کر دیا ہے۔ ہم ان دونوں حضرات کے اقوال آئندہ ذکر کریں گے۔
اب ہم مرزاقادیانی کے مقرر کردہ اصول وشرائط کے مطابق حیات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع صحابہؓ وامت محمدیہﷺ ثابت کرتے ہیں۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
دلیل اجماع (1)

۱… ہم حدیث نمبر:۲۷ کی ذیل میں تین چار ہزار صحابہ مہاجرین وانصار کا اجماع ثابت کر چکے ہیں۔ اس کا دوبارہ مطالعہ کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top