• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

سابقہ قادیانی و نومسلم محمد نذیر احمد صاحب کا انٹرویو

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
اخلاقی گراوٹ کے شکار قادیانی رہنما

پہلا واقعہ:
دور طالب علمی میں جب جامعہ احمدیہ میں ہمارے ہم جماعت ساتھی ، سعید نے جامعہ کے پرنسپل پر جنسی تشدد کا الزام لگایا تو ہم نے سعید کو جی بھر کے گالیاں دی تھیں ۔ فیلڈ میں آنے کے بعد بھی اس طرح کے کچھ واقعات میرے علم میں آئے لیکن میں انہیں اکادکا لوگوں کا ذاتی فعل سمجھتا رہا۔ تاہم جب میں جماعت کے اعلی حلقوں کے قریب ہوا تو مجھ پر یہ راز کھلا کہ یہاں تو آوے کا آواہی بگڑا ہوا ہے ۔ اخلاقی گراوٹ اور پستی کے ایسے ایسے واقعات سامنے آئے کہ عقل دنگ رہ گئی۔ ظاہری طور پر جو لوگ ہمیں فرشتوں سے بھی افضل نظر آتے تھے، باطنی طور پر وہ ابلیس کو بھی مات دیتے ہوئے دکھائی دیئے ۔مرزا خلیل قمر چناب نگر کی مشہور علمی شخصیت ہیں ۔ قادیانی خواتین کی اصلاح و تربیت کے لیے چھپنے والے جماعت احمدیہ کے رسالے " مصباح" کے ایڈیٹر ہیں۔ ان ککے علم و فضل کے بارے میں ایک بار خلیفہ رابع، مرزا طاہر نے کہا تھا کہ اگر کتابوں سے بھرے ہوئے پانچ سو ٹرک ایک طرف ہوں اور دوسری طرف مرزا خلیل قمر ہوں تو مرزا خلیل قمر کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ "انصاراللہ" کی تاریخ بھی انہی صاحب نے لکھی ۔ لیکن اس عالم فاضل شخص کا اپنا کردار یہ ہے کہ اخلاقی بے راہروی موصوف کا من پسند مشغلہ ہے ۔ اسی عادت بد کے ہاتھوں ایک دفعہ بہت برے پھنسے بھی تھے۔ یہ 2007ء کی بات ہے کہ انہوں نے ایک لڑکے سے زیادتی کی۔ متاثرہ لڑکے کے اہل خانہ پولیس کے پاس پہنچ گئے۔ مرزا خلیل صاحب نے جب بات بگڑتی دیکھی تو متاثرہ فریق کو ایک لاکھ پینسٹھ (65) ہزار روپے دے کر راضی نامہ کرلیا ۔ ان میں سے 65 ہزار روپے الائیڈ بینک چناب نگر برانچ کے اکاؤنٹ سے ٹرانسفر کئے گئے اور بقی رقم نقد ادا کی گئی۔ راضی نامے کا اسٹامپ پیپر دو گواہوں کے روبرو لکھا گیا جو اب بھی محفوظ پڑا ہے۔ اگر مرزا خلیل قمر پسند فرمائیں تو وہ ان کی خدمت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔
دوسرا واقعہ:
محمد بخش صادق جماعت احمدیہ کے سابق امیر اعلی پاکستان ہیں۔ ان کے پاس جماعت کی کئی ذمہ داریاں ہیں۔ ناظم وقف جدید ، ناظم تحریک جدید، ناظم خدمت درویشاں کے علاوہ جماعت احمدیہ کینیڈا کے امیر بھی رہے ہیں۔نوجوان لڑکیوں سے اپنی ٹانگیں دبوانا، نوعمر لڑکوں سے زیادتی اور جماعتی اثاثوں کا بے دریغ ناجائز استعمال ان کے خاص شوق ہیں۔ سابق مینیجر یو بی ایل نسیم سیفی گزشتہ بیس سال سے چناب نگر کے محلہ دارالرحمت غربی کے صدر ہیں۔ وہ مالی تعاون کے بدلے غریب خواتین کے استحصال کا کوئی موقعہ ضائع جانے نہیں دیتے۔
تیسرا واقعہ:
سید مبارک شاہ بھی جماعت کے بڑے بااثر اور مرکزی مبلغ ہیں۔ یہ سندھ میں میرے پیشرو تھے۔ جب میری وہاں پوسٹنگ ہوئی تو میں نے انہی سے چارج لیا تھا۔ جماعت کے اندرونی حلقوں میں موصوف کو کرپشن کا بادشاہ اور جعلی بیعت کرانے کا ماہر سمجھا جاتا ہے ۔ جھنگ کے رہائشی ڈاکٹر اللہ بخش صادق آج کل چناب نگر کی کالونی "بیتُ الحمد" میں رہتے ہیں۔ اندرون سندھ اپنی تعیناتی کے دوران انہوں نے کئی ہندو لڑکیوں کی عزت لوٹی۔
چوتھا واقعہ:
احسان اللہ چیمہ جماعت احمدیہ صوبہ سندھ کے ناظم ہیں ۔ خالد محمود سندھو ایک سپیشلسٹ مربی ہیں ۔ جنہوں نے جامعہ احمدیہ چناب نگر سے سات سالہ "شاہد" کورس کیا ہوا ہے ۔ خالد سندھو اور احسان چیمہ جامعہ میں کلاس فیلو اور گہرے دوست تھے۔ احسان چیمہ کی جب منگی ہوئی تو وہ اپنی منگیتر سے ملنے کبھی کبھی اپنے سسرال جایا کرتے ، تو خالد سندھو بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے ۔ یہ دونوں بھی پرلے درجے کے بدقماش ہیں ۔
پانچواں واقعہ:
اس طرح کے جب کئی واقعات جب میرے علم میں آئے تو میرے دل میں قائم تقدیس ، تکریم اور عقیدت کا تاج محل مسمار ہونے لگا۔ لیکن مولوی محمد دین کے بارے میں انکشافات اندھی عقیدت کے اس تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ مولوی محمد دین جماعت احمدیہ کے خلیفہ رابع مرزا ظاہر کے استاد ہیں۔ یہ بھی ایک عادت بد میں مبتلاء ہیں ۔ ان سے "مستفید" ہونے والوں میں احسن گوندل ، افتخال شاکر، عبدالحفیظ، نوید اور محسن گلو کا نام زیادہ آتا ہے۔
ان کاموں کی وجہ سے جماعت کو لکھا گیا خط اور اس پر جماعت کا جواب

میں اس ساری صورت حال سے اس قدر بددل ہوا کہ میں 2003ء میں ان تمام واقعات کے تذکرے پر مبنی آٹھ صفحات پر مشتمل ایک خط اس وقت کے امیر جماعت احمدیہ ، مرزا خورشید کو بذریعہ ٹی سی ایس ارسال کیا۔ لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ پندرہ یوم تک جواب کا انتظار کرنے کے بعد میں نے ان سے فون پر رابطہ کیا اور اپنے خط کے بارے میں پوچھا کہ کیا ان افراد کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی؟ تو انہوں نے جوابا کہا کہ "آپ پاگل انسان ہو ، اس لیے آپ کے خط پر کسی قسم کا عمل نہیں ہو سکتا" امیر جماعت کا یہ جواب سننے کے بعد میں نے جماعت سے علیحدگی کے لیے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کرنا شروع کر دیا۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
میری بیماری اور اللہ کی رحمت

مجھے بچپن سے ہی سکن الرجی تھی۔ جسم پرخارش کی وجہ سے میں ہر وقت پریشان رہتا تھا۔ بہت علاج کروایا۔ بڑی مہنگی دوائیں اور کریمیں استعمال کیں لیکن کوئی فرق نہ پڑا۔ اسلامیہ ہائی سکول جھنگ میں ہمارے ایک استاد ماسٹر عبدالحق صاحب ہواکرتےتھے۔ جو ہمیں دسویں جماعت میں پڑھایا کرتے تھے۔ متقی مسلمان ہیں اور ماشااللہ ابھی بھی بقیدحیات ہیں ۔ مجھے ان سے بہت انسیت ہے ۔ میں جب بھی جھنگ جاتا تو ان کی خدمت میں ضرور حاضری دیتا۔ وہ میرے خاندانی و مذہبی پس منظر سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود میرے ساتھ بے حد محبت کرتے ہیں ۔ جن دنوں میں جماعت سے علیحدگی کے بارے میں سوچ رہا تھا تو ایک روز ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دوران گفتگو میں نے اپنی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے ان سے دعا کے لیے درکواست کی تو فرمانے لگے کہ "میں تمہارے لیے دعاتوضرور کروں گا۔ لیکن تم ایک کام کرو ۔ چالیس روز تک روزانہ ہر رات اپنی عبادت گاہ میں کچھ وقت اللہ کی یاد میں گزارا کرو اور اس دوران اللہ سے التجا کیا کرو کہ اے میرے رب ! اگر توں سے مجھے اس بیماری سے شفاء دے دی تو میں مرتے دم تک تیرا فرماں بردار بن کر رہوں گا۔ میں نے ماسٹر صاحب کی اس ہدایت پر عمل شروع کر دیا۔ ان دنوں میں میں ذہنی طور پر پریشان ہونے کی وجہ سے ویسے بھی تنہائی کی تلاش میں رہتا تھا۔ ماسٹر صاحب کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے تیس روز گزر چکےتھے اس رات میں منڈی بہاؤالدین کے موضع "رجوعہ" میں ایک دوست کے پاس ٹھہرا ہوا تھا ۔ حسب معمول رات کے وقت عبادت گاہ میں بیٹھا تھا کہ بیٹھے بیٹھے میری آنکھ لگ گئی ۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے کوڑھ ہو گیا ہے ۔ میرا سارا جسم گل سڑ رہا ہے ۔ اور اپنی اس حالت کی وجہ سے میں زاروقطار رورہا ہوں اتنے میں خواب میں ہی مجھے ایک انتہائی پورنور باریش چہرہ نظر آیا ۔ ایسا حسین و جمیل چہرہ میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ اس شخصیت نے مجھ سے پوچھا کہ آپ رو کیوں رہے ہو ۔ میں نے روتے ہوئے جوابا عرض کیا کہ میری جو حالت ہے کیا یہ ہنسنے کے قابل ہے؟؟ میرا جواب سن کر اس چہرے پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ جگمگائی اور پھر انہوں نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا ۔ پھر مجھے کہا کہ تمہاری بیماری ختم ہو جائے گی آئندہ کوئی دوائی استعمال نہ کرنا ۔ اور اب فرماں بردار ہو جاؤ اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی ۔ اور میرے دل میں پہلا خیال یہ آیا کہ اب مجھے تائب ہو جانا چاہیے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ دن اور آج کا دن مجھے دوبارہ کبھی بھی خارش کی تکلیف نہیں ہوئی۔ میں نے تمام دوائیاں اور کریمیں پھینک دیں اب کبھی سکن الرجی کیلئے دوا استعمال نہیں کی یہ 2006ء کی بات ہے۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
جماعت میں اعلی سطح پر میری کارکردگی

جب جماعت کے کچھ سرکردہ لوگوں کی اخلاقیت سے گری ہوئی حرکتوں کے متعلق میرے خط کے جواب میں امیر جماعت احمدیہ پاکستان مرزا خورشید نے مجھے پاگل قرار دیا تو یہ بات میرے لیے کسی شاک سے کم نہ تھی۔ میں کئی روز تک اس صدمے سے باہر نہ نکل سکا کیونکہ اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے میں جماعت کے اعلی ترین حلقوں میں بے حد پسند کیاجاتا تھا۔ مجھ پر جماعتی قیادت کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ سابق وزیراعلی پنجاب میاں منظوروٹو کے والد نے فضل عمر ہسپتال چناب نگر میں جب زندگی کی آخری سانس لی تو اس وقت ان کا سر میری گود میں تھا کیونکہ وہ جتنے دن ہسپتال میں زیر علاج رہے ان کی دیکھ بھال اور خدمت کےلیے جماعت نے مجھے ان کے ساتھ متعین کیے رکھا۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر جب ابھی گورنر نہیں بنے تھے اس وقت بھی جماعت کے اعلی سطحی وفود کے متعلق درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے اکثر ان سے ملاقاتیں کیا کرتے ۔ اورسلمان تاثیر ان مسائل کے حل کے لیے جماعت کی ہرطرح سے معاونیت کا کرتے تھے۔ اس طرح کے کئی وفود میں میں بھی شامل رہا۔ اور مجھے متعدد بار سلمان تاثیر سے ملاقات اور ان کے ساتھ کھانا کھانے کا موقع ملا۔ لیکن آج جب میں نے کچھ لوگوں کی اخلاقی گراوٹ کی طرف انگلی اٹھائی تو جماعتی قیادت کی نظر میں پاگل ٹھہرا۔ اس صورت حال کی وجہ سےاپنے کام سے میرا دل اچاٹ ہو گیا۔ اورمیں خود کو جماعت چھوڑنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے لگا۔ اس بات کا تو مجھے بھی یقین تھا کہ اگر جماعت کا امیر ہی میری بات پر توجہ نہیں دے رہا تو ایک عام قادیانی میری بات پر کیسے یقین کرے گا۔ اس لیےمیں نے مربی کی ذمہ داری سے جان چھڑانے کے لیے بھی سوچ بچار شروع کر دی ۔ اس سلسلے میں پہلا قدم یہ اٹھایا کہ جماعت سے تین سال کے لیے رخصت مانگی جو without pay کی شرط کے ساتھ منظور کر لی گئی ۔ چُھٹی منظور ہوتے ہی میں نجی دورے پر ملائیشیاء چلا گیا۔ اور پھر 2003ء سے 2005ء تک میں ملائیشیاء ، سنگاپور، تھائی لینڈ اور سری لنکا میں رہا ۔ اس دوران زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے مختلف مزدوریاں بھی کیں ۔ اصولا بیرون ملک سے واپسی کے بعد مجھے دوبارہ مربی کی ڈیوٹی جوائن کرنی چاہیے تھی ۔ لیکن میں چونکہ یہ کام چھوڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا اس لیے اپنی ڈیوٹی پر واپس جانے کی بجائے نوکری کی تلاش شروع کر دی ۔ چند روز بعد ہی مجھے ہومیوپیتھک ادوایات کی ڈسٹری بیوشن کمپنی "کیوریٹو ہومیوپیتھک" میں جاب مل گئی۔
جس کے مالک موجودہ ناظر امور عامہ سلیم الدین کے رادرنسبتی راجہ رشید احمدرشدی ہیں ۔ یہ صاحب اپنے آپ کو رشدی کہلواکر بہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔ میں نے یہاں کام شروع کر دیا اور دوسری طرف جماعت نے ڈیوٹی پر واپس پہنچنے کا تقاضاشروع کر دیا۔ اس سلسلے میں مجھے جماعت کی طرف سے تنبیہہ بھی کی گئی اور بطور مربی کام کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ لیکن جب میری طرف سے کوئی مثبت جواب جماعت کو نہ ملا تو جماعت نے مجھے مربی کی ذمہ داری سے فارغ کرتے ہوئے تمام میڈیکل کارڈرز، پاسپورٹ اور دیگر ضروری کاغذات مجھ سے واپس لے لئے گئے۔ اس کے ساتھ ہی "کیوریٹوہومیوپیتھک" کی نوکری سے بھی مجھے فارغ کر دیا گیا۔ اب حالت یہ ہو گئی کہ نئی نکورلینڈکروزر پر گھومنے والا نذیر احمد اپنا گھر چلانے کے لیے رکشہ چلانے پر مجبور ہو گیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ سوچ سوچ کر خوش ہوتا رہا کہ میں تو جماعت اور مربی کی ذمہ داری سےالگ ہونے کے بہانے ڈھونڈرہاتھا۔ چلو اچھا ہوا کہ جماعت نے خود ہی میری جان چھوڑ دی۔ لیکن یہ میری خوش فہمی تھی۔ کیونکہ جماعت احمدیہ تو قیادت سے اختلاف رائے کی جرات کرنے والے کسی عام قادیانی کو معاف نہیں کرتی یہاں تو لاکھوں روپے صرف کر کے تیار کیا جانے والاایک مربی جماعت سے بغاوت کی جرات کر رہا تھا۔ جماعت اسے ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کر لیتی۔
چونکہ میں کاروباری ذہن کا مالک ہوں ، اس لیے چند روز ادھر ادھر چھوٹی موٹی مزدوری کرنے کےبعد میں نے کوئی کاروبار کرنے کا سوچا۔ اب میں ایسا کاروبار تو کر نہیں سکتا تھا کہ جس کے لیےبھاری سرمایا انویسٹ کرنا پڑے کہ سرمایا کہاں سے لاتا۔ البتہ بات کرنے کا سلیقہ بھی تھا اور خوش اخلاقی کا دس سالہ تجربہ بھی تھا، میں نےان دونوں صلاحیتوں سے کام کرنے کا فیصلہ کیا اور چنیوٹ میں بطور مڈل مین گنے کی ٹھیکیداری شروع کر دی۔ اللہ نے برکت دی اور میرا کام چل نکلا۔ اسی دوران میرے اندر ایک اور تبدیلی بھی آئی۔ اگرچہ میں سکن الرجی سے شفایابی والا خواب دیکھنے کے بعد دل سے اسلام کی حقانیت پر ایمان لا چکا تھا۔ لیکن ابھی علی الاعلان قادیانیت سے تائب نہیں ہوا تھا۔ البتہ جماعت سے میں نے عملا علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔ چناب نگر میں رہتے ہوئے بھی نہ تو میں جماعت کی مذہبی تقریبات میں شرکت کرتا اور نہ ہی جماعت کو چندہ دیتا۔ علاقے کے مسلمانوں کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا زیادہ ہو گیا۔ بلکہ میں اکثر ان کی مسجد میں بھی چلا جاتا۔ جماعت میری سرگرمیوں کو دیکھ رہی تھی۔ جس کا پتہ مجھے ایسے چلا کہ جب ایک روز مجھے صدر دفتر عمومی طلب کر کے کہا گیا کہ "آپ کی حرکات ٹھیک نہیں ہیں۔ آپ اس پر توجہ دیں ورنہ آپ کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں"۔ میں نے اس دھمکی کا جواب اس طرح دیا کہ چناب نگر والا گھر چھوڑ کر قریبی پہاڑی کے دامن میں سرکاری اراضی ایک کچا کمرہ بنایا اور بیوی کےہمراہ وہاں رہنے لگا۔ اور پوری توجہ اپنے کاروبار پر مرکوز کر دی۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
بیٹی کے اغواء سے لگنے والے الزام تک

وہ 7 جنوری 2007ء کی صبح تھی ۔ گھڑی غالبا 7 بج کر 40 منٹ بجا رہی تھی۔ میں اپنی چھ سالہ بیٹی عروسہ نذیر کو راجیکی روڑ پر واقع اس کے سکول "ٹونکل سٹار اکیڈمی" میں چھوڑنے کے لیے گھر سے نکلا ہم باپ بیٹی موٹرسائیکل پر جا رہے تھے ۔ جب راجیکی روڑ پر چڑھے تو پیچھے سے آنے والی ایک 86 ماڈل کرولا کار میں سے کسی نے آواز دی "ٹھیکیدار صاحب ذرارکنا"۔ میں یہ سمجھا کہ شاید کوئی مقامی زمیندار ہے ۔ جو گنے کی فصل کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے ۔ اس لیے موٹر سائیکل روک لی ۔ میرے رکتے ہی کار میں سے تین نامعلوم مسلح افراد نکلے۔ انہوں نے مجھ سے میری بیٹی اور موٹرسائیکل چھینی ، میری جیب میں موجود تین ہزار روپے نکالے اور چلتے بنے۔ میں نے تھانہ چناب نگر اطلاع دی تو پولیس نے بچی کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کر دیں ۔ چند روز گزر گئے مگر بچی نہ مل سکی ۔ اسی دوران نامعلوم نمبرز سے مجھے کالیں آنے لگیں ۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ کال اس وقت آتی جب میں تھانے آتا ۔ تھانے سے باہر نکلتے ہی میرا موبائل فون بجنے لگتا ۔ اور کسی نامعلوم نمبر سے کال کرنے والا شخص مجھے کہتا ، "تھانے سے ہو آئے ہو، اچھی بات ہے لیکن اس طرح تمہیں تمہاری بیٹی مل جائے گی؟؟۔ تم نے بہت کاروبار کر لیا ہے۔ اب اگر اپنی بیٹی کو زندہ دیکھنا چاہتے ہو تو اس میں سے ہمارا بھی کچھ حصہ نکالو " ۔ وہ لوگ چند روز تک اسی طرح میرے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہے ۔ اور پھر ایک روز انہوں نے مجھ سے بیٹی کے بدلے پچاس لاکھ روپے تاوان مانگ لیا۔ میرے منت سماجت کرنے پر بیس لاکھ روپے میں معاملہ طے ہوا۔ لیکن میرے لیے یہ بھی بہت بڑی رقم تھی۔ میں اتنے پیسے کہاں سے لاتا؟ چونکہ گنے کا سیزن چل رہا تھا۔ کئی زمینداروں کے بل میرے پاس پڑے تھے۔ میں نے انہیں منت سماجت کر کے اس بات پر راضی کیا کہ اگر وہ مجھے اپنی رقم استعمال کرنے کی اجازت دے تو انہیں میں چند روز ٹھر کر آدائیگی کر دوں گا۔ کچھ قریبی دوستوں سے ادھار پیسے پکڑے اور اسی طرح کر کرا کے بیس لاکھ روپے جمع کیے ۔ اغواء کاروں نے تاوان کی ادائیگی کے لیے مجھے رات ایک بجے فیصل آباد کے علاقے ستیانہ بنگلہ میں جھامرہ روڈ پر واقع چک نمبر 238 گ ب شیر کا ، کے قریب سے گزرنے والی نہر کے پل پر بلایا۔ تاوان وصول کرنے کے بعد انہوں نے مجھے کہا کہ اگلے روز دوپہر کے وقت چناب نگر ریلوے سٹیشن پر آنے والی ایک ٹرین کے ڈبے سے مجھےمیری بیٹی مل جائےگی اور اگلے روز ایسا ہی ہوا اور مجھے میری بیٹی مل گئی۔ بچی بازیاب ہوتے ہی چناب نگر کی پولیس حرکت میں آئی اور مجھےمیرے گھر سے اٹھا کر تھانہ چناب نگر کےحوالات میں بند کر دیا۔ مجھ پر میری ہی بیٹی کو اغواء کرانے کا الزام تھا۔ اس روز پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ جماعت نے مجھے سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور اب آزمائش کا دور شروع ہونے والا ہے۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قادیانی رہنماؤں کی ایماء پر تھانے میں بدترین تشدد

بیٹی کی بازیابی کے بعد اگلے تین روز تک مجھے دفتر عمومی بلوایا جاتا رہا۔ جہاں دفتر عمومی کا کارخاص ناصر بلوچ مجھے یہ دھمکی آمیز پیغام دیتا کہ آخری بار کہہ رہا ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ تم سدھر جاؤ ۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی تین روزہ نصیحت کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا تو اگلے ہی روز مجھے اپنے گھر سے اٹھا کر تھانہ چناب نگر کے حوالات میں پہنچادیا گیا۔ ساری شام اسی اُڈھیر بن میں گزری کہ مجھے کس الزام کے تحت یہاں لایا گیا ہے ۔ جب گھڑی نے رات کے گیارہ بجائے تو ایک اہلکار نے مجھے حوالات سے نکال کر تھانے کے ایک الگ کمرے میں لے گیا۔ کمرے میں قدم رکھتے ہی میں نے دیکھا کہ صدر دفتر عمومی اللہ بخش صادق، قادیانی نواز ڈی ایس پی سعید اختر قتلہ ، مقامی ایس ایچ اور یاسر پنسوتہ ، چوکی انچارج چوہدری اصغر، صدر محلہ باب الابواب نذیراحمد شیشے والا اور ناصر بلوچ سامنے ہی ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ ان لوگوں نے مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ میں تحریری طور پر یہ الزام قبول کروں کہ میری بیٹی کا اغوا ایک خودساختہ ڈرامہ تھا اور میں نے اسے خود اغواکرایاتھا۔ میں نے یہ سب لکھکر دینے سے انکار کر دیا۔ میراانکار سنتے ہی میرے اردگرد کھڑے پولیس اہلکار مجھ پر پل پڑے۔ انہوں نے مجھے مکمل طور پر برہنہ کرنے کے بعد الٹالٹایا اور چھترول شروع کر دی۔ ایک اہلکار باآواز بلند گنتی کررہاتھا۔ اور باقی مجھے ماررہے تھے۔ انہوں نے گن کر مجھے 100 لِتر مارے۔ 40 کے بعد میں درد اور تکلیف سے قدرے بے نیاز ہوگیا۔ گنتی پوری ہونےکے بعد انہوں نے مجھے ڈنڈاڈولی کرتے ہوئے اٹھایا اور لاکرحوالات میں پھینک دیا۔ میری حالت دیکھ کر وہاں بند دیگر حوالات بھی سہم گئے۔ ہمارے علاقے کا نامی گرامی چور "یاروموچی" بھی اس وقت حوالات میں بند تھا۔ اس نے میراسارا جسم دبایا، سنتری سے کہہ سن کر تھوڑاسا تیل منگوایا اور مجھے مالش کی۔ دوڈھائی گھنٹے بعد میرے حواس بحال ہوئے ااور میں اٹھ کر بیٹھنے کے قابل ہوا۔ لیکن یہ توابھی ابتداء تھی۔ مجھے چار روز تک حوالات میں بند رکھاگیا۔ اس دوران پولیس نے مجھ پر تشدد کا ہرہرحربہ آزمایا۔ وہ بار بار مجھے منجی (چارپائی) پر چڑھاتے تھے۔ چارپائی الٹی کر کے وہ میرے ہاتھ پاؤں چاروں پایوں کے ساتھ باندھ کر چارپائی سیدھی کر دیتے ۔ ہاتھ پاؤں بندھے ہونے کی وجہ سے سارازور میرے جسم پر پڑتا تو مجھے ایسے لگتا کہ میرے جسم کا ایک ایک جوڑ الگ ہو رہا ہے ۔ یہ اس قدر تکلیف دہ عمل تھا کہ میں چند منٹ ہی برداشت کر پاتا۔ ان چوردنوں میں بار بار میرے جسم کو سگریٹوں سے جلایاجاتارہا۔ لوہے کے سریے کو گرم کر کے میری پنڈلیوں کو داغاجاتا جس کے نشان ابھی تک موجود ہیں۔ میری رانوں پر رولر پھیراجاتا جس کے باعث میری چیخوں سے سارا تھانہ گونج اٹھتا۔ لیکن مجھ پر تشدد کرنے والے میری چیخ و پکار سے محظوظ ہوتے اور ان کا ایک ہی مطالبہ ہوتاکہ میں اپنی جاں بخشی چاہتا ہوں تو انہیں لکھ کر دوں کہ اپنی بیٹی کا اغوا کا ذمہ دار میں خود ہوں ۔ لیکن اس قدر مار کھانے کے بعد بھی میں یہ الزام قبول نہ کر سکا۔ یاروموچی مجھے کہتا تھا کہ "پولیس کے تشددکو سب سے زیادہ چور برداشت کرتا ہے ، کیونکہ وہ مارکھانے کاعادی ہوتا ہے۔ لیکن جتنا تشدد تم پر ہوا ہے، اگر مجھ پر ہوتا تو شاید میں بھی برداشت نہ کر پاتا"۔ دراصل یاروموچی اصل بات سے واقت نہیں تھا کہ مجھ پر یہ تشدد کیوں ہورہا تھا۔ بیٹی کے اغوا کا الزام تو محض ایک بہانا تھا۔ اصل جرم تو جماعت احمدیہ سے میری بغاوت تھی۔ میں چونکہ اصل معاملے سےبخوبی واقف تھا۔ اسی لئے پولیس کا ہر ستم میرا حوصلہ بڑھاتا رہا۔ اور میں اپنے مؤقف میں مزید پختہ ہوتا چلا گیا۔ جماعت احمدیہ کے خلاف میرے دل میں نفرت بڑھتی چلی گئی۔ اس دوران میری تذلیل کا ایک خوب انتظام کیا گیا ۔ چناب نگر کے مختلف گھرانوں کے لوگ اپنے بچوں سمیت تھانہ چناب نگر آتے، مجھے حوالات میں بے یارومددگار پڑادیکھ کر ہنستے مسکراتے ، مجھ پر آوازیں کستے ، میراتمسخر اڑاتے اور مجھ پر باقاعدہ لعنت بھیج کر واپس چلے جاتے۔ کچھ "خیرخواہ" مجھے واپس لوٹ آنے اور ایک اطاعت گزار احمدی بن کر زندگی گزارنے کا "مشورہ" بھی دیتے۔ یہ ساری صوتحال میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھی کیونکہ میراتعلق ایک انتہائی بااثر قادیانی گھرانےسے تھا۔ میرے گھرانے کے اثرورسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1988ء میں میرے بڑے بھائی محمدرفیع کی جھنگ میں جوتوں کی دکان ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے جوتے رکھنے والے شو کیس کے باہر شیشے پر کلمہ طیبہ کا سٹیکر لگارکھا تھا۔ چونکہ امتناع قادیانیت آرڈینینس 1984ء کے تحت یہ قانونا جرم ہے ۔ اس لئے کسی مقامی مسلمان کی شکایت پر ایک مجسٹریٹ نے ہماری دکان پر چھاپا مارا۔ اس "گستاخی" پر میرے بڑے بھائی نے اس مجسٹریٹ کو بھرے بازار میں تھپڑ مارے تھے۔ پولیس بھائی کو تھانے لے گئی ۔ ڈاکٹر عبدالسلام ان دنوں برطانیہ میں تھے۔ گھروالوں نے ان سے رابطہ کیا ۔ انہوں نے وہاں سے ایس پی جھنگ کو فون کیا اور آدھے گھنٹے بعد پولیس میرے بھائیکو عزت و احترام کے ساتھ گھر چھوڑ گئی۔ اس گھرانے کا ایک چشم و چراغ آج بے بسی کے عالم میں تھانہ چناب نگر کی حوالات میں پڑاتھا۔ اپنی اس بے بسی پر اگرچہ میری آنکھیں بھیگ جاتیں ۔ لیکن یہ سوچ کر دل کو اک گویہ اطمینان بھی ہوتا کہ مجھ پر ہونے والے اس ظلم و تشدد کی وجہ سے میرا کسی اخلاقی جرم میں مبتلا ہونا نہیں ہے ۔ بلکہ مجھے جماعت احمدیہ سے بغاوت اور قادیانیت سے نفرت کے جرم میں اس آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ یہی وہ سوچ تھی جو مجھے پولیس کا تشدد برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی تھی۔ حوالات میں گزرنے والے وہ چار دن انتہائی صبر آزماتھے۔ اس دوران مجھے بھوکا پیاسا رکھا گیا۔ دیگر حوالاتیوں کی روٹی میں سے جو چند ٹکڑے بچتے ، میں انہیں پانی کے ساتھ نگل لیتا۔ لیکن سب سے زیاہد تکلیف دہ بات یہ تھی کہ مصیبت کی اس گھڑی میں میرے اپنوں نے بھی مجھ سے منہ موڑ لیا۔ والدین ، بہن بھائی، اہلیہ اور سسرال والے مجھے چھوڑ کر جماعت کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ وہ سب میرے حالات سے مکمل طور پر باخبر تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس سارے معاملے سے لاتعلق رہے۔ انہوں نے پولیس سے کوئی رابطہ کیا نہ تھانے آکر مجھ سے ملنے کی کوشش کی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میں ان کے لیے مرچکا ہوں ۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا تھا کہ مجھ پر بیٹی کے اغوا کا الزام محض ایک فریب تھا ۔ اصل معاملہ تو کچھ اور تھا، اسی لئے میرے گھروالوں نے حتٰی کہ میری بیوی نے بھی میرے کیس میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ بلکہ اس معاملے سے لا تعلق رہ کر انہوں نے جماعت سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت تک میں نے قادیانیت سے تائب ہونے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ صرف جماعت سے عملا علیحدگی اختیار کی تھی۔ لیکن میرا یہ جرم بھی گھر والوں کےلیے قابل قبول تھا نہ جماعت احمدیہ کے لئے۔ اسی دوران میرے ایک وکیل دوست سید زید محسن کاظمی ایڈووکیٹ کو میرے حالات کی خبر ہوئی تو انہوں نے میری بازیابی کے لئے عدالتی، بیلف کا پروگرام بنایا۔ کسی طرح چناب نگر پولیس کو بھی اس کی خبر ہو گئی تو انہوں نے فوری طور پر میرے خلاف اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کر کے اگلے روز ریمانڈ کے لیے مجھے ایڈیشنل سیشن جج چنیوٹ عقیل نذیر کی عدالت میں پیش کر دیا ۔ میری اس وقت یہ حالت تھی کہ مجھ سے ٹھیک طرح سے چلا بھی نہیں جارہا تھا۔ میرے ساتھ آنے والے دو پولیس اہلکاروں نے مجھے بازوؤں سے پکڑ کر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ۔ جج صاحب نے میری طرف دیکھا اور مجھ سے کچھ پوچھا۔ میں چند ثانیئے ان کی طرف دیکھتا رہا اور پھر ایک عجیب سی حرکت کی۔ میری اس حرکت پر جہاں جج صاحب کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے، وہیں مجھے عدالت لانے والے سب انسپکٹر اور دو سپاہیوں کے رنگ بھی فق ہو گئے اور میرے پیچھے کھڑے سب انسپکٹر نے بھری عدالت میں اوئے اوئے کرتے ہوئے میرے کدی پر ایک زور دار تھپڑ رسید کیا۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
چناب نگر میں ترک قادیانیت پر مظالم

جب مجھے ایڈیشنل جج چنیوٹ کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے لےجایا جارہاتھا تو میں مسلسل یہی سوچ رہا تھا کہ میں عدالت میں اپنی بے گناہی کیسے ثابت کروں گا۔ پولیس کا مجھ پر سخت دباؤ تھا کہ میں عدالت میں پولیس تشدد کے متعلق یا پولیس کے خلاف ایک لفظ بھی نہ کہوں ۔ ایس ایچ او تھانہ چناب نگر نے عدالت لے جانے کے لیے مجھے ڈبل ہتھ کڑی لگوائی اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ "یادرکھنا کہ اگر تم نے ہمارے خلاف ایک لفظ بھی بولا تو واپس ہمارے پاس ہی آنا ہے"۔ پولیس کے بہیمانے تشدد نے میرا دماغ اس قدر ماؤف کر دیا تھا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ دنیا کو کیسے بتاؤں کہ ایک باپ اپنی ہی بیٹی کو کیسے اغوا کر سکتا ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں مجھے عدالت کے کٹھہرے میں پہنچادیا گیا۔ میں جج صاحب کے سامنے کھڑاتھا اور وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے۔ اچانک نہ جانے میرے جی میں کیا آئی کہ میں نے یک دم نیچے سے اپنے آپ کو برہنہ دیکھا۔ میری اس حرکت پر فوری طور پر دو رد عمل ظاہر ہوئے۔ پہلا یہ کہ جج صاحب کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے ۔ دوسرا میرے پیچھے کھڑے سب انسپکٹر کا میری گدی پر زور دار تھپڑ پڑا۔ لیکن جیسے ہی جج صاحب کی نظر میرے نچلے حصے پر جلے ہوئے زخموں پر پڑی تو وہ ہکا بکا رہ گئے۔ صاف دکھائی دے رہاتھا کہ وہ معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں ۔ انہوں نے ایک کڑی نظر سے مجھے لانے والے پولیس اہلکاروں کی طرف دیکھا تو ان کے رنگ پھیکے پڑ گئے۔ اب صورت حال یہ تھی کہ کمرہ عدالت پہ سکوت طاری ہو گیا۔ جج صاحب خاموش بیٹھے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میرا سر جھکا ہوا تھا ۔ انکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ لب کانپ رہے تھے۔ میں بہت کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن لفظ میری زبان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد جج صاحب نے میری دل جوئی کے لیے چند ہمدردانہ جملے کہے اور مجھے کسی ڈر و خوف کے بغیر اپنا موقف کھل کر عدالت کے سامنے بیان کرنے کا حکم دیا۔ اس پر میں نے جج صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ ، "سرکار ! میری سمجھ کے مطابق اگر کوئی باپ اپنی ہی بیٹی کے اغوا کا ڈرامہ رچائے تو اس کی تین ہی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ پہلی یہ کہ وہ اس ڈرامے سے کوئی ذاتی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ دوسری یہ کہ اگر کسی کی اپنی بیوی یا سسرال والوں سے کوئی ناچاقی ہو تو وہ انہیں اذیت دینے کے لیے ایسی قبیہ حرکت کرتا ہے۔ تیسری یہ کہ بعض لوگ اپنے دشمنوں کو جھوٹے مقدمے میں پہنسانے کے لیے بھی اس طرح کے ڈرامے رچاتے ہیں ۔ لیکن میرے کیس میں یہ تینوں باتیں دکھائی نہیں دیتیں۔ میں اس ڈرامے سے کوئی ذاتی مفاد تو کیا حاصل کرتا، الٹا اغوا کاروں نے مجھ سے بیس لاکھ روپے تاوان لیا اور یہ رقم بھی میں نےادھر ادھر سے قرض لے کر پوری کی ۔ میں ایک خوشگوار گھریلو زندگی بسر کر رہا ہوں۔ میری اپنی بیوی سے کوئی ناچاقی ہے نہ سسرال والوں سے کوئی جھگڑا۔ تیسری بات یہ کہ میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے، نہ ہی میرا ایسا کوئی مخالف ہے کہ جسے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لیے میں ایسی گھٹیا حرکت کروں"۔جج صاحب نے میری بات اطمینان سے سنی اور پھر پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے فوری طور پر میری باعزت رہائی کا حکم دے دیا۔ لیکن رہائی کےبعد بھی جماعت نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا ۔ مختلف ذرائع سے ملنے والی دھمکیوں کا سلسلہ تو جاری ہی تھا ، اس کے علاوہ بھی جماعت نے میرا حقہ ، پانی بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ میری اہلیہ تو اسی وقت مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اپنے میکے چلی گئی تھیں جب پولیس نے مجھے بیٹی کے اغوا کے الزام میں گرفتار کیا۔ میں نے دوبارہ چناب نگر میں رہائش اختیار کرنے کی کوشش کی تو جماعت کی طرف سے حکم جاری کیا گیا کہ کوئی بھی شخص مجھے اپنا گھر کرائے پر نہ دے۔ لہذا مجھے ایک مظفاتی آبادی میں رہائش اختیار کرنا پڑی ۔ بیس لاکھ روپے تاوان ادا کرنے کے بعد گنے کی ٹھیکیداری تو کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ بلکہ اب تو اس بھاری رقم کی واپسی ہی میرے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی تھی ۔ دوسری جانب پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کرنا ضروری تھا۔ انہی دنوں میرے ایک غمگسار قادیانی دوست رفیق جٹ نے مجھے مظفر آباد میں نیلم جہلم پراجیکٹ کے بارے میں بتایا کہ اگر میں وہاں کوشش کروں تو مجھے کوئی چھوٹی موٹی نوکری مل سکتی ہے ۔ میں نے رفیق جٹ کے مشورے پر عمل کیا تو مجھے وہاں باورچی کی نوکری مل گئی۔ وہاں گزرنے والے چند ماہ قدرے پُرسکون تھے۔ لیکن پھر اچانک مجھے وہاں سے بھی نکلنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ نیلم جہلم پراجیکٹ کے ہیڈ آفس لاہور سے لے کر مظفر آباد میں سائیٹ تک غیر ملکیوں کے علاوہ جو مقامی لوگ کام کر رہے تھے ، ان میں صرف دس فیصد مسلمان ہیں جبکہ نوے فیصد قادیانی ہیں۔ عام ورکر سے آفیشیلز تک ہر جگہ یہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ابتداء میں انہوں نے میری خوب آہو بھگت کی ۔ لیکن جیسے ہی انہیں خبر ملی کہ میں جماعت احمدیہ سے بغاوت کے جرم میں آج کل زیر عتاب ہوں تو انہوں نے میرا ایسا ناطقہ بند کیا کہ مجبورا مجھے وہاں سے نکلنا پڑا۔ واپس آکر میں نے دوبارہ رفیق جٹ سے رابطہ کیا ۔ اس کی چناب نگر میں دودھ دہی کی دکان تھی۔ اور وہ پہلے بھی کئی مواقع پر خاموشی سے میری مدد کر چکا تھا۔ ہم نے باہم مل کر کھیتی باڑی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ہم نے چنیوٹ کے کچھ زمینداروں سے رابطہ کیا اور رابطہ کر کے 122 ایکڑ زرعی اراضی ٹھیکے پر لی اور کام شروع کر دیا۔ کچھ مسلمان دوستوں کی مہربانی سے ادھار پر ضروری زرعی آلات خریدے اور پہلی فصل اترتے ہی ادائیگی کا وعدہ کیا۔ اس کے علاوہ تاوان پر بیس لاکھ روپے کی واپسی کا تقاضابھی اب بڑھنے لگاتھا۔ مجھے اس کی بھی فکر کھائے جارہی تھی۔ انہی حالات میں کھیتی باڑی شروع کی اور چاول کی فصل کاشت کی۔ اس دوران میراسابقہ معمول دوبارہ بحال ہو گیا۔ مسلمان دوستوں سے تعلق پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔ اور اب میں نے کھلے عام ان کی مساجد میں جانا شروع کر دیا۔ جب فصل پک کر تیار ہوئی تو کٹائی کے دوران پہلے میرے والد فوت ہوئے اور پھر تین دن کےوقفے سے بڑے بھائی محمد رفیع کا بھی انتقال ہو گیا۔ اگرچہ وہ لوگ مجھے چھوڑچکے تھے لیکن باپ اور بھائی کے انتقال پر صدمہ ایک فطری امر ہے۔ وہ چند روز سخت پریشانی میں گزرے ۔ اسی دوران رفیق جٹ نے فصل کی کٹائی مکمل کرائی اور تمام فصل غلہ منڈی چنیوٹ میں فروخت کرنے کے بعد خود ہی حساب کتاب کر کے مجھے اطلاع دی کہ ہماری چاول کی پہلی فصل پینسٹھ لاکھ (6500000) کی ہوئی ہے جس میں سے میرے حصے میں پینتیس لاکھ (3500000) روپے آئے تھے۔ اس نے مجھے 10 دسمبر 2010ء کو 35 لاکھ روپے کا چیک دیا اور کہا کہ اگلے ایک دو روز میں رقم میرے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے گی۔ اس چیک کا نمبر A 11697458 تھا اور وہ یونائیٹڈ بینک لمٹیڈ چناب نگر برانچ کا چیک تھا۔ جہاں رفیق جٹ نے اپنا کرنٹ اکاؤنٹ کھلوارکھاتھا۔ جس کا نمبر 01013064 تھا۔ لیکن رقم میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر نہ ہوسکی۔ بعد میں مجھے کچھ ذرائع سے پتہ چلا کہ جب جماعت کو میری اور رفیق جٹ کی شراکت داری کا علم ہوا تو جماعتی ذمہ داران نے اسے دفتر طلب کر کے سخت سرزنش کی اور اس کےبعد نہ رقم میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئی اور نہ ہی رفیق جٹ چناب نگر میں دکھائی دیا۔ وہ وہاں سے ایسے غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔ اب اصولا تو چیک ڈس آنر ہونے پر رفیق جٹ کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چاہیے تھی ۔ لیکن ایسانہ ہوا۔ یہاں یہ بھی بتا دوں کہ چناب نگر میں قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوانے والوں کا کوئی پُرسان حال نہیں۔جماعت احمدیہ کی طرف سے ان پر ڈھائے جانے والے مظالم پر چناب نگر تھانے میں ان کی شنوائی اور داد رسی تو دور کی بات ہے، الٹا پولیس انہیں اپنے مخصوص ہتھکنڈوں کے ذریعے واپس قادیانیت کی طرف لوٹ جانے پر مجبور کرتی ہے ۔ اس کی ایک مثال ڈی ایس پی سعید اختر قتلہ ہے جس نے مسلمان ہوتے ہوئے بھی قادیانیوں کے اشارے پر مجھ پر تشدد کرایا۔ اسی طرح جماعت کے مظالم کے خلاف کئی لوگوں کی درخواستیں اب بھی تھانہ چناب نگر میں پڑی ہوئی ہیں ۔ لیکن ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ چیک ڈس آنر ہونے کی وجہ سے صورتحال یہ ہوئی کہ مجھ پر کم از کم بیس سے پچیس لاکھ روپے کا قرض چڑھ گیا۔ اور میری جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی۔ مجبورا مجھے چناب نگر چھوڑنا پڑا۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
جماعت احمدیہ نے قبول اسلام پر تین نوجوانوں کو زندہ جلا دیا

چناب نگر میں جماعتی قیادت سے معمولی سا اختلاف کرنے والوں کا حقہ پانی تو بند کیا ہی جاتا ہے۔ لیکن جولوگ قادیانیت پر لعنت بھیج کر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں انہیں ایسے ظالمانہ طریقے سے نمونہ عبرت بنایا جاتا ہے کہ دوبارہ کوئی ایسی جرات نہ کر سکے۔ جبکہ مقامی پولیس ایسے جرائم کی مکمل طور پر پردہ پوشی کرتی ہے ۔ اس کی ایک مثال 2011ء میں وقوع پذیر ہونے والے ایک واقعہ ہے۔ چناب نگر کے علاقے طاہر آباد کے رہائشی تین لڑکے احمد، ندیم اور حفیظ مسلمان ہو گئے۔ ان کی عمریں 20 سے 25 سال کے لگ بھگ تھیں۔ جماعت نے انہیں مختلف حلیوں بہانوں سے "سمجھانے" کی کافی کوشش کی۔ لیکن یہ تینوں نوجوان اپنے ایمان پر ڈٹے رہے۔ جب جماعت نے دیکھا کہ ان کی کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں تو پھر ایک روز نائب صدر دفتر عمومی ڈی ایس پی (ر) حمیداللہ قریشی کے بھائی سابق پولیس انسپکٹر بشیر بِلا نے ان تینیوں کو اپنے ڈیرے پر بلایا اور آخری بار سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن جب ان تینوں نے قادیانیت کی طرف واپس لوٹنے سے واضح انکار کر دیا تو ان پر پٹرول چھڑک کر تینوں کو آگ لگا دی اور ان کو جلا دیا گیا۔۔ ان تینوں نوجوانوں کے ورثاء اپنے بچوں کے اس ظالمانہ قتل سے بخوبی واقف تھے۔ لیکن انہوں نے قادیانی ہونے کی وجہ سے جماعت احمدیہ سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے یا کسی خوف کے سبب قاتلوں کے خلاف کوئی بھی قانونی کاروائی کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کر لی۔ چند روز بعد اس واقعے کو حادثہ قرار دے کر فائل بند کر دی گئی۔ مقتولین کے ورثاء کی خاموشی سے بھی یہ پتا چلتا ہے کہ ان تینوں "باغی" نوجوانوں کو ذندہ جلائے جانے کا فیصلہ کہیں اور کیا گیا تھا۔ بشیر بلا نےتو صرف اس فیصلے پر عمل درآمد کیا تھا۔ چناب نگر میں یہ عام معمول کی بات ہے کہ اگر کسی "باغی" کو ٹھکانے لگایا جائے تو اولا تو اس کے ورثاء کوئی قانونی کاروائی نہیں کرتے۔ اور اگر معاملہ زیادہ بگڑ جائے یا میڈیا پر آجائے تو پھر پہلے ورثاء کی طرف سے مقدمہ درج کروایا جاتا ہے اور پھر چند روز بعد انہیں کچھ رقم بطور دیت ادا کر کے صلح کر لی جاتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ چناب نگر میں رہنے والے سب لوگ یہ کام اپنی خوشی سے نہیں کرتے، بلکہ کئی مجبوریوں نے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں اور وہ بہت سے کام اپنی مرضی کے بر خلاف اور جماعت کی مرضی کے مطابق کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جماعتی قیادت نے اپنی "امت" پر بے شمار چندے عائد کر رکھے ہیں۔ جب میں جامعہ احمدیہ میں زیر تعلیم تھا۔ اس وقت ہر قادیانی سے پچیس مختلف مدعات میں چندہ لیا جاتا تھا۔ اب تو سنا ہے کہ جب سے مرزا مسرور نے "خلافت" سنبھالی ہے، انہوں نے چندے کی کچھ مزید مدعات بڑھا دی ہیں۔ اسی طرح جو لوگ چناب نگر میں رہائش اختیار کرتے ہیں ۔ انہیں وہاں زمین جائیداد کے مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے ۔ چناب نگر کا تمام رقبہ ننانوے سالہ لیز پر جماعت احمدیہ کے نام ہے۔ جو قادیانی وہاں اپنا گھر بنانا چاہے ، اس سے ایک فارم بھروا کر جماعت اسے سادہ کاغذ کی ایک چِٹ پر پلاٹ کا الاٹی نمبر لکھ کر تھما دیتی ہے ۔ اس موقع پر خریدار سے یہ تحریری ضمانت لی جاتی ہے کہ وہ یہ زمین کسی غیر قادیانی کو کسی بھی صورت فروخت نہیں کر سکتا۔ اگر وہ کسی قادیانی کو بھی فروخت کرنا چاہے تو اس کے لیے بھی پہلے جماعت سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ چونکہ چناب نگر میں کسی کے پاس بھی جائیداد کے مالکانہ حقوق نہیں۔ اس لیے بغاوت کرنے والوں کے گھر اور جائیداد پر جماعت کا قبضہ عام معمول ہے۔ پھر بغاوت کرنے والوں کو جذباتی طور پر بلیک میل کیاجاتا ہے۔ اگر کسی باغی کے بچے چھوٹے ہوں تو جماعت وہ بچے چھین لیتی ہے۔ اس کی ایک مثال میں خود ہوں ۔ میری دو بیٹیاں سابقہ بیوی اپنے ساتھ لے گئی۔ اب جماعت کی طرف سے مجھے ان سے ملنے کی بھی قطعا اجازت نہیں۔ اس طرح ہمارے ایک ساتھی شیخ زبیر انور ہیں جنہوں نے 2002ء میں اسلام قبول کیا۔ اس وقت ان کی اکلوتی بیٹی دو یا ڈھائی سال کی تھی۔ وہ بچی ان سے چھین لی گئی۔ وہ گزشتہ بارہ سال سے اپنی بیٹی حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن اب تک انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ابھی بھی اس سلسلے میں چنیوٹ کی ایک مقامی عدالت میں ان کا کیس چل رہا ہے۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
شیخ زبیر انور کے مسلمان ہونے پر ان کے ساتھ جماعت احمدیہ کی جانب سے کیا جانے والا ظلم

شیخ زبیر انور کا بھی عجب قصہ ہے ۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے کیا خوبصورت اسباب پیدا کیے ۔ ایک ملاقات میں وہ مجھے بتا رہے تھے کہ ان کا تعلق لاہور سے ہے ۔ بعد ازاں چناب نگر منتقل ہو گئے۔ وہ پیدائشی قادیانی تھے۔ اور 38 برس تک قادیانیت سے وابستہ رہے۔ درس و تدریس کے شعبےسے وابستہ شیخ زبیر کا کسی گھریلو مسئلے پر بیوی سےجھگڑا ہو گیا۔ دفتر عمومی کی طرف سے انہیں اس جھگڑے میں ثالثی کا پیغام دیا گیا۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر دفتر آنے سے انکار کر دیا کہ یہ ان کا گھریلو مسئلہ ہے ، جماعت اس میں مداخلت نہ کرے، جماعت ان کے اس "حرف انکار" پر اس قدر تلملائی کہ چند روز بعد کچھ لڑکے زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں اٹھا کر دفتر عمومی لے آئے۔ اس وقت دفتر عمومی کے انچارج میجر (ر)شاہد سعدی اور نائب صدر ڈی ایس پی (ر) حمیدُاللہ قریشی ہوا کرتے تھے۔ دفتر عمومی میں شیخ زبیر پر شدید تشدد ہوا۔ اور انہیں وہاں چند روز تک محبوس رکھا گیا۔ اس دوران ان کے گھر پر قبضہ ہوا۔ اس سلسلہ میں ان کی قادیانی بیوی نے جماعت کا بھرپورساتھ دیا۔ پھر ایک روز انہیں شام کے وقت وہاں سے نکال کر ایک گاڑی میں بٹھایاگیا۔ اور چنیوٹ کے ایک چوک میں یہ کہہ کر اتار دیا گیا کہ اب دوبارہ چناب نگر کا رخ نہ کرنا۔ شیخ زبیر کے پاس اس وقت صرف تن کے کپڑے تھے ۔ انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ رات کہاں گزاریں ۔ اسی اثناء میں پاس سے گزرنے والے کسی مقامی آدمی نے انہیں قریب ہی واقع مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمۃُ اللہ علیہ کے مدرسہ کی راہ دکھائی۔ وہ وہاں پہنچ گئے ۔ اتفاقاََ مولانا چنیوٹی ان دنوں چنیوٹ میں ہی قیام پذیر تھے۔اور اس وقت مدرسہ میں موجود تھے۔ شیخ زبیر کی بیتی سننےکے بعد انہوں نے انہیں اپنے مدرسہ میں ٹھرنے کی اجازت دے دی ۔ شیخ زبیر تقریبا ڈیڑھ ماہ ان کے مدرسہ میں مقیم رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دوران وہ جس بات سے سب سے زیادہ متاثرہوئے وہ یہ تھی کہ مولانا منظور چنیوٹی رحمۃُ اللہ علیہ نے ایک بھی دن ان سے نفرت کا اظہار کیا نہ ہی انہیں قادیانیت چھوڑنے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ بلکہ وہ جب بھی مولانا کی خدمت میں حاضر ہوتے تو وہ ان کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے۔ البتہ چونکہ شیخ زبیر پڑھے لکھے آدمی ہیں اس لیے وہ خود گاہ بگاہ مولانا چنیوٹی سے قادیانیت اور اسلام کے متعلق سوالات پوچھتے رہتے۔ اور مولانا جواب دیتے جاتے ۔ شیخ زبیر کا یہ کہنا ہے کہ مولانا منظور چنیوٹی رحمۃُ اللہ علیہ کی صحبت میں گزارنے والے دنوں نے ان کی کایا پلٹ دی۔ اور وہ مسلمان ہو گئے۔ جب ان کے مسلمان ہونے کی اطلاع چناب نگر پہنچی تو جماعت نے انہیں پھر نشانے پر رکھ لیا ۔ 2002ء ، 2008ء اور 2009ء میں ان کے خلاف تین جھوٹے مقدمے درج کروائے گئے۔ جن میں ان کی گرفتاری بھی ہوئی اور وہ مجموعی طور پر پانچ سال جیل میں بھی رہے۔لیکن ان مظالم کے باوجود وہ ثابت قدم رہے اور ابھی بھی اپنی بیٹی کے حصول کے لیے عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں۔ بچے چھیننے کے بعد باغیوں کے خلاف جو دوسرا بڑا حربہ استعمال کیا جاتا ہے وہ یہ ہےکہ اگر کسی کی جوان بیٹیاں شادی شدہ ہوں تو باپ کے مسلمان ہونے کی صورت میں بیٹیوں کو طلاقیں دلوا دی جاتی ہیں۔ بلاشبہ یہ کسی باپ کےلئے بہت بڑا صدمہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قادیانی کمیونٹی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایسے لوگوں کا معاشی و سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کے کئی تکلیف دہ مسائل بھی بے شمار قادیانیوں کے مسلمان ہونے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
ریاست کے اندر ریاست اور متوازی عدالتی نظام

چناب نگر میں جماعت احمدیہ نے ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی ہے۔ وہاں ان کا اپنا پولیس اور عدلیہ کا متوازی نظام ہے۔ دفتر امور عامہ تھانے اور دفتری عمومی پولیس چوکی کا درجہ رکھتے ہیں جہاں باقاعدہ ٹارچر سیلز بھی بنے ہوئے ہیں۔ ان کا عدالتی نظام ایسے ہی ہے جس طرح ملک بھر میں عدالتی نظام کے چار درجے ہوتے ہیں۔ سول کورٹ، سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ ۔ بلکل اسی طرح چناب نگر میں جماعت احمدیہ نے عدالتی نظام کےبھی چار درجے بنائے ہوئے ہیں۔ قادیانی وکلاء وہاں پیش ہو کر بحث میں حصہ لیتے ہیں۔ قادیانی ججز چھٹی کے روز وہاں فرائض انجام دیتے ہیں اور آخری اپیل مرزا مسرور کے پاس کی جاتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ چناب نگر میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ قادیانیوں کی ایک قابل ذکر تعداد ایسی ہے جو وہاں سے نکلنا چاہتی ہے۔ لیکن ان کی سماجی و معاشی مجبوریاں آڑے آرہی ہیں۔ میں پوری ذمہ داری سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اگر آج حکومت چناب نگر کو اوپن سٹی قرار دیتے ہوئے وہاں کے مکینوں کو جائیداد کے مالکانہ حقوق اور جان و مال کا تحفظ فراہم کرے تو کم از کم 25 فیصد قادیانی ابھی بھی مسلمان ہو جائیں گے۔
جماعت احمدیہ کی موجودہ قیادت کی علمی قابلیت
جماعت احمدیہ کی قیادت کی علمی قابلیت کا یہ حال ہے کہ 1999ء میں جب میری شادی ہوئی تو میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میرانکاح مرزا مسرور پڑھائیں جو اس وقت ابھی خلیفہ نہیں بنے تھے۔ بلکہ ناظر اعلی و امیر مقامی جماعت احمدیہ پاکستان تھے۔ میں نے جب ان کے پاس حاضر ہو کر نکاح پڑھانے کی درخواست کی تو وہ پریشان ہو گئے۔ تھوڑی دیر کچھ سوچتے رہے اور پھر بڑی سنجیدگی سے بولے "آپ میری انگلی پکڑو اور مجھے جامعہ احمدیہ داخل کروا آؤ۔ پانچ سالہ کورس کرنے کے بعد میں آپ کا نکاح پڑھانے کے قابل ہو جاؤں گا۔"
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
میں اور میری بیٹی

رفیق جٹ کا چیک ڈس آنر ہونے کے بعد جب میں چناب نگر سے نکلا تو میری بڑی بیٹی روتی ہوئی میری ٹانگوں سے چمٹ گئی اور کہنے لگی۔ "پاپا جانی میں نے آپ کے ساتھ جانا ہے "۔ اس وقت مجھ پر کیا گزری ، یہ درد اور کرب وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کو اللہ پاک نےبیٹی جیسی رحمت سے نوازہ ہو۔ چناب نگر سے نکل کر لاہور آیا اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے چھوٹی موٹی نوکری شروع کر دی۔ ایسے ہی ایک روز اچانک میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر ابھی مجھے موت آجائے تو میرا جنازہ کون پڑھائے گا۔ جماعت احمدیہ تو مجھے منہ نہیں لگائےگی کیونکہ ان کے نزدیک میں ایک باغی ہوں۔ اور قادیانی ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو ویسے ہی مجھ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ تو بلکل خدا ہی ملا نہ وصال صنم والی صورتحال تھی۔ یہ خیال میرے ذہن میں بری طرح سوار ہوا کہ ہر وقت یہی سوچتا رہتا کہ میرا انجام کیا ہوگا۔
 
Top