• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

تفسیر البیان از جاوید احمد غامدی پارہ نمبر 1 یونیکوڈ

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
الم : سورۃ البقرة : آیت 117


بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۱۱۷﴾

(تفسیر البیان (الغامدی :

مطلب یہ ہے کہ ایسی بےنیاز ، بےہمہ اور قادر مطلق ہستی کے ساتھ اس بےہودہ عقیدے کا کیا تعلق کہ اس کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
الم : سورۃ البقرة : آیت 118


وَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ لَوۡ لَا یُکَلِّمُنَا اللّٰہُ اَوۡ تَاۡتِیۡنَاۤ اٰیَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِہِمۡ ؕ تَشَابَہَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾
یعنی مشرکین عرب جو صدیوں سے وحی اور کتاب نام کی کسی چیز سے واقف نہ تھے۔ یعنی ہم جو قریش کے سردار ہیں اور اثر و اقتدار میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے کہیں بڑھ کر ہیں تو اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست کیوں بات نہیں کرتا ؟ قریش کے اس مطالبے کا جواب قرآن نے بعض دوسرے مقامات پر دیا ہے ، لیکن یہاں نہیں دیا ۔ اس سے یہ اشارہ کرنا پیش نظر ہے کہ یہ مطالبہ اس قدر احمقانہ ہے کہ اس کے جواب میں خاموشی ہی اس کا جواب ہے۔ سرداران قریش کے پندار سیاست پر ، ظاہر ہے کہ جو ضرب اس خاموشی سے لگ سکتی تھی ، وہ اس مطالبے کے کسی جواب سے نہیں لگ سکتی تھی۔ نشانی سے ان کی مراد کوئی ایسی نشانی تھی جسے دیکھ کر ہر شخص پکار اٹھے کہ اس کا دکھانے والا یقیناً کوئی فرستادہ خداوندی ہی ہوسکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اس رسول کے ساتھ کوئی فرشتہ آسمان سے اترے اور گلی کوچوں میں اس کی منادی کرتا پھرے یا کم سے کم اس کے اشارے پر اس عذاب ہی کا کوئی نمونہ دکھا دیا جائے جس کی وعید وہ شب و روز انھیں سناتا ہے۔ یعنی جس طرح کی نشانی کا تقاضا یہ کر رہے ہیں ، بالکل اسی طرح کی نشانی ان سے پہلی قوموں نے بھی اپنے رسولوں سے طلب کی تھی۔ وہ بھی حق واضح ہوجانے کے بعد محض ہٹ دھرمی کے باعث یہ مطالبہ کر رہے تھے اور یہ بھی حق کو پوری طرح سمجھ لینے کے بعدمحض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ لہٰذا جس طرح کے قفل ان کے دلوں پر تھے ، اسی طرح کے قفل ان کے دلوں پر بھی ہیں۔ یہ اب عذاب دیکھ لینے کے بعد ہی مانیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جو یقین کرنا چاہیں ، ان کے لیے تو تمہاری رسالت کا اثبات اب کسی نشانی اور معجزے کا محتاج نہیں رہا ، اس لیے کہ انفس و آفاق اور تاریخ و آثار سے اس کے دلائل ہم نے ہر پہلو سے کھول کھول کر قرآن میں بیان کردیے ہیں۔
 
آخری تدوین :

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
الم : سورۃ البقرة : آیت 119


اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ۙ وَّ لَا تُسۡئَلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۱۹﴾
یعنی سرکشی اور ہٹ دھرمی کے باعث دوزخ جن کے لیے مقدر ہوچکی ہے۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
الم : سورۃ البقرة : آیت 120


وَ لَنۡ تَرۡضٰی عَنۡکَ الۡیَہُوۡدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ الَّذِیۡ جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۲۰﴾ؔ
یہود و نصاریٰ کے طریقوں کو ان کی خواہشات سے تعبیر اس لیے کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم اور ہدایت آجانے کے بعد کسی دوسرے طریقے پر اصرار درحقیقت اپنی خواہشات ہی کی پیروی ہے۔ یہاں اگرچہ خطاب بظاہر رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے ہے ، لیکن صاف واضح ہے کہ تنبیہ اور عتاب کا رخ یہود و نصاریٰ ہی کی طرف ہے۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
الم : سورۃ البقرة : آیت 121


اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَتۡلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۲۱﴾٪
اس مفہوم کے لیے اصل میں جو الفاظ آئے ہیں، ان میں ’ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ‘، ’ اٰتَیْنٰھُمْ ‘ کی ضمیر منصوب سے حال واقع ہوا ہے اور ’ اُولٰٓیکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ‘ ’ اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ‘ کی خبر ہے۔ پھر اس جملے میں بلاغت کا یہ پہلو بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ یہاں چونکہ ذکر صالحین اہل کتاب کا ہے، اس لیے ’ اوتوا الکتاب ‘ کے بجائے ’ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ ‘ کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ قرآن کے ذوق آشنا اس فرق کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ یہ اس سلسلہ بیان کے آخر میں واضح کردیا ہے کہ جو اس سے پہلے حق کی قدر کرتے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اب بھی انھیں ہی اس کی توفیق عطا فرمائے گا ۔ قرآن سے ہدایت بھی وہی پائیں گے، جنھوں نے توراۃ و انجیل کی تلاوت کا حق ادا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں یہ اللہ کی سنت ہے اور اللہ اپنی سنت کبھی تبدیل نہیں کرتا۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
الم : سورۃ البقرة : آیت 122


یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۲۲﴾
سورة کی پہلی فصل آیت ١٢١ پر ختم ہوئی ۔ یہاں سے دوسری فصل کم و بیش انھی الفاظ سے شروع ہو رہی ہے جو پچھلی فصل کی ابتدا میں ہم دیکھ چکے ہیں۔ یہ اعادہ سورة کے مضمون میں اس وصل و فصل کو بالکل نمایاں کردیتا ہے کہ آیت ٤٠ سے جس بات کی ابتدا ہوئی تھی ، وہ جس طرح یہاں ختم ہوئی ہے ، اسی طرح ایک دوسرے پہلو سے دوبارہ شروع بھی ہوگئی ہے۔ لہٰذا آگے کا مضمون اب پچھلے کسی پیرے سے نہیں ، بلکہ پوری فصل سے متعلق ہے ۔ پچھلی فصل میں ، اگر غور کیجیے تو یہ حقیقت اچھی طرح واضح کردی گئی ہے کہ اہل کتاب، بالخصوص یہود کے لیے دین حق کی طرف آنے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کا یہ زعم ہے کہ وہ ابراہیم ( علیہ السلام ) کی اولاد ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہدایت اور نجات اگر حاصل ہوسکتی ہے تو صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہے کہ آدمی یہود و نصاریٰ میں سے کسی ایک کا دین اختیار کرے۔ اس دوسری فصل میں اہل کتاب کے انھی مزعومات کی تردید کے لیے سیدنا ابراہیم ( علیہ السلام ) اور ان کے فرزندوں کی سرگزشت کا وہ حصہ ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے جس سے ان کی تردید کے ساتھ نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی نبوت اور آپ کی دعوت کی پوری پوری تائید بھی ہو رہی ہے۔ اہل کتاب کے لیے یہ مضمون گویا اتمام حجت کے اسلوب میں اس بات کی دعوت ہے کہ یہودیت اور نصرانیت کے تعصبات کو چھوڑ کر وہ اس دین ابراہیمی کی پیروی کریں جس کی طرف محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اُنھیں بلا رہے ہیں۔ پچھلی فصل کے پورے مضمون کو اس لحاظ سے یہ فصل اس کے نقطہ عروج پر پہنچا دیتی ہے ۔ یعنی دنیا میں جو کچھ فضیلت بھی تمہیں حاصل رہی ہے ، محض اللہ تعالیٰ کی عنایت سے حاصل رہی ہے۔ اس میں نہ تمہارے استحقاق کو کوئی دخل ہے اور نہ تمہاری خاندانی شرافت کو ۔ اس لیے اس کے غرور میں مبتلا ہو کر اس دعوت سے منہ نہ موڑو جو اس وقت تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے۔
یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے اور اس اجمال کی وضاحت ہے جو لفظ نعمت میں موجود ہے۔ فضیلت سے مراد یہاں قوموں پر حق کی شہادت کا وہی منصب ہے جس پر بنی اسرائیل صدیوں سے فائز تھے۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
الم : سورۃ البقرة : آیت 123


وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا تَنۡفَعُہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
یعنی اس دعوت کو قبول کرو اور اس کے معاملے میں اس دن سے ڈرو جس میں تمہیں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ یعنی اس خیال میں نہ رہو کہ تم چونکہ ابراہیم اور اسحاق و یعقوب جیسے انبیاء ( علیہم السلام ) کی اولاد ہو، اس لیے روز قیامت تمہاری نجات کے لیے ان بزرگوں کی نسبت ہی کافی ہے۔ یاد رکھو ، وہاں عمل کے سوا کوئی چیز بھی تمہارے کام نہ آسکے گی۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
الم : سورۃ البقرة : آیت 124


وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾
اصل میں لفظ ’ کَلِمٰت ‘ آیا ہے جو ’ کلمۃ ‘ کی جمع ہے۔ یہ مفرد لفظ کے معنی میں بھی آتا ہے اور پوری بات کے لیے بھی ۔ یہاں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ احکام ہیں جو سیدنا ابراہیم ( علیہ السلام ) کو ایمان و اسلام پر ان کی استقامت کے امتحان کے لیے دیے گئے اور انھوں نے بغیر کسی تردد کے بےچون وچرا ان کی تعمیل کی ۔ مثلاً خاندان اور قوم و وطن سے ہجرت اور دشت غربت میں اکلوتے فرزند کی قربانی۔ اِن احکام کے لیے لفظ ’ کلمۃ ‘ ، اگر غور کیجیے تو نہایت موزوں استعمال ہوا ہے۔ اپنے معنی کے لحاظ سے یہ ایک قسم کے ابہام و اجمال کا حامل ہے۔ سیدنا ابراہیم کو ان کے امتحان کے لیے جو احکام دیے گئے، ان کی نوعیت بھی یہی تھی کہ حکم تو دیا گیا ، لیکن اس کا صلہ اور فلسفہ بیان نہیں کیا گیا ۔ گویا ایک مجمل بات بغیر کسی وضاحت کے سامنے رکھ دی گئی کہ وہ اسے پورا کردیں۔ اصل میں لفظ ’ اِبْتِلاَء ‘ استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی جانچنے اور امتحان کرنے کے ہیں۔ بندوں کی اخلاقی تربیت کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت ہے۔ اسی سے ان کی چھپی ہوئی صلاحیتیں ابھرتی اور پروان چڑھتی ہیں اور اسی سے ان کے کھوٹے اور کھرے کو الگ کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام ) کو جن امتحانوں میں ڈالا، ان میں سے ہر امتحان نہایت کٹھن تھا ۔ وہ ان سب میں پورے اترے ، لیکن بیٹے کی قربانی کا امتحان ان سب سے بڑھ کر تھا ۔ اس میں پورا اترنا تو الگ رہا، اس کا تصور بھی ہماشما کے لیے آسان نہیں ہے۔ تاہم سیدنا ابراہیم اس میں بھی ہر لحاظ سے پورے اترے اور خدا کے حکم پر اپنے سیزدہ سالہ اکلوتے اور محبوب فرزند کو قربانی کے لیے ماتھے کے بل پچھاڑ دیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ابراہیم تو نے تو خواب کو سچ کر دکھایا ۔ یہی موقع تھا جب اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بناؤں گا۔ یہ ایک ہی وعدہ بیک وقت دو وعدوں پر مشتمل ہے : ایک یہ کہ ان کی نسل میں ایسی برکت ہوگی کہ اس کے وسیلے سے ان کی دعوت دنیا کی تمام قوموں تک پہنچے گی ۔ دوسرے یہ کہ اس کے نتیجے میں سیدنا ابراہیم ( علیہ السلام ) ان سب کے امام اور پیشوا قرار پائیں گے۔ بائیبل کی کتاب پیدایش میں اس وعدے کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔” اور خداوند کے فرشتے نے آسمان سے دوبارہ ابراہام کو پکارا اور کہا کہ خداوند فرماتا ہے چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے دریغ نہ رکھا ، اس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند کر دوں گا اور تیری اولاد اپنے دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہوگی اور تیری نسل کے وسیلے سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی ، کیونکہ تو نے میری بات مانی ۔ “ (٢٢: ١٥۔ ١٨) اِس سے مخاطبین کو یہ بتانا مقصود ہے کہ ابراہیم سے تعلق کی بنا پر وہ اگر اپنے آپ کو ایمان و عمل کی ذمہ داری سے سبک دوش سمجھے ہوئے ہیں تو ان کا یہ خیال بالکل غلط ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس دن ابراہیم کو امامت کا یہ منصب دیا تھا ، اسی دن یہ بات بھی ان پر واضح کردی تھی کہ تمہاری ذریت میں سے جو لوگ تمہارے طریقے پر قائم اور میری ہدایت کے پیرو رہیں گے ، اس امامت کے وارث بھی وہی ہوں گے۔ ان میں سے جو میرے ساتھ اپنا عہد توڑ کر شیطان کے راستے پر چل پڑیں گے ، ان کے لیے اس امامت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
الم : سورۃ البقرة : آیت 125


وَ اِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَیۡتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمۡنًا ؕ وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ وَ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡعٰکِفِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۱۲۵﴾
اصل میں لفظ ’ الْبَیْتَ ‘ آیا ہے۔ اس میں لام عہد کا ہے۔ اور اس سے مراد ام القریٰ مکہ کا بیت الحرام ہے۔ بائیبل میں اسے بیت ایل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایل کے معنی عبرانی میں اللہ کے ہیں۔ پیدایش میں ہے۔” اور ابرام اس ملک میں سے گزرتا ہوا مقام سکم میں مورہ (مروہ) کے بلوط تک پہنچا ۔ اس وقت ملک میں کنعانی رہتے تھے۔ تب خداوند نے ابرام کو دکھائی دے کر کہا کہ یہی ملک میں تیری نسل کو دوں گا اور اس نے وہاں خداوند کے لیے جو اسے دکھائی دیا تھا ، ایک قربان گاہ بنائی اور وہاں سے کوچ کر کے اس پہاڑ کی طرف گیا جو بیت ایل کے مشرق میں ہے اور اپنا ڈیرا ایسے لگایا کہ بیت ایل مغرب میں اور عی مشرق میں پڑا اور وہاں اس نے خداوند کے لیے ایک قربان گاہ بنائی اور خداوند سے دعا کی۔ “ (١٢: ٦۔ ٨) امام فراہی نے اپنے رسالہ ” الرأی الصحیح فی من ہو الذبیح “ میں بعض دوسرے اشارات و قرائن سے بھی یہ بات پوری قطعیت سے ثابت کردی ہے کہ ابراہیم نے جو معبد بنایا ، وہ یہی بیت الحرام ہے۔ ذریت ابراہیم کی عبادت اور قربانی کا قبلہ ، عام اس سے کہ وہ بنی اسماعیل ہوں یا بنی اسرائیل ہمیشہ سے ام القریٰ مکہ کا بیت اللہ ہی ہے۔ یہود نے محض تعصب کی وجہ سے اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اصل الفاظ ہیں : ’ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلّٰی ‘۔ یہ اوپر والے جملے ہی کی مزید وضاحت ہے۔ اس کے ساتھ ’ قال ‘ یا اس طرح کا کوئی دوسرا لفظ اسی وجہ سے نہیں آیا۔ پہلے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو ذریت ابراہیم کا قبلہ ٹھیرایا ۔ پھر وضاحت کی ہے کہ اسی فیصلے کو روبہ عمل کرنے کے لیے ابراہیم اور اس کی ذریت کو حکم ہوا کہ ابراہیم کی اس قیام گاہ کے ایک حصے میں نماز کی جگہ بناؤ۔ بیت اللہ کو یہاں ’ مُصَلّٰی ‘ یعنی نماز کی جگہ سے اس لیے تعبیر کیا ہے کہ یہود پر یہ حقیقت واضح کی جائے کہ خدا کا یہ گھر درحقیقت ایک مسجد کی حیثیت سے تعمیر کیا گیا تھا اور اب خدا کا آخری پیغمبر اس کی اسی حیثیت کی تجدید کے لیے مبعوث ہوا ہے۔ اسی طرح مکہ کے لیے ابراہیم کی قیام گاہ کی تعبیر اس لیے اختیار کی گئی ہے کہ یہود نے مروہ کی قربان گاہ اور بیت اللہ سے سیدنا ابراہیم ( علیہ السلام ) کا تعلق بالکل کاٹ دینے کے لیے اپنی کتابوں کے بیانات میں جگہ جگہ تحریفات کردی تھیں۔ قرآن نے یہ لفظ استعمال کر کے انھی تحریفات کی تردید کی ہے۔ امام فراہی نے اپنے اسی رسالہ میں جس کا ذکر اوپر ہوا ہے ، یہود کی ان تحریفات کا پردہ خود انھی کی کتابوں کے دلائل سے بالکل چاک کردیا ہے۔ استاذ امام اپنی تفسیر ” تدبر قرآن “ میں لکھتے ہیں۔” انھوں نے توراۃ ہی کے بیانات سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے وطن سے نکلنے کے بعد حضرت اسحاق کی والدہ کو تو کنعان میں چھوڑا اور خود حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کے ساتھ بیر سبع کے بیابان میں قیام کیا ۔ یہ جگہ ایک غیر آباد جگہ تھی۔ اس وجہ سے انھوں نے یہاں سات کنوئیں کھودے اور درخت لگائے۔ یہیں ان کو خواب میں اکلوتے بیٹے کی قربانی کا حکم صادر ہوا اور وہ حضرت اسماعیل کو لے کر مروہ کی پہاڑی کے پاس آئے اور اس حکم کی تعمیل کی ۔ اسی پہاڑی کے پاس انھوں نے حضرت اسماعیل کو آباد کیا ۔ پھر یہاں سے لوٹ کر وہ بیرسبع گئے اور اپنے قیام کے لیے ایسی جگہ منتخب کی جو خانہ کعبہ کے قریب بھی ہو اور جہاں سے وقتاً فوقتاً حضرت اسحاق کو دیکھنے کے لیے جانا بھی آسانی سے ممکن ہو سکے۔ “ ( ١/ ٣٣٠) اصل میں ’ عَھِدْنَآ اِلآی اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ان میں ’ اَنْ ‘ سے پہلے ’ ب ‘ عربی قاعدے کے مطابق حذف ہوگئی ہے اور ’ عَھِدَ ‘ کے ساتھ ’ اِلٰی ‘ کا صلہ دلیل ہے کہ یہاں یہ ذمہ داری ڈالنے اور پابند کرنے کے معنی میں ہے۔ یعنی غلاظت ، لہو و لعب ، اصنام و اوثان اور اس طرح کی کوئی ظاہری اور باطنی نجاست اس گھر میں نہیں ہونی چاہیے۔ طواف نذر کے پھیرے ہیں جو اپنا جان و مال اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کردینے کی علامت کے طور پر معبد کے اردگرد لگائے جاتے ہیں۔ اس کی ابتدا حجر اسود کے استلام سے ہوتی ہے۔ یہ عہد و میثاق کی علامت ہے۔ اعتکاف روزے کا منتہائے کمال ہے اور ذکر و فکر کے لیے کیا جاتا ہے۔ رکوع و سجود نماز کی تعبیر ہے۔ قرآن کے اس بیان سے واضح ہے کہ یہ دین ابراہیمی کی قدیم عبادات ہیں۔ مسلمان جس طرح اب ان سے واقف ہیں ، قرآن کے مخاطبین بھی اسی طرح ان سے واقف تھے ، قرآن نے ان کا ذکر کسی نئے حکم کے طور پر نہیں ، بلکہ پہلے سے معلوم اور متعارف عبادات کی حیثیت سے کیا ہے۔ لہٰذا ان کا نام ہی اس کے مخاطبین کو ان کا مصداق سمجھانے کے لیے کافی ہے ، اس کے لیے کسی تفصیل اور وضاحت کی ہرگز کوئی ضرورت نہ تھی۔
 

محمد اویس پارس

رکن ختم نبوت فورم
الم : سورۃ البقرة : آیت 126


وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارۡزُقۡ اَہۡلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡہُمۡ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ قَالَ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّہٗۤ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۲۶﴾
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی ذریت کو مکہ میں آباد کیا تو اس وقت یہ شہر نہ صرف یہ کہ تہذیب و تمدن اور آبادی و زرخیزی سے بالکل محروم تھا ، بلکہ وحشی اور خانہ بدوش قبیلوں کی لوٹ مار سے بھی محفوظ نہ تھا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی بناپر یہ دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے اس طرح قبول فرمایا کہ اولاً ، اس سر زمین میں لڑنا بھڑنا اور جنگ وجدال یک قلم ممنوع قرار دیا ۔ ثانیاً ، اس کی طرف سفر کے لیے چار مہینے حرام قرار دیے ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے گردوپیش میں خطرناک سے خطرناک علاقے بھی ان مہینوں میں بالکل پرامن ہوگئے۔ ثالثاً ، اس میں اپنے گھر کو ایسی ہیبت عطا فرمائی کہ اس پر باہر سے اول تو کسی نے حملہ آور ہونے کی جرات ہی نہیں کی ، لیکن اگر کبھی ایسا ہوا تو اس کے باشندوں کی اس طرح مدد کی کہ ان کی معمولی مزاحمت پر آسمان سے ان کے لیے اپنے جنود قاہرہ بھیج کر اس کے دشمنوں کو بالکل پامال کردیا۔ اِس سے پہلے بیان ہوا ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جب امامت کے متعلق پوچھا تھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں یہ صاف جواب دیا گیا تھا کہ یہ منصب تمہاری اولاد میں سے صرف صالحین کے لیے ہے۔ چنانچہ اسی کے پیش نظرتسلیم و رضا کے اس پی کرنے جب رزق کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس میں یہ قید بھی لگا دی کہ میں یہ درخواست صرف اپنی اولاد کے اہل ایمان کے لیے کر رہا ہوں ۔اصل میں ’ مِنَ الثَّمَرٰتِ ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ عربی زبان میں ’ ثمرات ‘ کا لفظ جس طرح پھلوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اسی طرح غلہ ، جنس ، پھل اور اس طرح کی دوسری چیزوں کو شامل کر کے اس سے عام اور وسیع مفہوم میں بھی آتا ہے۔ سیدنا ابراہیم نے یہ دعا چونکہ بدوی زندگی کی بےاطمینانیوں کے مقابلے میں حضری زندگی کے سکون اور اطمینان سے بہرہ مند ہونے کے لیے کی تھی ، اس لیے ہم نے اسے یہاں اس کے اسی وسیع مفہوم میں لیا ہے اور اس کا ترجمہ پھلوں کے بجائے پیداوار کے لفظ سے کیا ہے۔ یہ دعا بھی اس طرح پوری ہوئی کہ حج وعمرہ کی وجہ سے لوگوں کا رجوع اس سر زمین کی طرف بہت بڑھ گیا۔ اس سے تجارت اور کاروبار کو فروغ ہوا ۔ باہر سے ہر قسم کی چیزیں اس شہر کے بازاروں میں پہنچنے لگیں ۔ پھر حرم کی تولیت کے باعث قریش کو ایسی عزت حاصل ہوئی کہ ان کے قافلے بغیر کسی تعرض کے دوسرے ملکوں میں جانے لگے۔ اس سے گلہ بانی اور شکار ہی پر گزر بسر کرنے والوں کی معیشت میں غیر معمولی تبدیلی آئی ۔ چنانچہ ہر طرح کی اجناس اور پھل وغیرہ اس شہر میں فراوانی کے ساتھ میسر ہوگئے۔ سیدنا ابراہیم نے روزی کے لیے ایمان کی جو شرط اپنی دعا میں لگا دی تھی ، یہ اس کے متعلق واضح فرمایا ہے کہ امامت اور معیشت کے معاملات کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ روزی تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ماننے والوں کو بھی دیتا ہے اور نہ ماننے والوں کو بھی ۔ دینی امامت، البتہ صالحین کے لیے خاص ہے اور وہ جن کو بھی حاصل ہوتی ہے ، ہمیشہ ایمان اور عمل صالح کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے۔
 
Top