• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

سیرت المہدی

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 221} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ مرزا امام الدین صاحب نے داداصاحب کے قتل کی سازش کی اور بھینی کے ایک سکھ سوچیت سنگھ کوا س کام کیلئے مقررکیا ۔مگر سوچیت سنگھ کا بیان ہے کہ میں کئی دفعہ دیوان خانہ کی دیوار پر اس نیت سے چڑھا مگر ہر دفعہ مجھے مرزا صاحب یعنی داد اصاحب کے ساتھ دو آدمی محافظ نظر آئے اس لئے میں جرأت نہ کر سکا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ کوئی تصرف الہٰی ہو گا ۔
{ 222} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ داد اصاحب حقہ بہت پیتے تھے مگرا ُس میں بھی اپنی شان دکھاتے تھے یعنی جو لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوں ان کو اپنا حقہ نہیں دیتے تھے لیکن غریبوں اور چھوٹے آدمیوں سے کو ئی روک نہ تھی ۔
{ 223} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ داد اصاحب کا تکیہ کلام ’’ ہے بات کہ نہیں ‘‘ تھا جو جلدی میں ’’ ہے باکہ نہیں ‘‘ سمجھا جاتا تھا ،خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کے متعلق اور بھی کئی لوگوں سے سناگیا ہے ۔
{ 224} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا ۔دادا صاحب نے اُس کی بڑی خاطر ومدارات کی۔اس مولوی نے داد اصاحب سے کہا کہ مرزا صاحب ! آپ نماز نہیں پڑھتے ؟ داد اصاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں بے شک میری غلطی ہے۔مولوی صا حب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب یہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے ۔آخر مولوی نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے۔ اللہ آپ کو دوزخ میں ڈال دے گا ۔اس پر داد اصاحب کو جوش آگیا اور کہا’’ تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالے گا؟ ۔میں اللہ تعالیٰ پر ایسا بد ظن نہیں ہوں میری امید وسیع ہے ۔خدا فرماتا ہے لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ (الزّمر:۵۴) تم مایوس ہو گے۔ میں مایوس نہیں ہوں ۔ اتنی بے اعتقادی میں تو نہیں کرتا ۔‘‘ پھر کہا ’’ا سوقت میری عمر ۷۵سال کی ہے ۔آج تک خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی تو کیا اب وہ مجھے دوزخ میں ڈال دیگا ۔‘‘ خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیٹھ لگنا پنجابی کا محاورہ ہے جس کے معنی دشمن کے مقابلہ میں ذلیل و رُسوا ہو نے کے ہیں۔ ورنہ ویسے مصائب تو دادا صاحب پر بہت آئے ہیں ۔
{ 225} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ جب سے تمہاری دادی فوت ہوئیں تمہارے دادا نے اندر زنانہ میں آنا چھوڑ دیا تھا ۔ دن میں صرف ایک دفعہ تمہاری پھوپھی کو ملنے آتے تھے اور پھوپھی کے فوت ہو نے کے بعد تو بالکل نہیں آتے تھے ۔باہر مردا نے میں رہتے تھے ۔
(خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت حضرت والدہ صا حبہ نے کسی اور سے سنی ہو گی کیونکہ یہ واقعہ حضرت اماں جان کے قادیان تشریف لانے سے پہلے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔)
{ 226} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مرزا سلطان احمد صاحب نے کہ داد اصاحب نے طب کا علم حافظ روح اللہ صاحب باغبانپورہ لاہور سے سیکھا تھا ۔اسکے بعد دہلی جاکر تکمیل کی تھی ۔
{ 227} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ دادا صاحب کی ایک لائبریری تھی جو بڑے بڑے پٹاروںمیں رہتی تھی ۔ اور اس میں بعض کتابیں ہمارے خاندان کی تاریخ کے متعلق بھی تھیں ۔میری عادت تھی کہ میں دادا صاحب اور والد صاحب کی کتابیں وغیرہ چوری نکال کر لے جایا کرتا تھا ۔چنانچہ والدصاحب اور دادا صاحب بعض وقت کہا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں کو یہ ایک چوہا لگ گیا ہے۔
{228 } بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب سے مجھے حضرت مسیح موعود ؑ کی ایک شعروں کی کاپی ملی ہے جو بہت پرانی معلوم ہو تی ہے ۔غالباً نوجوانی کا کلام ہے ۔حضرت صاحب کے اپنے خط میں ہے جسے میں پہچانتا ہوں۔ بعض بعض شعر بطور نمونہ درج ذیل ہیں ۔ ؎
عشق کا روگ ہے کیاپوچھتے ہو اس کی دوا
ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے
کچھ مزا پایا مرے دل ! ابھی کچھ پائو گے
تم بھی کہتے تھے کہ اُلفت میں مزا ہوتا ہے
ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے
مفت بیٹھے بٹھا ئے غم میں پڑے
اسکے جانے سے صبر دل سے گیا
ہوش بھی ورطۂ عدم میں پڑے
سبب کوئی خداوندا بنا دے
کسی صور ت سے وہ صورت دکھا دے
کرم فرما کے آ او میرے جانی
بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہوکر
دلا اک بار شوروغل مچادے
نہ سر کی ہوش ہے تم کو نہ پا کی
سمجھ ایسی ہوئی قدرت خدا کی
مرے بت! اب سے پردہ میں رہوتم
کہ کافر ہو گئی خلقت خدا کی
نہیں منظور تھی گر تم کو اُلفت
تو یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا
مری دلسوزیوں سے بے خبر ہو
مرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اسکو دوں یا ہوش یا جاں
کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا
کوئی راضی ہو یا ناراض ہو وے
رضامندی خداکی مدعا کر
اس کاپی میں کئی شعر ناقص ہیں یعنی بعض جگہ مصرع اول موجود ہے مگر دوسرا نہیں ہے اور بعض جگہ دوسرا ہے مگر پہلا ندارد۔بعض اشعار نظر ثانی کیلئے بھی چھوڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور کئی جگہ فرخ تخلص استعمال کیا ہے ۔
{ 229} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ تایا صاحب کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی اور کئی دن تک جشن رہا تھا اور ۲۲طائفے ارباب نشاط کے جمع تھے مگر والد صاحب کی شادی نہایت سادہ ہو ئی تھی ۔اور کسی قسم کی خلاف شریعت رسوم نہیں ہوئیں ۔ خاکسارعر ض کرتا ہے کہ یہ بھی تصرف الہٰی تھا ورنہ دادا صاحب کو دونوں بیٹے ایک سے تھے ۔(نیز یہ طائفے ان لوگوں کی وجہ سے آئے ہوں گے جو ایسے تماشوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ورنہ خود دادا صاحب کو ایسی باتوں میں شغف نہیں تھا۔)
{ 230} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ہماری دادی صاحبہ بڑی مہمان نواز ۔سخی اور غریب پرور تھیں ۔
{ 231} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ میں نے سنا ہوا ہے کہ ایک دفعہ والد صاحب سیشن عدالت میں اسیسر مقرر ہوئے تھے مگر آپ نے انکار کردیا۔ (اس جگہ دیکھو روایت نمبر ۳۱۳)
{ 232} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ آخری عمر میں دادا صاحب نے ایک مسجد تعمیر کروانے کا ارادہ کیا اورا سکے لئے موجودہ بڑی مسجد (یعنی مسجد اقصیٰ) کی جگہ کو پسند کیا اس جگہ سکھ کارداروں کی حویلی تھی ۔جب یہ جگہ نیلام ہو نے لگی تو داد اصاحب نے اس کی بولی دی مگر دوسری طرف دوسرے باشندگان قصبہ نے بھی بولی دینی شروع کی اور اس طرح قیمت بہت چڑھ گئی ۔مگر دادا صاحب نے بھی پختہ قصد کر لیا تھا کہ میں اس جگہ میں ضرور مسجد بنائوں گا ۔ خواہ مجھے اپنی کچھ جائداد فروخت کر نی پڑے ۔چنانچہ سات سو روپیہ میں یہ جگہ خریدی اور اس پر مسجد بنوائی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت کے لحاظ سے اس جگہ کی قیمت چند گنتی کے روپے سے زیادہ نہ تھی مگر مقابلہ سے بڑھ گئی ۔
{ 233} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری تائی کے سارے گھر میں صرف مرزا علی شیر کی ماں یعنی مرزا سلطان احمد کی نانی جو حضر ت صاحب کی ممانی تھی حضرت صاحب سے محبت رکھتی تھی اور ان کی وجہ سے مجھے بھی اچھا سمجھتی تھی باقی سب مخالف ہوگئے تھے ۔میں جب اُس طرف جاتی تھی تو وہ مجھے بڑی محبت سے ملتی تھی اور کہا کر تی تھی ۔ہائے افسوس !یہ لوگ اسے ( یعنی حضرت صاحب کو ) کیوں بد دعائیں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں ۔اسے میری چراغ بی بی نے کتنی منتوں سے تر س ترس کر پالا تھا اور کتنی محبت اور محنت سے پرورش کی تھی ۔والد ہ صاحبہ کہتی ہیں کہ وہ بہت بوڑھی ہو گئی تھی اور وقت گزارنے کے لئے چرخہ کا تتی رہتی تھی ۔حضرت صاحب کو بھی اس سے محبت تھی اور والد ہ صاحبہ نے بیان کیا کہ تمہاری تائی کہتی ہیں کہ حضرت صاحب کی ممانی کا نام بھی تمہاری دادی کی طرح چراغ بی بی تھا ۔
{ 234} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب نے کہ اُن سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ جو عورت والد صاحب کو کھانا دینے جاتی تھی وہ بعض اوقات واپس آکر کہتی تھی ’’میاں اُن کو ( یعنی حضرت صاحب کو ) کیا ہوش ہے ۔یا کتابیں ہیں اور یا وہ ہیں ‘‘۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ناظرین کو یاد ہوگا کہ میں نے تمہید میں یہ لکھا تھا کہ میں بغرض سہولت تمام روایات صرف اردو زبان میں بیان کرو ں گا ۔خواہ وہ کسی زبان میں کہی گئی ہوں ۔سو جاننا چاہیے کہ فقرہ مندرجہ بالا بھی دراصل پنجابی میں کہا گیا تھا ۔ یہ صرف بطور مثال کے عرض کیا گیا ہے نیز ایک اور عرض بھی ضروری ہے کہ جہاں خاکسار نے یہ لکھا ہے کہ ’’ بیان کیا مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے ‘‘ اس سے مطلب یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو میں نے کو ئی معیّن سوال دے کر مرزا صاحب موصوف کے پاس بھیجا اور اس کا جو جواب مرزاصاحب کی طرف سے دیا گیا وہ نقل کیا گیا اور جہاں مولوی صاحب کی طرف روایت کو منسوب کیا ہے وہاں میرے کسی معیّن سوال کا جواب نہیں بلکہ جو مرزا صاحب نے دوران گفتگو میں مولوی صاحب کو کوئی بات بتائی وہ نقل کی گئی ہے ۔
{ 235} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم ۔ اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ہیضہ پھوٹا اور چوہڑوں کے محلہ میں کیس ہونے شروع ہوئے ۔ داد اصاحب اُس وقت بٹالہ میں تھے یہ خبر سن کر قادیان آگئے اور چوہڑوں کے محلہ کے پاس آکر ٹھہر گئے اور چوہڑوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔اور ان کو تسلی دی اور پھر حکم دیا کہ قادیان کے عطار آملہ ۔کشٹے ۔گُڑ (یعنی قند سیاہ ) لیتے آویں اور پھر اُن کو مٹی کے بڑے بڑے برتنوں میں ڈلوا دیا اور کہا کہ جو چاہے گڑوالا پیئے اور جو چاہے نمک والا پیئے ۔کہتے ہیں کہ دوسرے دن مرض کا نشان مٹ گیا ۔
{ 236} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں سیالکوٹ میں تھا ۔ ایک دن بارش ہو رہی تھی جس کمرہ کے اندر میں بیٹھا ہوا تھا اس میں بجلی آئی ۔ سارا کمرہ دھوئیں کی طرح ہوگیا اور گندھک کی سی بو آتی تھی لیکن ہمیں کچھ ضرر نہ پہنچا ۔ اسی وقت وہ بجلی ایک مندر میں گری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اس میں ہندوئوں کی رسم کے موافق طواف کے واسطے پیچ در پیچ اردگرد د یوار بنی ہوئی تھی اور اندر ایک شخص بیٹھا تھا ۔بجلی تمام چکروں میں سے ہو کر اندر جاکر اس پر گری اور وہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہوگیا ۔دیکھو وہی بجلی آگ تھی جس نے اسکو جلاد یا مگر ہم کو کچھ ضرر نہ دے سکی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی ۔
ایسا ہی سیالکوٹ کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رات مَیں ایک مکان کی دوسری منزل پر سو یا ہوا تھا اور اسی کمرہ میں میرے ساتھ پندرہ یا سولہ آدمی اور بھی تھے ۔رات کے وقت شہتیر میں ٹک ٹک کی آواز آئی ۔میں نے آدمیوں کو جگا یا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتا ہے یہاں سے نکل جانا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ کوئی چوہاہوگا خوف کی بات نہیں اور یہ کہہ کر سو گئے۔تھوڑی دیرکے بعد پھر ویسی آواز آئی تب میں نے ان کو دوبارہ جگایا مگر پھر بھی انہوں نے کچھ پروا نہ کی ۔پھر تیسری بار شہتیر سے آواز آئی تب میں نے ان کو سختی سے اُٹھایا اور سب کو مکان سے باہر نکالا اور جب سب نکل گئے تو خود بھی وہا ں سے نکلا۔ابھی دوسرے زینہ پر تھا کہ وہ چھت نیچے گری اوروہ دوسری چھت کو ساتھ لے کر نیچے جا پڑی اور سب بچ گئے ۔
ایسا ہی ایک دفعہ ایک بچھو میرے بسترے کے اندر لحاف کے ساتھ مرا ہواپایا گیا اور دوسری دفعہ ایک بچھو لحاف کے اندر چلتا ہوا پکڑا گیا ۔مگر ہر دو بار خدا نے مجھے ان کے ضرر سے محفوظ رکھا ۔ایک دفعہ میرے دامن کو آگ لگ گئی تھی مجھے خبر بھی نہ ہوئی ۔ایک اور شخص نے دیکھا اور بتلایا اور آگ کو بجھا دیا ۔ خاکسارعر ض کرتا ہے کہ یہ باتیں حضرت صاحب کی ڈائری سے لی گئی ہیں اور بچھو اور آگ لگنے کا واقعہ ضروری نہیں کہ سیالکوٹ سے متعلق ہو ۔
{ 237} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۴۸پر حضر ت مسیح موعود ؑ تحریر فرماتے ہیں ’’ اس احقر نے ۱۸۶۴ء یا ۱۸۶۵ء میں اسی زمانہ کے قریب کہ جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصہ میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا ۔جناب خاتم الانبیاء ﷺ کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خودا س عاجز کی تصنیف معلو م ہوتی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے ،جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہو نے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کے کمال استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے ۔غرض آنحضرت ﷺ نے وہ کتاب مجھ سے لے لی ۔اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا ۔مگر بقدر تربوز تھا ۔آنحضرت ؐ نے جب اس میوہ کو تقسیم کر نے کیلئے قاش قاش کر نا چاہا توا س قدر اس میں سے شہد نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مِرفق تک شہد سے بھر گیا ۔تب ایک مردہ کہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا آنحضر ت ؐ کے معجزے سے زند ہ ہو کراس عاجز کے پیچھے آکھڑا ہوا اور یہ عاجز آنحضرت ؐ کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرت ؐ بڑے جاہ و جلال اور بڑے حاکمانہ شان سے ایک زبردست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوہ فرما رہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت ﷺنے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تامیں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے سے زندہ ہو ا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیںاور و ہ ایک قاش میںنے اس نئے زندہ کو دے دی۔اوراس نے وہیں کھا لی پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت ؐ کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی کہ جو دین اور اسلام کی تازگی اور ترقی کی اشارت تھی تب اسی نو رکا مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی ۔‘‘
(خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس رؤیا میں یہ اشارہ تھا کہ آگے چل کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خدمتِ دین کا کوئی ایسا عظیم الشان کام لیا جائے گا کہ جس سے اسلام میں جو مردہ کی طرح ہو رہا ہے پھر زندگی کی روح عود کر آئے گی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ رؤیا غالباً ۱۸۶۴ء سے بھی پہلے کاہو گا۔ کیونکہ ۱۸۶۴ء میں تو آپ سیالکوٹ میں ملازم ہو چکے تھے۔)
{ 238} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۵۲۰پر لکھتے ہیں کہ ’’ اس برکت کے بارے میں ۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء میں بھی ایک عجیب الہام اردو میںہوا تھا جس کو اس جگہ لکھنا مناسب ہے اور تقریب اس الہام کی یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابوسعیدمحمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے ۔جب نئے نئے مولوی ہو کر بٹالہ میں آئے اور بٹالیو ں کو ان کے خیالات گراں گذرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس نا چیز کو بہت مجبور کیا چنانچہ اس کے کہنے کہانے پر یہ عاجز شام کے وقت اس شخص کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو مع ان کے والدصاحب کے مسجد میں پایا ۔پھر خلاصہ یہ کہ اس ا حقر نے مولوی صاحب موصوف کی اس وقت کی تقریر کو سُن کر معلوم کر لیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل اعتراض ہو اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا ۔ رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اس ترکِ بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ’’تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے پھر بعد اس کے کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے ۔جو گھوڑوں پر سوار تھے ۔‘‘
{ 239} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میری نانی اماں صاحبہ نے کہ ایک دفعہ جب تمہارے نانا کی بدلی کا ہنووان میں ہوئی تھی ۔میں بیمار ہو گئی تو تمہارے نانا مجھے ڈولی میں بٹھلا کر قادیان تمہارے دادا کے پاس علاج کے لئے لائے تھے۔اور اسی دن میں واپس چلی گئی تھی ۔تمہارے دادا نے میری نبض دیکھ کر نسخہ لکھ دیا تھا ۔اور تمہارے نانا کو یہاں اور ٹھہرنے کے لئے کہا تھا ۔مگر ہم نہیں ٹھہر سکے ۔کیونکہ پیچھے تمہاری اماں کو اکیلا چھوڑ آئے تھے۔نیز نانی امّاں نے بیان کیا کہ جس وقت میں گھر میں آئی تھی میں نے حضرت صاحب کو پیٹھ کی طرف سے دیکھا تھا کہ ایک کمرے میں الگ بیٹھے ہوئے رِحل پر قرآن شریف رکھ کر پڑھ رہے تھے ۔میں نے گھر والیوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ مرزا صاحب کا چھوٹا لڑکا ہے اور بالکل ولی آدمی ہے ۔قرآن ہی پڑھتا رہتا ہے ۔ نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ مجھے اپنی امّاں اور ابّا کا مجھے اکیلا چھوڑ کر قادیان آنے کے متعلق صرف اتنا یاد ہے کہ میں شا م کے قریب بہت روئی چلائی تھی کہ اتنے میں ابّا گھوڑا بھگاتے ہوئے گھر میں پہنچ گئے اورمجھے کہا کہ ہم آگئے ہیں۔
{ 240} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یوں تو حضرت صاحب کی ساری عمر جہاد کی صف اوّل میں ہی گذری ہے ۔لیکن با قاعدہ مناظرے آپ نے صرف پانچ کئے ہیں ۔
اوّل۔ ماسٹر مرلی دھرآریہ کے ساتھ بمقام ہو شیار پو ر مارچ ۱۸۸۶ء میں۔اس کا ذکر آپ نے سر مۂ چشم آریہ میں کیا ہے ۔
دوسرے ۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ بمقام لدھیانہ ،جولائی ۱۸۹۱ء میں۔ اس کی کیفیت رسالہ الحق لدھیانہ میں چھپ چکی ہے ۔
تیسرے ۔مولوی محمد بشیر بھوپالوی کے ساتھ بمقام دہلی اکتوبر ۱۸۹۱ء میں ۔اس کی کیفیت رسالہ الحق دہلی میں چھپ چکی ہے ۔
چوتھے ۔ مولوی عبد الحکیم کلا نوری کے ساتھ بمقام لاہور جنوری و فروری۱۸۹۲ء میں۔ اس کی روئداد شائع نہیں ہوئی صرف حضرت صاحب کے اشتہار مورخہ ۳؍فروری ۱۸۹۲ء میں اس کا مختصر ذکر پایا جاتا ہے ۔
پانچویں ۔ڈپٹی عبد اللہ آتھم مسیحی کے ساتھ بمقام امرتسر مئی و جون ۱۸۹۳ء میں۔ اس کی کیفیت جنگ مقدس میں شائع ہو چکی ہے ۔
ان کے علاوہ دو اور جگہ مباحثہ کی صورت پیدا ہو کر رہ گئی ۔اوّل مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ بمقام بٹالہ ۶۹یا۱۸۶۸ء میں ۔ اس کا ذکر حضرت صاحب نے براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ۵۲۰پر کیا ہے ۔دوسرے۔مولوی سید نذیر حسین صاحب شیخ الکل دہلوی کے ساتھ بمقام جامع مسجد دہلی بتاریخ ۲۰؍اکتوبر ۱۸۹۱ء ۔اس کا ذکر حضرت کے اشتہارات میں ہے ۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 241} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے منشی عطا محمد صاحب پٹواری نے کہ جب میں غیر احمدی تھا اور ونجواں ضلع گورداسپور میں پٹواری ہوتا تھا تو قاضی نعمت اللہ صاحب خطیب بٹالوی جن کے ساتھ میرا ملنا جلنا تھا ۔ مجھے حضرت صاحب کے متعلق بہت تبلیغ کیا کرتے تھے ۔مگر میں پرواہ نہیں کرتا تھا ۔ایک دن انہوں نے مجھے بہت تنگ کیا۔ میں نے کہا اچھا میں تمہارے مرزا کو خط لکھ کر ایک بات کے متعلق دعا کراتا ہوں اگر وہ کام ہو گیا تو میں سمجھ لوں گا کہ وہ سچے ہیں ۔چنانچہ میں نے حضرت صاحب کو خط لکھا کہ آپ مسیح موعوداور ولی اللہ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ولیوں کی دعائیں سُنی جاتی ہیں ۔آپ میرے لئے دعا کریں کہ خدا مجھے خوبصورت صاحب اقبال لڑکا جس بیوی سے میں چاہوں عطا کرے ۔اور نیچے میں نے لکھ دیا کہ میری تین بیویاں ہیں مگر کئی سا ل ہو گئے آج تک کسی کے اولاد نہیں ہوئی ۔میں چاہتا ہوں کہ بڑی بیوی کے بطن سے لڑکا ہو ۔حضرت صاحب کی طرف سے مجھے مولوی عبد الکریم صاحب مر حوم کا لکھا ہوا خط گیا کہ مولا کے حضور دعا کی گئی ہے ۔اللہ تعالیٰ آپ کو فرزند ارجمند صاحب اقبال خوبصوت لڑکا جس بیوی سے آپ چاہتے ہیں عطا کرے گا ۔مگر شرط یہ ہے کہ آپ زکریا والی توبہ کریں ۔منشی عطا محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ان دنوں سخت بے دین اور شرابی کبابی راشی مرتشی ہوتا تھا ۔ چنانچہ میں نے جب مسجد میں جا کر ملاّں سے پو چھا کہ زکریا والی توبہ کیسی ہوتی ہے؟تو لوگوں نے تعجب کیا کہ یہ شیطان مسجد میں کس طرح آگیا ہے۔ مگر وہ ملاں مجھے جواب نہ دے سکا ۔پھر میں نے دھرم کوٹ کے مولوی فتح دین صاحب مرحوم احمدی سے پوچھا انہوں نے کہا کہ زکریا والی توبہ بس یہی ہے کہ بے دینی چھوڑ دو ۔حلال کھاؤ۔ نماز روزہ کے پابند ہو جاؤاور مسجد میں زیادہ آیا جایا کرو۔یہ سُن کر میں نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔ شراب وغیرہ چھوڑ دی اور رشوت بھی بالکل ترک کر دی اور صلوٰۃ و صوم کا پا بند ہو گیا۔چار پانچ ماہ کا عرصہ گذرا ہو گاکہ میں ایک دن گھر گیا تو اپنی بڑی بیوی کو روتے ہوئے پایا ۔سبب پوچھا تو اس نے کہا پہلے مجھ پر یہ مصیبت تھی کہ میرے اولاد نہیں ہوتی تھی آپ نے میرے اُوپر دو بیویاں کیں ۔اب یہ مصیبت آئی ہے کہ میرے حیض آنا بند ہو گیا ہے (گویا اولاد کی کوئی امید ہی نہیں رہی ) ان دنوں میں اس کا بھائی امرتسر میں تھا نہ دار تھا چنانچہ اس نے مجھے کہا کہ مجھے میرے بھائی کے پاس بھیج دو کہ میں کچھ علاج کرواؤں ۔میں نے کہا وہاں کیا جاؤ گی یہیں دائی کو بلا کر دکھلاؤاور اس کا علاج کرواؤ ۔ چنانچہ اس نے دائی کو بلوایااور کہا کہ مجھے کچھ دوا وغیرہ دو ۔دائی نے سرسری دیکھ کر کہا میں تو دوا نہیں دیتی نہ ہاتھ لگاتی ہوں ۔کیوںکہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا تیرے اندر بھول گیا ہے (یعنی تُو تو بانجھ تھی مگر اب تیرے پیٹ میں بچہ معلوم ہوتا ہے ۔پس خدا نے تجھے (نعوذباللہ )بھول کر حمل کروا دیا ہے۔ مؤلف)اور اس نے گھر سے باہر آکر بھی یہی کہنا شروع کیا کہ خدا بھول گیا ہے مگر میں نے اسے کہا کہ ایسا نہ کہو بلکہ میںنے مرزا صاحب سے دعا کروائی تھی ۔ پھر منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ میں حمل کے پورے آثار ظاہر ہو گئے اور میں نے ارد گرد سب کو کہنا شروع کیاکہ اب دیکھ لینا کہ میرے لڑکا پیدا ہوگا اور ہوگا بھی خوبصورت مگر لوگ بڑا تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ایسا ہو گیا تو واقعی بڑی کرامت ہے ۔آخر ایک دن رات کے وقت لڑکا پیدا ہوا اور خوبصورت ہوا ۔میں اسی وقت دھرم کوٹ بھاگا گیا ۔جہاں میرے کئی رشتہ دار تھے اور لوگوں کو اس کی پیدائش سے اطلاع دی چنانچہ کئی لوگ اسی وقت بیعت کے لئے قادیان روانہ ہو گئے مگر بعض نہیں گئے اور پھراس واقعہ پر ونجواں کے بھی بہت سے لوگوں نے بیعت کی اور میں نے بھی بیعت کرلی ۔اور لڑکے کا نام عبد الحق رکھا ۔منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میری شادی کو بارہ سال سے زائد ہو گئے تھے۔اور کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی ۔نیز منشی صاحب نے بیان کیاکہ میں پھر جب قادیان آیا تو ان دنوں میں مسجد کا راستہ دیوار کھینچنے سے بند ہوا تھا ۔میں نے باغ میں حضرت صاحب کو اپنی ایک خواب سنائی کہ میں نے دیکھا ہے کہ میرے ہاتھ میں ایک خر بوزہ ہے جسے میں نے کاٹ کر کھایا ہے اور وہ بڑا شیریں ہے لیکن جب میں نے اس کی ایک پھاڑی عبد الحق کو دی تو وہ خشک ہو گئی۔حضرت صاحب نے تعبیر بیان فرمائی کہ عبد الحق کی ماں سے آپ کے ہاں ایک اور لڑکا ہو گا مگر وہ فوت ہو جائے گا۔چنانچہ منشی صاحب کہتے ہیں کہ ایک اور لڑکا ہوا مگر وہ فوت ہو گیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے عبد الحق کو دیکھا ہے خوش شکل اور شریف مزاج لڑکا ہے اس وقت ۱۹۲۲ء میں اس کی عمر کوئی بیس سال کی ہو گی ۔
{ 242} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کو اپنے دشمنوں کی طرف سے چھ مقدمات پیش آئے ہیں ۔چار فوج داری۔ ایک دیوانی اور ایک مالی اور ان سب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بشارتوں کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ کو دشمنوں پر فتح دی ہے ۔اور یہ مقدمات ان مقدمات کے علاوہ ہیں جو جائیداد وغیرہ کے متعلق دادا صاحب کی زندگی میں اور اُن کے بعد پیش آتے رہے۔
اوّل ۔سب سے پہلا مقدمہ یہ ہے جو بابو رلیا رام مسیحی وکیل امرتسر کی مخبری پرمحکمہ ڈاک کی طرف سے آپ پر دائر کیا گیا تھا ۔یہ مقدمہ بہت پرانا ہے ۔یعنی براہین احمدیہ کی اشاعت سے بھی قبل کا ہے۔(غالباً۱۸۷۷ء کا) حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کا کئی جگہ ذکر کیا ہے ۔مگر سب سے مفصل ذکر اس کا اُس خط میں ہے جو حضرت صاحب نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو اس کے فتویٰ تکفیر کے بعد لکھا تھا ۔اور جو آئینہ کمالات اسلام میں شائع ہو چکا ہے۔
دوسرے ۔وہ خطر ناک فوجداری مقدمہ جو مارٹن کلارک مسیحی پادری نے اقدام قتل کے الزام کے ماتحت حضرت کے خلاف دائر کیا تھا۔اس کی ابتدائی کارروائی یکم اگست ۱۸۹۷ء کو امرتسر میں بعدالت ای مارٹینو دپٹی کمشنر امرتسر شروع ہوئی اور بالآخر ۲۳؍ اگست ۱۸۹۷ء کو آپ ایم ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت سے بری کئے گئے۔اس مقدمہ کی مفصل کیفیت کتاب البریہ میں چھپ چکی ہے ۔
تیسرے ۔ مقدمہ حفظ امن زیر دفعہ ۱۰۷ضابطہ فوجداری ۔جو بعد الت جے۔ایم ڈوئی ڈپٹی کمشنر گورداسپور ۲۴؍ فروری ۱۸۹۹ء کو فیصل ہوا ۔اور حضرت صاحب ضمانت کی ضرورت سے بری قرار دیئے گئے ۔یہ مقدمہ محمدبخش تھانہ دار بٹالہ کی رپورٹ مورخہ یکم دسمبر ۱۸۹۸ء و در خواست مولوی محمد حسین بٹالوی برائے اسلحہ خود حفاظتی مورخہ ۵؍دسمبر ۱۸۹۸ء پر مبنی تھا۔اس کے متعلق حضرت صاحب نے اپنے اشتہار مورخہ ۲۶؍ فروری ۱۸۹۹ء میں ذکر کیا ہے اور الحکم کے نمبرات ماہ مارچ ۱۸۹۹ء میں اس کی مفصل کیفیت درج ہے ۔
چوتھے وہ لمبا اور تکلیف دہ فوجداری مقدمہ جو کرم دین ساکن بھیں ضلع جہلم کی طرف سے اوّل اوّل جہلم میں اور پھر اس کے بعد گورداسپور میں چلایا گیا تھا اور بالآخر بعدالت اے۔ای ہری سیشن جج امرتسر ۷؍جنوری ۱۹۰۵ء کو فیصل ہوا ۔اور آپ بری کئے گئے۔ماتحت عدالت کا فیصلہ بعدالت آتما رام مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور۸؍اکتوبر۱۹۰۴ء کو ہوا تھا ۔اس مقدمہ کی کیفیت اخبار الحکم میں چھپتی رہی ہے یہ مقدمہ دراصل دو حصوں پر مشتمل تھا۔
پانچویں۔وہ دیوانی مقدمہ جو حضرت صاحب کی طرف سے مرزا امام الدین ساکن قادیان کے خلاف دائر کیا گیا تھا ۔اس کی بنا یہ تھی کہ مرزا امام الدین نے مسجد مبارک کے راستہ کو ایک دیوا ر کھینچ کر ۷؍جنوری۱۹۰۰ء کو بند کر دیا تھا ۔یہ مقدمہ ۱۲؍اگست ۱۹۰۱ء کو بعدالت شیخ خدابخش صاحب ڈسٹرکٹ جج گورداسپور حضرت صاحب کے حق میں فیصل ہوا ۔اور ۲۰؍اگست ۱۹۰۱ء کو دیوار گرائی گئی ۔ اس کی کیفیت اخبار الحکم اور کچھ حقیقۃ الوحی میں شائع ہو چکی ہے ۔
چھٹے۔مقدمہ انکم ٹیکس جو ۱۷؍ دسمبر ۱۸۹۷ء کو بعدالت ٹی ۔ڈکسن ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور فیصل ہوا اور حضرت صاحب پر انکم ٹیکس لگانے کی ضرورت نہ سمجھی گئی ۔اس کی کیفیت ضرورۃ الامام میں شائع ہو چکی ہے ۔
{ 243} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ مبارکہ(خاکسار کی ہمشیرہ)کا چلّہ نہانے کے دو تین دن بعد میں اوپر کے مکان میں چار پائی پر بیٹھی تھی اور تم میرے پاس کھڑے تھے اورپھجو(گھر کی ایک عورت کا نام ہے)بھی پاس تھی کہ تم نے نیچے کی طرف اشارہ کر کے کہاکہ ’’امّاںاوپائی‘‘ میں نہ سمجھی۔ تم نے دو تین دفعہ دہرایا اور نیچے کی طرف اشارہ کیا جس پر پھجو نے نیچے دیکھا تو ڈیوڑھی کے دروازے میں ایک سپاہی کھڑا تھا ۔پھجو نے اسے ڈانٹا کہ یہ زنانہ مکان ہے تو کیوں دروازے میں آگیا ہے اتنے میں مسجد کی طرف کا دروازہ بڑے زور سے کھٹکا ۔ پتہ لگا کہ اس طرف سے بھی ایک سپاہی آیا ہے ۔ حضرت صاحب اندر دالان میں بیٹھے ہوئے کچھ کام کر رہے تھے۔ میں نے محمود (حضرت خلیفۃ المسیح ثانی)کو انکی طرف بھیجا کہ سپاہی آئے ہیں اور بلاتے ہیں ۔حضرت صاحب نے فرمایا کہو کہ میں آتا ہوں ۔ پھر آپ نے بڑے اطمینان سے اپنا بستہ بند کیا اور اُٹھ کر مسجد کی طرف گئے وہاں مسجد میں انگریز کپتان پولیس کھڑا تھا اور اس کے ساتھ دوسرے پولیس کے آدمی تھے ۔کپتان نے حضرت صاحب سے کہا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لیکھرام کے قتل کے متعلق آپ کے گھر کی تلاشی لوں ۔حضرت صاحب نے کہا آیئے اور کپتان کو مع دوسرے آدمیوں کے جن میں بعض دشمن بھی تھے مکان کے اندر لے آئے اور تلاشی شروع ہوئی ۔ پولیس نے مکان کا چاروں طرف سے محاصرہ کیا ہوا تھا ہم عورتیںاور بچے ایک طرف ہوگئے ۔سب کمروں کی باری باری تلاشی ہوئی اور حضرت صاحب کے کاغذات وغیرہ دیکھے گئے ۔تلاش کرتے کر تے ایک خط نکلا جس میں کسی احمدی نے لیکھرام کے قتل پر حضرت صاحب کو مبارکباد لکھی تھی ۔دشمنوں نے اسے جھٹ کپتان کے سامنے پیش کیا کہ دیکھئے اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟ حضرت صاحب نے کہا کہ ایسے خطوں کا تو میرے پاس ایک تھیلا رکھا ہے ۔ اور پھر بہت سے خط کپتان کے سامنے رکھ دیئے ۔کپتان نے کہا نہیں کچھ نہیں ۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ جب کپتان نیچے سرد خانے میں جانے لگا تو چونکہ اس کا دروازہ چھوٹا تھا اور کپتان لمبے قد کا آدمی تھا اس زور کے ساتھ دروازے کی چوکھٹ سے اسکا سر ٹکرایا کہ بیچارہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا ،حضرت صاحب نے اس سے اظہار ہمدردی کیا اور پوچھا کہ گرم دودھ یا کوئی اور چیز منگوائیں ؟ اس نے کہا نہیں کوئی بات نہیں ۔مگر بیچارے کو چوٹ سخت آئی تھی ۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ حضرت صاحب اسے خود ایک کمرے سے دوسرے کی طرف لیجاتے تھے ۔اور ایک ایک چیز دکھاتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے اس خانہ تلاشی کا ذکر اپنے اشتہار مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۸۹۷ء میں کیا ہے جہاں لکھا ہے کہ خانہ تلاشی ۸اپریل ۱۸۹۷ء کو ہوئی تھی اور نیز یہ کہ مہمان خانہ مطبع وغیرہ کی بھی تلاشی ہوئی تھی ۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ لیکھرام ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو قتل ہو اتھا اور اسکے قتل پر آریوں کی طرف سے ملک میں ایک طوفان عظیم بر پا ہو گیا تھا ۔سنا گیا ہے کہ کئی جگہ مسلمان بچے دشمنوں کے ہاتھ سے ہلاک ہوئے اور حضرت صاحب کے قتل کے لئے بھی بہت سازشیں ہوئیں اور یہ خانہ تلاشی بھی غالباً آریوں ہی کی تحریک پر ہو ئی تھی ۔
{ 244} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جائو گھر سے میٹھا لائو میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی ۔ بس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوانمک تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد آیاکہ ایک دفعہ گھر میں میٹھی روٹیاں پکیں کیونکہ حضر ت صاحب کو میٹھی روٹی پسند تھی جب حضرت صاحب کھانے لگے تو آپ نے اس کا ذائقہ بدلہ ہو اپایا ۔مگر آپ نے اس کا خیال نہ کیا کچھ اور کھانے پر حضرت صاحب نے کڑواہٹ محسوس کی اور والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ روٹی کڑوی معلوم ہوتی ہے ؟ والدہ صاحبہ نے پکانے والی سے پوچھا اس نے کہا میں نے تو میٹھا ڈالا تھا والدہ صاحبہ نے پوچھا کہ کہاں سے لے کر ڈالا تھا ؟ وہ برتن لائو ۔ وہ عورت ایک ٹین کا ڈبہ اٹھا لائی ۔دیکھا تو معلوم ہوا کہ کونین کا ڈبہ تھا اور اس عورت نے جہالت سے بجائے میٹھے کے روٹیوں میں کونین ڈال دی تھی ۔اس دن گھر میں یہ بھی ایک لطیفہ ہو گیا ۔
{ 245} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضر ت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتا یا کہ یہ لے لو۔حضرت نے کہا نہیں۔یہ میں نہیں لیتا انہوں نے کوئی اور چیزبتا ئی ۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا ۔وہ اسوقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں ۔سختی سے کہنے لگیں کہ جائو پھر راکھ سے روٹی کھا لو ۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہوگیا ۔یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی اس وقت حضرت صاحب بھی پاس تھے ۔مگر آپ خاموش رہے ۔
{ 246} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا۔ایک دن حضرت صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسبِ معمول پہلے دعا کیلئے اس کمرہ میں گئے جوا س غرض کیلئے پہلے مخصو ص کر لیا تھا ۔مَیں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اس وقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی ۔حضرت صاحب دعا کر کے باہر نکلے تو مولوی صاحب نے آپ کو چھڑی دی ۔حضر ت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور فرمایا۔ یہ کس کی چھڑی ہے ؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں ۔آپ نے فرمایا اچھا میں نے تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ہے ۔ خانصاحب کہتے ہیں کہ وہ چھڑی مدت سے آپ کے ہاتھ میں رہتی تھی مگر محویت کایہ عالم تھا کہ کبھی اس کی شکل کو غورسے دیکھا ہی نہیں تھا کہ پہچان سکیں ۔خانصاحب کہتے ہیں کہ اسی طرح ایک دفعہ میں قادیان آیا اس وقت حضرت صاحب مسجد کی سیڑ ھیوں میں کھڑے ہو کر کسی افغان کو رخصت کر رہے تھے اور میں دیکھتا تھا کہ آپ اس وقت خوش نہ تھے کیونکہ وہ شخص افغانستا ن میں جاکر تبلیغ کر نے سے ڈرتا تھا ۔خیر میں جا کر حضور سے ملا اور حضور نے مجھ سے مصافحہ کیا اور پھر گھر تشریف لے گئے ۔میں اپنے کمرے میں آکر بہت رویا کہ معلوم نہیں حضرت صاحب نے مجھ میں کیا دیکھا ہے کہ معمول کے خلاف بشاشت کے ساتھ نہیں ملے ۔ پھر میں نماز کے وقت مسجد میں گیا تو کسی نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ ذوالفقا ر علی خان آیا ہے ۔ حضرت صاحب نے شوق سے پوچھا کہ تحصیل دار صاحب کب آئے ہیں ؟میں جھٹ حضور کے سامنے آگیا اور عرض کیا کہ میں تو حضور سے سیڑھیوں پر ملا تھا جب حضور ان افغان صاحب کو رخصت فر ما رہے تھے ۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ اچھا! میں نے خیال نہیں کیا اور پھر حسب معمول بڑی خوشی اور بشاشت کے ساتھ مجھ سے کلام فرمایا ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو مہمانوں کے آنے پر بڑی خوشی ہوتی تھی اور رخصت کے وقت دل کو صدمہ ہوتا تھا ۔ چنانچہ جب حضرت خلیفہ ثانی کی آمین پر بعض مہمان قادیان آئے تو اس پر آپ نے آمین میں فرمایا
احباب سارے آئے تو نے یہ دن دکھائے
تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بلائے
یہ دن چڑھا مبارک مقصود جس میں پائے
یہ روز کر مبار ک سبحان من یرانی
مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت
دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت
پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت
یہ روز کر مبار ک سبحان من یرانی
دنیا بھی ایک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے
گو سو برس رہاہے آخر کو پھرجدا ہے
شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے
یہ روز کر مبار ک سبحان من یرانی
{ 247} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ جب کسی سے ملتے تھے تو مسکراتے ہوئے ملتے تھے اور ساتھ ہی ملنے والے کی ساری کلفتیں دور ہوجاتی تھیں ،ہر احمدی یہ محسوس کرتا تھا کہ آپ کی مجلس میں جاکر دل کے سارے غم دُھل جاتے ہیں۔ بس آپ کے مسکراتے ہو ئے چہرے پر نظر پڑی اور سارے جسم میں مسرت کی ا یک لہرجاری ہوگئی ۔آپ کی عادت تھی کہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کی بات بھی توجہ سے سنتے تھے اور بڑی محبت سے جواب دیتے تھے۔ہر آدمی اپنی جگہ سمجھتا تھا کہ حضرت صاحب کو بس مجھی سے زیادہ محبت ہے۔ بعض وقت آداب مجلس رسول سے نا واقف ،عامی لوگ دیر دیر تک اپنے لاتعلق قصے سناتے رہتے تھے اور حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ بیٹھے سنتے رہتے اور کبھی کسی سے یہ نہ کہتے تھے کہ اب بس کرو۔ نمازوں کے بعد یا بعض اوقات دوسرے موقعوں پر بھی حضور مسجد میں تشریف رکھتے تھے اور ارد گرد مشتاقین گھیرا ڈال کر بیٹھ جاتے تھے اور پھر مختلف قسم کی باتیں ہوتی رہتی تھیں اورگویا تعلیم و تربیت کا سبق جاری ہوجاتا تھا ۔مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ محسوس کرتے تھے کہ علم ومعرفت کا چشمہ پھوٹ رہا ہے ۔جس سے ہر شخص اپنے مقدور کے موافق اپنا برتن بھر لیتا تھا ۔مجلس میں کوئی خاص ضابطہ نہ ہوتا تھا بلکہ جہاں کہیں کسی کو جگہ ملتی تھی بیٹھ جاتا تھا اور پھر کسی کو کوئی سوال پوچھنا ہوا تو اس نے پوچھ لیا اور حضرت صاحب نے جواب میں کوئی تقریر فرمادی یا کسی مخالف کا ذکر ہو گیا توا س پر گفتگو ہو گئی یا حضرت نے اپنا کوئی نیا الہام سنایا تو اس کے متعلق کچھ فرما دیا ، یا کسی فرد یا جماعت کی تکالیف کا ذکر ہوا تو اسی پر کلام کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ غرض آپ کی مجلس میں ہر قسم کی گفتگو ہو جاتی تھی اور ہر آدمی جو بولنا چاہتا تھا بول لیتا تھا ۔جب حضرت گفتگو فرماتے تھے تو سب حاضرین ہمہ تن گوش ہو جاتے تھے ۔آپ کی عادت تھی کہ خواہ کوئی پبلک تقریر ہو یا مجلسی گفتگو ہو۔ ابتدا ء میں دھیمی آواز سے بولنا شروع کرتے تھے اور پھر آہستہ آہستہ آواز بلند ہو جاتی تھی حتّٰی کہ دور سے دور بیٹھا ہو ا شخص بھی بخوبی سن سکتا تھا ۔اور آپ کی آواز میں ایک خاص قسم کا سوز ہو تا تھا ۔
{ 248} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ مارٹن کلارک کے مقدمہ میں ایک شخص مولوی فضل دین لاہوری حضور کی طرف سے وکیل تھا ۔یہ شخص غیر احمدی تھا اور شاید اب تک زندہ ہے اور غیر احمدی ہے۔جب مولوی محمد حسین بٹالوی حضرت صاحب کے خلاف شہادت میں پیش ہوا تو مولوی فضل دین نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ اگر اجازت ہو تو میں مولوی محمد حسین صاحب کے حسب ونسب کے متعلق کو ئی سوال کروں ۔حضرت صاحب نے سختی سے منع فرما دیا کہ میں اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا اور فرمایا ’’ لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَھْرَ بِالسُّوْئِ‘‘ (النّسٓائ:۱۴۹) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ یہ واقعہ خود مولوی فضل دین نے باہر آکر ہم سے بیان کیا تھا اور اس پر اس بات کا بڑا اثر ہوا تھا۔چنانچہ وہ کہتا تھاکہ مرزا صاحب نہایت عجیب اخلاق کے آدمی ہیں۔ ایک پرلے درجے کا دشمن ہے اور وہ اقدام قتل کے مقدمہ میں آپ کے خلاف شہادت میں پیش ہو تا ہے اور میں اس کا حسب ونسب پوچھ کر اس کی حیثیت کو چھوٹا کر کے اس کی شہادت کو کمزور کرنا چاہتا ہوں اور اس سوال کی ذمہ داری بھی مرز اصاحب پر نہیں تھی بلکہ مجھ پر تھی ۔مگر میں نے جب پوچھا تو آپ نے بڑی سختی سے روک دیا کہ ایسے سوال کی میں ہر گز اجازت نہیں دیتا کیونکہ خدا ایسے طریق کو نا پسند کرتا ہے ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے نسب میں بعض معیوب باتیں سمجھی جاتی تھیں۔واللّٰہ اعلم جن کو وکیل اپنے سوال سے ظاہر کرنا چاہتا تھا مگر حضرت صاحب نے روک دیا ۔دراصل حضرت صاحب اپنے ہاتھ سے کسی دشمن کی بھی ذلت نہیں چاہتے تھے ،ہاں جب خدا کی طرف سے کسی کی ذلت کا سامان پیدا ہوتا تھا تو وہ ایک نشان الہٰی ہوتا تھاجسے آپ ظاہر فرماتے تھے ۔
{ 249} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیرعلی صاحب نے کہ جب مولوی محمد حسین بٹالوی قتل کے مقدمہ میں حضرت صاحب کے خلاف پیش ہوا تو اس نے کمرے میں آکر دیکھا کہ حضرت صاحب ڈگلس کے پاس عزت کے ساتھ کرسی پر تشریف رکھتے ہیں اس پر حسد نے اسے بیقرارکر دیا ۔چنانچہ اس نے بھی حاکم سے کرسی مانگی اور چونکہ وہ کھڑا تھا اور اس کے اور حاکم کے درمیان پنکھا تھا جس کی وجہ سے وہ حاکم کے چہرہ کو دیکھ نہ سکتا تھا ۔اس لئے اس نے پنکھے کے نیچے سے جھک کر حاکم کو خطاب کیا ۔مگر ڈگلس نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی ایسی فہرست نہیں ہے جس میں تمہارا نام کرسی نشینوں میں درج ہو ۔اس پر اس نے پھر اصرار کے ساتھ کہاتو حاکم نے ناراض ہو کر کہا کہ َبک َبک مت کر پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا۔خاکسار عرض کر تا ہے کہ حضر ت صاحب کی بعض تحریروں میں ’’ سیدھا کھڑا ہو جا ‘‘ کے الفاظ آتے تھے اور ہم نہ سمجھتے تھے کہ اس سے کیا مراد ہے مگر اب پتہ لگا کہ مولوی محمد حسین چونکہ جھک کر پنکھے کے نیچے سے کلام کر رہا تھااس لئے اسے سیدھا ہو نے کیلئے کہا گیا ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ اس وقت مولوی محمد حسین کے دل وسینہ میں کیا کیا نہ چھریاں چل گئی ہونگی ۔ایک طرف اُسے اپنا یہ قول یاد آتا ہوگا کہ میں نے ہی اسے (یعنی حضرت صاحب کو ) اُٹھایا ہے اور اب میں ہی اسے گرائو نگا ۔اور دوسری طرف حضرت صاحب کا وہ الہام اس کی آنکھوں کے سامنے ہوگا کہ ’’ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ‘‘ یعنی جو تیری ذلت چاہتا ہے میں خود اسے ذلیل کرو نگا۔اللہ اکبر -
{ 250} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب قتل کے مقدمہ میں حضرت صاحب نے ایک موقعہ پر کپتان ڈگلس کے سامنے فرمایا کہ مجھ پر قتل کا الزام لگا یا گیا ہے اور آگے بات کر نے لگے تو اس پر ڈگلس فورًا بولا کہ میں تو آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا اور جب اس نے فیصلہ سنایا تو اُس وقت بھی اُس نے یہ الفاظ کہے کہ مرزا صاحب! میں آپ کو مبارک دیتا ہوں کہ آپ بری ہیں ۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ ڈگلس اُن دنوں میں ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اور فوجی عہدہ کے لحاظ سے کپتان تھا ۔اس کے بعد وہ ترقی کرتے کرتے جزائر انڈیمان کا چیف کمشنر ہو گیا ۔اور اب پنشن لے کر ولایت واپس جاچکا ہے ۔اس وقت اس کا فوجی عہدہ کر نیل کا ہے ۔آدمی غیر متعصب اور سمجھ دار اور شریف ہے ۔ولایت میں ہمارے مبلّغ مولوی مبارک علی صاحب بنگالی نے ۲۸؍جولائی ۱۹۲۲ء کو اس سے ملاقات کی تو اس نے خود بخود انکے ساتھ اس مقدمہ کا ذکر شروع کر دیا اور کہنے لگا ’’میں غلا م احمد ( مسیح موعود) کو جانتا تھا اور میرا یقین تھا کہ وہ نیک بخت اور دیانتدار آدمی ہیں اور یہ کہ وہ اسی بات کی تعلیم دیتے ہیں جس کا اُنہیں خود یقین ہے ۔ لیکن مجھے ان کی موت کی پیشگوئیاں پسند نہ تھیں کیونکہ وہ بڑی مشکلات پیدا کر تی تھیں ‘‘۔پھر اس نے مقدمہ کے حالات سنائے اور کہا کہ ’’وہ لڑکا نظام دین ( خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈگلس صاحب بھول گئے ہیں اس لڑکے کا نام عبد الحمید تھا)ہر روز کوئی نئی بات بیان کرتا تھا اور اس کی کہانی ہر دفعہ زیادہ مکمل و مبسوط ہوتی جاتی تھی اس لئے مجھے اس کے متعلق شبہ پیدا ہوا اور میں نے دریافت کیا کہ وہ کہاں رہتا ہے ؟ مجھے بتایا گیا کہ وہ مشنریوں کے پاس ٹھہرا ہو ا ہے جوا سے سکھاتے رہتے ہیں ۔چنانچہ میں نے حکم دیا کہ وہ مشنریوں کی نگرا نی سے الگ کر کے پولیس کی نگرانی میں رکھا جاوے ۔اس سے میرا مطلب حل ہو گیا یعنی نظام دین آخر اقبالی ہو کر میرے قدموں پر گر گیا اور اس نے اقرار کیا کہ یہ ساری بات محض افتراء ہے ۔ڈگلس نے سلسلہ کی اس حیرت انگیز ترقی پر بڑا تعجب ظاہر کیااور کہاکہ مجھے گمان نہ تھا کہ مرزا غلام احمد کا قائم کیا ہوا سلسلہ اتنی ترقی کرجائے گا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابھی تو ؎
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھنا ہوتا ہے کیا
نیز خاکسارعرض کرتا ہے کہ ڈگلس کے ساتھ اپنی اس ملاقات کا حال مولوی مبارک علی صاحب نے لنڈن سے لکھ کر بھیجا ہے اور بوقت ملاقات گفتگو انگریزی زبان میں ہو ئی تھی ۔جسے یہاں ترجمہ کر کے اردو میں لکھا گیا ہے۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 251} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں بچپن میں گائوں سے باہر ایک کنوئیں پر بیٹھا ہوا لا سا بنارہا تھا کہ اس وقت مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوئی جو گھر سے لانی تھی میرے پاس ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا میں نے اسے کہا کہ مجھے یہ چیز لا دو ۔اس نے کہا ۔میاں میری بکریاں کون دیکھے گا ۔میں نے کہا تم جائو میں ان کی حفاظت کروں گا اور چرائوں گاچنانچہ اس کے بعد میں نے اسکی بکریوں کی نگرانی کی اور اس طرح خدا نے نبیوں کی سنت ہم سے پوری کرا دی ۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ لاسا ایک لیس دار چیز ہوتی ہے جو بعض درختوں کے دودھ وغیرہ سے تیار کرتے ہیں ۔ اور جانور وغیرہ پکڑنے کے کام آتا ہے۔ نیز والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہ ہوتا تھا تو تیز سرکنڈے سے ہی حلال کر لیتے تھے ۔
{ 252} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میںوالدہ کے ساتھ ہوشیار پور جاتے تھے تو ہوشیار پور کے چوہوں میں پھرا کرتے تھے ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ ضلع ہوشیار پور میں کئی برساتی نالے ہیں جن میں بارش کے وقت پانی بہتا ہے اور ویسے وہ خشک رہتے ہیں ۔یہ نالے گہرے نہیں ہوتے قریباً اردگرد کے کھیتوں کے ساتھ ہموار ہی ہوتے ہیں ۔ ہوشیار پور کا سارا ضلع ان برساتی نالوں سے چھدا پڑا ہے ۔ان نالوں کو پنجابی میں چوہ کہتے ہیں ۔
{ 253} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت صاحب بیان فرماتے تھے کہ جب ہم استاد سے پڑھا کرتے تھے تو ایک دفعہ ہمارے استاد نے بیان کیا کہ ایک شخص نے خواب دیکھا تھا کہ ایک مکا ن ہے جو دھواں دار ہے یعنی اس کے اندر باہر سب دھواں ہورہا ہے ۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر آنحضرت ﷺ ہیں اور چاروں طرف سے عیسائیوں نے اس کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور ہمارے استاد نے بیان کیا کہ ہم میں سے کسی کو اس کی تعبیر نہیں آئی۔ میں نے کہا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ شخص عیسائی ہو جائے گا ۔کیونکہ انبیاء کا وجود آئینہ کی طرح ہوتا ہے پس اس نے جو آپ کودیکھا تو گویا اپنی حالت کے عکس کو دیکھا ۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میرا یہ جواب سن کر میرے استاد بہت خوش ہوئے او ر متعجب بھی اور کہنے لگے کہ وہ شخص واقعی بعد میں عیسائی ہو گیا تھا اور کہنے لگے کہ کاش ہم اس کی تعبیر جانتے اور اسے وقت پر سمجھاتے تو شاید وہ بچ جاتا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوا کہ استاد سے کون استاد مراد ہیں ۔مولوی فضل الہٰی صاحب سے تعلیم پانے کے وقت آپکی عمر بہت چھوٹی تھی اس لئے اغلب ہے کہ مولوی فضل احمد صاحب اور مولوی گل علی شاہ صاحب میں سے کوئی صاحب ہونگے ۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب لکھتے ہیں کہ مولوی فضل الہٰی صاحب قادیان کے رہنے والے تھے اور مذہباً حنفی تھے ۔مولوی فضل احمد صاحب فیروز والا ضلع گوجرانوالہ کے باشندہ تھے اور مذہباً اہل حدیث تھے ۔یہ صاحب مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کے والد تھے جنھوں نے ( مولوی مبارک علی صاحب نے) حضرت صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی مگر جو بعد وفات حضرت خلیفہ اول فتنہ کی رو میں بہہ گئے۔تیسرے استاد مولوی سید گل علی شاہ صاحب تھے جو بٹالہ کے رہنے والے تھے اور مذہباً شیعہ تھے ۔
{ 254} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ میرا ایک کلاس فیلو تھا جس کا نام محمدعظیم ہے اور جو پیر جماعت علی شاہ سیالکوٹی کا مرید ہے وہ مجھ سے بیان کرتا تھا کہ میرا بھائی کہا کرتا تھا کہ ایام جوانی میں جب مرزا صاحب کبھی کبھی امرتسرآتے تھے تو میں ان کو دیکھتا تھا کہ وہ پادریوں کے خلاف بڑا جوش رکھتے تھے ۔اس زمانہ میں عیسائی پادری بازاروں وغیرہ میں عیسائیت کا وعظ کیا کرتے تھے اور اسلام کے خلاف زہر اگلتے تھے ۔مرزا صاحب ان کو دیکھ کر جوش سے بھر جاتے تھے اور ان کا مقابلہ کر تے تھے ۔مولوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ محمد عظیم اب بھی زندہ ہے اور غالباً وہ مولوی عبدالقادر صاحب احمدی مرحوم لدھیانوی کے تعلق داروں میں سے ہے۔
{ 255} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جس رات امۃ النصیر پیدا ہوئی ہے حضرت صاحب خود مولوی محمد احسن صاحب کے کمرے کے دروازے پر آئے اور دستک دی ۔ مولوی محمد احسن صاحب نے پوچھا کون ہے ؟حضرت صاحب نے فرمایا ’’غلام احمد‘‘ ۔مولوی صاحب نے جھٹ اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت نے جواب دیا کہ میرے ہاں لڑکی پیدا ہو ئی ہے اور اس کے متعلق مجھے الہام ہوا ہے کہ غاسق اللّٰہ ۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ غاسق اللہ سے مراد یہ ہے کہ جلد فوت ہو جانیوالا ۔ چنانچہ وہ لڑکی جلد فوت ہو گئی ۔
{ 256} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک شخص گوجرانولہ کا باشندہ محمد بخش تھانہ دار ہوتا تھا جو سلسلہ کا پرلے درجہ کا معاند تھا اور ہر وقت عداوت پر کمر بستہ رہتا تھا ۔یہ شخص ۱۸۹۳ء سے بٹالہ کے تھانہ میں متعین ہوا اور پھر کئی سال تک اسی جگہ رہا ۔چونکہ قادیان بٹالہ کے تھانہ میں ہے اس لئے اسے شرارت کا بہت اچھا موقعہ میسر آگیا ۔چنانچہ اس نے اپنے زمانہ میں کوئی دقیقہ ایذا رسانی اور مخالفت کا اُٹھا نہیں رکھا ۔ حفظ امن کا مقدمہ جو ۱۸۹۹ء میں فیصلہ ہوا اسی کی رپورٹ پر ہوا تھا ۔آخر یہ شخص طاعون سے ہلاک ہوا اور خدا کی قدرت ہے کہ اب اس کا لڑکا بڑا مخلص احمدی ہے ۔ان کا نام میاں نیاز محمد صاحب ہے جو علاقہ سندھ میں تھانہ دار ہیں ۔
(خاکسار بوقت ایڈیشن ثانی کتاب ھٰذا عرض کرتا ہے کہ مجھ سے ڈاکٹر غلام احمد صاحب آئی ۔ ایم ۔ ایس نے جو میاں نیا زمحمد صاحب کے صاحبزادے ہیں ۔بیان کیا ہے کہ ان کے دادا دراصل ابتداء میں ایسے مخالف نہ تھے مگر بٹالہ آکر بعض لوگوں کے بہکانے میں آکر زیادہ مخالف ہو گئے۔ لیکن پھر آخری بیماری میں اپنی مخالفت پر کچھ نادم نظر آتے تھے۔ نیز ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کے دادا کی وفات طاعون سے نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ ہاتھ کے کاربنکل سے ہوئی تھی خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے حقیقۃ الوحی میں طاعون سے مرنا بیان کیا ہے۔ سو اگر ڈاکٹر صاحب کی اطلاع درست ہے تو چونکہ ان دنوں میں طاعون کا زور تھا اس لئے ممکن ہے کہ کسی نے ہاتھ کے پھوڑے کی وجہ سے اس بیماری کو طاعون سے تعبیر کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بیان کر دیا ہو۔ واللّٰہ اعلم )
{ 257} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ اپنی جماعت کے افراد کی مذہبی حالت کا مطالعہ کرتے رہتے تھے مگر جب آپ کسی میں کوئی اعتقادی یا عملی یا اخلاقی نقص دیکھتے تھے تو عموماً اسے مخاطب فرما کر کچھ نہ کہتے تھے بلکہ موقعہ پا کر کسی پبلک تقریر یا گفتگو میں ایسی طرز کو اختیار فرماتے تھے جس سے اسکی اصلاح مقصود ہوتی تھی اور پھر اسے مناسب طریق پر کئی موقعوں پر با ربار بیان فرماتے تھے ۔اور جماعت کی اصلاح اندرونی کے متعلق آپ کو ازحد فکر رہتا تھا اور اس کے لئے آپ مختلف طریق اختیار فرماتے رہتے تھے اور زیادہ زور دعائوں پر دیتے تھے اور بعض اوقات فرماتے تھے کہ جو باپ اپنے بچے کو ہر حرکت و سکون پر ٹوکتا رہتا ہے اور ہر وقت پیچھے پڑ کر سمجھاتا رہتا ہے اور اس معاملہ میں حد سے بڑھ کر احتیاط کر تا ہے وہ بھی ایک گونہ شرک کر تا ہے کیونکہ وہ گویا اپنے بچہ کا خدا بنتا ہے اور ہدایت اور گمراہی کو اپنی نگرانی کے ساتھ وابستہ کرتا ہے حالانکہ دراصل ہدایت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اسے چاہئیے کہ عام طور پر اپنے بچے کی حفاظت کرے اور زیادہ زور دعا پر دے ۔اور خدا سے اسکی ہدایت مانگے ۔نیز حضرت صاحب کا یہ دستور تھا کہ ہدایت کے معاملہ میں زیادہ فکر جڑ کی کرتے تھے اور شاخوں کا ایسا خیال نہ فر ماتے تھے کیونکہ حضور فرماتے تھے کہ اگر جڑ درست ہو جاوے تو شاخیں خودبخود درست ہو جاتی ہیں ۔ چنانچہ فرماتے تھے کہ اصل چیز تو دل کا ایمان ہے جب وہ قائم ہوجا تا ہے تو اعمال خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ کسی نے عرض کیا کہ حضور کے پاس بعض لوگ ایسے آتے جاتے ہیں جنکی داڑھیاں منڈھی ہوتی ہیں فرمایا تمہیں پہلے ڈاڑھی کی فکر ہے مجھے ایمان کی فکر ہے ۔نیز فرماتے تھے کہ جو شخص سچے دل سے ایمان لاتا ہے اور مجھ کو واقعی خدا کا بھیجا ہوا سمجھتا ہے وہ جب دیکھے گا کہ میں داڑھی رکھتا ہوں تواس کا ایمان اس سے خود داڑھی رکھوائے گا ۔اخلاق پر حضور بہت زور دیتے تھے اور اخلاق میں سے خصوصاً محبت، تواضع ،حلم و رفق ،صبر اور ہمدردی خلق اللہ پر آپ کا بہت زور ہوتا تھا اور تکبر ،سنگ دلی ، سخت گیری اور درشتی کو بہت بُرا سمجھتے تھے ۔ تنعم و تعیش سے سخت نفرت تھی اور سادگی اور محنت کشی کو پسند فرماتے تھے ۔
{ 258} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سیّد محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ کسی کا م کے متعلق میر صاحب یعنی میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب کا اختلاف ہو گیا ۔میر صاحب نے ناراض ہو کر اندر حضرت صاحب کو جا اطلاع دی۔ مولوی محمد علی صاحب کو اسکی اطلاع ہو ئی تو انہوں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ ہم لوگ یہاں حضور کی خاطر آئے ہیں کہ تا حضور کی خدمت میں رہ کر کوئی خدمت دین کا موقعہ مل سکے لیکن اگر حضور تک ہماری شکائتیں اس طرح پہنچیں گی تو حضور بھی انسان ہیں ممکن ہے کسی وقت حضور کے دل میں ہماری طرف سے کوئی بات پیدا ہو توا س صورت میںہمیں بجائے قادیان آنے کا فائدہ ہونے کے اُلٹا نقصان ہو جائیگا ۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ میر صاحب نے مجھ سے کچھ کہا تو تھا مگر میں اس وقت اپنے فکروں میں اتنا محو تھا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے معلو م نہیں کہ میر صاحب نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا ۔پھر آپ نے فرمایا کہ چند دن سے ایک خیال میرے دماغ میں اس زور کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے کہ اس نے دوسری باتوں سے مجھے بالکل محو کر دیا ہے بس ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے وہی خیال میرے سامنے رہتا ہے ،میں باہر لوگوں میں بیٹھا ہوتا ہوں اور کوئی شخص مجھ سے کوئی بات کرتا ہے تو اس وقت بھی میرے دماغ میں وہی خیال چکر لگا رہا ہوتا ہے ۔وہ شخص سمجھتا ہو گا کہ میں اسکی بات سن رہا ہوں مگر میں اپنے اس خیال میں محو ہوتا ہوں ۔جب میں گھر جاتا ہوں تو وہا ں بھی وہی خیال میرے ساتھ ہوتا ہے ۔غرض ان دنوں یہ خیال اس زور کے ساتھ میرے دماغ پر غلبہ پائے ہوئے ہے کہ کسی اور خیال کی گنجائش نہیں رہی ۔وہ خیال کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جاوے جو سچی مومن ہو اور خدا پر حقیقی ایمان لائے اور اسکے ساتھ حقیقی تعلق رکھے اور اسلام کو اپنا شعار بنائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر کاربند ہواوراصلاح و تقویٰ کے رستے پر چلے اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ قائم کرے تا پھر ایسی جماعت کے ذریعہ دنیا ہدایت پاوے اور خد اکا منشا ء پورا ہو۔ پس اگر یہ غرض پوری نہیں ہوتی تو اگر دلائل و براہین سے ہم نے دشمن پر غلبہ بھی پالیا اور اس کو پوری طرح زیر بھی کر لیا تو پھر بھی ہماری فتح کوئی فتح نہیں کیونکہ اگر ہماری بعثت کی اصل غرض پوری نہ ہوئی تو گویا ہمارا سارا کام رائیگاں گیا مگر میں دیکھ رہاہوں کہ دلائل و براہین کی فتح کے تو نمایاں طور پر نشانات ظاہر ہو رہے ہیں اور دشمن بھی اپنی کمزوری محسوس کر نے لگا ہے لیکن جو ہماری بعثت کی اصل غرض ہے اسکے متعلق ابھی تک جماعت میں بہت کمی ہے اور بڑی توجہ کی ضرورت ہے پس یہ خیال ہے جو مجھے آجکل کھا رہا ہے اور یہ اس قدر غالب ہو رہا ہے کہ کسی وقت بھی مجھے نہیں چھوڑتا ۔
{ 259} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ جب مولو ی عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت کی خبر آئی تو ایک طرف تو حضرت صاحب کو سخت صدمہ پہنچا کہ ایک مخلص دوست جدا ہو گیا اور دوسری طرف آپکو پرلے درجہ کی خوشی ہوئی کہ آپ کے متبعین میں سے ایک شخص نے ایمان و اخلاص کا یہ اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ سخت سے سخت دکھ اور مصائب جھیلے اور بالآخر جان دیدی مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
{ 260} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جس وقت مولوی عبداللطیف صاحب واپس کا بل جانے لگے تو وہ کہتے تھے کہ میرا دل یہ کہتا ہے کہ میں اب زندہ نہیں رہوں گا۔ میری موت آن پہنچی ہے اور وہ حضرت صاحب کی اس ملاقات کو آخری ملاقات سمجھتے تھے ۔جب رخصت ہونے لگے اور حضرت صاحب ان کو آگے چھوڑنے کیلئے کچھ دور تشریف لے گئے تو وہ رخصت ہوتے ہوئے حضرت صاحب کے قدموں پر گر گئے اور زار زار روئے۔حضرت صاحب نے ان کو اُٹھنے کیلئے کہا اور فرمایا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے مگر وہ آپ کے قدموں پر گرے رہے آخر آپ نے فرمایا اَ لْاَمْرُ فَوْقَ الْاَدَبِ اس پر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بڑی حسرت کے ساتھ حضرت صاحب سے رخصت ہوئے ۔
(خاکسار عرض کرتا ہے کہ ان دنوں میں چونکہ قادیان میں ریل نہیں آئی تھی۔ آمد و رفت کے لئے بٹالہ اور قادیان کے درمیان کا کچا رستہ استعمال ہوتا تھا۔ اور حضرت صاحب بعض خاص خاص دوستوں کو رخصت کرنے کے لئے اسی راستہ کے موڑ تک یا بعض اوقات نہر تک پیدل چلے جاتے تھے۔)
{ 261} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے شیخ یعقوب علی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے اپنے والد صاحب کو مندرجہ ذیل خط لکھا تھا ۔
’’ حضرت والد مخدوم من سلامت ! مراسم غلامانہ وقواعد فدویا نہ بجا آوردہ معروض حضرت والا میکند چونکہ دریں ایام برأی العین می بینم و بچشم سر مشاہدہ میکنم کہ در ہمہ ممالک وبلاد ہر سال چناں وبائے مے افتدکہ دوستاں را از دوستاں و خویشاں را از خویشاںجدا میکند و ہیچ سالے نہ می بینم کہ ایں نائرہ عظیم و چنیں حادثہ الیم در آں سال شور قیامت نیگفند ۔ نظر برآں دل از دنیا سرد شدہ و رو از خوف جان زرد ۔و اکثر ایں دو مصرع مصلح الدین سعدیؒ شیر ازی بیادمی آیند و اشک حسرت ریختہ مے شود ؎
مکن تکیہ بر عمرنا پا ئیدار
مباش ایمن از بازیٔ روز گار
و نیز ایں دو مصرع ثانی از دیوان فرخ قادیانی نمک پاش جراحت دل میشود ؎
بدنیائے دوں دل مبنداے جواں
کہ وقت ِاجل میر سد ناگہاں
لہٰذا میخو اہم کہ بقیہ عمر در گوشۂ تنہائی نشینم و دامن از صحبت مردم بچینم و بیاد ا و سبحانہ مشغول شوم مگر گذشتہ راعذرے و مافات ر ا تدا ر کے شود ؎
عمر بگذشت و نماند است جز ا یامے چند
بہ کہ در یاد کسے صبح کنم شامے چند
کہ دنیا رااساسے محکم نیست و زندگی را اعتبار ے نے وَاَیِسَ مَنْ خَافَ عَلٰی نَفْسِہٖ مِنْ آفَتِ غَیْرِہٖ
والسلام
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے شیخ صاحب سے دریافت کیا تھاکہ آپ نے یہ روایت کہاں سے لی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مرزا سلطان احمدؐ صاحب نے مجھے چند پرانے کا غذات دیئے تھے جن میں سے حضرت کی یہ تحریر نکلی تھی ۔لیکن خاکسار کی رائے میں اگر حضرت صاحب کی صرف تحریر ملی ہے تو اس سے یہ استدلال ضروری نہیں ہوتا کہ آپ نے یہ خط اپنے والد صاحب کے پیش بھی کیا تھا بلکہ خط کے نیچے دستخط اور تاریخ کا نہ ہونا اس شبہ کو قوی کرتا ہے ۔
{ 262} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب کی دائی کا نام لاڈو تھا اور وہ ہا کو نا کو بروالوں کی ماں تھی ۔جب میں نے اسے دیکھا تھا تو وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی ۔مرزا سلطان احمدؐبلکہ عزیز احمد کو بھی اسی نے جنایا تھا ۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے اس سے اپنی پیدائش کے متعلق کچھ شہادت بھی لی تھی ۔ اپنے فن میں وہ اچھی ہو شیار عورت تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ یہاں کسی عورت کے بچہ پھنس گیا اور پیدا نہ ہوتا تھاتو حضرت صاحب نے فرمایا تھاکہ لاڈو کو بلا کر دکھائو۔ہو شیار ہے چنانچہ اسے بلایا گیا تو اللہ کے فضل سے بچہ آسانی سے پیدا ہو گیا ۔مگر والدہ صاحبہ کہتی تھیں کہ تم میں سے کسی کی پیدائش کے وقت اسے نہیں بلایا گیا ۔کیونکہ بعض وجوہات سے اس پر کچھ شبہ پیدا ہو گیا تھا ۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ عزیز احمد کی پیدائش کے وقت جب لاڈو آئی تو ان دنو ں میں اسے خارش کی مرض تھی ۔چنانچہ اس سے عزیز احمد کو خارش ہو گئی اور پھر آہستہ آہستہ تمہارے تایا کے گھر میں اکثر لوگوں کو خارش ہو گئی اور آخر ادھر سے ہمارے گھر میں بھی خارش کا اثر پہنچا ۔چنانچہ حضرت صاحب کو بھی ان دنوں میں خارش کی تکلیف ہو گئی تھی ۔
{ 263} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ کا نام نصرت جہاں بیگم ہے اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ان کا مہر میر صاحب کی تجویز پر گیارہ سو روپیہ مقرر ہواتھا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے نانا جان صاحب کا نام میر ناصر نواب ہے ۔میر صاحب خواجہ میر درد صاحب دہلوی کے خاندان سے ہیں ۔اور پنجاب کے محکمہ نہر میں ملازم تھے ۔اور قریباً عرصہ پچیس سال سے پنشن پر ہیں ۔ شروع شروع میں میر صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی کچھ مخالفت کی تھی ۔لیکن جلد ہی تائب ہو کر بیعت میں شامل ہو گئے ۔
{ 264} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ پٹیالہ میں خلیفہ محمدحسین صاحب وزیر پٹیالہ کے مصاحبوں اور ملا قاتیوں میں ایک مولوی عبد العزیز صاحب ہوتے تھے ۔جو کرم ضلع لدھیانہ کے رہنے والے تھے ۔ان کا ایک دوست تھا ۔ جو بڑا امیر کبیر اور صاحب جائیداد تھا اور لاکھوں روپے کا مالک تھا ۔مگر اس کے کوئی لڑکا نہ تھا ۔جو اُس کا وارث ہوتا۔ اس نے مولوی عبد العزیز صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب سے میرے لئے دعا کرواؤ کہ میرے لڑکا ہو جاوے ۔مولوی عبد العزیز نے مجھے بلا کر کہا کہ ہم تمہیں کرایہ دیتے ہیں ۔تم قادیان جاؤ اور مرزا صاحب سے اس بارہ میں خاص طور پر دعا کے لئے کہو ۔چنانچہ میں قادیان آیا اور حضرت صاحب سے سارا ماجرا عرض کر کے دعا کے لئے کہا ۔آپ نے اس کے جواب میں ایک تقریر فرمائی جس میں دعا کا فلسفہ بیان کیا اور فرمایا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے ایک خاص قلبی کیفیت کا پیداہوناضروری ہوتا ہے۔جب آدمی کسی کے لئے دعا کرتا ہے توا س کے لئے ان دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہوتا ہے یا تو اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا گہرا تعلق اور رابطہ ہو کہ اس کی خاطر دل میں ایک خاص درد اور گداز پیدا ہو جائے جو دعا کے لئے ضروری ہے اور یا اس شخص نے کوئی ایسی دینی خدمت کی ہو کہ جس پر دل سے اس کے لئے دعا نکلے ۔مگر یہاں نہ تو ہم اس شخص کو جانتے ہیں اور نہ اس نے کوئی دینی خدمت کی ہے کہ اس کے لئے ہمارا دل پگھلے ۔پس آپ جا کر اسے یہ کہیں کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے ایک لاکھ روپیہ دے یا دینے کا وعدہ کرے ۔ پھر ہم اس کے لئے دعا کریں گے ۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ پھر اللہ اسے ضرور لڑکا دے دیگا ۔ میاں عبد اللہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے جا کر یہی جواب دیا ۔مگر وہ خاموش ہو گئے ۔اور آخر وہ شخص لاولد ہی مر گیا ۔اور اس کی جائیداد اس کے دور نزدیک کے رشتہ داروں میں کئی جھگڑوں اورمقدموں کے بعد تقسیم ہو گئی۔
{ 265} بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔بیان کیامجھ سے میاں فخر الدین صاحب ملتانی نے کہ ابھی حضرت مسیح موعودؑ کی وفات پر صرف دو تین ماہ ہی گذرے تھے کہ میں ایک دو اور دوستوں کے ساتھ بٹالہ میں مولوی محمدحسین بٹالوی سے ملنے گیا ۔میری غر ض یہ تھی کہ مولوی محمد حسین سے باتوں باتوں میںحضرت صاحب کی عمر کے متعلق سوال کروں کیونکہ ان دنوں میں آپ کی عمر کے متعلق بہت اعتراض تھا ۔خیر میں گیا اور مولوی صاحب کے دروازے پر آواز دی ۔ مولوی محمد حسین نیچے آئے اور مسجد میں آکر ملاقات کی ۔میرا ارادہ تھا کہ مولوی صاحب کو اپنا احمدی ہونا ظاہر نہ کروں گا ۔لیکن مولوی صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ کہاں جاتے ہو؟تو مجھے نا چار قادیان کا نام لینا پڑا ۔اور مولوی صاحب کو معلوم ہو گیا کہ میں احمدی ہوں ۔خیر میں نے مولوی صاحب سے گفتگو شروع کی اور کہا کہ مولوی صاحب اور نہیں تو آپ کم از کم وفات مسیح ناصری کے تو قائل ہو ہی گئے ہو نگے ۔مولوی صاحب نے سختی سے کہا کہ نہیں میں تو مسیح کو زندہ سمجھتا ہوں ۔خیر اس پر گفتگو ہوتی رہی ۔پھر میں نے مولوی محمد حسین سے پوچھا کہ آپ تو حضرت مرزا صاحب کے پرانے واقف ہونگے ۔ مولوی صاحب نے کہا ہاںمیں توجوانی سے جانتا ہوں اور میں اور مرزا صاحب بچپن میں ہم مکتب بھی تھے ۔ اور پھر اس کے بعد ہمیشہ ملاقات رہی ۔میں نے کہا آپ اور مرزا صاحب ہم عمر ہی ہوں گے ۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ نہیں مرزا صاحب مجھ سے تین چار سال بڑے تھے۔میں نے سادگی کا چہرہ بنا کر پو چھا کہ مولوی صاحب آپ کی اس وقت کیا عمر ہے؟ مولوی میرے داؤکو نہ سمجھا اور بولا کہ ۷۳۔۷۴سال کی ہے ۔ میں نے دل میں الحمدللہ کہا اور جلدی ہی گفتگو ختم کر کے اُٹھ آیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں فخرالدین صاحب مذکور نے خدا کی قسم کھا کر یہ روایت بیان کی تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی محمدحسین نے اپنے اُس خط میں جس کی اشاعت آئینہ کمالات اسلام میں ہو چکی ہے اپنی پیدائش کی تاریخ ۱۷محرم ۱۲۵۶ھ بیان کی ہے ۔اس طرح اگر حضرت صاحب کو مولوی محمد حسین صاحب سے چار سال بڑا مانا جاوے تو آپ کی تاریخ پیدائش ۱۲۵۲ھ بنتی ہے ۔ اور ناظرین کو یاد ہوگا کہ اسی کتاب میں دوسری جگہ (دیکھو روایت نمبر ۱۸۵) خاکسار نے ایک اور جہت سے یہی تاریخ پیدائش ثا بت کی تھی سو الحمدللہ کہ اس کا ایک شاہد بھی مل گیا اور مجھے یہ یاد پڑتا ہے کہ حضرت صاحب بھی فر مایا کرتے تھے کہ مولوی محمد حسین سے میں تین چار سال بڑا ہوں ۔ایک اور بھی بات ہے کہ۱۸۹۴ء میں حضرت صاحب نے آتھم کے مقابلہ پر ایک اشتہار میں اپنی عمرساٹھ سال بیان کی تھی ۔اس سے بھی آپ کی عمر وفات کے وقت۷۴۔۷۵سال بنتی ہے۔
{ 266} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ مجھے وہ لوگ جو دنیا میں سادگی سے زندگی بسر کرتے ہیں بہت ہی پیارے لگتے ہیں ۔
{ 267} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاںعبد اللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ’’مرضیٔ مولا از ہمہ اولیٰ ‘‘۔ (یعنی خدا کی رضا سب سے مقدم ہونی چاہئے)
{ 268} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاںعبد اللہ صاحب سنوری نے کہ مدت کی بات ہے کہ جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہو گئی اوراُن کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے اُن سے کہا کہ ہمارے گھر میں دو لڑکیا ں رہتی ہیں ان کو میں لاتا ہوں آپ اُن کو دیکھ لیں ۔پھر اُن میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جاوے ۔چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دو لڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کردیا ۔اور پھر اندر آکر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں ۔چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے اُن کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے اُن کو رخصت کر دیا اور اس کے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پو چھنے لگے کہ اب بتائو تمہیں کو ن سی لڑکی پسند ہے ۔وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے ۔اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے ۔پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہو تا ہے وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بد نما ہو جاتا ہے لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے ۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت حضرت صاحب اور میاں ظفر احمد صاحب اور میرے سوا اور کو ئی شخص وہاں نہ تھا ۔اور نیز یہ کہ حضرت صاحب ان لڑکیوں کو کسی احسن طریق سے وہاں لائے تھے ۔اور پھر ان کو مناسب طریق پر رخصت کر دیا تھا ،جس سے ان کو کچھ معلوم نہیں ہو ا۔مگر ان میں سے کسی کے ساتھ میاں ظفر احمدصاحب کا رشتہ نہیں ہوا ۔یہ مدت کی بات ہے ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اللہ کے نبیوں میں خوبصورتی کا احساس بھی بہت ہوتا ہے۔ دراصل جو شخص حقیقی حُسن کو پہچانتا اور اس کی قدر کرتا ہے وہ مجازی حسن کو بھی ضرور پہچانے گا اور اس کے مرتبے کے اندر اندر اس کی قدر کر ے گا۔آنحضرت ﷺ کے متعلق احادیث میں روایت آتی ہے کہ مہاجرین میں سے ایک شخص نے انصار میں سے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کر نے کا ارادہ کیا اور آپ ؐ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ بغیر دیکھے کے شادی نہ کرنا ۔بلکہ پہلے لڑکی کو دیکھ لینا کیونکہ انصار لڑکیوں کی آنکھ میں عموماً نقص ہو تا ہے ۔ایک اور صحابی جابر ؓ سے جس نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی تھی ۔مگر وہ خود ابھی نوجوان لڑکا تھا ۔آپ ؐ نے فرمایا ’’ میاں کسی باکرہ لڑ کی سے کیوں نہ شادی کی جو تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم اس کے ساتھ کھیلتے ‘‘ ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں کچھ کام کرنا ہوتا ہے ان کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ ان کی خانگی زندگی میں ہر جہت سے ایسے سامان مہیا ہوں جواُن کیلئے راحت سکون اور اطمینان کا موجب ہوں تا کہ ان کے بیرونی کام کا بوجھ ہلکا کر نے میں یہ خانگی راحت و سکون کسی قدر سہارے کا کام دے سکے ۔
{ 269} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب میں نے ایک واقعی ضرورت پر نکاح ثانی کا قصد کیا۔تو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ جب کہیں موقعہ ملے جلد اس قلعہ میںداخل ہو جانا چاہیے اور زیدو بکر کی پروا نہ کرنی چاہیے ۔
{ 270} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب ہر چیز میں خوبصورتی کو پسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے اَللّٰہُ جَمِیْلٌ وَیُحِبُّ الْجَمَال -
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{271} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے یہ اشتہار دیا کہ کوئی غیر مذہب کا پیرو یا مخالف اگر نشان دیکھنا چاہتا ہے تو میرے پاس آکر رہے ۔ پھر اگر نشان نہ دیکھے تو میں اسے اتنا انعام دونگا ۔تو ایک دن حضرت صاحب مجھے فرمانے لگے کہ ہم نے اشتہار دے دیکر بہت بلا یا ہے مگر کوئی نہیں آتا۔آجکل بٹالہ میں پادری وائٹ بریخٹ ہیں ۔ آپ اُن کے پاس جائیں اور ایک متلاشی ٔ حق کے طور پر اپنے آپ کو ظاہر کریں اور کہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایسا ایسا اشتہار دیا ہے ،آپ ضرور چل کر اُن کا مقابلہ کر یں ۔آپ کیلئے کوئی مشکل بھی نہیں ہے ۔قادیان یہاں سے صرف چند میل کے فاصلہ پر ہے۔اگر مرزا صاحب اس مقابلہ میں ہار گئے ۔تو میں بلا عذر حق کو قبول کر لوں گا اور اور بھی بہت سے لوگ حق کو قبول کر لیں گے اور حضر ت صاحب نے یہ بھی کہا کہ یہ بھی اُسے کہنا کہ جھوٹے کو اُس کے گھر تک پہنچانا چاہیے ۔یہ ایک بڑا نادر موقعہ ہے ۔مرزا صاحب نے بڑا شور مچا رکھا ہے ۔ آپ اگر ان کو شکست دیدیں گے اور ان سے انعام حاصل کر لیں گے تو یہ ایک عیسائیت کی نمایاں فتح ہو گی اور پھر کو ئی مسلمان سامنے نہیں بو ل سکے گا وغیرہ وغیرہ ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں جس وقت حضرت صاحب نے یہ مجھ سے فرمایا اس وقت شام کا وقت تھا اور بارش ہو رہی تھی اور سردیوں کے دن تھے ۔اس لئے میاں حامد علی نے مجھے روکا کہ صبح چلے جانا مگر میں نے کہا کہ جب حضرت صاحب نے فرمایا ہے تو خواہ کچھ ہو میں تو ابھی جائوں گا چنانچہ میں اسی وقت پیدل روانہ ہو گیا اور قریباً رات کے دس گیارہ بجے بارش سے تر بتر اور سردی سے کانپتا ہوا بٹا لہ پہنچا اور اسی وقت پادری مذکور کی کوٹھی پر گیا وہاں پادری کے خانسامہ نے میری بڑی خاطر کی اور مجھے سونے کیلئے جگہ دی اور کھانا دیا اور بہت آرام پہنچایا اور وعدہ کیا کہ صبح پادری صاحب سے ملاقات کرائو ں گا ۔چنانچہ صبح ہی اس نے مجھے پادری سے ملایا۔ اس وقت پادری کے پا س اس کی میم بھی بیٹھی تھی ۔میں نے اسی طریق پر جس طرح حضرت صاحب نے مجھے سمجھایا تھا ۔اس سے گفتگو کی مگر اس نے انکا رکیا اور کہا کہ ہم ان باتوں میں نہیں آتے ۔میں نے اسے بہت غیرت دلائی اور عیسائیت کی فتح ہو جانے کی صورت میں اپنے آپ کو حق کے قبول کر لینے کے لئے تیار ظاہر کیا مگروہ انکار ہی کرتا چلا گیا ۔ آخر مَیں مایوس ہو کر قادیان آگیا اور حضرت صاحب سے سارا قصہ عرض کردیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ واقعہ غالباً سلسلہ بیعت سے پہلے کا ہے ۔
{ 272} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنچنی تھی اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا پھر وہ مر گئی اور مجھے اس کا ترکہ ملا مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی۔ اب میں اس مال کو کیا کروں؟حضرت صاحب ؑ نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میںخرچ ہو سکتا ہے اور پھر مثال دے کر بیان کیا کہ اگر کسی شخص پر کوئی سگِ دیوانہ حملہ کرے اور اس کے پاس اس وقت کوئی چیزاپنے دفاع کیلئے نہ ہو نہ سوٹی نہ پتھر وغیرہ صرف چند نجاست میں پڑے ہو ئے پیسے اس کے قریب ہوں تو کیا وہ اپنی جان کی حفاظت کیلئے ان پیسوں کو اٹھا کر اس کتے کو نہ دے مارے گا اور اس وجہ سے رک جاوے گا کہ یہ پیسے ایک نجاست کی نالی میں پڑے ہو ئے ہیں ہر گز نہیں۔ پس اسی طرح اس زمانہ میں جو اسلام کی حالت ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اس روپیہ کو خدمت اسلام میں لگا یا جاسکتا ہے ۔میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں جب کی یہ بات ہے آج کل والے انگریزی پیسے زیادہ رائج نہ تھے بلکہ موٹے موٹے بھدے سے پیسے چلتے تھے جن کو منصوری پیسے کہتے ہیں ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس زمانہ میں خدمت اسلام کیلئے بعض شرائط کے ماتحت سودی روپیہ کے خرچ کئے جانے کا فتویٰ بھی حضرت صاحب نے اسی اصول پر دیا ہے مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ فتویٰ وقتی ہے اور خاص شرائط کے ساتھ مشروط ہے ۔ وَمَنِ اعْتَدٰی فَقَدْ ظَلَمَ وَحَارَبَ اللّٰہ ـ
{273} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اَلاستقامۃ فوق الکرامۃِ -
{274} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضر ت مسیح موعود ؑ فرماتے تھے کہ سؤر سے مسلمانوں کو سخت نفرت ہے ۔جو طبیعت کا ایک حصہ بن گئی ہے ۔اس میں یہ حکمت ہے کہ خدا اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ انسان اگر چاہے تو تما م منہیّات سے ایسی ہی نفرت کر سکتا ہے اور اسے ایسی ہی نفرت کر نی چاہیے ۔
{ 275} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ آتھم کے مباحثہ میں مَیں بھی موجود تھا -جب حضرت صاحب نے اپنے آخری مضمون میں یہ بیان کیا کہ آتھم صاحب نے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں آنحضرت ﷺکو(نعوذ باللہ ) دجّال کہا ہے۔ تو آتھم نے ایک خوف زدہ انسان کی طرح اپنا چہرہ بنایا ۔ اور اپنی زبان باہر نکال کر کانوں کیطرف ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ میں نے یہ کہا ں لکھا ہے یاکب لکھا ہے یعنی نہیں لکھا ۔
{ 276} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے لدھیانہ والے مباحثہ میں مَیں موجود تھا ۔حضرت صاحب الگ اپنے خادموں میں بیٹھ جاتے تھے اور مولوی محمد حسین الگ اپنے آدمیوں میں بیٹھ جاتا تھا اور پھر تحریری مباحثہ ہوتا تھا ۔میں نے دوران ِ مباحثہ میں کبھی حضرت صاحب اور مولوی محمد حسین کو آپس میں زبانی گفتگو کر تے نہیں سنا ۔ان دنوں میں لدھیانہ میں بڑا شور تھا ۔مولوی محمد حسین کے ملنے والوں میں ایک مولوی نظام الدین صاحب ہوتے تھے جو کئی حج کر چکے تھے ۔اور طبیعت ظریف رکھتے تھے وہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ ؑ نے خلاف ِ قرآن شریف وفات مسیح کا یہ کیا عقیدہ نکالا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ’’ میں نے قرآن شریف کے خلاف کچھ نہیں کہا۔بلکہ میں تو اب بھی تیار ہوں کہ اگر کوئی شخص قرآن سے حیات مسیح ؑ ثابت کر دے ۔تو فوراً اپنے عقیدہ سے رجوع کر لوں گا ۔مولوی نظام الدین نے خوش ہو کر کہا کہ کیا واقعی آپ ؑ قرآن شریف کی آیات کے سامنے اپنے خیالات کو ترک کر دیں گے ؟ حضرت صاحب نے کہا۔ ہاںمیں ضرور ایسا کروں گا۔ مولوی نظام الدین نے کہا ۔اچھا پھر کیا ہے ۔میں ابھی مولوی محمد حسین کے پاس جاتا ہوں ۔اور پچاس آیتیں قرآن کریم کی حیات مسیح ؑ کے ثبوت میں لکھوا لاتا ہوں ۔ حضرت صاحب ؑ نے فرمایا پچاس کی ضرورت نہیں۔میں تو اگر ایک آیت بھی نکل آئے گی تو مان لونگا ۔اس پر مولوی نظام الدین خوشی خوشی اٹھ کر چلے گئے اور کچھ عرصہ کے بعد سر نیچے ڈالے واپس آئے ۔حضرت صاحب نے فرمایا کیوں مولوی صاحب آپ آیتیںلے آئے ۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے مولوی محمد حسین صاحب سے جاکر یہ کہا تھا کہ مولوی صاحب !میں نے مرزا صاحب کو بالکل قابو کر لیا ہے اور یہ اقرار کر وا لیا ہے کہ اگر میں قرآن کر یم کی ایک آیت بھی ایسی پیش کر دوں جس میں حیات مسیح ؑ ثابت ہو تو وہ مان لیں گے اور اپنے عقائد سے توبہ کر لیں گے ۔مگر میں نے انہیں کہا تھا کہ ایک آیت کیا میں پچاس آیتیں لاتا ہوں۔سو آپ جلد آیتیں نکال دیں تا میں ابھی ان کے پاس جا کر اُن سے توبہ کر الوں ۔اس پر مولوی صاحب نے سخت برہم ہو کرکہا کہ اے اُلّو! تم نے یہ کیا کیا۔ ہم تو اسے قرآن سے نکال کرحدیثوں کی طرف لاتے ہیں اور تم اسے پھر قرآن کی طرف لے آئے ۔میں نے کہا کہ مولوی صاحب ! تو کیا قرآن میں کو ئی آیت مسیح ؑ کی حیات ثابت نہیں کرتی ؟ مولوی صاحب نے کہا تم تو بے وقوف ہو ۔اسے حدیثوں کی طرف لانا تھا کیونکہ قرآن میں اس کا ذکر نہیں ہے ۔مولوی نظام الدین نے کہا کہ میں نے کہا کہ ہم تو پھر قرآن کے ساتھ ہیں ۔جب قرآن سے مسیح ؑ کی وفات ثابت ہو تی ہے تو ہم اس کے مخالف حدیثوں کو کیا کریں ۔اس پر مولوی صاحب نے مجھے گالیاں دینی شروع کر دیں اور کہا کہ تو بے وقوف ہے تجھے سمجھ نہیں وغیرہ وغیرہ ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ اس کے بعد مولوی نظام الدین صاحب نے حضرت صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیر سراج الحق صاحب نے اپنی کتاب تذکرۃ المہدی حصہ اوّل میں یہ واقعہ بیان کر کے یہ بات زائد بیان کی ہے کہ مولوی نظام الدین صاحب نے یہ بھی سنایا کہ جب میں نے مولوی محمد حسین صاحب سے یہ کہا کہ ہم تو پھر قرآن کے ساتھ ہیں تو مولوی صاحب نے سخت برہم ہو کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس کی روٹی بند کر دو ۔( پیر صاحب لکھتے ہیں کہ مولوی نظا م الدین صاحب کو مولوی محمد حسین کی طرف سے روٹی ملا کرتی تھی )اس پر میں نے ہاتھ باندھ کر مولوی محمد حسین سے (ظرافت کے طور پر )کہا کہ مولوی صاحب میں قرآن کو چھوڑ دیتا ہوں ۔خدا کے واسطے میری روٹی نہ بند کرنا ۔اس پر مولوی محمد حسین صاحب سخت شرمندہ ہوئے ۔
پیر صاحب نے لکھا ہے کہ جب مولوی نظام الدین نے عملاً اسی طرح ہاتھ باندھ کر اس مکالمہ کو حضرت صاحب کے سامنے دہرایا تو حضرت صاحب بہت ہنسے اور پھر فرمانے لگے کہ دیکھو ان مولویوں کی حالت کہاں تک گر چکی ہے نیز میاں عبداللہ صاحب سنوری بیان کرتے تھے کہ میں پہلے مولوی محمد حسین بٹالوی کا بڑا معتقد ہو تا تھا اور اس کے پاس جاکر ٹھہر ا کرتا تھا پھر حضرت صاحب کی ملاقات کے بعد بھی جب کبھی مجھے حضرت صاحب مولوی محمد حسین کے پا س کو ئی خط وغیر ہ دے کر بھیجتے تھے تو میں اس سے اسی عقیدت کے ساتھ ملتا تھا ۔لیکن جب اس نے حضرت صاحب کی مخالفت کی تو مجھے اس سے نفرت ہو گئی ۔اور میں نے کبھی اس کی صورت تک دیکھنی پسند نہیں کی ۔
خاکسارنے میاں عبداللہ صاحب سے دریافت کیا کہ مخالفت سے پہلے مولوی محمد حسین کا حضرت صاحب کے ساتھ کیسا تعلق تھا ۔آیا ایک عام برابری کا ساتعلق تھا یا وہ حضرت صاحب کے ساتھ عقیدت اور اخلاص رکھتا تھا ۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ وہ حضرت صاحب سے عقیدت رکھتا تھا ۔چنانچہ جب کبھی کوئی حضرت صاحب کا کام ہوتا تو وہ شوق اور اخلاص سے کرتا تھا اور اس کی باتوں سے پتہ لگتا تھا کہ اس کے دل میں آپ کی محبت اور ادب ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ براہین احمدیہ پر جو مولوی محمد حسین نے ریویو لکھا تھا اس سے بھی صاف پتہ چلتا ہے کہ مخالفت سے پہلے مولوی محمد حسین حضر ت مسیح موعود ؑ کے ساتھ کافی عقیدت رکھتا تھا ۔یہ ریویو بڑا مبسوط و مکمل ہے اور اپنے حجم کے لحاظ سے گویا ایک مستقل کتاب کہلانے کا حق دار ہے۔
{ 277} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعت السنۃ نے حضر ت مسیح موعود ؑ کی تصنیف براہین احمدیہ پر جو ریویو لکھا تھا اس کے بعض فقرے درج ذیل کرتا ہوں ۔
’’ ہماری رائے میں یہ کتاب (یعنی براہین احمدیہ حصہ اوّل و دوم و سوم و چہارم مصنّفہ حضرت مسیح موعود ) اس زمانہ میں موجودہ حالا ت کی نظر سے ایسی کتا ب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں شائع نہیں ہو ئی۔اور آئندہ کی خبر نہیں ۔ لَعَلَّ اللّٰہُ یُحدِثُ بَعْدَ ذَالِکَ اَمْرًا۔(یَقُوْلُ الْعَبْدُ الفقیرُ البشیرُ وَ قَدْ صَدَقَ اللّٰہُ قَوْلَ ھٰذَا الْمَوْلَوِی وَاَحْدَث بَعْدَ ذَالِکَ اَمْرًا عَظِیمًا اِذْ جَعَلَ مُصَنِّفَ ھٰذَا الکِتٰبِ اَلْمَسِیْحَ الْمَوْعُوْدَ وَ الْمَھْدِیَّ الْمَعْھُوْدَ وَ جَعَلَہٗ اِمَاماً عَدْلًا اَلَّذِیْ مَلَاَئَ الْاَرْضَ قِسْطًا بَعْدَ مَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَّ اِثْمًا وَ نَالَ الْاِیْمَانَ مِنَ الثُّرَیَا وَ کَسَرَ الصَّلِیْبَ وَ حَارَبَ الدَّجَّالَ فَقَتَلَہٗ وَلٰکِنْ یٰحَسْرَۃً عَلٰی الْعِبَادِ مَا یَا تِیْھِمْ مِنْ رَسُولٍ اِلَّاکَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِؤُنَ) اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی وجانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصر ت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے ۔ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم از کم کو ئی ایسی کتاب بتاوے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصو صاً فرقہ آریہ و برہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ پایاجاتا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کی نشاندہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بیٹرا اُٹھا لیا ہو ۔اور مخالفین اسلام و منکرین الہام کے مقا بلہ میں مردانہ تحدّی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ و مشاہدہ کر ے اور اس تجربہ و مشاہدہ کا اقوام غیر کو مزہ بھی چکھا دیا ہو۔ مؤلّف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جب ہم قطبی اور شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکتب ۔اس زمانہ سے آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری رہی ہے ۔اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم ان کے حالات و خیالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دیئے جانے کے لائق ہے۔ مؤلّف براہین احمدیہ نے مسلمانوں کی عزت رکھ دکھائی ہے ،اور مخالفین اسلا م سے شرطیں لگا لگا کر تحدّی کی ہے ۔اور یہ منادی اکثر روئے زمین پر کردی ہے کہ جس شخص کو اسلام کی حقّانیت میںشک ہو وہ ہمارے پاس آئے۔ اے خدا ! اپنے طالبوں کے رہنما!ان پر ان کی ذات سے ان کے ماں باپ سے تمام جہاں کے مشفقوں سے زیادہ رحم فرما (یعنی رحم فرمانے والے) تو اس کتاب کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے اور اس کے برکات سے ان کو مالا مال کر دے اور کسی اپنے صالح بندے کے طفیل اس خاکسار شرمسار گنہگار کو بھی اپنے فیوض اور انعامات اور اس کتاب کی اخص برکا ت سے فیضیاب کر ۔آمین وللارض من کاس الکرام نصیب’’یعنی بڑے لوگوں کے جام سے ان کی جام نوشی کے وقت زمین پر بھی کچھ شراب گر جاتا ہے ۔کیونکہ وہ بوجہ کثرت شراب کے بے پرواہی سے شراب پیتے ہیں اور اس کے تھوڑے بہت گر جانے اور ضائع ہو جانے کی ان کو پروا نہیں ہوتی ۔پس اے اللہ! ہم کو بھی حضر ت مرزا صاحب کی جام نوشی کے وقت تیری شراب سے جو تو نے انکو دی ہے او ر نہیں تو صرف اسی قدر حصہ مل جاوے جو بوقت مے نوشی زمین پر گر کر ضائع ہو جایا کرتا ہے ۔خاکسار مؤلف ‘‘
دیکھو اشاعۃ السنہ جلد ۶
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعو دؑ نے مولوی محمدحسین کے اس ریویو کا اپنے عربی اشعار مندرجہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ذکر کیا ہے ۔آپ فرماتے ہیں۔
ایا را شقی قد کنت تمدح منطقی
وتثنی علیّ بالفۃٍ و تو قّر
اے مجھ پرتیر چلانے والے کوئی زمانہ تھا کہ تو میرے کلام کی تعریف کرتا تھا اور محبت کے ساتھ میری ثنا کرتا تھا اور میری عزت کرتا تھا
وللّٰہ درّک حین قرظت مخلصًا
کتابی وصرت لکل ضال مخفّر
اورکیا ہی اچھا تھا حال تیرا جبکہ تو نے اخلاص کے ساتھ میری کتاب کا ریویولکھااور تو گمراہوں کو ہدایت کی پناہ میں لانے والا تھا
وانت الذی قد قال فی تقریظہ
کمثل المولّف لیس فینا غضنفر
کہ تُو وہی تو ہے جس نے اپنے ریویو میں کہا تھا کہ براہین احمدیہ کے مؤلف جیسا کوئی شیر بہادر ہم میں نہیں ہے
عرفت مقامی ثم انکرت مدبراً
فما الجھل بعد العلم ان کنت تشعر
تو نے میرے مقام کو پہچانا مگر پھر انکار کر دیااور پیٹھ پھیر لی لیکن ذرا خیال تو کر کہ علم کے بعد جہالت کی کیا حقیقت ہوتی ہے
کمثلک مع علم بحالی وفطنۃٍ
عجبت لہ یبغی الھدیٰ ثم یا طر
تیرے جیسا شخص جو میرے حالات کو خوب جانتا ہے تعجب ہے کہ وہ ہدایت پر آکرپھر راہ راست چھوڑ دے
قطعت وداداً قد غر سناہ فی الصبا
و لیس فوادی فی الوداد یقصّر
تو نے محبت کے اس درخت کو کاٹ دیا جو ہم نے نو جوانی میں لگایا تھامگر میرے دل نے محبت میں کوئی کو تا ہی نہیں کی
علی غیر شیئٍ قلتَ ماقلت عجلۃً
وواللہ انی صادق لا ازوّر
تو نے میرے متعلق جو جلد بازی سے کہا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے اور خدا کی قسم میں صادق ہوں جھوٹا نہیں ہوں
{ 278} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے ۱۸۹۰ء کے اواخر میں فتح اسلام تصنیف فرمائی تھی اور اس کی اشاعت شروع ۱۸۹۱ء میں لدھیانہ میں کی گئی۔ یہ وہ پہلا رسالہ ہے ۔ جس میں آپ ؑ نے اپنے مثیل مسیح ہونے اورمسیح ناصری کی وفات کا ذکر کیا ہے۔ گویا مسیح موعودؑ کے دعویٰ کا یہ سب سے پہلا اعلان ہے ۔بعض لوگ جو بیان کرتے ہیںکہ حضرت صاحب نے مسیح موعودؑ کے دعوے کے متعلق سب سے پہلے ایک اشتہار دیا تھا ۔میری تحقیق میں یہ غلطی ہے۔ سب سے پہلا اعلان فتح اسلام کے ذریعے ہوا اور وہ اشتہار جس کی سرخی یہ ہے ۔ لِیھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَۃٍ وَیَحْیَ مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَۃٍ فتح اسلام کی اشاعت کے بعد دیا گیا تھا۔بلکہ یہ اشتہار تو فتح اسلام کے دوسرے حصہ توضیح مرام کی اشاعت کے بھی بعدشائع کیا گیا تھا ۔جیسا کہ خود اس اشتہار کو پڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے پس اشتہار کو دعویٰ مسیحیت کے متعلق ابتدائی اعلان سمجھنا جیسا کہ پیر سراج الحق صاحب نے اپنے رسالہ تذکرۃ المہدی میں اور غالباًاُن کی اتباع میں حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے اپنے رسالہ سیرت مسیح موعودؑمیں شائع کیا ہے ایک صریح غلطی ہے ۔ حق یہ ہے کہ دعویٰ مسیحیت کے متعلق سب سے پہلا پبلک اعلان فتح اسلام کے ذریعہ ہوا ۔اس کے بعد توضیح مرام کی اشاعت ہوئی پھر بعض اشتہارات ہوئے اور پھر ازالہ اوہام کی اشاعت ہوئی ۔ایک اور بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ فتح اسلام میں مسیح موعودؑ ہونے کا دعویٰ اور وفات مسیح کا عقیدہ بہت صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوئے ۔ اور نہ یہ اعلان ایسی صورت میں ہوا ہے کہ جو ایک انقلابی رنگ رکھتا ہو ۔جس سے ایسا سمجھا جاوے کہ گویا اب ایک نیا دور شروع ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔بلکہ محض سلسلہ کلام میں یہ باتیں بیان ہو گئی ہیں ۔ نہ پوری صراحت ہے نہ تحدّی ہے نہ ادلّہ ہیں ۔اس کے بعد توضیح مرام میں زیادہ وضاحت ہے اور پھر بالآخر ازالہ اوہام میں یہ باتیں نہایت زور شور کے ساتھ معہ ادلّہ بیان کی گئی ہیں۔ میں نے اس کی بہت تلاش کی کہ کوئی ایسا ابتدائی اعلان ملے کہ جس میں مثلاً ایک نئے انکشاف کے طور پر حضرت صاحب نے یہ اعلان کیا ہو کہ مجھے اللہ نے بتایا ہے کہ مسیح ناصری فوت ہوچکا ہے اور آنے والا موعود مسیح موعود میں ہوں ۔یعنی کوئی ایسا رنگ ہوجو یہ ظاہر کرے کہ اب ایک نئے دور کا اعلان ہوتا ہے ۔مگر مجھے ایسی صورت نظر نہیں آئی ۔بلکہ سب سے پہلا اعلان رسالہ فتح اسلام ثابت ہوا ۔مگر اسے دیکھا گیا ۔تو ایسے رنگ میں پایا گیا جو اوپر بیان ہوا ہے یعنی اس میں یہ باتیں ایسے طور پر بیان ہوئی ہیں کہ گویا کوئی نیا دور اور نیا اعلان نہیں ہے بلکہ اپنے خداداد منصب مجددیت کا بیان کرتے ہوئے یہ باتیں بھی سلسلہ کلام میں بیان ہو گئی ہیں ۔جس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت صاحب کو اپنے مسیح موعودہونے کے متعلق الہامات تو شروع سے ہی ہو رہے تھے صرف ان کی تشریح اب ہوئی تھی۔
{279} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے دعویٰ مسیحیت اور وفات مسیح ناصری کے عقیدہ کا اعلان کیا تو ملک میں ایک سخت طوفان بے تمیزی بر پا ہو گیا ۔اس سے پہلے بھی گو مسلمانوں کے ایک طبقہ میں آپ کی مخالفت تھی لیکن اوّل تو وہ بہت محدود تھی ۔دوسرے وہ ایسی شدید اورپُر جوش نہ تھی لیکن اس دعویٰ کے بعد تو گویا ساری اسلامی دنیا میں ایک جوش عظیم پیدا ہو گیا۔اور حضرت مسیح موعودؑ کو اوّل لدھیانہ میں پھر دہلی میں اورپھر لاہور میںپرزور مباحثات کرنے پڑے مگر جب مولویوں نے دیکھا ۔کہ حضرت مسیح موعودؑ اس طرح مولویوں کے رعب میں آنے والے نہیں اور لوگوں پر آپ کی باتوں کا اثر ہوتا جاتا ہے ۔تو سب سے پہلے مولوی محمد حسین بٹالوی نے ایک استفتاء تیار کیا ۔اور اس میں حضرت مسیح موعود کے متعلق علماء سے فتویٰ کفر کا طالب ہوا ۔ چنانچہ سب سے پہلے اس نے اپنے استاد مولوی سیدنذیر حسین صاحب دہلوی سے فتویٰ کفر حاصل کیا ۔چونکہ مولوی نذیر حسین تمام ہندوستان میں مشہور و معروف مولوی تھے ۔اور اہل حدیث کے تو گویا امام تھے اور شیخ الکل کہلاتے تھے ۔اس لئے ان کے فتویٰ دینے سے اور پھر مولوی محمد حسین جیسا مشہور مولوی مستفتی تھا ۔باقی اکثر مولویوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کفر نامے پر اپنی مہریں ثبت کرنی شروع کیں ۔اور قریباً دو سو مولویوں کی مہر تصدیق سے یہ فتویٰ ۱۸۹۲ء میں شائع ہوا اور اس طرح وہ پیشگوئی پوری ہوئی ۔کہ مسیح موعود ؑ پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا ۔
{ 280} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے عالم شباب کے زمانہ قیام سیالکوٹ کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی کی تصنیف حیاۃ النبی سے مولوی میرحسن صاحب سیالکوٹی کی روایت دوسری جگہ (یعنی نمبر ۱۵۰پر)درج کی جا چکی ہے۔ اس روایت کے متعلق میں نے مولوی صاحب موصوف کو سیالکوٹ خط لکھا تھا ۔ مولوی صاحب نے اس کی تصدیق کی اور مجھے اپنی طرف سے اس کی روایت کی اجازت دی ۔اس کے علاوہ میری درخواست پر مولوی صاحب موصوف نے انہی ایام کے بعض مزید حالات بھی لکھ کر مجھے ارسال کئے ہیں۔جو میں درج ذیل کرتا ہوں ۔مولوی صاحب لکھتے ہیں ۔
’’حضرت مخدوم زادہ والا شان سمو المکان زادالطافکم‘‘۔
بعد از سلام مسنون عرض خدمت والا یہ ہے کہ چند در چند عوائق و موانع کے باعث آپ کے ارشاد کی تعمیل میں دیر واقع ہوئی امید ہے آپ معاف فرمائیں گے ۔چونکہ عرصہ دراز گذر چکا ہے ۔اور اس وقت یہ باتیں چنداں قابل توجہ اور التفات نہیں خیال کی جاتی تھیں ۔اس واسطے اکثر فراموش ہو گئیں ۔جو یاد کرنے میں بھی یاد نہیں آتیں ۔خلاصہ یہ ہے کہ ادنیٰ تامل سے بھی دیکھنے والے پر واضح ہو جاتا ہے۔کہ حضرت اپنے ہرقول و فعل میں دوسروں سے ممتاز ہیں ۔فقط
راقم جناب کا ادنیٰ نیاز مند میر حسن ۔۲۶نومبر۱۹۲۲ء
سیرت کی جلد اول تھوڑے دنوں میں روانہ خدمت کر دوں گا ۔فقط۔‘‘(اس سے مراد شیخ یعقوب علی صاحب کی تصنیف ہے ۔ جو میں نے مولوی صاحب کو بھجوائی تھی۔اور جس کی روایت کی اپنے دوسرے خط میں انہوں نے تصدیق کی ہے ۔خاکسار)حضرت مسیح موعود ؑ کے حالات کے متعلق مولوی صاحب اپنے اسی خط میں یوں رقمطراز ہیں ۔
’’حضرت مرزا صاحب پہلے محلہ کشمیریاں میںجو اس عاصی پُر معاصی کے غریب خانہ کے بہت قریب ہے ۔عمرا نامی کشمیری کے مکان پر کرایہ پر رہا کرتے تھے ۔کچہری سے جب تشریف لاتے تھے ۔تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے ۔ بیٹھ کر ،کھڑے ہو کر، ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے ۔اور زار زار رویا کرتے تھے ۔ایسی خشوع و خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔حسب عادت زمانہ صاحب ِ حاجات جیسے اہل کاروں کے پاس جاتے ہیں ۔ان کی خدمت میں بھی آجایا کرتے تھے ۔اسی عمرا مالک مکان کے بڑے بھائی فضل دین نام کو جو فی الجملہ محلہ میں موقر تھا ۔آپ بلا کر فرماتے ۔ میاں فضل دین ان لوگوں کو سمجھا دوکہ یہاں نہ آیا کریں ۔نہ اپنا وقت ضائع کیا کریں اور نہ میرے وقت کو بر باد کیا کریں ۔ میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ میں حاکم نہیں ہوں ۔ جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے ۔کچہری میں ہی کر آتا ہوں ۔فضل دین ان لوگوں کو سمجھا کر نکال دیتے ۔ مولوی عبد الکریم صاحب بھی اسی محلہ میں پیدا ہوئے اور جوان ہوئے جو آخر میں مرزا صاحب کے خاص مقرّبین میں شمار کئے گئے ۔
اس کے بعد وہ مسجد جامع کے سامنے ایک بیٹھک میں بمع منصب علی حکیم کے رہا کرتے تھے ۔وہ (یعنی منصب علی خاکسار مؤلف)وثیقہ نویسی کے عہدہ پر ممتاز تھے ۔بیٹھک کے قریب ایک شخص فضل دین نام بوڑھے دو کاندار تھے جو رات کو بھی دکان پر ہی رہا کرتے تھے ۔۔ان کے اکثر احباب شام کے بعد ان کی دکان پر آجاتے تھے ۔چونکہ شیخ صاحب پارسا آدمی تھے ۔اس لئے جو وہاں شام کے بعد آتے سب اچھے ہی آدمی ہوتے تھے ۔کبھی کبھی مرزا صاحب بھی تشریف لایا کرتے تھے اور گاہِ گاہِ نصر اللہ نام عیسائی جو ایک مشن سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے ۔ آجایا کرتے تھے ۔مرزا صاحب اور ہیڈ ماسٹر کی اکثر بحث مذہبی امور میں ہو جاتی تھی۔ مرزا صاحب کی تقریر سے حاضرین مستفید ہوتے تھے ۔
مولوی محبوب عالم صاحب ایک بزرگ نہایت پارسا اور صالح اور مر تاض شخص تھے۔مرزا صاحب ان کی خدمت میں بھی جایا کرتے تھے۔اور لالہ بھیم سین صاحب وکیل کو بھی تاکید فرماتے تھے ۔کہ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کرو ۔چنانچہ وہ بھی مولوی صاحب کی خدمت میں کبھی کبھی حاضر ہوا کرتے تھے۔
جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہوتا ۔تو مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے ۔کہ انسان کو خود سعی اور محنت کرنی چاہیے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰)۔مولوی محبوب علی صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے ۔ کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔
دینیات میںمرزا صاحب کی سبقت اور پیشروی تو عیاں ہے ۔مگر ظاہری جسمانی دوڑ میں بھی آپ ؑ کی سبقت اس وقت کے حاضرین پر صاف ثابت ہو چکی تھی۔
اس کا مفصل حال یوں ہے کہ ایک دفعہ کچہری برخاست ہونے کے بعد جب اہل کار گھروں کو واپس ہونے لگے ۔تو اتفاقاً تیز دوڑنے اور مسابقت کا ذکر شروع ہو گیا ۔ہر ایک نے دعویٰ کیا کہ میں بہت دوڑ سکتا ہوں ۔ آخر ایک شخص بلّا سنگھ نام نے کہا۔کہ میں سب سے دوڑنے میں سبقت لے جاتا ہوں ۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ میرے ساتھ دوڑو تو ثابت ہو جائے گا کہ کون بہت دوڑتا ہے ۔آخر شیخ الہ داد صاحب منصف مقرر ہوئے ۔اور یہ امر قرار پایاکہ یہاں سے شروع کر کے اس پُل تک جو کچہری کی سڑک اور شہر میں حدِّ فاصل ہے ۔ننگے پاؤں دوڑو۔جوتیاں ایک آدمی نے اُٹھا لیں اور پہلے ایک شخص اس پُل پر بھیجا گیا تا کہ وہ شہادت دے کہ کون سبقت لے گیا اور پہلے پُل پر پہنچا ۔مرزا صاحب اور بِلا سنگھ ایک ہی وقت میں دوڑے ۔اور باقی آدمی معمولی رفتار سے پیچھے روانہ ہوئے ۔جب پُل پر پہنچے ۔تو ثابت ہو ا کہ مرزا صاحب سبقت لے گئے اور بلا سنگھ پیچھے رہ گیا۔‘‘
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض اوقات دینی غیرت دنیاوی باتوں میں بھی رونما ہوتی ہے ۔چنانچہ مشہور ہے کہ مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید کے پاس کسی نے یہ بات پہنچائی ۔کہ فلاں سکھ سپاہی اس بات کا دعویٰ رکھتا ہے کہ کوئی شخص تیرنے میں اس کا مقابلہ نہیںکر سکتا ۔اس پر شہید مرحوم کو غیرت آگئی اور اسی وقت سے انہوں نے تیرنے کی مشق شروع کر دی ۔اور بالا ٓخر اتنی مہارت پیداکرلی کہ پہروں پانی میں پڑے رہتے تھے ۔اور فرماتے تھے۔کہ اب وہ سکھ میرے ساتھ مقابلہ کر لے ۔گویا ان کو یہ گوارا نہ ہوا ۔کہ ایک غیر مسلم تیرنے کی صفت میں بھی مسلمانوں پر فوقیت رکھے ۔حالانکہ یہ ایک معمولی دنیاوی بات تھی ۔سو معلوم ہوتا ہے ۔کہ اس وقت بھی ایسے رنگ میں گفتگو ہوئی ہو گی ۔ کہ حضرت مسیح موعودؑ کو بلا سنگھ کے مقابلہ میں غیرت آگئی اور پھر عالم بھی شباب کا تھا۔
{ 281} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ سفر میں تھے اور لاہور کے ایک سٹیشن کے پاس ایک مسجد میں وضو فر مارہے تھے ۔اس وقت پنڈت لیکھرام حضور سے ملنے کے لئے آیا ۔اور آکر سلام کیا مگر حضرت صاحب نے کچھ جواب نہیںدیا اُس نے اس خیال سے کہ شائد آپ نے سُنا نہیں ۔دوسری طرف سے ہو کر پھر سلام کیا ۔ مگر آپؑ نے پھر بھی توجہ نہیں کی۔اس کے بعد حاضرین میں سے کسی نے کہا۔کہ حضور ؑ پنڈت لیکھرام نے سلام کیا تھا ۔آپؑ نے فرمایا ۔ ’’ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے ۔اور ہمیں سلام کرتا ہے۔‘‘ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ وہ عشق تھا کہ جس کی مثال نظر نہیں آتی ۔
{ 282} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس وقت حضرت مسیح موعودؑ فوت ہوئے۔تو بہت سے ہندو اور عیسائی اخباروں نے آپ ؑ کے متعلق نوٹ شائع کئے تھے ۔چنانچہ نمونۃً ہندوستان کے ایک نہایت مشہور و معروف انگریزی اخبار ’’پا ئنیر ‘‘الہ آباد کی رائے کا اقتباس درج ذیل کرتا ہوں ۔’’پائنیر‘ ‘ کے ایڈیٹر اور منیجر اور مالک سب انگریز عیسائی ہیں ۔’’پائنیر ‘‘نے لکھا کہ :۔
’’اگر گذشتہ زمانہ کے اسرائیلی نبیو ں میں سے کوئی نبی عالم بالا سے واپس آکر اس زمانہ میں دنیا کے اندر تبلیغ کرے تو وہ بیسویں صدی کے حالات میں اس سے زیادہ غیر موزوں معلوم نہ ہوگا۔جیسا کہ مرزا غلام احمد خان قادیانی تھے ۔(یعنی مرزا صاحب کے حالات اسرائیلی نبیوں سے بہت مشابہت رکھتے تھے ۔ مؤلف)۔۔۔۔۔ ہم یہ قابلیت نہیں رکھتے کہ ان کی عالمانہ حیثیت کے متعلق کوئی رائے لگا سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا صاحب کو اپنے دعویٰ کے متعلق کبھی کوئی شک نہیں ہوا ۔اور وہ کامل صداقت اور خلوص سے اس بات کا یقین رکھتے تھے۔کہ ان پر کلام الہٰی نازل ہوتا ہے اور یہ کہ ان کو ایک خارق عادت طاقت بخشی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ایک مرتبہ انہوں نے بشپ ویلڈن کو چیلنج دیا (جس نے اس کو حیران کر دیا)کہ وہ نشان نمائی میں ان کا مقابلہ کرے ۔یہ چیلنج اسی طریق پر تھا ۔جیسا کہ الیاس نبی نے بَعل کے پروہتوں کو چیلنج دیا تھا ۔اور مرزا صاحب نے اس مقابلہ کا یہ نتیجہ قرار دیا کہ یہ فیصلہ ہو جائیگا۔کہ سچا مذہب کون سا ہے اور مرزا صاحب اس بات کے لئے تیار تھے ۔کہ حالاتِ زمانہ کے ماتحت پادری صاحب جس طرح چاہیں اپنا اطمینان کر لیں کہ نشان دکھانے میں کوئی دھوکہ اور فریب استعمال نہ ہو۔ وہ لوگ جنہوں نے مذہب کے رنگ میں دنیا کے اندر ایک حرکت پیدا کر دی ہے وہ اپنی طبیعت میں مرزا غلام احمدخان سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔بہ نسبت مثلاً ایسے شخص کے جیسا کہ اس زمانہ میں انگلستان کا لاٹ پادری ہوتا ہے ۔اگر ارنسٹ رین (فرانس کا ایک مشہور مصنف ہے ۔مؤلف)۔گذشتہ بیس سال میں ہندوستان میں ہوتا ۔تو وہ یقینا مرزا صاحب کے پاس جاتااور ان کے حالات کا مطالعہ کرتا ۔جس کے نتیجہ میں انبیا ء بنی اسرائیل کے عجیب و غریب حالات پر ایک نئی روشنی پڑتی ۔بہر حال قادیا ن کا نبی ان لوگوں میں سے تھا ۔جو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔‘‘
{ 283} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے تھے کہ جب سلطان احمد پیدا ہوا ۔ اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عمر کے متعلق حضرت صاحب کے سب اندازے ہی ہیں ۔کوئی یقینی علم نہیں ہے ۔پس آپؑ کی تاریخ پیدائش اور عمر کے متعلق اگر کوئی قابل اعتماد ذریعہ ہے تو یہی ہے کہ مختلف جہات سے اس سوال پر غور کیا جاوے ۔ اور پھر اُن کے مجموعی نتیجہ سے کوئی رائے قائم کی جاوے کسی منفرد کڑی سے اس سوال کا حل مشکل ہے۔خود حضرت صاحب کی اپنی تحریرا ت اس معاملہ میںایک دوسرے کے مخالف پڑتی ہیں ۔کیونکہ وہ کسی قطعی علم پر مبنی نہیں ہیں ۔بلکہ محض اندازے ہیں ۔جو آپ ؑ نے لگائے ہیں جیسا کہ آپؑ نے خود براہین احمدیہ حصہ پنجم میں بیان فرمادیا ہے ۔خاکسار کی تحقیق میں آپؑ کی تاریخ پیدائش ۱۲۵۲ھ کی نکلتی ہے۔واللّٰہ اعلم۔
{ 284} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا حضرت خلیفہ ثانی نے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول ؓ کاا یک رشتہ دار جو ایک بھنگی ،چرسی اور بد معاش آدمی تھا ۔قادیان آیا۔اور اس کے متعلق کچھ شبہ ہوا ۔کہ وہ کسی بدارادے سے یہاں آیا ہے اور اس کی رپورٹ حضرت صاحب تک بھی پہنچی ۔آپ ؑ نے حضرت خلیفہ اول ؓ کو کہلا بھیجا ۔کہ اسے فوراً قادیان سے رخصت کر دیں ۔لیکن جب حضرت خلیفہ اول ؓ نے اسے قادیان سے چلے جانے کو کہا ۔تو اس نے یہ موقع غنیمت سمجھا ۔اور کہا ۔اگر مجھے اتنے روپے دے دو گے تو میں چلا جاؤں گا۔حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے تھے کہ جتنے روپے وہ مانگتا تھا اس وقت اتنے روپے حضرت خلیفہ اولؓ کے پاس نہ تھے اس لئے آپؓ کچھ کم دیتے تھے ۔اسی جھگڑے میں کچھ دیر ہو گئی ۔چنانچہ اس کی اطلاع پھر حضرت صاحب تک پہنچی وہ ابھی تک نہیں گیا۔اور قادیان میں ہی ہے اس پر حضرت صاحب ؑ نے خلیفہ اول ؓ کو کہلا بھیجا کہ یا تو اسے فوراً قادیان سے رخصت کردیں یا خود بھی چلے جاویں ۔حضرت مولوی صاحبؓ تک جب یہ الفاظ پہنچے ۔تو انہوں نے فوراً کسی سے قرض لے کر اُسے رخصت کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اللہ کے نبی جہاں ایک طرف محبت اور احسان اور مروّت کا بے نظیر نمونہ ہوتے ہیں ۔وہاں دوسری طرف خدا کی صفت استغناء کے بھی پورے مظہر ہوتے ہیں ۔حضرت خلیفہ اوّلؓ کا یہ رشتہ دار آپ ؓ کا حقیقی بھتیجا تھا ۔اور اس کا نام عبد الرحمن تھا ۔ایک نہایت آوارہ گرد اور بد معاش آدمی تھا ۔اور اس کے متعلق اس وقت یہ شبہ کیا گیا تھا۔کہ ایسا نہ ہو کہ یہ شخص قادیان میں کسی فتنہ عظیمہ کے پیدا کرنے کا موجب ہو جائے۔
{ 285} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ راولپنڈی سے ایک غیراحمدی آیا ۔جو اچھا متموّل آدمی تھا۔اور اس نے حضرت صاحب سے درخواست کی کہ میرا فلاں عزیز بیمار ہے ۔ حضورؑ حضرت مولوی نور الدین ؓ صاحب (خلیفہ اوّل )کو اجازت دیں کہ وہ میرے ساتھ راولپنڈی تشریف لے چلیں اور اس کا علاج کریں ۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر مولوی صاحب کو یہ بھی کہیں کہ آگ میں گھس جاؤیا پانی میں کود جاؤتو ان کو کوئی عذر نہیں ہو گا ۔لیکن ہمیں بھی مولوی صاحب کے آرام کا خیال چاہیے ۔ان کے گھر میں آج کل بچہ ہونے والا ہے ۔اس لئے میں ان کو راولپنڈی جانے کے لئے نہیں کہہ سکتا۔مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے ہیں ۔کہ مجھے یاد ہے کہ اس کے بعد حضرت مولوی صاحبؓ حضرت صاحب کا یہ فقرہ بیان کرتے تھے ۔اور اس بات پر بہت خوش ہوتے تھے ۔کہ حضرت ؑ صاحب نے مجھ پر اس درجہ اعتماد ظاہر کیا ہے۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 286} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے چو ہدری حاکم علی صاحب نے۔ ایک دفعہ حضرت صاحبؑ بڑی مسجد میں کوئی لیکچر یا خطبہ دے رہے تھے ۔کہ ایک سکھ مسجد میں گھس آیا اور سامنے کھڑا ہو کر حضرت صاحب کو اور آپ کی جماعت کو سخت گندی اور فحش گالیاں دینے لگا ۔ اور ایسا شروع ہوا کہ بس چپ ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔مگر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ سنتے رہے ۔اس وقت بعض طبائع میں اتنا جوش تھا کہ اگر حضرت صاحب کی اجازت ہوتی۔تو اُس کی وہیں تکا بوٹی اُڑ جاتی ۔مگر آپ ؑ سے ڈر کر سب خاموش تھے۔آخر جب اس کی فحش زبانی حد کو پہنچ گئی ۔تو حضرت ؑصاحب نے فرمایا۔کہ دو آدمی اسے نرمی کے ساتھ پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیں مگر اسے کچھ نہ کہیں ۔اگر یہ نہ جاوے تو حاکم علی سپاہی کے سپرد کر دیں ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سرکار انگریزی کی طرف سے قادیان میں ایک پولیس کا سپاہی رہا کرتا ہے۔اور ان دنوں حاکم علی نامی ایک سپاہی ہوتا تھا۔
{ 287} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب فرماتے تھے ۔کہ مجھے بعض اوقات غصّہ کی حالت تکلف سے بنانی پڑتی ہے ۔ورنہ خود طبیعت میں بہت کم غصّہ پیدا ہوتا ہے۔
{ 288} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب یہاں ڈھاب میں کنارے پر نہانے لگے ۔مگر پاؤں پھسل گیا۔اور وہ گہرے پانی میں چلے گئے ۔اور پھر لگے ڈوبنے کیونکہ تیرنا نہیں آتا تھا ۔کئی لوگ بچانے کے لئے پانی میں کودے مگر جب کوئی شخص مولوی صاحب کے پاس جاتاتھا ۔ تو وہ اسے ایسا پکڑتے تھے۔کہ وہ خود بھی ڈوبنے لگتا تھا۔اس طرح مولوی صاحب نے کئی غوطے کھائے ۔آخر شاید قاضی امیر حسین ؓصاحب نے پانی میںغوطے لگا لگا کر نیچے سے اُن کو کنارے کی طرف دھکیلا ۔تب وہ باہر آئے ۔جب مولوی صاحب حضرت صاحب ؑ سے اس واقعہ کے بعد ملے تو آپ ؑ نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔مولوی صاحب آپ گھڑے کے پانی سے ہی نہا لیا کریں ۔ ڈھاب کی طرف نہ جائیں ۔پھر فرمایا کہ میں بچپن میں اتنا تیرتا تھاکہ ایک وقت میں ساری قادیان کے ارد گرد تیر جاتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ برسات کے موسم میں قادیان کے ارد گرد اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے کہ سارا گاؤں ایک جزیرہ بن جاتا ہے ۔
{ 289} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ جاننے کے لئے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسا معاملہ تھا۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم مغفور کی تصنیف سیرت مسیح موعودؑ کے مندرجہ ذیل فقرات ایک عمدہ ذریعہ ہیں ۔مولوی صاحب موصوف فر ماتے ہیں۔
’’عرصہ قریب پندرہ برس کا گذرتا ہے ۔جبکہ حضرت صاحب نے بارِ دیگر خدا تعالیٰ کے امر سے معاشرت کے بھاری اور نازک فرض کو اُٹھایا ہے ۔اس اثنا میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ خانہ جنگی کی آگ مشتعل ہوئی ہو۔وہ ٹھنڈا دل اور بہشتی قلب قابل غور ہے ۔جسے اتنی مدت میں کسی قسم کے رنج اور تنغّص عیش کی آگ کی آنچ تک نہ چھوئی ہو اس بات کو اندرون خانہ کی خدمت گار عورتیں جو عوام الناس سے ہیں ۔اور فطری سادگی اور انسانی جامہ کے سوا کوئی تکلّف اور تصنّع زیر کی اور استنباطی قوت نہیں رکھتیں بہت عمدہ طرح محسوس کرتی ہیں ۔وہ تعجب سے دیکھتی ہیں ۔اور زمانہ اور گردو پیش کے عام عرف اور برتاؤکے بالکل برخلاف دیکھ کر بڑے تعجب سے کہتی ہیں ۔اور میں نے بار ہا انہیں خود حیر ت سے کہتے ہوئے سُنا ہے ۔ کہ’’مرجا بیوی دی گل بڑی مَن دا اے‘‘
……اس بد مزاج دوست کا واقعہ سن کر آپ معاشرت نسواں کے بارے میں دیر تک گفتگو فرماتے رہے اور آخر میں فرمایا۔کہ میرا یہ حال ہے ۔کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھااور میں محسوس کرتا تھاکہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے ۔اور باینہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ میں نے منہ سے نہیں نکالا تھا۔اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہااور بڑے خشوع اور خضوع سے نفلیں پڑھیںاور کچھ صدقہ بھی دیا۔کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہٰی کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ حضرت صاحب کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے جو ایک نکاح کے متعلق ہے ۔حضرت صاحب کی بیوی صاحبہ مکرمہ نے بارہا رو رو کر دعائیں کی ہیں اور بار ہا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا ہے کہ گو میری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے ۔مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں ۔کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں ۔ ایک روز دعا مانگ رہی تھیں ۔حضرت صاحبؑ نے پوچھا۔آپ کیا مانگتی ہیں ؟ آپ نے بات سنائی ۔کہ یہ مانگ رہی ہوں ۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔سوت کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے ۔آپ نے فرمایا۔کچھ ہی کیوں نہ ہو ۔مجھے اس کا پاس ہے کہ آپؑ کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں پوری ہو جائیں ۔‘‘
{ 290} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دینی مشاغل میں ایسی تندہی اور محویت سے مصروف رہتے تھے کہ حیرت ہوتی تھی۔اس کی ایک نہایت ادنیٰ مثال یوں سمجھنی چاہیے کہ جیسے ایک دکاندار ہو۔جو اکیلا اپنی دکان پر کام کرتا ہو۔اور اس کا مال اس کی وسیع دکان میں مختلف جگہ پھیلا ہوا ہو۔اور ایسا اتفاق ہو کہ بہت سے گاہک جو مختلف چیزیں خریدنے کے خیال سے آئے ہوں ۔اس کی دکان پرجمع ہوجائیں۔اور اپنے مطالبات پیش کریں ۔ایسے وقت میں ایک ہوشیار اور سمجھدار دکاندار جس مصروفیت کے ساتھ اپنے گاہکوں کے ساتھ مشغول ہو جائیگا اور اسے کسی بات کی ہوش نہیں رہے گی ۔بس یہی حال مگر ایک بڑے پیمانہ پر حضر ت مسیح موعود ؑ کا نظر آتا تھا ۔اور روز صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لیکر صبح تک آپ ؑ کا وقت اس محو کر دینے والی مصروفیت میں گذر جاتا تھا اور جس طرح ایک مسافر جس کے پاس وقت تھوڑا ہو اور اُس نے ایک بہت بڑی مسافت طے کر نی ہو ۔اپنی حرکات میں غیر معمولی سرعت سے کام لیتا ہے ۔اسی طرح آپ کا حال تھا ۔بسا اوقات ساری ساری رات تصنیف کے کام میں لگا دیتے تھے اور صبح کو پھر کمر کس کر ایک چوکس اور چست سپاہی کی طرح دین خدا کی خدمت میں ایستادہ کھڑے ہو جاتے تھے ۔کئی دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ جو لوگ آپ ؑ کی مدد کیلئے آپؑ کے ساتھ کام کرتے تھے وہ گوباری باری آپ ؑ کے ساتھ لگتے تھے ۔مگر پھر بھی وہ ایک ایک کرکے ماندہ ہو کر بیٹھتے جاتے تھے ۔لیکن یہ خدا کا بندہ اپنے آقا کی خدمت میں نہ تھکتا تھا اور نہ ماندہ ہو تا تھا ۔
{ 291} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اپنی کتاب سیرتِ مسیح موعود ؑ میں لکھتے ہیں کہ :۔
’’ میں نے دیکھا ہے کہ حضرت اقدس نازک سے نازک مضمون لکھ رہے ہیں ۔یہاں تک کہ عربی زبان میں بے مثل فصیح کتابیں لکھ رہے ہیں اور پاس ہنگامۂ قیامت بر پا ہے ۔بے تمیز بچے اور سادہ عورتیں جھگڑ رہی ہیں ۔چیخ رہی ہیں ۔چلّا رہی ہیں ،یہاں تک کہ بعض آپس میں دست و گریبان ہو رہی ہیں ۔اور پوری زنانہ کر تو تیں کر رہی ہیں ۔مگر حضرت صاحب یوں لکھے جا رہے ہیں اور کام میں یوں مستغرق ہیں کہ گویا خلوت میں بیٹھے ہیں ۔یہ ساری لا نظیر اور عظیم الشان عربی ،اردو ،فارسی کی تصانیف ایسے ہی مکانوں میں لکھی ہیں ۔ میں نے ایک دفعہ پوچھا ۔اتنے شور میں حضور کو لکھنے میں یا سوچنے میں ذرا بھی تشویش نہیں ہوتی ؟ مسکرا کر فرمایا ’’ میں سُنتا ہی نہیں تشویش کیا ہو ‘‘۔
{ 292} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم لکھتے ہیں کہ :۔
’’ایک دفعہ اتفاق ہوا کہ جن دنوں حضرت صاحب تبلیغ (یعنی آئینہ کمالات اسلام کا عربی حصہ) لکھا کرتے تھے ۔مولوی نورالدین ؓ صاحب تشریف لائے۔حضرت صاحب نے ایک بڑا دو ورقہ مضمون لکھا اور اس کی فصاحت و بلاغت خداداد پرحضر ت صاحب کو ناز تھا اور وہ فارسی ترجمہ کیلئے مجھے دینا تھا مگر یاد نہ رہا اور جیب میں رکھ لیا اور باہر سیر کو چل دیئے ۔مولوی صاحب اور جماعت بھی ساتھ تھی ۔واپسی پر کہ ہنوز راستہ ہی میں تھے ۔مولو ی صاحب کے ہاتھ میں کاغذ دیدیا کہ وہ پڑھ کر عاجز راقم کو دے دیں ۔مولوی صاحب کے ہاتھ سے وہ مضمون گِر گیا ۔واپس ڈیرہ میں آئے اور بیٹھ گئے۔ حضرت صاحب معمولاً اندر چلے گئے ۔میں نے کسی سے کہا کہ آج حضرت صاحب نے مضمون نہیں بھیجا اور کاتب سر پر کھڑا ہے اور ابھی مجھے ترجمہ بھی کرنا ہے ۔مولوی صاحب کو دیکھتا ہوں تو رنگ فق ہو رہا ہے ۔حضرت صاحب کو خبر ہوئی تو معمولی ہشاش بشاش چہرہ ،تبسم زیر لب تشریف لائے اور بڑا عذر کیا کہ ’’ مولوی صاحب کو کاغذ کے گم ہونے سے بڑی تشویش ہو ئی ۔ مجھے افسوس ہے کہ اس کی جستجو میں اس قدر تگاپو کیوں کیا گیا ۔میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بہتر عطا فرماویگا۔‘‘
{ 293} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سیّد سرور شاہ صاحب نے کہ جن دنوں میںحضرت صاحب نے شروع شروع میں مسیح موعود ؑ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ میں طالب علم تھااور لاہور میں پڑھتا تھا۔ان دنوں میں حضرت مولوی نور الدین صاحبؓحضرت صاحب کو ملنے کے لئے جموں سے آئے ۔ اور راستہ میں لاہور ٹھہرے ۔چونکہ مولوی صاحب کے ساتھ میرے والد صاحب کے بہت تعلقات تھے۔اور وہ مجھے تاکید فر ماتے رہتے تھے۔کہ مولوی صاحب سے ضرور ملتے رہا کرو ۔اس لئے میں مولوی صاحب سے ملنے کے لئے گیا۔مولوی صاحب ان دنوں نمازیں چو نیاں کی مسجد میں پڑھا کرتے تھے ۔ وہاں مولوی صاحب نماز پڑھنے گئے ۔اور حوض پر بیٹھ کر وضو کرنے لگے۔تو اُدھرسے مولوی محمد حسین بٹالوی بھی آگیا۔اور اس نے مولوی صاحب کو دیکھتے ہی کہا۔کہ مولوی صاحب !تعجب ہے کہ آپ جیسا شخص بھی مرزا کے ساتھ ہو گیاہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ مولوی صاحب میں نے تو مرزا صاحب کو صادق اور منجانب اللہ پایا ہے ۔اور میں سچ کہتا ہوں ۔کہ میں نے ان کو یو نہی نہیں مانا۔بلکہ علیٰ وجہ البصیرت مانا ہے۔ اس پر باہم بات ہوتی رہی ۔آخر مولوی محمد حسین نے کہا ۔کہ اب میں آپ کو لاہور سے جانے نہیں دوں گا۔حتّٰی کہ آپ میرے ساتھ اس معاملہ میں بحث کر لیں ۔مولوی صاحب نے فرمایا۔کہ اچھا میں تیار ہوں۔اس پر اگلا دن بحث کے لئے مقرر ہوگیا۔چنانچہ دوسرے دن مولوی صاحب کی مولوی محمد حسین کے ساتھ بحث ہوئی ۔لیکن ابھی بحث ختم نہ ہونے پائی تھی۔کہ مولوی صاحب کو جموں سے مہا راج کا تار آگیا۔کہ فوراً چلے آؤ۔چنانچہ مولوی صاحب فوراً لاہور سے بطر ف لدھیانہ روانہ ہو گئے۔تاکہ حضرت صاحب سے ملاقات کر کے واپس تشریف لے جائیں ۔اس کے کچھ عرصہ بعد میںلاہور سے تعلیم کے لئے دیو بند جانے لگا تو راستہ میں اپنے ایک غیر احمدی دوست مولوی ابراہیم کے پاس لدھیانہ ٹھہرا ۔وہاںمجھے مولو ی ابراہیم نے بتا یا کہ آجکل مرزا صاحب قادیانی یہیں ہیں ۔میں نے اسے کہا کہ مرزا صاحب کی مخالفت بہت ہے اور میرے یہاں لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں اس لئے میں تو نہیں جاسکتا لیکن آپ کے ساتھ اپنا ایک طالب علم بھیجے دیتا ہوں جو آپ کو مرزا صاحب کے مکان کا راستہ بتا دیگا ۔چنانچہ میں اکیلا حضرت صاحب کی ملاقات کیلئے گیا ۔جب میں اس مکان پر پہنچا جہاں حضرت صاحب قیام فر ما تھے تو اس وقت آپ اندر کے کمرہ سے نکل کر باہر نشست گاہ میں تشریف لا رہے تھے ۔میں نے مصافحہ کیا اور بیٹھ گیا ۔ اس وقت شاید حضرت صاحب کے پاس شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری اور کوئی اور صاحب تھے۔حضرت صاحب سر نیچا کر کے خاموش بیٹھ گئے ۔جیسے کوئی شخص مراقبہ میں بیٹھتا ہے ۔شیخ صاحب نے یا جو صاحب وہاں تھے انگریزی حکومت کا کچھ ذکر شروع کر دیا کہ یہ حکومت بہت اچھی ہے ۔ اور ایک لمباعرصہ ذکر کرتے رہے مگر حضرت صاحب اسی طرح سر نیچے ڈالے آگے کی طرف جھکے ہو ئے بیٹھے رہے اور کچھ نہیں بولے ۔ مگر ایسا معلوم ہو تا تھا کہ آپ سن رہے ہیں ۔ایک موقعہ پر آپ ؑ نے کسی بات پر صرف ہاں یا نہ کا لفظ بولا اور پھر اسی طرح خاموش ہو گئے ۔ مولوی صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ ؑ کا رنگ زرد تھا اور آپ ؑ اتنے کمزور تھے کہ کچھ حد نہیں ۔کچھ دیر کے بعد میں مصافحہ کرکے وہاں سے اُٹھ آیا ۔جب میں مولوی ابراہیم کے مکان پر پہنچا تو اس نے پوچھا کہ کہو مرزا صاحب سے مل آئے ؟ میں نے کہا ’’ ہاں ! مگر لوگوں نے یونہی مخالفت کا شور مچار کھا ہے ۔ مرزاصاحب تو صرف چند دن کے مہمان ہیں بچتے نظر نہیں آتے ‘‘۔ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اسوقت میرا یہی یقین تھا کہ ایسا کمزور شخص زیادہ عرصہ نہیں زندہ رہ سکتا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابتدائے دعویٰ کے زمانہ میں چونکہ بیماری کے دوروں کی بھی ابتدا تھی ۔حضرت صاحب کی صحت سخت خراب ہو گئی تھی اور آپ ؑ ایسے کمزور ہو گئے تھے کہ ظاہری اسباب کے رُو سے واقعی صرف چند دن کے مہمان نظر آتے تھے ۔ غالباً انہی دنوں میں حضرت صاحب کو الہا م ہوا کہ تُرَدُّ عَلَیْکَ اَنْوَارَالشَّبَابِ (تذکرہ صفحہ ۵۲۹مطبوعہ ۲۰۰۴) یعنی اللہ فرماتا ہے کہ تیری طرف شباب کے انوار لوٹائے جائیں گے ۔ چنانچہ اس کے بعد گو جیسا کہ دوسرے الہامات میں ذکر ہے ۔یہ بیماری تو آپ کے ساتھ رہی لیکن دوروں کی سختی اتنی کم ہو گئی کہ آپ کے بدن میں پھر پہلے کی سی طاقت آگئی ۔ اور آپ اچھی طرح کا م کرنے کے قابل ہوگئے ۔
{ 294} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے پیر افتخار احمد صاحب نے کہ ایک دفعہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے کہ میں نے دیکھا کہ مرزا نظام الدین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوچہ بندی میں کھڑے تھے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ڈیوڑھی سے نکلے اور آپ کے ہاتھ میں دو بند لفافے تھے ۔یہ لفافے آپ نے مرزا نظام الدین کے سامنے کر دیئے کہ ان میں سے ایک اٹھا لیں ۔انہوں نے ایک لفافہ اٹھالیا اور دوسرے کو لیکر حضرت صاحب فوراً اندر واپس چلے گئے ۔خاکسارعر ض کرتا ہے کہ مجھے حضرت والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لفافے باغ کی تقسیم کے متعلق تھے چونکہ حضرت مسیح موعود ؑ نے باغ کا نصف حصہ لینا اور نصف مرزا سلطان احمدکو جانا تھا ۔اس لئے حضرت صاحب نے اس تقسیم کیلئے قرعہ کی صورت اختیار کی تھی۔اور مرزا نظام الدین مرزا سلطا ن احمد کی طرف سے مختار کار تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس تقسیم کے مطابق باغ کا جنوبی نصف حصہ حضرت صاحب کو آیا اور شمالی نصف مرزا سلطا ن احمد صاحب کے حصہ میں چلا گیا اور حضرت والدہ صاحبہ نے خاکسار سے بیان کیا کہ اس تقسیم کے کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب کو کسی دینی غرض کیلئے کچھ روپے کی ضرورت پیش آئی تو آپ ؑ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے تم اپنا زیور دے دو۔میں تم کو اپنا باغ رہن دے دیتا ہوں ۔چنانچہ آپ نے سب رجسٹرار کو قادیان میں بلوا کر باقاعد ہ رہن نامہ میرے نام کروا دیا ۔اور پھر اندر آکر مجھ سے فرمایا کہ میں نے رہن کیلئے تیس سال کی میعاد لکھ دی ہے کہ اس عرصہ کے اندر یہ رہن فک نہیں کروایا جائیگا ۔
خاکسارعر ض کرتا ہے کہ رہن کے متعلق میعاد کو عموماً فقہ والے جائز قرار نہیں دیتے ۔سو اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قول کی اہل فقہ کے قول سے تطبیق کی ضرورت سمجھی جاوے تو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ گو یا حضر ت صاحب نے میعاد کو رہن کی شرائط میں نہیں رکھا ۔بلکہ اپنی طرف سے یہ بات زائد بطور احسان و مروّت کے درج کرا دی ۔کیونکہ ہر شخص کو حق ہے کہ بطو ر احسان اپنی طرف سے جو چاہے دوسرے کو دیدے۔مثلاً یہ شریعت کا مسئلہ ہے کہ اگر کو ئی شخص دوسرے کو کچھ قرض دے تو اصل سے زیادہ واپس نہ مانگے کیونکہ یہ سود ہو جاتا ہے ۔لیکن باینہمہ اس بات کو شریعت نے نہ صر ف جائز بلکہ پسندیدہ قرار دیا ہے کہ ہو سکے تو مقروض روپیہ واپس کرتے ہوئے اپنی خوشی سے قارض کو اصل رقم سے کچھ زیادہ دے دے ۔علاوہ ازیں خاکسار کو یہ بھی خیال آتا ہے کہ گو شریعت نے رہن میں اصل مقصود ضمانت کے پہلو کو رکھا ہے ۔اور اسی وجہ سے عموماً فقہ والے رہن میں میعاد کو تسلیم نہیں کر تے لیکن شریعت کے مطالعہ سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ بعض اوقات ایک امر ایک خاص بات کو ملحوظ رکھ کر جاری کیا جاتا ہے ۔مگر بعد اس کے جائز ہو جانے کے اس کے جوازمیں دوسری جہات سے بھی وسعت پیدا ہو جاتی ہے ۔مثلاً سفرمیں نماز کا قصر کر نا دراصل مبنی ہے اس بات پر کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں سفروں میں نکلتے تھے تو چونکہ دشمن کی طرف سے خطرہ ہو تاتھا ۔ اس لئے نماز کو چھوٹا کر دیا گیا۔لیکن جب سفر میں ایک جہت سے نماز قصر ہوئی تو پھر اللہ نے مومنوں کیلئے اس قصر کو عام کردیا اور خوف کی شرط درمیان سے اٹھا لی گئی ۔پس گو رہن کی اصل بنیاد ضمانت کے اصول پر ہے لیکن جب اس کا دروازہ کھلا تو باری تعالیٰ نے اس کو عام کر دیا مگر یہ فقہ کی باتیں ہیں جس میں رائے دینا خاکسار کا کا م نہیں ۔
{ 295} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر کئی اخباروں نے آپ کے متعلق اپنی آراء کا اظہارکیا تھا ۔ان میں سے بعض کی رائے کا اقتباس درج ذیل کر تا ہوں
(۱) اخبار’’ ٹائمز آف لنڈن‘‘ نے جو ایک عالمگیر شہرت رکھتا ہے لکھا کہ ’’مرزا صاحب شکل و شباہت میں صاحبِ عزّت و وقار۔وجود میںتاثیر جذبہ رکھنے والے اور خوب ذہین تھے۔ مرزاصاحب کے متبعین میں صرف عوام الناس ہی نہیں بلکہ بہت سے اعلیٰ اور عمدہ تعلیم یافتہ لوگ شامل ہیں۔ یہ بات کہ یہ سلسلہ امن پسند اور پابند قانون ہے ۔ اس کے بانی کیلئے قابل فخر ہے۔ ہمیں ڈاکٹر گرسفولڈکی اس رائے سے اتفاق ہے کہ مرزا صاحب اپنے دعاوی میں دھوکا خوردہ تھے ۔دھوکا دینے والے ہر گز نہ تھے ‘‘۔
(۲) ’’ علی گڑھ انسٹیٹیوٹ‘‘ نے جو ایک غیر احمدی پرچہ ہے لکھا کہ ’’ مرحوم اسلام کا ایک بڑا پہلوان تھا ‘‘۔
(۳) ’’ دی یونیٹی کلکتہ ‘‘ یوں رقمطراز ہو اکہ ’’ مرحوم ایک بہت ہی دلچسپ شخص تھا۔ اپنے چال چلن اور ایمان کے زور سے اس نے بیس ہزار متبع پیدا کر لئے تھے۔ مرزا صاحب اپنے ہی مذہب سے پوری پوری واقفیت نہ رکھتے تھے بلکہ عیسائیت اور ہندو مذہب کے بھی خوب جاننے والے تھے۔ ایسے آدمی کی وفات قوم کیلئے افسوسناک ہے ۔‘‘
(۴) ’’ صادق الاخبار ریواڑی ‘‘ نے جو ایک غیر احمدی پرچہ ہے ۔ان الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار کیا کہ ’’ واقعی مرزا صاحب نے حق حمایت اسلام کماحقہ ادا کرکے خدمت دین اسلام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔انصاف متقاضی ہے کہ ایسے اولوالعزم ،حامی ٔ اسلام اور معین المسلمین فاضل اجل عالم بے بدل کی ناگہانی اور بے وقت موت پر افسوس کیا جاوے ‘‘۔
(۵) ’’ تہذیب نسواں لاہور ‘‘ کے ایڈیٹر صاحب جو ہمارے سلسلہ سے موافقت نہیں رکھتے یوں گویا ہو ئے کہ ’’ مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دل کو تسخیر کر لیتی تھی ۔وہ نہایت باخبر عالم ،بلند ہمت ،مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے ۔ہم انہیں مذہباً مسیح موعود ؑ تو نہیں مانتے لیکن ان کی ہدایت اور رہنمائی مردہ روحوں کیلئے واقعی مسیحا ئی تھی ۔‘‘
(۶) ’’ اخبار آریہ پتر کا لاہور ‘‘ نے جو ایک سخت معاند آریہ اخبار ہے لکھا کہ ’’ جو کچھ مرزاصاحب نے اسلام کی ترقی کیلئے کیا ہے اسے مسلمان ہی خوب جج کر سکتے ہیں مگر ایک قابل نوٹس بات جو ان کی تصانیف میں پائی جاتی ہے اور جو دوسروں کو بھی معلوم ہو سکتی ہے یہ ہے کہ عام طور پر جو اسلام دوسرے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے اس کی نسبت مرزا صاحب کے خیالات اسلام کے متعلق زیادہ وسیع اور زیادہ قابل برداشت تھے ۔ مرزا صاحب کے تعلقات آریہ سماج سے کبھی بھی دوستا نہ نہیں ہوئے ۔اور جب ہم آریہ سماج کی گذشتہ تاریخ کو یا دکرتے ہیں تو اُن کا وجود ہمارے سینوں میں بڑا جوش پیدا کرتا ہے ۔‘‘
( ۷) رسالہ ’’ اندر‘‘ لاہور جو آریوں کا ایک اخبار تھا یوں رقمطراز ہوا کہ ’’ اگر ہم غلطی نہیں کرتے تو مرزا صاحب اپنی ایک صفت میں محمد صاحب (ﷺ ) سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور وہ صفت ان کا استقلال تھا ۔خواہ وہ کسی مقصود کو لے کر تھا ۔اور ہم خوش ہیں کہ وہ آخری دم تک اس پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغز ش نہیں کھا ئی ۔ ‘‘
(۸) اخبار ’’ برہمچارک ‘‘ لاہو رنے جو برہمو سماج کا ایک پر چہ ہے ۔مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ’’ ہم یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مرزا صاحب کیا بلحاظ لیاقت اور کیا بلحاظ اخلاق و شرافت ایک بڑے پا یہ کے انسا ن تھے ۔‘‘
(۹) ’’ امرتا بازار پترکا‘‘ نے جو کلکتہ کا ایک مشہور بنگالی اخبا رہے لکھا کہ ’’ مرزا صاحب درویشانہ زندگی بسر کرتے تھے اور سینکڑوں آدمی روزانہ ان کے لنگر سے کھانا کھاتے تھے ۔ان کے مریدوں میں ہر قسم کے لوگ فاضل مولوی با اثر رئیس تعلیم یافتہ امیر سوداگر پائے جاتے ہیں‘‘
(۱۰) ’’ اسٹیٹسمین‘‘ کلکتہ نے جو ایک بڑا نامی انگریزی اخبار ہے لکھا کہ ’’ مرزا صاحب ایک نہایت مشہور اسلامی بزرگ تھے ۔‘‘
{296} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اخبار ’’وکیل ‘‘ امرتسر میں جو ایک مشہور غیر احمدی اخبار ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر ایڈیٹر کی طرف سے جو مضمون شائع ہوا تھا ۔اس کا مندرجہ ذیل اقتباس ناظرین کے لئے موجب دلچسپی ہو گا۔اس سے پتا لگتا ہے کہ غیر احمدی مسلمان با وجود حضرت مسیح موعودؑ کی مخالفت کے آپؑ کو اور آپ ؑ کے کام کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔در اصل جو کام آپ ؑنے کیا۔ وہ اس پایہ کا تھاکہ سوائے اس کے کہ کوئی مخالف اپنی مخالفت میں اندھا ہو رہا ہو اس کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھااور گو وہ اپنے منہ سے آپؑ کو مسیح موعودؑ نہ مانیںلیکن ان کے دل بولتے تھے کہ آپ ؑ کا دم ان کیلئے مسیحائی کا حکم رکھتا ہے ۔غرض ’’وکیل ‘‘نے لکھا کہ۔
’’وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا۔اور زبان جادو۔وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی ۔ جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیڑیاں تھیں ۔وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا ۔جو شور قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔خالی ہاتھ دنیا سے اُٹھ گیا ۔یہ تلخ موت یہ زہر کا پیالہ موت جس نے مرنیوالے کی ہستی تہِ خاک پنہاں کی ۔ہزاروں لاکھوں زمانوں پر تلخ کا میاں بن کے رہے گی ۔اور قضا کے حملے نے ایک جیتی جان کے ساتھ جن آرزوؤں اور تمناؤں کا قتل عام کیا ہے ۔صدائے ماتم مدتوں اس کی یاد گار تازہ رکھے گی ۔
مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیںکہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے ۔اور مٹانے کیلئے اسے امتداد زمانہ کے حوالے کر کے صبر کر لیا جاوے۔ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہوہمیشہ دنیا میں نہیں آتے ۔یہ نازش فرزندانِ تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں ۔اور جب آتے ہیں دنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھاجاتے ہیں ۔
مرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جواس کی ذات سے وابستہ تھی خاتمہ ہوگیا ۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کر تے رہے ۔ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تاکہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پائمال بنائے رکھا ۔آئندہ بھی جاری رہے ۔
مرز اصاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا ۔قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔اس لٹریچر کی قدرو عظمت آج جبکہ وہ اپنا کا م پورا کر چکا ہے ۔ہمیں دل سے تسلیم کر نی پڑتی ہے اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پرخچے اُڑادیئے ۔جو سلطنت کے سایہ میں ہو نے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اُڑ نے لگا غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنیوالی نسلوں کو گراں بار ِاحسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کر نے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کیطرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یاد گار چھوڑا کہ جو اس وقت تک کہ مسلمانو ں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعارقومی کا عنوان نظر آئے ،قائم رہے گا ۔
اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزاصاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت سرانجام دی ہے ان کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعویٰ پر نہایت صاف روشنی پڑ تی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جاوے ،ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جاسکیں ۔
فطری ذہانت ،مشق و مہارت اور مسلسل بحث و مباحثہ کی عادت نے مرزا صاحب میں ایک خاص شان پیدا کر دی تھی ۔اپنے مذہب کے علاوہ مذہب غیرپر ان کی نظر نہایت وسیع تھی اور وہ اپنی ان معلومات کو نہایت سلیقہ سے استعمال کر سکتے تھے۔تبلیغ و تلقین کا یہ ملکہ ان میں پیدا ہو گیا تھا کہ مخاطب کسی قابلیت یا کسی مشرب و ملت کا ہو ان کے برجستہ جواب سے ایک دفعہ ضرور گہرے فکر میں پڑ جاتاتھا۔ہندوستان آج مذاہب کا عجائب خانہ ہے اور جس کثرت سے چھوٹے بڑے مذاہب یہاں موجود ہیں اور باہمی کشمکش سے اپنی موجودگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں ۔ اس کی نظیر غالباً دنیا میں کسی او ر جگہ نہیں مل سکتی ۔مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں ان سب کیلئے حکم وعدل ہوں ۔لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابلہ پر اسلام کو نمایاں کر دینے کی ان میں بہت مخصوص قابلیت تھی ۔اور یہ نتیجہ تھی ان کی فطری استعداد کا ذوق مطالعہ اور کثرت مشق کا ۔آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلیٰ خواہشیں اس طرح مذہب کے مطالعہ میںصرف کر دے ‘‘۔
{ 297} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ اپنی انگریزی کتاب ’’ احمدیہ موومنٹ ‘‘ میں پادری والٹر ایم ۔اے جو و ائی ایم سی اے کے سیکرٹری تھے ۔حضر ت مسیح موعود ؑ کے متعلق مندرجہ ذیل رائے کا اظہار کرتے ہیں ۔
’’ یہ بات ہر طرح ثابت ہے کہ مرزا صاحب اپنی عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھنے والے تھے ۔ ان کی اخلاقی جرأت جو انہوں نے اپنے مخالفین کی طرف سے سخت مخالفت اور ایذا رسانی کے مقابلہ میں دکھائی ۔یقینا قابل تحسین ہے۔صرف ایک مقناطیسی جذب اور نہایت خوشگوار اخلاق رکھنے والا شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفاداری حاصل کر سکتا تھا جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کی وجہ سے جان دے دی ۔مگر مرزا صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔میں نے بعض پُرانے احمدیوں سے ان کے احمدی ہو نیکی وجہ دریافت کی تو اکثر نے سب سے بڑی وجہ مرزا صاحب کے ذاتی اثر اور ان کے جذب اور کھینچ لینے والی شخصیت کو پیش کیا ۔‘‘
{ 298} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ جب حضر ت صاحب باہر سے اندرونِ خانہ تشریف لے جارہے تھے ۔کسی فقیر نے آپ سے کچھ سوال کیا مگر اس وقت لوگوں کی باتوں میں آپ فقیر کی آواز کو صاف طور پر سن نہیں سکے ۔تھوڑی دیر کے بعد آپ پھر باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ کسی فقیر نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے اسے تلاش کیا مگر نہ پایا ۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد وہ فقیر خود بخود آگیا اور آپ نے اسے کچھ نقدی دے دی اس وقت آپ محسوس کرتے تھے کہ گویا آپ کی طبیعت پر سے ایک بھاری بوجھ اُٹھ گیا ہے ۔اور آپ نے فرمایا کہ میں نے دعا بھی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ ا س فقیر کو واپس لائے ۔
خاکسار عرض کر تا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت لوگوں کی باتوں میںملکر فقیر کی آواز رہ گئی اور آپ نے اس طرف توجہ نہیں کی لیکن جب آپ اندر تشریف لے گئے اور لوگوں کی آوازوں سے الگ ہوئے تو اس فقیر کی آواز صاف طور پر الگ ہو کر آپ کے سامنے آئی اور آپ کو اس کی امداد کیلئے بے قرار کر دیا ۔
{ 299} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے کسی حوالہ وغیرہ کا کوئی کام میاں معراج دین صاحب عمر لاہوری اور دوسرے لوگوں کے سپرد کیا۔چنانچہ اس ضمن میں میاں معراج دین صاحب چھوٹی چھوٹی پر چیوں پر لکھ کر بار بار حضرت صاحب سے کچھ دریافت کرتے تھے اور حضرت صاحب جواب دیتے تھے کہ یہ تلاش کرو یا فلاں کتاب بھیجو ۔وغیرہ اسی دوران میں میاں معراج دین صاحب نے ایک پر چی حضرت صاحب کو بھیجی اور حضرت صاحب کو مخاطب کر کے بغیر السلام علیکم لکھے اپنی بات لکھ دی ۔اور چونکہ با ربار ایسی پر چیاں آتی جاتی تھیں ۔اس لئے جلدی میںان کی توجہ اس طرف نہ گئی کہ السلام علیکم بھی لکھنا چاہیے ۔حضرت صاحب نے جب اندر سے اس کا جواب بھیجا تو اس کے شروع میں لکھا کہ آپ کو السلام علیکم لکھنا چاہیے تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات نظر آتی ہے مگر اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپکو اپنی جماعت کی تعلیم وتادیب کا کتنا خیال تھا ۔ اور نظر غور سے دیکھیں تو یہ بات معمولی بھی نہیں ہے کیونکہ یہ ایک مسلّم سچائی ہے کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں میں ادب و احترام اور آداب کا خیال نہ رکھا جاوے تو پھر آہستہ آہستہ بڑی باتوں تک اس کا اثر پہنچتا ہے اور دل پر ایک زنگ لگنا شروع ہو جا تا ہے ۔علاوہ ازیں ملاقات کے وقت السلا م علیکم کہنا اور خط لکھتے ہوئے السلام علیکم لکھنا شریعت کا حکم بھی ہے ۔‘‘
نیز خاکسا رعر ض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کا یہ دستور تھا کہ آپ اپنے تمام خطوط میں بسم اللہ اور السلام علیکم لکھتے تھے ۔اور خط کے نیچے دستخط کر کے تاریخ بھی ڈالتے تھے ۔میں نے کو ئی خط آپ کا بغیر بسم اللہ اورسلام اور تاریخ کے نہیں دیکھا۔اور آپ کو سلام لکھنے کی اتنی عادت تھی کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ آپ ایک دفعہ کسی ہندو مخالف کو خط لکھنے لگے تو خود بخود السلام علیکم لکھا گیا ۔جسے آپ نے کا ٹ دیا ۔لیکن پھر لکھنے لگے تو پھر سلام لکھا گیا چنانچہ آپ نے دوسری دفعہ اُسے پھر کاٹا لیکن جب آپ تیسری دفعہ لکھنے لگے تو پھر ہاتھ اسی طرح چل گیا ۔ آخر آپ نے ایک اور کاغذ لے کر ٹھہر ٹھہر کر خط لکھا ۔یہ واقعہ مجھے یقینی طور پر یاد نہیں کہ کس کے ساتھ ہوا تھا لیکن میں نے کہیں ایسا دیکھا ضرور ہے اور غالب خیال پڑتا ہے کہ حضر ت مسیح موعود ؑ کو دیکھا تھا ۔
واللّٰہ اعلم
{ 300} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیا ن کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب میں شروع شروع میں قادیان آیا تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کے وقت پہلی صف میں دوسرے مقتدیوں کے ساتھ مل کر کھڑے ہوا کرتے تھے ۔ لیکن پھر بعض باتیں ایسی ہوئیں کہ آپ نے اندر حجرہ میں امام کے ساتھ کھڑا ہو نا شروع کر دیا اور جب حجرہ گرا کر تمام مسجد ایک کی گئی تو پھر بھی آپ بدستور امام کے ساتھ ہی کھڑے ہوتے رہے ۔
(خاکسار عرض کرتا ہے کہ اوائل میں مسجد مبارک بہت چھوٹی ہوتی تھی اور لمبی قلمدان کی صورت میں تھی جس کے غربی حصہ میں ایک چھوٹا سا حجرہ تھا۔ جو مسجد کا حصہ ہی تھا لیکن درمیانی دیوار کی وجہ سے علیحدہ صورت میں تھا۔ امام اس حجرہ کے اندر کھڑا ہوتا تھا۔ اور مقتدی پیچھے بڑے حصہ میں ہوتے تھے۔ بعد میں جب مسجد کی توسیع کی گئی تو اس غربی حجرہ کی دیوار اڑا کر اسے مسجد کے ساتھ ایک کر دیا گیا)
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 301} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے بیوہ مرحومہ مولوی عبدالکریم صاحب ؓ مرحوم نے کہ جب مولوی عبدالکریم صاحب ؓ بیمار ہو ئے اور ان کی تکلیف بڑھ گئی تو بعض اوقات شدت تکلیف کے وقت نیم غشی کی سی حالت میں وہ کہا کر تے تھے کہ سواری کا انتظام کرومیں حضرت صاحب سے ملنے کیلئے جائونگا ۔ گویا وہ سمجھتے تھے کہ میں کہیں باہر ہوں اور حضرت صاحب قادیان میں ہیں اور بعض اوقات کہتے تھے اور ساتھ ہی زارزار رو پڑتے تھے کہ دیکھو میں نے اتنے عرصہ سے حضرت صاحب کا چہرہ نہیں دیکھا ۔تم مجھے حضرت صاحب کے پاس کیوں نہیں لے جاتے ۔ابھی سواری منگائو اور مجھے لے چلو۔ایک دن جب ہو ش تھی کہنے لگے جائو حضرت صاحب سے کہو کہ میں مر چلا ہوں مجھے صرف دُور سے کھڑے ہو کر اپنی زیارت کراجائیں۔اور بڑے روئے اور اصرار کے ساتھ کہا کہ ابھی جائو میں نیچے حضرت صاحب کے پاس آئی کہ مولوی صاحب اس طر ح کہتے ہیں ۔حضرت صاحب فرمانے لگے کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا میرا دل مولوی صاحب کے ملنے کو نہیں چاہتا ! مگر بات یہ ہے کہ میں ان کی تکلیف کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔مولویا نی مرحومہ کہتی تھیں کہ اس وقت تمہاری والدہ پاس تھیں انہوں نے حضرت صاحب سے کہا کہ جب وہ اتنی خواہش رکھتے ہیں تو آپ کھڑے کھڑے ہو آئیں۔حضرت صاحب نے فر مایا کہ اچھا میں جاتا ہوں مگر تم دیکھ لینا کہ ان کی تکلیف کودیکھ کر مجھے دورہ ہو جائے گا ۔خیر حضرت صاحب نے پگڑی منگا کر سر پر رکھی اور ادھر جانے لگے ۔میں جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کر آگے چلی گئی تا کہ مولوی صاحب کو اطلاع دوں کہ حضرت صاحب تشریف لاتے ہیں ۔جب میں نے مولوی صاحب کو جاکر اطلاع دی تو انہوں نے الٹا مجھے ملامت کی کہ تم نے حضرت صاحب کو کیوں تکلیف دی ؟ کیامیں نہیں جانتا کہ وہ کیوں تشریف نہیں لاتے ؟ میں نے کہا کہ آپ نے خود تو کہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو میں نے دل کا دکھڑا رویا تھا ۔تم فوراً جائو اور حضرت صاحب سے عرض کرو کہ تکلیف نہ فرمائیں میں بھاگی گئی تو حضرت صاحب سیڑھیوں کے نیچے کھڑے اوپر آنے کی تیاری کررہے تھے۔میں نے عرض کر دیا کہ حضور آپ تکلیف نہ فرماویں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سے بہت محبت تھی اور یہ اسی محبت کا تقاضا تھا کہ آپ مولوی صاحب کی تکلیف کو نہ دیکھ سکتے تھے چنانچہ باہر مسجد میں کئی دفعہ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کی ملاقات کو بہت دل چاہتا ہے مگر میں ان کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا ۔چنانچہ آخر مولوی صاحب اسی مرض میں فوت ہوگئے مگر حضرت صاحب ان کے پاس نہیں جاسکے ۔بلکہ حضرت صاحب نے مولوی صاحب کی بیماری میں اپنی رہائش کا کمرہ بھی بدل لیا تھا کیونکہ جس کمرہ میں آپ رہتے تھے وہ چونکہ مولوی صاحب کے مکان کے بالکل نیچے تھا اس لئے وہاں مولوی صاحب کے کر اہنے کی آواز پہنچ جاتی تھی جو آپ کو بیتاب کر دیتی تھی ۔اور مولوی صاحب مرحوم چونکہ مرض کا ربنکل میںمبتلا تھے اس لئے ان کا بدن ڈاکٹروں کی چیرا پھاڑی سے چھلنی ہو گیا تھا اور وہ اس کے درد میں بے تاب ہو کر کر اہتے تھے ۔
نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب ؓ مرحوم حضر ت صاحب ؑکے مکان کے اس حصہ میں رہتے تھے جو مسجد مبارک کے اوپر کے صحن کے ساتھ ملحق ہے اس مکان کے نیچے خود حضرت صاحب کا رہائشی کمرہ تھا ۔مولوی عبدالکریم صاحب کے علاوہ حضرت مولوی نورالدین صاحب اور مولوی محمدعلی صاحب ایم۔اے بھی حضرت صاحب کے مکان کے مختلف حصوں میں رہتے تھے اور شروع شروع میں جب نواب محمد علی خان صاحب قادیان آئے تھے تو ان کو بھی حضرت صاحب نے اپنے مکان کا ایک حصہ خالی کر دیا تھا ۔ مگر بعد میں انہوں نے خود اپنا مکان تعمیر کروا لیا ۔اسی طرح شروع میں مفتی محمد صادق صاحب کو بھی آپ نے اپنے مکان میں جگہ دی تھی ۔مولوی محمد احسن صاحب بھی کئی دفعہ حضرت صاحب کے مکان پر ٹھہرتے تھے ۔ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب بھی جب فیملی کے ساتھ آتے تھے تو عموماً حضرت صاحب ان کو اپنے مکان کے کسی حصہ میں ٹھہراتے تھے ۔دراصل حضرت صاحب کی یہ خواہش رہتی تھی کہ اس قسم کے لوگ حتّٰی الوسع آپ کے قریب ٹھہریں ۔
{ 302} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیامفتی محمد صادق صاحب نے کہ ایک دفعہ جب میں حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں حاضر تھا تو آپ کے کمرہ کا دروازہ زور سے کھٹکا اور سید آل محمد صاحب امروہوی نے آواز دی کہ حضور میں ایک نہایت عظیم الشان فتح کی خبر لا یا ہوں ۔ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ آپ جاکر ان کی بات سن لیں کہ کیا خبر ہے۔میں گیا اور سید آل محمدصاحب سے دریافت کیا انہوں نے کہا کہ فلاں جگہ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی کا فلاں مولوی سے مباحثہ ہو ا تو مولوی صاحب نے اُسے بہت سخت شکست دی ۔ اور بڑا رگیدا۔اور وہ بہت ذلیل ہوا وغیرہ وغیرہ ۔اور مولوی صاحب نے مجھے حضر ت صاحب کے پاس روانہ کیا ہے کہ جاکر اس عظیم الشان فتح کی خبر دوں ۔مفتی صاحب نے بیان کیا کہ میں نے واپس آکر حضرت صاحب کے سامنے آل محمد صاحب کے الفاظ دہرادیئے ۔ حضرت صاحب ہنسے اور فرمایا۔ (کہ ان کے اس طرح دروازہ کھٹکھٹانے اور فتح کا اعلان کرنے سے) ’’ میں سمجھا تھا کہ شاید یورپ مسلمان ہو گیا ہے‘‘ ۔ مفتی صاحب کہتے تھے کہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت اقدس ؑ کو یورپ میں اسلام قائم ہو جانے کا کتنا خیال تھا ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ گو تبلیغ کیلئے سب جگہیں برابر ہیں اور ہر غیر مسلم ایک سامستحق ہے کہ اس تک حق پہنچایا جاوے اور ہر غیر مسلم کا مسلمان ہونا ہمارے لئے ایک سی خوشی رکھتا ہے خواہ کوئی بادشاہ ہو یا ایک غریب بھنگی لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ بعض اوقات ایک خاص قوم یا خاص مُلک کے متعلق حالات ایسے جمع ہو جاتے ہیں کہ اس کی تبلیغ خاص رنگ پید اکر لیتی ہے ۔آجکل یورپ مسیحیت اور مادیت کا گھر ہے ۔ پس لاریب اس کا مسلمان ہونا اسلام کی ایک عظیم الشان فتح ہے ۔
{ 303} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مفتی محمد صادق صاحب نے کہ ایک دفعہ ہم چند دوست مسجد میں بیٹھے ہوئے خوا جہ کمال الدین صاحب کی عادتِ نسیان کے متعلق باتیں کررہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اندر سے ہماری باتو ں کو سن لیا اور کھڑکی کھول کر مسجد میں تشریف لے آئے ۔اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آپ کیا باتیں کرتے ہیں ؟ ہم نے عرض کیا کہ حضور خوا جہ صاحب کے حافظہ کا ذکر ہو رہا تھا ۔ آپ ہنسے اور فرمایا کہ ہاں خوا جہ صاحب کے حافظہ کا تو یہ حال ہے کہ ایک دفعہ یہ رفع حاجت کیلئے پاخانہ گئے اور لوٹا وہیں بھول آئے اور لوگ تلاش کرتے رہے کہ لوٹا کدھر گیا ۔آخر لوٹا پاخانہ میں ملا ۔
مفتی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت اقدس علیہ السلام اپنے خدام کے ساتھ بالکل بے تکلف رہتے تھے اور ان کی ساری باتوں میں شریک ہو جاتے تھے ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجموعہ کی کاپیاں لکھی جارہی تھیں کہ مفتی صاحب امریکہ سے جہاں وہ تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے ہوئے تھے واپس تشریف لے آئے اور اپنی بعض تقریروں میں انہوں نے یہ باتیں بیان کیں ۔خاکسار نے اس خیال سے کہ مفتی صاحب کا اس کتاب میں حصہ ہوجاوے ۔انہیں درج کر دیا ہے ۔
نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ یوں تو حضرت صاحب اپنے سارے خدام سے ہی بہت محبت رکھتے تھے لیکن میں محسوس کرتا تھا کہ آپ کو مفتی صاحب سے خاص محبت ہے۔ جب کبھی آپ مفتی صاحب کا ذکر فرماتے تو فرماتے ’’ ہمارے مفتی صاحب ‘‘ او رجب مفتی صاحب لاہور سے قادیا ن آیا کرتے تھے تو حضرت صاحب ان کو دیکھ کر بہت خوش ہو تے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک محبت اور اس کے اظہار کے اقسام ہیں جنھیں نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض وقت لوگ غلط خیالات قائم کر لیتے ہیں ۔انسان کی محبت اپنی بیوی سے اور رنگ کی ہوتی ہے اور والدین سے اور رنگ کی ۔ رشتہ داروں سے اور رنگ کی ہوتی ہے اور دوسروں سے اور رنگ کی ۔رشتہ داروں میں سے عمر کے لحاظ سے چھوٹوں سے اور رنگ کی محبت ہوتی ہے اور بڑوں سے اور رنگ کی ۔خادموں کیساتھ اور رنگ کی ہوتی ہے اور دوسروں کے ساتھ اور رنگ کی ۔دوستوں میں سے بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ محبت اور رنگ کی ہوتی ہے ۔ چھوٹوں کے ساتھ اور رنگ کی ۔اپنے جذباتِ محبت پر قابو رکھنے والوں کیساتھ اور رنگ کی ہوتی ہے ،اور وہ جن کی بات بات سے محبت ٹپکے اور وہ اس جذبہ کو قابو میں نہ رکھ سکیں انکے ساتھ اور رنگ کی وغیرہ وغیرہ ۔ غرض محبت اور محبت کے اظہار کے بہت سے شعبے اور بہت سی صورتیں ہیں جن کے نظر انداز کر نے سے غلط نتائج پیدا ہو جاتے ہیں ۔ان باتوں کو نہ سمجھنے والے لوگوں نے فضیلت صحابہ ؓ کے متعلق بھی بعض غلط خیال قائم کئے ہیں مثلاً حضر ت ابو بکر ؓ اور حضرت علی ؓ اور حضرت زید ؓ اور حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ اور حضرت فاطمہؓ کی مقابلۃً فضیلت کے متعلق مسلمانوں میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے ۔مگر خاکسار کے نزدیک اگر جہات اور نوعیت محبت کے اصولوں کو مدنظر رکھا جاوے اور اس علم کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کے اُس طریق اور اُن اقوال پر غور کیا جاوے جن سے لوگ عموماً استدلال پکڑتے ہیں تو بات جلدفیصلہ ہو جاوے۔حضرت علی ؓ آنحضرت ﷺ کے عزیز تھے اور بالکل آپ کے بچوں کی طر ح آپ کے ساتھ رہتے تھے ۔ اس لئے ان کے متعلق آپ ؐ کا طریق اور آپ ؐ کے الفاظ اورقسم کی محبت کے حامل تھے ۔مگر حضرت ابوبکر ؓ آپؐ کے ہم عمر اور غیر خاندا ن سے تھے ۔اور سنجیدہ مزاج بزرگ آدمی تھے اسلئے ان کے ساتھ آپ کاطریق اور آپ ؐ کے الفاظ اور قسم کے ہوتے تھے ،ہر دو کو اپنے اپنے رنگ کے معیاروں سے ناپا جاوے تو پھر موازنہ ہو سکتا ہے ۔مفتی محمد صادق صاحب سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی ہی محبت تھی جیسے چھوٹے عزیزوں سے ہو تی ہے ۔اور اسی کے مطابق آپ کا ان کے ساتھ رویہ تھا ۔لہٰذا مولوی شیر علی صاحب کی روایت سے یہ مطلب نہ سمجھنا چاہیے اور نہ غالباً مولوی صاحب کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مفتی صاحب کے ساتھ مثلا ً حضرت مولوی نورالدین صاحب یا مولوی عبدالکریم صاحب جیسے بزرگوں کی نسبت بھی زیادہ محبت تھی ۔
{ 304} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ نے مجھ سے فرمایا کہ ایک بادشاہ نے ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے کاریگر سے کہا کہ تم اپنے ہنراور کمال کا مجھے نمونہ دکھائو اور نمونہ بھی ایسا نمونہ ہو کہ اس سے زیادہ تمہاری طاقت میں نہ ہو ۔ گو یا اپنے انتہائی کمال کا نمونہ ہمارے سامنے پیش کر و۔اورپھر اس بادشاہ نے ایک دوسرے اعلیٰ درجہ کے کاریگر سے کہا کہ تم بھی اپنے کمال کا اعلیٰ ترین نمونہ بنا کر پیش کرو۔اوران دونوں کے درمیان اس بادشاہ نے ایک حجاب حائل کر دیا ۔کاریگر نمبر اول نے ایک دیوار بنائی اور اس کو نقش ونگار سے اتنا آراستہ کیا کہ بس حد کردی ۔اور اعلیٰ ترین انسانی کمال کا نمونہ تیار کیا ۔ اور دوسرے کاریگر نے ایک دیوار بنائی مگر اس کے اوپر کوئی نقش و نگار نہیں کئے لیکن اس کو ایسا صاف کیا اور چمکایا کہ ایک مصفا شیشے سے بھی اپنے صیقل میںوہ بڑھ گئی۔پھر بادشاہ نے پہلے کاریگر سے کہا کہ اپنا نمونہ پیش کرو چنانچہ اس نے وہ نقش و نگار سے مزّین دیوار پیش کی اور سب دیکھنے والے اُسے دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔پھر بادشاہ نے دوسرے کاریگر سے کہا کہ اب تم اپنے کمال کا نمونہ پیش کرو اس نے عرض کیا کہ حضور یہ حجاب درمیان سے اٹھادیا جاوے ۔چنانچہ بادشاہ نے اُسے اٹھوا دیا تو لوگوں نے دیکھا کہ بعینہٖ اسی قسم کی دیوار جو پہلے کاریگر نے تیار کی تھی دوسری طرف بھی کھڑی ہے ۔کیونکہ درمیانی حجاب اُٹھ جانے سے دیوار کے سب نقش و نگار بغیر کسی فرق کے اس دوسری دیوار پر ظاہر ہو گئے ۔
میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ جب حضرت صاحب نے مجھے یہ بات سنائی تو میں سمجھا کہ شاید کسی بادشاہ کا ذکر ہو گا او ر میں نے اس کے متعلق کو ئی زیادہ خیال نہ کیا لیکن جب حضرت مسیح موعودؑ نے ظلی نبوت کا دعویٰ کیا تو تب میں سمجھا کہ یہ تو آپ نے اپنی ہی مثال سمجھائی تھی۔چنانچہ میں نے ظلی نبوت کا مسئلہ یہی مثال دیکر غوث گڑھ والوں کو سمجھایا اور وہ اچھی طرح سمجھ گئے ۔پھر جب لاہوریوں کی طرف سے مسئلہ نبوت میں اختلاف ہوا تو اس وقت غوث گڑھ کی جماعت کو کوئی تشویش پیدا نہیں ہوئی اورانہوں نے کہا کہ یہ بات تو آپ نے ہم کو پہلے سے سمجھائی ہوئی ہے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی حضرت مسیح موعو دؑ کا کمال اسی میں ہے کہ آپ نے اپنے لوح قلب کو ایسا صیقل کیا کہ اس نے سرور کائنات کے نقش ونگا ر کی پوری پوری تصویر اتارلی اور لَاریب جو کوئی بھی اپنے دل کو پاک و صاف کریگا وہ اپنی استعداد کے مطابق آپ کے نقش و نگا ر حاصل کر لے گا ۔محمد رسول اللہ ﷺ بخیل نہیں ہیں بلکہ بخل ہم میں ہے جو آپکی اتباع کو کمال تک نہیں پہنچاتے ۔ اللھم صل علیہ و علٰے اٰلہٖ وعلٰی اصحابہٖ و علٰی عبدک المسیح الموعود وبارک وسلم و اخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔
تمام شُد
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
سیرت المہدی ۔ سیرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 2 ۔ یونی کوڈ

بِسْمِ اللّٰہ ِالرَّحْمٰنِ الرَّحیْـمْ
نَحمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلیٰ رَسُوْلِہٖ الکَرِیْم
وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود مع التسلیم
عرضِ حال
عن عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَالِکُلِّ امْرِیٍٔ مَانَوٰی (رواہ البخاری)
سیرۃ المہدی کا حصہ اوّل طبع ہو کر ہدیہ ناظرین ہو چکا ہے۔ اس میں بوجہ سہو کاتب نیز بوجہ اس کے کہ جلدی کی وجہ سے بعض روایات کی پوری طرح نظر ثانی نہیں ہو سکی۔ بعض خفیف خفیف غلطیاں رہ گئی ہیں جن کی اصلاح انشاء اللہ اس حصہ یعنی حصہ دوم میں کر دی جائے گی۔ اب آج بتاریخ ۲۷ رمضان ۱۳۴۳ھ مطابق ۲ مئی ۱۹۲۴ء بروز جمعہ یہ خاکسار سیرۃ المہدی کے حصہ دوم کو شروع کرتا ہے۔ تکمیل کی توفیق دینا باری تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان ضعیف البنیان کا ارادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ پس میری دعا اور التجا اسی ذات سے ہے کہ اے ضرورت زمانہ کے علیم اور میرے دل کے خبیر تجھے سب قدرت حاصل ہے۔ مجھے توفیق دے کہ تیرے مسیح و مہدی کے سوانح و سیرت و اقوال و احوال وغیرہ کو جمع کروں تا کہ اس ہدایت کے آفتاب سے لوگوں کے دل منور ہوں اور تا اس چشمہ صافی سے تیرے بندے اپنی پیاس بجھائیں اور تا تیرے اس مامور و مرسل کے نمونہ پر چل کر تیرے متلاشی تجھ تک راہ پائیں اور تا تیرے برگزیدہ رسول نبیوں کے سرتاج محمد مصطفی ﷺ کے اس ظل کامل او ر بروز اکمل کی بعثت کی غرض پوری ہو اور تیرے بندے بس تیرے ہی بندے ہو کرزندگی بسر کریں۔ اللھم امین
خاکسار راقم آثم
مرزا بشیر احمد
قادیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

{305} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ جب میں لدھیانہ میں تھا اور چہل قدمی کے لئے باہر راستہ پر جا رہا تھا تو ایک انگریز میری طرف آیا اور سلام کہہ کر مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا آپ کے ساتھ کلام کرتا ہے۔ میں نے کہا ’’ ہاں‘‘ اس پر اس نے پوچھا کہ وہ کس طرح کلام کرتا ہے ؟ میں نے کہا اسی طرح جس طرح اس وقت آپ میرے ساتھ باتیں کر رہے ہیں۔ اس پر اس انگریز کے منہ سے بے اختیار نکلا ’’سبحان اللہ ‘‘ اور پھر وہ ایک گہری فکر میں پڑ کر آہستہ آہستہ چلا گیا ۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ اُس کاا س طرح سبحان اللہ کہنا آپ کو بہت عجیب اور بھلا معلوم ہوا تھا ۔اسی لئے آپ نے یہ واقعہ بیان کیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں جب حضرت مسیح موعود ؑ کے دعویٰ کو دیکھتا ہوں تو دل سرور سے بھر جاتا ہے ۔بھلا جس طرح یہ شیر خدا کا مردِمیدان بن کر گرجا ہے کسی کی کیا مجال ہے کہ اس طرح اسی میدان میں بقائمی ہوش وحواس افتراکے طور پر قدم دھرے اورپھر لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لَاَ خَذْ نَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَامِنْہُ الْوَتیِنْ َ (الحاقۃ :۴۵ تا۴۷)کے وعید کی آگ اسے جلا کر راکھ نہ کر دے ،مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدائی قانون میں ہر جرم کی الگ الگ سزا ہے اور لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا کے ماتحت صرف وہی شخص سزا پا سکتا ہے جو خدائے خالق و مالک کی طرف جسے وہ ذات وصفات ہر دو میں اپنی ذات وصفات بلکہ جمیع مخلوقات سے واضح طور پر غیر اور ممتاز و متباین یقین کرتا ہو ۔بطریق افترا بقائمی ہوش وحواس الفاظ معیّنہ کی صورت میںکوئی قول یا اقوال منسوب کر کے اس بات کا دعویٰ شائع کرے کہ یہ کلام خدا نے مجھے الہام کیا ہے اور وہ خدائی کلام کو خوداپنے کلام اور خیالات سے ہر طرح ممتاز و متباین قراردیتا ہو ۔یعنی کسی خاص مقام یا خا ص حالت یا خاص قسم کے دل کے خیالات کا نام الہام الہٰی رکھنے والا نہ ہو ۔ اور نہ خود خدائی کا دعوٰے دار بنتا ہو ۔ جیسا کہ نیچریوں یا برہم سماجیوں یا بہائیوں کا خیال ہے ۔اگر یہ شرائط جو آیت لَوْتَقَوَّلَ سے ثابت ہیں مفقود ہوں تو خواہ ایک شخص تیئس۲۳سال چھوڑ کر دو سو سال بھی زندگی پائے وہ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَاکے وعیدکے ماتحت سزا نہیں پائے گا ۔گو وہ اور طرح مجرم ہو اور دوسری سزائیں بھگتے جیسا کہ مثلاًوہ شخص جوخواہ ساری عمرچوری یا دھوکہ یا فریب یا اکل بالباطل وغیرہ کے جرائم میں ماخوذ ہو کر ان جرموں کی سزائیں پاتا رہا ہو ۔اگر وہ ڈاکہ زن نہیں ہے تو وہ کبھی بھی ڈاکہ کے جرم کی سزا نہیں پاسکتا ۔ فَافْہَم ۔
{ 306} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے کسی مخالف نے کوئی حوالہ طلب کیا اس وقت وہ حوالہ حضرت کو یاد نہیں تھا اور نہ آپ کے خادموں میں سے کسی اور کو یاد تھا لہٰذا شماتت کا اندیشہ پیدا ہوا مگر حضرت صاحب نے بخاری کا ایک نسخہ منگایا اور یو نہی اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور جلد جلد ایک ایک ورق اس کاا لٹانے لگ گئے اور آخر ایک جگہ پہنچ کر آپ ٹھہر گئے اور کہاکہ لو یہ لکھ لو۔دیکھنے والے سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے ۔اورکسی نے حضرت صاحب سے دریافت بھی کیا ۔جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب میں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق اُلٹانے شروع کئے تو مجھے کتاب کے صفحات ایسے نظر آتے تھے کہ گویا وہ خالی ہیں اور ان پرکچھ نہیں لکھا ہوا اسی لئے میں ان کو جلد جلد الٹاتا گیا آخر مجھے ایک صفحہ ملا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے ۔گویا اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ سوائے اس جگہ کے کہ جس پر حوالہ درج تھا باقی تمام جگہ آپ کو خالی نظر آئی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل سے اس روایت کے سننے کے بعد ایک دفعہ خاکسار نے ایک مجمع میں یہ روایت زیادہ تفصیلی طور پر مفتی محمد صادق صاحب سے بھی سنی تھی ۔مفتی صاحب نے بیان کیا کہ یہ واقعہ لدھیانہ کا ہے اور اس وقت حضرت صاحب کو غالبًا نون ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث میںحوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔سو اوّل تو بخاری ہی نہیں ملتی تھی اور جب ملی تو حوالہ کی تلاش مشکل تھی اور اعتراض کر نے والے مولوی کے سامنے حوالہ کا جلد رکھا جانا از بس ضروری تھا۔اس پر آپ نے بخاری اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور چند چند صفحات کے بعد فرماتے تھے کہ یہ لکھ لو ۔اس جلدی کو دیکھ کر کسی خادم نے عرض کیا کہ حضور ذرااطمینان سے دیکھا جاوے تو شاید زیادہ حوالے مل جاویں ۔آپ نے فرمایا کہ نہیں بس یہی حوالے ہیںجو میں بتا رہاہوں۔ان کے علاوہ اس کتاب میں کوئی حوالہ نہیں کیونکہ سوائے حوالہ کی جگہ کے مجھے سب جگہ خالی نظر آتی ہے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ آدمی اللہ کا ہو کر رہے پھر وہ خود حقیقی ضرورت کے وقت اسکے لئے غیب سے سامان پیدا کردیتا ہے اور اگر اس وقت تقدیر عام کے ماتحت اسباب میسر نہ آسکتے ہوں اور ضرورت حقیقی ہو تو تقدیر خاص کے ماتحت بغیر مادی اسباب کے اسکی دستگیری فرمائی جاتی ہے بشرطیکہ وہ اس کا اہل ہو ۔مگر وہ شخص جس کی نظر عالم مادی سے آگے نہیںجاتی اس حقیقت سے ناآشنارہتا ہے ،مولانا رومی نے خوب فرمایا ہے :۔
فلسفی کو منکر حنانہ است
از حواسِ انبیاء بیگانہ است
اس واقعہ کے متعلق پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔ کہ’’ یہ واقعہ میرے سامنے پیش آیا تھا۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے مباحثہ تھا اور مَیں اس میں کاتب تھا۔ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کے پرچوں کی نقل کرتا تھا۔ مفتی محمد صادق صاحب نے جو یہ بیان کیا ہے کہ غالباً حضرت صاحب کو نون ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث میں حوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔ اس میں جناب مفتی صاحب کو غلطی لگی ہے۔ کیونکہ مفتی صاحب وہا ںنہیں تھے۔ نون خفیفہ و ثقیلہ کی بحث تو دہلی میں مولوی محمد بشیر سہسوانی ثم بھوپالوی کے ساتھ تھی۔ اور تلاش حوالہ بخاری کا واقعہ لدھیانہ کا ہے۔ بات یہ تھی کہ لدھیانہ کے مباحثہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی نے بخاری کا ایک حوالہ طلب کیا تھا۔ بخاری موجود تھی۔ لیکن اس وقت اس میں یہ حوالہ نہیں ملتا تھا۔ آخر کہیں سے تو ضیح تلویح منگا کر حوالہ نکال کر دیا گیا۔ صاحبِ توضیح نے لکھا ہے۔ کہ یہ حدیث بخاری میں ہے‘‘۔
اور اسی واقعہ کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا کہ:۔ ’’روایت نمبر ۳۰۶ میں حضرت حکیم الامت خلیفۃ المسیح اوّلؓ کی روایت سے ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے اور حضرت مکرمی مفتی محمد صادق صاحب کی روایت سے اس کی مزید تصریح کی گئی ہے۔ مگر مفتی صاحب نے اُسے لدھیانہ کے متعلق بیان فرمایا ہے اور نونِ ثقیلہ والی بحث کے تعلق میں ذکر کیا ہے۔ جو درست نہیں ہے۔ مفتی صاحب کو اس میں غلطی لگی ہے۔ لدھیانہ میں نہ تو نونِ ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث ہوئی اور نہ اس قسم کے حوالہ جات پیش کرنے پڑے۔ نونِ ثقیلہ کی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر بھوپالوی والے مباحثہ کے دوران میں پیش آئی تھی۔ اور وہ نون ثقیلہ کی بحث میں اُلجھ کر رہ گئے تھے۔ اور جہاں تک میری یاد مساعدت کرتی ہے اس مقصد کے لئے بھی بخاری کا کوئی حوالہ پیش نہیں ہوا۔ الحق دہلی سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔ دراصل یہ واقعہ لاہور میں ہوا تھا۔ مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کی ’’محدثیّت اور نبوّت‘‘ پر بحث ہوئی تھی۔ یہ مباحثہ محبوب رائیوں کے مکان متصل لنگے منڈی میں ہوا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام نے محدثیّت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بخاری کی اس حدیث کا حوالہ دیا۔ جس میں حضرت عمرؓ کی محدثیّت پر استدلال تھا۔ مولوی عبدالحکیم صاحب کے مددگاروں میں سے مولوی احمد علی صاحب نے حوالہ کا مطالبہ کیا۔ اور بخاری خود بھیج دی۔ مولوی محمد احسن صاحب نے حوالہ نکالنے کی کوشش کی مگر نہ نکلا۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود نکال کر پیش کیا۔ اور یہ حدیث صحیح بخاری پارہ ۱۴ حصہ اوّل باب مناقب عمرؓ میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ قال النَّبِیُّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم قد کان فِیْمَن قبلکم من بنی اسرائیل رجال یُکَلَّمُونَ من غیران یکونوا انبیائَ فَاِنْ یَکُ مِنْ اُمَّتِی مِنْھُمْ اَحَدٌ فَعُمَر۔جب حضرت صاحب نے یہ حدیث نکال کر دکھا دی۔ تو فریق مخالف پر گویا ایک موت وارد ہو گئی اور مولوی عبدالحکیم صاحب نے اسی پر مباحثہ ختم کر دیا‘‘۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مندرجہ بالا روایتوں میں جو اختلاف ہے اس کے متعلق خاکسار ذاتی طور پر کچھ عرض نہیں کر سکتا۔ کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ ہاں اس قدر درست ہے کہ نونِ ثقیلہ والی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر والے مباحثہ میں پیش آئی تھی۔ اور بظاہر اس سے بخاری والے حوالہ کا جوڑ نہیں ہے۔ پس اس حد تک تو درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دہلی والے مباحثہ کا نہیں ہے۔ آگے رہا لاہور اور لدھیانہ کا اختلاف، سو اس کے متعلق مَیں کچھ عرض نہیں کر سکتا۔ نیز خاکسار افسوس کے ساتھ عرض کرتا ہے کہ اس وقت جبکہ سیرۃ المہدی کا حصہ سوم زیرِ تصنیف ہے۔ پیر سراج الحق صاحب نعمانی فوت ہو چکے ہیں۔ پیر صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق روایات کا ایک عمدہ خزانہ تھے۔
{ 307} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار کے ماموںڈاکٹر میر محمدؐ اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیاکہ ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی۔اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا اس لئے حضرت صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خودذبح کرنے لگے مگربجائے چوزہ کی گردن پرچھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی ۔جس سے بہت خون بہہ گیا ۔اور آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جب کوئی چوٹ وغیرہ اچانک لگتی تھی تو جلدی جلدی توبہ توبہ کے الفاظ منہ سے فرمانے لگ جاتے تھے ۔دراصل جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ عموماً کسی قانون شکنی کا نتیجہ ہوتی ہے۔خواہ وہ قانون شریعت ہو یا قا نون نیچر یعنی قانون قضا ء وقدریا کوئی اور قانون ،پس ایک صحیح الفطرت آدمی کا یہی کام ہونا چاہیے کہ وہ ہر قسم کی تکلیف کے وقت توبہ کی طرف رجوع کرے۔اور یہی مفہوم اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہنے کا ہے جس کی کہ قرآن شریف تعلیم دیتا ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چونکہ کبھی جانور وغیرہ ذبح نہ کئے تھے ۔اس لئے بجائے چوزہ کی گردن کے اپنی انگلی پر چھری پھیر لی ۔ اور یہ نتیجہ تھااس بات کا کہ آپ قانون ذبح کے عملی پہلو سے واقف نہ تھے۔واللہ اعلم۔
پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔ کہ :۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام عصر کی نماز کے وقت مسجد مبارک میں تشریف لائے۔بائیں ہاتھ کی انگلی پر پٹی پانی میں بھیگی ہوئی باندھی ہوئی تھی۔ اس وقت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے حضرت اقدس سے پوچھا۔ کہ حضور نے یہ پٹی کیسے باندھی ہے؟ تب حضرت اقدس علیہ السَّلام نے ہنس کر فرمایا کہ ایک چوزہ ذبح کرنا تھا۔ ہماری اُنگلی پر چُھری پھر گئی۔ مولوی صاحب مرحوم بھی ہنسے اور عرض کیا کہ آپ نے ایسا کام کیوں کیا۔ حضرت نے فرمایا۔ کہ اس وقت اور کوئی نہ تھا۔
{ 308} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ چند احباب نے حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ جو مشہور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بادل کا سایہ رہتا تھا ۔یہ کیا بات ہے ؟آپ نے جواب میںفرمایا کہ ہر وقت تو بادل کا سایہ رہنا ثابت نہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو کوئی کافر کافر نہ رہتا۔سب لوگ فوراً یقین لے آتے کیونکہ ایسا معجزہ دیکھ کر کون انکار کر سکتا تھا دراصل سنت اللہ کے مطابق معجزہ تو وہ ہوتا ہے کہ جس میں ایک پہلو اخفاء کا بھی ہو اور فرمایا کہ ہر وقت بادل کاسایہ رہنا توموجب تکلیف بھی ہے علاوہ ازیں اگر ہر وقت بادل کا سایہ رہتا تو کیوں گرمی کے وقت حضرت ابو بکرؓ آپ پر چادر تان کر سایہ کرتے اور ہجرت کے سفر میں آپؐ کے لئے کیوں سایہ دار جگہ تلاش کرتے؟ہا ں کسی خاص وقت کسی حکمت کے ماتحت آپ کے سر پر بادل نے آکر سایہ کیا ہو تو تعجب نہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ہمارے ساتھ بھی ایسا واقعہ ہوا تھا پھر آپ نے وہ واقعہ سنایا جوبٹالہ سے قادیان آتے ہوئے آپ کو پیش آیا تھا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ واقعہ حصہ اول میں درج ہو چکا ہے ۔
{ 309} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب پہلے دن لدھیانہ میں بیعت ہوئی تو سب سے پہلے حضرت مولوی نور الدین صاحب نے بیعت کی ۔ان کے بعد میرعباس علی نے اور پھر خواجہ علی صاحب مرحوم نے کی ۔اس دن میاں عبداللہ صاحب سنوری اور شیخ حامد علی صاحب مرحوم اور مولوی عبداللہ صاحب جو خوست کے رہنے والے تھے اور بعض اور آدمیوں نے بیعت کی ۔میں موجود تھا مگر میں نے اُس دن بیعت نہیں کی۔کیونکہ میرا منشاء قادیان کی مسجد مبار ک میں بیعت کرنے کا تھا جسے آپ نے منظورفرمایا ۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بھی موجود تھے مگر انہوں نے بھی اس وقت بیعت نہیںکی بلکہ کئی ماہ بعد بیعت کی ۔
مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔ کہ روایت نمبر۳۰۹ میں مخدومی مکرمی صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نے پہلے دن کی بیعت میں مولوی عبداللہ صاحب کے ذکر میں فرمایا ہے کہ وہ خوست کے رہنے والے تھے۔ یہ درست نہیں۔ دراصل مولوی عبداللہ صاحب کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ وہ خوست کے رہنے والے نہ تھے۔اس میں صاحبزادہ صاحب کو سہو ہوا ہے۔ مولوی عبداللہ صاحب اس سلسلہ کے سب سے پہلے شخص ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی طرف سے بیعت لینے کی اجازت دی تھی۔ آپ تنگئی علاقہ چارسدہ ضلع پشاور کے رہنے والے تھے۔ مَیں نے حضرت مولوی عبداللہ صاحب کے نام حضرت اقدس کا مکتوب اور اجازت نامہ الحکم کے ایک خاص نمبر میں شائع کر دیا تھا۔
{ 310} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیاکہ حضرت صاحب کے سونے کی کیفیت یہ تھی کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد آپ جاگ اُٹھتے تھے اور منہ سے آہستہ آہستہ سبحان اللہ ،سبحان اللہ فرمانے لگ جاتے تھے اور پھر سو جاتے تھے۔
{ 311} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ سیرۃالمہدی کے حصہ اول میںبعض غلطیا ں واقع ہو گئی ہیں ۔جن کی اصلاح ضروری ہے۔
(۱)صفحہ۷روایت نمبر۱۰(صحیح نمبر۱۱)میں الفاظ ’’پیدا ہونے لگی تو منگل کا دن تھا۔اس لئے حضرت صاحب نے دُعا کی کہ منگل گذرنے کے بعد پیدا ہو چنانچہ وہ منگل گذرنے کے بعدبدھ کی رات کو پیدا ہوئی‘‘کی بجائے الفاظ ’’پیدا ہونے لگی تومنگل کا دن تھا اس لئے حضرت صاحب نے دُعا کی کہ خدا اسے منگل کے تکلیف دہ اثرات سے محفوظ رکھے ‘‘سمجھے جاویں۔
ّ(۲)صفحہ ۵۸۔روایت نمبر۸۷(صحیح نمبر ۸۹)میں الفاظ’’اپنی جگہ جا کر بیٹھ گئے اور فرمایا‘‘کے بعد الفاظ ’’آپ ہمارے مہمان ہیں اور‘‘لکھنے سے رہ گئے ہیں زائد کئے جاویں۔
(۳)صفحہ۶۶روایت نمبر ۹۸(صحیح نمبر۱۰۰)میں الفاظ’’پھر اسی طرح لیٹ گئے‘‘کی بجائے الفاظ’’نے پھراسی طرح اپنی کہنی رکھ لی‘‘سمجھے جاویں۔
ّّّ(۴)صفحہ۶۶۔روایت نمبر۹۸(صحیح نمبر۱۰۰)میں ’’اسی سرخی کاایک اور بڑا قطرہ‘‘کے بعد’’کرتہ پر ‘‘کے الفاظ لکھنے سے رہ گئے ہیں۔زائد کئے جاویں۔
(۵)صفحہ۱۲۱۔روایت نمبر۱۳۳(صحیح نمبر ۱۳۶)میں ’’کاپی مذکور میں‘‘کے الفاظ کے بعد بجائے ’’۳۱مارچ‘‘ کے الفاظ’’۳مارچ‘‘سمجھے جاویں ۔نیز ’’مربی ام‘‘کی بجائے …الفاظـــ’’مربی انبہ‘‘۔اور دودھ کی بجائے لفظ ’’شیر‘‘سمجھے جاویں۔
(۶)صفحہ۱۲۴روایت نمبر۱۳۷(صحیح نمبر ۱۴۰)میں’’مگرایک دفعہ جب حضرت صاحب کہیںقادیان سے باہر گئے ہوئے تھے......(تا)......پولیس نے اس بلوہ کی تحقیقات شروع کر دی تھی‘‘کے الفاظ کے بجائے مندرجہ ذیل عبارت سمجھی جاوے’’مگر ایک دفعہ ایسا اتفاق ہواکہ ایک غریب احمدی نے اپنے مکان کے واسطے ڈھاب سے کچھ بھرتی اُٹھائی تو سکھ وغیرہ ایک بڑا جتھ بنا کر اور لاٹھیوں سے مسلح ہو کراس کے مکان پر حملہ آور ہو گئے۔پہلے تو احمدی بچتے رہے۔لیکن جب اُنھوں نے بے گناہ آدمیوں کو مارنا شروع کیااور مکان کو بھی نقصان پہنچانے لگے تو بعض احمدیوں نے بھی مقابلہ کیا جس پر طرفین کے آدمی زخمی ہوئے اور بالآخر حملہ آوروں کوبھاگنا پڑا چنانچہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ قادیان کے غیر احمدیوں کو عملاً پتالگا کہ احمدیوں کا ڈر اُن سے نہیںبلکہ اپنے امام سے ہے ۔اس کے بعد پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کی۔
(۷)صفحہ۱۲۶روایت نمبر۱۳۸(صحیح نمبر۱۴۱)میں ’’امرتسرسے آدمی اور چھپر‘‘کے بعد الفاظ’’کا سامان‘‘ زائد کئے جاویں۔
(۸)صفحہ۲۴۲روایت نمبر۲۶۶(صحیح نمبر۲۷۲)میں’’عیسائی ہو جاؤں گا اور اَور بھی بہت سے لوگ عیسائی ہوجائیں گے ‘‘کی بجائے الفاظ’’حق کوقبول کرلوں گااور اَور بھی بہت سے لوگ حق کوقبول کر لیں گے ‘‘سمجھے جاویں۔
اس کے علاوہ روایات کے نمبر میں بھی غلطی ہو گئی ہے جو درج ذیل ہے:۔
ّ(۱)صفحہ۳ پرروایت نمبر ۵کے بعد کی روایت بلانمبر لکھی گئی ہے اس کا نمبر ۶ سمجھا جانا چاہیے؛
(۲)صفحہ۴۱ پرروایت نمبر۶۰کی بعد کی روایت کانمبرنہیںلکھا گیا،اس کانمبر ۱؍۶۰۔ اور صحیح نمبر ۶۲ سمجھا جانا چاہیے ۔
(۳)صفحہ۱۴۲ روایت نمبر ۱۴۸کے بعد کی روایت کا نمبر درج نہیں اس کانمبر۱؍۱۴۸اور صحیح نمبر ۱۵۲سمجھا جانا چاہیے۔
(۴)صفحہ۱۶۴پر روایت نمبر۱۶۵کی بعد کی روایت کا نمبر درج نہیںاس کا نمبر۱۶۶۔ اور صحیح نمبر۱۷۰ سمجھا جانا چاہیے ۔
(۵)صفحہ ۱۹۶پر روایت نمبر۱۷۹کے بعد کی روایت کا نمبردوبارہ نمبر۱۷۹ لکھا گیا ہے اس کا نمبر۱؍۱۷۹ اور صحیح نمبر۱۸۴سمجھا جانا چاہیے۔
ّ(۶)اس طرح سیرۃ المہدی حصہ اوّل کی کل روایت کا نمبر۲۹۹کی بجائے۳۰۴ بنتا ہے چنانچہ اسی کو ملحوظ رکھ کرحصہ دوئم کی پہلی روایت کو ۳۰۵ کا نمبر دیا گیا ہے۔ ز
{ 312} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب آتھم کی پیش گوئی کی میعاد قریب آئی تو اہلیہ صاحبہ مولوی نور الدین صاحب نے خواب میں دیکھا کہ کوئی ان سے کہتا ہے کہ ایک ہزارماش کے دانے لے کر ان پر ایک ہزار دفعہ سورہ اَلَمْ تَرَکَیْفَ پڑ ھنی چاہیے اور پھر ان کو کسی کنوئیں میں ڈال دیا جاوے اور پھر واپس منہ پھیر کر نہ دیکھا جاوے۔یہ خواب حضرت خلیفہ اوّل ؓ نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔اس وقت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی موجود تھے اور عصر کا وقت تھاحضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایاکہ اس خواب کوظا ہر میں پورا کر دینا چاہیے ۔کیونکہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جب کوئی خواب خود آپ یا احباب میں سے کوئی دیکھتے تو آپ اسے ظاہری شکل میں بھی پورا کرنے کی سعی فرماتے تھے ۔چنانچہ اس موقعہ پر بھی اسی خیال سے حضرت نے ایسافرمایا۔اس پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے میرا اور میاں عبد اللہ صاحب سنوری کا نا م لیا اور حضرت نے پسند فرمایا اور ہم دونوں کو ماش کے دانوں پر ایک ہزار دفعہ سورہ اَلَمْ تَرَ کَیْفَپڑھنے کا حکم دیا ۔ چنانچہ ہم نے عشاء کی نماز کے بعد سے شروع کر کے رات کے دو بجے تک یہ وظیفہ ختم کیا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت حصہ اوّل میں میاںعبد اللہ صاحب سنوری کی زبانی بھی درج ہو چکی ہے ۔اور مجھے میاں عبداللہ صاحب والی روایت سن کر تعجب ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فعل کس حکمت کے ما تحت کیا ہے۔کیونکہ اس قسم کی کارروائی بظاہر آپ کے طریق عمل کے خلاف ہے لیکن اب پیر صاحب کی روایت سے یہ عقدہ حل ہو گیا ہے کہ آپ کا یہ فعل در اصل ایک خواب کی بنا پر تھا جسے آپ نے ظا ہری صورت میں بھی پورا فرما دیا ۔ کیونکہ آپ کی یہ عادت تھی کہ حتیٰ الوسع خوابوں کو ان کی ظاہری شکل میں بھی پوراکرنے کی کوشش فرماتے تھے ۔ بشرطیکہ ان کی ظا ہری صورت شریعت اسلامی کے کسی حکم کے خلاف نہ ہو اور اس خواب میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح اصحاب فیل(جو عیسائی تھے)کے حملہ سے خدانے کعبہ کومحفوظ رکھا اوراپنے پاس سے سامان پیدا کرکے ان کو ہلاک و پسپا کیااسی طرح آتھم کی پیش گوئی والے معاملہ میںبھی عیسائیوں کا اسلام پر حملہ ہو گا اور ان کو ظاہراً اسلام کے خلاف شور پیدا کرنے کا موقعہ مل جائے گا ۔لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ان کو شکست وہزیمت کا سا مان پیدا کر دے گا اور یہ کہ مومنوں کو چاہیے کہ اس معاملہ میں خدا پر بھروسہ کریں اور اسی سے مدد کے طالب ہوںاور اس وقت کو یاد رکھیں کہ جب مکہ والے کمزور تھے اور ان پر ابرہہ کا لشکر حملہ آور ہوا تھا اور پھر خدا نے ان کو بچایا ۔نیز خاکسار عرض کرتاہے کہ پیر صاحب اور میاں عبداللہ صاحب کی روایتوں میں بعض اختلافات ہیں جو دونوں میں سے کسی صاحب کے نسیان پر مبنی معلو م ہوتے ہیں۔مثلاًمیاں عبداللہ صاحب نے اپنی روایت میں بجائے ماش کے چنے کے دانے بیان کئے ہیں ۔مگر خواہ ان میں سے کوئی ہوماش اور چنے ہر دو کی تعبیر علم الرویاء کے مطابق غم واندوہ کی ہے۔جس میں یہ اشارہ ہے کہ آتھم والے معاملہ میں بظاہر کچھ غم پیش آئے گا ۔مگر یہ غم و اندوہ سورۃ الفیل کے اثرکے ماتحت بالآخر تاریک کنوئیں میںڈال دیا جاوے گا ۔واللہ اعلم۔
{ 313} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ پیر سراج الحق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت اقدس علیہ السلام بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ایک خون کے مقدمہ میں مَیں اسیسرمقرر ہوا تھا چنانچہ آپ اسیسر بنے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب کی روایت سے پتہ لگتا ہے کہ آپ اسیسر نہیں بنے تھے بلکہ انکار کر دیا تھا۔ سو یا تو کسی صاحب کو ان میں سے نسیان ہو ا ہے یا ہر دو روایتیں دو مختلف واقعات کے متعلق ہیں ۔واللہ اعلم۔
{ 314} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ جو سیرۃالمہدی حصہ اوّل میں میاں عبداللہ صاحب سنوری کی روایت سے حضرت کاا لہام درج ہوا ہے کہ
سلطنت برطانیہ تا ہفت سال۔بعد از اں باشد خلاف واختلال۔
اور حاجی عبدالمجید صاحب کی یہ روایت درج ہوئی ہے کہ
سلطنت برطانیہ تا ہشت سال ۔ بعد ازاں ایام ضعف واختلال۔
یہ میرے خیال میں درست نہیں ہے ۔میں نے حضرت صاحب سے یہ الہام اس طرح پر سُنا ہے ۔
قوت برطانیہ تا ہشت سال ۔بعد ازاں ایام ضعف و اختلال۔
میں نے اس کے متعلق حضرت سے عرض کیاکہ اس میں روحانی اور مذہبی طاقت کا ذکر معلوم ہوتا ہے ۔یعنی ہشت سال کے بعد سلطنت برطانیہ کی مذہبی طاقت یعنی عیسائیت میں ضعف رونما ہو جائیگا ۔اور سچے مذہب یعنی اسلام اور احمدیت کا غلبہ شروع ہو جائے گا ۔ حضرت نے فرمایا کہ جو ہوگا وہ ہو رہیگا ہم پیش از وقت کچھ نہیں کہہ سکتے ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ میری رائے میں الفاظ الہام کے متعلق پیرصا حب کی روایت درست معلوم ہوتی ہے ۔واللہ اعلم۔
{ 315} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی فضل دین صاحب پلیڈر قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے یہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ محکمہ ڈاک کی طرف سے میرے خلاف مقدمہ ہوا تھا ۔جس میں فیصلہ کا سارادارومدارمیرے بیان پر تھا یعنی اگر میں سچ بول کر صحیح صحیح واقعہ بتا دیتا تو قانون کی رو سے یقیناً میرے لئے سزا مقدر تھی اور اگر جھوٹ بول کر واقعہ سے انکا ر کر دیتا تو محکمہ ڈاک کسی اور ذریعہ سے میرے خلاف الزام ثابت نہیں کر سکتا تھا ۔ چنانچہ میرے وکیل نے بھی مجھے یہ مشورہ دیا کہ اگر بچنا چاہتے ہیں تو انکار کردیںمگر میں نے یہی جواب دیا کہ خواہ کچھ ہو جاوے میں خلاف واقعہ بیان نہیں کروں گا اور جھوٹ بول کر اپنے آپ کو نہیں بچاؤں گا ۔وغیرہ وغیرہ۔مولوی صاحب نے کہا کہ حضرت صاحب کے اس بیان کے خلاف بعض غیر احمدیوں نے بڑے زور شور کے ساتھ یہ شائع کیا ہے کہ یہ ساری بات بناوٹی ہے ۔ڈاک خانہ کا کوئی ایسا قاعدہ نہیں ہے جو بیان کیا جاتا ہے اور گویا نعوذباللہ یہ سارا قصہ مقدمہ کا اپنی راست گفتاری ثابت کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ۔وَاِلاَّ ڈاکخانہ کا وہ قاعدہ پیش کیا جائے۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اس اعتراض کی فکر تھی اور میںنے محکمہ ڈاک کے پرانے قوانین کی دیکھ بھال شروع کی تو ۱۸۶۶ء کے ایکٹ نمبر۱۴ دفعہ ۱۲ و ۵۶ اور نیزگورنمنٹ آف انڈیا کے نو ٹیفکیشن نمبر۲۴۴۲مورخہ۷ ؍دسمبر ۱۸۷۷ء دفعہ ۴۳میں صاف طور پر یہ حوالہ نکل آیا کہ فلاں فعل کا ارتکاب جرم ہے جس کی سزا یہ ہے یعنی وہی جو حضرت صاحب نے لکھی تھی اور اس پر مزید علم یہ حاصل ہوا کہ ایک عینی شہادت اس بات کی مل گئی کہ واقع میں حضرت صاحب کے خلاف محکمہ ڈاک کی طرف سے ایسامقدمہ ہوا تھااور وہ اس طرح پر کہ میں اس حوالہ کا ذکر گورداسپور میں ملک مولابخش صاحب احمدی کلرک آف دی کورٹ کے سا تھ کر رہا تھا کہ اوپر سے شیخ نبی بخش صاحب وکیل آگئے جو کہ گورداسپور کے ایک بہت پرانے وکیل ہیں اور سلسلہ احمدیہ کے مخالفین میں سے ہیں چنانچہ انہوںنے مولوی کرم دین جہلمی والے مقدمہ میںبڑی سر گرمی سے حضرت صاحب کے خلاف مقدمہ کی پیروی کی تھی۔انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ مقدمہ میرے سامنے گورداسپور میں ہوا تھا اور مرزا صا حب کی طرف سے شیخ علی احمد وکیل مرحوم نے پیروی کی تھی ۔چنانچہ مولوی فضل دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے کہنے پر شیخ نبی بخش نے مجھے ایک تحریری شہادت لکھ دی جس کی عبارت یہ ہے:۔ ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مرزا صاحب پر ڈاک خانہ والوں نے مقدمہ فوجداری دائر کیا تھا اور وہ پیروی کرتے تھے ۔مرزا صاحب کی طرف سے شیخ علی احمد وکیل پیروکار تھے ۔میں اور شیخ علی احمد کچہری میں اکٹھے کھڑے تھے جبکہ مرزا صاحب (ان کو ) اپنا مقدمہ بتا رہے تھے ۔خواہ مقدمہ کم محصول کا تھا یا لفا فہ (میں)مختلف مضامین کے کاغذات(ڈالنے) کا تھا ۔بہر حال اسی قسم (کا )تھا۔ چونکہ میں نے پیروی نہیں کی اس لئے دفعہ یا د نہیں رہی ۔فقط نبی بخش ۲۲؍ جنوری ۱۹۲۴ء ۔‘‘ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلا م نے اس مقدمہ کا ذکر ’’آئینہ کمالات اسلام ‘‘میں کیا ہے۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 316} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیا ن کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت صاحب کو بیعت لینے کاحکم آیاتو سب سے پہلی دفعہ لدھیانہ میں بیعت ہوئی ۔ایک رجسٹر بیعت کنندگان تیار کیا گیا جس کی پیشانی پر لکھا گیا ’’بیعت توبہ برائے حصول تقویٰ و طہارت‘‘اورنام معہ ولدیت وسکونت لکھے جاتے تھے۔اوّل نمبرحضرت مولوی نورالدین صاحب بیعت میں داخل ہوئے، دوئم میرعباس علی صاحب ،ان کے بعد شائد خاکسار ہی سوئم نمبر پر جاتا لیکن میر عباس علی صاحب نے مجھ کو قاضی خواجہ علی صاحب کے بلانے کے لئے بھیج دیا کہ اُن کو بلا لاؤغرض ہمارے دونوں کے آتے آتے سات آدمی بیعت میں داخل ہو گئے ان کے بعد نمبر آٹھ پر قاضی صاحب بیعت میں داخل ہوئے اور نمبر نو میں خاکسار داخل ہوا پھر حضرت صاحب نے فرما یا کہ شاہ صاحب اور کسی بیعت کرنے والے کو اندر بھیج دیں ۔چنانچہ میں نے چوہدری رستم علی صاحب کواندر داخل کر دیا اور دسویںنمبر پر وہ بیعت ہو گئے ۔اس طرح ایک ایک آدمی باری باری اندر جاتا تھا ۔اور دروازہ بند کر دیا جاتا تھا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیعت اولیٰ میں بیعت کرنے والوں کی ترتیب کے متعلق روایات میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے جویا تو کسی راوی کے نسیان کی وجہ سے ہے اور یا یہ بات ہے کہ جس نے جو حصہ دیکھا اس کے مطابق روایت بیان کردی ہے۔
{ 317} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بیان فرمایا کرتے تھے کہ ابھی ہماری عمر تیس سال کی ہی تھی کہ بال سفید ہونے شروع ہو گئے تھے اور میرا خیال ہے کہ پچپن سال کی عمر تک آپ کے سارے بال سفید ہو چکے ہوں گے ۔اس کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی کے مطالعہ سے پتا لگتا ہے کہ وفات کے وقت آپ کے صرف چند بال سفید تھے ۔در اصل اس زمانہ میں مطالعہ اور تصنیف کے مشاغل انسان کی دماغی طاقت پر بہت زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں ۔باینہمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عام قویٰ آخر عمر تک بہت اچھی حالت میں رہے اور آپ کے چلنے پھرنے اور کام کاج کی طاقت میں کسی قسم کی انحطاط کی صورت رونما نہیں ہوئی بلکہ میں نے بھائی شیخ عبد الرحیم صاحب سے سُنا ہے کہ گو درمیان میں آپ کا جسم کسی قدر ڈھیلاہو گیا تھا لیکن آخری سالوں میں پھر خوب سخت اور مضبوط معلوم ہوتا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بھائی عبد الرحیم صاحب کوجسم کے دبانے کا کافی موقع ملتا تھا۔
{ 318} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ اوائل زمانہ میں حضرت صاحب قادیان کے شمال کی طرف سیر کے لئے تشریف لے گئے ۔میں اور شیخ حامد علی مرحوم ساتھ تھے ۔ میرے دل میں خیال آیا کہ سنا ہوا ہے کہ یہ لوگ دل کی باتیں بتا دیتے ہیں ۔آؤ میں امتحان لوں ۔چنانچہ میں نے دل میں سوال رکھنے شروع کئے۔اورحضرت صاحب انہی کے مطابق جواب دیتے گئے ۔یعنی جو سوال میں دل میں رکھتا تھا اسی کے مطابق بغیر میرے اظہار کے آپ تقریر فرمانے لگ جاتے تھے ۔چنانچہ چار پانچ دفعہ لگا تار اسی طرح ہوا اس کے بعد میں نے حضرت صاحب سے عرض کر دیا کہ میں نے یہ تجربہ کیا ہے۔حضرت صاحب سُن کر ناراض ہوئے اور فرمایا تم شکر کرو تم پر اللہ کا فضل ہو گیا۔ اللہ کے مرسل اور اولیاء غیب دان نہیں ہوتے آئندہ ایسا نہ کرنا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب نے حضرت صاحب کو یہ نہیں بتایا تھا کہ میں دل میں کو ئی سوال رکھ رہا ہوں ۔بلکہ آپ کیساتھ جاتے جا تے خود بخوددل میں سوال رکھنے شروع کر دیئے تھے ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ سچے اور جھوٹے مدعیوں میں ایک یہ بھی فرق ہوتا ہے کہ جھوٹا ہر بات میں اپنی بڑائی ڈھونڈتااور بزرگی منوانا چاہتاہے اورسچے کا صرف یہ مقصود ہوتا ہے کہ راستی اور صداقت قائم ہو۔چنانچہ ایک جھوٹا شخص ہمیشہ ایسے موقع پرنا جائز فائدہ اُٹھا کر دوسروں کے دل میں اپنی بزرگی کا خیال پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر سچا آدمی اپنی عزت اور بڑائی کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ راستی کو قائم کرتا ہے خواہ بظا ہر اس میں اس کی بزرگی کو صدمہ ہی پہنچتا ہو ۔
{ 319} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمدؐ یوسف صا حب پشاوری نے مجھے بذریعہ خط اطلاع دی کہ میں جب شروع میں قادیان گیاتو ایک شخص نے اپنے لڑکے کو حضرت صاحب کے سامنے ملاقات کے لئے پیش کیا۔جس وقت وہ لڑکا حضرت صاحب کے مصافحہ کیلئے آگے بڑھا تواظہار تعظیم کے لئے حضرت کے پاؤں کو ہا تھ لگانے لگا ۔ جس پر حضرت صاحب نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اسے ایسا کرنے سے روکااور میں نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے بڑے جوش میں فرمایا کہ انبیا ء دنیا میں شرک مٹانے آتے ہیںاور ہمارا کام بھی شرک مٹانا ہے نہ کہ شرک قائم کرنا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یوں تو اسلام کا لُبِّ لُبَاب ہی ادب و احترام ہے چنانچہ اَلطَّرِیْقَۃُ کُلُّھَا اَدَبٌ کا بھی یہی منشاء ہے کہ ہر چیز کا اس کے مرتبہ کے مطابق ادب واحترام کیا جاوے نہ کم نہ زیادہ کیونکہ افراط وتفریط ہر دو ہلاکت کی راہیں ہیں ۔
{ 320} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۸۹۵ء میںمجھے تمام ماہ رمضان قادیان میں گزارنے کا اتفاق ہوااور میں نے تمام مہینہ حضرت صاحب کے پیچھے نماز تہجد یعنی تراویح اداکی ۔ آپ کی یہ عادت تھی کہ وتر اوّل شب میں پڑھ لیتے تھے اور نماز تہجد آٹھ رکعت دودو رکعت کرکے آخر شب میں ادا فرماتے تھے ۔جس میں آپ ہمیشہ پہلی رکعت میں آیت الکرسی تلاوت فرماتے تھے یعنی اَللّٰہُ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوسے وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ تک اور دوسری رکعت میں سورۃ اخلاص کی قرأت فرماتے تھے اور رکوع اور سجود میں یَا حَیُّ یَا قَیُّوْ مُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْث اکثر پڑھتے تھے اور ایسی آواز سے پڑھتے تھے کہ آپ کی آواز میں سن سکتا تھانیز آپ ہمیشہ سحری نماز تہجد کے بعد کھاتے تھے اوراس میں اتنی تاخیر فرماتے تھے کہ بعض دفعہ کھاتے کھاتے اذان ہو جاتی تھی اورآپ بعض اوقات اذان کے ختم ہونے تک کھانا کھاتے رہتے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ در اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ جب تک صبح صادق افق مشرق سے نمودار نہ ہو جائے سحری کھاناجائز ہے اذان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ صبح کی اذان کا وقت بھی صبح صادق کے ظاہر ہونے پر مقرر ہے اس لئے لوگ عموماً سحری کی حد اذان ہونے کو سمجھ لیتے ہیں قادیان میں چونکہ صبح اذان صبح صادق کے پھوٹتے ہی ہو جاتی ہو بلکہ ممکن ہے کہ بعض اوقات غلطی اور بے احتیاطی سے اس سے بھی قبل ہو جاتی ہو۔اس لئے ایسے موقعوں پرحضرت مسیح موعودعلیہ السلام اذان کا چنداں خیال نہ فرماتے تھے اور صبح صادق کے تبیّن تک سحری کھاتے رہتے تھے اور در اصل شریعت کا منشاء بھی اس معاملہ میں یہ نہیں ہے کہ جب علمی اور حسابی طور پر صبح صادق کا آغاز ہو ا سکے ساتھ ہی کھانا ترک کر دیا جاوے بلکہ منشاء یہ ہے کہ جب عام لوگوں کی نظر میں صبح کی سفیدی ظاہر ہو جاوے اس وقت کھانا چھوڑ دیا جاوے چنانچہ تبیّن کا لفظ اسی بات کو ظا ہر کر رہا ہے۔حدیث میں بھی آتاہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بلال کی اذان پر سحری نہ چھوڑا کرو بلکہ ابن مکتوم کی اذان تک بیشک کھاتے پیتے رہا کروکیونکہ ابن مکتوم نابینا تھے اور جب تک لوگوں میں شورنہ پڑ جاتا تھا کہ صبح ہو گئی ہے،صبح ہو گئی ہے اس وقت تک اذان نہ دیتے تھے ۔
{ 321} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبداللہ صاحب سنوری نے مجھ سے بیا ن کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام الٰہی کے ذریعہ یہ معلوم ہوا کہ آپ اس صدی کے مجدّد ہیں (ابھی تک آپ کو مسیحیت و مہدیت کا دعوٰی نہ تھا) تو آپ نے ایک اشتہار کے ذریعہ جو اردو اور انگریزی ہر دو زبانوں میں شائع کیا گیا تھایہ اعلان فرمایا کہ خدا نے مجھے اس زمانہ کا مجدّد مقرر فرمایا ہے اور مجھے اس کام کیلئے مامور فرمایا ہے کہ میںاسلام کی صداقت بمقابلہ دوسرے مذاہب کے ثابت وقائم کروںاور نیز اصلاح اورتجدید دین کا کام بھی میرے سپرد فرمایا گیا ہے اور نیز آپ نے یہ بھی لکھا کہ میرے اندر روحانی طور پر مسیح ابن مریم کے کمالات و دیعت کئے گئے ہیں۔اور آپ نے تمام دنیا کے مذاہب کے متبعین کو دعوت دی کہ وہ آپ کے سامنے آکر اسلام کی صداقت کا امتحان کریں اور اپنے روحانی امراض سے شفاء پائیں یہ اشتہار بیس ہزار کی تعداد میںشائع کیا گیا اور منشی عبداللہ صاحب سنوری بیان کرتے ہیںپھر بڑے اہتمام کے ساتھ تمام دنیا کے مختلف حصوں میں بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک اس کی اشاعت کی گئی ۔ چنانچہ تمام بادشاہوں وفرماں روایان دول و وزراء ومدبرین و مصنفین وعلماء دینی ونوابوں و راجوں وغیرہ وغیرہ کو یہ اشتہار ارسال کیا گیا اور اس کام کے لئے بڑی محنت کے ساتھ پتے حاصل کئے گئے اور حتیّٰ الوسع دنیا کا کوئی ایسا معروف آدمی نہ چھوڑا گیا جو کسی طرح کوئی اہمیت یا اثر یا شہرت رکھتا ہو اور پھر اسے یہ اشتہار نہ بھیجا گیا ہو کیونکہ حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ جہاں جہاں ہندوستان کی ڈاک پہنچ سکتی ہے وہاں وہاں ہم یہ اشتہار بھیجیں گے نیز میاں عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کا اردو حصہ پہلے چھپ چکا تھا اور انگریزی بعد میں ترجمہ کراکے اس کی پشت پرچھاپا گیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اشتہار ابتداء ً غالباً ۱۸۸۴ء میں شائع کیا گیا اور پھر بعد میں ’’شحنہ حق‘‘اور ’’آئینہ کمالات اسلام ‘‘اور ’’برکات الدُعا‘‘ کے ساتھ بھی اس کی اشاعت کی گئی۔ او ر میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے اس کے ترجمہ کے لئے مجھے میاں الہٰی بخش اکونٹنٹ لاہور کے پاس بھیجا تھا اور فرمایا تھا کہ وہیں لاہور میںاس کا ترجمہ کراکے چھپوالیا جاوے ۔
{ 322} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیرۃ المہدی کے حصہ اول کی روایت نمبر ۶ میںجو سنگترہ کا واقعہ خاکسار نے لکھا ہے اس کے متعلق میرے ایک بزرگ نے مجھ سے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ روایت قابل توجیہہ ہے اور مجھے ایسا خیال آتا ہے کہ چونکہ اس وقت حضرت میاںصاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ ابھی بالکل بچہ تھے اس لئے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے اُن کو خوش کرنے کے لئے بطور مزاح کے ایسا کیا ہو گا کہ چپکے سے اپنی جیب میں سے سنگترہ نکال کر درخت پر ہاتھ مارا ہوگا اور پھر ان کو وہ سنگترہ دے دیا ہو گا ۔ ورنہ اگر واقعی ایسا خارق عادت امر پیش آتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کسی تصنیف یا تقریر میں اس کا ذکر فرماتے جیسا کہ آپ نے کرتہ پر سرخی کے چھینٹے پڑنے کا ذکر فرمایا ہے ۔خاکسار اس رائے کو وقعت کی نظر سے دیکھتا ہے اور عقلاً اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو اور اسی لئے خاکسار نے جب یہ روایت لکھی تھی تو اسے بغیر نوٹ کے چھوڑ دیا تھا لیکن خاکسار اس واقعہ کے ظاہری پہلو کو بھی ہرگز نا ممکن الوقوع نہیں سمجھتا اور نہ میرے وہ بزرگ جنہوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے ایسا خیال فرماتے ہیں ۔اور میرے نزدیک حضرت صاحب کے اسے شائع نہ کرنے سے بھی یہ استدلال یقینی طور پر نہیں ہوتا کہ یہ واقعہ حضرت کی طرف سے بچہ کو خوش کرنے کے لئے مزاحًا ظہور پذیر ہوا تھاجہاں تک میں نے غور کیا ہے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جو نشانات وہ اپنے کسی نبی یا مامور کے ہاتھ پر ظا ہر کرتا ہے وہ عموماً دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ایک وہ جو مخالفین کے لئے ظاہر کئے جا تے ہیں اور دوسرے وہ جو مؤمنین کے لئے ظہورپذیر ہوتے ہیں۔ اوّل الذکر قسم میں اخفاء کا پردہ زیادہ رکھا جاتا ہے۔اور احتمالات کے پہلو زیادہ کُھلے رہتے ہیں مگر ثانی الذکر قسم میں مقابلۃًاخفاء کم ہوتا ہے اورکچھ کچھ شہود کا پہلو غالب ہوتا جاتا ہے۔یہ اس لئے کہ خداوند تعالے ٰنے اپنے نہایت حکیمانہ فعل سے یہ مقدر کیا ہے کہ ایمان کی ابتدا غیب سے شروع ہو اور پھر جوں جوں ایک انسان ایمان کے راستہ پر قدم اُٹھاتا جاتا ہے اس کے لئے علیٰ قدر مراتب شہود کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۔میں یقین رکھتا ہوں اور میرے اس یقین کے میرے پا س وجوہ ہیں کہ کئی نشانات انبیاء و مرسلین پر ایسے ظاہر ہوتے ہیں کہ جن کا وہ کسی فرد بشر پر بھی اظہار نہیں کرتے ۔کیونکہ وہ محض انکی ذات کے لئے ہوتے ہیں اورایسے نشانات میں ان کے مقام قرب وعرفان کے مطابق پورا پورا شہود کا رنگ ہوتا ہے ۔پس اگر کوئی خارق عادت امر حضرت مسیح موعود پر ظا ہر ہوا ہو اور حضرت نے اس کو عام طور پر ظاہر نہ کیا ہو تو میرے نزدیک یہ بات ہرگز قابل تعجب نہیں ہے۔واللہ اعلم۔یہ حقیقت جو خاکسار نے بیان کی ہے آنحضرت ﷺ( فداہ نفسی)کے حالات زندگی میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تھوڑے کھانے سے زیادہ آدمیوں کے شکم سیر ہو جانے اور تھوڑے پانی سے ایک بڑی جماعت کے سیراب ہو جانے اور آپ کی انگلیوںسے پانی کے پھوٹ پھوٹ کر بہنے وغیرہ وغیرہ واقعات صرف صحابہ کی جماعت کیلئے ظاہر ہوئے اور مشرکین کو ( جن کو بظاہر ان باتوں کی زیادہ ضرورت تھی ) ان نشانات میں سے حصہ نہ ملا ۔جس کی یہی وجہ تھی کہ جو نشانات مشرکین کو دکھائے گئے۔ان میں زیادہ اخفاء مقصودتھا ۔ہاں اس موقعہ پر مجھے یہ بھی یاد آیا کہ خود حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر کھانے کے زیادہ ہوجانے کا خارق عادت امر ظاہر ہوا مگر اس کے دیکھنے والے صرف آپ کے خاص خاص صحابہ تھے اور آپ نے کبھی ان باتوں کا عام طور پر اظہا ر نہیں فرمایااور کرتہ پر سرخی کے چھینٹے پڑنے کوجو آپ نے ظا ہر فر مایا تو اوّل تو خود اس کے متعلق میاں عبد ا للہ صاحب کی روایت سے ظاہر ہے کہ ابتداء ً آپ نے اسے مخفی رکھنے کی کوشش فرمائی تھی اور پھر میاں عبد اللہ صا حب کے اصرار پر اسے بڑی لمبی چوڑی تمہید کے بعد ظاہر فرمایا تھا ۔علاوہ ازیں اس کے بیان کرنے میں خاص حکمت تھی اور یہ کہ مسئلہ قدامت روح ومادہ کی بحث میں خلق مادہ کے اثبات کے لئے اس کے اظہار کی ضرورت پیش آگئی تھی اور چونکہ کُرتہ جس پر چھینٹے پڑے تھے موجود تھا اور اس کے ساتھ ایک دوسرے شخص کی ( جو اس واقعہ کے وقت عاقل بالغ مرد تھا اور حضرت کیساتھ کوئی دنیاوی یا جسمانی تعلق نہ رکھتا تھا ) عینی شہادت بھی موجود تھی اس لئے آپ نے اس واقعہ کو خدمت اسلام اور جہادفی سبیل اللہ کی غرض سے ظاہر فرمایااور ایک آریہ معترض پر حجت پوری کی ۔وَاللّٰہُ اَعْلَمُ ۔علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس روایت میں حضرت والدہ صاحبہ بھی راویہ ہیں ۔
{ 323} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیرۃالمہدی کے حصہ اوّل کی روایت نمبر ۱۰ (صحیح نمبر ۱۱) میں خاکسار نے یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اس کا مطلب بعض لوگوں نے غلط سمجھا ہے ۔کیونکہ انہوں نے اس سے ایسا نتیجہ نکالا ہے کہ گویا منگل کا دن ایک منحوس دن ہے جس میں کسی کام کی ابتداء نہیں کرنی چاہیے ۔ایسا خیال کرنا درست نہیں اور نہ حضرت صاحب کا یہ مطلب تھا بلکہ منشاء یہ ہے کہ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے دن اپنی برکات کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں ۔مثلاً جمعہ کا دن مسلمانوں میں مسلّمہ طور پر مبارک ترین دن سمجھا گیا ہے ۔اس سے اتر کر جمعرات کا دن اچھا سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ اپنے سفروں کی ابتدا ء اس دن میں فرماتے تھے ۔خلاصہ کلام یہ کہ دن اپنی برکات و تاثیرات کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں اور اس توازن اور مقابلہ میں منگل کا دن گویا سب سے پیچھے ہے ۔کیونکہ وہ شدائد اور سختی کا اثر رکھتا ہے جیسا کہ حدیث میں بھی مذکور ہے نہ یہ کہ نعوذ باللہ منگل کا دن کوئی منحوس دن ہے ۔پس حتیّٰ الوسع اپنے اہم کاموں کی ابتداء کے لئے سب سے زیادہ افضال و برکات کے اوقات کا انتخاب کرنا چا ہیے لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کو ئی نقصان بر داشت کیا جاوے یا کسی ضروری اور اہم کام میں توقف کو راہ دیا جاوے ہر ایک بات کی ایک حد ہوتی ہے اور حد سے تجاوز کرنے والا شخص نقصان اُٹھاتا ہے اورمیں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ دنوں وغیرہ کے معاملہ میں ضرورت سے زیادہ خیال رکھتے ہیں ۔ ان پر بالآ خر توہم پرستی غالب آ جاتی ہے ۔’’گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘کا اصول جیسا کہ اشخاص کے معاملہ میں چسپاں ہوتا ہے۔ ویسا ہی دوسرے امور میں بھی صادق آتاہے اور یہ سوال کہ دنوں کی تا ثیرات میں تفاوت کیوں اور کس وجہ سے ہے ۔یہ ایک علمی سوال ہے جس کے اُٹھا نے کی اس جگہ ضرورت نہیں ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حصہ اوّل کی منگل والی روایت میں ایک غلطی واقع ہو گئی تھی جو اب حصہ دوئم کی روایت نمبر۳۱۱ میں درست کر دی گئی ہے۔
{ 324} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے اخلاق ذاتی کا مطالعہ کیا جاوے تو خدا اور اس کے رسول کی محبت ایک نہایت نمایاں حصہ لئے ہوئے نظر آتی ہے۔آپ کی ہر تقریر وتحریر ہر قول و فعل ہر حرکت و سکون اسی عشق و محبت کے جذبہ سے لبریز پا ئے جاتے ہیں ۔اور یہ عشق اس درجہ کمال کو پہنچا ہوا تھا کہ تاریخ عالم میں اس کی نظیر نہیںملتی۔ دشمن کی ہر سختی کو آپ اس طرح برداشت کرجاتے تھے کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں اور اس کی طرف سے کسی قسم کی ایذا رسانی اورتکلیف دہی اور بد زبانی آپ کے اندر جوش و غیظ وغضب کی حرکت نہ پیدا کر سکتی تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کے خلاف ذرا سی بات بھی آپ کے خون میں وہ جوش اور ابال پیدا کر دیتی تھی کہ اس وقت آپ کے چہرہ پر جلال کیوجہ سے نظر نہ جم سکتی تھی ۔دشمن اور دوست ،اپنے اور بیگانے سب اس بات پر متفق ہیں کہ جو عشق و محبت آپ کو سرور کا ئنات کی ذات والاصفات سے تھااس کی نظیر کسی زمانہ میںکسی مسلمان میں نہیںپائی گئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی زندگی کا ستون اور آپ کی روح کی غذا بس یہی محبت ہے۔جس طرح ایک عمدہ قسم کے اسفنج کا ٹکڑ ہ جب پا نی میں ڈال کر نکالا جاوے تو اس کا ہر رگ وریشہ اور ہر خانہ وگوشہ پانی سے بھر پور نکلتا ہے اور اس کا کوئی حصہ ایسا نہیں رہتا کہ جس میں پانی کے سوا کوئی اور چیز ہو ، اسی طرح ہر دیکھنے وا لے کو نظر آتاتھا کہ آپ کے جسم اورروح مبارک کا ہر ذرّہ عشق الہٰی اور عشق رسول سے ایسا بھر پور ہے کہ اس میں کسی اور چیز کی گنجائش نہیں اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَعَلٰی مُطَاعِہٖ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّم۔واقعی جو ایمان محبت سے خالی ہے وہ ایک کوڑی کے مول کا نہیں ۔وہ ایک خشک فلسفیانہ عقیدہ ہے جس کا خدا کے دربار میںکچھ بھی وزن نہیں ۔ اعمال کا ایک پہاڑ جو عشق ومحبت سے معرّا ہے محبت کے ایک ذرّہ سے جو اعمال سے خالی ہو وزن میں کمتر ہے۔مجھے وہ وقت کبھی نہیں بھولتا ۔جب میں نے حدیث میں یہ پڑھا کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟آپؐ نے فرمایاکہ تم جو قیامت کا پوچھتے ہو تو اس کیلئے تم نے تیاری کیا کی ہے؟اس شخص نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ نماز،روزہ اور صدقہ وغیرہ کی تیاری تو زیادہ ہے نہیں ۔ مگر ہاں اللہ اور اس کے رسول کی محبت دل میں رکھتاہوں‘‘مجھے وہ وقت نہیں بھولا کہ جب میںنے اس شخص کا یہ قول پڑھا اور میری خوشی کی کوئی حد نہ رہی اور میں اس خوشی کو کبھی نہیں بھولوں گا اور نہ بھول سکتا ہوں کہ جب میری نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی)کے اس جواب پر پڑی کہ اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ یعنی ’’ تسلی رکھ تو وہیں رکھا جاویگا جہاں تیرے محبوب لوگ ہوں گے‘‘ایک اور دوسر ے موقع پر آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ اَلْمَرْأُ مَعَ مَنْ اَحَبَّیعنی انسان کو اس کے محبوب لوگوں کے پاس رکھا جاوے گا ۔میرا یہ مطلب نہیںحاشا وکلا کہ اعمال کے پہلو کو کمزور کر کے دکھائوں ۔ قرآن شریف نے مومن کی شان میں جہاں جہاں بھی ایمان کا ذکر کیا ہے وہاں لازماً ساتھ ہی اعمال صالح کا بھی ذکر کیا ہے ۔اور یہ بات عقلاً بھی محال ہے کہ محبت اور ایمان تو ہو مگر اعمال صالح کے بجالانے کی خواہش اور کوشش نہ ہو ۔عملی کمزوری ہو جانا ایک علیحدہ امر ہے مگر سنت نبوی کی اتباع اور اعمال صالح کے بجالانے کی خواہش اور کوشش کبھی ایمان سے جدا نہیں ہو سکتے اور جو شخص محبت کا مدعی ہے اور اپنے محبوب کے احکام اور منشاء کے پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتا وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے ۔پس میرے اس بیان سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ اعمال کی ا ہمیت کو کم کر کے دکھائوں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اخلاص و محبت کی اہمیت کو واضح کروں اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کروں کہ خشک ملانوں کی طرح آنکھیں بند کرکے محض شریعت کے پوست پر چنگل مارے رکھنا ہر گز فلاح کا راستہ نہیں ہے ۔
{325} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ تمہارے بھائی مبارک احمد مرحوم سے بچپن کی بے پروائی میں قرآن شریف کی کوئی بے حرمتی ہو گئی اس پر حضرت مسیح موعود ؑ کو اتنا غصّہ آیا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے بڑے غصّہ میں مبارک احمد کے شانہ پر ایک طماچہ مارا جس سے اس کے نازک بدن پر آپ کی انگلیوں کا نشان اُٹھ آیا اور آپ نے اس غصّہ کی حالت میں فرمایا کہ اسکو اس وقت میرے سامنے سے لے جائو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مبارک احمد مرحوم ہم سب بھائیوں میں سے عمر میں چھوٹا تھا اور حضرت صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا۔حضرت صاحب کو اس سے بہت محبت تھی چنانچہ اس کی وفات پر جو شعر آپ نے کتبہ پر لکھے جانے کیلئے کہے اس کا ایک شعر یہ ہے
؎ جگر کا ٹکڑا مبار ک احمد جو پا ک شکل اور پاک خُو تھا
وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر
مبارک احمد بہت نیک سیرت بچہ تھا اور وفات کے وقت اس کی عمر صرف کچھ اوپر آٹھ سال کی تھی ۔لیکن حضرت صاحب نے قرآن شریف کی بے حرمتی دیکھ کر اس کی تادیب ضروری سمجھی ۔
{ 326} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں نبی بخش صاحب متوطن بن باجوہ ضلع سیالکوٹ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں میں نے عرض کیا کہ میں حضور کے واسطے ایک انگوٹھی بنا کر پیش کر نا چاہتا ہوں اسکے نگینہ پر کیا الفاظ لکھے جاویں ؟ حضرت صاحب نے فرمایا ’مولا بس ‘ کے الفاظ لکھ دیں ۔چنانچہ میں نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ وہی انگوٹھی ہے جس کا سیرۃ المہدی حصّہ اول کی روایت نمبر۱۶ میں ذکر گزر چکا ہے ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ’ ’مولا بس‘ ‘ کے الفاظ گو یا ایک طرح ’’ الیس اللّٰہ بکاف عبدہٗ ‘‘ کا ترجمہ ہیں اور اس حالت رضا وفنا کو ظاہر کر رہی ہیں جو حضرت مسیح موعود ؑ کے قلب صافی پر ہر وقت طاری رہتی تھی ۔
{ 327} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے اُترے ہو ئے کپڑوں کو ناک کے ساتھ لگا کر سونگھا ہے ۔مجھے کبھی بھی ان میں پسینہ کی بو نہیں آئی ۔یہ خیال مجھے اس طرح آیا کہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ (خاکسارکی نانی اماں ) سے یہ سنا تھا کہ جس طرح اور لوگوں کے کپڑوں میں پسینہ کی بو ہو تی ہے اس طرح حضرت صاحب کے کپڑوں میں بالکل نہیں ہوتی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ظاہری صفائی کے متعلق اسلام میں بڑی تاکید کے ساتھ احکام پائے جاتے ہیں اور غسل کر نے اور کپڑے صاف رکھنے اور خوشبو لگا نے کی بہت تاکید آئی ہے ۔کیونکہ علاوہ طبی طو ر پر مفید ہونے کے ظاہری صفائی کا باطنی صفائی پر بھی اثر پڑتا ہے ۔اور روح کی شگفتگی اور بشاشت ، جسم کی طہارت اور پاکیزگی سے متا ثر ہوتی ہے ۔ اس وجہ سے انبیاء اور مرسلین کو خصوصاً ظاہری صفائی کا بہت خیال رہتا ہے ۔اور وہ اپنے بدن اور کپڑوں کو نہایت پاک و صاف حالت میں رکھتے ہیں ۔اور کسی قسم کی عفونت اور بدبو کو اپنے اندر پیدا نہیں ہونے دیتے ۔ کیونکہ ان کو ہر وقت خدا کے دربار میں کام پڑتا ہے اور فرشتوں سے ملاقات رہتی ہے جہاں کسی قسم کی بد بو دار چیز کو رسائی نہیں ہو سکتی ۔ نیز خاکسار عر ض کرتا ہے کہ حافظ روشن علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ جس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کے دن نماز میں سجدہ کیا کرتے تھے وہاں سے کئی کئی دن تک بعد میں خوشبو آتی رہتی تھی ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود بہت کثرت کے ساتھ خوشبو کا استعمال فرماتے تھے ۔ورنہ جیسا کہ بعض وقت عوام سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔یہ کوئی معجزہ نہیں ہوتااور نہ کوئی خارق عادت بات ہوتی ہے بلکہ غیر معمولی صفائی اور طہارت کے نتیجہ میں یہ حالت پیدا ہو جاتی ہے ۔مگر افسوس کہ آج کل کے مسلمان جہاں اور خوبیوں کو کھو بیٹھے ہیں وہاں صفائی اور طہارت کی خوبی سے بھی اِلاَّ ما شاء اللہ معرا ہیں اور جن لوگوں کو کچھ تھوڑا بہت صفائی کاخیال رہتا ہے ان کی نظر بھی صرف سطحی صفائی تک محدود رہتی ہے ۔یعنی اوپر کے کپڑے جو نظر آتے ہیں وہ تو صاف رکھے جاتے ہیں۔لیکن بدن اور بدن کے ساتھ کے کپڑے نہایت درجہ میلے اور متعفن حالت میںرہتے ہیں۔
{ 328} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے بیان فرمایا کہ جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سے حدیث پڑھتا تھاتو ایک دفعہ گھر میں مجھ سے حضرت صاحب نے دریافت فرمایا کہ میاں تم آج کل مولوی صاحب سے کیا پڑھا کرتے ہو ؟میں نے کہا بخاری پڑھتا ہوں ۔آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایاکہ مولوی صاحب سے یہ پوچھنا کہ بخاری میں نہانے کا ذکر بھی کہیں آتا ہے یا نہیں؟ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نہانے وغیرہ کے معاملہ میں کچھ بے پروائی فرماتے تھے اور کپڑوں کے صاف رکھنے اور جلدی جلدی بدلنے کا بھی چنداں خیال نہ رکھتے تھے ۔ اس لئے ان کو متوجہ کرنے کے لئے حضرت صاحب نے یہ الفاظ فرمائے ہوںگے ۔
{ 329} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لے گئے تو شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم لاہوری نے اپنے مکان پر حضرت صاحب کو دعوت دی چنانچہ حضرت صاحب ان کی کوٹھی پر تشریف لے گئے ۔اس موقعہ پر مستری محمد موسیٰ صاحب نے حضرت صاحب سے سوال کیا کہ حضور لوگوں میں مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بدن مبارک پر مکھی نہیں بیٹھتی تھی اور آپ جب پاخانہ کر تے تھے تو زمین اسے فوراً نگل لیتی تھی کیا یہ درست ہے ؟ حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ فضول باتیں ہیں جو یونہی بعد میں لوگوں نے بنا لی ہیں اور پھر آپ نے چند منٹ تک اس قسم کے مسئلوں کے متعلق ایک مختصر سی اصولی تقریر فرمائی جس کا ماحصل یہ تھا کہ انبیاء اپنے جسمانی حالات میں دوسرے لوگوں کی طرح ہو تے ہیں ۔اور خدا کے عام قانون کے باہر ان کا طریق نہیں ہوتا ۔میں اسوقت بچہ تھا مگر یہ باتیں اور اس مجلس کا نقشہ اب تک میرے ذہن میں اسی طرح تازہ ہے ۔
{ 330} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کبھی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی زبان سے غصّہ کی حالت میں بھی گالی یا گالی کا ہمرنگ لفظ نہیں سُنا ۔زیادہ سے زیادہ بیوقوف یا جاہل یا احمق کا لفظ فرما دیا کر تے تھے اور وہ بھی کسی ادنیٰ طبقہ کے ملازم کی کسی سخت غلطی پر شاذ و نادر کے طور پر ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت صاحب کسی ملازم کی سخت غلطی یا بیوقوفی پر جانور کا لفظ استعمال فرماتے تھے ، جس سے منشاء یہ ہوتا تھا کہ تم نے جو یہ فعل کیا ہے یہ انسان کے شایانِ شان نہیں بلکہ جانوروں کا سا کام ہے۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 331} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرم ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مجھے پچیس سال تک حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے عادات و اطوار اور شمائل کو بغور دیکھنے کا موقعہ ملا ہے ۔گھر میں بھی اور باہر بھی میں نے اپنی ساری عمر میں آج تک کا مل طور پر تصنع سے خالی سوائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کسی کو نہیں دیکھا ۔حضور کے کسی قول یا فعل یا حرکت و سکون میں بناوٹ کا شائبہ تک بھی میں نے کبھی محسوس نہیں کیا۔
332 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی کبھی اپنے بچوں کو پیا ر سے چھیڑا بھی کرتے تھے اور وہ اس طرح سے کہ کبھی کسی بچہ کا پہنچہ پکڑ لیا۔ اور کوئی بات نہ کی خاموش ہو رہے یا بچہ لیٹا ہوا ہو تو اس کا پائوں پکڑ کر اس کے تلوے کو سہلانے لگے ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب کی اس روایت نے میرے دل میں ایک عجیب درد آمیز مسرت و امتنان کی یاد تازہ کی ہے کیونکہ یہ پہنچہ پکڑ کر خاموش ہو جانے کا واقعہ میرے ساتھ بھی ( ہاں اس خاکسار عاصی کے ساتھ جو خدا کے مقدس مسیح کی جوتیوں کی خاک جھاڑنے کی بھی قابلیت نہیں رکھتا) کئی دفعہ گذراہے ۔ وَذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ورنہ ’’ ہم کہاں بزم شہر یار کہاں ۔‘‘
{ 333} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسما عیل صاحب نے مجھ سے بیان کیاکہ ابتدائی ایام کا ذکر ہے کہ والد بزرگ وار(یعنی خاکسار کے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم ) نے اپنا ایک بانات کا کوٹ جو مستعمل تھا ہمارے خالہ زاد بھائی سید محمد سعید کو جو ان دنوں میںقادیان میں تھا کسی خادمہ عورت کے ہاتھ بطور ہدیہ بھیجا ۔محمد سعید نے نہایت حقارت سے وہ کوٹ واپس کر دیا اور کہا کہ میں مستعمل کپڑا نہیں پہنتا ۔جب وہ خادمہ یہ کوٹ واپس لا رہی تھی تو راستہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اس سے پو چھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرصاحب نے یہ کوٹ محمدؐسعید کو بھیجا تھا مگر اس نے واپس کر دیا ہے کہ میں اُترا ہوا کپڑا نہیں پہنتا ۔حضرت صاحب نے فرمایاکہ اس سے میر صاحب کی دل شکنی ہو گی ۔تم یہ کوٹ ہمیں دے جاؤہم پہنیں گے اور اُن سے کہہ دینا کہ میں نے رکھ لیا ہے ۔
{ 334} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسما عیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ ایک دفعہ دوپہر کے وقت میں مسجد مبارک میں داخل ہوا تو اس وقت حضرت مسیح موعودؑ اکیلے گنگناتے ہوئے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کایہ شعر پڑھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ ٹہلتے بھی جاتے تھے۔
کنت السواد لناظری فعمی علیک الناظر
من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر
میری آہٹ سن کر حضرت صاحب نے چہرے پر سے رومال والا ہاتھ اُٹھالیا تو میںنے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔حضرت حسان ؓ آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں سے تھے اور گویا آپ کے دربار ی شاعرتھے انہوں نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر یہ شعر کہا تھا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ’’تو میری آنکھ کی پتلی تھا ۔پس تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہو گئی اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے پرواہ نہیںکیونکہ مجھے تو بس تیری ہی موت کا ڈر تھا جو واقع ہو چکی۔ اس شعر کہنے والے کی محبت کااندازہ کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔مگراس شخص کے سمندر عشق کی تہ کو کون پہنچے کہ جو اس واقعہ کے تیرہ سو سال بعد تنہائی میںجب کہ اسے خداکے سوا کوئی دیکھنے والانہیں ۔یہ شعر پڑھتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کاتاربہ نکلتا ہے اور وہ شخص ان لوگوں میں سے نہیں ہے جن کی آنکھیں بات با ت پر آنسو بہانے لگ جاتی ہیں بلکہ وہ وہ شخص ہے کہ جس پراس کی زندگی میں مصائب کے پہاڑٹوٹے اور غم و الم کی آندھیاں چلیں مگر اس کی آنکھوں نے اس کے جذبات قلب کی کبھی غمازی نہیں کی۔
پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔ کہ:۔ یہ شعر کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْالخ مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے سامنے پڑھا تھا۔ اور مجھے سُنا کر فرمایا۔ کہ کاش! حسّان کا یہ شعر میرا ہوتا اور میرے تمام شعر حسّان کے ہوتے۔ پھر آپ چشم پُرآب ہو گئے۔ اس وقت حضرت اقدس نے یہ شعر کئی بار پڑھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حسّان بن ثابتؓ کے شعر کے متعلق پیرسراج الحق صاحب سے جو الفاظ فرمائے وہ ایک خاص قسم کی قلبی کیفیت کے مظہر ہیں۔ جو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل پر طاری ہو گی۔ ورنہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے کلام میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وہ محبت جھلکتی ہے جس کی مثال کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔ اور کسی دوسرے کے کلام میں عشق کا وہ بلند معیار نظر نہیں آتا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں آنحضرت ﷺ کے متعلق نظر آتا ہے۔
{335} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ماسٹرمحمدنذیراحمد خان صاحب متوطن نا دون ضلع کانگڑہ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں امتحان انٹرنس پاس کرنے کے بعد کچھ عرصہ کیلئے دھرم سالہ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں امید وارمحرر ہوا تھا ۔ ان دنوں کا واقعہ ہے کہ میں دفترمیں بیٹھا تھا اور میرے ہا تھ میں ریویوآف ریلیجنز کا پرچہ تھا کہ دھرم سالہ کے ڈسٹرکٹ بورڈ کا ہیڈ کلرک جس کا نام پنڈت مولا رام تھادفتر ضلع میں کسی کام کیلئے آیا ۔جب اس کی نظر ریویو آف ریلیجنز پر پڑی تو اس نے حیرا ن ہو کر مجھ سے پو چھا کہ کیا آپ بھی احمدی ہیں ؟ میں نے کہا ہاں میں احمدی ہوں ۔اس نے کہا تو پھرمیں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوںجو حضرت مرزا صاحب کیساتھ میرا گذرا ہے چنانچہ اس نے بیان کیا کہ میں ایک مذہبی خیال کا آدمی ہوں اور چونکہ مرزا صاحب کی مذہبی امور میں بہت شہرت تھی میں نے ان کے ساتھ بعض مذہبی مسائل میںخط و کتابت شروع کی ۔ اس خط وکتابت کے دوران میں مَیں نے ان کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں بعض اعتراض تھے۔حضرت مرزا صاحب کا جو جواب میرے پاس اس خط کا آیا اس میںمیرے اعتراضات کے متعلق کچھ جوابات لکھ کرپھر مرزا صاحب نے یہ لکھا تھا کہ پنڈت صاحب! آپ ان باتوں میںالجھے ہوئے ہیں حالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ خدا کا غضب آسمان پر بھڑک رہا ہے اور اس کا عذاب سالوں میں نہیں، مہینوں میں نہیں ،دنوں میں نہیں، گھنٹوں میں نہیں ،منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں زمین پر نازل ہونے والا ہے ۔ ان الفاظ کو پڑھ کر مجھ پر بہت اثر ہوا اور میں نے دل میںکہا کہ خواہ کچھ بھی ہو مرزا صاحب ایک نیک آدمی ہیں ان کی بات یو نہی رائیگاں نہیںجا سکتی ۔چنانچہ میںہر لحظہ اسی انتظار میں تھا کہ دیکھئے اب کیاہوتا ہے اور میں نے اسی خیال میں اس رات کو سوتے ہوئے مرزا صاحب کایہ خط اپنے سرہانے کے نیچے رکھ لیا ۔ صبح کو جب میںاُٹھا تو حسب عادت اشنان کی تیاری کرنے لگا اور اپنے ملازم کو میں نے بازارسے دہی لانے کیلئے بھیجا اور اپنے مکان میں ادھر اُدھر ٹہلنے لگا ۔اس وقت اچانک زلزلے کاایک سخت دھکا آیا اور اس کے بعد پیہم اس طرح دھکوں کا سلسلہ شروع ہوا کہ میرے دیکھتے دیکھتے آناً فاناًدھرم سالہ کی تمام عمارتیں ریزہ ریزہ ہو کر خاک میں مل گئیں؛اس وقت حضرت مرزاصاحب کے اس خط کا مضمون میری آنکھوں کے سامنے پھررہا تھا اور میرے منہ سے بے اختیار نکل رہا تھا کہ واقعی یہ دنوں اور گھنٹوں اور منٹوں کا عذاب نہیںبلکہ سیکنڈوں کا عذاب ہے ۔جس نے ایک آن کی آن میں تمام شہر کو خاک میں ملا دیا ہے اور اس کے بعد میں حضرت مرزا صا حب کابہت معتقد ہو گیا اور میں اُن کو ایک واقعی خدا رسیدہ انسان اور مصلح سمجھتا ہوں ۔ماسٹرنذیرخان صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب وہ یہ قصّہ بیان کر چکا تو دفتر ضلع کے ایک ہندو کلرک نے بطور اعتراض کے کہا کہ مرزا صاحب پر ایک جرم کی سزا میں جرمانہ بھی تو ہوا تھا ۔ ابھی میں نے اس کا جواب نہیں دیا تھا کہ پنڈت مولا رام خود بخود بولا کہ ہاں ایک بیوقوف نے جرمانہ کردیا تھا مگر عدالت اپیل میں وہ بری ہو گئے تھے۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ یہ وہی زلزلہ ہے جو ۱۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو آیا تھااور جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں متعدد جگہ ذکر کیا ہے ۔یہ زلزلہ ہندوستان کی تاریخ میں بے مثال تھاچنانچہ میں نے انسائیکلوپیڈیا میں پڑھا ہے کہ اس زلزلہ میں علاوہ لاکھوں کروڑوں روپیہ کے نقصان کے پندرہ ہزار جانوںکا بھی نقصان ہوا تھا۔
{ 336} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان میں کسی قدر لکنت تھی اور آپ پرنالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے اورکلام کے دوران میں کبھی کبھی جوش کی حالت میںاپنی ٹانگ پر ہاتھ بھی مارا کرتے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب کی یہ روایت درست ہے مگر یہ لکنت صرف کبھی کبھی کسی خاص لفظ کے تلفظ میں ظاہر ہوتی تھی ورنہ ویسے عام طور پر آپ کی زبان بہت صاف چلتی تھی اور ٹانگ پر ہاتھ مارنے کے صرف یہ معنی ہیں کہ کبھی کبھی جوش تقریر میں آپ کا ہاتھ اُٹھ کر آپ کی ران پر گرتا تھا۔
{ 337} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اور عبدالرحیم خان صاحب پسر مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری مسجد مبارک میں کھانا کھا رہے تھے جو حضرت کے گھر سے آیا تھا ۔ناگاہ میری نظر کھانے میںایک مکھی پر پڑی چونکہ مجھے مکھی سے طبعاً نفرت ہے میںنے کھاناترک کر دیا ۔اس پر حضرت کے گھر کی ایک خادمہ کھانا اُٹھا کر واپس لے گئی ۔اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت حضرت اقدس اندرون خانہ کھانا تناول فرما رہے تھے۔خادمہ حضرت کے پاس سے گذری تو اس نے حضرت سے یہ ماجرہ عرض کر دیا حضرت نے فوراً اپنے سامنے کا کھانا اُٹھا کر اس خادمہ کے حوالے کر دیا کہ یہ لے جاؤاور اپنے ہاتھ کا نوالہ بھی برتن میں ہی چھوڑ دیا ۔وہ خادمہ خوشی خوشی ہمارے پاس وہ کھانا لائی اور کہا کہ لو حضرت صاحب نے اپنا تبرک دیدیا ہے۔ اس وقت مسجد میں سیدعبدالجبارصاحب بھی جو گذشتہ ایام میں کچھ عر صہ با دشاہ سوات بھی رہے ہیں،موجود تھے چنانچہ وہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہو گئے۔
{ 338} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ۱۹۰۴ء میں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور میں قیام پذیر تھے ایک دفعہ رات کو بارش ہونی شروع ہو گئی ۔اس وقت حضرت اقدس مکان کی چھت پر تھے جہاں پر کہ ایک برسا تی بھی تھی بارش کے اُتر آنے پرحضور اس برساتی میں داخل ہونے لگے مگر اس کے عین دروازے میں مولوی عبداللہ صاحب متوطن حضر و ضلع کیمبل پورنماز تہجد پڑھ رہے تھے۔انہیں دیکھ کر آپ دروازہ کے باہر کھڑے ہو گئے اور اسی طرح بارش میں کھڑے رہے حتیٰ کہ مولوی عبداللہ صاحب نے اپنی نماز ختم کر لی پھر آپ برساتی میں داخل ہوئے ۔
{ 339} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ اوّل ہی اوّل جب حضرت مسیح موعود علیہ السلا م زمانہ مجددیت میں لدھیانہ تشریف لے گئے اس وقت سوائے ایک شخص یعنی میر عباس علی صاحب جو اس عاجز کے خسر اور چچا تھے کوئی اور حضرت کی صورت سے آشنا نہ تھااس سفر میں تین آدمی حضرت صاحب کے ہمراہ تھے۔ مولوی جان محمد صا حب اورحافظ حامد علی صاحب اور لالہ ملاوامل صاحب،میر عباس علی صاحب اور ان کے ساتھ کئی ایک اور آدمی پلیٹ فارم کا ٹکٹ لے کر حضرت صاحب کے استقبال کے لئے سٹیشن پر گئے اور گاڑی میں آپ کو اِدھر اُدھر تلاش کرنے لگے لیکن حضرت صاحب کہیں نظر نہ آئے ۔کیونکہ آپ گاڑی کے پہنچتے ہی نیچے اُتر کر سٹیشن سے باہر تشریف لے آئے تھے اور پھاٹک کے پاس کھڑے تھے۔خوش قسمتی سے میں بھی اس وقت وہیںکھڑا تھا کیونکہ مجھے خیال تھا کہ حضرت صاحب ضرور اسی راستہ سے آئیں گے۔ میں نے اس سے قبل حضرت صاحب کودیکھا ہوا نہیںتھا۔لیکن جونہی کہ میری نظر آپ کے نورانی چہرہ پر پڑی میرے دل نے کہا کہ یہی حضرت صا حب ہیں اور میں نے آگے بڑھ کر حضرت صاحب سے مصافحہ اور دست بوسی کر لی ۔اس کے بعد میرعباس علی صا حب وغیرہ بھی آ گئے اس وقت حضور کی زیارت کے لئے سٹیشن پر بہت بڑا مجمع تھا ۔جن میں نواب علی محمد صا حب رئیس جھجر بھی تھے۔نواب صاحب مذکور نے میر صاحب سے کہا کہ میر صاحب! میری کوٹھی قریب ہے اور اس کے گردباغ بھی ہے۔بہت لوگ حضرت مرزا صا حب کی ملاقات کیلئے آئیں گے اس لئے اگر آپ اجازت دیں تو حضرت صاحب کو یہیں ٹھہرا لیا جاوے ۔میر صا حب نے کہا کہ آج کی رات تو ان مبارک قدموں کو میرے غریب خانہ میں پڑنے دیںکل آپ کو اختیار ہے۔نواب صاحب نے کہا کہ ہا ں بہت اچھا ۔غرض حضرت صاحب کوقاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بٹھا کر ہمارے محلہ صوفیاںمیں ڈپٹی امیر علی صاحب کے مکان میں اتارا گیا ۔نماز عصر کا وقت آیا تو حضرت صاحب نے اپنی جرابوں پر مسح کیا ۔اس وقت مولوی محمدؐ موسیٰ صاحب اورمولوی عبد القادر صاحب دونوں باپ بیٹا موجود تھے ان کو مسح کرنے پر شک گذراتو حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت کیا یہ جائز ہے ؟آپ نے فرمایا ۔ہاں جائز ہے اس کے بعدمولوی محمدؐموسیٰ صاحب نے عرض کیا کہ حضور نماز پڑھائیں ۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ مولوی عبدالقادر صاحب پڑھائیں پھراس کے بعدمولوی عبد القادرصاحب ہی نمازپڑ ھاتے رہے۔اس موقعہ پرحضرت صاحب غالباً تین دن لدھیانہ میں ٹھہرے ۔بہت لوگ ملاقات کے لئے آتے جاتے تھے اور حضرت صاحب جب چہل قدمی کے لئے باہر تشریف لے جاتے تھے تواس وقت بھی بڑا مجمع لوگوں کا ساتھ ہوتا تھا ۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ یہ سفر غالباً ۱۸۸۴ء کے قریب کا ہو گامیر عباس علی صاحب جن کا اس روایت میں ذکرہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے ملنے والے تھے مگر افسوس کہ دعویٰ مسیحیت کے وقت ان کو ٹھوکر لگی اور وہ زمرہ مخالفین میں شامل ہوگئے اور پھر جلد ہی اس دنیا سے گذر گئے ۔ نواب علی محمدؐصاحب رئیس جھجر لدھیانہ میں رہتے تھے اورحضرت صاحب سے بہت اخلاص رکھتے تھے۔مگر افسوس کہ اوائل زمانہ میں ہی فوت ہو گئے۔قاضی خواجہ علی صاحب بھی بہت پرانے اور مخلص لوگوں میں سے تھے اوراب فوت ہو چکے ہیں ۔مولوی عبد القادر صاحب بھی جو حکیم محمدؐ عمر صاحب کے والدتھے کچھ عر صہ ہوا فوت ہو چکے ہیں اور ان کے والد مولوی محمدؐ موسیٰ صاحب تو اوائل زمانہ میں ہی فوت ہو گئے تھے ۔مولوی جان محمدؐجو حضرت صاحب کے ہمراہ لدھیانہ گئے تھے قادیان کے رہنے والے تھے اور حضرت صا حب کے ایک مخلص خادم تھے۔ان کے لڑکے عرف میاں بگا کو ہمارے اکثر دوست جانتے ہوں گے میاں غفار ایکہ بان جو کچھ عرصہ ہوا فوت ہو چکا ہے۔مولوی جان محمدؐ کا بھائی تھا۔
{ 340} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مالیر کوٹلہ بھی تشریف لے گئے تھے۔ قریب آٹھ دس آدمی حضور کے ہمراہ تھے ۔اس وقت تک ابھی مالیر کوٹلہ کی ریل جاری نہیںہوئی تھی میں بھی حضور کے ہمر کاب تھا ۔حضرت صا حب نے یہ سفر اس لئے اختیارکیا تھاکہ بیگم صا حبہ یعنی والدہ نواب ابرہیم علی خان صا حب نے اپنے اہل کاروں کو لدھیانہ بھیج کر حضرت صاحب کو بلایا تھاکہ حضور مالیر کو ٹلہ تشریف لا کر میرے لڑکے کو دیکھیں اوردعا فرمائیں ۔کیونکہ نواب ابراہیم علی خان صاحب کوعرصہ سے خلل دماغ کا عارضہ ہو گیا تھا ۔حضرت صاحب لدھیانہ سے دن کے دس گیارہ بجے قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بیٹھ کر تین بجے کے قریب ما لیر کوٹلہ پہنچے اور ریاست کے مہمان ہوئے جب صبح ہوئی تو بیگم صاحبہ نے اپنے اہل کاروں کو حکم دیا کہ حضرت صاحب کے لئے سواریاں لے جائیںتاکہ آپ باغ میںجا کرنواب صاحب کو دیکھیں۔مگر حضرت اقدس نے فرمایاکہ ہمیں سواری کی ضرورت نہیں ہم پیدل ہی چلیں گے چنانچہ آپ پیدل ہی گئے۔اس وقت ایک بڑا ہجوم لوگوںکا آپ کے ساتھ تھا ،جب آپ باغ میں پہنچے تو مع اپنے سا تھیوں کے ٹھہر گئے ۔ نواب صا حب کو ٹھی سے باہر آئے اور پہلی دفعہ حضرت صا حب کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے لیکن پھر آگے بڑھ کر آئے اور حضرت سے سلام علیکم کیا اور کہا کہ کیا براہین کا چوتھا حصہ چھپ گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ابھی تو نہیں چھپا مگر انشاء اللہ عنقریب چھپ جائے گا۔ اس کے بعد نواب صا حب نے کہا کہ آئیے اندر بیٹھیں چنانچہ حضرت صاحب اور نواب صا حب کوٹھی کے اندر چلے گئے اورقریباً آدھ گھنٹہ اندر رہے ۔چونکہ کوئی آدمی ساتھ نہ تھا اس لئے ہمیں معلوم نہیں ہوا کہ اندرکیا کیا باتیں ہوئیں۔اس کے بعدحضرت صاحب مع سب لوگوں کے پیدل ہی جامع مسجد کی طرف چلے آئے اور نواب صاحب بھی سیر کے لئے باہرچلے گئے ۔مسجد میںپہنچ کر حضرت صاحب نے فر مایا کہ سب لوگ پہلے وضوکریںاور پھردورکعت نمازپڑھ کر نواب صا حب کی صحت کے واسطے دعاکریں ۔کیونکہ یہ تمہارے شہر کے والی ہیں اور ہم بھی دعا کرتے ہیں ۔غرض حضرت اقدس نے مع سب لوگوں کے دُعا کی اور پھراس کے بعدفوراً ہی لدھیانہ واپس تشریف لے آئے اور باوجوداصرارکے مالیرکوٹلہ میں اور نہ ٹھہرے۔
{ 341} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمٰن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں قادیان کے سکول میں پڑھتا تھا تو اس زمانہ میں جو لوگ حضور کے لئے کوئی پھل وغیرہ بطور ہدیہ لاتے تھے تو بعض اوقات میرے ہاتھ اندرون خانہ کو بھجوا تے تھے عموماً حضور کچھ پھل بندہ کو بھی عطا فرما دیتے تھے اور بعض دفعہ تحریر کے کام میں اس قدر استغراق ہوتا تھا کہ بغیر میری طرف نظر اُٹھانے کے فرما دیتے تھے کہ رکھ دو ۔میں رکھ کر چلا آتا تھا ۔
{ 342} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمٰن صا حب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک بڑا موٹا کتاحضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے گھر میں گھس آیا اور ہم بچوں نے اسے دروازے بند کر کے مارنا چاہا ۔ لیکن جب کتے نے شورمچایا تو حضرت صاحب کو بھی پتا لگ گیا اور آپ ہم پر ناراض ہوئے چنانچہ ہم نے دروازہ کھول کرکتے کو چھوڑ دیا ۔
{ 343} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمٰن صاحب کشمیر نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ مکرمی لسی ڈار ساکن آسنورعلاقہ کشمیر اپنے بھائی حاجی عمر ڈار صاحب سے روایت کرتے تھے کہ جب میں ( عمر ڈار صاحب)پہلی دفعہ قادیان میں بیعت کے لئے آیا تو میرے یہاں پہنچنے کے بعد جو پہلی تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی وہ حقوق اقرباء کے متعلق تھی چونکہ میں نے اپنے بھائی (لسی ڈار) کا کچھ حق دبایا ہوا تھا۔ میں سمجھ گیا اور کشمیر پہنچ کر ان کا حق ان کو ادا کر دیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ومرسلین سے اصلاح خلق کا کام لینا ہوتا ہے اس لئے وہ عموما ًایسا تصرف کرتا ہے کہ جو کمزوریاں لوگوں کے اندر ہوتی ہیں ۔انہی کے متعلق ان کی زبان پر کلام جاری کرا دیتا ہے۔جس سے لوگوںکو اصلاح کا موقعہ مل جاتا ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات زندگی میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں اور حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر بھی بسا اوقات آپ کے مخاطب لوگوں کے حالات اور ضروریات کے مطابق کلام جاری ہوتا تھا ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حاجی عمر ڈارصا حب مرحوم آسنور کشمیر کے ایک بہت مخلص احمدی تھے اور اپنے علاقہ کے رئیس تھے اور اب ان کے لڑکے بھی سلسلہ کے ساتھ خوب اخلاص رکھتے ہیں ۔
{ 344} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ میرے والدمیاں حبیب اللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجھے نماز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سا تھ کھڑے ہونے کا موقعہ ملا اور چونکہ میںاحمدی ہونے سے قبل وہابی (اہلحدیث)تھا میں نے اپناپاؤں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاؤں کیساتھ ملاناچاہا مگر جب میںنے اپنا پاؤںآپ کے پاؤں کیساتھ رکھا تو آپ نے اپنا پاؤں کچھ اپنی طرف سرکا لیا جس پر میں بہت شرمندہ ہوا اور آئندہ کے لئے اس طریق سے باز آ گیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ فرقہ اہل حدیث اپنی اصل کے لحاظ سے ایک نہایت قابل قدر فرقہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سے مسلمان بدعات سے آزادہو کر اتباع سنت نبوی سے مستفیض ہو ئے ہیں۔مگر انہوں نے بعض باتوں پر اس قدر نامناسب زور دیا ہے اور اتنا مبالغہ سے کام لیا ہے کہ شریعت کی اصل روح سے وہ باتیں باہر ہو گئی ہیں ۔اب اصل مسئلہ تویہ ہے کہ نماز میں دو نمازیوں کے درمیان یو نہی فالتو جگہ نہیں پڑی رہنی چاہیے بلکہ نمازیوںکو مل کر کھڑاہونا چاہیے تاکہ اول تو بے فائدہ جگہ ضائع نہ جاوے ۔ دوسرے بے تر تیبی واقع نہ ہو تیسرے بڑے آدمیوں کو یہ بہانہ نہ ملے کہ وہ بڑائی کی وجہ سے اپنے سے کم درجہ کے لوگوں سے ذرا ہٹ کر الگ کھڑے ہو سکیں وغیرذالک۔مگر اس پر اہل حدیث نے اتنا زور دیا اور اس قدر مبالغہ سے کام لیا ہے کہ یہ مسئلہ ایک مضحکہ خیزبات بن گئی ۔اب گویا ایک اہل حدیث کی نماز ہونہیں سکتی جب تک وہ اپنے ساتھ والے نمازی کے کندھے سے کندھا اور ٹخنہ سے ٹخنہ اور پاؤں سے پاؤں رگڑاتے ہوئے نمازادا نہ کرے حالانکہ اس قدر قرب بجائے مفید ہونے کے نماز میں خواہ مخواہ پریشانی کا موجب ہوتاہے ۔
{ 345} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمدابراہیم صاحب نے مجھ سے بیا ن کیا کہ ۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے کہ میں ایک دن مسجد مبارک کے پاس والے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم تشریف لائے اور اندر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی تشریف لے آئے اور تھوڑی دیر میںمولوی محمد احسن صاحب امروہی بھی آگئے اور آتے ہی حضرت مسیح موعود ؑ سے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّل کے خلاف بعض باتیں بطور شکایت بیان کرنے لگے اس پر مولوی عبدالکریم صاحب کو جوش آگیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہر دو کی ایک دوسرے کے خلاف آوازیں بلند ہو گئیںاور آوازیں کمرے سے باہر جانے لگیں۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔ لَاَ تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ۔(الحجرات:۳) (یعنی اے مومنو!اپنی آوازوں کو نبی کی آوازکے سامنے بلند نہ کیا کرو) اس حکم کے سنتے ہی مولوی عبدالکریم صاحب تو فوراً خامو ش ہو گئے اور مولوی محمدؐاحسن صاحب تھوڑی دیر تک آہستہ آہستہ اپناجوش نکالتے رہے اور حضرت اقدس وہاں سے ا ُٹھ کر ظہر کی نماز کے واسطے مسجد مبارک میں تشریف لے گئے۔
{ 346} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں غلام نبی صاحب سیٹھی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب کہ میں قادیان میں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ’’آئینہ کمالات اسلام ‘‘تصنیف فرما رہے تھے حضرت صاحب نے جماعت کے ساتھ مشورہ فرمایاکہ علماء اور گدی نشینوں میں کس طرح تبلیغ ہونی چاہیے۔۔اس کے متعلق باہم تبادلہ خیالات شروع ہوا ۔حضرت نے فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے تو عربی زبان میں کوئی تصنیف ہونی چاہیے مگر مشکل یہ ہے کہ میں کوئی ایسی اچھی عربی جانتا نہیں ہوں ۔ہاں میں اردومیں مضمون لکھ لاتا ہوں اور پھر مل ملا کر عر بی کر لیں گے ۔چنانچہ حضرت صاحب اندرون خانہ تشریف لے گئے اور پھر جب حضورباہر تشریف لائے تو کچھ عربی لکھ کرساتھ لائے جسے دیکھ کر مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب حیران رہ گئے حتیّٰ کہ مولوی عبدالکریم صا حب نے فرمایاکہ میں نے عربی کا بہت مطالعہ کیا ہے لیکن ایسی عمدہ عربی میں نے کہیں نہیں دیکھی۔حضور نے فرمایاکہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے متعلق دُعا کی تھی سوخدا کی طرف سے مجھے چالیس ہزار مادہ عربی زبان کا سکھایا گیا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عربی زبان کا علم معجزانہ طور پرحضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا گیا تھا حتیّٰ کہ آپ نے یہ اعلان فرمایاکہ خواہ ساری دنیاکے علماء اور عرب اور مصر اور شام کے ادیب باہم مل کر میرا مقابلہ کرنا چاہیں مگر خدا ان کو عربی کی تصنیف میں میرے مقابلہ میں ذلّت کی شکست دیگا ۔اوروہ ہرگز میرے جیساپر مغز اورلطیف اور ملیح اورفصیح اور بلیغ کلام تصنیف نہیں کر سکیں گے۔چنانچہ باوجود آپ کے متعددمرتبہ چیلنج دینے کے کسی کو آپ کے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہیں ہوئی کیونکہ سب کے دل محسوس کرتے تھے کہ آپ کا عربی کلام اپنی معنوی اور ادبی خوبیوں کیوجہ سے ان کے دائرہ قدرت سے باہر ہے اور یہ سب کچھ ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر ظہور پذیر ہوا جس کا مطالعہ جہاں تک ادب عربی کی درسی تعلیم کاتعلق ہے بالکل معمولی تھا اور جس نے صرف عام معروف درسی کتب اوائل عمر میں استاد سے پڑھی تھیں اور بس مگر جب خدا نے اپنے پاس سے اپنی تقدیر خاص کے ماتحت اسے علم عطا کیا تو پھر وہی تھا کہ عرب وعجم کو للکارتا تھاکہ کوئی میرے مقابلہ میں آئے مگر کسی کو سر اُٹھانے کی جرأت نہ ہوتی تھی ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎
’’ جے تو اُسدا ہو رہیں تے سب جگ تیرا ہو ‘‘
{ 347} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ میں ابھی بالکل نوجوان تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کا شرف مجھے نصیب ہوااور وہ اس طرح پر کہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم جو ہمارے گاؤںکے پاس موضع تھ غلام نبی کے رہنے والے تھے۔ وہ بعارضہ اسہال یعنی سنگر یہنی سخت بیمارہوگئے اور علاج کیلئے قادیان آئے اور پھر قادیان میں ہی رہنے لگ گئے ان کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ حضرت صاحب بہت بزرگ آدمی ہیںاور ا ن کو الہام بھی ہوتاہے۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب پٹھانکوٹ کی ریلوے لائن ابھی جاری ہوئی تھی ۔حافظ حامدعلی صاحب کی بات سن کرمجھے حضرت کی ملاقات کاشوق پیداہوا اور میں نے اپنے والد صاحب سے اجازت لی۔ انہوں نے خوشی سے اجازت دی اور کہا کہ مرزاصاحب بہت بزرگ آدمی ہیں تم ان کے پاس بے شک جاؤچنانچہ میںحضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ۔انہی دنوںمیں مسجدمبارک کی بنیاد رکھی گئی تھی مگرابھی مسجد تعمیر نہ ہو ئی تھی۔ چونکہ میںحافظ قرآن تھا حضرت صاحب نے مجھے قرآن شریف سنانے کیلئے فرمایا جسے سُن کر آپ بہت خوش ہوئے پھر دو ایک دن ٹھہر کرمیں چلا آیااورحضرت صا حب نے مجھے فرمایا کہ زندگی کا اعتبار نہیں ہے جلدی جلدی آکر ملنا چاہیے۔اس کے بعد میں ہفتہ عشرہ کے بعد حضور کی خدمت میں حاضرہوتا رہتا تھا ۔ان دنوں میںمیں نے دیکھا کہ حضورکی زبان مبارک پر سبحان اللّٰہ اور سبحان اللّٰہ وبحمدہٖ کے الفاظ اکثر رہتے تھے۔اور ایک دفعہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ قناعت سے انسان خوش رہتا ہے۔اس زمانہ میں حضور کے پاس سوائے دو تین خادموں کے اورکوئی نہ ہوتا تھا ۔پھر بعد میں آہستہ آہستہ دو دو چار چار آدمیوں کی آمدو رفت شروع ہو گئی ۔ان دنوں میں میرے ایک عزیزدوست حافظ نبی بخش صاحب بھی جن کی عمراس وقت دس بارہ سال کی تھی میرے ہمراہ قادیان جایا کرتے تھے ۔رات ہوتی تو حضرت صاحب ہم سے فرماتے کہ آپ کہاں سوئیں گے۔ہم حضور سے عرض کرتے کہ حضور ہی کے پاس سو رہیں گے اور دل میں ہمارے یہ ہوتا تھا کہ حضور جب تہجد کے لئے رات کو اُٹھیں گے تو ہم بھی ساتھ ہی اُٹھیں گے۔مگر آپ اُٹھ کر تہجد کی نماز پڑ ھ لیتے تھے اور ہم کو خبر بھی نہ ہوتی تھی۔ جب آپ اُٹھتے تھے تو چراغ روشن فرمالیتے تھے ۔مگر جب لیٹتے تو چراغ گل کر لیتے تھے بعض اوقات ہم آپ کوچراغ گل کرتے دیکھتے تو دل میں بہت شرمندہ ہوتے تھے ان دنوں میں حضرت صا حب بعدنماز عصرسیر کیلئے باہر تشریف لے جایا کرتے تھے۔اور کوس کوس دو دو کوس نکل جایا کرتے تھے بعض وقت مغرب کی نماز باہر ہی پڑھ لیاکرتے تھے اور مجھے امام کرلیتے تھے اور آپ خود مقتدی ہو جا تے تھے ۔ایک دن آپ نے فرمایا کہ آج کس طرف سیر کو چلیں ؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت!آج تتلے کی نہر کی طرف چلیں ۔حضور مسکرانے لگے اور فرمایا کہ کسی نے ایک بھوکے سے پوچھاتھا کہ ایک اور ایک کتنے ہوتے ہیں ؟تو اس نے جواب دیا کہ دو روٹیاں۔سو میاں نور محمدؐ کا بھی یہی مطلب ہے کہ اسی راستے سے اپنے گاؤں کی طرف نکل جائیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ نورمحمد ؐصاحب پرانے اور مخلص آدمی ہیں ۔ان کا گاؤں فیض اللہ چک قادیان سے قریباً چار پانچ میل کے فاصلہ پر جا نب شمال مغرب آباد ہے اور موضع تتلہ جس کا اس روایت میں ذکر ہے قادیان سے ڈیڑھ دو میل کے فاصلہ پرایک گاؤں ہے جو فیض اللہ چک کے راستہ میں پڑ تا ہے ۔حافظ نور محمد صاحب کی قادیان میں ابتدائی آمد کا زمانہ ۱۸۸۴ء کے قریب کا معلوم ہوتا ہے۔واللہ اعلم ۔
{ 348} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صا حب نے مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہو شیار پور جا کر ٹھہرے تھے اور ماسٹر مرلی دھر آریہ کے ساتھ آپ کامباحثہ ہوا تھا ۔آپ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کے مکان پر ٹھہرے تھے۔ شیخ صاحب حضرت صاحب سے بہت ادب کے ساتھ پیش آتے تھے ان دنوں میں آپ نے یہ رؤیا دیکھا تھا کہ شیخ مہر علی صاحب کے مکان کے فرش کو آگ لگ گئی ہے ۔اور آپ نے خود پانی لے کر اسے بجھایا ہے۔اور آپ نے اس کی تعبیر یہ فرمائی تھی کہ شیخ صاحب پر کوئی بلا آنے والی ہے چنانچہ آپ نے قادیان واپس آکر شیخ مہر علی صاحب کو ایک خط کے ذریعہ اس بات کی اطلاع بھی دے دی تھی کہ میں نے ایسا خواب دیکھا ہے ۔آپ بہت توبہ و استغفار کریں ۔اس کے بعد شیخ صاحب کے خلاف ایک سنگین فوجداری مقدمہ شروع ہو گیا اور ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ ہندو اور مسلمانوں میں جو ہوشیار پور میں بلوہ ہوا تھا اس کے شیخ صا حب ذمہ دار ہیں ۔چنانچہ شیخ صا حب ما خوذ کر لئے گے ۔ اس زمانہ میں جب ہم حضرت صاحب کی خد مت میں حاضر ہوتے تھے تو حضور فرمایا کرتے تھے کہ شیخ مہر علی کے واسطے دُعا کیا کریں ۔اور اگرکسی کو ان کے متعلق کوئی خواب آوے تو بتادے اور صبح کے وقت دریافت فرمایاکرتے تھے کہ کوئی خواب دیکھا ہے یا نہیں ؟اور فرماتے تھے کہ رسول کریم ﷺبھی صحابہ سے اسی طرح دریافت فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ جو ہم گئے تو فرمایا کہ شیخ صاحب کے واسطے دُعا کر کے سونا ۔ حافظ نبی بخش صاحب نے ہنس کرعرض کیا کہ یہ (یعنی خاکسار نور محمدؐ) بہت وظیفہ پڑھتے رہتے ہیں ۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں تو وظیفہ نہیں کرتا صرف قرآن شریف ہی پڑھتا ہوں ۔آپ مسکرا کر فرمانے لگے کہ تمہاری تو یہ مثال ہے کہ کسی شخص نے کسی کو کہاکہ یہ شخص بہت عمدہ کھانا کھایا کرتا ہے تو اس نے جواب میں کہا کہ میں تو کوئی اعلیٰ کھانا نہیں کھاتا صرف پلاؤ کھایا کرتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ قرآن شریف سے بڑھ کراور کون سا وظیفہ ہے ۔یہی بڑا اعلیٰ وظیفہ ہے ۔
{ 349} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمدؐ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں اور حافظ نبی بخش صاحب حضرت صا حب کی ملاقات کے لئے گئے تو آپ نے عشاء کے بعدحافظ نبی بخش صاحب سے مخاطب ہو کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ’’ میاں نبی بخش آپ کہاں لیٹیں گے؟میاں نور محمدؐ تو لحد کی مشق کر رہے ہیں‘‘ بات یہ تھی کہ اس وقت میںجہاں لیٹا ہوا تھا میرے نیچے ایک ٹکڑا سر کنڈے کا پڑا تھا جو قد آدم لمبا تھا ۔اسے دیکھ کر آپ نے بطورمزاح ایسا فرمایا ۔کیونکہ دستور ہے کہ مردہ کو کسی سر کنڈہ سے ناپ کر لحد کو اس کے مطابق درست کیا کرتے ہیں ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی طبیعت نہایت بامذاق واقع ہوئی تھی اور بعض اوقات آپ اپنے خدام کے ساتھ بطریق مزاح بھی گفتگو فرمالیتے تھے۔ دراصل حدِ اعتدال کے اندر جا ئز خوش طبعی بھی زندہ دلی کی علامت ہے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی بعض اوقات اپنے صحابہ سے خوش طبعی کے طریق پر کلام فرماتے تھے ۔چنانچہ حدیث میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ اور حضرت علی ؓ اور بعض دوسرے صحابہ کھجوریں کھا رہے تھے کہ آپ کو حضرت علی ؓکے ساتھ مزاح کا خیال آیااور آپ نے اپنی کھائی ہوئی کھجوروں کی گٹھلیاں بھی حضرت علیؓ کے سامنے رکھنی شروع کر دیں اور بعد میں فرمایا کہ دیکھو کس نے زیادہ کھجوریں کھائی ہیں ؟ چنانچہ دیکھا تو حضرت علی ؓ کے سامنے کھجوروں کی گٹھلیوں کا ایک خاصہ ڈھیر لگا رکھا تھا ۔کیونکہ علاوہ آنحضرت ﷺ کے دوسرے صحابہ نے بھی اپنی گٹھلیو ں کا بیشتر حصہ حضرت علی ؓ کے سامنے جمع کر دیا تھا یہ دیکھ کر حضرت علیؓ پہلے تو کچھ شرمائے کہ میں سب سے زیادہ پیٹو ثابت ہوا لیکن جوانی کی عمر تھی اور ذہن بھی رسا رکھتے تھے فوراً بولے کہ بات یہ ہے کہ میں نے تو صرف کھجور کا گودا کھایا ہے اس لئے میرے سا منے گٹھلیاں جمع نظر آتی ہیں ۔ لیکن دوسرے لوگ گٹھلیاں بھی ساتھ ہی چٹ کر گئے ہیں ۔اس لئے ان کے سامنے گٹھلیاں نظر نہیں آتیں ۔ اس پر آنحضرت ﷺ بہت ہنسے۔اسی طرح ذکر آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے ایک عمر رسیدہ بوڑھی عورت نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے واسطے دعا فر مائیں کہ خدا مجھے جنت میں جگہ دے ۔ آپؐ نے فرمایا کہ جنت میں تو کوئی بوڑھی عورت نہیں جائیگی ۔وہ بے چاری بہت گھبرائی مگر آپ نے جلد ہی یہ کہہ کر اس کی تسلی کی ،کہ بات یہ ہے کہ جنت میں سب لوگ جوان بنا کر داخل کئے جاویں گے ۔غرض جائز اور مناسب مزاح شانِ نبوت کے منافی نہیں بلکہ زندہ دلی کی علامت ہے اور مجھ سے ڈا کٹر میرمحمدؐاسماعیل صاحب نے بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت بامذاق طبیعت رکھتے تھے اور بعض اوقات تو خود ابتدائًً مزاح کے طور پر کلام فر ماتے تھے ۔
{ 350} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہمارے گھر میں ایک خادمہ عورت رہتی تھی جس کا نام مہرو تھا ۔وہ بیچاری ایک گاؤں کی رہنے والی تھی اور ان الفاظ کو نہ سمجھتی تھی جو ذرا زیادہ ترقی یا فتہ تمدن میںمستعمل ہوتے ہیں چنانچہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے اسے فر مایاکہ ایک خلال لاؤ ، وہ جھٹ گئی اور ایک پتھر کا ادویہ کوٹنے والا کھرل اُٹھا لائی جسے دیکھ کر حضرت صاحب بہت ہنسے اور ہماری والدہ صاحبہ سے ہنستے ہوئے فرمایاکہ دیکھو میں نے اس سے خلال مانگا تھا اور یہ کیا لے آئی ہے۔اسی عورت کا ذکرہے کہ ایک دفعہ میاں غلام محمد ؐکا تب امرت سری نے دروازہ پر دستک دی اور کہا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کروکہ کاتب آیا ہے۔یہ پیغام لے کر وہ حضرت صاحب کے پاس گئی اور کہنے لگی کہ حضور قاتل دروازے پر کھڑا ہے اور بلاتا ہے ۔حضرت صاحب بہت ہنسے ۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 351} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں عبداللہ صا حب سنوری نے مجھ سے بیان کیا کہ شروع شروع میں حافظ حامد علی صاحب مرحوم حضرت صاحب کو مہندی لگایا کرتے تھے۔بعض اوقات میں بھی حاضر ہوتا تھا تو حضرت صاحب کمال سادگی کے ساتھ میرے ساتھ گفتگو فرمانے لگ جاتے تھے جس کا اثر یہ ہوتا تھا کہ بات چیت کی وجہ سے چہرہ میں کچھ حرکت پیدا ہوتی تھی اور مہندی گرنے لگ جاتی تھی۔اس پر بعض اوقات حافظ حامد علی صا حب مرحوم عرض کرتے تھے کہ حضور ذرا دیر بات چیت نہ کریں مہندی ٹھہرتی نہیں ہے ۔میں لگا کر باند ھ لوں تو پھر گفتگو فرمائیں ۔ حضرت صاحب تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر کسی خیال کے آنے پر گفتگو فرمانے لگ جاتے تھے ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعد میں کچھ عرصہ میاں عبداللہ نائی اور آخری زمانہ میں میاں عبد الرحیم نائی حضرت صاحب کو مہندی لگاتے تھے نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب میاں عبداللہ صاحب نے یہ روایت بیان کی تو حضرت صاحب کی یاد نے ان پر اس قدر رقت طاری کی کہ وہ بے اختیار ہو کر رونے لگ گئے۔یہ محبت کے کر شمے ہیں۔بسا اوقات ایک معمولی سی بات ہوتی ہے مگر چونکہ وہ ایک ذاتی اور شخصی رنگ رکھتی ہے اوراس سے محبوب کے عادات و اطوار نہایت سادگی کے ساتھ سامنے آجا تے ہیں ۔اس لئے وہ بعض دوسری بڑی اور اہم باتوں کی نسبت دل کو زیادہ چوٹ لگاتی ہے ۔
{ 352} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نورمحمدؐ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم نے حضرت صاحب سے دریافت کیا یہ جو حدیث میں مرقوم ہے کہ اگر انسان اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے تو وضو ٹوٹ جا تا ہے۔یہ کیا مسئلہ ہے ؟آپ نے فرمایا کہ شرمگاہ بھی تو جسم ہی کا ایک ٹکڑا ہے اس لئے یہ حدیث قوی نہیں معلوم ہوتی۔خاکسار عرض کرتاہے کہ اگر یہ روایت درست ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذباللہ آنحضرت ﷺ کا یہ قول درست نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ بات آنحضرت ﷺ کے منہ سے نکلی ہوئی معلوم نہیں ہوتی ۔اور حدیث میں روایتاً کوئی ضعف ہو گا ۔واللّٰہ اعلم ـ
{ 353} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمدؐ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے گاؤںفیض اللہ چک میں تشریف لے گئے اورہماری متصلہ مسجد میں تشریف فرما ہوئے اور بوقت مغرب بڑی مسجد میں لوگوں کے اصرار سے جا کر نماز پڑ ھائی ۔اس کے بعد آپ موضع تھہ غلام نبی میں تشریف لے گئے ۔کیونکہ وہاں آپ کی دعوت تھی ۔
{ 354} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمدؐ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت میرے والد صاحب مرحوم کاانتقال ہوا تو اس کے بعد میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ۔آپ نے مجھ سے مخاطب ہو کرفرمایا کہ حافظ صاحب اب بجائے والدین کے اللہ تعالیٰ کو سمجھو وہی تمہاراکا رساز اور متکفل ہو گا ۔ چنانچہ تاحال اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور ذرہ نوازی سے میری دستگیری فرمائی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ انبیاء اور اولیا کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ایک زندہ چیز ہوتی ہے جس کی زندگی کو دیکھنے والا اسی طرح محسوس کرتا ہے ۔جس طرح دوسری جاندار چیزوں کی زندگی دیکھی اور محسوس کی جاتی ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ ان کے نزدیک گویا خدا کا وجود ایک علمی دریافت ہے جس سے اگر کوئی شخص علمی فائدہ اُٹھانا چاہے تو اُٹھا لے اور بس بلکہ ان لوگوں کاتعلق خدا تعالیٰ کیساتھ ایسا ہی محسوس و مشہود ہوتا ہے جیسا کہ دو رشتہ داروں کا یا دو دوستوں کا باہمی تعلق ہوتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ خدا کا تعلق اس درجہ یا اس قسم کا ہوتا ہے جیسا کہ دوستوں یا رشتہ داروں کا ،بلکہ مطلب یہ ہے کہ محسوس و مشہود ہونے میں وہ اسی نوعیت کا ہوتا ہے جیسا کہ دنیاوی تعلقات ہوتے ہیں ۔یعنی دیکھنے والا محسوس کرتا ہے کہ جس طرح ان لوگوں کا اپنے والدین اور بھائیوں ،بہنوں اور بیوی بچوں اور دوستوں کے ساتھ ایک تعلق ہے اسی طرح اس ہستی کیساتھ بھی جسے خدا کہتے ہیں ان کا ایک معین تعلق ہے ۔گو وہ اپنے درجہ عمق یا وسعت میں دنیوی تعلقات سے ہزار درجے بڑھ کر ہو اور یہ تعلق ان لوگوں کی عملی زندگی کے تمام شعبوں میں بلکہ ہر حرکت و سکون اور قول و فعل میں اسی طرح (گودرجہ میں بہت بڑھ چڑھ کر) محسوس طور پر اثر ڈالتا ہو ا نظر آتا ہے جیساکہ دنیوی تعلقات اثر ڈالتے ہیںیعنی جس طرح ایک شخص اپنے دوستوں اوررشتہ داروں کے ساتھ میل ملاقات رکھتا ہے ان سے اپنے معاملات میں مشورہ لیتاہے کسی ضرورت یا تکلیف اور مصیبت کے وقت ان سے مددچاہتا ہے ان کیلئے اپنے دل میں محبت رکھتا ہے اور ان کے دل میں اپنی محبت کو پاتا ہے ان کے مفاد کو اپنے مفاد سمجھتا ہے اور ان کے کاموں میں ان کاہاتھ بٹاتا ہے ان کی خوشیوں اور غموںمیں ان کا شریک حال ہوتا ہے۔ وغیرذٰلک۔گویا اپنی کوئی الگ انفرادی زندگی نہیں گزارتا ۔بلکہ ان کے ساتھ مل کرایک متحدہ حیات کا منظر پیش کرتا ہے اسی طرح انبیاء اور اولیا کا تعلق جو وہ ذات باری تعالیٰ کے ساتھ رکھتے ہیں ۔ایک زندہ حقیقت کا حکم رکھتا ہے اور ہر دیکھنے والا محسوس کر سکتا ہے کہ جس طرح کسی کاکوئی باپ ہوتا ہے اورکوئی بیٹا ،کوئی بیوی اور کوئی بھائی اور کوئی دوست اسی طرح انبیاء و اولیا ء اور صالحین خدا کے ساتھ ایک رشتہ رکھتے ہیںجو خواہ خادم و آقا والا ہی رشتہ ہے مگر محبت و وفا داری میں اپنی نظیر نہیں رکھتا ۔میں اپنے اندر ایک عجیب حالت محسوس کرتا ہوں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ’’ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ‘‘ کے نزول کے حالات کو پڑھتا ہوں ۔آپ کے والدماجد بیمار ہوتے ہیں اور آپ کوالہام ہوتا ہے کہ ’’ وَالسَّمَآئِ وَالطَّارِقِ‘‘ یعنی آج شام کو ان کی دنیوی زندگی کا خاتمہ ہے۔آپ ان بوجھوں کودیکھ کرجو والدکی وفات سے آپ پر پڑنے والے تھے کچھ فکرمند ہوتے ہیں اور ایک لمحہ نظر کے لئے خیال آتا ہے کہ بعض وجوہ معاش والد کی زندگی کے ساتھ وابستہ ہیں وہ فوت ہو جائیں گے تو پھر کیا ہو گا ۔ اس پر جھٹ دوسرا الہام نازل ہوتا ہے۔ ’’ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ‘‘ یعنی اے میرے بندے !کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تیرا رب تیری دستگیری کے لئے کافی نہیں ہے؟ اللہ۔اللہ کیا ہی محبت بھرا کلام ہے ۔کوئی سمجھتا ہوگا کہ یہ زجر کا کلمہ ہے ۔ مگر جو ایسا خیال کرتا ہے۔ میں اسے محبت کے کوچہ سے محض ہاں بالکل محض نا آشنا خیال کرتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک ایسے موقعہ پر اظہار محبت کے واسطے اس سے زیادہ مناسب اور بہتر الفاظ چنے نہیں جا سکتے تھے۔یہ ایسا ہی کلام ہے جیسا کہ مثلاً کسی کا کوئی دور کا رشتہ دار کسی سے جدا ہونے لگے تو وہ اس پر کرب کا اظہار کرے اور یہ سمجھنے لگے کہ اب گویامیراکوئی پوچھنے والا نہیں رہا۔حالانکہ اس کا حقیقی باپ جو اسے دل و جان سے چاہتاہو اس کے پاس موجود ہو ۔ایسے وقت میں باپ اپنے اس گھبرائے ہوئے بیٹے سے کیا کہے گایہی نا کہ بیٹا کیا تو اپنے باپ کی محبت کو بھول گیا ۔کیا تیرا یہ دور کا رشتہ دار تجھ سے تیرے اپنے باپ کی نسبت زیادہ محبت رکھتاہے اور تیری زیادہ خبر گیری کر سکتا ہے ؟پس خدا کا یہ کلام بھی اسی طرح کا ہے کہ اے میرے بندے! کیا ہم تجھے تیرے باپ کی نسبت کم چاہتے ہیں جو تو ہمارے ہوتے ہوئے باپ کے فوت ہونے پر اس طرح گھبر اہٹ کا اظہار کرتا ہے ؟ پس یہ ایک محبّانہ کلام ہے جس کا ہر لفظ عشق و محبت میںڈوباہوا ہے اور اگر کوئی دوسرا طریق کلام کااختیار کیاجاتا جس میںیہ استفہامیہ طریق نہ ہوتا تو وہ ہرگز اس محبت کا حامل نہیں ہوسکتاجوکہ موجودہ الفاظ سے ظاہر ہو رہی ہے ۔پس اس الہام میںکوئی ایمانیا ت کاسوال نہیںہے یعنی محض علمی طور پر اس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود نہیں ہے کہ خدا اپنے بندوںکی دستگیری فرمایا کرتا ہے اور اے میرے بندے تو اس حقیقت سے غافل نہ ہوبلکہ اس محبت کااظہار مقصودہے جو ذات باری تعالیٰ کوحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تھی اور ایک محبت آمیز گلہ کے طریق پر اس گھبراہٹ کادور کرنا مقصود ہے جوایک عارضی خیال کے طورپر حضرت مسیح موعودؑ کے دل میں والد کی وفات کی خبر پا کر پیدا ہوئی تھی اورچونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اب پوری طرح خدا کی محبت کا مزا چکھ چکے تھے اوراس شراب طہور کے نشہ میں متوالے ہو چکے تھے جو خدائے قدوس کے اپنے ہاتھوں نے تیار کر کے آپ کے سامنے پیش کی تھی ۔ اس لئے حافظ نور احمدؐ کے والد کی وفات پر آپ کو اس سے بہترعزا پرسی کا طریق نہ سوجھا کہ حافظ صاحب اگر اب تک آپ ایسا نہ سمجھتے تھے تو کم از کم اب سے ہی اپنے رب کو اپنے والد کی جابجا سمجھو اور اسی کو اپنی امیدوں اور اپنی محبت کا تکیہ گاہ بناؤ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ یہ وہ نکتہ ہے جسے جس نے سمجھا وہ فلاح پا گیا ۔اے میرے آقا و مولا! مجھے کوئی حق نہیں ہے کہ تجھ سے کچھ مانگوں کیونکہ تیرا کوئی حق ادا کروں تو مانگتے ہوئے بھی بھلا لگتا ہوں ۔مگر تو خود کہتا ہے کہ مانگو اور تو نے یہ شرط نہیں لگائی کہ نیک شخص مانگے اور عاصی نہ مانگے پس اپنے پاک مسیح کی طفیل جس سے کچھ دور کی نسبت رکھتا ہوں مجھ پر بھی اپنی محبت کا ایک چھینٹا ڈال تا کہ ان مردہ ہڈیوں میںکچھ جان آئے اور اس پیاسے اور جھلسے ہوئے دل میںکوئی تازگی پیدا ہو اور اے مجھے اپنی مرضی سے نیست سے ہست میںلانے والے ایسانہ کر ہاں تجھے تیری ذات کی قسم ایسا نہ کر کہ میں اپنی شامت اعمال کی وجہ سے تیرے دروازے سے خالی ہاتھ لوٹ جاؤں۔
{ 355} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی قطب الدین صاحب طبیب نے مجھ سے بیان کیاکہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلی دفعہ لدھیانہ تشریف لے گئے تھے ۔اس وقت میں لدھیانہ میں ہی تھا اور پڑھا کرتا تھا ۔مجھے حضورکے آنے کی خبر ہوئی تو میں بھی حضور کو دیکھنے کے لئے سٹیشن پر گیا تھا۔جہاں میرعباس علی اور قاضی خواجہ علی صاحب اور نواب علی محمدؐصاحب آپ کے استقبال کیلئے گئے ہوئے تھے ۔ چنانچہ میں نے پہلی دفعہ حضرت صاحب کے ساتھ سٹیشن لدھیانہ پر ہی ملاقات کی اور پھر اس کے بعد کئی دفعہ حضور کے جائے قیام پر بھی حاضر ہوتا رہا ۔اور میں نے جب پہلی دفعہ حضرت صاحب کو دیکھا تو میرے دل پرایسا اثر ہوا کہ گویا میرا جسم اندر سے بالکل پگھل گیا ہے اور قریب تھا کہ میں بیہوش ہو کر گر جاتا مگر سنبھلا رہا۔ پھر اس کے بعد میں حضرت صاحب کی ملاقات کے لئے قادیان بھی آتا رہا ۔اس وقت تک ابھی صرف مجددیت کا دعویٰ تھا اور بیعت کا سلسلہ بھی شروع نہ ہوا تھا ۔اور جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا تو اس وقت مسجد مبارک کی تعمیر شروع تھی اور جس دن حضرت صاحب کے کرتہ پر سرخی کے چھینٹے پڑنے کا واقعہ ہوا اس دن بھی میںقادیان میں حضرت کی خدمت میں حاضر تھا۔
{ 356} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی قطب الدین صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ سلسلہ بیعت سے قبل جب صرف مجددیت کا دعویٰ تھا ۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میں حضور کو صدق دل سے سچا سمجھتا ہوں اور مجھے قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جس رنگ کا اثر اہل اللہ کی صحبت میں سنا جاتا ہے وہ میں حضور کی صحبت میں بیٹھ کراپنے اندر نہیں پاتا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ ملک کا ایک چکر لگائیں اور سب دیکھ بھال کر دیکھیں کہ جس قسم کے اہل اللہ آپ تلاش کرتے ہیں اور جو اثر آپ چاہتے ہیں وہ دنیا میں کہیں موجود بھی ہے یا نہیں یا یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں ۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ پھر میں نے اسی غرض سے تمام ہندوستان کاایک دورہ کیا اور سب مشہور مقامات مثلا ًکراچی، اجمیر ،بمبئی ،حیدرآباد دکن،کلکتہ وغیرہ میں گیا اورمختلف لوگوں سے ملااور پھر سب جگہ سے ہو کرواپس پنجاب آیا۔اس سفرمیںمجھے بعض نیک آدمی بھی ملے لیکن وہ بات نظر نہ آئی جس کی مجھے تلاش تھی ۔پھر میں وطن جانے سے پہلے حضرت صاحب کی ملاقات کیلئے قادیان کی طرف آیا مگر جب بٹالہ پہنچا تو اتفاقاً مجھے ایک شخص نے اطلاع دی کہ حضرت مرزا صاحب تو یہیں بٹالہ میں ہیں ۔چنانچہ میں حضرت کی ملاقات کے لئے گیا۔اس وقت آپ مولوی محمدحسین بٹالوی کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔میں جب گیا تو آپ باہر سیر سے واپس مکان کو تشریف لا رہے تھے چنانچہ میں حضور سے ملا اور حضور نے مجھ سے سفر کے حالات دریافت فرمائے جو میں نے عرض کئے اور پھر میں بٹالہ سے ہی واپس وطن چلا گیا۔اس سفر میں نصیر آبادمیںجواجمیر کی طرف ایک جگہ ہے مجھے ایسے لوگوںسے ملاقات ہوئی جو حضرت صاحب کے بہت معتقد تھے اور حضرت کے ساتھ خط وکتابت رکھتے تھے ۔ان لوگوں نے مجھے اپنے پاس مستقل طور پر ٹھہرانا چاہا اور میرے لئے ایک معقول صورت گذارے کی بھی پیش کی لیکن مجھے شرح صدر نہ ہوا ۔بعد میں جب حضرت صاحب نے مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ کیاتو یہ لوگ مرتد ہوگئے اور تب مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ مجھے وہاں ٹھہرنے کے لئے کیوں شرح صدر نہیں ہوا تھا۔ اگر میں وہاں ٹھہر جا تا تو ممکن ہے خودبھی کسی ابتلا میں پڑ جاتا ۔خیر اس کے بعدکچھ عرصہ گذرا اور میں قادیان نہ آیا ۔ اسی دوران میںسلسلہ بیعت بھی شروع ہوگیا اور مسیحیت کا دعویٰ بھی ہوگیا ۔لیکن گومیں بدستور معتقد رہا اور کبھی مخالفوں کی مخالفانہ باتوں کا میرے دل پر اثرنہیں ہوا کیونکہ میں خود اپنی آنکھوں سے حضرت صاحب کو دیکھ چکا تھا لیکن میں بیعت سے رُکا رہا ۔اس کے بعدایک دفعہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضرہوا تو حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول نے مجھ سے تحریک فرمائی کہ بیعت میں داخل ہو جانا چاہیے۔میںنے عرض کیا کہ مجھے ہرگز کوئی اعتراض نہیں ہے اور میں دل سے سچا سمجھتا ہوں لیکن اتنا بڑا دعویٰ بھی ہواور پھر میں اثر سے محروم رہوں اور اپنے اندروہ بات نہ پاؤں جواہل اللہ کی صحبت میں سنی جاتی ہے تو پھر مجھے کیافائدہ ہوا ۔یہ سُن کر حضرت صاحب نے فرمایاایسی صورت میں آپ کو واقعی بیعت میں داخل نہیں ہوناچاہیے ۔ ہاں آپ کچھ عرصہ میرے پاس قیام کریں۔پھر اگرتسلی اورتشفی ہو تو آپ کو اختیار ہے۔چنانچہ میں کچھ عرصہ یہاں ٹھہرا اور پھر بیعت سے مشرف ہو کرچلا گیا ۔جب میں نے بیعت کی درخواست کی تو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ کیا آپ کو اطمینان ہو گیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ حضورآپ کی صداقت کے متعلق تو مجھے کبھی بھی شک نہیں ہوا ہاں ایک اور خلش تھی سو وہ بھی بڑی حد تک خدا نے دور فرمادی ہے۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ مولوی سید محمدسرورشاہ صاحب نے مجھ سے یہ بیان کیا تھا کہ بعض لوگوں نے ان کے سامنے بھی بعض اوقات۔۔۔۔ حضرت صاحب کے متعلق اسی قسم کے خیال کا اظہار کیا تھا کہ آپ کی صداقت کے دلائل تو لا جواب ہیں اور آپ کی بزرگی بھی اظہر من الشمس ہے۔ لیکن جو اثر اہل اللہ کی صحبت کا سُناجاتا ہے وہ محسوس نہیں ہوتا ۔ چونکہ ممکن ہے اسی قسم کے خیالات بعض اور لوگوں کے دلوںمیںبھی پیدا ہوئے ہوںاس لئے اپنے علم کے مطابق خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خیال دو وجہ سے پیداہوتا ہے اور یہ کوئی نیاخیال نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے انبیاء ومرسلین کے زمانہ میں بعض لوگوں کے اندر پیدا ہوتا چلا آیا ہے۔ دراصل اگرغور سے دیکھا جاوے۔تو انبیاء کے متعلق لوگوں کے چارگروہ ہو جاتے ہیں ۔اوّل وہ منکرین جو نہ انبیاء کے دعویٰ کی صداقت کومانتے ہیں ۔ اور نہ ان کی ذاتی بزرگی اور روحانی اثر کے قا ئل ہوتے ہیں ۔دوسرے وہ منکرین جو بوجہ میل ملاقات اور ذاتی تعلقات کے انبیاء کی بزرگی اور ان کے روحانی اثر کے تو ایک حد تک قائل ہوتے ہیں لیکن پرانے رسمی عقائد کی بناپر دعویٰ کی صداقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیا ر نہیں ہوتے اس لئے منکر رہتے ہیں ۔تیسرے وہ مصدقین اور ماننے والے جن پر انبیاء کے دعویٰ کی صداقت بھی روشن وظاہرہو تی ہے اور ان کے روحانی اثر کوبھی وہ علیٰ قدرمراتب محسوس کرتے اور اس سے متمتع ہوتے ہیں اور چوتھے وہ مصدقین جو ان کے دعویٰ کی صداقت کو تو دل سے تسلیم کرتے ہیںاور عمومی رنگ میں ان کی بزرگی کو بھی مانتے ہیں اور اس لئے بالعموم ان کی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں لیکن اپنے اندر کوئی روحانی اثر محسوس نہیں کرتے اور اسی لئے اس جہت سے کچھ شکوک میں مبتلا رہتے ہیں ۔اس جگہ ہمیں چوتھے گروہ سے کا م ہے ۔جو صداقت کا تو قائل ہوتا ہے اور بزرگی کو بھی تسلیم کرتا ہے۔لیکن اپنے اندر روحانی اثر جیسا کہ چاہتا ہے محسوس نہیں کرتا۔سو جاننا چاہیے کہ یہ حالت انسان کی دو وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔اول تو یہ ہے کہ بعض اوقات اپنی غفلتوں اور کمزوریوں کی وجہ سے انسانی روح کے وہ دروازے اور کھڑکیاںجن میں سے کسی بیرونی روح کااثران تک پہنچ سکتا ہے بند ہو جاتی ہیں اور اس لئے وہ فیضان جو ان تک پہنچ سکتا تھا ان تک پہنچنے سے رکا رہتا ہے اور بعض وقت غفلت ایسی غالب ہوتی ہے کہ انسان یہ خیال نہیںکرتا کہ خود میری کھڑکیاںاور دروازے بند ہیں ۔بلکہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ باہر سے روشنی ہی نہیں آرہی اور اس طرح بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنے کے منبع فیض کی فیض رسانی پر حرف گیری کرنے لگ جاتا ہے ۔حالانکہ ایسے وقت میں چاہیے کہ انسان اپنی فکر کرے اور اپنے دل کی کھڑکیا ں کھولے تا کہ آفتاب ہدایت کی روشنی اور دھوپ اس کے اندر داخل ہو کر اس کی تا ریکیوں کو دور اور اس کی آلائشوں کو صاف کر سکے مگر کیاہی بد قسمت ہے وہ شخص جس نے یہ تو دیکھا اور سمجھا کہ سورج طلوع کر چکا ہے ۔لیکن اس نے اپنے دل کی کھڑکیاں نہ کھولیں اور اسی خیال میں اپنی عمر گذار دی کہ سورج کی روشنی میں کچھ نقص ہے کہ وہ مجھ تک نہیں پہنچتی ۔دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف تو لوگ منہاج نبوت سے نا واقف ہوتے ہیں اور بوجہ بعد از زمانہ نبوت نبیوں کے حالات اوران کے طرزطریق اور ان کے فیض رسانی کی صورت سے ناآشنا ہوتے ہیں اور دوسری طرف فقیروں اور ولیوں کے متعلق انہوں نے ایسے ایسے قصے اور حالات سُنے اور پڑھے ہوتے ہیں جو گو محض فرضی اور جھوٹے ہوتے ہیں مگر وہ ان کے اندر ولائت کا ایک معیار قائم کر دیتے ہیںجس کے مطا بق وہ پھر دوسروں کو پرکھتے ہیں اور اس کے مطابق نہ پانے پرشکوک و شبہات میں مبتلا ہونے لگ جاتے ہیں۔مثلاً فرض کرو کہ کسی نے یہ سُنا ہو کہ شیر وہ جانور ہے جس کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور گردن بہت لمبی ہوتی ہے اور دم بہت چھوٹی ہوتی ہے اور قد دس فٹ یا اس سے بھی زیادہ بلند ہوتا ہے وغیرذالک ۔تو وہ جب کبھی کوئی اصل شیر دیکھے گا تو لامحالہ یہی خیال کرے گا کہ یہ تو شیر نہیں ہے کیونکہ جو نقشہ اس کے ذہن میں شیر کا ہے۔اس کے مطابق وہ اسے نہیں پائے گا ۔ پس نبوت و ولایت کا ایک غلط نقشہ دل میں قائم ہو جانا بھی انسان کو اسی قسم کے شبہات میںمبتلا کر دیتا ہے۔پس ایسے حالات میں انسان کو چاہیے کہ آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی کا بغورمطالعہ کرے اور منہاج نبوت اور سنت نبوی کو اپنے سامنے رکھے اور زیدوبکر کے متعلق جو محض فرضی اور جھوٹے قصے مشہور ہوںان پر نہ جاوے اور اپنے معیار کو اس روشنی میں قائم کرے جو قرآن شریف اور سرور کائنات کے سوانح کے مطالعہ سے اسے حاصل ہو۔ ایک مسلمان کے واسطے بہر حال قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت مسلّم ہے ۔پس کیا وجہ ہے کہ زید وبکر کے متعلق وہ ایسی باتوں کوسچاتسلیم کرے۔جو قرآن مجیداورآنحضرت ﷺ میں بھی نہیں پائی جاتیں۔مسلمانوںمیں ولیوں اور بزرگوں کے متعلق ایسے ایسے مبالغہ آمیز اور لا یعنی قصّے اور خوارق مشہور ہیں کہ سُن کر حیرت آتی ہے اور تعجب ہے کہ یہ قصّے صرف زبانو ں تک محدودنہیںبلکہ بد قسمتی سے مسلمانوں کے لٹریچر میں بھی راہ پاچکے ہیں۔
اس دھوکے کے پیدا ہو نے کی ایک یہ وجہ بھی ہے۔کہ جیسا کہ میں نے اس کتاب کے حصہ اوّل میں لکھا تھا علم توجہ نے بھی مسلمانوں کو بہت تباہ کیا ہے ۔یہ علم ایک مفید علم ہے اور اس سے کئی صورتوں میں فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے لیکن اس کا غلط استعمال بھی اپنی نقصان رسانی میں کچھ کم نہیں ۔مسلمانوں میں جب روحانیت کم ہوئی اور لا مذہبی اورمادیت کا رنگ پیدا ہونے لگا تو جو لوگ نیک اور متقی تھے ان کو اس کا فکر پیدا ہوا لیکن وہ اپنی رو حانی حالت کو بھی ایسا قوی نہ پاتے تھے کہ ضلالت کے اس طوفان کو دبا سکیں ۔پس انہوں نے عوام کو تباہی سے بچانے کے لئے یہ راہ نکالی کہ علم توجہ سے جسے انگریزی میں Hypnotism کہتے ہیں کام لینا شروع کیا اور مذہب کی آڑ میں اس علم سے لوگوں کو مسخر کرنا چاہا ۔چنانچہ وقتی طور پر اس کا فائدہ بھی ہوا اور لوگ مادیت اور جھوٹی آزادی کی رو میںبہہ جانے سے ایک حدتک بچ گئے ۔مگر یہ خطرناک نقصان بھی ساتھ ہی ہواکہ آہستہ آہستہ ایک طرف تو خود توجہ کرنے والے بزرگ اس امر کی اصلی حقیقت سے نا آشنا ہوتے گئے اور دوسری طرف عوام اس نشہ میں ایسے مخمور ہوئے کہ بس اسی کودین و مذہب اور اسی کوروحانیت اوراسی کوجذب و اثر قرار دینے لگے اور ولایت کا ایک نہایت غلط معیار ان کے اندرقائم ہو گیا ۔حالانکہ علم توجہ دنیا کے علموں میں سے ایک علم ہے جسے مذہب کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔بلکہ ہر شخص اپنی محنت اور استعداد کے مطابق اسے کم و بیش حاصل کر سکتاہے گویا جس طرح ایک رونے والے بچے کو ماں اپنے آرام کے لئے افیم کی چاٹ لگا دیتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ بچہ افیم کو ہی اپنی غذا سمجھنے لگ جاتا ہے اور اس کے ملنے پر تسکین و راحت پاتا ہے اور اس کے بغیر روتا اور چلاتا اور تکلیف محسوس کرتا ہے اسی طرح مسلمانوں کا حال ہوایعنی علم توجہ کے نتیجہ میں جو ایک خمار اورسرور کی حالت عموماً معمول کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اسی کو وہ اپنی روحانی غذا سمجھنے لگ گئے اوراصل خوراک کو جو ان کی روح کاحصہ بن سکتی اور اس کی بقاکا موجب ہے بھلا دیا ۔فانا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
{ 357} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ مسیحیت اورمہدویت کا اعلان فرمایاتو اس سے اسلامی دنیا میں ایک خطرناک شور برپا ہو گیااور چند سال تک یہ طوفان بے تمیزی ترقی کرتا گیا اور مخالفت کی آگ زیادہ تیز ہوتی گئی اور نہ صرف مسلمان بلکہ آریہ اور عیسائی بھی یکجا ن ہو کرآپ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے خلاف اس قدر زہر اُگلا گیا اور اس قدر بد زبانی سے کا م لیا گیا کہ اللہ کی پناہ اور عملی طور پر بھی ایذا رسانی اور تکلیف دہی کے شرمناک طریق اختیار کئے گئے اور لوگوں کو آپ کی طرف سے بد ظن کرنے کیلئے طرح طرح کے الزامات آپ کے خلاف لگائے گئے اور آپ کو کافر،مرتد،دجال ، بے دین ،دہریہ ،دشمن اسلام،دشمن رسول،ٹھگ باز،دوکاندار وغیرہ وغیرہ کے الفاظ سے یاد کیا گیا ۔ان حالات میں آپ نے جن الفاظ میں علیحدگی میں بیٹھے ہوئے اپنے رب کومخاطب کیا وہ میں درج ذیل کرتا ہوں ۔یہ ایک نظم ہے جو آپ کی زبان سے جاری ہوئی اور جس میں آپ کی قلبی کیفیات کا کچھ تھوڑا خاکہ ہے ،آپ فرماتے ہیں :۔
اے قدیر و خالقِ ارض و سما
اے رحیم و مہربان و رہنما
اے کہ میداری تو بردلہا نظر
اے کہ از تو نیست چیزے مُسْتَتر
گر تو مے بینی مرا پر فسق و شر
گر تو دیدستی کہ ہستم بد گہر
پارہ پارہ کُن من بدکار را
شاد کن ایں زُمرۂ اغیار را
بر دل شاں ابر رحمت ہا ببار
ہر مراد شاں بفضل خود برآر
آتش افشاں بر در و دیوار من
دشمنم باش و تبہ کن کار من
در مرا از بندگانت یافتی
قبلۂ من آستانت یافتی
در دلِ من آں محبت دیدئہ
کز جہاں آں راز را پوشیدئہ
بامن از روئے محبت کارکن
اند کے افشائے آں اسرارکن
اے کہ آئی سوئے ہر جوئندئہ
واقفی از سوز ہر سوزندئہ
زاںتعلق ہا کہ با تو داشتم
زاں محبت ہا کہ در دل کاشتم
خود بروں آ ازپئے ابراء من
اے تو کہف و ملجا و ماوائے من
آتشے کاندر دلم افروختی
و زدم آں غیر خود را سوختی
ہم ازاں آتش رخِ من بر فروز
ویں شب تارم مُبدّل کُن بروز
یعنی ’’اے میرے قادر زمین وآسما ن کے پیدا کرنے والے! اے میرے رحیم اور مہربان اور ہادی آقا! اے دلوں کے بھیدوں کو جاننے والے جس پر کوئی بات بھی مخفی نہیں ہے!اگر تو مجھے شرارت اور فسق سے بھرا ہوا پاتا ہے اور اگر تو یہ دیکھتا ہے کہ میں ایک بدطینت آدمی ہوں تو تُومجھ بد کار کو پارہ پارہ کر کے ہلاک کر دے ۔اور میرے اس مخالف گروہ کے دلوں کوخوشی اور راحت بخش۔اور ان پر اپنی رحمت کے بادل برسا اور ان کی ہر خواہش کو اپنے فضل سے پورا فرمااور اگر میں ایسا ہی ہوں جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو تُو میرے درو دیوار پر غضب کی آگ نازل کر اورخودمیرا دشمن بن کرمیرے کاروبار کو تباہ و بر باد کر دے ۔لیکن اے میرے آقا!اگر تو مجھے اپنے بندوں میںسے سمجھتا ہے اور اپنے آستانہ کو میرا قبلہ توجہ پاتا ہے اور میرے دل میں اس محبت کو دیکھتا ہے جسے تو نے دنیا کی نظروں سے اس کی شامت اعمال کی وجہ سے پوشیدہ رکھا ہے تو اے میرے خدا میرے ساتھ محبت کامعاملہ کر اوراس چھپے ہوئے راز کو ذرا ظاہر ہونے دے ۔اے وہ کہ جوہر تلاش کرنے والے کی طرف خود چل کر آتا ہے اور اے وہ کہ جو ہر سوز محبت میں جلنے والے کی سوزش قلب سے آگاہ ہے۔ میں تجھے اس تعلق کا واسطہ دے کر کہتا ہوںکہ جو میرے دل میںتیرے لئے ہے اور اس محبت کو یاد دلا کر عرض کرتا ہوں کہ جس کے درخت کو میں نے اپنے دل میںنصب کیا ہے کہ مجھے ان الزاموں سے بری کرنے کے لئے تو خوداُٹھ ،ہاں اے میری پناہ اور میرے ملجاؤوماوٰے تو ایساہی کر ۔ وہ آتش محبت جو تو نے میرے دل میں شعلہ زن کی ہے جس کی لپٹوں سے تو نے میرے دل میں غیر کی محبت کو جلا کر خاک کر دیاہے اب ذرا اسی آگ سے میرے ظاہر کوبھی روشن فرما۔اور اے میرے مولا !میری اس تاریک و تار رات کو دن سے بدل دے‘‘۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض حالات میں خود انسان کا اپنے منہ سے نکلا ہوا کلام بھی اس کے صدق دعویٰ پر ایک یقینی شہادت ہوتا ہے ۔
{ 358} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔چوہدری حاکم علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب اپریل ۱۹۰۵ء میں بڑا زلزلہ آیا تھااور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے باغ میںتشریف لیجا کر ڈیرہ لگا لیا تھا اور اور بھی اکثر دوست باغ میں چلے گئے تھے ان دنوں میں میں بھی اپنے اہل و عیال سمیت قادیان آیا ہوا تھا ۔حضرت صاحب باغ میںتشریف لے گئے تو اس کے بعد قادیان میں طاعون پھیل گیا ۔میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور یہاں باغ میں تشریف رکھتے ہیں اور اکثر دوست بھی یہیں آگئے ہیں اور سب نے یہاںکسی نہ کسی طرح اپنی رہائش کا انتظام کر لیا ہے مگر میرے پاس یہاں نہ کو ئی خیمہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا زائد کپڑا ہے جس کے ساتھ چھپر وغیرہ تان سکوں اور نہ کوئی اور انتظام کی صورت ہے ۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہم تو یہاں زلزلہ کی وجہ سے آئے تھے ۔ لیکن اب قصبہ میںطاعون پھیلا ہوا ہے اور چونکہ ہم کو اللہ تعالیٰ اس حالت سے قبل یہاں لے آیا تھا اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کسی وجہ سے منشاء ہے کہ ہم فی الحال یہیں پر قیام کریں ورنہ ہمیں اور کوئی خیال نہیں ہے۔آپ شہر میںہمارے مکان میں چلیں جائیں۔ اس سے زیادہ محفوظ جگہ اور کوئی نہیں ۔چنانچہ میں حضور کے مکان میں آگیا ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ شریعت کا ایک حکم ہے کہ جس جگہ طاعون یا کوئی اور اسی قسم کی وبائی بیماری پھیلی ہو ئی ہو وہاں نہیں جانا چاہیے اور نہ ایسی جگہ کے باشندوں کووہاں سے نکل کرکسی دوسری بستی میں جانا چاہیے کیونکہ اس طرح وبا کے زیادہ پھیل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ جس جگہ طاعون کا زور ہو وہاں سے نکل کر ارد گرد کے کھلے میدانوں میں بھی جاکر ڈیرہ لگانامنع ہے ۔کیونکہ جس طرح طاعون زدہ علاقے سے نکل کرکسی دوسری آبادی میںجانامرض کے پھیلانے کاموجب ہو سکتا ہے اس طرح کھلے میدانوں میں جا کر ڈیرے لگانانہیں ہو سکتا بلکہ ایساکرناتو سراسر مفید ہے اور اس سے مرض کوبہت حد تک روکاجا سکتا ہے چنانچہ جہاں شریعت نے وبا زدہ علاقہ سے نکل کر دوسری آبادی میںجانے کوروکا ہے وہا ں ارد گرد کے کُھلے میدانوں میں پھیل جانے کو مستحسن قراردیا ہے اور اس کی سفارش کی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خاص استثنائی معاملہ تھااور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دی تھی کہ تیری چار دیواری (جسمانی اور روحانی)کے اندر کوئی شخص طاعون سے نہیںمرے گا کیونکہ ایسے تمام لوگ اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت میں ہونگے۔چنانچہ ایسا ہی ہو اکہ قادیان میںکئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میںطاعون آیا اور بعض اوقات ایک حدتک بیماری کا زور بھی ہوا ۔مگرآپ کے مکان میں کسی شخص کا اس وباسے مرناتو در کنار کبھی کوئی چوہابھی اس بیماری سے نہیں مرا حالانکہ آپ کے مکان کے چاروں طرف طاعون کا اثر پہنچا اور بالکل ساتھ والے متصل مکانات میں بھی طاعون کے کیس ہوئے مگرآپ کا مکان خدا کے فضل اوراس کے وعدہ کے مطابق بالکل محفوظ رہا۔ اسی طرح گوآپ کے روحانی مکان کی چار دیواری کی اصل تعیین کا علم صرف خدا کوہے اور صرف بیعت اور ظاہری حالت سے اس کے متعلق کوئی یقینی قیاس نہیں ہو سکتا لیکن آپ کے مخلص اور یک رنگ خادم بالعموم اس بیماری کے اثر سے نمایاں طورپر محفوظ رہے اور خدائی وعدہ کے مطابق طاعون کی بیماری ایک خارق عادت طور پر سلسلہ احمدیہ کی اشاعت اور ترقی کا موجب ہوئی۔چنانچہ اگر اشاعت سلسلہ کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیاجاوے توصاف نظر آتاہے کہ جس سرعت کیساتھ طاعون کے زمانہ میںسلسلہ کی ترقی ہوئی ہے ایسی سرعت اس وقت تک اور کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔نہ طاعون کے دور دورہ سے قبل اور نہ اس کے بعد ۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی بیان فرماتے تھے کہ جن دنوں میں اس بیماری کا پنجاب میں زور تھا ان دنوں میں بعض اوقات پانچ پانچ سو آدمیوں کی بیعت کے خطوط ایک ایک دن میںحضرت صاحب کی خدمت میںپہنچے تھے۔اور یہ سب کچھ اس خدائی پیش گوئی کے مطابق ظہور میں آیا جو پیش از وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے شائع کی گئی تھی۔
{ 359} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ روشن علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی دینی ضرورت کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کو یہ لکھا کہ آپ یہ اعلان فرماویںکہ میں حنفی المذہب ہوں حالانکہ آپ جانتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب عقیدتاً اہل حدیث تھے۔حضرت مولوی صاحب نے اس کے جواب میں حضرت صاحب کی خدمت میں ایک کارڈ ارسال کیا جس میں لکھا ؎
بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاںگوید
کہ سالک بے خبرنبود زراہ ورسم منزلہا
اور اس کے نیچے’’نور الدین حنفی‘‘ کے الفاظ لکھ دیئے ۔اس کے بعدجب مولوی صاحب حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت صاحب نے مولوی صا حب سے دریافت کیا کہ مولوی صاحب حنفی مذہب کا اصول کیا ہے؟مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اصول یہ ہے کہ قرآن شریف سب سے مقدم ہے اگر اس کے اندر کوئی مسئلہ نہ ملے تو آنحضرت ﷺ کے فعل وقول کو دیکھنا چاہیے جس کا حدیث سے پتا لگتا ہے اور اس کے بعد اجماع اور قیاس سے فیصلہ کرنا چاہیے ۔حضرت صاحب نے فرمایا تو پھر مولوی صاحب آپ کا کیا مذہب ہے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرا بھی یہی مذہب ہے۔اس پر حضرت صا حب نے اپنی جیب سے مولوی صا حب کا وہ کارڈ نکالااور ان کی طرف پھینک کرمسکراتے ہوئے فرمایاکہ پھر اس کا کیا مطلب ہے؟مولوی صاحب شرمندہ ہوکر خاموش ہوگئے۔خاکسار عرض کرتاہے کہ حضرت مولوی صاحب نے جو شعر لکھاتھا اس کا یہ مطلب تھاکہ اگرچہ میںاپنی رائے میںتو اہل حدیث ہوں۔لیکن چونکہ میرا پیر طریقت کہتا ہے کہ اپنے آپ کو حنفی کہو اس لئے میں اس کی رائے پر اپنی رائے کو قربان کرتا ہوا اپنے آپ کو حنفی کہتا ہوں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ احمدیت کے چرچے سے قبل ہندوستان میں اہل حدیث کا بڑاچرچا تھااور حنفیوں اور اہل حدیث کے درمیان(جن کو عموماً لوگ وہابی کہتے ہیں) بڑی مخالفت تھی اور آپس میں مناظرے اور مباحثے ہوتے رہتے تھے اور یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے گویا جانی دشمن ہو رہے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی کامیدان گرم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام گو دراصل دعویٰ سے قبل بھی کسی گروہ سے اس قسم کا تعلق نہیں رکھتے تھے۔جس سے تعصب یاجتھہ بندی کا رنگ ظا ہر ہو لیکن اصولاً آپ ہمیشہ اپنے آپ کو حنفی ظا ہر فرماتے تھے اور آپ نے اپنے لئے کسی زمانہ میںبھی اہل حدیث کانام پسند نہیںفرمایا۔حالانکہ اگر عقائدوتعامل کے لحاظ سے دیکھیںتوآپ کاطریق حنفیوں کی نسبت اہل حدیث سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔
{ 360} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صا حب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک مولوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوااور الگ ملاقات کی خواہش ظاہرکی۔جب وہ آپ سے ملا تو باتوںباتو ں میں اس نے کئی دفعہ یہ کہا کہ میں حنفی ہوں اور تقلید کو اچھا سمجھتا ہوں وغیرذالک۔آپ نے اس سے فرمایا کہ ہم کوئی حنفیوں کے خلاف تو نہیں ہیں کہ آپ باربار اپنے حنفی ہونے کا اظہار کرتے ہیں ۔ میں تو ان چاراماموںکو مسلمانوں کیلئے بطور ایک چار دیواری کے سمجھتا ہو ںجس کی وجہ سے وہ منتشر اور پراگندہ ہونے سے بچ گئے ہیں ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ہر شخص اس بات کی اہلیت نہیں رکھتا کہ دینی امور میں اجتہادکرے۔پس اگر یہ ائمہ نہ ہوتے تو ہر اہل و نااہل آزادانہ طور پر اپنا طریق اختیار کرتا۔اور امت محمدیہ میں ایک اختلاف عظیم کی صورت قائم ہو جاتی مگراللہ تعالیٰ کے فضل سے ان چاراماموں نے جو اپنے علم ومعرفت اورتقویٰ و طہارت کی وجہ سے اجتہاد کی اہلیت رکھتے تھے ۔ مسلمانوں کو پراگندہ ہو جانے سے محفوظ رکھا ۔ پس یہ امام مسلمانوں کے لئے بطور ایک چار دیواری کے رہے ہیں اور ہم ان کی قدر کرتے اور ان کی بزرگی اور احسان کے معترف ہیں ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں تو سارے اماموںکو عزت کی نظر سے دیکھتے تھے مگر امام ابو حنیفہ کو خصوصیت کے ساتھ علم و معرفت میں بڑھا ہواسمجھتے تھے اور ان کی قوت استدلال کی بہت تعریف فرماتے تھے ۔
 
Top