• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

قومی اسمبلی کی کاروائی (دسواں دن)

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
قومی اسمبلی میں دسواں دن

Friday, the 23th August. 1974.
(کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)
(۲۳؍اگست ۱۹۷۴ئ، بروز جمعہ)
----------

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at half past five of the clock in the afternoon. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد ساڑھے پانچ بجے شام جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)
----------
(Recition from the Holy Quran)
(تلاوت قرآن شریف)
----------

1244Malik Mohammad Suleman: Mr. Chairman. Sir.
(ملک محمد سلیمان: جناب چیئرمین!)
Mr. Chairman: Sahibzada Safiullah.
(جناب چیئرمین: صاحبزادہ صفی اللہ)
----------

 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
WRITTEN ANSWERS READ OUT
BY THE WITNESS
صاحبزادہ صفی اللہ: جنابِ والا! میں عرض کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
جناب چیئرمین: (ملک محمد سلیمان سے) ان کے بعد۔

(مرزاناصر کی حوالوں میں ہیراپھیری)
صاحبزادہ صفی اللہ: ۔۔۔۔۔۔۔ کہ پہلے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ مرزا ناصر احمد صاحب اپنی طرف سے لکھا ہوا بیان نہیں پڑھے گا، یعنی اگر وہ کوئی حوالہ دے بشیرالدین محمود کا یا مرزا غلام احمد کا، تو اس کتاب کے اِقتباس کو پیش کرے گا۔ لیکن کل ہم نے دیکھا کہ وہ اپنی طرف سے لکھے ہوئے کاغذ سے بیانات پڑھ رہے تھے اور ان کی طرف منسوب کر رہے تھے، یعنی اس کا پتا نہیں چلتا تھا کہ واقعی مرزا غلام احمد کا ہے، یا مرزا بشیرالدین کا ہے۔ دُوسری بات یہ ہے کہ ان غیرمتعلقہ بحثوں کو یہاں وہ چھیڑنا چاہتے ہیں، یعنی اٹارنی جنرل اگر چھوٹا سا سوال کرتے ہیں تو ساری وہ تواریخ اور اپنی صفائی میں وہ بیانات دیتے ہیں، وہ کاغذ پر لکھے ہوئے بیانات دیتے ہیں، تو اس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ یہ واقعی اِقتباسات ہیں یا ان کی کتاب سے۔۔۔۔۔۔۔
جناب چیئرمین: (سیکرٹری سے) ان کو بلالیں اور باہر بٹھادیں، دو منٹ لگیں گے، جی!
صاحبزادہ صفی اللہ: یہ ان کی کتابوں کے اِقتباسات ہیں یا اپنی طرف سے ہیں۔ جس طرح سے ان کا خاص طریقہ ہے، وہ ہیراپھیری سے کام لیتے ہیں، ابھی کچھ اس طرح کے کام وہ کرتے ہیں۔ تو آپ اس کا نوٹس لیں اور آپ دیکھ لیں۔
جناب چیئرمین: نہیں، آج اِنشاء اللہ! Cut-Short کریں گے، اور اَب دس دن سے یہ پروسیجر چل رہا ہے اور اس میں کافی کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طریقے سے اس کو مختصر کیا جائے، 1245اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو حوالہ جات ہیں، آپ کسی پر اپنی Explanation (وضاحت) دینا چاہتے ہیں، وہ لکھ کے دے دیں، ہم Evidence (شہادت) میں اس کو پڑھ لیں گے۔
صاحبزادہ صفی اللہ: کل وہ ایک کاغذ پڑھ رہے تھے، جس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ہم نے نہیں، بلکہ دُوسرے مسلمانوں نے چراغ روشن کئے سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے موقع پر، اور وہ اپنی طرف سے ایک بیان پڑھ رہے تھے کہ فلاں مسلمانوں نے، فلاں یہ چراغاں کیا، وہ چراغاں کیا، تو آپ اس طرف کچھ توجہ فرمائیں۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، جی ٹھیک ہے!
صاحبزادہ صفی اللہ: وہ اِقتباسات پیش نہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، اس کا بھی جواب سوچ رکھیں۔
----------
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
RECORD OF PROCEEDINGS OF THE SPECIAL COMMITTEE
(خصوصی کمیٹی کی کاروائی کا ریکارڈ)

ملک محمد سلیمان: جناب چیئرمین!
جناب چیئرمین: جی، جی۔
ملک محمد سلیمان: یہ ہمیں تین کاپیاں رپورٹنگ کی ملی ہیں، پانچ، چھ اور دس کی۔
جناب چیئرمین: ہاں۔
ملک محمد سلیمان: جہاں تک یہ چھ اور دس کی رپورٹنگ کا تعلق ہے، اس پر یہ لکھا ہے کہ:
"Report of the proceedings of Special Committee of the Whole House, held in Camera, on Tuesday, the 6th August, 1974, to consider the Ahmadiyya Issue".
(’’پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کی کارروائی کی رپورٹ جس کا اِجلاس احمدیہ مسئلے پر غور کرنے کے لئے بتاریخ ۶؍اگست ۱۹۷۴ء بروز منگل، بند کمرے میں ہوا۔‘‘)
یہ ’’احمدیہ ایشو‘‘ نہیں ہے، یہ ’’قادیانی ایشو‘‘ ہے، تو یہ Correction (تصحیح) کی جائے کیونکہ اس سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں، اور یہ بالکل غلط ہے، یہ قادیانی ایشو ہے۔
1246جناب چیئرمین: بہت اچھا!
ملک محمد سلیمان: اس کو قادیانی ایشو Treat کیا جائے، یہ ہم نے کبھی فیصلہ نہیں کیا کہ ۔۔۔۔۔۔
جناب چیئرمین: بہت اچھا!
ملک محمد سلیمان: یہ احمدیہ ایشو ہے؟
جناب چیئرمین: اچھا، We will amend it according to our resolutions. (ہم اپنے ریزولیوشن کے مطابق ترمیم کرلیں گے)
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ریزولیوشن تو کیونکہ دونوں پیش ہوئے تھے ناں، سر! وہ میرے خیال میں ٹھیک فرما رہے ہیں۔
ملک محمد سلیمان: ریزولیوشن تو Amend ہونا چاہئے۔
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ریزولیوشن ہمارا بھی پیش ہوا تھا، اس میں تھا ’’قادیانی ایشو‘‘ وغیرہ، یہ صحیح فرما رہے ہیں۔
جناب چیئرمین: اچھا جی، ٹھیک ہے جی۔
(سیکرٹری سے) بلائیں جی!
(The Delegation entered the Chamber)
(وفد ہال میں داخل ہوتا ہے)
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General.
(جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب!)
----------
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
CROSS-EXAMINATION OF THE QADIANI GROUP DELEGATION
(قادیانی وفد پر جرح)

Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney-General of Pakistan): Sir, Mirza Sahib has to continue his reply.
(یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل آف پاکستان): جنابِ والا! مرزا صاحب کو اپنا جواب جاری رکھنا ہے)
مرزا ناصر احمد: (گواہ سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): جی، شروع کردوں؟
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(مرزاناصر احمد کا طویل جواب)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی!
1247مرزا ناصر احمد: ایک ہماری تاریخ کا اہم زمانہ ۱۹۳۰ء کے قریب کا ہے، جب سائمن کمیشن یہاں آیا تھا اور اس نے اپنی رپورٹ ایک تیار کی تھی۔ اس میں گول میز کانفرنس کا اِعلان کیا گیا تھا، اور اس موقع پر ہمارے خلیفہ المسیح الثانی نے اس پر بھی اپنی طرف سے مسلمانوں کو اِکٹھا ہوکے اور سیاسی، متحد سیاسی محاذ قائم کرنے کی اپیل کی تھی، او راس پر ایک جامع اور مانع تبصرہ لکھا گیا تھا آپ کی طرف سے۔ اس میں جو یہ تاریخ کا ایک ورق ہے، تبصرہ بھی ہوگا، یا میں بھجوادُوں گا۔ میں نے جو حوالے لکھے ہیں، ان میں ایک ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کا وقت بچانے کے لئے، کیونکہ کچھ ایسے عنوان ہیں جن میں وقت زیادہ خرچ ہوگا۔
’’سیاست‘‘ لاہور نے لکھا: ’’اس وقت کے مذہبی اِختلافات کی بات چھوڑ کر دیکھیں تو جناب بشیرالدین محمود احمد صاحب نے میدانِ تصنیف وتالیف میں جو کام کیا ہے، وہ بلحاظ ضخامت وافادہ پر تعریف کا مستحق ہے۔ (یہ تو ویسے ہی ہے) اور سیاسیات میں اپنی جماعت کو عام مسلمانوں کے پہلوبہ پہلو چلانے میں آپ نے جس اُصول، عمل کی ابتدا کرکے، اس کو اپنی قیادت میں کامیاب بنایا ہے، وہ بھی ہر منصف مزاج مسلمان اور حق شناس انسان سے خراجِ تحسین وصول کرکے رہتا ہے۔‘‘
یہ ’’سیاست‘‘ نے اس پر تبصرہ لکھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت سے اس میں ہیں حوالے، وہ دے دیں گے، میں نے اسی واسطے کہا کہ یہ عنوان ایک مختصر سا ہے۔
یہ قضیۂ فلسطین، یہ ۱۹۳۹ء سے ۸۴۹۱ء تک یہ آیا ہے دُنیا کے سامنے، بلکہ اس سے بھی کچھ پہلے، کیونکہ مجھے یاد ہے کہ آکسفورڈ میں اس مضمون پر، مذاکرات میں بعض دفعہ مجھے بھی حصہ لینا پڑا ہے، اس میں خلیفہ ثانی نے ایک تو لکھا: ’’الکفر ملّۃ واحدۃ‘‘ اس کا عربی کا ہے، اور تمام ان ممالک میں بھجوایا گیا جن کا ان کے ساتھ تعلق تھا اور جو دلچسپی لینے والے تھے، عرب ممالک جو 1248ہیں، انگلستان میں اس کے متعلق کوشش کی گئی، حضرت اِمام جماعت احمدیہ کی قیادت میں، احمدیہ پریس اور مبلغین کی تمام ہمدردیاں مسئلہ فلسطین کے بارے میں مسلمانانِ عالم کے ساتھ تھیں، چنانچہ اخبار "South Western Star"نے ۳؍فروری ۱۹۳۹ء کی اِشاعت میں لکھا:
’’عیدالاضحی کی تقریب پر مسجد احمدیہ لندن میں ایک جلسہ ہوا اور لیفٹیننٹ کرنل سرفرانس ینگ ہسبنڈ کی صدارت میں امام شمس نے حکومت کو اِنتباہ کیا (انگریز حکومت کو) کہ فلسطین میں یہودیوں کا تعداد میں عربوں سے بڑھنا اور ان پر چھاجانے کا خیال سخت خوفناک ہے، یہ کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا، برطانیہ حکومت کو اس کا منصفانہ حل تلاش کرنا ہوگا۔‘‘
یہ ’’الکفر ملّۃ واحدۃ‘‘ یہ ایک اچھا لمبا ہے، وہ اس کو تو میں اس وقت نہیں لوں گا، یہ اس میں آپ نے فرمایا: ’’امریکا اور رُوس جو ایک دُوسرے کے دُشمن ہیں، اس مسئلے میں متحد اس لئے ہیں کہ وہ اسلام کی ترقی میں اپنے اِرادوں کی پامالی دیکھتے ہیں، (یہ فلسطین کے سلسلے میں کا ہے)۔ فلسطین ہمارے آقاومولیٰ کی آخری آرام گاہ کے قریب ہے، حضورa کی زندگی میں اکثر جنگیں، یہود کے اُکسانے پر ہوئیں۔ اب یہودی، عرب میں سے عربوں کو نکالنے کی فکر میں ہیں، یہ معاملہ صرف عربوں کا نہیں، سوال فلسطین کا نہیں، سوال مدینہ کا ہے، سوال یروشلم کا نہیں، خود مکہ مکرمہ کا ہے، سوال زید اور بکر کا نہیں، سوال محمد رسولa کی عزّت کا ہے، کیا مسلمان اس موقع پر اِکٹھا نہیں ہوگا؟ آج ریزولیوشنز سے کام نہیں ہوسکتا، آج قربانیوں سے کام ہوگا۔ پاکستان کے مسلمان حکومت کی توجہ اس طرف دلائیں کہ ہماری جائیدادوں کا کم سے کم ایک فی صد حصہ اس وقت لے لے، اس طرح اس وقت ایک ارب 1249روپیہ اس غرض کے لئے جمع کرسکتی ہے (یعنی مسلمان کا علیحدہ فنڈ) جو اِسلام کی موجودہ مشکلات کا بہت کچھ حل ہوسکتا ہے۔‘‘
شام ریڈیو نے ’’الکفر ملّۃ واحدۃ‘‘ کا خلاصہ ریڈیو پر شائع کیا۔ اخبار ’’النہضۃ‘‘ زیرعنوان ’’مطبوعات‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں، میں ترجمہ پڑھ رہا ہوں: ’’السیّد مرزا محمد احمد صاحب کا خطبہ ملا، اس خطبہ میں خطیب نے تمام مسلمان کو دعوتِ اِتحاد دِی ہے، اور فلسطین کو یہودیت، صہیونیت سے نجات دِلانے کے لئے ٹھوس اِقدامات کی طرف توجہ دِلائی ہے، نیزا ہلِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین عربوں کی فوری اعانت کریں۔‘‘
اخبار ’’صوت الاصرار‘‘ نے اس کے اُوپر یہ تبصرہ لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ’’الکفر ملّۃ واحدۃ‘‘ پر:
’’امام جماعت احمدیہ نے اپنے لیکچر میں، پوری قوّت سے عالمِ صہیونیت پر حملہ کیا۔ اس لیکچر کا خلاصہ یہ ہے کہ سامراجی اِستعمار سے آزادی اور نجات، اِتحاد اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘
اخبار ’’الثورۃ‘‘ بغداد نے لکھا، ۱۸؍جون ۱۹۴۸ء کو۔
’’حضرت مرزا محموداحمد صاحب کے مضمون کا عنوان ہے: ’’ الکفر ملۃ واحدۃ ‘‘ جن احباب نے یہ مفید ٹیکسٹ شائع کیا ہے، ہم ان کی اسلامی غیرت اور اِسلامی مساعی پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘
یہ کچھ ہیں عنوان۔ ایک چھوٹا سا نوٹ (وفد کے ایک رُکن کی طرف اِشارہ کرکے) ان صاحب سے بھی لکھوایا ہے۔ یہ صاحب چھ سال وہاں رہے ہیں، فلسطین میں، تو یہ ایک صفحے کا ہے، ڈیڑھ صفحے کا ہے، چھوٹا سا ایک منٹ کا:
’’جماعت احمدیہ کا فلسطین میں مارچ ۱۹۲۸ء میں تبلیغی مشن قائم ہوا، اس وقت فلسطین میں قریباً تین ہزار پادری عیسائیت کی تبلیغ کر رہے تھے اور اَطرافِ ملک میں ان کے متعدّد مشن موجود تھے۔ احمدیہ مشن کی طرف سے عیسائی پادریوں سے 1250مناظرات ہوئے، ان کے اسلام پر اِعتراضات کے جواب میں کتب واِشتہارات شائع ہوتے رہے، پھر باقاعدہ ایک ماہنامہ ’’البشریٰ‘‘ بھی جاری ہوا، ۱۹۳۳ء میں۔ اس مشن کی طرف سے یہودیوں کو دعوتِ اسلام کے لئے عبرانی میں بھی لٹریچر شائع کیا گیا۔ یہ مشن روزِاوّل سے مقامی مسلمانوں کو اِسرائیل کے آنے والے خطرے سے اِسرائیل بننے سے بھی قبل آگاہ کرتا رہا۔ حضرت اِمام جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک مبسوط مضمون ’’الکفر ملّۃ واحدۃ‘‘ شائع ہوا، جس میں سب مسلمانوں کو متحد ہوکر اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی دعوت دی گئی، اس مضمون کی عرب ممالک کے تمام اخبارات نے تائید کی۔ ۲۶؍مئی ۱۹۴۸ء کو مسلمانانِ عالم کی مخالفت کے باوجود امریکا، انگلستان اور رُوس کی تائید سے اِسرائیل بن گیا، اس موقع پر فلسطین کے چھ، سات لاکھ باشندوں کو شام، اُردُن، لبنان اور دیگر بلادِ عربیہ میں ہجرت کرنی پڑی۔ اس وقت حیفہ، طیدہ اور دیگر دیہات کے ہزاروں احمدیوں نے بھی شام اور اُردُن میں ہجرت کی اور آج تک جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس وقت اِسرائیل میں قریباً تین لاکھ سے زائد عام مسلمان اور ہزاروں احمدی مسلمان موجود ہیں۔ مسلمانوں کی المجلس اسلامی الاعلیٰ بیت المقدس میں ہے، ان کے فیصلے مسلمان قاضی کرتے ہیں۔ جو احمدی اِسرائیل میں ہیں اور ہجرت نہیں کرسکے وہ اپنے خرچ پر احمدیہ مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہود ونصاریٰ کو دعوتِ اسلام دی جارہی ہے۔ احمدیوں کے اِسرائیل میں سارے مسلمانوں سے باہمی تعلقات نہایت اچھے ہیں۔ اس مشن کے پہلے مبلغ…‘‘
چھوڑتے ہیں، یہ بھی اس کے اندر آجائے گا۔
۱۹۴۶ء میں انڈونیشیا کی تحریکِ آزادی کا سوال جب اُٹھا تو اس وقت بھی جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی نے ان کے حق میں آواز اُٹھائی، یہ جو حوالہ ہے اس کو میں چھوڑتا ہوں۔
1251جس وقت آزادیٔ ہند اور قیامِ پاکستان کے لئے حالات پیدا ہوئے تو اس وقت آزادی کے متعلق یعنی انگریزی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کی مساعی اور کوشش میں جماعت احمدیہ نے بڑا کردار اَدا کیا۔ جو آزادیٔ ہند کے متعلق کوشش تھی، اس کے متعلق مشہور اہلِ حدیث عالم جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے یہ الفاظ لکھے: ’’یہ الفاظ کس جرأت اور حیرت کا ثبوت دیتے ہیں کہ کانگریسی تقریروں میں اس سے زیادہ نہیں ملتے، چالیس کروڑ ہندوستانیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کا ولولہ جس قدر خلیفہ جی کی اس تقریر میں پایا جاتا ہے، وہ گاندھی جی کی تقریر میں بھی نہیں ملے گا۔‘‘
یہ امرتسر ’’اہلِ حدیث‘‘ امرتسر، ۶؍جولائی ۱۹۴۵ء پر یہ آیا ہے۔
پھر جب مسلم لیگ کے بننے کا سوال پیدا ہوا تو اس وقت مثلاً: جو خضر حیات ٹوانہ تھے، یہ ایک وقت میں ڈھٹائی سی ان کی طبیعت میں پیدا ہوگئی، اور وہ مسلم لیگ کے لئے کام کرنا تو علاوہ، وہ اپنے عہدے کو چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے، تو جماعت کے بعض دوستوں کے ساتھ ان کے تعلقات تھے جن میں چوہدری ظفراللہ خان صاحب بھی تھے، ان پر زور ڈال کر ان سے استعفیٰ دِلوایا گیا، اور ہندو اَخباروں نے جماعت کے اُوپر اس وقت یہ اِعتراض کیا کہ یہ اس قسم کی حرکتیں کر رہے ہیں۔
یہ منیر کمیٹی نے بہت سارے حوالے میں نے چھوڑ دئیے ہیں۔۔۔ یہ منیر کمیٹی کی جو رپورٹ ہے اس کے یہ دو فقرے، تین فقرے جو ہیں، دِلچسپ ہیں ہم سب کے لئے:
’’عدالتِ ہذا کا صدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ نہ یہ باؤنڈری کمیشن جو تھا اس کا:
’’عدالتِ ہذا کا صدر جو اس باؤنڈری کمیشن کا ممبر تھا۔۔۔۔۔۔۔‘‘
1252نہیں، نہیں، یہ منیر کمیٹی کا ہے، وہ منیر تھے ناں، وہاں یہ اس وقت کی بات کر رہے ہیں: ’’۔۔۔۔۔۔۔ بہادرانہ جدوجہد پر شکر واِطمینان کا اِظہار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے کہ چوہدری ظفراللہ خان نے گورداسپور کے معاملے میں مسلمانوں کی نہایت بے غرضانہ خدمات انجام دیں۔‘‘
یہ منیر کمیٹی کی رپورٹ میں ہے۔
یہ محمد اِبراہیم صاحب میرسیالکوٹی کا بھی ہے۔ عنوان۔ ایک اِقتباس ہے یہ کتاب ہمارے ایک مشہور ہیں عالم، مولانا محمد اِبراہیم صاحب میرسیالکوٹی، احمدی نہیں، یعنی دُوسرے مسلمانوں میں سے، ان کا یہ اِقتباس ہے دِلچسپ: ’’میرے ایک مخلص دوست کے فرزندارجمند، لیکن گستاخ، حافظ محمد صادق سیالکوٹی نے احمدیوں کے مسلم لیگ سے موافقت کرنے کے متعلق اِعتراض کیا اور ایک امرتسری شخص نے بھی پوچھا ہے، تو ان کو معلوم ہو کہ اوّل تو میں احمدیوں کی شرکت کا ذمہ دار نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔‘‘
ان ہی پر اِعتراض ہوگیا تھا ناں: ’’۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں نہ مسلم لیگ کا کوئی عہدے دار ہوں اور نہ ان کے اور نہ کسی دیگر کے ٹکٹ پر ممبری کا اُمیدوار ہوں کہ اس کا جواب میرے ذمے ہو۔ دیگر یہ ہے کہ احمدیوں کا اس اسلامی جھنڈے کے نیچے آجانا، اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ احمدی لوگ کانگریس میں تو شامل ہو نہیں سکتے، کیونکہ وہ خالص مسلمانوں کی جماعت نہیں ہے، اور نہ احرار میں شامل ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ سب مسلمانوں کے لئے نہیں، بلکہ صرف اپنی احراری جماعت کے لئے لڑتے ہیں، جن کی اِمداد پر کانگریسی جماعت ہے اور 1253حدیث: ’’الدِّین النّصیحۃ‘‘ کی تفسیر میں خود رسولِ مقبولa نے عامۃالمسلمین کی خیرخواہی کو شمار کیا ہے، ہاں! اس وقت مسلم لیگ ہی ایک ایسی جماعت ہے جو خالص مسلمانوں کی ہے، اس میں مسلمانوں کے سب فرقے شامل ہیں۔ پس احمدی صاحبان بھی اپنے آپ کو ایک اسلامی فرقہ جانتے ہوئے اس میں شامل ہوگئے، جس طرح کہ اہلِ حدیث اور حنفی اور شیعہ وغیرہ شامل ہوگئے اور اس امر کا اِقرار کہ احمدی لوگ اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقہ ہیں، مولانا ابوالکلام کو بھی ہے۔ ان سے پوچھئے، اگر وہ اِنکار کریں گے تو ہم ان کی تحریروں میں دِکھادیں گے۔‘‘
پھر ۱۹۴۷ء میں ۔۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: جی، یہاں آنے کے بعد، Partitionکے بعد!
مرزا ناصر احمد: لاہور میں پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے، اِمام جماعت احمدیہ، کے چھ لیکچرز ہیں، جو اس وقت بڑے مقبول ہوئے، اس کو پڑھنے کی بجائے میں سارا یہاں رکھ دیتا ہوں۔
اب رہا ۔۔۔بڑا عجیب سا میرے نزدیک ہے وہ سوال۔۔۔ اکھنڈ ہندوستان۔ اس زمانے کے حالات پر بہت سارے ہیں، اور چونکہ میں دے دُوں گا حوالے میں تھوڑی سی، مختصرسی بتانا چاہتا ہوں۔
اس زمانے کے حالات یہ تھے، میرے نزدیک، کہ انگریز ہندوستان کو آزادی دینے کے لئے تیار ہوگیا، اور مسلمانوں کی کوئی ایسی تنظیم موجود نہیں تھی جو مسلمانوں کی نمائندگی میں ان کے حقوق کی پوری طرح حفاظت کرسکے۔ مسلم لیگ جو ہے، وہ تو بعد میں اپنے زور پر آئی۔ سوال اکھنڈ ہند ۔۔۔۔۔۔ میرے نزدیک اس زمانے میں، سوال اکھنڈ ہندوستان کا نہیں تھا، نہ پاکستان کا 1254سوال تھا، سوال یہ تھا ۔۔۔۔۔۔ مجھے افسوس ہے کہ صحیح اعداد وشمار میں حاصل نہیں کرسکا، اس شخص کو کہا تھا ۔۔۔۔۔۔ سارے ہندوستان میں، میرا خیال ہے کہ غالباً کوئی بارہ، چودہ کروڑ مسلمان ہوگا۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔میری تصحیح کردیں یہاں۔۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: کس زمانے کی بات کر رہے ہیں آپ؟
مرزا ناصر احمد: میں، یہی سمجھے کچھ تیس چالیس کے درمیان۔
جناب یحییٰ بختیار: سات آٹھ کروڑ کے لگ بھگ۔
مرزا ناصر احمد: ٹوٹل؟
جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں، پاکستان بننے کے کچھ دن کے بعد یہ کہتے تھے: One Hundred Million (دس کروڑ) مسلمان ہیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، ہم کتنے ملین وہاں چھوڑ کے آئے تھے؟ کتنے کروڑ ہندوستان میں رہ گیا؟
جناب یحییٰ بختیار: ابھی آج کل ۹کروڑ ہیں، اس زمانے میں تین چار کروڑ تھے۔
مرزا ناصر احمد: اس زمانے پانچ، چھ کروڑ تھا، سات کروڑ۔ بس یہی فگرز میرے ذہن میں نہیں تھی۔ ہیں جی؟ چار کروڑ؟
جناب یحییٰ بختیار: چار کروڑ۔
مرزا ناصر احمد: چار کروڑ، تو کل دس کروڑ کے قریب بنے ناں سارے مسلمان دس گیارہ، تو اس وقت سوال یہ تھا کہ یہ دس کروڑ مسلمان جو ہندوستان میں بستے ہیں، جن کا اپنا کوئی مضبوط شیرازہ نہیں، ان کی حفاظت، ان کے حقوق کی حفاظت کس طرح کی جائے؟ اس وقت مسلمان دو School of Thought (مکتبۂ فکر) دو نظریوں میں آگئے۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(خاص عرصہ متعین کریں)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہاں جو ہے ناں، آپ کہتے ہیں اس وقت ۱۹۳۰ء اور ۱۹۴۰ء جو ہے، بہت بڑا عرصہ ہے، کوئی خاص ایسا عرصہ متعین کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔
1255مرزا ناصر احمد: میری مراد وہ ہے جب انگلستان تیار ہوگیا آزادی دینے کے لئے۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(انگلستان آزادی دینے کے لئے تیار نہ تھا)
جناب یحییٰ بختیار: انگلستان تو کبھی بھی تیار نہیں تھا، جہاں تک میرا خیال ہے، جنگ ختم ہوگئی، اس کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: جب عقل مندوں نے یہ سونگھا کہ کوشش کی جائے تو ہم آزاد ہوسکتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جنگ ختم ہوگئی، اس کے بعد کی بات ہے، یہ اس وقت کے زمانے میں تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔
مرزا ناصر احمد: سائمن کمیشن یہ وہ ۔۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، وہ تو ۔۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: یعنی آزادی کی طرف قدم اُٹھ رہا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو مراعات کہہ لیں ۔۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: بہرحال میں تو اپنا عندیہ بتا رہا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: Concession کہہ لیں آپ۔
مرزا ناصر احمد: ایک زمانہ ایسا آیا ۔۔۔کوئی زمانہ لے لیں آپ۔۔۔ جب تمام مسلمانانِ ہند کے حقوق کی حفاظت کا سوال تھا، اس وقت مسلمانانِ ہند دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک کا خیال یہ تھا کہ سارے ہندوستان کے مسلمان اکٹھے رہیں تو ان کے حقوق کی حفاظت زیادہ اچھی ہوسکتی ہے ۔۔۔میں صرف Out-line لے رہا ہوں۔۔۔ اور ایک کا خیال بعد میں یہ ہوا۔ ہاں! اس زمانے میں ہمارے قائداعظم محمد علی صاحب جناح کا بھی یہی خیال تھا کہ سارے مسلمان اگر اکٹھے رہیں تو ان کے حقوق کی حفاظت زیادہ اچھی طرح ہوسکتی ہے۔ چنانچہ یہ رئیس احمد جعفری نے لکھا ہے، ان کی کتاب میں سے لیا ہے، ۲۰۰ اور ۲۰۱ صفحے سے، قائداعظم کے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ:1256 ’’میں حیران ہوں کہ میری ملّی خودداری اور وقار کو کیا ہوگیا تھا، میں کانگریس سے صلح ومفاہمت کی بھیک مانگا کرتا تھا، میں نے اس مسئلے کے حل کے لئے اتنی مسلسل اور غیرمنقطع مساعی کیں کہ ایک انگریز اخبار نے لکھا: ’’مسٹر جناح ہندومسلم اِتحاد کے مسئلے سے کبھی نہیں تھکتے۔‘‘
لیکن گول میز کانفرنس (جس کا ابھی میں نے اُوپر ذِکر کیا) گول میز کانفرنس کے زمانے میں مجھے اپنی زندگی میں سب سے بڑا صدمہ پہنچا۔ (وہی لے لیں وقت)۔ جیسے ہی خطرے کے آثار نمایاں ہوئے، ہندوئیت دِل ودِماغ کے اِعتبار سے اس طرح نمایاں ہوئی کہ اِتحاد کا اِمکان ہی ختم ہوگیا۔ اب میں مایوس ہوچکا تھا۔ مسلمان بے سہارا اور ڈانواںڈول ہو رہے تھے۔ کبھی حکومت کے یارانِ وفادار کی رہنمائی کے لئے میدان میں آموجود ہوتے تھے، کبھی کانگریس کی نیازمندانہ (خصوصی ان کی) قیادت کا فرض ادا کرنے لگتے تھے۔ مجھے اب ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا اور نہ ہندو ذہنیت میں کوئی خوشگوار تبدیلی کرسکتا ہوں اور نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں۔ آخر میں نے لندن ہی میں بودوباش کا فیصلہ کرلیا۔ پھر بھی ہندوستان سے میں نے تعلق قائم رکھا، اور چار سال کے قیام کے بعد میں نے دیکھا کہ مسلمان خطرے میں گھرے ہوئے ہیں، آخر میں نے رختِ سفر باندھا اور ہندوستان پہنچ گیا اور یہاں آنے کے بعد ۱۹۳۵ء میں، میں نے صوبائی اِنتخاب کے سلسلے میں صدر کانگریس سے مفاہمت ومصالحت کے لئے گفت وشنید کی اور ایک فارمولا ہم دونوں نے مرتب کیا، لیکن ہندوؤں نے اسے منظور نہیں کیا اور معاملہ ختم ہوگیا۔‘‘
تو اس وقت انہوں نے آپ ہی لکھا ہے کہ مفاہمت ومصالحت کی کوشش یہ کر رہے تھے۔ اس لئے کر رہے تھے کہ ان کے دِماغ میں ۔۔۔درد تھا مسلمان کا، ان کے دلوں میں، ان بزرگوں 1257کے، اور ان کی کوشش، ان کا خیال یہ تھا کہ سارے مسلمان، دس کروڑ جو اس وقت تھے۔۔۔ اب بڑھ گئے۔۔۔ اگر یہ اکٹھے رہیں ہندوستان میں، اور اپنے حقوق، دستوری طور پر Constitutionally (آئینی طور پر) منواسکیں تو بہتر ہے۔ لیکن ہندوانہ ذہنیت نے اس چیز کو قبول نہیں کیا اور انہوں نے ایسا اِظہار کیا گویا وہ مسلمانوں پر حکومت کرنا چاہتے ہیں، انہیں اپنی غلامی میں رکھنا چاہتے تھے، اس وقت دو حصوں میں ہوگئے مسلمان، ایک کے لئے پاکستان میں آنا ممکن ہی نہیں تھا، عملاً وہ رہ رہے ہیں وہاں، اس وقت کئی کروڑ مسلمان وہاں ہندوستان میں بس رہے ہیں، اور ایک کے لئے ممکن ہوگیا۔ بعد کے حالات ایسے ہوئے۔ یہ جو کوشش تھی، جس کی طرف جناح صاحب نے اِشارہ کیا، یہ جماعت احمدیہ کی تھی ایک وقت میں۔ اگر سارے مسلمانانِ ہند اکٹھے رہیں تو وہ اپنے حقوق کی اچھی طرح حفاظت کرسکتے ہیں۔ جب پاکستان کے بننے کے آثار پیدا ہوئے تو وہ لوگ جو دُوسرا نظریہ جو تھا، وہ رکھتے تھے کہ سارے اکٹھے رہیں، یا وہ لوگ جن کو حکومت کانگریس نے خریدا ہوگا، کہا کچھ نہیں جاسکتا، میری طبیعت طبعاً حسنِ ظن کی طرف پھرتی ہے۔ بہرحال، انہوں نے اپنے لئے طاقت کا ایک چھوٹا سا سہارا ۔۔۔جماعت تو بہت چھوٹی سی ہے، کمزور یہ کیا کہ۔۔۔ یہ پروپیگنڈا شروع کردیا، جماعت میں کہ ’’تم پاکستان کیوں جانا چاہتے ہو؟ تمہارے ساتھ تو یہ ہمیشہ سختی کرتے ہیں، افغانستان میں کیا ہوا؟ فلاں جگہ کیا ہوا؟‘‘ اس وقت خلیفہ ثانی نے علی الاعلان یہ کہا کہ اس وقت سوال یہ نہیں ہے کہ جماعت احمدیہ کے مفاد کس جا ہیں؟ اس وقت سوال یہ ہے کہ مسلمانانِ ہند جو ہیں، وہ عزت کی زندگی کس طرح گزار سکتے ہیں؟ ان کے حقوق کی کس طرح حفاظت کی جاسکتی ہے؟ اگر بفرضِ محال جماعت احمدیہ کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے، پاکستان بننے کے بعد، جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو، تب بھی میں یہ کہوں گا کہ پاکستان بننا چاہئے اور ہم ان کے ساتھ جائیں گے۔ کہیں انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا ۔۔۔۔۔۔۔ میں خود شاہد ہوں، میں نے وہ ۱۹۴۷ء کی وہ جو جدوجہد تھی، مسلم لیگ کے ساتھ بیٹھ کے، ان کی جو پارٹی تھی، شملہ میں بھی وہ جو ہورہا تھا، ہاں، یہی جو اپنے بیٹھا ہوا تھا، کمیشن Partition کا، تو 1258شملہ میں بھی میں ساتھ رہا، ساتھ بیٹھے، ہم نے ساتھ کوششیں کیں، اس وقت نظر آرہا تھا کہ یہ شرارت کر رہے ہیں، ہندو اس وقت بھی۔ ’’ہم سے‘‘ میری مراد ہے وہ ساری پارٹی، جو وہاں تھا۔ ہم نے ۔۔۔ تو یہ پہلے وقت میں پتا لگ گیا تھا، اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ یا ان کے بداِرادے ہیں، وعدہ یہ کر رہے تھے، ریڈکلف صاحب، جنہوں نے باقاعدہ اِشارۃً یہ وعدہ کیا تھا کہ سارا گورداسپور اور فیروزپور کے اکثر حصے جو ہیں، وہ پاکستان میں جائیں گے، لیکن وہاں ہمیں پتا لگا کہ یہ دھوکابازی کر رہے ہیں اور وہاں جاکے اِطلاع دی ۔۔۔ تو بالکل یک جان ہوکر اس مجاہدے میں، اس Fight (مقابلے) میں، جو جنگ ہو رہی تھی، اس کے اندر شامل ہوئی جماعت اور اَب جب میں سوچتا ہوں، جن لوگوں نے ہماری جیسی قربانیاں دیں، قیامِ پاکستان کے لئے، پاکستان میں جو آنے والے ہیں خاندان، انہوں نے ۔۔۔ اور میں بیچ میں رہا ہوں جنگ کے۔۔۔ میرے اندازے کے مطابق پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ہماری عصمت قربان ہوئی ہے پاکستان کے لئے اور جو قتل ہوئے ہیں ان کا تو شمار ہی نہیں۔ مسلمان بچوں کو سکھوں نے اپنے نیزوں کے اُوپر چھیدا ہے، اُچھال کے، میں گواہ ہوں ان کا۔ میں سب سے آخر میں یہاں آیا ہوں، اور بڑی قربانی دی ہے، لیکن جو پیچھے رہ گئے، انہوں نے بھی کم قربانی نہیں دی۔ آج تک وہ قربانی دے رہے ہیں، بجائے اس کے کہ ہم یہ سوچیں، سر جوڑ کر، کہ جو ہندوستان میں مسلمان رہ گیا، ان کے حقوق کے لئے باہر سے ہم جو کرسکتے ہیں، ہمارے حالات بدل گئے ہیں، ان کے حقوق کے لئے کوئی پروگرام بنائیں، ان کے حوصلے بڑھانے کے لئے کوئی کام کریں۔ بہت سے اور طریقے ہیں، صرف حکومت کے اندر رہ کے ہی نہیں، باہر سے بھی ہم بہت ساری خدمت ان کی کرسکتے ہیں۔ جنہوں نے ہماری جیسی، ہم سے بڑھ کے نہیں، ہماری جیسی قربانیاں دی ہیں، قیامِ پاکستان میں، اور وہ پاکستان نہیں آسکے، وہ وہاں پھنس گئے، اس کی بجائے یہ اب نظر آگیا ہمیں کہ ہمارا مشرقی پاکستان بھی علیحدہ ہوگیا۔ تو میرے نزدیک تو کوئی اِعتراض نہیں ہے، اس پس منظر میں، اس واسطے جو حوالے ہیں، وہ میں اچھی طرح وہ کردیتا ہوں۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(فرقان بٹالین؟)
1259فرقان بٹالین۔۔۔ یہ چھوٹا سا ہے۔ اس کے اُوپر اِعتراض ہوتے ہیں بڑے اخباروں میں، میں اس لئے اس کو لے رہا ہوں، تو فرقان بٹالین، یہ بھی میں کروں گا، میں دوتین منٹ میں، زبانی مختصراً بتادیتا ہوں۔ جس وقت پاکستان بنا، کشمیر میں جنگ شروع ہوگئی، اس وقت حالات اس قسم کے تھے کہ کھل کے ہماری فوجیں وہاں Commit نہیں کی جاسکتی تھیں، اس وقت کشمیر میں بہت سی رضاکار بٹالین بنیں، اس وقت ہمارے سرحد کے غیور پٹھان جو تھے، ان کے لشکر آئے، اور پاکستان کی آرمی کو اس طرح Commit نہیں کیا گیا جس طرح آرمی Commit کی جاتی ہے، چونکہ اس وقت ضرورت تھی رضاکاروں کی، ہمارا کسی، اس میں اِرادہ نہیں ہے تھا، میں قسم کھاکے کہہ سکتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ اس کو کہ آرمی زور دے رہی تھی، خلیفۃالمسیح پر کہ ایک بٹالین Raise کرو، ہمیں ضرورت ہے، اور وہ کہہ رہے تھے کہ میں مصلحتیں اور جو ہمارے متعلق ہے، کیوں ہمیں یہ تنگ کرتے ہو۔ انہوں نے کہا: اگر آپ کو پیار ہے کہ محاذ کے اُوپر روکے جائیں وہ، تو آرمی تیار کریں، ایک بٹالین، دیں ہمیں، ایک بٹالین۔ ان کے زور دینے پر ایک رضاکارانہ بٹالین تیار کی گئی، اور ان کو کوئی تجربہ نہیں تھا لڑائی کا، سرائے عالمگیر میں بیس کیمپ بنا، وہاں دوتین مہینے کی ٹریننگ ہوئی۔ لیکن جذبے کا یہ حال تھا کہ ایک نوجوان وہاں رضاکار کے طور پر، نوجوان جس کا قد بڑا چھوٹا تھا، آگیا، اور جب مارچ وغیرہ سکھاکے چاندماری کے لئے لے گئے اس کو، تو پتا لگا کہ اس کی اُنگلی ٹھیک ٹریگر پر نہیں پہنچتی، اتنا ہاتھ ہے اس کا چھوٹا، اور وہ بضد، میں نے جانا ہے محاذ پر، تب انہوں نے کہا: اچھا! تو پھر رائفل چلاکے دِکھاؤ۔ تو اس نے یہاں رکھا رائفل کا بٹ، یہاں رکھنے کے بجائے اس طرح مڑکر، فائر کیا وہاں، اس کے جذبے کو دیکھ کر وہ آرمی افسر جو فرقان بٹالین کی ٹریننگ وغیرہ کے لئے جو باقاعدہ افسر تھے، انہوں نے اس کو اِجازت دے دی، اس جذبے کے ساتھ وہاں گئے، وہاں آرمز ایشو ہوئے جس طرح آرمی ایشو کرتی ہے آرمز، خیر، جو ہوا وہ سب تو یہاں ضرورت نہیں ہے۔ وہ Disband (توڑدی) ہوئی۔ اب ساری 1260دُنیا کو پتا ہے، فوج کے افسر یہاں ہیں، اب اِعتراض یہ ہوگیا کہ وہ ساری رائفلیں جو فرقان بٹالین کو دِی گئی تھیں، وہ فرقان بٹالین لے کے بھاگ گئی اور انہوں نے ربوہ کی پہاڑیوں کے اندر ان کو دفن کردیا۔ ایک منٹ میں یہ سوال حل ہوتا ہے۔ آرمی جنہوں نے یہ ایشو کی تھیں، ان سے پتا کریں کہ انہوں نے ایک ایک رائفل، ایک ایک راؤنڈ جو ہے وہ واپس ملا کہ نہیں؟ اور اس وقت کے کمانڈراِنچیف نے ایک نہایت اعلیٰ درجے کا سرٹیفکیٹ اس بٹالین کو دِیا اور شکریہ کے ساتھ اس کو بغیر آرمز کے، اس کو وہاں بھیج دیا۔ اس بٹالین کو کوئی وردیاں ایشو نہیں ہوئی تھیں۔ لنڈے بازار سے پھٹی ہوئی وردیاں انہوں نے پہنیں، اور بارشوں میں، کسی قمیض کی، وہ بانھ نہیں ہے، اور کسی کی بانہیں لٹک رہی ہیں، اور یہ نہیں ہے، دھڑ، میری ان آنکھوں نے دیکھا ہے ان کو اس طرح لڑتے ہوئے دُشمن سے اور بہرحال ۔۔۔۔۔۔۔۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(غیرمتعلقہ باتیں)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! معاف کیجئے، یہ سوال، بالکل پوچھا نہیں گیا، اگر باہر کی باتیں آجائیں، اس قسم کی کہ اخبار کیا لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: نہیں ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصرا حمد: ۔۔۔۔۔۔۔ میں بند کردیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، اس قسم کا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ ضرور کیجئے! مگر میں یہ گزارش کر رہا ہوں کہ یہ سوال کسی نے نہیں پوچھا۔ پر میں نے کسی اسٹیج پر نہیں پوچھا فرقان فورس کے بارے میں۔
Mirza Nasir Ahmad: I wrongly foresaw it.۱؎
(مرزا ناصر احمد: مجھے غلط فہمی ہوئی!)
Mr. Yahya Bakhtiar: No, but I did not ask.
(جناب یحییٰ بختیار: میں نے آپ سے یہ نہیں پوچھا)
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(مرزاناصر کی معذرت)
1261مرزا ناصر احمد: نہیں، بس میں نے معذرت کردی، میں بولتا ہی نہیں ایک لفظ آگے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ پورا کرلیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں نہیں بولوں گا۔ نہیں، میری غلطی ہے یہ، اندازے کی غلطی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ قارئین! کتنا بڑا کذب ہے کہ مجھے غلط فہمی ہوئی۔ یا اپنے دِل کے پھپھولے جلا رہے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، آپ کہہ لیں۔ If you want to explain something which you think is against your interest...... (اگر آپ ایسی بات کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں جو آپ کے خلاف جاتی ہے…)
Mirza Nasir Ahmad: No, no, no not now.
(مرزا ناصر احمد: نہیں ابھی نہیں)
ٹھیک ہے، شکریہ! میں، پہلے آپ مجھے روک دیتے تو میں بند کردیتا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آپ کہنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم نے سوال نہیں پوچھا کوئی اس قسم کا ۔۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔۔۔ نہ پوچھنے کا لسٹ میں تھا، اگر ہوتا بھی تو میں آپ کو کہہ دیتا کہ آپ بے شک کریں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ایک اور سوال ہے، وہ میں پوچھ ہی لیتا ہوں، وقت ضائع کرنے کی بجائے۔ چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے اتنی خدمت کی ہے عرب ممالک کی، یہ حوالے میرے پاس ہیں، بھرے پڑے ہیں ان کی تعریف میں۔ تو آگے میں کچھ نہیں کہتا۔
ہاں! کشمیر رہ گیا ہے۔ ۱۹۳۱ء کی ۔۔۔۔۔۔۔
 
Top