• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

قومی اسمبلی کی کاروائی ( ساتواں دن )

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(۱۸۵۷ء غدر کے متعلق)
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، جوابات بہت ہیں۔ (Pause)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ جو ۱۹۴۹ء کا خطبہ ہے اس کی ایک کاپی یہاں فائل کرادیں گے جی؟
مرزا ناصر احمد: میں دیکھتا ہوں، اگر Spare (فالتو) ہوگی تو ضرور۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، بعد میں کرادیں جی۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ ایک سوال تھا ۱۸۵۷ء کے غدر کے متعلق۔ تو وہ اس میں جو نوٹ ہم نے کہا ہے… اس میں یہ تو صرف لفظ نوٹ ہوسکتے ہیں: ’’چوروں اور قزاقوں کی طرح غدر کرنے والوں نے غدر کیا۔‘‘
تو اگر آپ پھر آپ … سوال ہو یہاں تو دہرادیں۔ میرے پاس جواب ویسے ہے۔ یہ میں پوچھ اس لئے رہا ہوں کہ جو حوالہ دیا گیا تھا اس میں ’’چوروں اور قزاقوں کی طرح‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔ تو ویسے ، ویسے میںجواب دے دیتا ہوں۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) مجھے دے دو۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ کے پاس کیا ہے؟
874مرزا ناصر احمد: یہاں انہوں نے جو لکھا ہے ’’چوروں اور قزاقوں…‘‘
جناب یحییٰ بختیار: ’’…اور حرامیوں…‘‘
مرزا ناصر احمد: ’’‘‘…قزاقوں کی طرح، حرامیوں کی طرح۔‘‘ (Pause)
غدر یا later on (بعد ازاں) تحریک آزادی کے نام سے ایک واقعہ ۱۸۵۸ء میں ہوا، ۱۸۵۷ء میں ہوا۔ یہ واقعہ اس سال سے کہیں پہلے کا ہے جس سال جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی گئی ، اس کے متعلق اس زمانہ کے لوگوں نے جو کچھ لکھا ہے، وہ ہمارے سامنے ہو تب ہم صحیح نیتجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ چنانچہ سنئے: سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں رسالہ ’’اشاعت السنۃ‘‘ جلد:۶،نمبر:۷، ۲۸۸ صفحے پر اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے اس میں لکھا ہے--- کہ : ’’مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے اصل معنی جہاد کے لحاظ سے --- اصل معنی جہاد کے لحاظ سے بغاوتِ ۱۸۵۷ء کو شرعی جہاد نہیں سمجھا (بلکہ اس کو کیا، سمجھا)بلکہ اس کو بے ایمانی، عہد شکنی، فساد، عناد خیال کرکے اس میں شمولیت اور اس کی معاونت کو معصیت ---گناہ قرار دیا۔‘‘
یہ مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی۔
خواجہ حسن نظامی صاحب معروف ایک ہستی ہیں، وہ فرماتے ہیں: ’’یہ اقرار کرنا قرین انصاف ہے کہ ہندوستانی فوج والوں اور دیسی باشندوں نے بھی غدر کے شروع میں سفاکی اور بے رحمی کو حد سے بڑھا دیا تھا اور ان کے ستم ایسے ہولناک تھے کہ ہر قسم کی سزا ان کے لئے جائز کہی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بے کس عورتوں کو قتل کیا۔ انہوں نے حاملہ عورتوں کو ذبح کرنے سے دریغ نہ کیا۔ انہوں نے دودھ پیتے بچوں کو اچھالا اور سنگینوں کی نوکوں پر روک کر بے زبان معصومو875ں کو چھید ڈالا۔ وہ حاملہ عورتوں کے پیٹ میں تلواریں گھونپ دیتے تھے۔ غرض کوئی ظلم وستم ایسا نہ تھا جو ان کے ہاتھ سے انگریزوں اور ان کے بیوی بچوں پر نہ ٹوٹا ہو۔ ان کے شرمناک افعال نے تمام ہندوستان کو ہمیشہ کے لئے رحم وانصاف کی نظروں میں ذلیل کردیا۔ میرا سر شرم وندامت سے (یہ حسن نظامی صاحب ہیں) میرا سر شرم وندامت سے اونچا نہیں ہوتا جب میں اپنی قوم کی اس دردناک سفاکی کا حال پڑھتا ہوں جو اس نے دہلی شہر کے اندر ۱۱؍مئی ۱۸۵۷ء اور اس کے بعد کے زمانہ میں رو ا رکھی۔‘‘ (دہلی کی جان کنی ص۲۳، از خواجہ حسن نظامی)
انہوں نے خود لکھا ہے یہ۔
بہادر شاہ ظفر۔ بہادر شاہ ظفر نے ۹؍مارچ ۱۸۵۸ء کو دیوان خاص قلعہ دہلی میں عدالت کے سامنے جو تحریری بیان دیا اس میں لکھا کہ: ’’میں نے دو پالکیاں روانہ کیں اور حکم دے دیا کہ توپیں بھی بھیج دی جائیں۔ اس کے بعد میں نے سنا پالکیاں پہنچنے بھی نہ پائی تھیں کہ مسٹر فیزئیر، قلعہ دار اور لیڈیاں سب کے سب قتل کردیئے گئے۔ (اس سے) زیادہ دیر نہیںہوئی تھی کہ باغی سپاہ دیوان خاص میں گُھس آئی، عبادت خانہ میں بھی ہر طرف پھیل گئی اور مجھے چاروں طرف سے گھیر کر پہرہ متعین کردیا۔ یہ نمک حرام- یہ نمک حرام- کئی انگریز مرد اور عورت کو گرفتار کرکے لائے۔ ان کو انہوں نے میگزین میں پکڑا تھا اور ان کے قتل کا قصد کرنے لگے۔ آخری وقت اگرچہ میں مفسد بلوائیوں کو حتی المقدور باز رکھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر انہوں نے میری طرف مطلق التفات نہیں کیا اور ان بے چاروں کو قتل کرنے باہر لے گئے۔ احکام کی نسبت معاملہ کی اصل حالت یہ ہے کہ جس روز سپاہ آئی، انگریزی افسروں کو قتل کیا اور مجھے قید کرلیا، میں ان کے اختیار میں رہا، میرا اپنا کوئی اختیار نہیں تھا۔ ‘‘
876یہ لکھنے والے ہیں ’’بہادر شاہ کا مقدمہ‘‘ از خواجہ حسن نظامی اور اس کے اوپر خواجہ حسن نظامی صاحب فرماتے ہیں کہ بہادر شاہ بادشاہ کے اپنے دستخط ہیں۔
سرسید احمد خاں: ’’غور کرنا چاہئے کہ اس زمانہ میں جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کیا، ایسے خراب اور بَد رویہ اور بد اطوار آدمی تھے کہ بجز شراب خوری کے اور تماش بینی اور ناچ اور رنگ دیکھنے کے کچھ وظیفہ ان کا نہ تھا۔ بھلا یہ کیوں کر پیشوا اور مقتدا جہاد… کے گنے جاسکتے تھے؟ اس ہنگامے میں کوئی بات بھی مذہب کے مطابق نہیں ہوئی… سب جانتے ہیں کہ سرکاری خزانہ اور اسباب ، جو امانت تھا، اس میں خیانت کرنا، ملازمین کو نمک حرامی کرنامذہب کی رو سے درست نہ تھی۔ صریح ظاہر ہے کہ بے گناہوں کا قتل، علی الخصوص عورتوں اور بچوں اور بڈھوں کا، مذہب کے بموجب گناہ عظیم تھا۔ پھر کیوں کر یہ ہنگامہ غدر جہاد ہوسکتا تھا؟ ہاں، البتہ چند بدذاتوں نے دنیا کی طمع، اپنی منفعت اور اپنے خیالات کو پورا کرنے اور جاہلوں کے بہکانے کو ، اپنے ساتھ جمعیت کو جمع کرنے کو جہاد کا نام دے لیا۔ پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرام زدگیوں میں سے ایک حرام زدگی تھی، نہ واقعہ میں جہاد۔ مگر جب بریلی کی فوج دہلی پہنچی اور دوبارہ فتویٰ ہوا، جو مشہور ہوا اور جس میں جہاد کرنا واجب لکھا ہے، بلاشبہ اصلی نہیں۔ چھاپنے والے اس فتویٰ نے جو ایک مفسد اور نہایت قدیمی بدذات آدمی تھا…جاہلوں کے بہکانے اور ورغلانے کو لوگوں کے نام لکھ کر اور چھاپ کر اس کو رونق دی تھی، بلکہ ایک آدھ مہر ایسے شخص کی چھاپ دی تھی، جو قبل غدر مرچکا تھا۔‘‘ یہ ’’اسباب بغاوت ہند ‘‘ صفحہ ایک ہی ہے۔
877مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لکھتے ہیں: ’’عہد وایمان والوں سے لڑنا ہرگز شرعی جہاد…ملکی ہو خواہ مذہبی… نہیں ہوسکتا… عہد وایمان والوں سے لڑنا ہرگز شرعی جہاد نہیں ہوسکتا، بلکہ عناد وفساد کہلاتا ہے۔ مفسدہ ۱۸۵۷ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گنہگار ور بحکم قرآن وحدیث وہ مفسد وباغی کردار تھے… بدرکردار تھے… اکثر ان میں عوام کالانعام تھے۔ بعض جو خواص وعلماء کہلاتے تھے… وہ بھی اصل علومِ دین قرآن وحدیث سے بے بہرہ تھے یا نافہم وبے سمجھ۔‘‘ (رسالہ اشاعت السنۃج۹،نمبر۱۰ص۳۰۹-۳۱۰،۱۸۸۶ئ)
پھر نواب صدیق حسن خاں صاحب جو فرماتے ہیں وہ بھی سنئے۔ نواب صدیق حسن خاں صاحب نے کتاب ’’ہدایت السائل‘‘ اور دوسری متعدد کتابوں میں یہ لکھا ہے: ’’ہندوستان کے بلاد دارالسلام ہیں، نہ دار الحرب۔ برٹش گورنمنٹ سے ہندوستان کے تمام رؤسائ، رعایا کا ہمیشہ کے لئے معاہدہ دوستی ہوچکا ہے۔ لہٰذا ہندوستان کے کسی شخص کا برٹش گورنمنٹ سے جہاد کرنا اور اس معاہدہ کو توڑنا جائز نہیں ہے۔ جو غدر ۱۸۵۷ء میں برٹش گورنمنٹ سے مفسدوں نے سلوک کیا وہ فساد تھا، نہ جہاد۔‘‘
پھر شمس العلماء مولانا ذکاء اللہ خان صاحب فرماتے ہیں: ’’جب تک دہلی میں بخت خان نہیں آیا جہاد کے فتویٰ کا چرچہ شہر میں بہت کم تھا۔ یہ کام لچے شہدے مسلمانوں کا تھا کہ وہ ’’جہاد جہاد ‘‘پکارتے پھرتے تھے۔ مگر جب بخت خان ، جس کا نام اہل شہر نے کم بخت878 خان رکھا… دہلی میں آیا تو اُس نے یہ فتویٰ لکھایا۔ اس نے جامعہ مسجد میں مولویوں کو جمع کرکے جہاد کے فتویٰ پر دستخط ومہریں ان کی کرالیں اور مفتی صدرالدین نے بھی ان کے جبر سے… اپنی جعلی مہر کردی۔ لیکن مولوی محبوب علی وخواجہ ضیاء الدین نے فتویٰ پر مہریں نہیں دیں اور بے باکانہ کہہ دیا کہ شرائط جہاد موافقت مذاہب اسلام موجود نہیں۔ جن مولویوں نے فتویٰ پر مہریں کی تھیں وہ کبھی پہاڑی پر انگریزوں سے لڑنے نہیں گئے۔ مولوی نذیر حسین، جو وہابیوں کے مقتدا اور پیشوا تھے، ان کے گھر میں تو ایک میم چھپی بیٹھی تھی۔‘‘
یہ ’’تاریخ عروجِ عہد سلطنت انگلشتہ در ہند‘‘ حصہ سوئم ۶۷۵ اور ۶۷۶۔ یہ مولانا خان بہادر شمس العلماء محمد ذکاء اللہ صاحب کی تحریر ہے۔ اس … پس … ہاں، ایک اور رہ گیا۔
شیخ عبدالقادر صاحب، بڑی معروف ہستی ہیں، شیخ عبدالقادر صاحب، بی۔اے بیرسٹر ایٹ لائ، سیکرٹری شرافت کمیٹی، سیالکوٹ،اپنے رسالہ ’’ترکوں کے اپنوں پر فرضی مظالم‘‘ میں تسلیم کرتے ہیں کہ: ’’۱۸۵۷ء میںہندوستان میں غدر مچا۔اس غدر کو فرو کرنے کے لئے انگریزوں کی افواج کو مصر سے گزر کر ہندوستان پہنچنے کی اجازت۔ حضور خلیفہ المسلمین سلطان المعظم نے ہی دی تھی۔ جنوبی افریقہ میں جنگ بوئرز ہوئی۔ ترکوں نے انگلستان کا ساتھ دیا۔ ہزارہا ترکوں نے انگریزی جھنڈے کے نیچے لڑنے مرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کردیں۔ مساجد میں انگریزوں کی فتح اور نصرت کے لئے دعائیں کی گئیں۔‘‘
879اس پس منظر میں اس تحریر پر اعتراض کوئی وزن نہیں رکھتا، جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ’’۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ بجز بدچلنی اور فسق وفجور اسلام کے رئیسوں کو اور کچھ یاد نہ تھا، جس کا اثر عوام پر بھی بہت پڑ گیا تھا۔ انہی ایام میں انہوںنے ایک ناجائز اور ناگوار طریقہ سے سرکار انگریزی سے باوجود نمک خوار اور رعیت ہونے کے مقابلہ کیا، حالانکہ ایسا مقابلہ اور ایسا جہاد ان کے لئے شرعاً جائز نہیں تھا۔‘‘
جو میں نے پہلے حوالے پڑھے ہیں، اس کے مقابلہ میں یہ بہت ہی نرم حوالہ ہے، اور کوئی اس کے اوپر اعتراض نہیں(اپنے وفد کے ایک رکن سے) اور بھی ہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: آپ کے پاس اور ہیں ابھی؟
مرزا ناصر احمد: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: میں بعد میں سوال کروں گا آپ سے۔
مرزا ناصر احمد: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ صرف وہ پڑھ لیجئے۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
ایک یہ ایک سوال تھا ’’تبلیغ رسالت‘‘ جلد نہم۔ وہ ، وہ ’’جہنمیوں ‘‘ کے متعلق۔ وہ صرف ایک ہی سوال ہے، ایک ہی عبارت کے متعلق۔ وہ دوبارہ آگیا تھا۔ پہلے میں اس کا جواب دے چکا ہوں، اس کی ضرورت نہیں ہے۔
ایک سوال ہے’’سیرت الابدال‘‘ ایک کتاب ہے، اس کے صفحہ:۱۵۳ پر …۹۳ پر… Hundred and ninty three (۱۹۳) پر … اس صفحے پر کوئی عبارت کے متعلق ایک اعتراض ہے۔ تو اگر وہ عبارت … وہ نوٹ نہیں ہم کرسکے… وہ عبارت اگر پڑھ دی جائے، صفحہ:۱۹۳ کی، تو زیادہ اچھا ہے۔ ورنہ میں اس کے بغیر جواب دے دیتا ہوں۔
880جناب یحییٰ بختیار: یہ کونسی کتاب ہے؟
مرزا ناصر احمد: (سیرت الابدال ص۱۹۳) پر کوئی عبارت ہے، جس کے متعلق سوال کیا گیا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ اگلے سوال کا جواب دے دیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں اسی کا جواب دے دیتا ہوں۔ پھر اور کوئی ضرورت پڑے تو آپ سپلیمنٹری میں کردیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ’’سیرت الابدال‘‘ جو کتاب ہے اس کے صرف سولہ صفحے ہیں تو ان سولہ صفحوں میں سے وہ کون سا ص۱۹۳ تلاش کیا گیا ہے جس پر اعتراض کیا گیا ہے؟ کتاب کے سارے صفحے ہی سولہ ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کسی دوسرے Volume (جلد)کا ہوگا۔
----------
[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by Madam Deputy Speaker (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)]
(اس موقع پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی جسے مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لیا)
----------
مرزا ناصر احمد: کسی Volume (جلد) میں بھی… ہم نے وہ چیک کیا۔ جو اکٹھے چھپی ہیں کئی کتابیں اکٹھی، اس Volume (جلد) میں بھی ۱۴۸ پر ختم ہوجاتی ہے، ایک سو چوالیس کے اوپر یہ ختم ہوجاتی ہے یہ کتاب۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ حوالہ ہے ہی نہیں؟
مرزا ناصر احمد: یہ صفحہ ہی کوئی نہیں۔ میں اب آتاہوں، میں جواب دیتا ہوں اسے۔ ۱۹۳ صفحہ ہی موجود نہیںکسی ایڈیشن میں بھی۔ یعنی جہاں اکٹھی کتابیں چھپی ہیں، یہ ہے۔ اکٹھی جو چھپی ہیں۔ ہمارے ’’روحانی خزائن‘‘ کے نام سے، اس میں ۱۲۹ سے یہ شروع ہوئی ہے کتاب، اور یہ881 یہاں ختم ہوگئی ۱۴۴ پر ۔ یہ وہ میں نے … یہ جلد ۲۰ ، اس میں بھی نہیں ہے۔ اچھا! رہے وہ ۱۶ صفحے جو کتاب میں ہیں تو اس میں وہ حوالہ نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں ہے بالکل؟
مرزا ناصر احمد: نہیں ہے۱؎۔
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، ہم دیکھ لیں گے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ دیکھ لیں۔ (Pause)
ایک سوال تھا قاضی محمد اکمل صاحب کی ایک نظم کے ایک شعر پر…
جناب یحییٰ بختیار: یہ سوال ختم ہوگیا ہے۔
مرزا ناصر احمد: وہ پہلا جو ہے ’’دافع البلائ‘‘ والا، وہ ختم ہوگیا؟
جناب یحییٰ بختیار: کونسا؟ نہیں جی، یہ اس پر آپ نے کہا کہ ’’نہیں، یہ بات کہی تھی کہ وہ … ان کو جماعت سے نکال دیتے۔‘‘ پھر آپ کے سامنے پڑھ کر سنایا گیا، یہ تو ختم ہوگیا تھا، اس کے بعد تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، اس میں کچھ حوالے اور ملے ہیں۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(محمد پھر آئے ہیں ہم میں،معاذاﷲ)
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، آپ اس کو آگے Elaborate (واضح ) کرتے ہیں؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں نہیں، Elaborate (واضح)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں ، کرلیجئے۔
مرزا ناصر احمد: Elaborate (واضح )یہ کررہے ہیں کہ جس وقت … یہ ایک تو جو نظم ہے، اس میں یہ شعر بھی موجود ہے:

’’غلام احمد مختار ہوکر
یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں‘‘


882نبی اکرمﷺ کا غلام ہوکے ، جو بھی آپ کا مقام ہے وہ ہے۔

اسی نظم میں وہ ہے یہ شعر:

’’محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں‘‘


ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ چونکہ پوری بحث میں مرزاناصر نے عبارت نہیں پڑھی کہ یہ پوچھے جانے والی عبارت اس کتاب میں نہیں۔ تو ہمیں بھی کیسے معلوم ہو کہ کون سا حوالہ تھا جسے مرزاناصر کتاب کے چکر میں چھپا رہے ہیں۔ حوالہ کی عبارت ہوتی تو ہم اس عبارت کو مرزا کی جس کتاب میں ہوتی نکال لاتے۔ مطلق حوالہ کا انکار نہیں کیا۔ اس کتاب کے صفحات میں وہ عبارت نہیں یہ کہہ کر گول کر گئے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
’’آگے سے بھی بڑھ کر‘‘ کا مفہوم غلط فہمی پیدا کرسکتا ہے۔ انہوں نے ۱۳؍اگست ’’الفضل‘‘میں یہ مضمون لکھا کہ: ’’میرا ہرگز مطلب نہیں تھا جو میری طرف منسوب کیا جارہا ہے۔ میں نے تو یہ کہا تھا کہ حدیث کی رو سے امت محمدیہ میں ہر صدی کے سر پر مجدد آتے ہیں اور ان مجددین کا اپنا کچھ نہیں ہوتا اور نبی اکرمﷺ کا ہی نور جو ہے وہ ان کے وجودوں میں چمکتا ہے اور آپﷺ ہی کا ظہور ہے۔ تو میرا مطلب یہ کہنے کا تھا کہ جو اس سے قبل مجددین میں نبی اکرمﷺ کا ظہور ہوا تھا، مسیح موعود میں اس سے زیادہ ظہور ہوا۔‘‘
یہ اُنہوں نے اپنا بیان دیا۔ میں آگے ابھی ان کا … جواب ابھی نہیں ختم ہوا… انہوں نے پھر یہ لکھا ہے کہ: ’’لیکن اس سے بعض لوگوں کو غلط فہمی پیدا ہوئی اور مجھے بڑی سخت تنبیہ ہوئی اور میں نے جب اپنا کلام کتاب کی شکل میں ۱۹۱۱ء میں شائع کیا تو اس وقت لوگوں کی اس … جو میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ تم نے کیا حرکت کی ہے…‘‘
یہ ہے ان کا دیوان ۱۹۱۱ء کا، پہلی دفعہ یعنی پانچ سال کے بعد چھپا ہے: ’’…اس میں یہ شعر میں نے لوگوں کے ، جو میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے، اس کی وجہ سے نکال دیا۔ میں ان کو کہتارہا، میں قسمیں کھاتا رہا،(اسی میں ملحق ہے) کہ یہ میرا مطلب نہیں ہے۔ خدا کی قسمیں کھاکے کہتا ہوں کہ میرا مطلب یہ ہے کہ883 پہلے مجددین کے مقابلہ میں زیادہ بلند شان والا ظہور ہوا ہے۔ تم میری قسمیں … میں اوروں کو تو چھوڑتا ہوں، خود جماعت کے لوگ میری قسموں پر اعتبار نہیںکررہے اور میں قسمیں کھاکھاکے تھک گیا ہوں۔ ‘‘
اس کا تو جو شخص شاعر ہے، کہتا ہے کہ ’’میرا یہ مطلب ہے ۔‘‘ اس مطلب پر اعتراض نہیں ہوتا، کیونکہ وہ یہ کہتا ہے کہ پچھلے مجددین کی نسبت نبی اکرمﷺ کا اس صدی میں ظہور زیادہ شان والا ہے۔ مقابلہ مجددین سے ہے، آنحضرتﷺ سے نہیں۔ دوسرے یہ وہ کہتا ہے کہ مانتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اس سے … وہی جو اس وقت سوال ہوا ہے… یہ غلط فہمی پیدا ہوجائے گی ، اور ’’انہوں نے مجھے شروع سے ہی تنگ کرنا شروع کردیا، اور ۱۹۱۱ء میں میں نے اپنی نظم سے یہ نکال دیا، اور ۱۹۰۶ء کے بعد کسی رسالے یا کسی اخبار یا کسی کتاب میں اپنے اس شعر کو میں نے شائع نہیں کروایا ۔‘‘ اور پھر ۳۸ سال کے بعد … سمجھے ناں… ۱۹۴۴ء میں ۱۳؍ اگست کے اخبار میں لکھتے ہیں کہ: ’’میں قسمیں کھاکھاکے تھک گیا ہوں اور تو نہیں، جماعت والے بھی میرے پر اعتبار نہیں کرتے۔ میرا یہ مطلب نہیں۔‘‘
تو یہ نئے حوالے جو آئے تھے، یہ اس میں Add (اضافہ ) ہوجاتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اس پر ایک دو سوال ہیں آپ سے…
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ایک اصول یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ آپ یہاں کہتے ہیں، یا جو میں کہتا ہوں، یا جو اسمبلی کہتی ہے، جو قانون یہ پاس کرتی ہے، پھر ان کو یہ اختیار نہیں ہوتا… بعد میں… کہ ’’میرا مطلب کیا تھا۔‘‘ یہ پھر عدالت کو یا پھر کوئی اور ہی ادارہ ہوتا ہے۔ اکمل صاحب کے الفاظ جو انہوں نے کہے ہیں، وہ خواہ لاکھ کہیں کہ ’’میرا مطلب یہ نہیں تھا، وہ نہیں تھا‘‘ وہ جو ہے ، وہ پھر پبلک جج کرتی ہے کہ884 مطلب کیا تھا۔ ایک اصولاً میں کہہ رہا ہوں کہ Interpretation (صراحت) کا جو Right (حق )ہوتا ہے، وہ Author (مصنف) کو نہیں ہوتا۔
Mirza Nasir Ahmad: That is a legal question....
(مرزاناصر احمد: وہ ایک قانونی سوال ہے)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں وہی بتارہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: …ادب میں، شعروں میں نہیں-میری بات سن لیں پوری- شعر میں یہ نہیں چلتا۔ شعر میںہمارا محاورہ ہے: ’’صاحب البیت أدریٰ بما فیہ‘‘ جو کہنے والا ہے وہی مطلب بتائے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے۔ میں دوسری بات یہ کررہا تھا کہ جب سوال آپ کے سامنے آیا تھا، اس وقت یہ تھا کہ ’’قصیدہ مرزا غلام احمد صاحب کی موجودگی میں پڑھا گیا؟‘‘ آپ نے کہا: ’’نہیں‘‘
مرزا ناصر احمد: میں، میں اب بھی کہتاہوں:’’نہیں‘‘
جناب یحییٰ بختیار: پھر اس کے بعد سوال یہ آیا کہ ’’ان کی موجودگی میں یہ ’’البدر‘‘ میں چھپا؟‘‘…
مرزا ناصر احمد: ہم نے کہا:’’ہاں‘‘
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے… سبھی نے کہا:ایک نے نہیں کہا۔
مرزا ناصر احمد: اب میں کہتا ہوں’’ہاں‘‘
جناب یحییٰ بختیار: اب کہتے ہیں!
مرزا ناصر احمد: ۱۹۰۶ء میں چھپا، لیکن…
جناب یحییٰ بختیار: میں نے… آپ نے کہا کہ: ’’اگر ا885ن کو معلوم ہوتا اور ان کے سامنے ہوتا تو اس کو جماعت سے باہر نکال دیتے‘‘…
مرزا ناصر احمد: بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: چونکہ اگر… میرا سوال پورا ہونے دیں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں ، ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ کا بھی یہ Impression (تأثر) تھا کہ بڑی غلط بات کی ہے، آپ کے خیال کے مطابق، مرزا صاحب کا بھی یہ Impression (تاثر) تھا کہ بڑی غلط بات ہے، ان کو جماعت سے نکال دیتے۔ پھر اس نے خود کہا کہ ’’نہیں جی، انہوں نے تو ’’جزاک اللہ ‘‘کہا‘‘ اور یہ ثابت ہوا۔ ان کی موجودگی میں چھپا۔ اتنا ہی سوال تھا کہ وہ بڑے خوش ہوگئے اس قصیدے کو سن کے، کہ جس میں ان کو کہا کہ ان کی شان محمدa سے بھی زیادہ ہے۔ یہ ہم بتانا چاہتے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: جی، بات یہ ہے، یہ باتیں جو آپ کررہے ہیں ناں اب، یہ ’’البدر‘‘ میں بالکل نہیں چھپیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نہیں کہتا کہ یہ ’’البدر‘‘ میں چھپیں۔ میں نے اتنا ہی کہا کہ ’’البدر‘‘ میں یہ چھپا جب مرزا صاحب زندہ تھے، حیات تھے اور انہوں نے کوئی اس پر ایکشن نہیں لیا، کوئی ہمارے پاس ریکارڈ نہیں کہ انہوں نے اس کو Disapprove (ناپسند) کیا ہو۔ اس کے دوسری طرف ہمارے پاس یہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ اکمل صاحب کا قول ہے… کہ انہوں نے اس کو سراہا ’’جزاک اللہ‘‘ کہا اور خوش ہوئے۔
مرزا ناصر احمد: اور نتیجتاً ۱۹۱۱ء میں اپنی نظم میں سے نکال دیا!
جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے۔ مرزا صاحب کی حیات کے بعد انہوں نے کردیا، پبلک کوبڑا غصہ آیا اس پر۔ مگر یہ Fact (حقیقت) ہے کہ مرزا صاحب نے اس کو Approve (پسند) کیا اور خوش ہوئے۔
مرزا ناصر احمد: ہماری، ہماری تاریخ میں، ہماری تاریخ نے یہ ریکارڈ ہی نہیں کیا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس نظم کو پڑھا۔
886جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا۔
مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے ناں مُسبحِ…
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ابھی میں اور کچھ نہیں پوچھنا چاہتا۔ ’’الفضل‘‘ آپ کا اخبار ہے۔ اس میں اکمل یہ کہتا ہے کہ ان کی موجودگی میں پڑھا اور انہوں نے اس کو پسند کیا۔ That is enough from my point of view. (میرے نقطۂ نظر سے یہ کافی ہے)
اگر ’’الفضل ‘‘میرا اخبار ہے یا جماعت اسلامی کا اخبار ہے، تب تو میں کہہ سکتا کہ ٹھیک ہے، غلط بات ہے۔
مرزا ناصر احمد: تو آپ کے اپنے اصول کے مطابق، جو آپ نے ابھی کہا ’’الفضل‘‘ میرا اخبار نہیں، ’’الفضل‘‘ خلیفہ… جماعت احمدیہ کے کسی خلیفہ کا اخبار نہیں۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(الفضل جماعت احمدیہ کا اخبار ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ’’آپ ‘‘ سے مطلب ’’جماعت احمدیہ کا اخبار‘‘ہے ان کا۔
مرزا ناصر احمد: جماعت احمدیہ کا بھی اخبار نہیں، جماعت احمدیہ کی ایک تنظیم کا اخبار ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ان کی آواز ہے یہ…
مرزا ناصر احمد: جی…
جناب یحییٰ بختیار: ان کی رائے دیتا ہے، ان کی طرف سے…
مرزا ناصر احمد: ان کی آواز بالکل نہیں ہے، یہ تو بالکل، بالکل نہیں ہے، جماعت کی آواز نہیں ہے ’’الفضل‘‘
جناب یحییٰ بختیار: یہ بڑا اچھا ہے! آپ اگر یہ کہہ دیں تو بڑی اچھی بات ہے! ہم تو سارے جھگڑے ’’الفضل‘‘ سے کررہے ہیں یہاں۔
مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں جماعت کا۱؎۔
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔
887مرزا ناصر احمد: یہ تو پھر سارے جھگڑے ختم ہوگئے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: کس جماعت کا ہے یہ ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ الفضل اخبار قادیانی جماعت کا اخبار نہیں، اتنا بڑا سچ قادیانی جماعت کو خلیفہ قادیانی مرزا ناصر کی طرف سے مبارک ہو؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرزا ناصر احمد: ہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: کس جماعت کا ہے یہ؟
مرزا ناصر احمد: کسی جماعت کا نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، مرزا صاحب…
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۱؎…
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ’’ڈان‘‘۱خبار تھا، ۱۹۴۱ء میں شروع ہوا دہلی میں ، ساری دنیا کہتی تھی کہ مسلم لیگ کی آواز ہے۔ وہ بھی آفیشل آرگن تو نہیں تھا کوئی مسلم لیگ کا۔ آج ’’مساوات‘‘ ہے۔ سب کہتے ہیں جی کہ پیپلز پارٹی کا ہے۔ پیپلز پارٹی کا آفیشل اخبار تو نہیں ہے۔
مرزا ناصر احمد: اور سارے کہتے ہیں کہ ’’ٹرسٹ‘‘ کے اخبار آج کی گورنمنٹ کے ہیں…
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: اور ان پر اعتراض کرتے ہیں۔ آپ کے نزدیک حکومت پر وہ اعتراض درست ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: میں، میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ Officially (سرکاری ترجمان) جو ہے ناں ’’ٹرسٹ‘‘ اور بات ہے--- ’’مساوات‘‘ اخبار کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے، پیپلزپارٹی کا ہے۔ ’’جسارت‘‘ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا ہے، حالانکہ جماعت اسلامی کا کوئی نہیں ہے، ان سے ہمدردی رکھنے والوں کا ہوگا،ا ن کی آواز بلند کرتا ہوگا۔
888’’الفضل‘‘ جو ہے، اس کو آپ، فاننس آپ کرتے ہیں، آپ کی جماعت کرتی ہے۔ اس کو نکالتے ہی آپ ہیں۔ آپ کی رائے اور آپ کے خطبے سب اس میں آتے ہیں، سب اس میں آئے ہیں، اور آپ کہتے ہیں کہ ’’نہیں ہے، آپ کا اخبار بالکل نہیں‘‘تو بالکل ٹھیک بات ہے!
مرزا ناصر احمد: میرا نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: خلیفہ کا ذاتی میں نہیں کہہ رہا۔
مرزا ناصر احمد: نہ جماعت احمدیہ کا ہے۲؎۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ دنیاوالو! دیکھو قادیانی سربراہ کیسے کیسے جھوٹ بول رہا ہے؟
۲؎ جھوٹ پہ جھوٹ، نبی جھوٹا، خلیفہ جھوٹا، خود جھوٹا، باپ جھوٹا، دادا جھوٹا، پہلے تین تھیں، اب چوتھی نسل جھوٹ پر چل ہی نہیں رہی، جھوٹ پر پل بھی رہی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جناب یحییٰ بختیار: آپ کی آواز ہے، وہ آپ کی جماعت کی آواز۔
مرزا ناصر احمد: نہ میری آواز ہے، میری آواز کے کچھ کو اس کا نقل کردینا… وہ اخبار میری آواز نہیں بنتا۔
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، آپ کے حصے ہی نقل کررہا ہے وہ۔
مرزا ناصر احمد: میری آواز کے کچھ حصوں کو وہ نقل کرتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: اور سارا کچھ جو وہ کہتا ہے، وہ میری طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔
جناب یحییٰ بختیار: موڑ توڑ کر تو نہیں نقل کرتاوہ ، موڑتوڑ تو اخبار کرتا ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں،اتنی غلطیاں کاتب صاحب کرجاتے ہیں کہ آپ حیران ہوجائیں، اگر آپ کو دکھاؤں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں،کاتب کی اور بات ہوتی ہے، موڑ توڑ کرنا اور بات ہوتی ہے۔
مرزا ناصر احمد: وہ موڑ توڑ معنوی موڑ توڑ بن جاتا ہے اس کے بعد۔
جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی اب اور کوئی حوالہ ہے؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، سب حوالے ہیں۔ (Pause)
889یہ میں نے یہاں ریکارڈ کروایا کہ قاضی اکمل صاحب کا یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کو سنا اور ’’جزاک اللہ‘‘ کہا، ۳۸ سال کے بعد، ہماری تاریخ میں یہ واقعہ کہیں ریکارڈ نہیں۔ اس طرح میں اس کو بالکل غلط سمجھتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: جھوٹ کہا انہوں نے؟
مرزا ناصر احمد: جھوٹ کہا، جو آپ مرضی کہہ لیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اکمل نے جھوٹ کہا، ’’الفضل‘‘ نے جھوٹ رپورٹ کیا، بس ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: قاضی اکمل صاحب نے جھوٹ کہا، جھوٹ اس معنی میں کہ ہماری تاریخ نے اس واقعہ کو ریکارڈ ہی نہیں کیا کہیں بھی اور ۳۸ سال کے بعد ایک شخص ایک چیز۳۸ سال پہلے کی کہہ رہا ہے، اور حافظے کا یہ حال ہے کہ اپنے اس شعر کو ، جو آخری نہیں، اور لکھ رہا ہے کہ یہ آخری شعر ہے میرا۔ اپنی عمر کے اس حصے میں پہنچ کر جب اپنے ہی شعر یاد نہیں، ان کے ، جو انہوں نے کسی اور کے متعلق بات کی ہو، وہ کیسے قابل قبول ہوجائے گی؟
جناب یحییٰ بختیار: بس جی، ٹھیک ہے۔ مرزا صاحب! ایک شعر ایک آدمی کو یاد نہیں رہتا۔ اتنا بڑا واقعہ کہ مرزا صاحب وہاں موجود ہوں، وہ ان کی تعریف کرے، کوئی احمدی بھولتا نہیں۔
مرزا ناصر احمد: کسی احمدی نے کسی جگہ کسی تحریر میں، کسی لیکچر میں، کسی کتاب میں، کسی مضمون میں اس واقعہ کی طرف کبھی اشارہ نہیں کیا، میں تو یہ کہہ رہا ہوں۔ (Pause)
اور یہ اس کے برعکس یہ روایت ہے ہماری ریکارڈ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے اپنے شعر شُور سناتا رہتا تھا اور آپ کہتے تھے کہ ’’میں اپنے کام میں مشغول تھا، سوچ میں لگا ہوا تھا، میں نے کوئی نہیں سنا۔‘‘ یہ روایت ریکارڈ ہے اور وہ روایت کہ ’’سنا اور یہ کیا‘‘ یہ ۳۸ سال تک کسی شخص نے اس کی طرف اشارہ ہی نہیں کیا۔ اس کو میں کیسے ownکرلوں؟
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(البدر آپ کا اخبار تھا؟)
890جناب یحییٰ بختیار: ’’البدر‘‘ آپ کا اخبار تھا، جماعت کا، کہ نہیں تھا وہ بھی؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ بھی نہیں تھا، وہ بھی نہیں تھا۔ یہ، یہ بھی میں یہ ’’الحکم‘‘ ۷؍فروری ۱۹۲۳ء میں، جب کہ یہ کوئی جھگڑا قاضی اکمل صاحب وغیرہ کے شعر کا نہیں تھا، یہ ایک یہ، یہ چھپا ہے، حضور کے انہماک کے متعلق روایت: ’’حافظ معین الدین صاحب کی یہ شعر خوانی کا سلسلہ جاری تھا……‘‘
ایک منشی ظفر احمد صاحب، بڑے بزرگ ہمارے، صحابی ہیں، ان کی یہ روایت ہے: ’’منشی ظفر احمد صاحب بلوائے ہوئے قادیان میں موجود تھے اور حضرت صاحب کے قریب ہی رہتے تھے۔ چند روز تک تو یہ سلسلہ رہا۔ ایک دن منشی جی نے عرض کیا کہ ’’حضور کیا سنتے رہتے ہیں، حافظ صاحب سونے ہی نہیں دیتے، (حافظ صاحب شعر سنایاکرتے تھے)نہ یہ کوئی خوش آواز ہیں، سب کو تکلیف ہوتی ہے۔ آپ کس طرح سنتے رہتے ہیں‘‘ (یہ مفہوم منشی صاحب کے کلام کا تھا) آپ نے ہنس کر فرمایا:’’مجھے تو کچھ معلوم نہیں کہ یہ کیا سناتے ہیں اور نہ میں اس خیال سے سنتا ہوں کہ یہ کوئی خوش آواز ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میرے دماغ میں اسلام کی حالت اور عیسائیوں کے حملوں کو دیکھ کر جوش اٹھتا ہے، اور بعض وقت مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ دماغ پھٹ جائے گا اس جوش میں… کیونکہ حافظ صاحب بڑے اخلاص سے کمردبانے کے لئے آجاتے ہیں، میں نے دینی توجہ کو دوسری طرف بدلنے کے لئے ان کو کہہ دیا کہ کوئی شعر یاد ہو تو سناؤ، اب یہ بے چارہ نہایت اخلاص سے سناتا ہے، اور میں ہر چند کوشش کرتا ہوں کہ میرا خیال ادھر متوجہ ہو اور ہجوم افکار جو دماغ میں موجودہ حالت کو دیکھ دیکھ کر ہوتا ہے، تھوڑی دیر کے لئے کم ہوجائے، مگر وہ کم ہونے میں نہیں آتا، اور مجھے پتہ بھی نہیں لگتا کہ کیا کہتے ہیں۔ اگر آپ کو ناپسند ہو تو ان کو منع کردیا جائے۔‘‘
891جس شخص کی یہ حالت تھی کہ اسلام کے غم اور فکر میں ہر وقت اپنی توجہ کو اس خاص مضمون کی طرف مرکوز رکھتا تھا، Concentrate his mind was concentrated on that one subject. (صرف ایک ہی موضوع پر توجہ مرکوز رکھتے)اس کے سامنے شعر سنانے والے شعر سناتے تھے، بچے اپنی کہانیاں سناتے تھے، وہ ان کی طرف مشغول ہوتا ہے؟ اس کی طرف ایک ایسی بات منسوب کرنا ،جو ۳۸ سال کے بعد منسوب کی گئی ہو، جس کا ذکر ۳۸ سال تک کسی ایک حوالے میں موجود نہ ہو، میرے نزدیک بڑا ظلم ہے۔ باقی جو دنیا مرضی کہے اور ’’جزاک اللہ‘‘ کے بعد گیارہ کو نکال دیا۔
اچھا، یہ ایک …
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(’’الفضل‘‘ آپ کی جماعت کے کس شعبے کا ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: ’’الفضل‘‘جو ہے، جس شعبے کا ہے، آپ کی جماعت میں اس کا نام کیا ہے؟ ریکارڈ پر آجائے۔
مرزا ناصر احمد: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا یہ آپ کی جماعت کے کسی شعبے کے نیچے ہے۔ وہ شعبہ کونسا ہے؟
مرزا ناصر احمد: اس کی جنرل نگرانی یہ صدر انجمن احمدیہ کرتی ہے۱؎۔ لیکن جس طرح یہ Independent ( خود مختار)ہوتے ہیںناں آپ کے تھل اتھارٹی ، وغیرہ ، وغیرہ، اس طرح یہ Independent (خود مختار ) ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نگرانی صدر انجمن احمدیہ؟
مرزا ناصر احمد: عام، عام نگرانی، اور جو اس کے منیجر اور ایڈیٹر ہیں وہ بالکل آزاد ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ صدر انجمن احمدیہ اس کی نگرانی کرتی ہے، مگر وہ جماعت کا اخبار نہیں، خوب استدلال ہے۔ گویا جماعت احمدیہ اس اخبار کی نگرانی کرتی ہے جو اس کا اپنا اخبار ہی نہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جناب یحییٰ بختیار: یعنی ان کو Financially (مالی طور پر) کون Support (مدد) کرتا ہے؟
مرزا ناصر احمد: اپنے پاؤں پہ کھڑا ہے، قریباً۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی شروع کوئی بھی تو اس کا ہوگا ناں۔
892مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟
جناب یحییٰ بختیار: کوئی بھی Financially Support (مالی مدد) کرنے والے ہیں؟ کمپنی ہے؟
مرزا ناصر احمد: نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: فرم ہے؟
مرزا ناصر احمد: وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہے۱؎۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ پاؤں پر تو کھڑا ہوگیا تھا جی…
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ کون مگر Invest (لگایا) کس نے کیا ہے پیسہ؟
مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟
جناب یحییٰ بختیار: پیسہ کس نے Invest (لگایا) کیا؟
مرزا ناصر احمد: وہ جتنا اس کی آمدن ہے اتنا ہی اس کا خرچ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کون ہے…
مرزا ناصر احمد: نہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: کون، کس نے Invest (لگایا) کیا؟
Mirza Nasir Ahmad: Those who contribute and purchase the paper.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ اب تک یہ تو رونا تھا کہ الفضل خسارے میں چل رہا ہے، ہر قادیانی کو اس کا پتہ ہے کہ اسی نام سے چندے مانگے جاتے ہیں، آج یہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا۔ سچ ہے کہ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
( مرزا ناصر احمد: جو لوگ اخبار خریدتے ہیں وہی سرمایہ مہیا کرتے ہیں)
Mr. Yahya Bakhtiar: Who are those people?
(جناب یحییٰ بختیار: اٹارنی جنرل: وہ کون لوگ ہیں؟)
Mirza Nasir Ahmad: Those who purchase the paper.
(مرزا ناصر احمد: جو لوگ اخبار خریدتے ہیں)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کون ہیں؟
مرزا ناصر احمد: احمدی بھی ہیں اور دوسرے بھی ہیں۔
893Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, you don't answer my question. نہیں۔
(جناب یحییٰ بختیار: آپ میرے سوال کا جواب نہیں دے رہے)
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں سمجھا نہیں آپ کی بات۱؎۔
جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال یہ ہے کہ کوئی کمپنی ہے، کوئی اخبار ہے’’پاکستان ٹائمز‘‘ ہے…
مرزا ناصر احمد: کوئی کمپنی نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: کاروبار کمپنی کے بغیر چل نہیں سکتا، جی، کوئی اس کا مالک ہوگا۔ جب ڈیکلیریشن فائل کریں گے۔ کس نے ڈیکلریشن فائل کیا اس کا؟
مرزا ناصر احمد: اپنے وفد کے ایک رکن سے کیوں جی؟
جناب یحییٰ بختیار: اس کے ڈائریکٹرز کون ہیں؟ اس کا منیجنگ بورڈ کون ہے؟
مرزا ناصر احمد: جی! (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نہیں نہیں، ڈیکلریشن کس کے نام ہے؟ (اٹارنی جنرل سے)گیانی عبیداللہ اس کے منیجر ہیں، گیانی عبیداللہ صاحب ہیں جو، ہر ایک ان سے واقف ہوں گے، یہ جو ’’پنجابی دربار‘‘ میں قریباً روزانہ آتے رہے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: سر!نہیں، اس سے …
مرزا ناصر احمد: ہاں!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ قارئین! آپ فیصلہ کریں کہ مرزا ناصر سمجھا نہیں یا جان بوجھ کر دجل کررہا ہے، چکر دے رہا ہے؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ تو انہوں نے ڈیکلریشن فائل کیا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!
جناب یحییٰ بختیار: پھر Financially Invest پیسہ کس نے کیا؟ جماعت کی طرف سے ہوا ہے کوئی پیسہ اس میں۔
مرزا ناصر احمد: جی، یہ ، یہ پرانی ہسٹری ہے۔ میں بتادیتا ہوں۔ اب میں بات سمجھ گیا ہوں آپ کی۔ اس کو شروع میں دو تین سال بڑی دیر کی بات ہے۔ یہ سمجھیں کوئی … ہاں!894۵۵،۵۷ سال پہلے کی بات ہے، حضرت خلیفہ ثانی نے اس کو شروع کیا اور اس وقت … یعنی حضرت خلیفہ ثانی جو بنے۔ انہوں نے اسے شروع کیا۔ یہ حضرت خلیفۂ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کے زمانے کی بات ہے۔ نوجوان تھے۔ یہ انہوں نے ایک یہ پرچہ شروع کیا اور اس میں ابتدائی اخراجات اپنے ذاتی لگائے، اور اس کے بعد یہ آپ نے صدر انجمن احمدیہ کے حوالے کردیا۔ اس وقت ’’صدر انجمن احمدیہ‘‘قریباً ’’جماعت احمدیہ‘‘ کے ہم معنی تھی۔ لیکن آج کی جب ہم بات کررہے ہیں تو جماعت احمدیہ وہ جماعت ہے جو دنیا کے قریباً ہر خطے میںپھیلی ہوئی ہے اور اس واسطے اس اخبار کو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے، بلکہ جماعت احمدیہ کی طرف یہ منسوب نہیں ہوتا۔ ایک احمدی ہے، جنرل نگرانی کرتے ہیں، صدر انجمن احمدیہ اس کی جنرل نگرانی کرتی ہے…
جناب یحییٰ بختیار: کیوں…
مرزا ناصر احمد: ایک فرد کا وہ ڈیکلریشن ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: کیوں کرتا ہے؟ Investment (سرمایہ کاری)کی ہے ، انہوں نے یا…؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، Investment (سرمایہ کاری ) کوئی نہیں کی…
جناب یحییٰ بختیار: تو کس واسطے کررہا ہے وہ؟
مرزا ناصر احمد: جنرل نگرانی اس واسطے کررہا ہے کہ وہ زیادہ جو اس قسم کی چیز آجائے جو جماعت کے مفاد کے حق میں نہ ہو تو وہ اپنے یہ دیکھ لے۔ یہ دیکھیں ، مثلاً ، مثلاً…
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب!…
مرزا ناصر احمد: میں ایک مثال دیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال Simple (سادہ) ہے کہ نگرانی وہی کرسکتا ہے جسے کوئی حق ہو۔ ان کا حق کہاں سے آگیا نگرانی کا؟ ابھی میں ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کی نگرانی نہیں کرسکتا، چاہتاہوں کروں۔
Mirza Nasir Ahmd: Very unfortunate
(مرزا ناصر احمد: بڑی بدقسمتی کی بات ہے)
895Mr. Yahya Bakhtiar: I know how have they got this power to supervise when they have nothing to do with it financially and other wise?
مرزا ناصر احمد: وہ ایک تو وہ کافی اخبار خریدتے ہیں اور اس کے پیسے دیتے ہیں۔ دوسرے جن کا اخبار ہے، پہلے اس کی ابتدا مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب… جو اس وقت خلیفہ نہیں تھے… ان سے ہوئی اور ہم … سارے اخبار کی عام ایک نگرانی کرتی ہے… جماعت پوری نہیں کرسکتی، انسان ہیں، غلطی کرجاتے ہیں، مثلاً ہمارا ایک خبار ہے…
جناب یحییٰ بختیار: ’’نگرانی‘‘ سے مطلب سپر ویژن اور کنٹرول دونوں ہیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ’’عام نگرانی‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے اوپر کوئی آدمی بیٹھا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، سپرویژن ہے، یا کنٹرول ہے؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، کوئی کنٹرول نہیں، اور سپر ویژن بھی…
جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں کہ آپ کی پارٹی کے خلاف کچھ ہوتو پھر اس پر آپ…
مرزا ناصر احمد: ہاں، اس کے اوپر ان کو کہتے ہیں کہ یہ تم نے کیا کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں ، تو…
مرزا ناصر احمد: جماعت کو بدنامی…
جناب یحییٰ بختیار: وہ پھر کنٹرول ہوگیا۔
مرزا ناصر احمد: ہیں۱؎؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ اتنے بھولے بھی تو نہ بنو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پھر وہ کنٹرول ہوجاتا ہے۔
Mirza Nasir Ahmad: If that is the technical term, i am not familiar with it.
(مرزا ناصر احمد: چونکہ یہ ایک تکنیکی اصطلاح ہے اس لئے میں کچھ نہیں کہہ سکتا)
Mr. Yahya Bakhtiar: Supervision is more or less passive interest.
(جناب یحییٰ بختیار: نگرانی سے قریب قریب مراد خاموش دلچسپی ہوتا ہے)
مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟
896جناب یحییٰ بختیار: ’’سپر ویژن‘‘ جو ہوتا ہے… آپ اس میں نوٹ کرلیں کہ یہ چیز اس میں آگئی ہے۔ But you cannot give directions but control means that you give directions. ( جس میں آپ ہدایات نہیں دے سکتے، جبکہ اختیار کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہدایات بھی دے سکتے ہیں)
بھئی یہ ٹھیک کریں آپ… کہ یہ جماعت کے مفاد کے خلاف کررہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: یا ٹھیک کریں یا جماعت لینا چھوڑ دے گی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہ Injunction ہوا ناں۔
مرزا ناصر احمد: اور … یعنی Moral Pressure (اخلاقی دباؤ) ہے، میرا مطلب یہ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: Financial (فنانشل)کوئی نہیں؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، Financial (فنانشل) نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے جی۔
مرزا ناصر احمد: Financial (فنانشل) بالکل نہیںہے۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ نہیں بتاسکتے کہ کونسی فرم ہے؟
مرزا ناصر احمد: فرم ہے ہی نہیںجی۔
جناب یحییٰ بختیار: کمپنی بھی کوئی نہیں ہے؟
مرزا ناصر احمد: کوئی کمپنی نہیں ، No limited company, no private limited company. (نہیں، لمیٹڈ کمپنی نہ کہ پرائیویٹ کمپنی )
Mr. Yahya Bakhtiar: Is it a trust ?
(جناب یحییٰ بختیار: کیا یہ ٹرسٹ ہے؟ ویسے، ویسے دے دیا)
Mirza Nasir Ahmad: No trust.
(مرزا ناصر احمد: کوئی ٹرسٹ نہیں)
[At this stage Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) occupied the chair.]
(اس مرحلہ پر چیئرمین (صاحبزاہ فاروق علی ) نے کرسی صدارت سنبھالی)
897مرزا ناصر احمد: یعنی یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جماعت کو دے دیا، لیکن جماعت نے جس رنگ میں لیا ہے ناں، میں اس کی بات کررہا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ، یہ کافی ہے جی، جماعت کو انہوں نے … انہوں نے پیسے Investment (سرمایہ کاری) کی ہوئی… جماعت کو…
مرزا ناصر احمد: جماعت کو دے دیا، لیکن جماعت نے جو طریقہ اس کا اختیار کیا، وہ یہ ہے جو میں بتارہا ہوں، کہ ایک شخص ہے، وہ اس کا مینجنگ ڈائریکٹر ہے، ایک وہ ہے۔ جماعت کی جنرل نگرانی ہے۔ وہ جو ان کی جو ان کی جو Pays ہیں مثلاً…
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے، جماعت کو دے دیا…
مرزا ناصر احمد: وہ، وہ خود اپنا کرتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: … جماعت نے ان کو ایک گفٹ دے دیا کہ یہ آپ کا ہوگیا، ہمارا ابھی کوئی تعلق نہیں ہوگا، ہم تو صرف Supervision (نگرانی)کریں گے ، مطلب یہ ہوا۔
مرزا ناصر احمد: اصل میں جو ہمارے احمدیوں کا آپس میں جو ہے ناں تعلق، وہ کچھ نرالا سا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہی تو مرزا صاحب! رونا ہے جی۔
مرزاناصر احمد: اس میں قانون جو ہے وہ سمجھنا مشکل ہے۔ اس میں قانونی کیفیت مشکل ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: سارا رونا یہی ہے جی۔
اور کوئی سوال ہے جی؟
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
( لہ خسف القمر المنیر وان لی …)
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، اور ہیں۔
ایک سوال یہ کیا گیا تھا کہ:’’ لہ خسف القمر المنیر وان لی خسف القمران المشرکان أتنکرو ‘‘ اس کے… یعنی چاند اور سورج کے گرہن ہونے کے دو (۲) نشانوں کا ذکر ہے، لیکن ا898س میں Confusion (ابہام) پیدا کرنے والی بات ہے۔ وہ صرف عدد کی ہے۔لیکن ایک ہے معجزہ اور ایک ہے نبی اکرمﷺ کی پیشین گوئی۔ وہ بھی آنحضرتﷺ کی ہے۔ لیکن معجزہ اور چیز ہے، اپنی اہمیت کے لحاظ سے اور آنحضرتﷺ کی پیش گوئی، آئندہ کے متعلق، یہ بالکل اور چیز ہے۔ یہ جو ہے چاند اور سورج کا گرہن ہونا، یہ آنحضرتﷺ کی ایک زبردست پیشین گوئی کا پورا ہونا ہے۔ لیکن چاند، شقِ قمر کا جو معجزہ ہے، وہ تو اتنا زبردست ہے کہ اس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں لاسکتا۔ لیکن مسلمانوں میں سے بعض نے اس کا انکار کردیا۔ آج کل کے جو مفسرین ہیں کہ نہیں، اس معنی میں نہیں تھا، تو یہاں…
جناب یحییٰ بختیار: یہ تو شعر نہیں ہے، مرزا صاحب! جو کہ خود ہی آکر کہے کہ اس کا مطلب کیا ہے، یہ تو شعر نہیں ہے۔
مرزا ناصر احمد: یہ، یہ حدیث ہے، جس کا ذکر اپنے، آپ کے شعر میں ہے۔ یہ جو میں نے پڑھا ہے، وہ شعر ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: میں اس واسطے Clarify ( واضح) کررہا تھا۔
مرزا ناصر احمد: جی! (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ کہاں ہے؟
إن لسماء الدنیا آیتین (اٹارنی جنرل سے) یہ دارقطنی کی حدیث ہے:
’’إن لسماء الدنیا آیتین لم تکن منذ خلق السموات والأرض۱؎‘‘
اس شعر میں ایک پیشین گوئی کا ذکر ہے، وہ شعر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے، اور ایک معجزے کا ذکر ہے،اور وہ دونوں حضور نبی اکرمﷺ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک معجزہ آپ نے شق القمر کا دکھایا اور ایک پیشین گوئی چاند اور سورج گرہن ہونے کی کی، تو اپنا تو یہاں کچھ بھی نہیں۔ آپ یہاں فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے شقِ قمر کا ایک عظیم معجزہ دکھایا اور آپ نے ایک پیش گوئی میرے متعلق کی جن میں چاند اور سورج کے گرہن ہونے کا ذکر 899ہے۔ اب شق قمر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ جھوٹ پر جھوٹ بول رہاہے مرزا ناصر، یہ حدیث نہیں بلکہ امام جعفر کی طرف منسوب ایک قول ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ لیکن اسے مرزا ناصر نے حدیث بنا دیا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب دنیا کو- اس کی تفصیل میں نہیں جاتا، اس پر بڑی بحثیں ہوچکی ہیں، بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ جب دنیا نے چاند کو دو ٹکڑوں میں دیکھا۔ دنیا نے چاند کو آنحضرتﷺ کے اس معجزہ کے نتیجہ میں دو ٹکڑوں میں دیکھا۔ اتنا زبردست یہ معجزہ ہے اور اس شعر میں دوسری چیز آپ نے یہ فرمائی کہ آنحضرتﷺ نے اپنے آخر الغلمان کے لئے، اپنے ماضی کے لئے یہ ایک نشان بتایا کہ اس کے زمانہ میں فلاں فلاں دن جو ہیں اس میں چاند اور سورج گرہن ہوگا۔ تو چاند کا اور سورج کا گرہن ہونا خود معجزہ نہیں، نہ پیشین گوئی ہے۔ لیکن معیّنہ دنوں اور خاص زمانہ میں پیشین گوئی کے مطابق گرہن ہونا ، وہ پیشین گوئی کا پورا ہونا ہے اور شقِ قمر اس کے مقابلہ میں معجزہ ہے، زبردست معجزہ ہے۔ اس سے ہمیں تو سمجھ نہیں آئی کہ کیا چیز سمجھ میں نہیں آئی سوال کرنے والوں کو؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس سے صرف یہ بتانا چاہتے تھے مرزا صاحب! کیونکہ ایک چیز جو ہوتی ہے ناں، مرزا صاحب ایک حوالہ بذات خود ہیں، بعض دفعہ Misunderstanding (غلط فہمی) بھی توپیدا کردیتا ہے، مگر کئی حوالے جب اکٹھے پڑھ لیتے ہیں، جیسے کسی آدمی کو آپ ایک زخم پہنچا دیں تو Minor Injury (معمولی چوٹ) ہوجائے گی، اسی طرح کے سو زخم لگادیں آپ تو مرجاتا ہے آدمی۔ اب بذات خود چھوٹی چھوٹی Injuries (چوٹیں) ہیں۔ تو جب مرزا صاحب ہم دیکھتے ہیں کہ: ’’پہلے سے بھی بڑھ کر اپنی شان میں‘‘اور پھر کہتے ہیں: ’’ان کے لئے ایک اور میرے لئے چودہویں کا چاند۔‘‘
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(رسول کریم کے معجزات تین ہزار تھے اور میرے تیس لاکھ)
پھر ایک اور ایسے ہے کہ: ’’رسول کریم کے معجزات تین ہزار تھے، میرے لئے تیس لاکھ۔‘‘ ایسی باتیں جب سب پڑھتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے اور علامہ اقبال۔ یہ میں آپ کو صاف بتادوں تاکہ آپ کے دماغ میں چیز clear (واضح) ہو کہ میں سوال کیوں پوچھ رہاہوں … علامہ کہتے ہیں کہ: ’’جب900 مجھے معلوم ہوا کہ یہ آنحضرتﷺسے بھی اپنے آپ کو Superior (بہتر) سمجھتے ہیں…‘‘
تو آخر یہی چیزیں تھیں جو عام مسلمانوں کو دے رہی ہیں کہ مرزاغلام احمد صاحب نے نہ صرف نبوت کا دعویٰ کیا پہلے امتی نبی Inferior Type ( کمتر قسم کا) نبی پھر اس کے بعد ایک مقابلے میں کھڑے ہوگئے کہ مجھے ساتھ کھڑا کیا، پھر کہتے ہیں کہ ’’میں ان سے Superior (بہتر) ہوگیا۔‘‘یہImpression (تأثر) ہے جس کی میں Clarification (وضاحت) چاہتا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: جی! جس وقت میری باری آئے گی تو میں جواب دیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں! آپ کی باری ہی چل رہی ہے، That is way میں نے یہ بتایا ہے کہ There should be no misunderstanding.
مرزا ناصر احمد: جی، وہ میں سمجھ گیا۔ بات یہ ہے کہ یہ آپ کا جو ہے استدلال…
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ…
مرزا ناصر احمد: وزنی ہے۔ لیکن اس کے اندر جو ضعف ہے، وہ یہ ہے کہ سوال کرتے ہوئے دس، پندرہ ، بیس ، پچیس، تیس، پچاس ایسے سوال ہوگئے اور یہ سمجھا گیا کہ صرف ان چالیس یا پچاس سوالات کے نتیجہ میں جو عام ایک Impression (تأثر) پڑتا ہے وہ پڑجانا چاہئے۔ اس کا اصل جواب یہ ہے کہ اگر ان پچاس کے مقابلہ میں پچاس ہزار ایسی عبارتیں اور حوالے ہوں - پچاس کے مقابلہ میں پچاس ہزار- جو اپنے آپ کو نبی اکرمﷺ کا ایک ادنیٰ خادم اور جو کچھ حاصل کیا وہ آنحضرتﷺ سے حاصل کرنے والا ہو تو جب پچاس کے مقابلہ میں پچاس ہزار آئیں گی تو ہر شخص جس نے پچاس پہلے سن کے ایک Impression (تأثر) لیا ہوگا تو اس کا Impression (تأثر) بدل جائے گا۔ تو اب پچاس کا تو آپ نے سوال کردیا، تو پچاس ہزار پیش کرنے کی مجھے اجازت دیں…
جناب یحییٰ بختیار: تو مرزا صاحب…
مرزا ناصر احمد: … تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کا Impression (تأثر) بھی بدل جائے گا۔
901جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! گستاخی معاف، گستاخی معاف، آپ Mind (محسوس) نہ کریں…
مرزا ناصر احمد: نہیں، بالکل نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: … یہ پچاس ہزار کا اور ایک کا سوال نہیں ہوتا۔ پچاس ہزار سجدے کے بعد بھی۔ گیا شیطان مارا، ایک سجدے کے نہ کرنے سے۔ اس نے اگر ہزاروں سال سجدے میں سرمارا تو کیامارا؟۔ سو سال آدمی عبادت کرتا رہے، اللہ کو مانتا رہے، رسولﷺ کو مانتا رہے، پھر کہے کہ:’’نہیں، میں نہیں مانتا۔‘‘ توکافر ہوجاتا ہے، ایک دفعہ بھی اگر کہہ دے۔
مرزا ناصر احمد: جی، بالکل، اور اگر ایک سجدے کے بعد پچاس ہزار نیکی کے سجدے ہوں؟
جناب یحییٰ بختیار: وہ بات اور ہے۔ ہاںٹھیک ہے، ٹھیک ہے، Clarification (وضاحت) اسی واسطے ہم چاہ رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: تویہی میں کہتا ہوں کہ مجھے اجازت دیں، میں پچاس ہزار تاریخیں دے کے تو ان کے مقابلے میں وہ کردیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! ہم تو چاہتے ہیں کہ جتنا مختصر ہو۔
مرزا ناصر احمد: Clear (واضح)، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: میں تو صرف آپ کی توجہ Clarification (وضاحت) کے لئے…
مرزا ناصر احمد: مختصر اور حقیقت کی وضاحت کرنے والے۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، مرزا صاحب! اسمبلی خود بھی ان حوالوں کو پڑھ کے کسی نتیجہ پر پہنچ سکتی ہے۔ مگر آپ کو جو تکلیف دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ Clarification (وضاحت ) ہو۔
902مرزا ناصر احمد: میں بڑا ممنون ہوں۔ (Pause)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ’’چاند‘‘ اور آپ نے ذکر جو کیا…
مرزا ناصر احمد: ا س کے آگے جو شعر ہے، اسی کے آگے…
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(چاند اور سورج کا گرہن)
جناب یحییٰ بختیار: ’’چاند اور سورج‘‘- یہ آپ کا جو جھنڈا ہے، اس کے بھی یہی نشان ہیں-دو چاند- پہلی کا اور چودہویں کا؟ ایک سوال تھا، مجھ سے پوچھا گیا۔ میں نے کہا میں اس وجہ سے پوچھ لیتا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: جھنڈے سے ہمارے…
جناب یحییٰ بختیار: پہلی کا اور چودہویں کا…
مرزا ناصر احمد: ہاں، چودہویں کا…
جناب یحییٰ بختیار: یہی، یہی ہے، یہ آنحضرتﷺ کے لئے پہلی کا گرہن ہوا…
مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون
جناب یحییٰ بختیار: اور ان کے لئے چودہویں کا گرہن؟ … نہیں، نہیں، یہی اس وقت…
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، نہیں، ٹھیک ہے، یہ بات نہیں، بلکہ…
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(آنحضرت کے لئے پہلی کا گرہن میرے لئے چودھویں کا)
جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا ہے کہ اس کو Clarify (واضح) کریں کہ: ’’آنحضرت کے لئے پہلی کا گرہن ہوا تھا، میرے لئے چودہویں کا۱؎۔‘‘ پہلی اور چودہویں کا…
مرزا ناصر احمد: آنحضرتa کے متعلق ’’گرہن ہونے‘‘ کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: جو بھی کہا گیا ہوجی…
903مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں…
جناب یحییٰ بختیار: پہلی کا…
مرزا ناصر احمد: شق القمر اور ’’شق القمر‘‘ پہلی کے اوپر اس کا کوئی اطلاق ہی نہیں ہوسکتا، صرف چودہویں کے چاند یا تیرہویں، چودہویں، پندرہویں،جب وہ پورا اس کا دائرہ جو ہو، وہ مکمل ہو، صرف اسی کے متعلق شق القمر کا معجزہ ہے۔
 

محمدابوبکرصدیق

ناظم
پراجیکٹ ممبر
(آپ کے جھنڈے پر یہی نشان ہے)
جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ اسے چاند پہ آپ کے … جھنڈے کے اوپر یہی نشان ہے؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، جھنڈے پر ہمارا نشان ہے۔ جھنڈے پر دراصل نشان- اگر آپ مجھے اجازت دیں- تو ہمارے دماغ میں یہ تھا کہ اس وقت دنیا میں اسلام پر سخت حملہ ہورہا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ یہی مرزا قادیانی نے کہا جو اٹارنی جنرل فرمارہے ہیں، مثلاً مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص۷۰، خزائن ج۱۹ص۱۸۳) پر کہا خود مرزا نے جو ترجمہ کیا یہ ہے:’’ آنحضرتﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ کیا تو اب انکار کرے گا۔‘‘ مقصد یہ کہ میں آنحضرتﷺ سے افضل ہوں(معاذ اللہ) اسی طرح (خطبہ الہامیہ ص۲۷۵، خزائن ج۱۶ ص ایضاً) پر لکھا کہ:’’ اسلام ہلال (پہلی رات کے چاند) کی طرح شروع ہوا (آنحضرتﷺ کا زمانہ مراد لے رہا ہے)اور اب اس صدی (مرزا کے زمانہ میں )بدر کامل ہوگیا‘‘ یعنی اسلام کو حضور علیہ السلام کے زمانہ میں چاند کی پہلی رات کی مانند قرار دیا اوراپنے زمانہ میں اس کو چودہویں رات کا چاند قرار دیا، اس سے آنحضرتﷺ پر اپنی افضلیت ثابت کی۔ (معاذ اللہ)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہے اور دنیاوی لحاظ سے دیکھیں، حکومتیں آزادی بھی نہیں رہیں، دوسروں کا پریشر اوپر ہے، وغیرہ، وغیرہ۔ تو اس وقت ایک ایسی مہم، ہمارے ایمان کے نزدیک، ہمارے ایمان میں، اللہ تعالیٰ نے جاری کی ہے جو اس وقت حالت اسلام کی… اس وقت کی، چودہ سو سال پہلے کی نہیں… اس وقت کی جو ہلال کی حالت ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا ہے اُمت مسلمہ کو کہ یہ پھر اپنے پورے عروج، چودہویں کے چاند تک پہنچے گا۔ ہمارے دماغ میں یہ ہے۔ دیکھنے والا جو مرضی سمجھ لے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، اس کو…
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ جو وہ ہے شق قمر معجزہ اور گرہن ، دونوں کا اس کے ساتھ کے شعر جو ہیں اسی نظم میں ؎(عربی)
(میں نبی اکرمﷺ کے مال کا وارث ہوں)(عربی)
(میں نبی اکرمﷺ کی برگزیدہ اولاد میں سے ایک ہوں)(عربی)
904کہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ’’کس طرح وارث بن گیا؟ آپ تو انبیاء میں سے نہیں ہیں؟‘‘لیکن روحانی طورکے اوپر اس شعر میں آپ نے کہا ہے کہ ’’میں آپ کا وارث ہوں‘‘ اور وارث ہوکے:(عربی)
(کہ ہم نے روحانی اولاد بن کر آپ کے فیوض کا ورثہ حاصل کیا) (Pause)
ایک میں…
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اسی جگہ پر جو کہ یہ سوال تھا، آپ جواب دے رہے ہیں…
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: … تو اس لئے Intrrupt (بات کاٹ رہا ہوں) کررہا ہوں، کیونکہ جو سوال میرا تھا وہ یہ کہ: ’’آنحضرتﷺ کے وقت دین کی حالت پہلی شب کے چاند کی طرح تھی، مگر مرزا صاحب کے وقت چودہویں رات کے بدرِ کامل جیسی ہوگی… بدر کامل جیسی ہوگئی۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۲۷۵، خزائن ج۱۶ ص ایضاً)
مرزا ناصر احمد: یہ کہاں کا حوالہ ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: یہ جی ابھی دکھارہاہوں۔ یہ ’’خطبۂ الہامیہ‘‘… (Pause)
905مرزا ناصر احمد: ہوں، یہ’’خطبہ الہامیہ‘‘ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) دکھائیے جی ذرا۔
جناب یحییٰ بختیار: … ص۱۷۸ اور ۲۰۱ - دو (۲) Pages (صفحات) دیئے ہوئے ہیں، پتہ نہیں کس کا Page (صفحہ) پر ہے یہ… اب نکال…
مرزا ناصر احمد: یہاں…
جناب یحییٰ بختیار: تو اسی کے…
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، یہاں آنحضرتﷺ کا اپنے ساتھ مقابلہ نہیں کیا ہوا، بلکہ اسلام کی اس وقت کی حالت کا آخری غلبہ کے ساتھ مقابلہ کیا گیا ہے۔ یہ تو ہر ایک کو پتہ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بس میں یہی کہتا ہوں کہ انہوں نے یہ کہا ہے…
مرزا ناصر احمد: اپنے متعلق نہیں…
جناب یحییٰ بختیار: ’’ان کے وقت میں پہلی کا چاند تھا اور …‘‘
مرزا ناصر احمد: اسلام…
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کے وقت…
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں،…
جناب یحییٰ بختیار: ’’…مکمل…‘‘
مرزا ناصر احمد: یہ بات اسلام کی ہورہی ہے…
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہتا ہوں…
مرزا ناصر احمد: نبی اکرمﷺ …
 
Top