• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

سیرت المہدی

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 476} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض خاص فقرات حضور کی زبان پر اکثر جاری رہتے تھے۔ چنانچہ فرمایا کرتے تھے۔ اَلدُّعَآئُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ ـ لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَّاحِدٍ مَرَّتَیْنِ۔ بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام سے فقرہ نمبر ۲ کا ترجمہ بھی اکثر سُنا ہے یعنی مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں کاٹا جاتا۔
{ 477} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عورتوں سے بیعت صرف زبانی لیتے تھے۔ ہاتھ میں ہاتھ نہیں لیتے تھے۔ نیز آپ بیعت ہمیشہ اُردو الفاظ میں لیتے تھے۔ مگر بعض اوقات دہقانی لوگوں یا دیہاتی عورتوں سے پنجابی الفاظ میں بھی بیعت لے لیا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے پتہ لگتا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺبھی عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے اُن کے ہاتھ کو نہیں چُھوتے تھے۔ دراصل قرآن شریف میں جو یہ آتا ہے کہ عورت کو کسی غیر محرم پر اظہارِ زینت نہیں کرنا چاہئے۔ اسی کے اندر لمس کی ممانعت بھی شامل ہے۔ کیونکہ جسم کے چُھونے سے بھی زینت کا اظہار ہو جاتا ہے۔
{ 478} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب مرحوم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ یہ جو اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَ تُوْبُ اِلَیْہ پڑھنے کا کثرت سے حکم آیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسانی کمزوریوں اور غلطیوں کی وجہ سے انسان کو گویا ایک دُنب یعنی دُم لگ جاتی ہے جو کہ حیوانی عضو ہے۔ اور یہ انسان کے لئے بدنما اور اس کی خوبصورتی کے لئے ناموزوں ہے۔ اس واسطے حکم ہے کہ انسان بار بار یہ دُعا مانگے اور استغفار کرے تاکہ اس حیوانی دُم سے بچ کر اپنی انسانی خوبصورتی کو قائم رکھ سکے اور ایک مکرم انسان بنا رہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت میں غالباً یہ لفظی لطیفہ بھی مدِ نظر ہے کہ ذنب یعنی گناہ حقیقۃً ایک دُنب یعنی دُم ہے۔ جو انسان کی اصلی فطرت کے خلاف اس کے ساتھ لاحق ہو جاتی ہے۔ گویا جس طرح ذنب اور دُنب یعنی دُم کے الفاظ اپنی ظاہری صورت میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اسی طرح ان میں معنوی مشابہت بھی ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
{479} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سیّد عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ مَیں گھوڑی سے گِر پڑا۔ اور میری دا ہنی کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس لئے یہ ہاتھ کمزور ہو گیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد مَیں قادیان میں حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ حضور نے پوچھا۔ شاہ صاحب آپ کا کیا حال ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ کلائی کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے میرے ہاتھ کی انگلیاں کمزور ہو گئی ہیں اور اچھی طرح مٹھی بند نہیں ہوتی۔ حضور دعا فرمائیں کہ پنجہ ٹھیک ہو جائے۔ مجھ کو یقین تھا کہ اگر حضور نے دعا فرمائی تو شفا بھی اپنا کام ضرور کرے گی۔ لیکن بلاتامل حضور نے فرمایا۔ کہ شاہ صاحب ہمارے مونڈھے پر بھی ضرب آئی تھی جس کی وجہ سے اب تک وہ کمزور ہے۔ ساتھ ہی حضور نے مجھے اپنا شانہ ننگا کرکے دکھایا اور فرمایا کہ آپ بھی صبر کریں۔ پس اس وقت سے وہی ہاتھ کی کمزوری مجھ کو بدستور ہے اور مَیں نے سمجھ لیا کہ اب یہ تقدیر ٹلنے والی نہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب اپنے اصحاب سے کس قدر بے تکلف تھے کہ فوراً اپنے شانہ ننگا کرکے دکھا دیا۔ تاکہ شاہ صاحب اسے دیکھ کر تسلّی پا ئیں۔
{ 480} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض لوگ بیعت کے بعد حضرت مسیح موعودؑ سے پوچھتے تھے۔ کہ یا حضرت! ہم کونسا وظیفہ پڑھا کریں؟ تو حضور فرماتے کہ الحمدللہ اور درودشریف اور استغفار اور دُعا پر مداومت اختیار کرو اور دعا اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کثرت سے پڑھا کرو۔
{481} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ مَیں نے خواب میں ایک مرتبہ دیکھا کہ سید عبدالقادرؒ صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ نے پانی گرم کراکر مجھے غسل دیا ہے اور نئی پوشاک پہنائی ہے اور گول کمرہ کی سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ آئو ہم اور تم برابر برابر کھڑے ہو کر قد ناپیں۔ پھر انہوں نے میرے بائیں طرف کھڑے ہو کر کندھے سے کندھا ملایا۔ تو اس وقت دونوں برابر برابر رہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ یہ اوائل زمانہ کا رؤیاء ہو گا۔ کیونکہ بعد میں تو آپ کو وہ روحانی مرتبہ حاصل ہوا کہ ا متِ محمدیہ میں آپ سب پر سبقت لے گئے۔ جیسا کہ آپ کا یہ الہام بھی ظاہر کرتا ہے کہ ’’آسمان سے کئی تخت اُترے پر تیرا تخت سب سے اُوپر بچھایا گیا‘‘۔ اور آپ نے صراحت کے ساتھ لکھا بھی ہے کہ مجھے اس امت کے جملہ اولیاء پر فضیلت حاصل ہے۔
{ 482} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب کوئی نظم لکھتے اور ایسے موقعہ پر کسی اردو لفظ کی تحقیق منظور ہوتی۔ تو بسا اوقات حضرت امّ المومنینؓ سے اس کی بابت پوچھتے تھے۔ اور زیادہ تحقیق کرنی ہوتی تو حضرت میر صاحب یا والدہ صاحبہ سے بھی پوچھا کرتے تھے۔ کہ یہ لفظ کس موقعہ پر بولا جاتا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت والدہ صاحب چونکہ دہلی کی تھیں اس لئے روز مرّہ کے اردو محاوروں میں انہیں زیادہ مہارت تھی۔ جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام فائدہ اٹھا لیتے تھے مگر یہ استعانت صرف روزمرہ کے محاورہ تک محدود تھی۔ ورنہ علمی زبان میں تو حضرت صاحب کو خود کمال حاصل تھا۔
{ 483} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو عربی زبان سیکھنی چاہئے اور صحیح طریق کسی زبان کے سیکھنے کا یہ نہیں ہے کہ پہلے صرف و نحو پڑھی جائے۔ بلکہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اُسے بولا جائے۔ بولنے سے ضروری صرف و نحو خود آجاتی ہے۔ چنانچہ اسی لئے اس خاکسار کو ۱۸۹۵ء میں حضرت صاحب نے قریباً ایک ہزار فقرہ عربی کا مع ترجمہ کے لکھوایا۔ روزانہ پندرہ بیس کے قریب فقرے لکھوا دیتے۔ اور دوسرے دن سبق سُن کر اَور لکھوا دیتے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ طریق غالباً صرف بولنے اور عام استعداد پیدا کرنے کے لئے ہے۔ ورنہ علمی طور پر عربی زبان کی مہارت کے لئے صرف و نحو کا علم ضروری ہے۔
{484} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ان مسائل میں جن میں حلّت و حرمت کا سوال درپیش ہوتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔ کہ یہ یاد رکھنا چاہئے۔ کہ شریعت نے اصل اشیاء کی حلّت رکھی ہے۔ سوائے اس کے جہاں حرمت کی کوئی وجہ ہو یا ظاہری حکم حرمت کا موجود ہو۔ باقی اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ پر منحصر ہے۔ نیت درست ہو تو عمل مقبول ہو جاتا ہے۔ درست نہ ہو تو ناجائز ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ عام طریق تھا۔ کہ سوائے ایسے مسائل کے جن میں شریعت نے کوئی تصریح کی ہو ،اکثر صورتوں میں آپ الاعمال بالنیات پر بنیاد رکھتے تھے۔ اور مسائل کے جواب میں یہی فقرہ دُہرا دیتے تھے۔
{ 485} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ حضور سے کسی بچہ نے پوچھا۔کہ کیا طوطا حلال ہے۔ مطلب یہ تھا کہ ہم طوطا کھانے کے لئے مار لیا کریں۔ حضور نے فرمایا۔ میاں حلال تو ہے۔ مگر کیا سب جانور کھانے کے لئے ہی ہوتے ہیں؟ مطلب یہ تھا کہ خدا نے سب جانور صرف کھانے ہی کے لئے پیدا نہیں کئے۔ بلکہ بعض دیکھنے کے لئے اور دُنیا کی زینت اور خوبصورتی کے لئے بھی پیدا کئے ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے بھی یہی فرمایا تھا کہ سارے جانور نہیں مارا کرتے کیونکہ بعض جانور خدا نے زینت کے طور پر پیدا کئے ہیں۔ لیکن خاکسار کی رائے میں کسی جانور کی کثرت ہو کر فصلوں وغیرہ کے نقصان کی صورت ہونے لگے تو اس کا انسداد کرنا اس ہدایت کے خلاف نہیں ہے۔
{ 486} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سیٹھی غلام نبی صاحب مرحوم نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور نماز میں آنکھیں کھول کر توجہ قائم نہیں رہتی۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے فرمایا کہ آنکھوں کو خوابیدہ رکھا کرو۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی یہی طریق تھا۔
{487} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سیٹھی غلام نبی صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ جب آئینہ کمالات اسلام چھپ رہی تھی۔ تو ان دنوں میں مَیں قادیان آیااور جب مَیں جانے لگا تو وہ اسی(۸۰) صفحہ تک چھپ چکی تھی۔ مَیں نے اس حصہ کتاب کو ساتھ لے جانے کے لئے عرض کیا۔ اس پر مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے اعتراض کیا کہ جب تک کتاب مکمل نہ ہو ،دی نہیں جا سکتی۔ تب حضور نے فرمایا۔ جتنی چھپ چکی ہے میاں غلام نبی صاحب کو دے دو۔ اور لکھ لو کہ پھر اور بھیج دی جائے گی۔ اور مجھے فرمایا کہ اس کو مشتہر نہ کرنا۔ جب تک کہ مکمل نہ ہو جائے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ حضور کی شفقت تھی۔ کہ اپنے مخلصین کی خواہش کو ردّ نہیں فرماتے تھے ورنہ حضور جانتے تھے کہ جب تک کوئی کتاب مکمل نہ ہو جائے اس کی اشاعت مناسب نہیں ہوتی اور بعض جہت سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیٹھی غلام نبی صاحب اب فوت ہو چکے ہیں۔ چکوال ضلع جہلم کے رہنے والے تھے اور راولپنڈی میں دکان کرتے تھے۔ نہایت مخلص اور یک رنگ تھے۔
{ 488} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بابو محمد عثمان صاحب لکھنوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں ۱۹۱۸ء میں قادیان گیا تھا۔ اور چونکہ لالہ بڈھامل کا ذکر اکثر کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں موجود ہے۔ اس لئے مَیں نے ان سے ملنا چاہا۔ایک دن بورڈنگ سے واپسی پر بازار میں اُسکے پاس گیا۔ اور ایک دکان پر جا کر اس سے ملاقات کی۔ مَیں نے کہا کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل عمر میں دیکھا ہے۔ آپ نے ان کو کیسا پایا۔ کہنے لگا۔ کہ میں نے آج تک مسلمانوں میں اپنے نبی سے ایسی محبت رکھنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔ اس پر مَیں نے کہا۔ کہ آپ نے ان کے دعویٰ کو کیوں قبول نہ کیا۔ اس کے جواب میں اس نے کہا۔ یہ ذکر جانے دیجئے ۔یہ لمبی بحث ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی کتب میں زیادہ ذکر لالہ ملاوامل اور لالہ شرمپت صاحبان کا آتا ہے اس لئے مَیں خیال کرتا ہوں کہ بابو صاحب کو نام کی غلطی لگی ہے۔ غالباً وہ لالہ ملاوامل صاحب سے ملے ہونگے جو اب تک زندہ ہیں۔
{ 489} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ۱۹۰۴ء میں مَیں نے اپنی مذہبی حالت کے پیش نظر مولوی عبدالجبار صاحب وغیرہ کو جوابی خطوط لکھے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں صرف پوسٹ کارڈ بھیجا۔ ان سب کا مضمون یہ تھا۔ کہ مَیں زبان سے تو بے شک خدا تعالیٰ کا اور حشر و نشر کا مُقِرّ ہوں اور مسجدوں میں وعظ بھی کرتا ہوں مگر امرِ واقعہ اور کیفیت قلبی یہ ہے کہ مجھے خداتعالیٰ کا وجود مع اس کی عظمت اور محبت کے دل میں جا گزین ہو جاوے وغیرہ وغیرہ۔ دوسروں کی طرف سے تو کوئی جواب نہ آیا۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تحریری ارشاد آیا۔ کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اسی غرض اور ایسی بیماریوں کے لئے ہی بھیجا ہے۔ آپ یہاں آجاویں۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ مَنْ اَتٰی اِلَیَّ شِبْرًا الخ پس خاکسار حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کچھ عرصہ رہ کر بیعت سے مشرف ہو گیا۔
{ 490} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ خاکسار نے حضور علیہ السلام سے عرض کی۔ کہ مجھے نسیان کی بیماری بہت غلبہ کر گئی ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ رَبِّ کُلُّ شَیْ ئٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ پڑھا کرو۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہ اس سے مجھے بہت ہی فائدہ ہوا ہے۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{491} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال ضلع گورداسپور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ کہ مَیں اپنے بچپن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھتا آیا ہوں۔ اور سب سے پہلے مَیں نے آپ کو مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کی زندگی میں دیکھا تھا۔ جب کہ مَیں بالکل بچہ تھا۔ آپ کی عادت تھی۔ کہ رات کو عشاء کے بعد جلد سو جاتے تھے۔ اور پھر ایک بجے کے قریب تہجد کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ اور تہجد پڑھ کر قرآن کریم کی تلاوت فرماتے رہتے تھے۔ پھر جب صبح کی اذان ہوتی۔ تو سُنّتیںگھر میں پڑھ کر نماز کے لئے مسجد میں جاتے اور با جماعت نماز پڑھتے۔ نماز کبھی خود کراتے کبھی میاں جان محمد امام مسجد کراتا۔ نماز سے آکر تھوڑی دیر کے لئے سو جاتے۔ مَیں نے آپ کو مسجد میں سنت نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ سنت گھر پر پڑھتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ مرزا دین محمد صاحب مرزا نظام الدین صاحب کے برادر نسبتی ہیں۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔ اور حضرت صاحب کے سخت مخالف تھے۔ مرزا دین محمد صاحب ایک عرصہ سے احمدی ہو چکے ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں جان محمد مرحوم امام مسجد تھا اور قوم کا کشمیری تھا۔ نیک اور سادہ مزاج انسان تھا۔ اور اکثر حضرت صاحب کی خدمت میں رہتا تھا۔
{ 492} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ جب مَیں حضرت صاحب کے پاس سوتا تھا۔ تو آپ تہجد کے لئے نہیں جگاتے تھے۔ مگر صبح کی نماز کے لئے ضرور جگاتے تھے اور جگاتے اس طرح تھے کہ پانی میں انگلیاں ڈبو کر اس کا ہلکا سا چھینٹا پھوار کی طرح پھینکتے تھے۔ مَیں نے ایک دفعہ عرض کیا کہ آپ آواز دے کر کیوں نہیں جگاتے اور پانی سے کیوں جگاتے ہیں۔ اس پر فرمایا کہ رسُول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے اور فرمایا کہ آواز دینے سے بعض اوقات آدمی دھڑک جاتا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی آنحضرت ﷺ کی اتباع کرتے تھے۔
{ 493} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ مَیں نے حضرت صاحب سے درخواست کی کہ مجھے کسی جگہ نوکر کرا دیں۔ حضور نے فرمایا۔ ہمارے واقفوں میں سے ایک ڈپٹی کلکٹر نہر ہیں ان سے سفارش کر دینگے۔ مگر اس کے بعد مَیں خود ہی دوسری جگہ نوکر ہو گیا۔ لیکن بالآخر نہر ہی کی طرف آ گیا اور اٹھائیس سال ملازمت کی۔
{ 494} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت میں داخل تھا کہ اپنے دوستوں سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ طبی معاملات میں حکیموں ڈاکٹروں سے۔ قانونی باتوں میں وکلاء سے۔ فقہی مسائل میں علماء سے۔ مکان کی تعمیر ہو تو اوورسیروں یا راجوں مستریوں سے۔ گھر کا معاملہ ہو تو اہل بیت سے۔ اردو زبان کے کسی لفظ کے متعلق کوئی بات ہو۔ تو ہماری والدہ صاحبہ اور میر صاحب مرحوم سے۔ غرض آپ کی عادت تھی کہ چھوٹی بڑی ہر بات میں ایک یا زیادہ اہل لوگوں کو بلا کر مشورہ اور تبادلہ خیال کر لیا کرتے تھے۔ اسی طرح بہت سے معاملات مجلس احباب میں بعد مشورہ طے پاتے تھے۔ غرض آپ حتی الوسع ہر معاملہ میں مشورہ لیا کرتے تھے۔ پھر جس بات پر انشراح ہو جاتا۔ اُسے قبول کر لیا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی بہت کثرت سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ دراصل اسلامی نظام کی بنیاد ہی اوّلاً مشورہ اور بعدہٗ توکّل پر ہے۔
{ 495} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضور علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے۔ اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ۔ یعنی مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور کی مدد سے دیکھتا ہے۔
{ 496} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد جب باغ میں رہائش تھی تو ایک دن حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ آج ہم نے اپنی ساری جماعت کا جنازہ پڑھ دیا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ پورا واقعہ یوں ہے کہ ان ایام میں آپ نے جب ایک دفعہ کسی احمدی کا جنازہ پڑھا تو اس میں بہت دیر تک دُعا فرماتے رہے اور پھر نماز کے بعد فرمایا کہ ہمیں علم نہیں کہ ہمیں اپنے دوستوں میں سے کس کس کے جنازہ میں شرکت کا موقعہ ملے گا۔ اس لئے آج مَیں نے اس جنازہ میں سارے دوستوں کے لئے جنازہ کی دُعامانگ لی ہے اور اپنی طرف سے سب کا جنازہ پڑھ دیا ہے۔
{ 497} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ پیر منظور محمد صاحب ان سے بیان کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام بڑے زلزلہ کے بعد باغ میں مقیم تھے تو ایک دن آپ کو ایک الہام ہوا تھا۔ کہ ’’تین بڑے آدمیوں میں سے ایک کی موت‘‘ یہ الہام کہیں چھپا نہیں۔ پھر اس کے بعد ہی کچھ دن میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی بیمار ہو گئے اور چند روز میں فوت ہو گئے۔
{ 498} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اور قرآن مجید کا تذکرہ تھا۔آپ نے فرمایا کہ ایک بزرگ نے اپنی تمام جائیداد لِلّٰہ تقسیم کردی۔ اس پر کسی نے اس بزرگ سے کہا۔ کہ کیا ہی اچھا ہوتا۔ اگر آپ اپنے بیٹے کی لئے بھی کچھ رکھ لیتے۔ تو اس بزرگ نے جواب دیا۔ کہ مَیں اپنے بیٹے کے لئے سورۃ واقعہ چھوڑتا ہوں۔ کیونکہ حدیث شریف میں فضائل قرآن میں لکھا ہے کہ جو شخص ہر روز سورۃ واقعہ ورد کے طور پر پڑھتا ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ فاقہ سے بچاتا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر یہ روایت صحیح ہے تو یہ ایک خاص قسم کی حالت سے متعلق ہو گی ورنہ عام حالات میں اسلامی تعلیم یہ ہے۔ کہ ورثاء کا حق مقدم ہے چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب ایک دفعہ حضرت سعد بن ابی وقاص بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنا سارا مال صدقہ کرنا چاہا۔ مگر آنحضرت ﷺ نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا۔ کہ ورثاء کو بے سہارا نہیں چھوڑنا چاہئے۔
{ 499} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ غالباً دوسرا یا تیسرا سالانہ جلسہ تھا۔ کہ حضور ایک دن عشاء کی نماز کے لئے مسجد میں تشریف لائے اور آتے ہی فرمایا۔ کہ مولوی صاحب (مراد غالباً حضرت خلیفہ اوّلؓ ہیں۔ خاکسار مؤلف) میرے دل میں یہ آیات گزری ہیں۔ کہ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِ یَنَّھُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰)۔ اور یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ(الماعون:۸)۔ پھر حضور نے ان آیات کی اس قدر تشریح فرمائی۔کہ حاضرین نے متاثر ہو کر چیخیں مارنی شروع کردیں۔ بعد ازاں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے سورۃ مریم کی قراء ت سے نماز شروع کی۔ اور بحالتِ نماز بھی ویسا ہی رونے اور چیخنے کا شور پڑا ہوا تھا۔ جو بعد میں کم نظر آیا ہے۔ دوسرے روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر میں فرمایا کہ دُعا میں اس قدر اثر ہے۔ کہ اگر کوئی کہے کہ دعا سے پہاڑ چل پڑتا ہے تو مَیں اُسے یقین کرونگا اور اگر کوئی کہے کہ دعا سے درخت نقل مکانی کر جاتا ہے تو مَیں اسے سچ مانوں گا۔ ایک مسلمان کے پاس سوائے دُعا کے اور کوئی ہتھیار نہیں۔ یہی تو وہ چیز ہے جو انسان کی رسائی خداتعالیٰ تک کرا دیتی ہے۔
{ 500} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکڑ میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کے اخلاق میں بعض باتیں خاص طور پر نمایاں تھیں۔ اور ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ کبھی کسی کی دل شکنی کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ اور اس سے بہت ہی بچتے تھے۔ اور دوسروں کو بھی منع فرماتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری طبیعت پر بھی یہی اثر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کی سیرت کا یہ ایک خاص نمایاں پہلو تھا۔ کہ حتی الوسع دوسروں کی انتہائی دلداری فرماتے اور دل شکنی سے بچتے تھے۔
{501} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نبی بخش صاحب ساکن فیض اللہ چک حال محلہ دارالفضل قادیان نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ میرا لڑکا عبدالرحمن ہائی سکول میں تعلیم پاتا تھا وہ بعارضہ بخار محرقہ و سرسام تین چار دن بیمار رہ کر قادیان میں فوت ہو گیا۔ مَیں اس وقت فیض اللہ چک میں ملازم تھا۔ مجھے اطلاع ملی تو قادیان آیا اور حضرت مولوی نورالدین صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور اس سے فارغ ہو کر مَیں واپس فیض اللہ چک چلا گیا۔ پھر مَیں آئندہ جمعہ کے دن قادیان آیا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام مسجد مبارک کے پہلے محراب میں جو کھڑکیوں کے درمیان ہوتا تھا۔ تشریف فرما تھے۔ مَیں اندر کی سیڑھیوں سے مسجد میں گیا۔ جب حضور کی نظرِ شفقت مجھ پر پڑی تو حضور نے فرمایا:آگے آ جائو۔ وہاں پر بڑے بڑے ارکان حضور کے حلقہ نشین تھے۔ حضور کا فرمانا تھا کہ سب نے میرے لئے راستہ دیدیا۔ حضور نے میرے بیٹھتے ہی محبت کے انداز میں فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اپنے بچہ کی موت پر بہت صبر کیاہے۔ مَیں نعم البدل کے لئے دعا کروں گا۔ چنانچہ اس دُعائے نعم البدل کے نتیجہ میں خدا نے مجھے ایک او ربچہ دیا جس کا نام فضل الرحمن ہے جو آج کل بحیثیت مبلغ گولڈ کوسٹ افریقہ میں کام کر رہا ہے۔
{ 502} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ بنی بخش صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ مَیں ایک دفعہ بو جہ کمزوری نظر حضرت خلیفہ اوّلؓ کے پاس علاج کے لئے حاضر ہوا۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ نے فرمایا۔ کہ شاید موتیا اُتریگا۔ مَیں نے دو اور ڈاکٹروں سے بھی آنکھوں کا معائنہ کرایا۔ سب نے یہی کہا کہ موتیا اُتریگا۔تب مَیں مضطرب و پریشان ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام حال عرض کر دیا۔ حضور نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پڑھ کر میری آنکھوں پر دستِ مبارک پھیر کر فرمایا’’ مَیں دُعا کرونگا‘‘اس کے بعد پھر نہ وہ موتیا اُترا اور نہ ہی وہ کم نظری رہی اور اسی وقت سے خدا کے فضل و کرم سے میری آنکھیں درست ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ صاحب اس وقت اچھے معّمر آدمی ہیں اور اس عمر کو پہنچ چکے ہیں جس میں اکثر لوگوں کو موتیا بند کی شکایت ہو جاتی ہے۔
{ 503} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خوا جہ عبدالرحمن صاحب ساکن کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک کشمیری بھائی نے اپنے نوزائیدہ لڑکے کی ولادت پر مجھے خط لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نام دریافت کرکے تحریر کرو۔ مَیں نے حضرت اقدس سے اس بارہ میں استفسار کیا۔ حضور نے فوراً ہی ’’عبدالکریم‘‘ نام تجویز فرمایا۔ پھر کچھ خیال آیا۔ تو مجھ سے دریافت فرمایا کہ اس کے باپ کا کیا نام ہے۔ مَیں نے نام بتایا جواب مجھے یاد نہیں۔ حضور نے فرمایا۔ کہ اچھا جو نام پہلے مونہہ سے نکلا ہے۔ (یعنی عبدالکریم) وہی ٹھیک ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ خوا جہ عبدالرحمن صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کے زمانہ میں قادیان میں تعلیم پاتے تھے۔ اور اب کشمیر میں محکمہ جنگلات میں ملازم ہیں۔
{ 504} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خوا جہ عبدالرحمن صاحب ساکن کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اکثر اصحاب اپنے بچوں کے نام حضور علیہ السَّلام سے رکھواتے تھے اور حضور نام تجویز فرما دیتے تھے۔ حضرت مولوی شیر علی صاحب کے بڑے لڑکے کا نام عبدالرحمن اور بندہ کی دو بہنوں کے نام حلیمہ اور امۃ اللہ بھی حضور ہی کے تجویز کردہ ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ حضرت صاحب عموماً بچہ کا نام رکھتے ہوئے قریبی رشتہ داروں کے ناموں کی مناسبت ملحوظ رکھتے تھے۔
{ 505} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرم ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام بھی بعض اوقات ناموں سے تفاول لیتے تھے۔ نیز تبرّک کے طور پر لوگ آپ سے بچوں کے نام رکھوا لیتے تھے۔ اور آپ اکثر اس بات کا خیال رکھتے تھے۔ کہ باپ بیٹے کے نام میں یا بھائی بھائی کے نام میں مناسبت ہو۔ نیز آپ عموماً بچوں کے نام رکھنے میں فاطمہ اور سعید نام نہ رکھتے تھے۔ فاطمہ کے متعلق فرمایا کرتے تھے۔ کہ اگر خواب میں بھی نظر آئیں تو بالعموم اس سے مرادھم و غم ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت فاطمہ کی تمام عمر رنج و تکالیف میں گزری اور سعید کے متعلق فرماتے تھے کہ ہم نے جس کا نام بھی سعید سُنا اُسے بالعموم برخلاف ہی پایا۔ اِلاَّ ماشاء اللّٰہ ـ
خاکسار عرض کرتا ہے کہ علم الرویاء میں حضرت فاطمہ کو دیکھنا دنیوی لحاظ سے تکالیف کا مظہر ہوتا ہے مگر مَیں سمجھتا ہوں کہ اُخروی لحاظ سے ضرور مبارک ہوگا۔ کیونکہ حضرت فاطمہ سَیِّدَۃُ نِسَآئِ الْجَنَّۃ ہیں۔ اور سعید کے متعلق غالباً بعض نامبروں کے تلخ تجربہ سے حضور کو خیال پیدا ہو گیا ہو گا۔
{ 506} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی امام الدین صاحب سابق پٹواری حال محلہ دارالرحمت قادیان نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فراست دی گئی تھی کہ حضور علیہ السلام کو بعض دفعہ دوسرے شخص کی دل کی بات کا علم ہو جایا کرتا تھا۔ جس وقت میرا لڑکا ظہور احمد پیدا ہوا تو مَیں قادیان میں آیا۔ مسجد مبارک میں چند دوست بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے ذکر کیا کہ مَیں چاہتا ہوں ۔ کہ میرے لڑکے کا نام حضور میرے بڑے لڑکے نثار احمد کے نام پر رکھیں لیکن میرا بھی یہی خیال تھا اور دوسرے احباب نے بھی کہا کہ حضور عموماً والد کے نام پر بچہ کا نام رکھتے ہیں۔ اس لئے غالباً اب بھی حضور ایسا ہی کرینگے۔ حافظ حامد علی صاحب نے حضور کو میرے آنے کی اطلاع دی اور بچہ کی پیدائش کا بھی ذکر کیا۔ حضور مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے اور مجھے مبارکباد دی اور فرمایا کہ اس کا نام ظہور احمد رکھیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں امام الدین صاحب نے جو یہ کہا ہے کہ حضور کو دل کی بات کا علم ہو جاتا تھا۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ حضرت صاحب عالم الغیب تھے۔ کیونکہ غیب کا علم صرف خدا کو حاصل ہے۔ البتہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے تربیت کا کام لینا ہوتا ہے۔ اس لئے بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسا تصرّف فرماتا ہے کہ لوگوں کے دل میں جو خیالات کی رَو چل رہی ہوتی ہے۔ اس سے انہیں اطلاع دے دی جاتی ہے۔
{ 507} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ ماہ رمضان میں سحری کے وقت کسی شخص نے اصل وقت سے پہلے اذان دے دی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں نے دودھ کا گلاس منہ کے قریب کیا ہی تھاکہ اذان کی آواز آئی۔ اس لئے وہ گلاس مَیں نے وہیں رکھ دیا۔ کسی شخص نے عرض کی۔ کہ حضور ابھی تو کھانے پینے کا وقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہمارا دل نہیں چاہتا کہ بعد اذان کچھ کھایا جائے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ یہ روایت اگر درست ہے۔ تو حضور نے اس وقت اپنی ذات کے لئے یہ احتیاط برتی ہو گی۔ ورنہ حضور کا طریق یہی تھا۔ کہ وقت کا شمار اذان سے نہیں بلکہ سحری کے نمودار ہونے سے فرماتے تھے۔ اور اس میں بھی اس پہلو کو غلبہ دیتے تھے کہ فجر واضح طور پر ظاہر ہو جاوے۔ جیسا کہ قرآنی آیت کا منشاء ہے۔ مگر بزرگوں کا قول ہے کہ فتویٰ اور ہے اور تقویٰ اور۔
{ 508} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک نوجوان عرب جو حافظ قرآن اور عالم تھا، آکر رہا اور آپ کی تائید میں اس نے ایک عربی رسالہ بھی تصنیف کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی شادی کا فکر کیا۔ میرے گھر کے ایک حصہ میں میرے استاد حافظ محمد جمیل صاحب مرحوم رہا کرتے تھے۔ ان کی بیوی کی ایک ہمشیرہ نوجوان تھی۔ حضرت صاحب نے ان کو رشتہ کے لئے فرمایا۔ انہوں نے جواباً عرض کیا کہ لڑکی کے والد سے دریافت کرنا ضروری ہے۔ لیکن مَیں حضور کی تائید کروں گا۔ اتنے میں خاکسار حسب عادت قادیان گیا۔ جب مَیں نے مسجد مبارک میں قدم رکھا۔ تو اس وقت حضرت صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور وہ عرب صاحب موجود تھے۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ کہ’’ ھٰذَا رَجُلٌ حَافِظْ نُوْر مُحَمَّد‘‘ اور حضور نے فرمایا۔ کہ میاں نور محمد آپ عرب صاحب کو ہمراہ لے جائیںاور وہ لڑکی دکھلادیں۔ بعد نماز ظہر مَیں عرب صاحب کو ساتھ لے کر فیض اللہ چک کو روانہ ہوا۔ آپ کے ارشاد کے ماتحت کارروائی کی گئی۔ مگر انہوں نے پسند نہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام نے ان کی شادی مالیر کوٹلہ میں کرادی۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ ایک عرب صاحب جو آخری زمانہ میں قادیان آ کر رہے تھے۔ ان کا نام عبدالمحیٖ تھا اور حضرت صاحب نے ان کی شادی ریاست پٹیالہ میں کرا دی تھی۔ سو اگر اس روایت میں انہی کا ذکر ہے۔ تو مالیر کوٹلہ کے متعلق حافظ نور محمد صاحب کو سہو ہوا ہے۔ یا شاید یہ عرب صاحب اور ہوں گے۔
{ 509} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ جس سال حضور نے عید الاضحٰی کے موقعہ پر خطبہ الہامیہ پڑھا تھا۔ اس سال (۹ ؍ذی الحج) کو یعنی حج کے دن اعلان کرا دیا تھا کہ آج ہم دعا کریں گے۔ لوگ اپنے نام رقعوں پر لکھ کر بھیج دیں۔ چنانچہ قریباً تمام اصحاب الصفّہ اور مہمانان نے اپنے نام لکھ کر حضور کی خدمت میں پہنچا دئیے۔ اس کے بعد مَیں نے دیکھا کہ خاص خاص موقعوں پر لوگ اس طرح ناموں کی فہرست بنا کر حضور کی خدمت میں دعا کے لئے بھیجا کرتے تھے بلکہ بعد میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب روزانہ ہی ایسی فہرست ڈاک کے خطوط میں سے منتخب کر کے اور نیز دیگر حاجت مندانِ دُعا کے نام لکھ کر حضور کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب کی مراد اصحاب الصفہ سے وہ اصحاب ہیں۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیض صحبت کی خاطر اپنے وطنوں کو چھوڑ کر قادیان میں ڈیرہ جما بیٹھے تھے۔ جیسا کہ حضور کے الہام میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔
{ 510} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ جب بعض مخلصین حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت ہو کر جانے لگتے اور دعا کے لئے عرض کرتے تو حضرت صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے کہ آپ گاہ بگاہ خط کے ذریعہ سے یاد دہانی کراتے رہیں۔ مَیں انشاء اللہ دُعا کرونگا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض دوستوں کی عادت تھی۔ کہ حضور کی خدمت میں دُعا کے لئے قریباً روزانہ لکھتے تھے۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ لاہور کے ایک دوست کو کوئی کام درپیش تھا۔ جس پر انہوں نے مسلسل کئی ماہ تک ہر روز بلاناغہ حضور کی خدمت میں دُعا کے لئے خط لکھا۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 511} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صا حبہ یعنی امّ المؤمنین اَطَالَ اللّٰہُ بَقَائَہَا نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ مرزا نظام الدین صاحب کو سخت بخار ہوا۔ جس کا دماغ پر بھی اثر تھا۔ اس وقت کوئی اور طبیب یہاں نہیں تھا۔ مرزا نظام الدین صاحب کے عزیزوں نے حضرت صاحب کو اطلاع دی آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور مناسب علاج کیا۔ علاج یہ تھا کہ آپ نے مُرغا ذبح کراکے سر پر باندھا۔ جس سے فائدہ ہو گیا۔ اس وقت باہمی سخت مخالفت تھی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہو گی ورنہ آخری زمانہ میں تو حضرت خلیفہ اوّل جو ایک ماہر طبیب تھے ہجرت کرکے قادیان آگئے تھے یا ممکن ہے کہ یہ کسی ایسے وقت کی بات ہو۔ جب حضرت خلیفہ اوّلؓ عارضی طور پر کسی سفر پر باہر گئے ہونگے مگر بہرحال حضرت صاحب کے اعلیٰ اخلاق کا یہ ایک بیّن ثبوت ہے کہ ایک دُشمن کی تکلیف کا سُنکر بھی آپ کی طبیعت پریشان ہو گئی۔ اور آپ اس کی امداد کے لئے پہنچ گئے۔
{ 512} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صا حبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کو کبھی کبھار پائوں کے انگوٹھے پر نقرس کا درد ہو جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ شروع میں گھٹنے کے جوڑ میں بھی درد ہوا تھا۔ نہ معلوم وہ کیا تھا۔ مگر دو تین دن زیادہ تکلیف رہی۔ پھر جونکیں لگانے سے آرام آیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ نقرس کے درد میں آپ کا انگوٹھا سوج جاتا تھا۔ اور سُرخ بھی ہو جاتا تھا اور بہت درد ہوتی تھی۔ خاکسار نے بھی درد نقرس حضرت صاحب سے ہی ورثہ میں پایا ہے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو بھی کبھی کبھی اس کی شکایت ہو جاتی ہے۔
{ 513} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صا حبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے ٹخنے کے پاس پھوڑا ہو گیا تھا۔ جس پر حضرت صاحب نے اس پر سکّہ یعنی سیسہ کی ٹکیا بندھوائی تھی جس سے آرام آ گیا۔
{ 514} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب کے ساتھ کوئی امروہہ کا آدمی قادیان آیا۔ اس کے کان بند تھے۔ اور نلکی کی مدد سے بہت اونچا سُنتا تھا۔ اس نے حضرت صاحب کو دعا کے لئے کہا۔ حضور نے فرمایا۔ ہم دُعا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ سب چیزوں پر قادر ہے پھر اللہ نے اپنا فضل کیا کہ اس نے حضور علیہ السلام کی ساری تقریر سُن لی۔ جس پر وُہ خوشی کے جوش میں کود پڑا۔ اور نلکی توڑ کر پھینک دی۔
{ 515} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی ظفر احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ آتھم کے مباحثہ میں آتھم نے ایک دفعہ ایسے سوالات کئے کہ ہمارے بعض احباب گھبرا گئے کہ ان کا جواب فوراً نہیں دیا جا سکتا اور بعض احباب نے ایک کمیٹی کی اور قرآن شریف اور انجیل کے حوالہ سے چاہا کہ حضرت صاحب کو امداد دیں۔ مَیں نے مولوی عبدالکریم صاحب کو مزاحاً کہا کہ کیا نبوّتیں بھی مشورہ سے ہوا کرتی ہیں۔ اتنے میں حضرت صاحب تشریف لے آئے اور حضور کچھ باتیں کرکے جانے لگے تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ اگر کل کے جواب کے لئے مشورہ کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اس پر حضرت صاحب نے ہنستے ہوئے فرمایا کہ ’’آپ کی دُعا کافی ہے۔‘‘ اور فوراً تشریف لے گئے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ انبیاء اکثر امور میں مشورہ لیتے ہیں۔ اور ان سے بڑھ کر کوئی مشورہ نہیں لیتا مگر بعض ایسے اوقات ہوتے ہیں کہ جن میں وہ دوسرے واسطوں کو چھوڑ کر محض خدا کی امداد پر بھروسہ کرنا پسند کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں مشورہ کا بھی موقعہ اور محل ہوتا ہے اور کسی دشمن کی طرف سے علمی اعتراض ہونے پر انبیاء عموماًمحض خدا کی نصرت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ چنانچہ اس موقعہ پر خدا نے عیسائیوں کو ذلیل کیا۔
{ 516} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ غلام حسین صاحب لدھیانوی ہیڈ ڈرافٹسمین سنٹرل آفس نئی دہلی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ شیخ فرمان علی صاحب بی۔اے۔ اسسٹنٹ انجینئیر ساکن دھرم کوٹ بگہ ضلع گورداس پور نے جو کہ ۱۹۱۵ء میں لیڈی ہارڈنگ کالج نئی دہلی کی عمارت تعمیر کرا رہے تھے۔ مجھ سے ذکر کیا تھا۔ کہ ایک دفعہ مولوی فتح دین صاحب مرحوم دھرم کوٹی نے جو کہ عالم جوانی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہے ہیں۔ ان سے بیان کیا۔ کہ مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور اکثر ہوا کرتا تھااور کئی مرتبہ حضور کے پاس ہی رات کو بھی قیام کیا کرتا تھا۔ایک مرتبہ مَیں نے دیکھا۔ کہ آدھی رات کے قریب حضرت صاحب بہت بیقراری سے تڑپ رہے ہیں اور ایک کونہ سے دوسرے کونہ کی طرف تڑپتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ جیسے کہ ماہی ٔ بے آب تڑپتی ہے یا کوئی مریض شدت درد کی وجہ سے تڑپ رہا ہوتا ہے۔ مَیں اس حالت کو دیکھ کر سخت ڈر گیا اور بہت فکر مند ہوا اور دل میں کچھ ایسا خوف طاری ہوا کہ اس وقت مَیں پریشانی میں ہی مبہوت لیٹا رہا۔ یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کی وہ حالت جاتی رہی۔ صبح مَیں نے اس واقعہ کا حضور علیہ السلام سے ذکر کیا کہ رات کو میری آنکھوں نے اس قسم کا نظارہ دیکھا ہے۔ کیا حضور کو کوئی تکلیف تھی۔ یا درد گردہ وغیرہ کا دورہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ ’’ میاں فتح دین کیا تم اس وقت جاگتے تھے؟ اصل بات یہ ہے کہ جس وقت ہمیں اسلام کی مہم یاد آتی ہے۔ اور جو جو مصیبتیں اس وقت اسلام پر آرہی ہیں۔ ان کا خیال آتا ہے۔ تو ہماری طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے۔ اور یہ اسلام ہی کا درد ہے۔ جو ہمیں اس طرح بے قرار کر دیتا ہے۔‘‘
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی فتح دین صاحب مرحوم دھرم کوٹ متصل بٹالہ کے رہنے والے تھے اور قدیم مخلص صحابہ میں سے تھے۔ نیز خاکسار خیال کرتا ہے۔ کہ یہ واقعہ ابتدائی زمانہ کا ہے۔
{ 517} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میاں خیر دین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں وتروں کے متعلق سوال کیا کہ وہابی پانچ وتر بھی پڑھتے ہیں۔ تین بھی پڑھتے ہیں اورایک بھی۔ ان میں سے کونسا طریق درست ہے۔ حضور نے فرمایا۔ کہ مَیں تو تین وتر پڑھتا ہوں۔ دو الگ اور ایک الگ۔ ہاں ایک بھی جائز ہے۔ اس کے بعد میں نے بھی ہمیشہ حضور ہی کی طرح وتر پڑھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ سیکھواں ایک گائوں کا نام ہے۔ جو قادیان سے چار میل کے فاصلہ پر جانب غرب واقع ہے۔ اس جگہ کے تین بھائی میاں جمال الدین۔ میاں امام الدین اور میاں خیر الدین صاحبان حضرت صاحب کے قدیم اور مخلص صحابہ میں سے ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ گو میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی کا مجھ سے قریباً روز کا ملنا ہے۔ لیکن ان کی اکثر روایات مجھے مکرم مرزا عبدالحق صاحب وکیل گورداسپور نے لکھ کر دی ہیں۔ فَجَزَاہُ اللّٰہُ خَیْرًا ـ
{ 518} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے بچے چھوٹی عمر میں فوت ہو جاتے تھے۔ اسی طرح میرے بھائی امام الدین صاحب کے بھی۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ کشتہ فولاد قلمی سیاہی کی طرح کا دو ماہ کے حمل پر ایک رتی ہمراہ دودھ یا پانی استعمال کرانا شروع کر دیں۔ اور بچہ کے پیدا ہونے کے بعد بھی دُودھ چھوڑنے تک جاری رکھا جائے۔ اس نسخہ کے استعمال سے خدا کے فضل و کرم سے میرے بچے زندہ رہے۔ جن میں سے ایک مولوی قمر الدین مولوی فاضل ہیں۔ میرے بھائی امام دین صاحب کے لڑکے بھی اس کے بعد زندہ رہے۔ جن میں سے ایک مولوی جلال الدین صاحب شمس حال مبلغ لندن ہیں۔ اوربھی سینکڑوں آدمیوں کو یہ نسخہ استعمال کرایا۔ اور نہایت مفید ثابت ہوا۔
{ 519} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خوا جہ عبدالرحمن صاحب کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ چودھری حاکم علی صاحب نے ان سے ذکر کیا تھا کہ میں نے مسیح موعود علیہ السلام سے سُنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ولی کو بھی خراب اولاد کی بشارت نہیں دیتا۔ چہ جائیکہ مسیح موعود کو وہ ایسی خبر دے۔ یہ حضور علیہ السلام اپنی اولاد کے حق میں فرماتے تھے کہ وہ بُرے نہیں ہونگے بلکہ متقی اور صالح ہوں گے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کی نسبت بشارت دی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اصول کو اپنی کتب میں بھی بیان کیا ہے۔ مگر مَیں جب اپنے نفس میں نگاہ کرتا ہوں۔ تو شرم کی و جہ سے پانی پانی ہو جاتا ہوں۔ کہ خدا تعالیٰ ہمارے جیسے کمزور انسان کی پیدائش کو بھی بشارت کے قابل خیال کرتا ہے۔ پھر اُس وقت اِس کے سوا سارا فلسفہ بھول جاتا ہوں۔ کہ خدا کے فضل کے ہاتھ کو کون روک سکتا ہے۔ اَللَّھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ ـ
{ 520} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خواجہ عبدالرحمن صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے بھائی محمود احمد صاحب ساکن ڈنگہ ضلع گجرات سے سُنا ہے کہ جن دنوں کرم دین والا مقدمہ گورداسپور میں دائر تھا عموماً حضرت اقدس مقدمہ کی تاریخوں پر قادیان سے علی الصبح روانہ ہوتے تھے اور نماز فجر راستہ میں ہی حضرت مولوی فضل الدین صاحب بھیروی کی امامت میں ادا فرماتے تھے۔ ایک دفعہ بُٹراں کی نہر کے قریب نماز فجر کا جو وقت ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز فجر کا وقت ہو گیا ہے یہیں نماز پڑھ لی جائے۔ اصحاب نے عرض کی کہ حضور حکیم مولوی فضل الدین صاحب آگے نکل گئے ہیں اور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ساتھ ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسَّلام خاموش ہو گئے اور خود ہی امامت فرمائی۔ پہلی رکعت فرض میں آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں سورۂ اخلاص تلاوت فرمائی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مَیں فطرتاً اس قسم کی روایتوں کے لینے میں تأمل کرتا ہوں جن میں اِس وقت کے ایک مخالف گروہ پر زد پڑتی ہے۔ مگر جب میرے پاس ایک روایت پہنچتی ہے اور مَیں اس میں شک کرنے کی کوئی و جہ نہیں دیکھتا۔ اور نہ ہی راوی میں کوئی طعن پاتا ہوں تو اُس کے قبول کرنے پر مجبور ہوتا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ شاید اس قسم کے واقعات خدائی تصّرف کے ماتحت وقوع پذیر ہوئے ہوں وَاللّٰہُ اَعْلَمُ ـ
{521} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمد ابراہیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ غالباً ۱۹۰۴ء کا واقعہ ہے کہ ایک شخص نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے مسجد مبارک میں سوال کیا۔ کہ حضور اگر غیر احمدی باجماعت نماز پڑھ رہے ہوں تو ہم اس وقت نماز کیسے پڑھیں؟ آپؑ نے فرمایا۔ تم اپنی الگ پڑھ لو۔ اس نے کہا کہ حضور جب جماعت ہو رہی ہو تو الگ نماز پڑھنی جائز نہیں۔ فرمایا: کہ اگر ان کی نماز باجماعت عنداللہ کوئی چیز ہوتی تو مَیں اپنی جماعت کو الگ پڑھنے کا حکم ہی کیوں دیتا ان کی نماز اور جماعت جناب الٰہی کے حضور کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔ اس لئے تم اپنی نماز الگ پڑھواور مقررہ اوقات میں جب چاہو ادا کرسکتے ہو۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس وقت کسی مسجد میں دوسروں کی جماعت ہو رہی ہو ضرور اسی وقت نماز پڑھی جائے کیونکہ اس سے بعض اوقات فتنہ کا احتمال ہوتا ہے بلکہ غرض یہ ہے کہ ایک احمدی بہرحال الگ نماز پڑھے۔ اور دوسروں کے پیچھے نہ پڑھے۔
{ 522} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ خاکسار نے ۱۹۰۴ء میں بمقام گورداسپور بارہا حضرت احمد علیہ السَّلام کو دیکھا ہے کہ آپ عدالت میں پیشی کے واسطے تیزی سے سڑک پر جا رہے ہیں اور سامنے سے کوئی شخص دودھ یا پانی لایا تو آپ نے وہیں بیٹھ کر پی لیا اور کھڑے ہو کر نہ پیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینا ناجائز نہیں ہے مگر بہتر یہی ہے کہ بیٹھ کر تسلی سے پیا جاوے۔
{ 523} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سلام کا اس قدر خیال تھا کہ حضور اگر چند لمحوں کے لئے بھی جماعت سے اُٹھ کر گھر جاتے اور پھر واپس تشریف لاتے تو ہر بار جاتے بھی اور آتے بھی السَّلام علیکم کہتے۔
{ 524} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سیٹھی غلام نبی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے فرمایا۔ کہ لوگ حضرت صاحب کو تنگ کرتے ہیں اور بار بار دعا کے لئے رقعہ لکھ کر اوقات گرامی میں حارج ہوتے ہیں۔ مَیں نے خیال کیا کہ مَیں بھی حضور کو بہت تنگ کرتا ہوں شاید روئے سخن میری ہی طرف ہو۔ سو مَیں اسی وقت حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اگر حضور ہماری ان باتوں سے تنگ ہوتے ہوں تو ہم انہیں چھوڑ دیں۔ حضور نے فرمایا۔ نہیں نہیں بلکہ بار بار لکھو، جتنا زیادہ یاد دہانی کرائو گے اتنا ہی بہتر ہو گا۔
{ 525} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت کی عادت میں دن کے کسی خاص وقت میں قیلولہ کرنا داخل نہ تھا۔ آرام صرف کام پر منحصر تھا۔ بعض اوقات نصف شب یا اس سے زیادہ یا کبھی کبھی تمام رات ہی تحریر میں گزار دیا کرتے تھے۔ صبح کی نماز سے واپس آ کر بھی سو لیا کرتے تھے اور کبھی نہیں بھی سوتے تھے۔ سیر کو اکثر سورج نکلے تشریف لے جایا کرتے تھے اور گھر سے نکل کر احمدیہ چوک میں کھڑے ہو جاتے اور جب تک مہمان جمع نہ ہو لیتے کھڑے رہتے اور اس کے بعد روانہ ہوتے۔
{ 526} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصافحہ کبھی صرف دائیں ہاتھ سے کرتے تھے اور کبھی دائیں اور بائیں دونوں سے کرتے تھے۔ مخلصین آپ کے ہاتھوں کو بوسہ بھی دیتے تھے اور آنکھوں سے بھی لگاتے تھے اور بسا اوقات حضور کے کپڑوں پر بھی برکت حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پھیرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ سب نظارے سوائے دونوں ہاتھوں کے مصافحہ کے مَیں نے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔
{ 527} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک مستعمل کتاب ازالہ اوہام میرے پاس بطور تبرک کے رکھی ہے۔ اس میں حضرت صاحب نے اپنے ہاتھ سے ایک شعر لکھا ہوا ہے۔ جو میرے خیال میں حضور کا اپنا بنایا ہوا ہے ۔
شعر یہ ہے۔ ؎
ایں قوم مرا نشانہ ٔ نفریں کرد ہر حملہ کہ داشت برمنِ مسکین کرد
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ میری قوم نے مجھے نفرت و حقارت کا نشانہ بنا رکھا ہے اور کوئی حملہ ایسا نہیں جو وہ کرسکتی تھی اور پھر اس نے مجھ غریب پر وہ نہیں کیا۔
{528} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مقبرہ بہشتی میں دو قبروں کے کتبے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خود لکھے ہوئے ہیں اور وہ اس بات کا نمونہ ہیں کہ اس مقبرہ کے کتبے کس طرح کے ہونے چاہئیں۔ اب جو کتبے عموماً لکھے جاتے ہیں ان سے بعض دفعہ یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ شخص کہاں دفن ہے یا اس کے اندر کیا کیا خوبیاں تھیں یا سلسلہ کی کس کس قسم کی خدمت اس نے کی ہے۔ دو کتبے جو حضور نے خود لکھے وہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور صاحبزادہ مبارک احمد کے ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کا کتبہ ہمارے نانا جان مرحوم نے لکھا تھا اور حضرت خلیفہ اوّلؓ نے درست کیا تھا۔ اور حضرت خلیفہ اوّلؓ کا کتبہ غالباً ہمارے نانا جان مرحوم نے لکھ کر حضرت خلیفہ ثانی کو دکھا لیا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کے کتبہ میں حضرت خلیفہ اوّلؓ نے صرف اتنی تبدیلی کی تھی کہ جہاں نانا جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کتبہ کے آخر میں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ لکھے تھے اُسے حضرت خلیفہ اوّلؓ نے بدل کر عَلَیْہِ وَعَلٰی مُطَاعِہٖ مُحَمَّدٍ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کے الفاظ کر دئیے تھے۔
{ 529} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام روپیہ کا حساب بڑے اہتمام سے لیتے تھے اور جس شخص کے پاس کسی کام کے لئے روپیہ دیا ہو اور اس کا حساب مشتبہ ہو تو خفا بھی ہوتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ عموماً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی طریق تھا۔ جو میر صاحب نے بیان فرمایا ہے لیکن خاص اصحاب کی صورت میں ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ دی ہوئی رقم کا کوئی حساب نہیں لیتے تھے بلکہ جو رقم بھی خرچ کے بعد واپس کی جاتی تھی یا مزید رقم کا مطالبہ کیا جاتا تھا آپ حسبِ صورت پیش آمدہ بغیر کوئی سوال کئے رقم لے لیتے یا دے دیتے تھے۔
{ 530} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خوا جہ عبدالرحمن صاحب کشمیر نے مجھ سے بیان کیا کہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم ان سے بیان کرتے تھے کہ جب حضور کے پاس کہیں سے روپیہ آتا تھا تو حضور مجھے بلا لیتے اور بلا گنتی روپیہ دے دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس وقت روپیہ لے لو، نہ معلوم پھر کب ہاتھ میں آئے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم حضرت صاحب کے خاص خادم تھے جنہیں حضرت صاحب گھر کی ضروریات اور مہمانوں وغیرہ کی مہمانی کے لئے روپیہ دیا کرتے تھے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت اور روایت نمبر ۵۲۹ میں جو تضاد نظر آتا ہے یہ حقیقی تضاد نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے موقعہ کے لحاظ سے دونوں روایتیں درست ہیں اور حافظ حامد علی صاحب نے جو بات بیان کی ہے یہ غالباً خاص خاص لوگوں کے متعلق یا خاص حالات میں پیش آتی ہو گی۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{531} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی شاہ صاحب لودھیانوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب اول ہی اوّل حضور اقدس لدھیانہ تشریف لائے تھے تو صرف تین آدمی ہمراہ تھے۔ میاں جان محمد صاحب و حافظ حامد علی صاحب اور لالہ ملاوامل صاحب جو کہ اب تک زندہ موجود ہے غالباًتین روز حضور لدھیانہ میں ٹھہرے۔ ایک روز حضور بہت سے احباب کے ساتھ سیر کو تشریف لے گئے خاکسار بھی ہمراہ تھا راستہ میں عصر کی نماز کا وقت آگیا۔ اس وقت لالہ ملاوامل نے حضور سے کہا کہ نماز پڑھ لی جائے آنحضور نے وہیں پر مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی کی اقتداء میں نماز ادا کی اور ملاوامل ایک پاس کے چری کے کھیت کی طرف چلا گیا وَاللّٰہُ اَعْلَمُ وہاں نماز پڑھی ہو۔نیز اس وقت لالہ ملاوامل کا یہ حال تھا کہ اگر اُن کو کہا جاتا کہ آپ سونے کے وقت چارپائی لے لیا کریں تو وہ جواب دیتے مجھے کچھ نہ کہو۔ حضرت کے قدموں میں نیچے زمین پر ہی لیٹنے دو۔ حضرت اقدس عموماً صبح کی نماز خود ہی پڑھایا کرتے تھے۔
{ 532} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میاں محمد خان صاحب ساکن گِل منج ضلع گورداسپور نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ابتداء میں حضرت صاحب مسجد مبارک میں خود نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ایک آدمی آپ کے دائیں طرف کھڑا ہوتا تھا اور پیچھے صرف چار پانچ مقتدی کھڑے ہو سکتے تھے۔ اور جو آدمی پہلے نماز کے وقت دائیں جانب آ بیٹھتا۔ اس کو عرض کرنے کا موقعہ مِل جاتا۔ ایک روز مَیں بھی سب سے اوّل وضو کرکے مسجد مبارک میں دائیں جانب جا بیٹھا پھر حضور علیہ السلام تشریف لے آئے اور میرے قریب آ کر بیٹھ گئے اتنے میں چار پانچ آدمی پیچھے سے آئے وہ بڑے ذی عزّت معلوم ہوتے تھے۔ میں نے حضور علیہ السلام کے پائوں دبانے شروع کر دئیے اور حضور کی خدمت میں شرماتے ہوئے عرض کیا کہ حضور مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتائیں جس کے ذریعہ سے دین و دُنیا میں کامیابی حاصل ہو۔ حضور نے فرمایا۔ ’’استغفار بہت پڑھا کرو‘‘۔ سو اب تک یہی میرا وظیفہ ہے۔
{ 533} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مولوی گل علی شاہ صاحب سے جو حضرت صاحب کے استاد تھے ایک سیّد نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ (نعوذباللہ) آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم دوزخ میں پڑے ہیں اور جگہ جگہ زخم ہیں اور آگ جل رہی ہے اور باہر انگریزوں یا گوروں کا پہرہ ہے اس خواب کو سن کر مولوی گل علی شاہ صاحب کو سخت غم ہوا اور عقیدہ بھی بدل گیا اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شکوک پیدا ہو گئے۔ جب گل علی شاہ صاحب غمزدہ ہو کر یہ خواب کسی سے بیان کر رہے تھے تو اُوپر سے حضرت اقدس علیہ السلام سبق کے لئے آگئے تو آپ نے یہ خواب سُن کر اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ وہ شخص جس نے یہ خواب دیکھی ہے وہ خود مجذوم ہو جائے گا اور عیسائی ہو کر دوزخ میں گرے گا۔ سو ایسا ہی ہوا کہ وہ عیسائی ہوا اور پھر کوڑھی ہو کر مر گیا ۔اس تعبیر کو سُن کر مولوی گُل علی شاہ صاحب بہت خوش ہوئے اور ان کا عقیدہ بھی درست ہو گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ روایت نمبر۲۵۳ میں بھی یہ واقعہ باختلاف الفاظ بروایت مولوی شیر علی صاحب بیان ہو چکا ہے اور مولوی گل علی شاہ صاحب حضرت صاحب کے بچپن کے استاد تھے۔
{ 534} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں خاکسار خواجہ کمال الدین صاحب کے ہاں رہتا تھا۔ اس زمانہ میں خوا جہ صاحب نے اپنے ایک دوست سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعریف کے دوران میں کہا کہ حضور کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی نئی کتاب لکھتے ہیں تو میرے پاس اس کتاب کی ایک جلد ضرور روانہ فرما دیتے ہیں یا اپنے ہاتھ سے خود مرحمت فرماتے ہیں۔ اور فرمایا کرتے کہ اس کو شروع سے آخر تک قانونی نقطہ نگاہ سے ملاحظہ کر لو۔ مَیں اس کو محض حکم کے مطابق پڑھ لیتا ہوں گو مَیں خوب اچھی طرح جانتا ہوں کہ حضرت کی کتابیں قانونی نگاہ سے دیکھنے کی محتاج نہیں بلکہ اس سے حضور کا یہ مقصود ہوتا ہے کہ مَیں حضور کی تصنیف کو پڑھ لوں اور سلسلہ کی تعلیم سے واقف رہوں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ محقق صاحب دہلی کے رہنے والے ہیں اور مَیں نے سُنا ہے کہ ہمارے ننھیال سے ان کی کچھ رشتہ داری بھی ہے۔ کسی زمانہ میں غیر مبایعین کے سرگروہوں کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات تھے۔ خوب ہوشیار آدمی ہیں۔ اور اب خدا کے فضل سے مبایع ہیں۔
{ 535} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام میں مَیں نے ایک خاص بات دیکھی۔ کہ جتنی مرتبہ حضور باہر تشریف لاتے۔ مَیں دوڑ کر السَّلام علیکم کہتا اور مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتا۔ حضور فوراً اپنے ہاتھ میرے ہاتھ میں اس طرح دے دیتے کہ گویا اُس ہاتھ میں بالکل طاقت نہیں ہے یا یہ کہ وہ خالص اس لئے میرے سپرد کیا گیا ہے کہ جو چاہو اس ہاتھ سے برتائو کر لو۔ مَیں اس ہاتھ کو لے کر خوب چومتا اور آنکھوں سے لگاتا اور سر پر پھیرتا۔ مگر حضور کچھ نہ کہتے بیسیوں مرتبہ دن میں ایسا کرتا مگر ایک مرتبہ بھی حضور نے نہیں فرمایا کہ تجھے کیا ہو گیا ابھی تو مصافحہ کیا ہے ۔ پانچ پانچ منٹ بعد مصافحہ کی ضرورت نہیں۔
{ 536} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب آتھم کا مباحثہ امرتسر میں ہوا تو پہلے دن حضرت صاحب مع اُن خدّام کے جن کے پاس داخلہ کے ٹکٹ تھے وہاں تشریف لے گئے کیونکہ داخلہ بذریعہ ٹکٹ تھا۔ کوٹھی کے دروازہ پر ٹکٹ دیکھے جاتے تھے اور صرف ٹکٹ والے اندر جانے پاتے تھے۔ میں بچہ ہی تھا اور ساتھ چلا گیا تھا۔ محمد کبیر میرا خالہ زاد بھائی بھی ہمراہ تھا۔ ہم نے حضرت صاحب سے کہا کہ ہم بھی اندر چلیں گے۔ اس وقت گو ٹکٹ پورے ہو چکے تھے اور ہم مباحثہ کو پوری طرح سمجھ بھی نہ سکتے تھے۔ مگر حضرت صاحب نے ہماری درخواست پر ایک آدمی ڈپٹی عبداللہ آتھم یا پادری مارٹن کلارک کے پاس بھیجا کہ ہمارے ہمراہ دو لڑکے آگئے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو ہم ان کو اپنے ہمراہ لے آئیں۔ انہوں نے اجازت دے دی اور ہم سب کے ساتھ اندر چلے گئے۔ کوئی اور ہوتا تو ہم کو واپس گھر بھیج دیتا کہ تمہارا یہاں کوئی کام نہیں مگر یہ حضرت صاحب ہی کی دلداری تھی جو آپ نے ایسا کیا۔
{ 537} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صا حبہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت صاحب آخری سفر میں لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان سے کہا کہ مجھے ایک کام درپیش ہے دُعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔ مبارکہ بیگم نے خواب دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور مَیں ابوبکر ہوں۔ دوسرے دن صبح مبارکہ بیگم سے حضرت صاحب نے پوچھا کہ کیا کوئی خواب دیکھا ہے؟ مبارکہ بیگم نے یہ خواب سُنائی تو حضرت صاحب نے فرمایا۔ یہ خواب اپنی اماں کو نہ سُنانا۔ مبارکہ بیگم کہتی ہیں کہ اس وقت مَیں نہیں سمجھی تھی کہ اس سے کیا مراد ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خواب بہت واضح ہے اور اس سے یہ مراد تھی کہ حضرت صاحب کی وفات کا وقت آن پہنچا ہے اور یہ کہ آپ کے بعد حضرت مولوی صاحب خلیفہ ہوں گے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت ہمشیرہ مبارکہ بیگم صا حبہ کی عمر گیارہ سال کی تھی۔ دوسری روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت صاحب اس سفر پر تشریف لے جاتے ہوئے بہت متا ٔمل تھے کیونکہ حضور کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ اسی سفر میں آپ کو سفرِ آخرت پیش آنے والا ہے۔ مگر حضور نے سوائے اشارے کنایہ کے اس کا اظہار نہیں فرمایا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہماری ہمشیرہ کا یہ خواب غیر مبایعین کے خلاف بھی حجت ہے کیونکہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کی طرف صریح اشارہ ہے۔
{538} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیاکہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آخری سفر میں لاہور جانے کا ارادہ فرمایا۔ اور سامان اور سواری وغیرہ کا انتظام ہو چکا تو رات کو میاں شریف احمد صاحب کو بخار ہو گیا حضور کو رات کے وقت یہ الہام ہوا ’’مباش ایمن ازبازیٔ روزگار‘‘ جو آپ نے صبح کو سُنایا۔ آپ نے حکم دیا۔ کہ آج کا جانا ملتوی کردو۔ کل کو دیکھا جائے گا اور حضور علیہ السلام نے پہلے بھی لکھ دیا ہوا تھا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ سے مطلع کیا جا چکا ہے کہ اب میری عمر قریب الاختتام ہے۔ دوسرے روز حضور تشریف لے گئے اور وہاں لاہور ہی حضور کا انتقال ہوا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس فارسی الہام کے یہ معنی ہیں کہ زندگی کی چال سے امن میں نہ رہ کہ یہ دھوکہ دینے والی چیز ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ لاہور جا کر حضرت صاحب کو اپنی وفات کے متعلق اس سے بھی زیادہ واضح الہام ہوئے تھے۔ مثلاً ایک الہام یہ تھا کہ ’’مکن تکیہ بر عمرِ ناپائدار‘‘ یعنی اس ناپائدار عمر پر بھروسہ نہ کر کہ یہ اب ختم ہو رہی ہے۔ اور ایک الہام جو غالباً آخری الہام تھا یہ تھا کہ اَلرَّحِیْلُ ثُمَّ الرَّحِیْلُ یعنی اب کوچ کا وقت آگیا ہے۔ کوچ کا وقت آگیا ہے۔ اس الہام کے چار پانچ روز کے بعد آپ انتقال فرما گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ـ
{ 539} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ سفر ملتان کے دوران میں حضرت صاحب ایک رات لاہور میں شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کے ہاں بطور مہمان ٹھہرے تھے۔ ان دنوں لاہور میں ایک کمپنی آئی ہوئی تھی۔ اس میں قدِ آدم موم کے بنے ہوئے مجسمّے تھے۔ جن میں بعض پُرانے زمانہ کے تاریخی بُت تھے اور بعض میں انسانی جسم کے اندرونی اعضاء طبّی رنگ میں دکھائے گئے تھے۔ شیخ صاحب مرحوم حضرت صاحب کو اور چند احباب کو وہاں لے گئے اور حضور نے وہاں پھر کر تمام نمائش دیکھی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ملتان کا سفر ۱۸۹۷ء میں ہوا تھا۔ اور حضور کو وہاں ایک شہادت کے لئے جانا پڑا تھا۔
{ 540} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب کی زندگی کے آخری سالوں میں ایک شخص میاں کریم بخش نامی بیعت میں داخل ہوا اور قادیان میںہی رہ پڑا یہ شخص بڑا کاریگر باورچی تھا۔ حضرت صاحب جب کبھی اُسے کھانے کی فرمائش کرتے تو اس کا کمال یہ تھا کہ اتنی تھوڑی دیر میں وہ کھانا تیار کرکے لے آتا کہ جس سے نہایت تعجب ہوتا۔ حضرت صاحب فرماتے ،میاں کریم بخش کیا کہنے سے پہلے ہی تیار کر رکھا تھا؟ اور اس کی پُھرتی پر اور عمدہ طور پر تعمیل کرنے پر بڑے خوش ہوتے تھے اور اس خوشی کا اظہار بھی فرمایا کرتے تھے۔ پھر اس خوشی نے اس کو ایسا خوش قسمت کر دیا کہ وہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہوا۔ اور آپ کے عین قدموں کی طرف اسے جگہ ملی۔
{ 541} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سیّد محمد علی شاہ صاحب انسپکٹر نظارت بیت المال قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ جب مَیں ابتداء میں حضور کی بیعت کے لئے قادیان آیا تو ارادہ یہ تھا کہ مَیں حضور کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرونگا۔ نماز کے بعد بیعت کا وقت آیا اور لوگ بھی بیعت کے لئے موجود تھے مگر مجھے سب سے پہلے موقعہ ملا۔ اس کے بعد کئی لوگوں نے اپنی نظمیں سُنائیں۔ مولوی محمد اسمٰعیل صاحب ساکن ترگڑی نے بھی اپنی پنجابی نظم ’’چٹھی مسیح اور اس کا جواب‘‘ سُنایا۔ جسے سُن کر آنحضور مع خدّام خوب ہنسے اور فرمایا۔ ’’اسے شائع کردو‘‘ دو تین روز کی پاکیزہ صحبت کے بعد مَیں نے حضرت اقدس سے گھر جانے کی اجازت طلب کی۔ فرمایا۔ ’’ابھی ٹھہرو‘‘۔ دو تین روز کے بعد پھر اجازت کے لئے عرض کیا۔ فرمایا۔ ’’ابھی ٹھہرو‘‘۔ تیسری مرتبہ پھر حضور سے اجازت طلب کی۔ فرمایا کہ ’’ اچھا اب آپ کو اجازت ہے‘‘ مَیں نے عرض کیا کہ حضور مَیں کاٹھ گڑھ ضلع ہوشیار پور میں صرف اکیلا احمدی ہوں اور کاٹھ گڑھ کے ارد گرد دس دس میل تک کوئی احمدی نہیں ہے اور ہمارے خاندان سادات میں سے میرے ماموں سلسلہ مقدسہ کے سخت دشمن ہیں۔ اس لئے حضور دعا فرمائیں۔ فرمایا خداتعالیٰ آپ کو اکیلا نہیں رکھے گا۔ اور آہستہ آہستہ لوگ احمدیت میں داخل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ اب کاٹھ گڑھ میں ایک بڑی جماعت ہے۔
{ 542} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سیّد محمد علی شاہ صاحب انسپکٹر نظارت بیت المال نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۹۰۶ء کے قریب میرے ہاں لڑکا تولد ہوا۔ اس کا نام حضور علیہ السلام نے احمد علی رکھا۔ قریباً دس ماہ بعد وہ لڑکا فوت ہو گیا۔ جس کی اطلاع پر حضور علیہ السلام نے نعم البدل لڑکے کی بشارت دی۔ ۱۹۰۷ء میں دوسرا لڑکا پیدا ہوا۔ جس کا نام حضور علیہ السلام نے عنایت علی شاہ رکھا۔ اور اس کے لئے دعائیں فرمائیں ۔ جو قبول ہوئیں۔
{543} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نبی بخش صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام اپنے باغ میں سیر کے لئے تشریف لے گئے۔ اس وقت حضور کے دستِ مبارک میں ایک بید کا عصا تھا۔ ایک درخت پر پھل اتارنے کے لئے وہ عصا مارا مگر وہ عصا درخت میں ہی اٹک گیا اور ایسی طرح پھنسا کہ اُترنے میں ہی نہ آتا تھا۔ اصحاب نے ہر چند سوٹا اتارنے کی کوشش کی۔ مگر کامیابی نہ ہوئی۔ مَیں نے عرض کیا کہ حضور مَیں درخت پر چڑھ کر اتار دیتا ہوں اور مَیں جھٹ چڑھا اور عصا مبارک اتار لایا۔ حضور اس قدر خوش اور متعجب ہوئے کہ بار بار محبت بھرے الفاظ میں فرماتے تھے کہ ’’میاں نبی بخش یہ تو آپ نے کمال کیا۔ کہ درخت پر چڑھ کر فوراً سوٹا اُتار لیا۔ کیسے درخت پر چڑھے اور کس طرح سے درخت پر چڑھنا سیکھا۔ یہ سوٹا تو ہمارے والد صاحب کے وقت کا تھا۔ جسے گویا آج آپ نے نیا دیا ہے۔‘‘ حضور راستہ میں بھی بار بار فرماتے تھے کہ میاں نبی بخش نے درخت پر چڑھ کر سوٹا اتارنے میں کمال کیا ہے۔ نیز حضور کی عادت میں داخل تھا کہ خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا کسی کو تُو کے لفظ سے خطاب نہ کرتے تھے حالانکہ مَیں چھوٹا بچہ تھا۔ مجھے کبھی حضور نے تُو سے مخاطب نہ کیا تھا۔
{544} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نبی بخش صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان آیا تو ان ایام میں ایک چھوٹی چارپائی بیت الفکر میں موجود رہتی تھی اور کمرہ میں قہوہ تیار رہتا اور پاس ہی مصری موجود ہوتی تھی۔ مَیں جتنی دفعہ دن میں چاہتا قہوہ پی لیتا۔ حضور فرماتے ’’اور پیو اور پیو‘‘ ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ان دنوں میں حضور کسی تصنیف میں مصروف ہوں گے اور بدن میں چستی قائم رکھنے کے لئے چائے تیار رہتی ہوگی جس سے آپ آنے جانے والے کی تواضع بھی فرماتے رہتے ہونگے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیت الفکر حضور کے مکان کے اس کمرہ کا نام ہے جو مسجد مبارک سے متصل جانب شمال ہے جس میں سے ایک کھڑکی نما دروازہ مسجد میں کھلتا ہے۔
{545} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مرتبہ گھر میں فرمانے لگے۔ کہ لڑکے جب جوان ہو جائیں تو ان کی رہائش کے لئے الگ کمرہ ہونا چاہئے۔ چنانچہ فلاں لڑکے کے لئے اس کوٹھے پر ایک کمرہ بنا دو۔
{546} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ سب دوست اس موضوع پر ایک مضمون لکھیں۔ کہ مذہب کیا ہے اور کامل مذہب کیسا ہونا چاہئے۔ کچھ دنوں کے بعد بہت سے مضامین آ گئے اور بہت سے مقامی اور بعض بیرونی دوست خود سُنانے کے لئے تیار ہو گئے۔ اس پر آپ نے کبھی مسجد میں اور کبھی سیر میں ان مضامین کو سُننا شروع کر دیا۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب۔ میاں معراج الدین صاحب عمر۔ خواجہ جمال الدین صاحب کے مضمون اور بہت سے دیگر احباب کے مضامین سُنائے گئے۔ کئی دن تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ آخر میں حضرت صاحب نے اپنا مضمون بھی سُنایا۔ مگر اپنا مضمون غالباً سیر میں سُنایا کرتے تھے۔ اس میں پہلا نکتہ یہ تھا کہ آپ نے لکھا کہ ہر مضمون نگار نے مذہب کے معنے ’’راستہ‘‘ کے کئے ہیں۔ مگر مذہب کے معنے ’’روش‘‘ کے ہیں پس مذہب وہ رَوش اور طریق رفتار ہے جسے انسان اختیار کرے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ عربی لُغت کی رُو سے مذہب کے معنی رستہ اور روش ہر دو کے ہیں مگر اس میں شبہ نہیں کہ مؤخر الذکر معنوں میں جو لطافت اور وسعت ہے وہ مقدم الذکر میں نہیں۔
{547} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کسی تقریر یا مجلس میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرماتے تو بسا اوقات ان محبت بھرے الفاظ میں ذکر فرماتے۔ کہ ’’ ہمارے آنحضرت‘‘ نے یوں فرمایا ہے۔ اسی طرح تحریر میں آپ آنحضرت ﷺ کے نام کے بعد صرف آپؐ نہیں لکھتے تھے بلکہ پورا درود یعنی ’’صلے اللہ علیہ وسلم‘‘ لکھا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کی محبت اس کمال کے مقام پر تھی جس پر کسی دوسرے شخص کی محبت نہیں پہنچتی۔
{548} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نبی بخش صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام موسم گرما میں بعد نماز مغرب مسجد مبارک کے شاہ نشین پر مع خدّام حضرت خلیفہ اوّلؓ و مولوی عبدالکریم صاحب و خوا جہ کمال الدین صاحب و ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیرہ رونق افروز تھے۔ کسی کام کے لئے بٹالہ تار دینا تھا۔ اس وقت چونکہ قادیان میں تار گھر نہ تھا۔ حضور نے فرمایا بٹالہ جانے کے لئے کوئی تیاری کر لے۔ دو آدمی مجلس سے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ ہم تیار ہیں۔ فرمایا ٹھہرو مَیں نیچے سے تار کی فیس لا دیتا ہوں۔ ہر چند اصحاب متذکرہ بالا نے عرض کیا کہ حضور نیچے جانے کی تکلیف نہ فرمائیں۔ ہم فیس ادا کردینگے اور صبح حضور وہ رقم واپس دے دیویں مگر حضور نے نہ مانا اور فوراً نیچے چلے گئے اور تار کی فیس دے کر اُن کو روانہ کر دیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں قادیان میں نہ تار تھی نہ ریل تھی اور نہ ٹیلیفون تھا۔ مگر اب کئی سال سے یہ تینوں ہیں۔ تار کے متعلق بعض اوقات بڑی مشکل کا سامنا ہوتا تھا کیونکہ آنے والی تار بٹالہ سے قادیان تک ڈاک میں آتی تھی اور جو تار قادیان سے بھجوانی ہوتی اُس کے لئے خاص آدمی بٹالہ بھجوانا پڑتا تھا اور اس طرح عموماً تار کی غرض فوت ہو جاتی تھی۔ مگر اب خدا کے فضل سے جہاں تک ذرائع رسل و رسائل کا تعلق ہے قادیان بڑے شہروں کی طرح ہے۔
{549} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سیّد محمد علی شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میرے ایک شاگرد نے مجھے شیشم کی ایک چھڑی بطور تحفہ دی۔ میں نے خیال کیا کہ مَیں اس چھڑی کو حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرونگا چنانچہ خاکسار نے قادیان پہنچ کر بوقت صبح جبکہ حضور سیر سے واپس تشریف لائے وہ چھڑی پیش کر دی۔ حضور کے دستِ مبارک کی چھڑی میری پیش کردہ چھڑی سے بدرجہا خوبصورت و نفیس تھی لہٰذا مجھے اپنی کوتہ خیالی سے یہ خیال گزرا کہ شاید میری چھڑی قبولیت کا شرف حاصل نہ کر سکے۔ مگر حضور نے کمال شفقت سے اُسے قبول فرما کر دُعا کی۔ بعد ازاں تین چار روز تک حضور علیہ السلام میری چھڑی کو لے کر باہر سیر کو تشریف لے جاتے تھے جسے دیکھ کر میرے دل کو تسکین و اطمینان حاصل ہوا۔ پھر حضور بدستورِ سابق اپنی پُرانی چھڑی ہی لانے لگے اور میری پیش کردہ چھڑی کو گھر میں رکھ لیا۔
{ 550} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ میرے سامنے مندرجہ ذیل اصحاب کے پیچھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز باجماعت پڑھی ہے۔
(۱)حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّلؓ (۲) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی (۳) حضرت حکیم فضل الدین صاحب مرحوم بھیروی (۴) پیر سراج الحق صاحب نعمانی (۵) مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی (۶) بھائی شیخ عبدالرحیم صاحب (۷) حضرت میر ناصر نواب صاحب (۸) مولوی سیّد سرور شاہ صاحب (۹) مولوی محمد احسن صاحب (امروہی) (۱۰) پیر افتخار احمد صاحب۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسری روایتوں سے قاضی امیر حسین صاحب اور میاں جان محمد کے پیچھے بھی آپ کا نماز پڑھنا ثابت ہے۔ دراصل آپ کا یہ طریق تھا کہ بالعموم خود امامت کم کراتے تھے اور جو بھی دیندار شخص پاس حاضر ہوتا تھا اُسے امامت کے لئے آگے کر دیتے تھے۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 551} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیاکہ بچپن میں تمہاری (یعنی خاکسار مرزا بشیر احمد کی) آنکھیں بہت خراب ہو گئی تھیں۔ پلکوں کے کنارے سُرخ اورسوجے رہتے تھے اور آنکھوں سے پانی بہتا رہتا تھا۔ بہت علاج کئے مگر فائدہ نہ ہوا۔ حضرت صاحب کو اس بات کا بہت خیال تھا۔ آخر ایک روز الہام ہوا۔ ’’بَرَّقَ طِفْلِیْ بَشِیْر‘‘ یعنی میرے بچے بشیر کی آنکھیں روشن ہو گئیں۔ اس کے بعد ایک دوا بھی کسی نے بتائی وہ استعمال کرائی گئی۔ اور خدا کے فضل سے آنکھیں بالکل صاف اور تندرست ہو گئیں۔ میر صاحب بیان فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اکثر اوقات جب تم حضرت صاحب کے سامنے جاتے تو آپ محبت کے انداز سے تمہیں مخاطب کر کے فرماتے تھے کہ ’’ بَرَّقَ طِفْلِیْ بَشِیْر ‘‘ میرے بچے بشیر کی آنکھیں روشن ہو گئی ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری ظاہری آنکھیں تو بے شک صاف اور تندرست ہو گئیں اور مَیں نے خدا کے فضل سے حصّہ پا لیا۔ اور مَیں اس کا شکر گزار ہوں ۔ لیکن اگر خدا کی یہ بشارت صرف ظاہر تک محدود تھی تو خدا کی شان کے لحاظ سے یہ کوئی خاص لطف کی بات نہیں اور اس کے فضل کی تکمیل کا یہ تقاضا ہے کہ جس طرح ظاہر کی آنکھیں روشن ہوئیں اسی طرح دل کی آنکھیں بھی روشن ہوں اور خدائی الہام میں تو آنکھ کا لفظ بھی نہیں ہے۔ پس اے میرے آقا! مَیں تیرے فضل پر امید رکھتا ہوں کہ جب میرے لئے تیرے دربار کی حاضری کا وقت آئے تو میری ظاہری آنکھوں کے ساتھ دل کی آنکھیں بھی روشن ہوں۔ نہیں بلکہ جیسا کہ تیرے کلام میں اشارہ ہے ،میرا ہر ذرّہ روشن ہو کر تیرے قدموں پر ہمیشہ کے لئے گر جائے۔
ایں است کام دل ،،گر آید میسّرم
{ 552} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص وحی الٰہی کا دعویٰ کرے اور ایک جماعت بنا لے اور اس کا مذہب دنیا میں اچھی طرح رائج اور قائم ہو جائے اور مستقل طور پر چل پڑے۔ تو سمجھنا چاہئے کہ وہ شخص سچا تھا اور یہ کہ اس کا مذہب اپنے وقت میں سچا مذہب تھا کیونکہ جھوٹے مدعی کا مذہب کبھی قائم نہیں ہوتا۔ فرماتے تھے کہ اس وقت دُنیا میں جتنے قائم شدہ مذہب نظر آتے ہیں۔ ان سب کی ابتداء اور اصلیّت حق پر تھی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے یہ اصول اپنی کتب میں بھی متعدد جگہ بیان فرمایا ہے مگرساتھ تصریح کی ہے کہ کسی مذہب کا دُنیا میں پوری طرح راسخ ہو جانا اور نسل بعد نسل قائم رہنا اور قبولیت عامہ کا جاذب ہو جانا شرط ہے۔
{ 553} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن مجید کے بڑے بڑے مسلسل حصّے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ بے شک آپ قرآن کے جملہ مطالب پر حاوی تھے مگر حفظ کے رنگ میں قرآن شریف کا اکثر حصّہ یاد نہ تھا۔ ہاں کثرتِ مطالعہ اور کثرت تدبّر سے یہ حالت ہو گئی تھی کہ جب کوئی مضمون نکالنا ہوتا تو خود بتا کر حفّاظ سے پوچھا کرتے تھے کہ اس معنے کی آیت کونسی ہے یا آیت کا ایک ٹکڑا پڑھ دیتے یا فرماتے کہ جس آیت میں یہ لفظ آتا ہے وہ آیت کونسی ہے۔
{ 554} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی امام الدین صاحب سابق پٹواری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ فجر کی نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔ اور بعض اصحاب بھی حلقہ نشین تھے تو اس وقت میرے دل میں خیال پیدا ہوا۔ کہ حضرت اقدس کا دعویٰ تو مسیح موعود ہونے کا ہے۔ مگر مہدی جو اس زمانہ میں آنا تھا۔ کیا وہ کوئی علیحدہ شخص ہو گا۔ اسی وقت حضور علیہ السلام نے تقریر شروع فرما دی اور بیان فرمایا کہ مَیں مسلمانوں کے لئے مہدی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بُروز ہوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود یعنی حضرت مسیح ناصری کا مثیل بن کر آیا ہوں۔ حضور نے لمبی تقریر فرمائی جس سے میری پوری تسلی ہو گئی۔ اسی طرح اکثر دیکھا ہے کہ اگر کسی کو کوئی اعتراض پیدا ہوتا تو حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا علم دیا جاتا تھا اور حضور علیہ السلام اُسے بذریعہ تقریر ردّ فرما دیا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء کو علمِ غیب نہیں ہوتا۔ پس ایسی روایتوں کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مامورین سے اصلاح کا کام لینا ہوتا ہے اس لئے انہیں بسا اوقات دوسروں کے خیالات کا علم دیا جاتا ہے۔ یا بغیر علم دینے کے ویسے ہی ان کی زبان کو ایسے رستہ پر چلا دیا جاتا ہے جو سامعین کے شکوک کے ازالہ کا باعث ہوتا ہے۔
{ 555} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ایک اشتہار دیا۔ جس میں رَفْع یَدَیْن۔ آمین وغیرہ کے مسائل تھے اور جواب کے لئے فی مسئلہ دس روپیہ انعام مقرر کیا تھا۔ دس مسائل تھے۔ حضرت صاحب نے مجھے سُنایا اور فرمایا۔ کہ دیکھو یہ کیسا فضول اشتہار ہے۔ جب نماز ہر طرح ہو جاتی ہے تو ان باتوں کا تنازعہ موجب فساد ہے۔ اس وقت ہمیں اسلام کی خدمت کی ضرورت ہے نہ کہ ان مسائل میں بحث کی۔ اس وقت تک ابھی حضور کا دعویٰ نہ تھا۔ پھر آپ نے اسلام کی تائید میں ایک مضمون لکھنا شروع کیا۔ اور میری موجودگی میں دو تین دن میں ختم کیا اور فرمایا۔ مَیں فی مسئلہ ہزار روپیہ انعام رکھتا ہوں۔ یہ براہین احمدیہ کی ابتدا تھی۔ جس میں اسلام کی تائید میں دلائل درج کئے گئے تھے۔
{ 556} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب فوت ہو گئے۔ تو آپ سابقہ چوبارہ چھوڑ کر اس چوبارہ میں جو مرزا غلام قادر صاحب نے جدید بنایا تھا آ گئے۔ یہ مسجد مبارک کے ساتھ تھا۔ اس چوبارہ کے ساتھ کوٹھڑی میں کتب خانہ ہوتا تھا۔ جس میں عربی فارسی کی قلمی کتب تھیں۔ اس کے بعد مَیں عموماً اپنے گائوں میں رہنے لگ گیا۔ اور سال میں صرف ایک دو دفعہ قادیان آتا تھا۔ جب مَیں آتا تو حضرت صاحب کے پاس ہی رہتا تھا کیونکہ حضرت صاحب فرماتے تھے۔ جب آئو تو میرے پاس ٹھہرا کرو۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت میں چوبارہ سے مراد غالباً وہ دالان ہے جو بیت الفکر کے ساتھ جانب شمال ہے اور کوٹھڑی سے خود بیت الفکر مراد ہے جو مسجد کے ساتھ متصل ہے۔
{ 557} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صدقہ میں جانور کی قربانی بہت کیا کرتے تھے ۔گھر میں کوئی بیمار ہوا یا کوئی مشکل درپیش ہوئی یا خود یا کسی اور نے کوئی منذر خواب دیکھا تو فوراً بکرے یا مینڈھے کی قربانی کرادیتے تھے۔ زلزلہ کے بعد ایک دفعہ غالباً مفتی محمد صادق صاحب کے لڑکے نے خواب میں دیکھا کہ قربانی کرائی جائے۔ جس پر آپ نے چودہ بکرے قربانی کرا دئیے۔ غرضیکہ ہمیشہ آپ کی سنّت یہی رہی ہے اور فرماتے تھے کہ یہی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی سنّت بھی تھی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسے صدقہ کے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ غرباء اور یتامیٰ اور بیوگان کو تلاش کر کے گوشت پہنچانا چاہئے۔ تاکہ ان کی تکلیف کے دور ہونے سے خدا راضی ہو اور فرماتے تھے کہ کچھ گوشت جانوروں کو بھی ڈال دینا چاہئے کہ یہ بھی خدا کی مخلوق ہے۔
{ 558} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کے کتب خانہ کے مینیجر محمد سعید صاحب۔ حکیم فضل الدین صاحب مرحوم۔ پِیر سراج الحق صاحب۔ پِیر منظور محمد صاحب۔ میر مہدی حسین صاحب وغیرہ لوگ مختلف اوقات میں رہے ہیں۔ جو فرمائش آتی یا حکم ہوتا وہ حضرت صاحب کی طرف سے مہتمم کتب خانہ کے پاس بھیج دیا جاتا۔ وہ کتاب کا پارسل بنا کر رجسٹری یا وی۔پی کر کے بھیج دیتا۔ وی۔پی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام کا ہوتا تھا۔ ایک مہر ربڑ کی ’’ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ‘‘ کی بنوائی گئی تھی۔ اور اعلان کر دیا تھا کہ جس کتاب پر یہ مُہر اور ہمارے قلمی دستخط دونوں موجود نہ ہوں وہ مال مسروقہ سمجھا جائے گا۔ یہ مہر مہتمم کتب خانہ کے پاس رہتی تھی۔ جو کتابیں باہر جاتیں ان پر وہ مُہر لگا کر پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس وہ کتابیں دستخط کے لئے بھیج دی جاتی تھیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسا انتظام غالباً خاص خاص اوقات میں خاص مصلحت کے ماتحت ہوا ہوگا۔ ورنہ مَیں نے حضرت صاحب کے زمانہ کی متعدد کتب دیکھی ہیں جن پر حضرت صاحب کے دستخط نہیں ہیں گو بعض پر مَیں نے دستخط بھی دیکھے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص زمانہ میں یہ احتیاط برتی گئی تھی۔
{ 559} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گھر کا کوئی کام کرنے سے کبھی عار نہ تھی۔ چارپائیاں خود بچھا لیتے تھے۔ فرش کر لیتے تھے۔ بسترہ کر لیا کرتے تھے۔ کبھی یکدم بارش آ جاتی تو چھوٹے بچے تو چارپائیوں پر سوتے رہتے۔ حضور ایک طرف سے خود اُن کی چارپائیاں پکڑتے دوسری طرف سے کوئی اور شخص پکڑتا اور اندر برآمدہ میں کروالیتے۔ اگر کوئی شخص ایسے موقعہ پر یا صبح کے وقت بچوں کو جھنجوڑ کر جگانا چاہتا تو حضور منع کرتے اور فرماتے کہ اس طرح یکدم ہلانے اور چیخنے سے بچہ ڈر جاتا ہے۔ آہستہ سے آواز دے کر اُٹھائو۔
{ 560} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی امام الدین صاحب سابق پٹواری نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی والے مقدمہ زیر دفعہ ۱۰۷ کی پیشی دھاریوال میں مقرر ہوئی تھی۔ اس موقعہ پر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام سے عرض کیا کہ حضور محمد بخش تھانیدار کہتا ہے۔ کہ آگے تو مرزا مقدمات سے بچ کر نکل جاتا رہا ہے۔ اب میرا ہاتھ دیکھے گا۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ ’’میاں امام الدین! اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا‘‘۔ اس کے بعد مَیں نے دیکھا۔ کہ اس کے ہاتھ کی ہتھیلی میں سخت درد شروع ہو گئی۔ اور وہ اس درد سے تڑپتا تھا۔ اور آخر اسی نا معلوم بیماری میں وہ دنیا سے گذر گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ لفٹینینٹ ڈاکٹر غلام احمد صاحب آئی۔ ایم۔ ایس نے جو کہ محمد بخش صاحب تھانیدار کے پوتے ہیں مجھ سے بیان کیا۔ کہ ان کے دادا کی وفات ہاتھ کے کار بنکل سے ہوئی تھی۔ اس کا ذکر روایت نمبر ۲۵۶ میں بھی آچکا ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اور ان کے والد شیخ نیاز محمد صاحب تھانہ دار مخلص احمدی ہیں۔ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ( الرّوم :۲۰)
{ 561} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب کے ایک ماموں زاد بھائی مرزا علی شیر ہوتے تھے۔ جو حضرت صاحب کے سالہ بھی تھے۔ وہ جالندھر میں پولیس میں ملازم تھے۔ ان کی لڑکی عزّت بی بی کے بعد ان کی اولاد مر جاتی تھی ۔ پھر ان کے ایک لڑکا ہوا جو بہت خوبصورت اور ہونہار معلوم ہوتا تھا۔ جب وہ قریباً تین سال کا ہوا تو وہ بیمار ہو گیا۔۔۔۔۔۔ جب وہ بیمار ہوا تو مجھے گھر سے کہا گیا کہ مرزا صاحب سے کہو کہ اُسے آکر دیکھ جائیں اور دوا دیں۔ (اس وقت دادا صاحب فوت ہو چکے تھے) حضرت صاحب اس زمانہ میں گھر نہیں جایا کرتے تھے۔ مَیں عرض کرکے ساتھ لے گیا۔ حضرت صاحب نے دیکھا اور دوا بھی بتائی۔ پھر واپس آ کر شام کو حسبِ دستور فرمانے لگے۔ استخارہ کرو۔ مَیں استخارہ کر کے سویا۔ تو رات کو مجھے خواب آیا۔ کہ ایک کھیت میں ہل چل رہا ہے اور ہل میں دو بیل لگے ہوئے ہیں جس میں دائیں طرف کا بیل گورے رنگ کا تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ ہل چلتے چلتے وہ بیل الٹ کر گر گیا اور پھر مر گیا۔ صبح اٹھ کر میں نے یہ خواب حضرت صاحب سے بیان کی۔ آپ نے خواب نامہ نکال کر دیکھا۔ جس کے بعد میں نے تعبیر پوچھی تو فرمانے لگے۔ آپ لوگ زمیندار ہیں۔ زمینداروں والے نظارے خواب میں نظر آ جاتے ہیں۔ مَیں نے اصرار کیا کہ تعبیر بتائیے۔ تو فرمایا۔ کہ سب خوابیں درست نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات خیال سے بھی خواب آ جاتی ہے۔ مگر مَیں نے پھر بھی اصرار کیا۔ جس پر فرمایا۔ کہ تم تعبیر بتا دو گے اور شور پڑ جائے گا۔ اگر وعدہ کرو کہ نہ بتائو گے تو بتائوں گا۔ مَیں نے وعدہ کیا تو آپ نے بتایا۔ کہ یہ لڑکا فوت ہو جائے گا۔ چنانچہ دوسرے دن وہ لڑکا فوت ہو گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا علی شیر کو مَیں نے دیکھا ہے۔ بہت مشرع صورت تھی اور ہاتھ میں تسبیح رکھتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کے سخت مخالف تھے۔ ان کی لڑکی عزّت بی بی ہمارے بھائی مرزا فضل احمد کے عقد میں آئی تھی اور وہ بھی اوائل عمر میں سخت مخالف تھی مگر اب چند سال سے سلسلہ میں داخل ہیں۔
{ 562} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالمحي صاحب عرب نے مجھ سے ایک روز حضرت خلیفہ اوّلؓ کے زمانہ میں ہی ذکر کیا کہ حضرت صاحب کی سخاوت کا کیا کہنا ہے۔ مجھے کبھی آپ کے زمانہ میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ جو ضرورت ہوتی۔ بلا تکلف مانگ لیتا اور حضور میری ضرورت سے زیادہ دے دیتے اور خود بخود بھی دیتے رہتے۔ جب حضور کا وصال ہو گیا تو حضرت خلیفہ اوّلؓ حالانکہ وہ اتنے سخی مشہور ہیں میری حاجت براری نہ کر سکے۔ آخر تنگ ہو کر مَیں نے ان کو لکھا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ تو بن گئے۔ مگر میری حاجات پوری کرنے میں تو ان کی خلافت نہ فرمائی۔ حضرت صاحب تو میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا کرتے تھے۔ اس پر حضرت خلیفہ اوّلؓ نے میری امداد کی۔ مگر خدا کی قسم! کہاں حضرت صاحب اور کہاں یہ۔ ان کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔
{ 563} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سیّد عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اوّلؓ سخت بیمار ہو گئے۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب وہ حضور کے مکان میں رہتے تھے۔ حضور نے بکروں کا صدقہ دیا۔ مَیں اس وقت موجود تھا۔ مَیں رات کو حضرت خلیفہ اوّلؓ کے پاس ہی رہا اور دواء پلاتا رہا۔ صبح کو حضور تشریف لائے۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ نے فرمایا کہ حضور! ڈاکٹر صاحب ساری رات میرے پاس بیدار رہے ہیں اور دوا وغیرہ اہتمام سے پلاتے رہے ہیں۔ حضور علیہ السَّلام بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ ہم کو بھی ان پر رشک آتا ہے۔ یہ بہشتی کنبہ ہے۔ یہ الفاظ چند بار فرمائے۔
{ 564} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مَیں نے حضرت احمد علیہ السَّلام کو بار ہا نماز فریضہ اور تہجد پڑھتے دیکھا۔ آپ نماز نہایت اطمینان سے پڑھتے۔ ہاتھ سینے پر باندھتے۔ دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو سہار لیتے۔ آمین آہستہ پڑھتے تھے۔ رَفْعِ یَدَین کرتے تھے۔ رفع سبابہ یاد نہیں۔ مگر ا غلبًا کرتے تھے۔تہجد میں دو رکعت وتر جُدا پڑھتے اور پھر سلام پھیر کر ایک رکعت الگ پڑھتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ میرے علم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رفع یدین نہیں کرتے تھے اور مجھے حضرت صاحب کا رفع سبابہ کرنا بھی یاد نہیں۔ گو مَیں نے بعض بزرگوں سے سُنا ہے کہ آپ رفع سبابہ کرتے تھے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب اپنی تحریرات میں حضرت صاحب کا عموماً حضرت احمدؑ علیہ السلام کے الفاظ سے ذکر کرتے ہیں۔ اس لئے مَیں نے ان کی روایت میں وہی قائم رکھا ہے۔ اور یہ جو قاضی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں سے سہارا دیتے تھے۔ اس کی و جہ یہ تھی کہ جوانی کے زمانہ میں آپ کا دایاں ہاتھ ایک چوٹ لگنے کی و جہ سے کمزور ہو گیا تھا۔ اور اسے سہارے کی ضرورت پڑتی تھی۔
{ 565} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ بمقام گورداسپور ۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بخار تھا۔ آپ نے خاکسار سے فرمایا کہ کسی جسیم آدمی کو بلائو جو ہمارے جسم پر پھرے۔ خاکسار جناب خوا جہ کمال الدین صاحب وکیل لاہور کو لایا۔ وہ چند دقیقہ پھرے۔ مگر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کا وجود چنداں بوجھل نہیں کسی دوسرے شخص کو لائیں۔ شاید حضور نے ڈاکٹر محمد اسمٰعیل خان صاحب دہلوی کا نام لیا۔ خاکسار ان کو بلا لایا۔ جسم پر پھرنے سے حضرت اقدس کو آرام محسوس ہوا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ کیفیت اعضاء شکنی کے وقت کی ہو گی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوا جہ صاحب اور ڈاکٹر صاحب مرحوم ہر دو نہایت بھاری جسم کے تھے۔ شاید کم و پیش چار چار من کے ہونگے۔ اور ڈاکٹر صاحب کسی قدر زیادہ وزنی تھے۔ اور ان کا قد بھی زیادہ لمبا تھا۔ گو ویسے خوا جہ صاحب بھی اچھے خاصے لمبے تھے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب نے جو ڈاکٹر محمد اسمٰعیل خاں صاحب کو دہلوی لکھا ہے یہ درست نہیں وہ اصل میں گوڑیانی کے رہنے والے تھے۔
{ 566} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جماعت کپورتھلہ دُنیا میں سب سے پہلی احمدی جماعت ہے یہ وہ جماعت ہے جس کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریری پیشگوئی موجود ہے۔ اور اخبار میں بھی شائع ہو چکی ہے کہ ’’جماعت کپور تھلہ دنیا میں بھی میرے ساتھ رہی ہے اور قیامت کو بھی میرے ساتھ ہو گی ‘‘۔ خداگواہ ہے۔ مَیں نے اس کو فخر سے نہیں عرض کیا۔ محض خدا کی نعمت کا اظہار کیا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کے متعلق سیرۃ المہدی کی روایت نمبر۷۹ میں بھی ذکر گذر چکا ہے۔ نیز اس وقت بوقت تحریر حصّہ سوم میاں فیاض علی صاحب مرحوم فوت ہوچکے ہیں۔
{ 567} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک روز کا واقعہ ہے کہ ایک دودھ کا بھرا ہوا لوٹا حضور کے سرہانے رکھا ہوا تھا۔ خاکسار نے اُسے پانی سمجھ کر ہلا کر جیسا کہ لوٹے کو دھوتے وقت کرتے ہیں پھینک دیا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ دودھ تھا۔ تو مجھے سخت ندامت ہوئی لیکن حضور نے بڑی نرمی اور دلجوئی سے فرمایا اور بار بار فرمایا۔ کہ بہت اچھا ہوا کہ آپ نے اُسے پھینک دیا۔ دودھ اب خراب ہو چکا تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ علاوہ دلداری کے حضرت صاحب کا منشا ء یہ ہو گا، کہ لوٹے وغیرہ کی قسم کے برتن میں اگر دودھ زیادہ دیر تک پڑا رہے تو وہ خراب ہو جاتا ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبدالعزیز صاحب حضرت صاحب کے پُرانے مخلصین میں سے ہیں اور اب ایک عرصہ سے پٹوار کے کام سے ریٹائر ہو کر قادیان میں سکونت پذیر ہو چکے ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی عبدالعزیز صاحب کی بہت سی روایات مجھے مکرم مرزا عبدالحق صاحب وکیل گورداسپور نے لکھ کر دی ہیں۔ فَجَزَاہُ اللّٰہُ خَیْرًا ـ
{ 568} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک شخص مسمی سانوں ساکن سیکھواں نے میرے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔ اب وہ مقبرہ بہشتی میں دفن ہیں۔ ان کو نزول الماء کی بیماری تھی۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ کو آنکھیں دکھائیں۔ تو انہوں نے فرمایا۔ کہ پہلے پانی آکر بینائی بالکل جاتی رہے گی۔ تو پھر ان کا علاج کیا جائے گا۔ ان کو اس سے بہت صدمہ ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے یہ طریق اختیار کیا۔ کہ جب کبھی وہ قادیان آتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بیٹھنے کا موقعہ پاتے تو حضور کا شملہ مبارک اپنی آنکھوں سے لگا لیتے۔ کچھ عرصہ میں ہی ان کی بیماری نزول الماء جاتی رہی او ر جب تک وہ زندہ رہے ان کی آنکھیں درست رہیں۔ کسی علاج وغیرہ کی ضرورت پیش نہ آئی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر یہ روایت درست ہے تو اس قسم کی معجزانہ شفا کے نمونے آنحضرت ﷺ کی زندگی میں بھی کثرت سے ملتے ہیں اور حدیث میں ان کا ذکر موجود ہے۔
{ 569} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم خادم حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان کرتے تھے۔ کہ جب حضرت صاحب نے دوسری شادی کی۔تو ایک عمر تک تجرد میں رہنے اور مجاہدات کرنے کی و جہ سے آپ نے اپنے قویٰ میں ضعف محسوس کیا۔ اس پر وہ الہامی نسخہ جو ’’زدجام عشق‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ بنوا کر استعمال کیا۔ چنانچہ وہ نسخہ نہایت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ بھی فرماتے تھے۔ کہ مَیں نے یہ نسخہ ایک بے اولاد امیر کو کھلایا تو خدا کے فضل سے اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ جس پر اس نے ہیرے کے کڑے ہمیں نذر دئیے۔
نسخہ زدجام عشق یہ ہے۔ جس میں ہر حرف سے دوا کے نام کا پہلا حرف مراد ہے۔
زعفران۔ دارچینی۔ جائفل۔ افیون۔ مشک۔ عقرقر حا۔ شنگرف۔ قرنفل یعنی لونگ۔ ان سب کو ہموزن کوٹ کر گولیاں بناتے ہیں اور روغن سم ّالفار میں چرب کر کے رکھتے ہیں اور روزانہ ایک گولی استعمال کرتے ہیں۔
الہامی ہونے کے متعلق دو باتیں سُنی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ نسخہ ہی الہام ہوا تھا۔ دوسرے یہ کہ کسی نے یہ نسخہ حضور کو بتایا۔ اور پھر الہام نے اسے استعمال کرنے کا حکم دیا۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ ـ
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے مولانا مولوی محمد اسمٰعیل صاحب فاضل نے بیان کیا کہ روغن سم ّالفار کی مقدار اجزاء کی مقدار سے ڈھائی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی اگر یہ اجزاء ایک ایک تولہ کی صورت میں جمع کئے جائیں تو روغن سم الفار ڈھائی تولہ ہو گا۔ اور اسی طرح مولوی صاحب نے بیان کیا۔ کہ ان اجزاء میں بعض اوقات مروارید بھی اسی نسبت سے یعنی فی تولہ جزو پرڈھائی تولہ مروارید زیادہ کر لیا جاتا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ روغن سم ّالفار اس طرح تیار کروایا کرتے تھے کہ مثلاًایک تولہ سم الفار کو باریک پیس کر اُسے دو سیر دودھ میں حل کر کے دہی کے طور پر جاگ لگا کر جما دیتے تھے اور پھر اس دہی کو بلو کر جو مکھن نکلتا تھا اسے بصورت گھی صاف کرکے استعمال کرتے تھے۔ اور نسخہ میں جو روغن سم الفار کی مقدار بتائی گئی ہے۔ وہ اسی روغن سم ّالفار کی مقدار ہے نہ کہ خود سم الفار کی۔ اور تیار شدہ دوائی کی خوراک نصف رتی سے ایک رتی تک ہے جو دن رات میں ایک دفعہ کھائی جاتی ہے اور کبھی کبھی ناغہ بھی کرنا چاہئے۔
{ 570} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ اور الہام ہے کہ نزلت الرحمۃ علی الثلا ثۃ۔ اَلْعَیْنِ وَعَلٰی الْاُخْرَیَین۔ یعنی تمہارے تین اعضاء پر خدائی رحمت کا نزول ہے ۔ایک ان میں سے آنکھ ہے اور دو اور اعضاء ہیں۔ فرماتے تھے۔ دوسرے دو اعضاء کا نام الہام میں اس لئے نہیں لیا گیا۔ کہ ان کا نام بھی عَین ہی معلوم ہوتا ہے ایک تو گھٹنے جسے عربی میں عَین کہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے ملک میں دُعا مشہور ہے کہ ’’ دیدے گھٹنے سلامت رہیں‘‘ اور دوسرے عین انسان کے عقل و حواس کو بھی کہتے ہیں۔ پس آنکھ گھٹنے اور عقل و حواس آپ کے مرتے دم تک خدا کے فضل و کرم سے ہر نقص اور مرض سے محفوظ رہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسرے دو اعضاء کے متعلق صرف استدلال ہے، تصریح نہیں۔ تصریح صرف آنکھ کے متعلق ہے۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 571} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ اپنے مخلصین کی بیماری میں ان کی عیادت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے چنانچہ منشی محمد اکبر صاحب مرحوم بٹالہ والے جب اپنی مرض الموت میں قادیان میں بیمار ہوئے تو آپ ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں محمد اکبر صاحب مرحوم بہت مخلص اور شیدائی تھے اور غالباً بٹالہ میں دکانداری یا ٹھیکہ کا کام کرتے تھے۔ آخری بیماری میں وہ قادیان آگئے تھے اور غالباً انہیں اس جگہ رکھا گیا تھا جہاں اب مدرسہ احمدیہ ہے۔
{ 572} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب نے بہت مرتبہ زبانِ مبارک سے فرمایا کہ میں نے بارہا بیداری میں ہی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ہے اور کئی حدیثوں کی تصدیق آپ سے براہِ راست حاصل کی ہے۔ خواہ وہ لوگوں کے نزدیک کمزور یا کم درجہ کی ہوں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیداری کی ملاقات سے کشف مراد ہے اور حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ کئی ایسی حدیثیں ہیں جو محدّثین کے نزدیک کمزور ہیں۔ مگر درحقیقت وہ درست اور صحیح ہیں۔
{ 573} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ کئی مرتبہ حضور علیہ السلام نے اپنی تقاریر میں فرمایا کہ حضرت پیرانِ پیر بڑے اولیاء اللہ میں سے ہوئے ہیں لیکن ان کی نسبت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی کوئی پیشگوئی نہیںہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیرانِ پیر سے سید عبدالقادر جیلانی ؒ مراد ہیں اور جہاں تک مَیں سمجھتا ہوں گذشتہ مجددینِ امت محمدیہ میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سید عبدالقادر صاحب جیلانی ؒکے ساتھ سب سے زیادہ محبت تھی اور فرماتے تھے کہ میری روح کو ان کی روح سے خاص جوڑ ہے۔
{ 574} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو غالباً ۱۸۹۲ء میں ایک دفعہ خارش کی تکلیف بھی ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے بہت عرصہ بعد ایک دفعہ ہنس کر فرمانے لگے کہ خارش والے کو کھجانے سے اتنا لطف آتا ہے کہ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ہر بیماری کا اجر انسان کو آخرت میں ملے گا۔ سوائے خارش کے۔ کیونکہ خارش کا بیمار دُنیا میں ہی اس سے لذت حاصل کر لیتا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خارش کی تکلیف مرزا عزیزاحمد صاحب کی پیدائش پر ہوئی تھی۔ جو غالباً ۱۸۹۱ء کا واقعہ ہے۔ اس کا ذکر روایت نمبر ۲۶۲ میں بھی ہو چکا ہے۔
{ 575} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ رزق کی تنگی بسا اوقات ایمان کی کمزوری کا موجب ہو جاتی ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں مصائب اور مشکلات سے کوئی خالی نہیں یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام اور خدا کے اولیاء کرام بھی اس سے خالی نہیں رہتے۔ مگر انبیاء اور اولیاء کی تکالیف کا سلسلہ رُوحانی ترقیات کا باعث ہوتا ہے۔ اور دنیاداروں پر جو مصائب اور مشکلات کا سلسلہ آتا ہے وہ ان کی شامتِ اعمال کی و جہ سے ہوتا ہے۔ نیز فرمایا کہ جب تک مصائب و آلام بصورت انعام نظر نہ آنے لگیں اور ان سے ایک لذت اور سرور حاصل نہ ہو۔ اس وقت تک کوئی شخص حقیقی مومن نہیں کہلا سکتا۔
{ 576} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر ذکر کیا کہ ایک دفعہ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قصر نماز کے متعلق سوال کیا۔ حضور نے فرمایا۔ جس کو تم پنجابی میں وانڈھا کہتے ہو۔ بس اس میں قصر ہونا چاہئے۔ مَیں نے عرض کیا کہ کیا کوئی میلوں کی بھی شرط ہے۔ آپ نے فرمایا۔ نہیں۔ بس جس کو تم وانڈھا کہتے ہو وہی سفر ہے جس میں قصر جائز ہے۔ مَیں نے عرض کیا کہ مَیں سیکھواں سے قادیان آتا ہوں۔ کیا اس وقت نماز قصر کر سکتا ہوں۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں۔ بلکہ میرے نزدیک اگر ایک عورت قادیان سے ننگل جائے تو وہ بھی قصر کر سکتی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ سیکھواں قادیان سے غالباً چار میل کے فاصلہ پر ہے اور ننگل تو شاید ایک میل سے بھی کم ہے۔ ننگل کے متعلق جو حضور نے قصر کی اجازت فرمائی ہے۔ اس سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان سفر کے ارادہ سے قادیان سے نکلے تو خواہ ابھی ننگل تک ہی گیا ہو اس کے لئے قصر جائز ہو جائے گا یہ مراد نہیں ہے کہ کسی کام کے لئے صرف ننگل تک آنے جانے میں قصر جائز ہو جاتا ہے۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ ننگل تک آنے جانے کو صرف عورت کے لئے سفر قرار دیا ہو کیونکہ عورت کمزور جنس ہے۔ واللّٰہ اَعْلَم
{ 577} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں موسم گرما میں مسجد مبارک میں عشاء کی نماز ہونے لگی تو تکبیر سُنتے ہی نیچے مرزا امام الدین، مرزا نظام الدین صاحبان کے احاطہ میں سے جہاں پر کئی ڈھول وغیرہ بجانے والے آئے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے ڈھول اور نفیری وغیرہ اس طرح بجانے شروع کئے کہ گویا وہ اپنی آوازوں سے نماز کی آواز کو پست کرنا چاہتے ہیں اور غالباً یہ ان عمالیق کے اشارہ سے تھا۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بڑے جَہِیْرُالصَّوت تھے۔ (اتنے کہ صبح کی اذان ان کی نہر کے پُل پر سُنی جاتی تھی) انہوں نے بھی قرأت بلند کی۔ ڈھول والوں نے اپنا شور اور بلند کیا۔ مولوی صاحب قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی ـ (القیامۃ:۳۵) (یعنی تجھ پر ہلاکت ہو۔ ہاں اے گندے انسان! تجھ پر پھر ہلاکت ہو) اس آیت کو بار بار دُہراتے تھے۔ اور ہر دفعہ ان کی آواز اونچی ہوتی چلی جاتی تھی۔ گویا شیطان سے مقابلہ تھا۔ دیر تک یہ مقابلہ جاری رہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس نماز میں شامل تھے۔ غرض مولوی صاحب نے اس وقت اتنی بلند آہنگی سے نماز اور قرأت پڑھی کہ سب نے سُن لی۔ اور شور اگرچہ سخت تھا۔ مگر یہ شور اُن کی پُر شوکت آواز کے آگے مغلوب ہو گیا۔ آیت بھی نہایت باموقعہ تھی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب نے جو عمالیق کا لفظ بیان کیا ہے اس سے مراد مرزا صاحبان مذکور ہیں۔ جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام ’’نصف ترا نصف عمالیق را‘‘ میں عمالیق کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عمالیق عربوں میں پُرانے زمانہ میں ایک جابر قوم گذری ہے۔
{ 578} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن مسجد مبارک کی مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام نے فرمایا کہ حضرت دائود کا قول ہے کہ مَیں نے کسی نیک آدمی کی اولاد کو سات پشت تک بھوکا مرتے نہیں دیکھا۔ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے نیک بندے کا جتنا لحاظ ہوتا ہے وہ اس واقعہ سے سمجھ میں آسکتا ہے جو قرآن میں مذکور ہے کہ ایک نیک شخص کے یتیم بچوں کے مال کو محفوظ کرنے کے لئے خدا نے موسیٰ علیہ السلام اور خضر کو بھیجا کہ اس دیوار کو درست کر دیں۔ جس کے نیچے ان کا مال مدفون تھا۔
فرماتے تھے۔ کہ خدانے جو یہ فرمایا ہے۔ کہ کَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا(الکھف :۸۳) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے خود اچھے نہ تھے۔ بلکہ صرف ان کے باپ کے نیک ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ان کا لحاظ تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مَیں نے سات پشت والی بات حضرت خلیفہ اوّلؓ کے واسطہ سے سُنی ہوئی ہے مگر اس میں بھوکا مرنے کی بجائے سوال کرنے کے الفاظ تھے۔ یعنی حضرت خلیفہ اوّلؓ فرماتے تھے کہ ایک نیک آدمی کی اولاد کو خدا تعالیٰ سات پشت تک سوال کرنے سے بچاتا ہے یعنی نہ تو ان کا فقراس حالت کو پہنچ جاتا ہے اور نہ ہی ان کی غیرت اس حد تک گرتی ہے کہ وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں۔
{ 579} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خوا جہ عبدالرحمن صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ میرے والد صاحب نے ایک مرتبہ ذکر کیا کہ جب مَیں شروع شروع میں احمدی ہوا تو قصبہ شوپیاں علاقہ کشمیر کے بعض لوگوں نے مجھ سے کہا۔ کہ مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ’’ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَلَّمَکَ اللّٰہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ‘‘ کے پڑھنے کے متعلق استفسار کروں۔ یعنی آیا یہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں ۔سو مَیں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں اس بارہ میں خط لکھا۔ حضور نے جواب تحریر فرمایا۔ کہ یہ پڑھنا جائز ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس استفسار کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ آنحضرت ﷺ وفات پا چکے ہیں تو کیا اس صورت میں بھی آپؐ کو ایک زندہ شخص کی طرح مخاطب کرکے دُعا دینا جائز ہے۔ سو اگر یہ روایت درست ہے تو حضرت مسیح موعودؑ کا فتویٰ یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے اور اس کی و جہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ آپؐ کی روحانیت زندہ ہے اور آپؐ اپنی ا مّت کے واسطے سے بھی زندہ ہیں۔ اس لئے آپ کے لئے خطاب کے رنگ میں دعا کرنا جائز ہے۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اپنے ایک شعر میں آنحضرت ﷺ سے مخاطب ہو کر آپ سے مدد اور نصرت بھی چاہی ہے چنانچہ فرماتے ہیں:۔
’’اے سیّد الوریٰ !مددے وقتِ نصرت است‘‘
یعنی اے رسول اللہ! آپؐ کی امّت پر ایک نازک گھڑی آئی ہوئی ہے۔ میری مدد کو تشریف لائیے کہ یہ نصرت کا وقت ہے۔
{ 580} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت اقدس احباب میں تشریف فرما ہوتے تھے۔ تو ہمیشہ اپنی نگاہ نیچی رکھتے تھے اور آپ کو اس بات کا بہت کم علم ہوتا تھا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب یا کوئی اور بزرگ مجلس میں کہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ جس بزرگ کی ضرورت ہوتی خصوصاً جب حضرت مولوی نورالدین صاحب کی ضرورت ہوتی تو آپ فرمایا کرتے مولوی صاحب کو بلائو۔ حالانکہ اکثر وہ پاس ہی ہوتے تھے۔ ایسے موقعہ پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب فرما دیتے تھے کہ حضرت! مولوی صاحب تو یہ ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسا موقعہ عموماً حضرت خلیفہ اوّلؓ کے متعلق پیش آتا تھا۔ کیونکہ آپ ادب کے خیال سے حضرت صاحب کی مجلس میں پیچھے ہٹ کر بیٹھتے تھے۔ حالانکہ دوسرے لوگ شوقِ صحبت میںآگے بڑھ بڑھ کر اور حضرت صاحب کے قریب ہو کر بیٹھتے تھے۔ وَلِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْھَا۔
{ 581} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن جب سیر کو جانے سے قبل حضور علیہ السلام چوک متصل مسجد مبارک میں قیام فرما تھے۔ تو آپ نے خاکسار کو فرمایا۔ کہ مولوی صاحب (یعنی حضرت خلیفہ اوّلؓ) کو بلا لائو۔ خاکسار بلا لایا۔ سیر میں جب مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پیچھے رہ جاتے تو حضور علیہ السلام سے عرض کیا جاتا کہ حضور! مولوی صاحب پیچھے رہ گئے ہیں۔ تو حضور علیہ السلام صرف قیام ہی نہ فرماتے بلکہ بعض اوقات مولوی صاحب کی طرف لوٹتے بھی تاکہ مولوی صاحب جلدی سے آ کر مل جائیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسا نظارہ میں نے بھی متعدد دفعہ دیکھاہے۔ مگر واپس لوٹنا مجھے یاد نہیں بلکہ میں نے یہی دیکھا ہے کہ ایسے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام انتظار میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔ اور اس کی و جہ یہ تھی کہ حضرت خلیفہ اولؓ بہت آہستہ چلتے تھے اور حضرت صاحب بہت زود رفتار تھے۔ مگر اس زود رفتاری کی و جہ سے وقار میں فرق نہیں آتا تھا۔
{ 582} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ خوابوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ذکر فرما رہے تھے۔ مَیں نے عرض کیا۔ مومن کی رئویا صادقہ کس قسم میں سے ہے؟ فرمایا ’’اِلْقَائِ مَلَک ہے‘‘۔
{ 583} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سائیں ابراہیم صاحب ساکن دھرم کوٹ بگہ ضلع گورداسپور نے مجھے بواسطہ مولوی قمر الدین صاحب مولوی فاضل ایک تحریر ارسال کی ہے۔ جو سائیں ابراہیم صاحب کی املا پر مولوی قمر الدین صاحب نے لکھی تھی اور اس پر بعض لوگوں کی شہادت بھی درج ہے۔اس تحریر میں سائیں ابراہیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائے دعویٰ میں دھرم کوٹ کے ہم پانچ کَس نے بیعت کی تھی یعنی (۱)خاکسار (۲)مولوی فتح دین صاحب (۳) نور محمد صاحب (۴) اللہ رکھا صاحب اور (۵) شیخ نواب الدین صاحب ۔
اس وقت رادھے خان پٹھان ساکن کروالیاں پٹھاناں اچھا عابد شخص خیال کیا جاتا تھا۔ وہ دھرم کوٹ بگّہ میں بھی آتا جاتا تھا۔ اور مولوی فتح دین صاحب سے اس کی حضرت صاحب کے دعویٰ کے متعلق گفتگو بھی ہوتی رہتی تھی اور بعض اوقات سخت کلامی تک بھی نوبت پہنچ جاتی تھی۔ ۱۹۰۰ء کا واقعہ ہے کہ رادھے خان مذکور دھرم کوٹ آیا اور مولوی فتح دین صاحب سے دورانِ گفتگو میں سخت کلامی کی۔ اس پر مولوی صاحب نے توبہ اور استغفار کی تلقین کی کہ ایسی باتیں حضرت صاحب کی شان میں مت کہو۔ مگر وہ باز نہ آیا اور کہا کہ مَیں مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ مَیں جو کچھ کہتا ہوں سچ کہتا ہوں۔ مباہلہ کرکے دیکھ لو۔ اس پر مولوی صاحب مباہلہ کے لئے تیار ہو گئے۔ اور مباہلہ وقوع میں آگیا۔ مباہلہ کے بعد احمدی احباب نے آپس میں تذکرہ کیا کہ مباہلہ حضرت صاحب کی اجازت کے بغیر کر لیا گیا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہوا۔ اس پر حضور اقدس کی خدمت میں جانے کے لئے تیاری ہوئی۔ ہم پانچوں قادیان پہنچے۔ نماز عشاء کے بعد مولوی فتح دین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو واقعہ مباہلہ سُنایا اور کہا کہ ایسا ہو چکا ہے اور چالیس دن میعاد مقرر کی گئی ہے۔ حضور دعا فرمائیں۔ حضور نے معاً فرمایا: کیا تم خدا کے ٹھیکیدار تھے؟ تم نے چالیس دن میعاد کیوں مقرر کی؟ یہ غلط طریق اختیار کیا گیا ہے۔ یہ بھی دریافت فرمایا کہ مباہلہ میں اپنے وجود کو پیش کیا گیا ہے یا کہ ہمارے وجود کو؟ مولوی صاحب نے کہا۔ حضور اپنا وجود ہی پیش کیا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ آئندہ یاد رکھو کہ مباہلہ میں میرا وجود پیش کرنا چاہئے نہ کہ اپنا۔اس کے بعد حضور کچھ دیر گفتگو فرما کر تھوڑی دیر کے لئے خاموش رہے۔ پھر فرمایا۔ مَیں دُعا کرتا ہوں آپ بھی شامل ہو جائیں۔دعا نہایت رقت بھرے الفاظ سے شروع ہوئی۔ عشاء کے بعد سے لے کر تہجّد کے وقت تک دُعا ہوتی رہی۔ آخر دُعا ختم ہوئی اور حضور نے فرمایا۔ جائو دُعا قبول ہو گئی ہے اور خدا کے فضل سے تمہاری فتح ہے۔ ہم لوگ اسی وقت واپس آگئے۔ نماز فجر راستہ میں پڑھی۔ واپس آ کر ہم لوگ مباہلہ کے انجام کے منتظر رہے اور دعا کرتے رہے۔ حضرت اقدس نے بھی دعا جاری رکھنے کی نصیحت فرمائی تھی۔ میعاد میں دس دن باقی رہ گئے تو رادھے خان نے آ کر پھر سخت کلامی کی۔ اور اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر باہر جنگل میں دُعا کرنے کے لئے چلا گیا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے۔ کہ اس نے لوگوں کو کہا تھا کہ میری دعا قبول ہو گئی ہے۔ اس دعا کے بعد وہ اپنے گائوں کو واپس جا رہا تھا۔ کہ راستہ میں اس کی پنڈلی کی ہڈی پر چوٹ لگی۔ اس سے اس کے سارے جسم میں زہر پھیل گیا۔رادھے خان جسم کا پتلا دُبلا تھا۔ مگر اس چوٹ کی و جہ سے اس کا جسم پھولتا گیا۔ حتیّٰ کہ چارپائی سے بالشت بھر باہر اس کا جسم نکلا ہوا نظر آتا تھا۔ اس بیماری میں مولوی فتح الدین صاحب اس کے پاس گئے۔ اور توبہ و استغفار کی تلقین کی مگر وہ اس طرف متوجہ نہ ہوا۔ پھر جب چالیس دن میں ایک دن باقی تھا۔ تو وہ واصل جہنم ہوا۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذالک۔
العبد(دستخط) ابراہیم بقلم خود ساکن دھرم کوٹ بگہ تحصیل بٹالہ
ضلع گورداسپور مَیں اس واقعہ کی تصدیق کرتا ہوں۔
العبد:۔ نشان انگوٹھا روڑا احمدی ساکن دھرم کوٹ بگہ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی قمر الدین صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ جب مَیں دھرم کوٹ بگہ سے اس روایت کو لے کر واپس قادیان آیا۔ تو ایک دن مَیں نے اس واقعہ کا ذکر چوہدری مظفر الدین صاحب بنگالی ،بی۔ اے سے کیا تو وہ بہت محظوظ ہوئے اور کہا کہ یہ بہت عجیب واقعہ ہے۔ کسی دن دھرم کوٹ چلیں اور سائیں ابراہیم صاحب کی زبانی سُنیں۔ مَیں نے کہا بہت اچھا۔ کسی دن چلیں گے۔ چنانچہ ہم نے جانے کے لئے ایک دن مقرر کیا۔ بٹالہ تک گاڑی میں جانا تھا۔ رات کو بارش ہو گئی۔ صبح سویرے گاڑی پر پہنچنا تھا۔ باقی سب دوست تو پہنچ گئے مگر چوہدری صاحب نہ پہنچ سکے۔ہم گاڑی پر چلے گئے۔ بعض دوست چوہدری صاحب کے نہ پہنچ سکنے پر افسوس کرنے لگے۔ مگر مَیں نے کہا۔ چوہدری صاحب ضرور پہنچ جائیں گے۔ ہم بذریعہ گاڑی بٹالہ پہنچے اور وہاں سے دھرم کوٹ چلے گئے۔ ابھی تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ چوہدری صاحب سائیکل پر پہنچ گئے۔ دھرم کوٹ ہم نے پہلے سے اطلاع کی ہوئی تھی کہ ہم لوگ فلاں غرض کے لئے آ رہے ہیں۔ چوہدری صاحب کے پہنچنے پر ہم سب خوش ہوئے کیونکہ درحقیقت یہ سفر انہی کی تحریک پر کیا گیا تھا۔ ایک مجلس منعقد کی گئی اور سائیں ابراہیم کی خدمت میں درخواست کی گئی کہ وہ سارا واقعہ مباہلہ سُنائیں۔ سائیں صاحب موصوف نے سارا واقعہ سُنایا۔ واقعہ سُن کر ایمان تازہ ہوتا تھا۔ ہمارے علاوہ اس مجلس میں مقامی جماعت کے لوگ بھی کافی تعداد میں شامل تھے۔ جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کے صحابی بھی تھے۔ سب نے سائیں صاحب کے واقعہ مذکورہ سُنانے پر تائید کی اور کئی احباب نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد دھرم کوٹ بگہ کے بہت سے احباب سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہو گئے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مسنون طریق مباہلہ یہ ہے۔ کہ مباہلہ کے لئے ایک سال کی میعاد مقرر کی جائے اور اسی واسطے حضرت صاحب چالیس روز میعاد کے مقرر ہونے پر ناراض ہوئے ہونگے۔ مگر خدانے حضرت کی خاص دعا کی وجہ سے چالیس روز میں ہی مباہلہ کا اثر دکھا دیا۔ اور احمدیوں کو نمایاں فتح دے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو ثابت کر دیا مگر یہ ایک استثنائی صورت ہے۔ جو حضرت صاحب کی خاص توجہ سے خدا نے خاص حالات میں پیدا کر دی۔ ورنہ عام حالات میں ایک سال سے کم میعاد نہیں ہونی چاہئے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی جب اہل نجران کو مبا ہلہ کے لئے بلایا تھا تو اپنی طرف سے ایک سال کی میعاد پیش کی تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ فرمان علی صاحب بی۔ اے۔ ریٹائرڈ انجینئیر محکمہ انہار ساکن دھرم کوٹ بگہ نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے کیونکہ انہوں نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ ان کے والد شیخ عزیز الدین صاحب بھی واقعہ مباہلہ مابین مولوی فتح الدین صاحب و رادھے خان پٹھان ساکن کروالیاں اکثر لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتے تھے۔ اور جن باتوں کی وجہ سے وہ احمدیّت کے حق میں متاثر ہوئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھی۔
{ 584} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے گھر سے یعنی حضرت اماں جی نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ جب آخری سفر لاہور میں وفات سے چند روز قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا کہ ’’اَلرَّحِیْلُ ثُمَّ الرَّحِیْل‘‘ یعنی کوچ پھر کوچ (جو آپ کے قرب موت کی طرف اشارہ تھا)تو حضرت صاحب نے مجھے بلا کر فرمایا۔ کہ جس حصّہ مکان میں ہم ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اُس میں آپ آ جائیں اور ہم آپ والے حصّہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ خدا نے الہام میں اَلرَّحِیْلُ فرمایا ہے جسے ظاہر میں اس نقل مکانی سے پورا کر دینا چاہئے اور معذرت بھی فرمائی کہ اس نقل مکانی سے آپ کو تکلیف تو ہو گی۔ مگر مَیں اس خدائی الہام کو ظاہر میں پورا کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ مکان بدل لئے گئے۔ مگر جو خدا کی تقدیر میں تھا۔ وہ پورا ہوا اور چند دن بعد آپ اچانک وفات پا گئے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مَلَأِ اَعْلٰی کے فرشتے حضرت مسیح موعودؑکے اس فعل کو دیکھ کر وجد میں آتے ہونگے کہ یہ خدا کا بندہ خدمتِ دین کا کس قدر عاشق ہے کہ جانتا ہے کہ مقدر وقت آ پہنچا ہے مگر خدائی تقدیر کو پیچھے ڈالنے کے لئے لفظوں کی آڑ لے کر اپنی خدمت کے وقت کو لمبا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک محبت و عشق کی کھیل تھی۔ جس پر شاید ربّ العرش بھی مسکرا دیا ہو۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَ عَلٰی مُطَاعِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّم۔
{ 585} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ مَیں نے دیکھا ہے کہ شروع میں لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عموماً ’’مرزا جی‘‘ کہتے تھے۔ پھر ’’مرزا صاحب‘‘ کہنے لگے۔ اس کے بعد ’’حضرت صاحب‘‘۔ پھر ’’حضرت اقدس‘‘ یا ’’حضرت مسیح موعود‘‘ اور جب بالمشافہ گفتگو ہوتی۔ تو احباب عموماً آپ کو ’’حضور‘‘ کے لفظ سے مخاطب کرتے تھے۔ مگر بعض لوگ کبھی کبھی ’’آپ‘‘ بھی کہہ لیتے تھے۔
{ 586} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب متوطن پٹیالہ حال انچارج نور ہسپتال قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ مَیں ۱۹۰۵ء کے موسم گرما کی چھٹیوں میں جبکہ اپنے سکول کی نویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ پہلی مرتبہ قادیان آیا تھا۔ میرے علاوہ مولوی عبداللہ صاحب عربی مدرس مہندر کالج و ہائی سکول پٹیالہ۔ حافظ نور محمد صاحب مرحوم سیکرٹری جماعت احمدیہ پٹیالہ۔ مستری محمد صدیق صاحب جو آج کل وائسرائیگل لاج میں ملازم ہیں۔ شیخ محمد افضل صاحب جو شیخ کرم الٰہی صاحب کے چچا زاد بھائی ہیں اور اُس وقت سکول کے طالب علم تھے، میاں خدابخش المعروف مومن جی جو آج کل قادیان میں مقیم ہیں اس موقعہ پر قادیان آئے تھے۔ ہم مہمان خانہ میں ٹھہرے تھے۔ ہمارے قریب اور بھی مہمان رہتے تھے جن میں سے ایک شخص وہ تھا جو فقیرانہ لباس رکھتا تھا۔ اس کا نام مجھے یاد نہیں۔ وہ ہم سے کئی روز پہلے کا آیا ہوا تھا۔ جس روز ہم قادیان پہنچے۔ اس فقیرانہ لباس والے شخص نے ذکر کیا کہ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام سے عرض کیا تھا کہ میری بیعت لے لیں۔ آپ نے فرمایا۔ کچھ دن یہاں ٹھہرو۔ بیعت کی کیا ،جلدی ہے ہو جائے گی، وہ شخص دو تین روز تو رکا رہا۔ لیکن جس روز ہم یہاں پہنچے اُسی شام یا اگلی شام کو بعد نماز مغرب یا عشاء (ان دنوں حضرت صاحب نماز مغرب کے بعد مسجد میں مجلس فرمایا کرتے تھے۔ اور عشاء کی نماز جلدی ہوا کرتی تھی)حضور نے لوگوں کی بیعت لی۔ ہم طلباء نے بھی بیعت کی۔ (گو مَیں بذریعہ خط ۲۔۱۹۰۱ء میں بیعت کر چکا تھا۔ اور اس سے بھی پہلے ۱۸۹۹ء میں جبکہ میری عمر پندرہ سولہ سال کے قریب تھی۔ اپنے کنبہ کے بزرگوں کے ساتھ جن میں میرے دادا صاحب مولا بخش صاحب اور والد صاحب رحیم بخش صاحب اور میرے بڑے بھائی حافظ ملک محمد صاحب بھی تھے۔ حضرت مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی والد حکیم محمد عمر صاحب کے ہاتھ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہو چکا تھا۔ یہ بیعت مسجد احمدیہ میں ڈیک بازار پٹیالہ میں ہوئی تھی) اس وقت اس شخص نے بھی چپکے سے بیعت کرنے والوں کے ساتھ ہاتھ رکھ دیا۔ اگلی صبح آٹھ نو بجے کے قریب حضرت مسیح موعودؑ حضرت میاں بشیر احمد صاحب (خاکسار مؤلف) کے موجودہ سکونتی مکان کی بنیادوں کا معائنہ کرنے کے لئے اس جگہ پر تشریف فرما تھے۔ کہ ہم مہمانان موجودۃ الوقت بھی حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہو گئے۔ اسی وقت اُس مہمان نے آگے بڑھ کر کہا۔ حضور مَیں نے رات بیعت کر لی ہے۔ حضور نے ہنس کر فرمایا۔ بیعت کر لینا ہی کافی نہیں ہے۔ بلکہ استقامت اختیار کرنا اور اعمال صالحہ میں کوشش کرتے رہنا ضروری ہے۔ اسی طرح کی مختصر مگر مؤثر تقریر حضور نے فرمائی۔ حکمت الٰہی ہے کہ وہ شخص اگلے روز ہی ایسی باتیں کرنے لگا۔ کہ گویا اس کو سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور ایک دو روز تک دشنام دہی تک نوبت آگئی۔ اور اسی حالت میں وہ قادیان سے نکل گیا۔
ہمارے دورانِ قیام میں جو کہ دس بارہ روز کا عرصہ تھا۔ بعض اور واقعات بھی ہوئے۔ ان میں سے ایک حضرت صاحب کے سر پر چوٹ لگنے کا واقعہ ہے۔ حضور وضو کر کے اُٹھے تھے کہ الماری کے کُھلے ہوئے تختہ سے سر پر چوٹ آئی اور کافی گہرا زخم ہو گیا جس سے خون جاری ہوا۔ بہت تکلیف پہنچی۔ اس کی وجہ سے مسجد میں تشریف نہ لا سکتے تھے اور ہم نے بھی اجازت اندر حاضر ہو کر لی تھی۔ دوسرا واقعہ یہ ہے۔ کہ انہی دنوں حضور کو ’’ فَفَزِعَ عِیْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ ‘‘ والا الہام ہوا تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ الماری کے تختہ کی چوٹ کا واقعہ میرے سامنے ہوا تھا۔ حضرت صاحب کسی غرض کے لئے نیچے جُھکے تھے اور الماری کا تختہ کھلا تھا۔ جب اُٹھنے لگے تو تختہ کا کونہ سر میں لگا اور بہت چوٹ آئی۔ یہ واقعہ اس کمرہ میں ہوا تھا جو حجرہ کہلاتا ہے۔
{ 587} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب نے عربی زبان کے اُمُّ الْاَلْسِنَۃ ہونے کا اظہار فرمایا۔ تو اس کے بعد یہ تحقیق شروع ہوئی کہ بہت سے عربی کے الفاظ اپنی شکل پر یا کچھ تغیر کے ساتھ دوسری زبانوں میں موجود ہیں۔ چنانچہ آپ نے نمونہ کے طور پر چند الفاظ سُنائے۔ اس پر یہ چرچا اس قدر بڑھا کہ ہر شخص اردو ، انگریزی فارسی ہندی وغیرہ میں عربی الفاظ ڈھونڈنے لگا۔ اور جب حضرت صاحب مسجد میں تشریف لاتے۔تو لوگ اپنی اپنی تحقیقات پیش کرتے۔ بعض الفاظ کو حضرت صاحب قبول فرما لیتے اور بعض کو چھوڑ دیتے۔انہی دنوں میں فرمایا۔ کہ عربی میں زمین کو ارض کہتے ہیں اور انگریزی میں ارتھ کہتے ہیں اور یہ دونوں باہم ملتے جلتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اصل میں یہ کس زبان کا لفظ ہے اور کس زبان میں سے دوسری زبان میں لیا گیا ہے۔ سو یہ اس طرح معلوم ہو جائے گا کہ ارتھ کے لغوی معنے اور اس کی اصلیت انگریزی لُغت میں نہیں ملے گی۔ برخلاف اسکے عربی میں ارض کے وہ لغوی اور بنیادی معنے موجود ہیں جن کی مناسبت کے لحاظ سے زمین کو ارض کہتے ہیں۔ چنانچہ عربی میں ارض اس چیز کو کہتے ہیں جو تیز چلتی ہو۔ مگر باوجود تیز رفتاری کے پھر ایسی ہو کہ وہ ایک بچھونے کی طرح ساکن معلوم ہو۔ اب نہ صرف اس سے عربی لفظ کے اصل ہونے کا پتہ لگ گیا۔ بلکہ اس علم سے جو اس لفظ میں مخفی ہے۔ یہ بھی پتہ لگ گیا کہ یہ الہامی زبان ہے ،انسان کی بنائی ہوئی نہیں۔ اور اس میں موجودہ سائنس کی تحقیقات سے پہلے بلکہ ہمیشہ سے زمین کی حرکت کا علم موجود ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مَیں نے اس بارے میں عربی کی دو سب سے بڑی لغتوں یعنی لسان العرب اور تاج العروس کو دیکھا ہے ان دونوں میں ارض کے لفظ کے ماتحت یہ دونوں معنے موجود ہیں۔ کہ حرکت میں رہنے والی چیز اور ایسی چیز جو ایک فرش اور بچھونے کی طرح ہو۔ بلکہ مزید لطف یہ ہے کہ ان لغتوں میں لکھا ہے کہ ارض کے روٹ میں جس حرکت کا مفہوم ہے وہ سیدھی حرکت نہیں بلکہ چکر والی حرکت ہے چنانچہ جب یہ کہنا ہو کہ میرے سر میں چکر ہے تو اس وقت ارض کا لفظ بولتے ہیں۔
{ 588} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض اوقات حضور علیہ السلام کسی ہنسی کی بات پر ہنستے تھے اور خوب ہنستے تھے۔ یہاں تک مَیں نے دیکھا ہے کہ ہنسی کی وجہ سے آپ کی آنکھوں میں پانی آ جاتا تھا۔ جسے آپ انگلی یا کپڑے سے پونچھ دیتے تھے۔ مگر آپ کبھی بیہودہ بات یا تمسخر یا استہزاء والی بات پر نہیں ہنستے تھے۔ بلکہ اگر ایسی بات کوئی آپ کے سامنے کرتا تو منع کر دیتے تھے۔ چنانچہ میں نے ایک دفعہ ایک تمسخر کا نا مناسب فقرہ کسی سے کہا۔ آپ پاس ہی چارپائی پر لیٹے تھے۔ ہُوں ہُوں کرکے منع کرتے ہوئے اُٹھ بیٹھے اور فرمایا۔ یہ گناہ کی بات ہے۔ اگر حضرت صاحب نے منع نہ کیا ہوتا تو اس وقت مَیں وہ فقرہ بھی بیان کر دیتا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت سے مجھے ایک بات یاد آگئی کہ ایک دفعہ جب مَیں ابھی بچہ تھا ہماری والدہ صاحبہ یعنی حضرت امّ المؤمنین نے مجھ سے مزاح کے رنگ میں بعض پنجابی الفاظ بتا بتا کر ان کے اردو مترادف پوچھنے شروع کئے۔ اس وقت مَیں یہ سمجھتا تھا کہ شاید حرکت کے لمبا کرنے سے ایک پنجابی لفظ اردو بن جاتا ہے۔ اس خود ساختہ اصول کے ماتحت مَیں جب اُوٹ پٹانگ جواب دیتا تھا تو والدہ صاحبہ بہت ہنستی تھیں اور حضرت صاحب بھی پاس کھڑے ہوئے ہنستے جاتے تھے۔ اسی طرح حضرت صاحب نے بھی مجھ سے ایک دو پنجابی الفاظ بتا کر ان کی اردو پوچھی اور پھر میرے جواب پر بہت ہنسے۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ اس وقت مَیں نے ’’کتّا‘‘ کی اردو ’’کُوتا‘‘ بتایا تھا۔ اور اس پر حضرت صاحب بہت ہنسے تھے۔
{ 589} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ ایک دفعہ مسجد مبارک میں بعد نماز ظہر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی شیر علی صاحب کو بلا کر کچھ ارشاد فرمایا۔ یا ان سے کچھ پوچھا مولوی صاحب نے (غالباً حضور کے رعب کی وجہ سے گھبرا کر)جواب میں اس طرح کے الفاظ کہے کہ ’’ حضور نے یہ عرض کیا تھا۔ تو مَیں نے یہ فرمایا تھا ‘‘ بجائے اس کے کہ اس طرح کہتے کہ حضور نے فرمایا تھا تو مَیں نے عرض کیا تھا۔ اس پر اہلِ مجلس ہنسی کو روک کر مسکرائے۔ مگر حضرت صاحب نے کچھ خیال نہ فرمایا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اول تو حضرت صاحب کو اِدھر خیال بھی نہ گیا ہو گا۔ اور اگر گیا بھی ہو تو اس قسم کی بات کی طرف توجہ دینا یا اس پر مسکرانا آپ کے طریق کے بالکل خلاف تھا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کو چُوک کر اس قسم کے الفاظ کہہ دینا خود مولوی صاحب کے متعلق بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کمال شفقت کے ان کے دل میں حضرت صاحب کا اتنا ادب اور رعب تھا کہ بعض اوقات گھبرا کر مُنہ سے اُلٹی بات نکل جاتی تھی۔
{ 590} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اولؓ کے بڑے لڑکے میاں عبدالحی مرحوم کا نکاح بہت چھوٹی عمر میں حضرت صاحب نے پیر منظور محمد صاحب کی چھوٹی لڑکی (حامدہ بیگم) کے ساتھ کرادیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا۔ کہ وہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں۔ اس پر علماء جماعت کی معرفت اس مسئلہ کی چھان بین ہوئی کہ رضاعت سے کس قدر دودھ پینا مراد ہے اور کیا موجودہ صورت میں رضاعت ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ آخر تحقیقات کر کے اور مسئلہ پر غور کرکے یہ فیصلہ ہوا کہ واقعی یہ ہر دو رضاعی بہن بھائی ہیں اور نکاح فسخ ہو گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاںتک مجھے یاد ہے اس وقت حضرت صاحب اس طرف مائل تھے کہ اگر معمولی طور پر کسی وقت تھوڑا سا دودھ پی لیا ہے۔ تو یہ ایسی رضاعت نہیں جو باعثِ حرمت ہو اور حضور کا میلان تھا کہ نکاح قائم رہ جائے مگر حضرت خلیفہ اولؓ کو فقہی احتیاط کی بناء پر انقباض تھا۔ اس لئے حضرت صاحب نے فسخ کی اجازت دیدی۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 591} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دوست نے مسجد مبارک میں مغرب کے بعد سوال کیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کا طعام تمہارے لئے حلال ہے تو عیسائی تو ناپاک چیزیں بھی کھا لیتے ہیں۔ پھر ہم ان کا کھانا کس طرح کھا سکتے ہیں۔ فرمایا۔ اہل کتاب سے دراصل اس جگہ قرآن شریف نے یہودی مراد لئے ہیں جن کے پاس شریعت تھی اور جو اس کے حامل اور عامل تھے اور انہی لوگوں کا ذبیحہ اور کھانا جائز ہے۔ کیونکہ وہ بہت شدّت سے اپنی شریعت کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ عیسائیوں نے تو سب باتیں شریعت کی اڑا دیں اور شریعت کو *** قرار دیدیا۔ پس یہاں وہ مراد نہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر میر صاحب کی اس روایت کے ظاہری اور عام معنی لئے جائیں تو اس میں کسی قدر ندرت ہے جو عام خیال کے خلاف ہے اور میرے خیال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعامل کے بھی خلاف ہے۔ جہاں تک میرا علم ہے حضرت صاحب کو عیسائیوں کی تیار شدہ چیزوں کے کھانے میں پرہیز نہیں تھا۔ بلکہ ہندوئوں تک کی چیزوں میں پرہیز نہیں تھا۔ البتہ اس روایت کا یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ عیسائیوںنے طریق ذبح کے معاملہ میں شرعی طریق کو چھوڑ دیا ہے اس لئے ان کے اس قسم کے کھانے سے پرہیز چاہئے۔ مگر باقی چیزوں میں حرج نہیں۔ ہاں اگر کوئی چیز اپنی ذات میں حرام ہو تو اس کی اور بات ہے۔ ایسی چیز تو عیسائی کیا مسلمان کے ہاتھ سے بھی نہیں کھائی جائے گی۔
{ 592} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مسئلہ دریافت کیا۔ کہ حضور فاتحہ خلف امام اور رفع یدین اور آمین کے متعلق کیا حکم ہے۔ آپ نے فرمایا۔ کہ یہ طریق حدیثوں سے ثابت ہے۔ اور ضرور کرنا چاہئے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ فاتحہ خلف امام والی بات تو حضرت صاحب سے متواتر ثابت ہے مگر رفع یدین اور آمین بِالجَہر والی بات کے متعلق مَیں نہیں سمجھتا کہ حضرت صاحب نے ایسا فرمایا ہو کیونکہ اگر حضور اسے ضروری سمجھتے تو لازم تھا کہ خود بھی اس پر ہمیشہ عمل کرتے۔ مگر حضور کا دوامی عمل ثابت نہیں بلکہ حضور کا عام عمل بھی اس کے خلاف تھا۔ مَیں سمجھتا ہوںکہ جب حافظ صاحب نے حضور سے سوال کیا تو چونکہ سوال میں کئی باتیں تھیں۔ حضور نے جواب میں صرف پہلی بات کو مدنظر رکھ کر جواب دیدیا یعنی حضور کے جواب میں صرف فاتحہ خلف امام مقصود ہے۔ واللّٰہ اعلم ـ
{ 593} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہماری عادت تھی کہ جب ہم حضرت صاحب کو قادیان ملنے آتے، تو ہمیشہ اپنے ساتھ کبھی گنیّ یا گُڑ کی روڑی ضرور لایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نے فرمایا۔ ہمارے لئے سرسوں کا ساگ بھیجنا۔ وہ گوشت میں ڈال کر عمدہ پکتا ہے۔ ہم نے وہ ساگ فیض اللہ چک سے بھیج دیا۔ بعد ازاں ہم نے گائوں میں یہ بات سُنی کہ دہلی میں آپ کی شادی ہو گئی ہے۔ اس پر مَیں اور میرے دوست حافظ نبی بخش صاحب آپ کی ملاقات کے لئے آئے۔ تو حضور بہت خوش ہو کر ملے۔ مَیں نے ایک روپیہ نذرانہ پیش کیا۔ آپ نے فرمایا۔ کہ جب آپ کے لڑکا پیدا ہو گا تو ہم بھی دیں گے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور نے یہ بات کہ ہم بھی دینگے، تنبول وغیرہ کے رنگ میں نہیں کہی ہو گی بلکہ یونہی اظہار محبت و شفقت کے طور پر کہی ہو گی۔ گو ویسے حضور شادیوں وغیرہ کے موقعہ پر تنبول کے طریق کو بھی ناپسند نہیں فرماتے تھے اور فرماتے تھے نیک نیتی سے ایسا کیا جائے اور اسے لازمی نہ قرار دیا جاوے تو یہ ایک بروقت امداد کی صورت ہے۔
{ 594} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ رمضان کی لیلۃالقدر کی بابت حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے۔ کہ اس کی پہچان یہ ہے کہ اس رات کچھ بادل یا ترشح بھی ہوتا ہے۔ اور کچھ آثار انواروبرکات سماویہ کے محسوس ہوتے ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہی علامت حدیثوں میں بھی بیان ہوئی ہے لیکن غالباً یہ منشاء نہیں ہے کہ بادل یا ترشح کی شرط بہرصورت لازمی ہے اور میرے خیال میں ایسا بھی ممکن ہے کہ مختلف علاقوں میں لیلۃ القدر مختلف راتوں میں ظاہر ہو اور حق تو یہ ہے کہ لیلۃ القدر کا ماحول پیدا کرنا ایک حد تک انسان کی خود اپنی حالت پر بھی موقوف ہے ایک ہی وقت میں ایک شخص کے لئے لیلۃ القدر ہوسکتی ہے مگر دوسرے کے لئے نہیں۔ واللّٰہ اعلم ـ
{ 595} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام فرماتے تھے کہ بعض اوقات الہام اس طرح بھی ہوتا ہے کہ کلامِ الٰہی بندہ کی اپنی زبان پر بلند آواز سے ایک دفعہ یا بار بار جاری ہو جاتا ہے اور اس وقت زبان پر بندے کا تصرف نہیں ہوتا۔ بلکہ خدا کا تصّرف ہوتا ہے اور کبھی الہام اس طرح ہوتا ہے کہ لکھا ہوا فقرہ یا عبارت دکھائی دیتی ہے اور کبھی کلام لفظی طور پر باہر سے آتا ہوا سُنائی دیتا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ کلام الٰہی تین موٹی قسموں میں منقسم ہے۔ اوّل وحی ۔یعنی خدا کا براہِ راست کلام خواہ وہ جلی ہو یا خفی۔ دوسرے مِنْ وَّرَائِ حِجَاب والی تصویری زبان کا الہام مثلاً خواب یا کشف وغیرہ۔ تیسرے فرشتہ کے ذریعہ کلام۔ یعنی خدا فرشتہ سے کہے اور فرشتہ آگے پہنچائے اور پھر یہ تینوں قِسمیں آگے بہت سی ماتحت اقسام میں منقسم ہیں۔ میر صاحب والی روایت میں آخری قسم ،وحی میں داخل ہے اور شاید پہلی قسم بھی ایک رنگ وحی کا رکھتی ہے مگر درمیانی قسم مِنْ وَّرَآئِ حِجَاب سے تعلق رکھتی ہے۔ واللّٰہ اعلم ـ
{ 596} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ جیسے زکوٰۃ یا صدقہ سادات کے لئے منع ہے ویسا ہی صاحبِ توفیق کے لئے بھی اس کا لینا جائز نہیں ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مَیں نے یہ سُنا ہوا ہے کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ آج کل سخت اضطرار کی حالت میں جبکہ کوئی اور صور ت نہ ہو۔ ایک سیّد بھی زکوٰۃ لے سکتا ہے۔
{ 597} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب معتدل موسم میں بھی کئی مرتبہ پچھلی رات کو اُٹھ کر اندر کمرہ میں جا کر سو جایا کرتے تھے اور کبھی کبھی فرماتے تھے کہ ہمیں سردی سے متلی ہونے لگتی ہے۔ بعض دفعہ تو اُٹھ کر پہلے کوئی دوا مثلاً مشک وغیرہ کھا لیتے تھے اور پھر لحاف یا رضائی اوڑھ کر اندر جا لیٹتے تھے۔ غرض یہ کہ سردی سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی اور اس کے اثر سے خاص طور پر اپنی حفاظت کرتے تھے۔ چنانچہ پچھلی عمر میں بارہ مہینے گرم کپڑے پہنا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بالعموم گرمی میں بھی جراب پہنے رکھتے تھے اور سردیوں میں تو دو دو جوڑے اُوپر تلے پہن لیتے تھے مگر گرمیوں میں کرتہ عموماً ململ کا پہنتے تھے۔
{ 598} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نبی بخش صاحب ساکن فیض اللہ چک حال محلہ دارالفضل قادیان نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت صاحب ہر موسم کا پھل مثلاً خربوزہ اور آم کافی مقدار میں باہر سے منگواتے تھے۔ خربوزہ علاقہ بیٹ سے اور آم دریا کے پار سے منگاتے تھے۔ بعض اوقات جب مَیں بھی خدمت میں حاضر ہوتا تو حضور اپنے دستِ مبارک سے خربوزہ کاٹ کر مجھے دیتے اور فرماتے۔ میاں نبی بخش یہ خربوزہ میٹھا ہو گا اسکو کھائو اور آپ بھی کھاتے۔ اسی طرح آموں کے موسم میں حضرت صاحب نہایت محبت و شفقت سے مجھے آم بھی عنایت فرماتے اور بار بار فرماتے۔ یہ آم تو ضرور میٹھا ہو گا۔ اس کو ضرور کھائو۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ بیٹ سے دریائے بیاس کے قریب کا نشیبی علاقہ مراد ہے اور پار سے ضلع ہوشیارپور کا علاقہ مراد ہے جس میں آم زیادہ ہوتا ہے۔
{ 599} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام مسجد مبارک میں مع احباب کے تشریف رکھتے تھے۔ مَیں باہر سے آیا اور السَّلام علیکم عرض کیا۔ حضور سے مصافحہ کرنے کی بہت خواہش پیدا ہوئی۔ لیکن چونکہ مسجد بھری ہوئی تھی اور معزز احباب راستہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مَیں نے آگے جانا مناسب نہ سمجھا۔ ابھی مَیں کھڑاہی تھا اور بیٹھنے کا ارادہ کر رہاتھا کہ حضور نے میری طرف دیکھ کر فرمایا۔ میاں عبدالعزیز آئو۔ مصافحہ تو کر لو۔ چنانچہ دوستوں نے مجھے راستہ دیدیا اور مَیں نے جا کر مصافحہ کر لیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو اپنے مخلص اصحاب کی انتہائی دلداری مدنظر رہتی تھی۔ اور آپ کا دل ان کی محبت سے معمور رہتا تھا۔ اس موقعہ پر حضرت صاحب نے محسوس کر لیا ہو گا کہ میاں عبدالعزیز صاحب مصافحہ کی خواہش رکھتے ہیں مگر راستہ بند ہونے کی وجہ سے مجبور ہیں۔ اس لئے آپ نے آواز دے کر پاس بلا لیا۔
{ 600} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ کرم دین جہلمی کے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام گورداسپور تشریف لائے ہوئے تھے۔ کچہری کے وقت حضور احاطۂ کچہری میں ایک جامن کے درخت کے نیچے کپڑا بچھا کر مع خدّام تشریف فرما تھے۔ حضور کے لئے دودھ کا ایک گلاس لایا گیا۔ چونکہ حضور کا پس خوردہ پینے کے لئے سب دوست جدوجہدکیا کرتے تھے۔ میرے دل میں اس وقت خیال آیا۔کہ مَیں ایک غریب اور کمزور آدمی ہوں۔ اتنے بڑے بڑے آدمیوں میں مجھے کس طرح حضور کا پس خوردہ مل سکتا ہے۔ اس لئے مَیں ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ حضور نے جب نصف گلاس نوش فرما لیا تو بقیہ میرے ہاتھ میں دے کر فرمایا۔ میاں عبدالعزیز بیٹھ کر اچھی طرح سے پی لو۔
{ 601} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خوا جہ عبدالرحمن صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے میرے والد صاحب نے بتایا کہ جب حضور علیہ السَّلام نماز کے وقت تشہّد میں بیٹھتے تو تشہّد پڑھنے کی ابتداء ہی میں دائیں ہاتھ کی انگلیوں کا حلقہ بنا لیتے تھے اور صرف شہادت والی انگلی کھلی رکھتے تھے۔ جو شہادت کے موقعہ پر اُٹھاتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوا جہ عبدالرحمن صاحب کے والد چونکہ اہل حدیث میں سے آئے تھے۔ اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کو غور کی نظر سے دیکھتے تھے۔ مگر مجھ سے مکرم ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے بیان کیا ہے کہ ابتداء سے ہی ہاتھ کی انگلیوں کے بند کرلینے کا طریق انہیں یاد نہیں ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کبھی ایسا ہوا ہو۔ واللّٰہ اعلم ـ
{ 602} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خوا جہ عبدالرحمن صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے والد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مَیں پہلے اہلِ حدیث تھا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہارات و رسائل کشمیر میں پہنچے ۔ تو سب سے پہلے میرے کان میں حضور کا یہ شعر پڑا۔ کہ
’’ مولوی صاحب !کیا یہی توحید ہے سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے‘‘
سو مَیں وہاں پر ہی بیعت کے لئے بے قرار ہو گیا اور نفس میں کہا کہ افسوس اب تک ہم دیو کی ہی تقلید کرتے رہے۔ سو مَیں نے تم دونوں بھائیوں کو (خاکسار عبدالرحمن اور برادر مکرم عبدالقادر صاحب) سرینگر میں اپنے ماموں کے پاس چھوڑ کر فوراً قادیان کی راہ لی اور جب یہاں پہنچا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا۔ کہ حضور میری بیعت لے لیں۔ حضور نے فرمایا۔ بیعت کیا ہے۔ بیعت عبرت ہے اس کے بعد میری اور چند اور اصحاب کی بیعت لے لی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ فرمانا کہ بیعت عبرت ہے اس سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ بیعت کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی گزشتہ زندگی کو ایمان اور اعمال کے لحاظ سے عبرت کا ذریعہ بنا کر آئندہ کے لئے زندگی کا نیاورق الٹ لے۔
{ 603} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام شیعوں کے عقائد کے ضمن میں ایک غالی شیعہ کی کہانی کبھی کبھی سُنایا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ایک شیعہ جب مرنے لگا۔ تو اس نے اپنی اولاد کو جمع کیا اور کہا کہ مَیں تم کو اب مرتے وقت ایک وصیّت کرتا ہوں۔ جس کو اگر یاد رکھو گے تو تمہارا ایمان قائم رہے گا اور یہ نصیحت میری تمام عمرکا اندوختہ ہے۔ وہ نصیحت یہ ہے کہ آدمی اس وقت تک سچا شیعہ نہیں ہو سکتا جب تک اُسے تھوڑی سی عداوت حضرت امام حسنؓ سے بھی نہ ہو۔ اس پر اس کے عزیز ذرا چونکے تو وہ کہنے لگا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ اپنی خلافت بنواُمیّہ کے سپرد نہ کردیتے اور ان سے صلح نہ کر لیتے تو شیعوں پر یہ مصیبت نہ آتی۔ اصل میں ان کا قصُور تھا۔ سو دل میں ان سے کچھ عداوت ضرور رکھنی چاہئے۔ پھر چپ ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا کہ اب اس سے بڑھ کر نکتہ بتاتا ہوں۔ میرے مرنے کا وقت قریب آگیا ہے مگر یہ سُن رکھو کہ شیعہ سچا وہی ہے جو تھوڑی سے عداوت حضرت علیؓ کے ساتھ بھی رکھے۔ کیونکہ حضرت علیؓ شیرخدا اور رسولِ خدا کے وصی تھے۔ مگر ان کی آنکھوں کے سامنے ابو بکر اور عمر نے خلافت غصب کر لی۔ مگر وہ بولے تک نہیں۔ اگر اس وقت وہ ہمت دکھاتے تو منافقوں کا غلبہ اس طرح نہ ہوجاتا۔ اس کے بعد وہ پھر خاموش ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا۔ لو اب اس سے بھی ضروری بات بیان کرتا ہوں۔ سچے شیعہ کو ضرور تھوڑی سے عداوت آنحضرتؐ سے بھی رکھنی چاہئے کہ اگر وہ ابوبکر اور عمر کا فیصلہ اپنے سامنے کرجاتے اور علیؓ کی خلافت سب کے سامنے کھول کر بیان کر دیتے اور اپنا جانشین انہیں بنا جاتے تو پھر یہ فساد اور مصیبتیں کیوں آتیں۔ ان کا بھی اس میں قصور ہے کہ بات کو کھولا نہیں۔ پھر ذرا اُٹھ کر کہنے لگا کہ اب تو میرے آخری سانس ہیں۔ ذرا آگے آ جائو۔ دیکھو اگر تم دل سے شیعہ ہو۔ تو جبرائیل سے بھی ضرور تھوڑی سے عداوت رکھنا۔ جب خدا نے وحی حضرت علی ؓ کی طرف بھیجی تو وہ حضرت علی کی بجائے آنحضرت کی طرف لے آیا اور اس طرح ہمارا تمام کام بگاڑ دیا۔ خواہ بھُول گیا یا جان بوجھ کر ایسا کیا مگر اس کا قصور ضرور ہے۔ اس کے بعد ذرا چپ رہا۔ جب بالکل آخری وقت آگیا۔ تو کہنے لگا ذرا اور نزدیک ہو جائو۔ یہ آخری بات ہے اور بس۔ جب وہ لوگ آگے ہوئے تو کہنے لگا۔ آدمی اس وقت تک کامل شیعہ نہیں ہو سکتا۔ جب تک کچھ تھوڑی سی عداوت خدا سے بھی نہ رکھے۔ کیونکہ سارا فساد اسی سے نکلا ہے۔ اگر وہ ان تمام معاملات کو پہلے ہی صفائی سے طے کر دیتا اور جھگڑوں میں نہ الجھاتا تو نہ حضرت علیؓ محروم ہوتے نہ امام حسینؓ شہید ہوتے اور نہ غاصب کامیاب ہوتے۔ یہ کہہ کر بیچارے کا دم نکل گیا۔
اس قصہ کے بیان کرنے سے حضرت صاحب کا مطلب یہ تھا۔ کہ انسان اگر شیعوں والے عقائد اختیار کرے گا تو اس کا لازمی اور آخری نتیجہ یہ ہے کہ ا ہلِ بیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ تک کو ترک کرنا پڑے گا اور ان سے بدظنی کرنی پڑے گی۔ سو ایسا مذہب بالبداہت باطل ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ مَیں نے بھی حضرت صاحب سے یہ روایت سُنی ہوئی ہے۔ حضرت صاحب جب یہ روایت فرماتے تھے تو بہت ہنستے تھے اور جب اس شیعہ کی زبانی عداوت رکھنے کا ذکر فرماتے تھے تو بعض اوقات انگلی کے اشارے سے فرمایا کرتے تھے کہ بس اتنی سی عداوت فلاں سے بھی چاہئے اور اتنی سی فلاں سے۔
{ 604} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی مرحوم کا نام اصل میں کریم بخش تھا۔ حضرت صاحب نے ان کا یہ نام بدل کر عبدالکریم رکھ دیا۔ مَیں نے اس تبدیلی کے بہت دیر بعد بھی مولوی صاحب مرحوم کے والد صاحب کو سُنا کہ وہ انہیں کریم بخش ہی کہہ کر پکارتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عربی ترکیب کے نام زیادہ پسند تھے۔
{ 605} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتابوں کی کاپی اور پروف خود دیکھا کرتے تھے۔ اور جب کوئی عربی کتابیں لکھتے۔ تو وہ خود بھی دیکھتے تھے اور بعض علماء کو بھی دکھانے کا حکم دیدیا تھا۔ چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم تو عربی اور فارسی کتب کے تمام پروف بطور ایک مصحح کے بالاستیعاب دیکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک عربی کتاب کی بابت فرمایا۔ کہ اس کے پروف مولوی عبدالکریم صاحب کے دیکھنے کے بعد مولوی نورالدین صاحب کو بھی دکھائے جایا کریں۔ کسی نے عرض کیا کہ اس کی کیا ضرورت ہے؟ فرمانے لگے۔ مولوی صاحب ہماری کتابیں کم پڑھتے ہیں۔ اس طرح ان کی نظر سے گذر جائیں گی۔
{ 606} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت میرے دل میں شہتوت کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ مگر مَیں نے اس خواہش کا کسی کے سامنے اظہار نہ کیا۔ اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ آج ہم باغ کی طرف سیر کے لئے جائیں گے۔ چنانچہ اسی وقت چل پڑے۔ باغ میں دو چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ باغ کے رکھوالے دو بڑے ٹوکرے شہتوتوں سے بھرے ہوئے لائے اور حضور کے سامنے رکھ دئیے۔ سب دوست چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ بے تکلفی کا یہ عالم تھا۔ کہ حضور پائینتی کی طرف بیٹھے ہوئے تھے اور دوست سرہانے کی طرف۔ سب دوست شہتوت کھانے لگے۔ حضور نے میر ناصر نواب صاحب مرحوم سے فرمایا۔ کہ میر صاحب! شہتوت میاں عبدالعزیز کے آگے کریں۔ چنانچہ کئی مرتبہ حضور نے یہی فرمایا۔ حالانکہ مَیں کھا رہا تھا۔ پھر بھی حضور نے ٹوکرا میرے آگے کرنے کی بار بار تاکید فرمائی۔ مَیں شرمندہ ہو گیا۔ کہ شاید حضور کو میری خواہش کا علم ہو گیا ہے۔
{ 607} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبدالرحمن صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ جب کبھی کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو السَّلام علیکم کہتا تھا تو حضور عموماً اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھتے اور محبت سے سلام کا جواب دیتے۔
{ 608} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ڈاکٹر محمد عمر صاحب لکھنوی جب لاہور میں پڑھتے تھے تو ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کے پاس آئے اور کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔ بعد میں کسی نے عرض کیا۔ کہ حضور ان کی داڑھی مُنڈھی ہوئی تھی۔ حضور نے بڑے تعجب سے فرمایا: اچھا کیا ان کی داڑھی مُنڈی ہوئی تھی؟ ہم نے غور نہیں کیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو آنکھ اُٹھا اٹھا کر تاڑنے کی عادت نہیں تھی۔ اور داڑھی کے متعلق عموماً فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو پہلے ایمان کا فکر ہوتا ہے۔ اگر ایمان درست اور کامل ہو جائے تو یہ کمزوریاں خودبخود دُور ہو جاتی ہیں۔ جو شخص اسلام کو سچا جانتا ہے اور ہمیں دل سے صادق سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ اسلام کی ہر تعلیم رحمت ہے تو وہ جب دیکھے گا کہ آنحضرت ﷺ داڑھی رکھتے تھے اور ہم بھی داڑھی رکھتے ہیں تو اس کا ایمان اس سے خود داڑھی رکھوا لے گا لیکن ایمان ہی خام ہو تو خالی داڑھی کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ پس باوجود داڑھی منڈوانے کو بُرا سمجھنے کے آپ اپنی تقریر و تحریر میں اس کا زیادہ ذکر نہیں فرماتے تھے۔ بلکہ اصل توجہ ایمان کی درستی اور اہم اعمال صالحہ کی طرف دیتے تھے اور اگر کوئی داڑھی منڈوانے والا شخص آپ کی مجلس میں آتا تھا تو آپ اُسے ٹوکتے نہیں تھے۔
{ 609} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت صاحب جب مسجد میں بیٹھ کر گفتگو فرماتے تو بعض لوگ درمیان میں دخل در معقولات کر بیٹھتے اور بات کاٹ کر اپنے قصے شروع کر دیتے مگر حضرت اقدس اس سے کبھی رنجیدہ خاطر نہ ہوتے۔ اگرچہ دوسرے احباب اس امر کو بہت محسوس کرتے کہ ہم دُور دُور سے حضرت کی باتیں سُننے آتے ہیں مگر یہ لوگ اپنی ان باتوں سے ہمیں حضور کے کلام سے محروم کردیتے ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ درست ہے کہ حضرت صاحب ہر شخص کی بات کو خواہ وہ لاتعلق اور لایعنی ہی ہو۔ اور خواہ کتنی لمبی ہو توجہ سے سُنتے تھے۔ مگر حضور کی بات کاٹنے کے متعلق جو بات محقق صاحب نے کہی ہے اس کے متعلق یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اکثر ایسا ہوتا تھا۔ بلکہ صرف بعض نا سمجھ لوگ کبھی کبھی ایسا کر بیٹھتے تھے۔ ورنہ سمجھدار لوگ آپ کی بات کاٹنے کو بے ادبی خیال کرتے تھے۔
{ 610} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اس عاجز کے استاد تھے۔ میں نے عربی۔ انگریزی۔ فارسی اور قرآن مجید کا کچھ حصہ ان سے پڑھا ہے۔ وہ ٹھنڈے پانی کے بہت عاشق تھے۔ بیت الفکر کے اُوپر جو کمرہ مسجد مبارک کے بالائی صحن میں کھلتا ہے اس میں رہا کرتے تھے۔ پیاس لگتی تو کسی دوست یا شاگرد کو مسجد اقصٰی میں تازہ پانی لانے کے لئے بھیجتے اور جب وہ شخص واپسی پر گلی میں نظر آتا۔ تو اُوپر سے ہی کھڑکی کے اندر سے آواز دیتے کہ جلدی لائو ورنہ پانی کی آب ماری جائے گی۔ غرض ان کو ٹھنڈے پانی اور برف سے بے حد رغبت تھی۔ جب کبھی حضرت صاحب امرتسر یا لاہور سے برف منگواتے۔ تو ان کو ضرور بھیجا کرتے تھے اور کبھی مولوی صاحب مرحوم مجھے فرماتے کہ گھر میں برف ہے؟ مَیں کہتا کہ ہاں ہے۔ تو کہا کرتے۔ کہ حضرت صاحب سے نہ کہنا کہ عبدالکریم مانگتا ہے مگر کسی طرح سے لے آئو۔ مَیں آکر حضرت سے کہتا کہ مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے کچھ برف چاہئے۔ یہ نہ کہتا کہ وہ مانگ رہے ہیں۔ آپ فرماتے کہ ہاں ضرور لے جائو۔ بلکہ خود نکال کر دیدیتے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مسجد اقصٰے کے کنوئیں کا پانی خنکی کے لئے بہت مشہور تھا اور سارے قادیان میں اول نمبر پر سمجھا جاتا تھا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بہت ادبی مذاق رکھتے تھے۔ اور انہیں اس بات کی طرف بہت توجہ تھی کہ اپنے کلام میں فصاحت پیدا کریں۔ اس روایت میں بھی ’’پانی کی آب‘‘ کا محاورہ ان کی ادبی ندرت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
{ 611} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السَّلام تمام گذشتہ مشہور بزرگانِ اسلام کا نام ادب سے لیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ اگر کوئی شخص کسی پر اعتراض کرتا۔ کہ فلاں شخص کی بابت لکھا ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے یا ایسا فعل کیا ہے۔ تو فرمایا کرتے کہ ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘۔ ہمیں کیا معلوم کہ اصلیت کیا ہے اور اس میں کیا سر تھا۔ یہ لوگ اپنے زمانے کے بڑے بزرگ ہوئے ہیں۔ان کے حق میں اعتراض یا سوئِ ادبی نہیں کرنی چاہئے۔ حضرت جنیدؒ۔ حضرت شبلی۔ حضرت بایزید بسطامی۔ حضرت ابراہیم ادھم۔ حضرت ذوالنون مصری۔ چاروں ائمہ فقہ۔ حضرت منصور۔حضرت ابوالحسن خرقانی وغیرھم صوفیاء کے نام بڑی عزت سے لیتے تھے اور بعض دفعہ ان کے اقوال یا حال بھی بیان فرمایا کرتے تھے۔ حال کے زمانہ کے لوگوں میں آپ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کو بزرگ سمجھتے تھے۔ اسی طرح آپ شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی۔ حضرت مجدد سرہندی۔ سیّد احمد صاحب بریلوی اور مولوی اسمٰعیل صاحب شہید کو اہل اللہ اور بزرگ سمجھتے تھے۔ مگر سب سے زیادہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی کا ذکر فرماتے تھے۔ اور ان کے مقالات بیان کیا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طریق تھا کہ اگر کسی گذشتہ بزرگ کا کوئی قول یا فعل آپ کی رائے اور تحقیق کے خلاف بھی ہو تو پھر بھی اس وجہ سے کسی بزرگ پر اعتراض نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر انہوں نے اپنے زمانہ کے لحاظ سے کوئی بات کہی ہے یا کسی معاملہ میں انہیں غلطی لگی ہے تو اس کی وجہ سے ان کی بزرگی میں فرق نہیں آتا اور بہرحال ان کا ادب ملحوظ رکھنا چاہئے۔
{ 612} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک مرتبہ مَیں قادیان گیا۔ حضور علیہ السَّلام نے فرمایا۔ میاں نور محمد! تم قادیان میں رہا کرو۔ اور قرآن شریف پڑھا کرو۔ تمہارے کام کے لئے ہم ایک آدمی نوکر رکھ دیتے ہیں۔ کیونکہ اس زمانہ میں ایک روپیہ ماہوار پر زمیندارہ کے لئے آدمی مل سکتا تھا۔ مَیں نے جواباً عرض کیا کہ حضور مَیں اپنے والد صاحب سے پوچھ کر عرض کروں گا۔ بعد ازاں میں نے والد صاحب سے اس امر کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا۔ کہ مَیں خودحضرت صاحب سے اس بارہ میں بات کروں گا۔ چنانچہ والد صاحب حضرت صاحب سے ملے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ شیخ صاحب ہم نے آپ کے بیٹے کو یہاں رہنے کے لئے کہا ہے۔ کیونکہ میاں حامد علی کے والد نے بھی ان کو یہاں ہی چھوڑ دیا ہے۔ والد صاحب نے عرض کیا۔ کہ جناب جس مکان میں چھ سات چراغ جل رہے ہوں اگر وہاں سے ایک اٹھا لیا جائے تو روشنی میں کوئی خاص کمی واقع نہ ہو گی اور جس گھر میں فقط ایک چراغ ہو اور اس کو اٹھا دیا جائیے تو بالکل اندھیرا ہو جائے گا۔ اس طرح میرے والد صاحب نے ہنس کر بات ٹال دی۔ کیونکہ میاں حامد علی کے پانچ چھ بھائی تھے اور مَیں گھر میں والد کا ایک ہی بیٹا تھا۔ لیکن مجھ کو اس بات پر سخت افسوس ہوا اور اب تک ہے۔ کہ والد صاحب نے حضرت کی بات کو قبول کیوں نہ کر لیا۔ اور مجھے اس موقعہ سے مستفید کیوں نہ ہونے دیا۔
{ 613} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تاریخ پیدائش اور عمر بوقت وفات کا سوال ایک عرصہ سے زیرِ غور چلا آتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تصریح فرمائی ہے۔ کہ حضور کی تاریخ پیدائش معین صورت میں محفوظ نہیں ہے اور آپ کی عمر کا صحیح اندازہ معلوم نہیں (دیکھو ضمیمہ براہین احمدیہ حصّہ پنجم صفحہ ۱۹۳) کیونکہ آپ کی پیدائش سکھوں کی حکومت کے زمانہ میں ہوئی تھی۔ جبکہ پیدائشوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا۔ البتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض ایسے امور بیان فرمائے ہیں جن سے ایک حد تک آپ کی عمر کی تعیین کی جاتی رہی ہے۔ ان اندازوں میں سے بعض اندازوں کے لحاظ سے آپ کی پیدائش کا سال ۱۸۴۰ء بنتا ہے۔ اور بعض کے لحاظ سے ۱۸۳۱ء تک پہنچتا ہے۔ اور اسی لئے یہ سوال ابھی تک زیرِ بحث چلا آیا ہے۔ کہ صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے؟
مَیں نے اس معاملہ میں کئی جہت سے غور کیا ہے اور اپنے اندازوں کو سیرۃ المہدی کے مختلف حصوں میں بیان کیا ہے لیکن حق یہ ہے کہ گو مجھے یہ خیال غالب رہا ہے۔ کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی پیدائش کا سال ۱۸۳۶ء عیسوی یا اس کے قریب قریب ہے۔ مگر ابھی تک کوئی تاریخ معیّن نہیں کی جا سکی تھی لیکن اب بعض حوالے اور بعض روایات ایسی ملی ہیں۔ جن سے معیّن تاریخ کا پتہ لگ گیا ہے۔ جو بروزِ جمعہ ۱۴؍ شوال ۱۲۵۰ء ہجری مطابق ۱۳؍ فروری ۱۸۳۵ء عیسوی مطابق یکم پھاگن سمہ ۱۸۹۱ بکرمی ہے اس تعیین کی وجوہ یہ ہیں:۔
(۱) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تعیین اور تصریح کے ساتھ لکھا ہے۔ جس میں کسی غلطی یا غلط فہمی کی گنجائش نہیں۔کہ میری پیدائش جمعہ کے دن چاند کی چودھویں تاریخ کو ہوئی تھی ۔
(دیکھو تحفہ گولڑویہ بار اوّل صفحہ ۱۱۔ حاشیہ)
(۲) ایک زبانی روایت کے ذریعہ جو مجھے مکرمی مفتی محمد صادق صاحب کے واسطہ سے پہنچی ہے اور جو مفتی صاحب موصوف نے اپنے پاس لکھ کر محفوظ کی ہوئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام نے ایک دفعہ بیان فرمایا تھا کہ ہندی مہینوں کے لحاظ سے میری پیدائش پھاگن کے مہینہ میں ہوئی تھی۔
(۳) مندرجہ بالا تاریخ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسَّلام کے دوسرے متعدد بیانات سے بھی قریب ترین مطابقت رکھتی ہے۔ مثلاً آپ کا یہ فرمانا کہ آپ ٹھیک ۱۲۹۰ھ میں شرف مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہوئے تھے (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۹۹) اور یہ کہ اس وقت آپ کی عمر چالیس سال کی تھی (تریاق القلوب صفحہ ۶۸) وغیرہ وغیرہ۔
مَیں نے گذشتہ جنتریوں کا بغور مطالعہ کیا ہے اور دوسروں سے بھی کرایا ہے۔ تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پھاگن کے مہینہ میں جُمعہ کا دن اور چاند کی چودھویں تاریخ کِس کِس سَن میں اکٹھے ہوتے ہیں اس تحقیق سے یہی ثابت ہوا ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تاریخ پیدائش ۱۴ ؍شوال ۱۲۵۰ء ہجری مطابق ۱۳؍ فروری ۱۸۳۵ عیسوی ہے جیسا کہ نقشہ ذیل سے ظاہر ہوگا۔
تاریخ معہ سن عیسوی
تاریخ چاند معہ سن ہجری
دن
تاریخ ہندی مہینہ معہ سن بکرمی
۴؍ فروری ۱۸۳۱ء
۲۰؍ شعبان ۱۲۴۶ ھ
جمعہ
۷؍ پھاگن سمہ ۱۸۸۷ بکرم
۱۷؍ فروری ۱۸۳۲ء
۱۴؍ رمضان ۱۲۴۷ ھ
؍؍
یکم پھاگن سمہ ۱۸۸۸ بکرم
۸؍ فروری ۱۸۳۳ء
۱۷؍ رمضان ۱۲۴۸ ھ
؍؍
۴؍ پھاگن سمہ ۱۸۸۹ بکرم
۲۸؍ فروری ۱۸۳۴ء
۱۸؍ شوال ۱۲۴۹ ھ
؍؍
۵؍ پھاگن سمہ ۱۸۹۰ بکرم
۱۳؍ فروری ۱۸۳۵ء
۱۷؍ شوال ۱۲۵۱ ھ
؍؍
یکم پھاگن سمہ ۱۸۹۱ بکرم
۵؍ فروری ۱۸۳۶ ء
۱۷؍ شوال ۱۲۵۱ ھ
؍؍
۳؍ پھاگن سمہ ۱۸۹۲ بکرم
۲۴؍ فروری ۱۸۳۷ ء
۱۸؍ ذیقعدہ ۱۲۵۲ ھ
؍؍
۴؍ پھاگن سمہ ۱۸۹۳ بکرم
۹؍ فروری ۱۸۳۸ ء
۲۰؍ ذیقعدہ ۱۲۵۳ ھ
؍؍
۷؍ پھاگن سمہ ۱۸۹۴ بکرم
یکم فروری ۱۸۳۹ ء
۱۵؍ ذیقعدہ ۱۲۵۴ ھ
؍؍
۳؍ پھاگن سمہ ۱۸۹۵ بکرم
۲۱ ؍ فروری ۱۸۴۰ ء
۱۶؍ ذی الحج ۱۲۵۵ ھ
؍؍
۴؍ پھاگن سمہ ۱۸۹۶ بکرم
(اس کے لئے دیکھو توفیقات الہامیہ مصری اور تقویم عمری ہندی)
اس نقشہ کی رُو سے ۱۸۳۲ عیسوی کی تاریخ بھی درست سمجھی جا سکتی ہے۔ مگر دوسرے قرائن سے جن میں سے بعض اوپر بیان ہو چکے ہیں۔ اور بعض آگے بیان کئے جائیں گے صحیح یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیدائش ۱۸۳۵ عیسوی میں ہوئی تھی۔ پس ۱۳؍ فروری ۱۸۳۵ عیسوی مطابق ۱۴ ؍شوال ۱۲۵۰ ہجری بروز جمعہ والی تاریخ صحیح قرار پاتی ہے۔ اور اس حساب کی رُو سے وفات کے وقت جو ۲۴؍ ربیع الثانی ۱۳۲۶ ہجری (اخبار الحکم ضمیمہ مورخہ ۲۸؍ مئی ۱۹۰۸ئ) میں ہوئی۔ آپ کی عمر پورے ۷۵ سال ۶ ماہ اور دس دن کی بنتی ہے۔ مَیں امید کرتا ہوں کہ اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ معیّن طور پر معلوم ہو گئی ہے۔ ہمارے احباب اپنی تحریر و تقریر میں ہمیشہ اسی تاریخ کو بیان کیا کریں گے۔ تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسَّلام کی تاریخ پیدائش کے متعلق کوئی ابہام اور اشتباہ کی صورت نہ رہے اور ہم لوگ اس بارہ میں ایک معین بنیاد پر قائم ہو جائیں۔
اس نوٹ کے ختم کرنے سے قبل یہ ذکر بھی ضروری ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسَّلام کو الہام الٰہی میں یہ بتایا گیا تھا۔ کہ آپ کی عمر اسّی ۸۰ یا اس سے پانچ چار کم یا پانچ چار زیادہ ہو گی۔ (حقیقۃ الوحیصفحہ ۹۶) اگر اس الہام الٰہی کے لفظی معنے لئے جائیں۔ تو آپ کی عمر پچھتر ، چھہتر۔ یا اسی یا چوراسی، پچاسی سال کی ہونی چاہئے۔ بلکہ اگر اس الہام کے معنے کرنے میں زیادہ لفظی پابندی اختیار کی جائے تو آپ کی عمر پورے ساڑھے پچھتر یا اسّی ۸۰ یا ساڑھے چوراسی سال کی ہونی چاہئے۔ اور یہ ایک عجیب قدرت نمائی ہے کہ مندرجہ بالا تحقیق کی رُو سے آپ کی عمر پورے ساڑھے پچھتر سال کی بنتی ہے۔
اسی ضمن میں یہ بات بھی قابل نوٹ ہے۔ کہ ایک دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسَّلام اپنی پیدائش کے متعلق بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت آدم سے لے کر ہزار ششم میں سے ابھی گیارہ سال باقی رہتے تھے کہ میری ولادت ہوئی۔ اور اسی جگہ یہ بھی تحریر فرماتے ہیں۔ کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ابجد کے حساب کے مطابق سورۃ ’’ والعصر‘‘ کے اعداد سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نکلتا ہے جو شمار کے لحاظ سے ۴۷۳۹ سال بنتا ہے (دیکھو تحفہ گولڑویہ صفحہ ۹۳۔ ۹۴۔ ۹۵ حاشیہ) یہ زمانہ اصولاً ہجرت تک شمار ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہجرت سے نئے دَور کا آغاز ہوتا ہے۔ اب اگر یہ حساب نکالا جائے۔ تو اس کی رُو سے بھی آپ کی پیدائش کا سال ۱۲۵۰ھ بنتا ہے کیونکہ ۶۰۰۰ میں سے ۱۱ نکالنے سے ۵۹۸۹ رہتے ہیں۔ اور ۵۹۸۹ میں سے ۴۷۳۹ منہا کرنے سے پورے ۱۲۵۰ بنتے ہیں۔ گویا اس جہت سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق مندرجہ بالا حساب صحیح قرار پاتا ہے۔ فَالحمد للّٰہ علٰی ذٰالک۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ مضمون میری طرف سے اخبار الفضل مورخہ ۱۱؍ اگست ۱۹۳۶ء میں بھی شائع ہو چکا ہے۔
{ 614} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے زمانہ کے جس قدر آدمی ہیں۔ سب کو حضور علیہ السَّلام سے اپنے اپنے طریق کے مطابق محبت تھی اور ہے مگر جس قدر ادب و محبت حضور سے حضرت خلیفہ اوّلؓ کو تھا۔ اس کی نظیر تلاش کرنی مشکل ہے چنانچہ ایک دن مَیں حضرت مولوی صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔ وہاں ذکر ہوا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام نے کسی دوست کو اپنی لڑکی کا رشتہ کسی احمدی سے کرنے کو ارشاد فرمایا۔ مگر یہ کہ وہ دوست راضی نہ ہوا۔ اتفاقاً اس وقت مرحومہ امۃالحی صاحبہ بھی جو اس وقت بہت چھوٹی تھیں کھیلتی ہوئی سامنے آ گئیں۔ حضرت مولوی صاحب اس دوست کا ذکر سُن کر جوش سے فرمانے لگے۔ کہ مجھے تو اگر مرزا کہے کہ اپنی اس لڑکی کو نہالی (نہالی ایک مہترانی تھی جو حضرت صاحب کے گھر میں کماتی تھی) کے لڑکے کو دیدو تو مَیں بغیر کسی انقباض کے فوراً دے دونگا۔ یہ کلمہ سخت عشق و محبت کا تھا۔ مگر نتیجہ دیکھ لیں کہ بالآخر وہی لڑکی حضور علیہ السلام کی بہو بنی اور اِس شخص کی زوجیت میں آئی۔ جو خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حسن و احسان میں نظیر ہے۔
{ 615} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جب دنیا پر اسلام کا غلبہ ہو گا تو یہ نہیں ہو گا کہ سب دُنیا مسلمان ہو جائے گی اور دیگر مذاہب معدوم ہو جائیں گے۔ بلکہ یہ ہو گا۔ کہ دوسرے لوگ اس طرح رہ جائیں گے جیسے آجکل چوہڑے یا چمار یا سانسی وغیرہ ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ عظیم الشان تغیّر احمدیّت کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے اور ایک دن ایسا تغیر ہو کر رہے گا۔ یعنی دنیا کی موجودہ تہذیب مٹ جائے گی۔ اور موجودہ حکومتیں خاک میں مل جائیں گی اور اللہ تعالیٰ احمدیت کے ذریعہ دنیا میں ایک نئے زمین و آسمان کی بنیاد رکھے گا۔ اس وقت ظاہری اسباب کے ماتحت یہ باتیں عجیب نظر آتی ہیں۔ مگر ان کے لئے آسمان پر خدائی چکّی حرکت میں ہے اور فرشتوں کی فوج انقلاب کا بیج بونے میں مصروف ہے۔ یہ انقلاب کس طرح آئے گا؟ اس کا علم صرف خدا کو ہے۔ مگر وہ آئے گا ضرور۔ کیونکہ ؎ ’’قضائے آسمان است ایں بہرحالت شود پیدا‘‘۔
ہاں جہاں تک مَیں سمجھتا ہوں وہ یوں ہو گا کہ ایک طرف تو خداتعالیٰ خود موجودہ مغربی تہذیب میں تباہی کا بیچ پیدا کر دے گا۔ اور موجودہ حکومتوں کو ایک دوسرے کے خلاف اُٹھنے کے لئے اُبھارے گا۔ جس سے وُہ اور ان کی تہذیب اپنی ہی پیدا کی ہوئی آگ میں بھسم ہو جائیں گے۔ اور دوسری طرف خدا احمدیت کے پودے کو درجہ بدرجہ مضبوط کرتا جائے گا۔ تا کہ جب پُرانے آثار مٹیں۔ تو احمدیت کی عمارت اس کی جگہ لینے کے لئے تیار ہو۔ مگر یہ درمیانی عرصہ احمدیّت کے لئے پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ بلکہ کانٹوں اور پتھروں کی سلوں کا رستہ ہے۔ اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے جنگلوں اور پُر خطر وادیوں اور خون کی ندیوں میں سے ہو کر گزرنا پڑے گا۔ مگر انجام بہرحال وہی ہے کہ ’’قضائے آسمان است ایں بہرحالت شود پیدا ‘‘۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 616} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔ کہ موت انسان کی ترقی کے لئے لابدی ہے اور انسان کا اس دُنیا سے رخصت ہونا ایسا ہے جیسے کہ لڑکی کا ماں باپ سے جدا ہو کر خاوند کے گھر جانا۔ جس طرح لڑکی کا خداداد جوہر اور کمال (یعنی اولاد پیدا کرنا) بغیر ماں باپ کے ہاں سے چلے جانے کے ظاہر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح انسان کا حقیقی کمال اور جوہر بھی اس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتا۔ جب تک وہ موت کے راستہ سے اس دنیا سے جُدا نہ ہو۔
{ 617} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر غلام احمد صاحب آئی۔ ایم۔ایس نے مجھ سے بیان کیا کہ میرے دادا میاں محمد بخش صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس بٹالہ کے کاغذات میں سے مجھے ایک مسودہ ان کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ملا ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک چٹھی امیر کابل کے نام ہے جو غالباً فارسی زبان میں تھی۔ جس کا ترجمہ اُردو میں میرے دادا صاحب نے کیا یا کرایا تھا اور یہ ترجمہ شاید گورنمنٹ ریکارڈ کے لئے تھا۔ حضرت مسیح موعود کا خط یہ ہے:۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمد و نصلی علیٰ رسُولہ الکریم
(ترجمہ) ہم خدا کا شکر کرتے ہیں اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ عاجز خدا کی پناہ لینے والے غلام احمد کی طرف سے (خدا اس کی کمزوریوں کو معاف فرمائے اور اس کی تائید کرے) بحضور امیر ظلّ ِ سُبحانی۔ مظہر تفضّلاتِ یزدانی۔ شاہ ممالک کابل (اللہ اس کو سلامت رکھے) بعد دعوات سلام و رحمت و برکت کے باعث اس خط لکھنے کا وہ فطرتِ انسانی کا خاصہ ہے کہ جب کسی چشمۂ شیریں کی خبر سنتا ہے۔ کہ اس میں انسان کے لئے بہت فوائد ہیں۔ تو اس کی طرف رغبت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ پھر وہ رغبت دل سے نکل کر اعضاء پر اثر کرتی ہے اور انسان چاہتا ہے کہ جہاں تک ہو سکے اس چشمہ کی طرف دوڑے اور اس کو دیکھے۔ اور اس کے میٹھے پانی سے فائدہ اٹھائے اور سیراب ہو جائے اسی طرح جب اخلاق فاضلہ اور عاداتِ کریمانہ اور ہمدردیٔ اسلام و مسلمین اس بادشاہ نیک خصال کی اطلاع ہندوستان میں جا بجا ہوئی اور ذکر پاک پھل اس شجرہ مبارک دولت اور سلطنت کا ہر شہروملک میں مشہور ہوا اور دیکھا گیا کہ ہر شریف اور نجیب آدمی اس بادشاہ کی مدح میں تر زبان ہے تو مجھے کہ اس قحط الرجال کے زمانہ میںبسبب کمی مردمانِ اولوالعزم کے غم اور اندوہ میں زندگی بسر کرتا ہوں۔ اس قدر سرور اور فرحت حاصل ہوئی کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے اس کیفیت کو بیان کر سکوں۔ خداوند کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے ایک ایسے مبارک وجود سے بے شمار وجودوں کو بہت اقسام کی تباہی سے بچا رکھا ہے۔ اصل میں وہ آدمی بہت خوش قسمت ہیں کہ جن میں ایسا بادشاہ جہاں پناہ نیک نہاد اور منصف موجود ہے اور وہ لوگ بہت خوش قسمت ہیں کہ جنہوں نے بعد عرصہ دراز کے اس نعمتِ غیر مترقبہ کو حاصل کیا۔ خداوند کریم کی بہت نعمتیں ہیں۔ کہ کوئی ان کو شمار نہیں کر سکتا مگر بزرگ تر نعمتوں میں سے وجود دو انسانوں کا ہے۔ اول وہ جو راستی اور راستبازی کی قوت سے پُر ہوئے اور طاقت رُوحانی حاصل کی۔ اور پھر وہ گرفتارانِ ظلمت اور غفلت کو نورِ معرفت کی طرف کھینچتے ہیں۔ اور خالی اندرونوں کو متاع معارف کے دیتے ہیں۔ اور اپنے تقدس کے سبب سے کمزوریوں کو اس دُنیا سے بسلامتی ایمان لے جاتے ہیں۔ دوسرا وہ آدمی ہے۔ جنہوں نے نہ اتفاق اور بخت سے بلکہ بمقتضاء جوہر قابل کے (یعنی ان میں مادہ بادشاہی کا خدا نے دیا ہوا تھا کہ ضرور بادشاہ بنے) خدا کی طرف سے سلطنت اور بادشاہت حاصل کی اور حکمت اور مصلحت خداوندی ان کو اپنی ذات کا قائم مقام اور ان کے احکام کو اپنے قضاء قدر کا مظہر بناتی ہے اور کئی ہزار جان اور مال و آبرو کی ان کے سپرد کرتی ہے۔ ضرورۃً یہ لوگ شفقت اور رحم اور چارہ سازیٔ درد منداں اور غریبوں و بیکسوں کے حال پر نگران اور حمایت اسلام و مسلماناں میں خدا کا سایہ ہوتے ہیں۔
اس فقیر کا یہ حال ہے کہ وہ خدا جو بروقت بہت مفاسد اور گمراہی کے مصلحت عام کے واسطے اپنے بندوں میں سے کسی بندہ کو اپنا خاص بنا لیتا ہے۔ تا اس کے ذریعہ گمراہوں کو ہدایت ہو۔ اور اندھوں کو روشنی اور غافلوں کو توفیق عمل کی دی جائے اور اس کے ذریعہ دین اور تعلیم معارف و دلائل کی تازہ ہو۔ اُسی خدائے کریم و رحیم نے اس زمانہ کو زمانہ پُر فتن اور طوفانِ ضلالت و ارتداد کو دیکھ کر اس ناچیز کو چودھویں صدی میں اصلاحِ خلق اور اتمام حجّت کے واسطے مامور کیا۔
چونکہ اس زمانہ میں فتنہ علمائے نصاریٰ کا تھا۔ اور مدار کارصلیب پرستی کے توڑنے پر تھا۔ اس واسطے یہ بندہ درگاہ الٰہی مسیح علیہ السلام کے قدم پر بھیجا گیا۔ تا وہ پیشگوئی بطور بروز پوری ہو۔ کہ جو عوام میں مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی بابت مشہور ہے۔ قرآن شریف صاف ہدایت فرماتا ہے۔ کہ دُنیا سے جو کوئی گیا وہ گیا۔ پھر آنا اس کا دُنیا میں ممکن نہیں۔ البتہ ارواحِ گذشتہ گان بطور بُروز دُنیا میں آتی ہیں۔ یعنی ایک شخص ان کی طبیعت کے موافق پیدا کیا جاتا ہے۔ اس واسطے خدا کے ہاں اُس کا ظہور اُسی کا ظہور سمجھا جاتا ہے۔ دوبارہ آنے کا یہی طریق ہے۔ کہ صوفیوں کی اصطلاح میں اس کو بروز کہتے ہیں۔ ورنہ اگر مُردوں کا دوبار آنا روا ہوتا تو ہم کو بہ نسبت عیسٰی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے حضرت سیّد الوریٰ خاتم الانبیاء صلے اللہ علیہ وسلم کی زیادہ ضرورت تھی۔ لیکن آنحضرت نے ہر گز فرمایا نہیں کہ مَیں دوبارہ دُنیا میں آئوں گا۔ ہاں یہ فرمایا۔ کہ ایک شخص ایسا آئیگا کہ وہ میرا ہم نام ہو گا۔ یعنی میری طبیعت اور خُو پر آئے گا۔ پس مسیح علیہ السَّلام کا آنا بھی ایسا ہی ہے نہ ویسا کہ اس کا نمونہ دُنیا کے اول اور آخر میں موجود نہیں۔ اسی واسطے امام مالک اور امام ابن حزم اور امام بخاری اور دوسرے بڑے بڑے اماموں کا یہی مذہب تھا۔ اور بہت بزرگانِ دین اسی مذہب پر گئے ہیں۔ البتہ عوام کہ عجوبہ پسند ہوتے ہیں اور اس نکتہ معرفت سے بے خبر ہیں۔ ان کے خیال میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے۔ کہ مسیح کا نزول جسمانی ہو گا ور اس روز عجب تماشہ ہو گا۔ جیسا کہ غبارہ کاغذی جو آگ سے بھرا ہوا ہو۔ بلندی سے نیچے کی طرف اُترتا ہوا دکھائی دیوے۔ ایسا ہی ان کے خیال میں مسیحؑ کا نزول ہو گا۔ اور بڑی شوکت سے نزول ہو گا۔ اور ہر طرف سے یہ آتا ہے وہ آتا ہے سُنا جاویگا۔ لیکن یہ خدا کی عادت نہیں۔ اگر ایسا عام نظارہ قدرت کا دکھلایا جاوے تو ایمان بالغیب نہیں رہتا۔
وہ آدمی سخت خطا پر ہیں۔ جنہوں نے ایسا سمجھا ہوا ہے کہ اب تک عیسٰے علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ ہر گز ایسا نہیں ہے۔ قرآن بار بار مسیح کی وفات کا ذکر کرتا ہے۔ اور حدیث معراج نبوی کی جو صحیح بخاری میں پانچ جگہ موجود ہے اس کو مُردوں میں بتاتی ہے۔ پس وہ کس طرح سے زندہ ہے۔لہٰذا اعتقاد حیات مسیح کا رکھنا قرآن اور حدیث کے برخلاف چلنا ہے اور نیز آیت کریمہ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ (المائدۃ:۱۱۸) سے بصراحت یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ کہ نصاریٰ نے اپنے مذہب کو عیسٰے علیہ السلام کے مرنے کے بعد خراب کیا ہے نہ کہ ان کی زندگی میں ۔ بالفرض اگر عیسٰے علیہ السَّلام اب تک زندہ ہیں تو ہمیں لازم ہے کہ ہم اس بات کا بھی اقرار کریں کہ اس وقت تک نصاریٰ نے اپنے مذہب کو خراب نہیں کیا۔ اور بالکل صواب پر ہیں۔ ایسا خیال کفر صریح ہے۔ پس جو کوئی قرآن کی آیتوں پر ایمان رکھتا ہے اُسے ضروری ہے کہ وہ مسیح کی وفات پر بھی ایمان لائے ۔ اور یہ بیان ہمارے ان دلائل میں سے بہت تھوڑا سا حصہ ہے۔ جن کو ہم نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ جسے تفصیل سے دیکھنا منظور ہو وہ ہماری کتابوں میں تلاش کرے۔
اَلْقِصَّہ ضرور تھا۔ کہ آخر زمانہ میں اسی امّت سے ایک ایسا شخص نکلے کہ جس کا آنا حضرت عیسٰے علیہ السلام کے آنے کے ساتھ مشابہ ہو اور حدیث کسر صلیب جو صحیح بخاری میں موجود ہے بلند آواز سے کہہ رہی ہے کہ ایسے شخص کا آنا نصاریٰ کے غلبہ کے وقت ہو گا۔ اور ہر دانشمند جانتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں نصاریٰ کا غلبہ رُوئے زمین پر ایسا ہے کہ اس کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ اور فریب علمائے نصاریٰ اور ان کی کارستانی ہر ایک طرح کے مکروفریب میں یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ یقینا کہہ سکتے ہیں کہ دجّال معہود یہی خراب کرنے والے اور تحریف کرنے والے کتب مقدسہ کے ہیں۔ جنہوں نے قریب دو ہزار کے انجیل اور توریت کے ترجمے ہر زبان میں بعد تحریف شائع کئے اور آسمانی کتابوں میں بہت خیا نتیں کیں اور چاہتے ہیں کہ ایک انسان کو خدا بنایا جائے۔ اور اس کی پرستش کی جائے اب انصاف اور غور سے دیکھنا چاہئے کہ کیا اُن سے بڑا دجّال کوئی گزرا ہے کہ تا آئندہ بھی اس کی امید رکھی جاوے۔ ابتدائے بنی آدم سے اِس وقت تک مکروفریب ہر قسم کا انہوں نے شائع کیا ہے جس کی نظیر نہیں۔ پس اس کے بعد وہ کونسا نشان ہماری آنکھوں کے سامنے ہے جس سے یقین یا شک تک پیدا ہو سکے کہ کوئی دوسرا دجّال ان سے بڑا کسی غار میں چھپا ہوا ہے۔
ساتھ اس کے چاند اور سُورج کو گرہن لگنا جو اس ہمارے مُلک میں ہوا ہے۔ یہ نشان ظہور اُس مہدی کا ہے جو کتاب دارقطنی میں امام باقر کی حدیث سے موسوم ہے۔
نصاریٰ کا فتنہ حد سے بڑھ گیا ہے اور ان کی گندی گالیاں اور سخت توہین ہمارے رُسول کی نسبت علماء نصاریٰ کی زبان و قلم سے اس قدر نکلیں جس سے آسمان میں شور پڑ گیا۔ حتیّٰ کہ ایک مسکین اتمامِ حجت کے واسطے مامور کیا گیا۔ یہ خدا کی عادت ہے کہ جس قسم کا فساد زمین پر غالب ہوتا ہے اُسی کے مناسب حال مجدد زمین پر پیدا ہوتا ہے۔ پس جس کی آنکھ ہے وہ دیکھے کہ اس زمانہ میں آتشِ فساد کس قسم کی بھڑکی ہے اور کونسی قوم ہے جس نے تبر ہاتھ میں لے کر اسلام پر حملہ کیا ہے۔ کن کو اسلام کے واسطے غیرت ہے وہ فکر کریں۔ کہ آیا یہ بات صحیح ہے یا غلط۔ اور آیا یہ ضروری نہ تھا کہ تیرھویں صدی کے اختتام پر جس میں کہ فتنوں کی بنیاد رکھی گئی۔ چودھویں صدی کے سر پر رحمتِ الٰہی تجدید دین کے لئے متوجہ ہوئی؟ اور اس بات پر تعجب نہیں کرنا چاہئے۔ کہ کیوں اس عاجز کو عیسٰے علیہ السلام کے نام پر بھیجا گیا ہے۔ کیونکہ فتنہ کی صُورت ایسی ہی رُوحانیّت کو چاہتی تھی۔ جبکہ مجھے قوم مسیح کے لئے حکم دیا گیا ہے تو مصلحتاً میرا نام ابنِ مریم رکھا گیا۔ آسمان سے نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ اور زمین پکارتی ہے کہ وہ وقت آ گیا۔ میری تصدیق کے لئے یہ دو گواہ موجود ہیں(خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ یہ عبارت حضرت مسیح موعودؑ کے دو فارسی شعروں کا ترجمہ ہے) اسی واسطے خداوند کریم نے مجھ کو مخاطب کرکے فرمایا۔ کہ تو خوش ہو کہ تیرا وقت نزدیک آ گیا۔ اور قدم محمدیاں بلند مینار پر پہنچ گیا ہے یہ کام خداوند حکیم وعلیم کا ہے اور انسان کی نظر میں عجیب۔ (یہ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک الہام کا ترجمہ ہے۔ مؤلف) جو کوئی مجھے پورے ظہور سے پہلے شناخت کرے اس کو خدا کی طرف سے اجر ہے۔ اور جو کوئی آسمانی تائیدوں کے بعد میری طرف رغبت کرے وہ ناچیز ہے اور اس کی رغبت بھی ناچیز ہے اور مجھ کو حکومت و سلطنت اس جہاں سے کچھ سروکار نہیں۔ مَیں غریب ہی آیا اور غریب ہی جائونگا۔ اور خدا کی طرف سے مامور ہوں کہ لطف اور نرمی سے اسلام کی سچائی کے دلائل اس پُر آشوب زمانہ میں ہر ملک کے آدمیوں کے سامنے بیان کروں۔ اسی طرح مجھے دولتِ برطانیہ اور اس کی حکومت کے ساتھ جس کے سایہ میں مَیں امن سے زندگی بسر کر رہا ہوں کوئی تعرّض نہیں۔ بلکہ خُدا کا شکر کرتا ہوں اور اس کی نعمت کا شکر بجا لاتا ہوں۔ کہ ایسی پُر امن حکومت میں مجھ کو دین کی خدمت پر مامور کیا۔ اور مَیں کیونکر اس نعمت کا شکر ادا نہ کروں۔ کہ باوجود اس غُربت و بے کسی اور قوم کے نالائقوں کی شورش کے مَیں اطمینان کے ساتھ اپنے کام کو سلطنتِ انگلشیہ کے زیر سایہ کر رہا ہوں۔ اور مَیں ایسا آرام پاتا ہوں کہ اگر اس سلطنت کا مَیں شکر ادا نہ کروں تو میں خدا کا شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم اس بات کو پوشیدہ رکھیں تو ظالم ٹھہرتے ہیں۔ کہ جس طرح سے پادریانِ نصاریٰ کو اپنے مذہب کی اشاعت میں آزادی ہے ایسی ہی آزادی ہم کو اسلام کی اشاعت میں حاصل ہے۔ بلکہ اس آزادی کے فوائد ہمارے لئے زیادہ ہیں۔ جس طرح کہ ہم اہلِ اسلام کو اس آزادی کے فوائد حاصل ہیں دوسروں کو وہ نصیب نہیں۔ کیونکہ وہ باطل پر اور ہم حق پر ہیں۔ اور جُھوٹے آزادی سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ بلکہ اس آزادی سے ان کی پردہ دری زیادہ ہوتی ہے اور اس روشنی کے زمانہ میں ان کا مکر زیادہ ظاہر ہوتا ہے۔ پس یہ ہم پر خدا کا فضل ہے۔ کہ ہمارے واسطے ایسی تقریب پیدا ہوئی۔ اور یہ نعمت خاص ہم کو عطا ہوئی۔ البتہ علمائِ نصاریٰ کو اپنی قوم کی امداد سے لاکھوں روپیہ اپنی انجیلوں اور جھوٹوں کے پھیلانے میں ملتے ہیں اور ہم کو کچھ نہیں ملتا۔ اور ان کے مددگار ملک یورپ میں موروملخ کی طرح ہیں۔ اور ہمارا سوائے خدا کے دوسرا کوئی مددگار نہیں۔ پس اگر ہمارے کاروبار میں ناداری کے سبب کوئی حرج واقع ہو۔ تو یہ دولتِ برطانیہ کا قصور نہیں۔ بلکہ یہ ہماری اپنی قوم کا قصور ہے کہ دین کے کام میں غفلت کرتے ہیں۔ اور بہت آدمی وقتِ امداد کو منافقانہ بہانوں اور جھوٹے ظنّوں سے اپنے سر سے دُور کرتے ہیں۔ ہاں اپنے ننگ و ناموس کے کاموں میں گھوڑوں کی طرح دوڑتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ اس زمانہ میں اسلام صدہا دشمنوں میں اکیلا ہے۔ اور ہر ایک مذہب میدان میں اُترا ہوا ہے۔ دیکھیں کس کو فتح ہوتی ہے۔ پس یہی وقت ہے کہ ہم اسلام کی خدمت کریں اور فلسفہ کے اعتراضوں کو جلد سے جلد دُور کریں اور قرآن کریم کی سچائی تمام خویش و بیگانہ پر ظاہر کریں۔ اور خدا کے کلام کی عزت دلوں میں بٹھا دیں۔ اور کوشش کریں کہ اس مذہبی لڑائی میں ہم کو فتح حاصل ہو۔ اور جان توڑ کوشش کریں کہ نصرانیّت کے وسوسوں میں جو گرفتار ہیں ان کو گمراہی کے چاہ سے باہر نکالیں۔ اور جو ہلاکت کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ان کو بچاویں۔ یہی ہے ہمارا کام جو ہمارے ذمہ ہے۔
یورپ اور جاپان دونوں ہمارے ہدیہ کے منتظر ہیں۔ اور امریکہ ہماری دعوت کے واسطے کشادہ دہان ہے۔ پس سخت نامردی ہے کہ ہم غافل بیٹھیں۔ غرض یہ کام ہمارے ذمہ ہے اور یہی ہماری آرزو ہے جسے ہم خدا سے طلب کرتے ہیں اور دُعا کرتے ہیں۔ کہ خدا ہمارے مددگار پیدا کرے اور ہم منتظر ہیں کہ کب کسی طرف سے نسیم اور بشارت آتی ہے۔
اے شاہِ کابل! اگر آپ آج میری باتیں سُنیں اور ہماری امداد کے واسطے اپنے مال سے مستعد ہوں۔ تو ہم دُعا کریں گے کہ جو کچھ تو خدا سے مانگے وہ تجھے بخشے۔ اور بُرائیوں سے محفوظ رکھے اور تیری عمرو زندگی میں برکت بخشے۔ اور اگر کسی کو ہمارے دعویٰ کی سچائی میں تأمّل ہو تو اس کو اسلام کے سچا ہونے میں تو کوئی تأمّل نہیں ہوگا۔ چونکہ یہ کام اسلام کا کام ہے اور یہ خدمت دین کی خدمت ہے اس واسطے ہمارے وجود اور دعووں کو درمیان میں نہ سمجھنا چاہئے۔ اور اسلام کی امداد کے واسطے خالص نیّت کرنی چاہئے۔ اور تائید بہ سبب محبت حضرت سیّد المرسلین کے کرنی چاہئے۔
اے بادشاہ!اللہ تجھے اور تجھ میں اور تجھ پر اور تیرے لئے برکت دے۔ جان لیں کہ یہ وقت وقت امداد کا ہے۔ پس اپنے واسطے ذخیرہ عاقبت جمع کر لیں۔ کیونکہ مَیں آپ کو نیک بختوں سے دیکھتا ہوں۔ اگر اس وقت کوئی آپ کا غیر سبقت لے گیا۔ تو بس آپ کا غیر سبقت لے گیا۔ اور سبقت کرنے والے سبقت کرنے والے ہیں اللہ کے نزدیک۔ اور اللہ کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
اور اللہ کی قسم مَیں اللہ کی طرف سے مامور ہوں۔ وہ میرے باطن اور ظاہر کو جانتا ہے اور اُسی نے مجھے اس صدی کے سر پر دین کے تازہ کرنے کے لئے اُٹھایا ہے۔ اس نے دیکھا کہ زمین ساری بگڑ گئی ہے اور گمراہی کے طریقے بہت پھیل گئے ہیں۔ اور دیانت بہت تھوڑی ہے اور خیانت بہت۔ اور اس نے اپنے بندوں میں سے ایک بندہ کو دین کے تازہ کرنے کے لئے چُن لیا۔ اور اسی نے اس بندہ کو اپنی عظمت اور کبریائی اور اپنے کلام کا خادم بنایا۔ اور خدا کے واسطے خلق اور امر ہے۔جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے۔ اپنے بندوں سے جس پر چاہتا ہے رُوح نازل کرتا ہے۔ پس خدا کے کام سے تعجب مت کرو۔ اور اپنے رخساروں کو بدظنی کرتے ہوئے اُونچا نہ اُٹھائو۔ اور حق کو قبول کرو۔ اور سابقین میں سے بنو۔ اور یہ خدا کا ہم پر اور ہمارے بھائی مسلمانوں پر فضل ہے۔ پس ان لوگوں پر حسرت ہے جو وقتوں کو نہیں پہچانتے اور اللہ کے دنوں کو نہیں دیکھتے اور غفلت اور سُستی کرتے ہیں۔ اور ان کا کوئی شغل نہیں سوائے اس کے کہ مسلمانوں کو کافر بنائیں اور سچے کو جھٹلائیں۔ اور اللہ کے لئے فکر کرتے ہوئے نہیںٹھہرتے اور متقیوں کے طریق اختیار نہیں کرتے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے ہم کو کافر بنایا۔اور ہم پر *** کی اور ہماری طرف نسبت کیا جھوٹا دعویٰ نبوّت کا۔ اور انکار معجزہ اور فرشتوں کا۔ اور جو کچھ ہم نے کہا اس کو نہیں سمجھا اور نہ اس میں تدبر یعنی فکر کرتے ہیں۔ اور انہوں نے جلدی سے اپنے منہ کھولے اور ہم ان اُمور سے بَری ہیں جو انہوں نے ہم پر افتراء کئے۔ اور ہم خدا کے فضل سے مومن ہیں۔ اور اللہ پر اور اس کی کتاب قرآن پر اور رسول خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور ہم ان سب باتوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم لائے اور ہم تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں اور ہم تہِ دل سے گواہی دیتے ہیں کہ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللَّہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہِ ـ
یہ ہیں ہمارے اعتقاد اور ہم ان ہی عقائد پر اللہ تعالیٰ کے پاس جائیں گے اور ہم سچے ہیں تحقیق خداتمام عالم پر فضل کرنے والا ہے۔ اس نے اپنے ایک بندہ کو اپنے وقت پر بطور مجدّد پیدا کیا ہے کیا تم خدا کے کام سے تعجب کرتے ہو اور وہ بڑا رحم کرنے والا ہے۔ اور نصاریٰ نے حیات مسیح کے سبب فتنہ برپا کیا۔ اور کفر صریح میں گِر گئے۔ پس خدا نے ارادہ کیا کہ ان کی بنیاد کو گِرادے اور ان کے دلائل کو جُھوٹا کرے۔ اور ان پر ظاہر کردے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ پس جو کوئی قرآن پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کے فضل کی طرف رغبت کرتا ہے پس اُسے لازم ہے کہ میری تصدیق کرے۔ اور بیعت کرنے والوں میں داخل ہو۔ اور جس نے اپنے نفس کو میرے نفس سے ملایا۔ اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ کے نیچے رکھا۔ اس کو خدا دُنیا میں اور آخرت میں بلند کرے گا۔ اور اس کو دونوں جہان میں نجات پانے والا بنائے گا۔ پس قریب ہے کہ میری اس بات کا ذکر پھیلے اور مَیں اپنے کام کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ اور میرا شکوہ اپنے فکروغم کا کسی سے نہیں سوائے اللہ کے۔ وہ میرا رب ہے مَیں نے تو اسی پر توکّل کیا ہے۔ وہ مجھے بلند کرے گا اور مجھے ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اور مجھے عزت دیگا اور ذلّت نہیں دے گا۔ اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ وہ خطا پر تھے۔ اور ہماری آخری دُعا یہ ہے کہ ہر قسم کی تعریف خدا کے واسطے ہے اور وہ تمام عالموں کا پالنے والا ہے۔
الملتمس عبداللہ الصمد غلام احمد ماہ شوال ۱۳۱۳ھ
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مَیں نے اس ترجمہ میں کہیں کہیں خفیف لفظی تبدیلی کی ہے نیز خاکسار عرض کرتا ہے۔۔۔۔ کہ مَیں نے جب یہ خط بغرض اطلاع حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سامنے پیش کیا۔ تو آپ نے فرمایا۔ کہ کچھ عرصہ ہوا خواجہ حسن نظامی صاحب نے شائع کیا تھا کہ ایک دفعہ مرزا صاحب نے امیر کابل کو ایک دعوتی خط لکھا تھا۔ جس پر اس نے جواب دیا کہ لکھدو۔ کہ ’’اینجابِیا‘‘ یعنی اس جگہ افغانستان میں آ جائو۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ جواب حضرت مسیح موعودؑ کو تو نہیں پہنچا۔ لیکن اگر یہ بات درست ہے تو اس سے امیر کابل کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم انگریزی حکومت میں آرام کے ساتھ بیٹھے ہوئے یہ دعوے کر رہے اور انگریزی حکومت کو سراہ رہے ہو اگر میرے ملک میں آئو تو پتہ لگ جائے۔ بیچارے کو کیا معلوم تھا کہ خود اس کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے خدائی دربار میں گھنٹی بج رہی ہے۔ چنانچہ اس پر زیادہ عرصہ نہیں گذراتھا کہ بچہ سقّہ کے ہاتھ سے امیر عبدالرحمن کا خاندان معزول ہو کر ملک سے بھاگ گیا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ دوسرے خاندان کو لے آیا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس خط کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط عربی میں لکھا گیا تھا۔ یا شاید فارسی میں ہو اور کچھ فقرات عربی کے ہوں۔ نیز معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت صاحب نے یہ خط امیر کابل کو بھجوایا۔ تو راستہ میں پولیس نے لیکر اس کی نقل رکھ لی اور ترجمہ بھی کر لیا۔ اور اصل آگے جانے دیا۔ نقل غالباً گورنمنٹ کے بالا دفاتر میں چلی گئی ہو گی۔ اور ترجمہ پولیس کے ماتحت دفتر میں پڑا رہا۔ واللّٰہ اعلم۔
{ 618} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ دسمبر ۱۹۰۷ء میں آریہ سماج لاہور کا ایک جلسہ تھا۔ جس میں جمیع مذاہب سے خواہش کی گئی تھی کہ وہ اس مضمون پر تقریر کریں۔ کہ کیا دُنیا میں کوئی الہامی کتاب ہے؟ اگر ہے تو کونسی ہے؟ حضرت مسیح موعودؑ بھی اس جلسہ کے واسطے مضمون لکھوا رہے تھے اور غلام محمد صاحب احمدی کاتب کو امرتسر سے بلوایا تھا۔ وہ گھر پر مضمون لکھ رہا تھا۔ آپ نماز جمعہ کے واسطے اس مکان میں تشریف لائے۔ جس میں آج کل حضرت میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے (یعنی خاکسار مؤلف) سکونت رکھتے ہیں۔ سید محمد احسن صاحب امام الصلوٰۃ تھے۔حضرت صاحب نے خصوصیّت سے کہلا بھیجا تھا۔کہ خطبہ مختصر ہو۔ کیونکہ ہم مضمون لکھوا رہے ہیں اور کاتب لکھ رہا ہے۔ وقت تھوڑا باقی ہے۔ وہ مضمون غالباً یکم یا ۲ دسمبر ۱۹۰۷ء کو سنایا جانا تھا۔ اور اغلباً اس دن ۲۸ یا ۲۹ نومبر ۱۹۰۷ء کی تاریخ تھی۔ مگر سیّد صاحب نے باوجود حضرت اقدس کے صریح ارشاد کے خطبہ اس قدر لمبا پڑھا۔ کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّلؓ کافی عرصہ بعد مسجد اقصٰے تشریف لے گئے۔ اور وہاں نماز جمعہ پڑھانے کے بعد واپس بھی تشریف لے آئے۔مگر سیّد صاحب کا خطبہ ابھی جاری تھا۔ خطبہ میں دو امور کا ذکر تھا۔ ایک حضرت مسیح ناصری کے حواریوں کے مائدہ مانگنے کا ذکر تھا اور یہ کہ ہمارے امام کے ساتھ بھی مائدہ یعنی لنگر خانہ ہے۔ اور نیز اس سے رُوحانی غذا بھی مراد ہے۔ دوم قدرتِ ثانیہ کے بارہ میں تذکرہ تھا۔
الغرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نہایت تحمل سے وہ خطبہ سُنتے رہے۔ باوجود اس کے کہ آپ کو نہایت ضروری کام درپیش تھا۔ مگر حضرت کی پیشانی پر کوئی بَل نظر نہ آیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری ایام میں نماز جمعہ دو جگہ ہوتی تھی ایک مسجد مبارک میں جس میں حضرت صاحب خود شریک ہوتے تھے اور امام الصلوٰۃ مولوی سیّد محمد احسن صاحب یا مولوی سیّد سرور شاہ صاحب ہوتے تھے۔ اور دوسرے مسجد اقصیٰ میں جس میں حضرت خلیفہ اولؓ امام ہوتے تھے۔ دو جمعوں کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود بوجہ طبیعت کی خرابی کے عموماً مسجد اقصیٰ میں تشریف نہیں لے جا سکتے تھے اور مسجد مبارک چونکہ بہت تنگ تھی اس لئے اس میں سارے نمازی سما نہیں سکتے تھے۔ لہذا دو جگہ جمعہ ہوتا تھا۔ واقعہ مندرجہ روایت مذکورہ بالا ان دنوں کا ہے۔ جبکہ مسجد مبارک میں توسیع کے لئے عمارت لگی ہوئی تھی۔ ان ایام میں مسجد مبارک والا جمعہ میرے موجودہ مکان کے جنوبی دالان میں ہوا کرتا تھا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب نے جو بیان کیا ہے کہ حضرت صاحب مضمون لکھوا رہے تھے اس سے یہ مراد نہیں کہ کسی شخص کو پاس بٹھا کر املا کروا رہے تھے بلکہ غرض یہ ہے کہ حضور لکھ لکھ کر کاتب کو دے رہے تھے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی قابلِ تشریح ہے کہ قاضی صاحب نے جو یہ بیان کیا ہے کہ مولوی محمد احسن صاحب نے دانستہ ایسا کیا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ مولوی صاحب کو بات کے لمبا کرنے کی عادت تھی۔ اس لئے باوجود حضرت صاحب کے ارشاد کے وہ اس رَو سے بچ نہیں سکے۔
{ 619} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعودؑ سیالکوٹ تشریف لے جا رہے تھے۔ تو راستہ میں خاکسار کو ملنے کا موقعہ نہ ملا۔ کیونکہ خاکسار گورداسپور سے جا رہا تھا اور حضور قادیان سے روانہ ہو کر بٹالہ سے گاڑی پر سوار ہوئے تھے۔ مَیں نے لاہور پہنچ کر مولوی محمد علی صاحب سے ذکر کیا کہ مجھے بٹالہ سے لاہور تک حضرت کو بو جہ ہجوم خلقت کے ملنے کا موقعہ نصیب نہیں ہوا لیکن سیالکوٹ سے دو سٹیشن ورے مجھے ہجوم کم نظر آیا۔ چنانچہ مَیں اپنے کمرے سے بھاگتا ہوا حضرت کے کمرہ کے پاس پہنچ گیا۔ حضرت مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔ میاں عبدالعزیز آپ بھی پہنچ گئے۔ سیالکوٹ پہنچ کر حضور نے میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے مکان پر قیام فرمایا۔ اور منتظمین کو بلا کر فرمایا کہ منشی اروڑا خانصاحب اور میاں عبدالعزیز کو رہائش کے لئے ایک الگ جگہ دو۔ اور ان کا اچھی طرح سے خیال رکھنا کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ادنیٰ سے ادنیٰ خدام کا بھی کتنا خیال رکھتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اس سفر کا ذکر معلوم ہوتا ہے جو حضرت صاحب نے ۱۹۰۴ء میں کیا تھا۔
{ 620} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر دین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مسماۃ تابی حضرت مسیح موعودؑ کی ایک خادمہ تھی۔ اس کی ایک نواسی کا نکاح ایک شخص مسمی فقیر محمد سکنہ قادیان سے تجویز ہوا۔ حضرت صاحب نے فقیر محمد کو ایک اشٹام کا کاغذ لانے کی ہدایت فرمائی۔ جب وہ کاغذ لے آیا تو حضرت صاحب نے گول کمرہ میں میری موجودگی میں فقیر محمد کی طرف سے تحریر ہونے کے لئے مضمون بنایا۔ کہ مَیں اس عورت سے نکاح کرتا ہوں اور ۔/۵۰۰ روپیہ مہر ہو گا۔ اور اس کے اخراجات کا مَیں ذمہ دار ہوں گا۔ اور اس کی رضا مندی کے بغیر (یا یہ فقرہ تھا۔ کہ اس کی حیات تک) دوسرا نکاح نہ کرونگا۔ یہ کاغذ آپ نے مجھے اشٹام پر نقل کرنے کے لئے دیا۔ چنانچہ مَیں نے وہیں نقل کر دیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ نکاح میں زائد شرائط مقرر کرنا جائز ہے۔ اور حضرت صاحب نے لکھا ہے(چشمۂ معرفت صفحہ ۲۳۷، ۲۳۸) کہ نکاحِ ثانی کے متعلق عورت کی طرف سے یہ شرط بھی ہو سکتی ہے۔ کہ میرا خاوند میرے ہوتے ہوئے نکاح ثانی نہیں کرے گا۔ کیونکہ تعدد ازدواج اسلام میں جائز ہے نہ یہ کہ اس کا حکم ہے۔
{ 621} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سوائے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی اور امۃ الحفیظ بیگم کی شادی کے باقی اپنے سب بچوں کی مجلس نکاح میں بذات خود شریک تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کا نکاح رڑکی میں ہوا تھا۔ جہاں حضرت خلیفہ اوّلؓ مع ایک جماعت کے بطور برات بھیجے گئے تھے۔ اور وہیں نکاح ہوا تھا۔ رخصتانہ بعد میں ہوا جب ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب آگرہ میں تھے۔ میاں بشیر احمد صاحب (یعنی خاکسار مؤلف) کا نکاح حضرت صاحب کے گھر کے اندر صحن میں ہوا تھا۔ جہاں اب حضرت ام المؤمنین رہتی ہیں۔ اس موقعہ پر حضرت صاحب نے امرتسر سے اعلیٰ قسم کے چوہارے کافی مقدار میں تقسیم کرنے کے لئے منگوائے تھے۔ جو مجلس میں کثرت سے تقسیم کئے گئے۔ بلکہ بعض مہمانوں نے تو اس کثرت سے چوہارے کھا لئے کہ دوسرے دن حضرت صاحب کے پاس یہ رپورٹ پہنچی کہ کئی آدمیوں کو اس کثرت کی و جہ سے پیچش لگ گئی ہے۔ میاں شریف احمد صاحب کا نکاح بھی حضرت صاحب کے گھر میں ہی ہوا تھا۔ مبارکہ بیگم صا حبہ کا نکاح مسجد اقصیٰ میں ہوا تھا۔ مبارک احمد مرحوم کا نکاح بھی حضرت صاحب نے اپنے سامنے گھر کے اندر کیا تھا۔ مگر وہ اسی سال فوت ہو گیا۔ امۃ الحفیظ بیگم صا حبہ کا نکاح حضور کے وصال کے بعد ہوا۔
چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رُوحانی حکیم تھے اور حضرت خلیفہ اوّلؓ جسمانی حکیم تھے۔ ان ہر دو نے اپنے بچوں کی شادیاں چھوٹی عمر میں کر دی تھیں۔ میرے خیال میں جو دُنیا کا آجکل حال ہے اس کے لحاظ سے ابتدائی عمر کی شادی باوجود اپنے بعض نقائص کے تقویٰ اور طہارت کے لحاظ سے بہتر ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مبارک احمد مرحوم کا نکاح اس کی بیماری کے ایام میں ہوا تھا۔ مگر وہ بقضائے الٰہی چند دن بعد فوت ہو گیا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ ابتدائی عمر کی شادی واقعی کئی لحاظ سے بہتر ہے۔ ایک تو اس ذریعہ سے شروع میں ہی بد خیالات اور بدعادات سے حفاظت ہو جاتی ہے۔ دوسرے جو جوڑ میاں بیوی کا چھوٹی عمر میں ملتا ہے وہ عموماً زیادہ گہرا اور مضبوط ہوتا ہے۔ تیسرے چھوٹی عمر کی شادی میں یہ فائدہ ہے کہ اولاد کا سلسلہ جلد شروع ہو جاتا ہے۔ جس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب والد کے گذرنے کا وقت آتا ہے تو بڑی اولاد چھوٹی اولاد کے سہارے کا باعث بن سکتی ہے۔اسی طرح اور بھی بعض فوائد ہیں۔ پس مغربی تقلید میں بہت بڑی عمر میں شادی کرنا کسی طرح پسندیدہ نہیں۔ اس طرح عمرکا ایک مفید حصہ ضائع چلا جاتا ہے۔ بے شک کم عمری کی شادی میں بعض جہت سے نقصان کا پہلو ہے۔ مگر نَفْعُھَا اَکْبَرُ مِنْ اِثْمِھَا کے اصول کے ماتحت فی الجملہ یہی بہتر ہے۔ واللّٰہ اعلم -
{ 622} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک مرتبہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے اپنی ایک مجلس میں بیان کیا کہ میں نے ایک رات مٹھائی کھانے میں کثرت کی۔ جس سے رات بھر تکلیف رہی اور پیٹ میں بہت ریاح اور قراقر رہا۔ اس پر مجھے الہام ہوا۔ کہ بَطْنُ الْاَنْبِیَائِ صَامِتٌ۔ یعنی انبیاء کا پیٹ خاموش ہوتا ہے۔ اس عاجز نے یہ بات سُن کر ذہن میں رکھی۔ اور اس کے بعد ہمیشہ گھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اس کا خیال رکھا۔ اور بات کو سچ پایا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء کی جسمانی طہارت اور نظافت ایک حد تک اس وجہ سے بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنی عادات میں بہت معتدل ہوتے ہیں اور کوئی ایسی چیز استعمال نہیں کرتے جو بدبو پیدا کرے یا پیٹ میں ریاح پیدا کرے یا کسی اور طرح کی گندگی کا باعث ہو۔ اس احتیاط کی و جہ علاوہ ذاتی طہارت اور نظافت کی خواہش کے ایک یہ بھی ہے کہ انبیاء کو ذات باری تعالیٰ اور ملا ئکۃ اللّٰہ کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے اور اللہ اور اس کے فرشتے بوجہ اپنی ذاتی پاکیزگی کے انسان میں بھی پاکیزگی کو بہت پسند کرتے ہیں۔
{ 623} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر مدرس مدرسہ احمدیّہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۰ء میں یا اس کے قریب عیدالاضحی سے ایک دن پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو لکھا کہ جتنے دوست یہاں موجود ہیں ان کے نام لکھ کر بھیج دو۔ تا مَیں ان کے لئے دُعا کروں۔ حضرت مولوی صاحب نے سب کو ایک جگہ جہاں آجکل مدرسہ احمدیہ ہے اور اُس وقت ہائی سکول تھا جمع کیا اور ایک کاغذ پر سب کے نام لکھوائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیج دئیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سارا دن اپنے کمرہ میں دروازے بند کرکے دُعا فرماتے رہے۔ صبح عید کا دن تھا۔ آپ نے فرمایا مجھے الہام ہوا ہے۔ کہ اس موقعہ پر عربی میں کچھ کلمات کہو۔ اس لئے حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اس وقت قلم دوات لے کر موجود ہوں اور جو کچھ مَیں عربی میں کہوں لکھتے جائیں۔ آپ نے نمازِ عید کے بعد خطبہ خود پہلے اردو میں پڑھا۔ مسجد اقصیٰ کے پُرانے صحن میں دروازے سے کچھ فاصلہ پر ایک کُرسی پر تشریف رکھتے تھے۔ حضور کے اُردو خطبہ کے بعد حضرت مولوی صاحبان حسبِ ارشاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے بائیں طرف کچھ فاصلہ پر کاغذ اور قلم دوات لے کر بیٹھ گئے۔ اور حضور نے عربی میں خطبہ پڑھنا شروع فرمایا۔ اس عربی خطبہ کے وقت آپ کی حالت اور آواز بہت دھیمی اور باریک ہو جاتی تھی۔ تقریر کے وقت آپ کی آنکھیں بند ہوتی تھیں۔ تقریر کے دوران میں ایک دفعہ حضور نے حضرت مولوی صاحبان کو فرمایا۔ کہ اگر کوئی لفظ سمجھ نہ آئے تو اسی وقت پوچھ لیں ممکن ہے کہ بعد میں مَیں خود بھی نہ بتا سکوں اس وقت ایک عجیب عالم تھا۔ جس کو مَیں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ یہ خطبہ حضور کی کتاب خطبہ الہامیہ کے ابتداء میں چھپا ہوا ہے۔ آپ نے نہایت اہتمام سے اس کو کاتب سے لکھوایا۔ اور فارسی اور اُردو میں ترجمہ بھی خود کیا۔ اس خطبہ پر اعراب بھی لگوائے۔ اور آپ نے فرمایا۔ کہ جیسا جیسا کلام اُترتا گیا۔ مَیں بولتا گیا۔ جب یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ تو مَیں نے بھی تقریر کو ختم کر دیا۔ آپ فرماتے تھے۔ کہ تقریر کے دَوران میں بعض اوقات الفاظ لکھے ہوئے نظر آجاتے تھے۔ آپ نے تحریک فرمائی کہ بعض لوگ اس خطبہ کو حفظ کر کے سُنائیں۔ چنانچہ مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے اس خطبہ کو یاد کیا۔ اور مسجد مبارک کی چھت پر مغرب و عشاء کے درمیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں اس کو پڑھ کر سُنایا۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ مولوی شیر علی صاحب کی یہ روایت مختصر طور پر حصہ اول طبع دوم کی روایت نمبر ۱۵۶ میں بھی درج ہو چکی ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر نے بعض اصحاب سے چند عدد روایات لکھ کر ایک کاپی میں محفوظ کی ہوئی ہیں۔ یہ روایت اسی کاپی میں سے لی گئی ہے۔ آگے چل کر بھی اس کاپی کی روایات آئیں گی۔ اس لئے مَیں نے ایسی روایات میں مولوی عبدالرحمن صاحب کے واسطے کو ظاہر کر دیا ہے۔ مولوی عبدالرحمن صاحب خود صحابی نہیں ہیں۔ مگر انہوں نے یہ شوق ظاہر کیا ہے کہ ان کا نام بھی اس مجموعہ میں آ جائے۔ اس کاپی میں جملہ روایات اصحاب جو بوجہ نابینائی یا ناخواندگی معذور تھے ان کی روایات مولوی عبدالرحمن صاحب مبشّر نے اپنے ہاتھ سے خود لکھی ہیں۔
{ 624} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا کہ ’’ دہلی میں واصل جہنّم ۔واصل خان فوت ہو گیا‘‘ تو مجھے یاد ہے کہ آپ نے اس کے متعلق سب سے پہلے حضرت خلیفہ اوّلؓ کو بلا کر اُن سے علیحدگی میں بات کی تھی۔ اور یہ الہام سُنا کر واصل خاں کی بابت دریافت فرمایا تھا۔ اس وقت حضرت صاحب اور حضرت مولوی صاحب کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ البتہ خاکسار پاس کھڑا تھا اور شاید مجھے ہی بھیج کر حضرت صاحب نے مولوی صاحب کو بُلایا تھا۔ اور آپ مولوی صاحب کو مسجد مبارک کے پاس والے حصہ میں اپنے مکان کے اندر ملے تھے۔ اور زمین پر ایک چٹائی پڑی تھی اس پر بیٹھ گئے تھے۔ نیز اس الہام کے الفاظ جو مجھے زبانی یاد تھے۔ یہ تھے کہ ’’ دہلی میں واصل خاں واصل جہنّم ہوا‘‘۔ مگر جو الفاظ اخبارات میں شائع ہوئے ہیں وہ اس طرح پر ہیں جس طرح شروع روایت میں درج کئے گئے ہیں۔ اور غالباً وہی صحیح ہونگے۔ کیونکہ زبانی یاد میں غلطی ہو جاتی ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
{ 625} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سیّد زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مَیں ۱۱؍ ستمبر ۱۹۳۵ء کو سیالکوٹ میں تھا۔ وہاں مجھے مائی حیات بی بی صا حبہ بنت فضل دین صاحب جو کہ حافظ محمد شفیع صاحب قاری کی والدہ ماجدہ ہیں سے ملنے کو موقعہ ملا۔ اس وقت میرے ہمراہ مولوی نذیر احمد صاحب فاضل سیکرٹری تبلیغ جماعت احمدیہ سیالکوٹ اور چوہدری عصمت اللہ خان بی۔ اے۔ پلیڈرلائلپور، سیکرٹری جماعت احمدیہ لائلپور بھی تھے۔ مائی صا حبہ اپنے مکان کی دہلیز پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ ہم نے ان کو نہ پہچانا۔ مگر انہوں نے ہم کو پہچان کر السَّلام علیکم کہا۔ اور فرمایا کہ ادھر تشریف لے آئیں۔ مائی صاحبہ کی عمر اس وقت ۱۰۵ سال ہے۔ مائی صا حبہ نے بتایا۔ کہ غدر کے زمانہ میں جب یہاں بھاگڑ پڑی اور دفاتر اور کچہریوں کو آگ لگی تو اس وقت مَیں جوان تھی۔ دورانِ گفتگو میں مائی صا حبہ نے بتایا کہ مجھے مرزا صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام) سے اس وقت سے واقفیت ہے کہ جب آپ پہلے پہل سیالکوٹ تشریف لائے تھے اور یہاں ملازمت کے زمانہ میں رہے تھے۔ مرزا صاحب کی عمر اس وقت ایسی تھی کہ چہرے پر مس پھُوٹ رہی تھی۔ اور آپ کی ابھی پوری داڑھی نہ تھی۔ سیالکوٹ تشریف لانے کے بعد حضرت مرزا صاحب میرے والد صاحب کے مکان پر آئے۔ اور انہیں آواز دی اور فرمایا۔ میاں فضل دین صاحب آپ کا جو دوسرا مکان ہے۔ وہ میری رہائش کے لئے دے دیں۔ میرے والد صاحب نے دروازہ کھولا اور آپ اندر آ گئے۔ پانی ،چارپائی ،مصلّٰی وغیرہ رکھا۔ مرزا صاحب کا سامان بھی رکھا۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کچہری سے واپس آتے تو پہلے میرے باپ کو بُلاتے اور ان کو ساتھ لے کر مکان میں جاتے۔ مرزا صاحب کا زیادہ تر ہمارے والد صاحب کے ساتھ ہی اُٹھنا بیٹھنا تھا۔ ان کا کھانا بھی ہمارے ہاں ہی پکتا تھا۔ میرے والد ہی مرزا صاحب کو کھانا پہنچایا کرتے تھے۔ مرزا صاحب اندر جاتے اور دروازہ بند کر لیتے اور اندر صحن میں جا کر قرآن پڑھتے رہتے تھے۔ میرے والد صاحب بتلایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب قرآن مجید پڑھتے پڑھتے بعض وقت سجدہ میں گر جاتے ہیں اور لمبے لمبے سجدے کرتے ہیں۔ اور یہاں تک روتے ہیں کہ زمین تر ہو جاتی ہے۔ مائی صا حبہ نے حضرت مسیح موعودؑ کی باتیں بتلاتے ہوئے متعدد دفعہ کہا۔ ’’مَیں قربان جائوں آپ کے نام پر‘‘۔ یہ بیان حافظ محمد شفیع صاحب قاری کی موجودگی میں مَیں نے لیا۔ اور حافظ صاحب نے اپنی والدہ صا حبہ کے سامنے بتلایا۔ کہ یہی باتیں مَیں اپنے ماموں اور نانے سے بھی سُنا کرتا تھا۔
مائی صا حبہ نے بتلایا کہ پہلے مرزا صاحب اسی محلہ میں ایک چوبارہ میں رہا کرتے تھے۔ جو ہمارے موجودہ مکان واقع محلہ جھنڈانوالہ سے ملحق ہے۔ جب وہ چوبارہ گر گیا۔ تو پھر مرزا صاحب میرے باپ کے مکان واقع محلہ کشمیری میں چلے گئے۔ چوبارہ کے گرنے کا واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کے پاس چوبارہ میں خلیل۔ منشی فقیر اللہ وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔ تو مرزا صاحب نے کہا باہر آ جائو۔ جب وہ سب باہر دوسرے مکان کی چھت پر آئے۔ تو چوبارہ والا چھت بیٹھ گیا۔ حافظ محمد شفیع صاحب بیان کرتے ہیں۔ کہ خلیل کہتا تھا۔ کہ چوبارہ میں کوئی ایسی بات نہ تھی۔ کہ جس سے گرنے کا خطرہ ہوتا۔ مائی صاحبہ نے بتلایا کہ مرزا صاحب عموماً اپنے اوپر چادر لپیٹے رکھتے تھے اور سر پر بھی چادر اوڑھ لیتے تھے۔ اور اتنا ہی منہ کُھلا رکھتے جس سے راستہ نظر آئے۔ میرے والد بتلاتے تھے کہ مکان کے اندر جا کر چادر اتار دیتے تھے حافظ صاحب نے بتلایا کہ ہمارے نانا فضل دین صاحب بتلایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب جب کچہری سے واپس آتے تو چونکہ آپ ا ہلمد تھے۔ مقدمہ والے زمیندار ان کے مکان تک ان کے پیچھے آ جاتے۔ تو مرزا صاحب فضل دین صاحب کو بلاتے اور کہتے کہ فضل دین میرا پیچھا ان سے چھڑا دو یہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔ فضل دین صاحب ان زمینداروں کو سمجھاتے کہ جو تمہارا کام ہے مرزا صاحب کچہری میں ہی کر دیںگے۔ گھر میں وہ کسی سے نہیں ملتے۔ اور نیز انہوں نے بتلایا۔ کہ جو تنخواہ مرزا صاحب لاتے۔ محلہ کی بیوگان اور محتاجوں کو تقسیم کر دیتے۔ کپڑے بنوا دیتے یا نقد دے دیتے تھے۔ اور صرف کھانے کا خرچ رکھ لیتے۔ مائی صا حبہ نے بتلایا کہ جب مرزا صاحب دوسری دفعہ بعد از دعویٰ سیالکوٹ آئے تو حکیم حسام الدین صاحب مرحوم کے مکان پر مجھے بلایا۔ اور میرا حال پوچھا۔ اور مَیں نے بیعت بھی کی۔ اس وقت مرزا صاحب بمع کنبہ آئے تھے۔
مرزا صاحب جب تیسری دفعہ آئے۔ لوگوں نے آپ پر کوڑا ڈالا۔ حافظ صاحب نے اس موقعہ پر بتلایا کہ اس محلہ کے مولوی حافظ سلطان نے جو میرے استاد تھے، لڑکو ں کو جھولیوں میں راکھ ڈلوا کر انہیں چھتوں پر چڑھا دیا۔ اور انہیں سکھایا۔ کہ جب مرزا صاحب گذریں۔ تو یہ راکھ ان پر ڈالنا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا کیا۔ مائی صا حبہ اور حافظ صاحب دونوں نے بتلایا۔ کہ حافظ سلطان کا مکان ہمارے سامنے ہے۔ یہ گھر بڑا آباد تھا۔تیس چالیس آدمی تھے۔ مگر اس واقعہ کے بعد سیالکوٹ میں طاعون پڑی اور سب سے پہلے اس محلہ میں طاعون سے حافظ سلطان اور اس کے بعد یکے بعد دیگرے ان کے گھر کے لوگ جو انتیس کے قریب تھے طاعون سے مر گئے اور چھوٹے چھوٹے بچے رہ گئے۔ اور جن لوگوں نے انہیں غسل دیا وہ بھی مر گئے اور جو شخص عیادت کرنے کے لئے آیا وہ بھی مر گیا۔
(دستخط) سید زین العابدین ولی اللہ شاہ۔ ناظر دعوۃ تبلیغ حال مقیم سیالکوٹ۔
مورخہ ۱۱؍ستمبر۱۹۳۵ئ۔
محررہ سیّد فیاض حیدر۔ حیدر منزل سیالکوٹ شہر۔ مورخہ ۱۱؍ ستمبر ۱۹۳۵ء
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مندرجہ بالا بیان کے نیچے مندرجہ ذیل نوٹ درج ہیں۔
نوٹ اوّل:۔ ’’مندرجہ بالا بیانات ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ نے میری موجودگی میں مائی حیات بی بی صا حبہ اور ان کے لڑکے حافظ محمد شفیع صاحب کی روایات کی بناء پر قلمبند کرائے۔ دونوں پنجابی میں باتیں بتاتے تھے۔ جن کو ناظر صاحب ان کی موجودگی میں اردو میں ساتھ ساتھ لکھاتے جاتے تھے ‘‘ مورخہ۱۱؍ستمبر ۱۹۳۵ئ۔
(دستخط) عصمت اللہ خاں وکیل لائلپور حال مقیم سیالکوٹ ۔
نوٹ ثانی:۔ ’’ میں نے وہ مکان جا کر دیکھا ہے۔ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام اپنے اثنائے قیام سیالکوٹ میں ملازمت کے ایام میں رہا کرتے تھے۔ یہ مکان محلہ چودھری سلطان میں واقع ہے اور اس کے ساتھ پہلو میں جانب جنوب چراغ دین صاحب کا مکان ہے جو دو منزلہ ہے۔ لیکن پہلے ایک منزلہ تھا۔ اور موجودہ شکل بعد کی ہے۔ چراغ دین صاحب بیان کرتے ہیں۔ کہ جب مرزا صاحب یہاں رہا کرتے تھے۔ تو اس وقت میری عمر ۱۰۔۱۱ سال کی تھی۔ اور اس وقت مرزا صاحب کی داڑھی ذرا ذرا سی تھی۔ جب آپ کام کاج سے فارغ ہو کر باہر سے آتے تو کسی سے بات نہ کرتے اور اندر ہر وقت لکھنے پڑھنے کا ہی کام کرتے۔ اب وہ مکان جس میں مرزا صاحب رہتے تھے۔ ماسٹر عبدالعزیز ٹیلر ماسٹر نے جو احمدی ہیں خرید کیا ہوا ہے۔ پہلے اس مکان میں صرف ایک ہی دروازہ تھا بعد میں جب تقسیم ہوا تو درمیاں میں دیوار حائل کر کے دو دروازے نکال لئے گئے ہیں۔مرزا صاحب اس کوٹھڑی میں رہتے تھے جو ان کے مکان کے ساتھ ہے اور اب تک وہ کوٹھڑی اسی حالت میں ہے۔‘‘
محررہ سیّد فیاض حیدر ۱۵؍ستمبر ۱۹۳۵ئ۔ زین العابدین ناظر دعوۃ وتبلیغ ۱۵؍ستمبر ۱۹۳۵ئ۔
چراغدین بقلم خود ۱۵؍ ستمبر ۱۹۳۵ئ۔
یہ بیان مندرجہ ذیل اصحاب کی موجودگی میں لیا گیا۔ جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں۔
(دستخط) محمد الدین بقلم خود ۱۵؍ ستمبر۱۹۳۵ئ۔ (دستخط) چودھری محمد شریف مولوی فاضل مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ ۱۵؍ ستمبر ۱۹۳۵ئ۔ (دستخط) بقلم خود ظہور احمد۔ احمدی۔ ۱۵ ؍ستمبر ۱۹۳۵ئ۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ اس روایت سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت صاحب کی داڑھی کسی قدر دیر کے ساتھ آئی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی ملازمت سیالکوٹ کے ایّام کے متعلق شمس العلماء مولوی میر حسن صاحب سیالکوٹی کی دو عدد روایتیں (نمبر ۱۵۰ و نمبر ۲۸۰) پہلے حصوں میں گذر چکی ہیں۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 626} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سیّد غلام غوث صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۸؍اکتوبر ۱۹۰۴ء بعد تین بجے شام جبکہ مقدمہ کرم دین کا فیصلہ سُنایا جانا تھا اوّل کرم دین کو عدالت میں بلایا گیا اور اس کو پچاس روپیہ جرمانہ ہوا۔ اور اس کے بعد ایڈیٹر سراج الاخبار کو بلایا گیا۔ اور اُسے چالیس روپیہ جرمانہ ہوا۔ اس وقت حضرت اقدس قبل اس کے کہ آپ بُلائے جائیں مجھ سے مخاطب ہو کر فرما رہے تھے۔ کہ درمیانی ابتلاء ہیں مگر عدالت عالیہ سے بریّت ہے۔ اتنے میں حضور کو بلایا گیا۔ تو مجسٹریٹ نے حضرت اقدس کو پانچ سو روپیہ اور حکیم فضل دین صاحب کو دو صد روپیہ جرمانہ کیا۔ اسی وقت مبلغ ایک ہزار روپیہ کا نوٹ پیش کیا گیا۔ اور باقی تین صد روپیہ واپس لیا گیا۔ اتنے میں چار بج گئے۔ اور خوا جہ کمال الدین صاحب نے مجسٹریٹ سے پوچھا۔ کہ اب عدالت برخاست ہو چکی ہے۔کیا مَیں فیصلہ کے متعلق کچھ بات کر سکتا ہوں (یعنی آزادی کے ساتھ غیر عدالتی رنگ میں اظہارِ خیال کر سکتا ہوں۔ خاکسار مؤلف) مجسٹریٹ نے کہا۔ ہاں۔ تب خواجہ صاحب نے کہا۔ کہ یہ خاک فیصلہ ہے۔ کہ مَیں نے کرم دین کو کذّاب ثابت کر دیا۔ اور باوجود اس کے حضرت اقدس کو اس بات پر جرمانہ بھی کر دیا گیا کہ اس کو کذّاب کیوں کہا ہے۔ حالانکہ کذّاب کو کذّاب کہنا کوئی جُرم نہیں۔ مجسٹریٹ خاموش رہا۔ تب خوا جہ صاحب نے کہا۔ کہ سات صد روپیہ ہمارا امانت ہے۔ ابھی تھوڑے عرصہ میں واپس لے لیں گے۔ چنانچہ اپیل میں حضرت صاحب بری قرار دئیے گئے۔ اور وہ روپیہ واپس مل گیا۔ مگر کرم دین کا نام ہمیشہ کے لئے کذّاب درج رجسٹر رہا۔ اور اس کا جرمانہ بھی قائم رہا۔
{ 627} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی شخص نے جہاد کے بارہ میں عرض کیا کہ مسلمان بادشاہوں نے ہمیشہ دفاعی جنگ تو نہیں کی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے کہ ہم تو صرف آنحضرتؐ اور خلفائے راشدین کی طرف سے جواب دینے کے ذمہ دار ہیں اَور کسی کے نہیں۔ ان کے جہاد ہمیشہ دفاعی تھے۔ باقی بعد کے مسلمان بادشاہوں کی طرف سے جواب دہی کی ذمہ واری ہم نہیں لے سکتے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بالکل درست ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کی جملہ لڑائیاں دفاعی تھیں۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہئے۔ کہ دفاعی کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہر انفرادی لڑائی آپ نے اس وقت کی جبکہ غنیم فوج لے کر چڑھ آیا۔ اس قسم کا دفاع احمقانہ دفاع ہوتا ہے بلکہ اس کا نام دفاع رکھنا ہی غلط ہے۔ پس دفاع سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی غرض و غایت دشمن کے خلاف اپنے آپ کو محفوظ کرنا تھی۔ یعنی دشمن اسلام کو مٹانا چاہتا تھا اور آپؐ اسلام کو محفوظ کرنے کے لئے میدان میں نکلے تھے اور ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ بسا اوقات جنگی تدبیر کے طور پر خود پیش دستی کر کے دشمن کو حملہ سے روکنا بھی دفاع کا حصہ ہوتا ہے۔
{ 628} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ شکل کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کے دو ٹائپ ہیں۔ ایک سلطانی اور دُوسرا فضلی۔ یعنی ایک وہ جو مرزا سلطان احمد صاحب سے مشابہ ہیں اور دوسرے وہ جو مرزا فضل احمد صاحب سے مشابہت رکھتے ہیں۔ سُلطانی ٹائپ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہُ اللّٰہ بنصرہ العزیز۔ صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ۔مبارک احمد مرحوم۔ امۃ النصیر مرحومہ اور امۃ الحفیظ بیگم شامل ہیں۔ اور فضلی جماعت میں عصمت مرحومہ ۔شوکت مرحومہ۔ صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب (یعنی خاکسار مؤلف) اور مبارکہ بیگم شامل ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب مکرم کی خود ساختہ اصطلاح کی رُو سے سلطانی ٹائپ سے لمبا کتابی چہرہ مراد ہے۔ اور فضلی ٹائپ سے گول چہرہ مراد ہے۔ نیز ایک الہام جو خاکسار کی پیدائش کے متعلق حضرت صاحب کو ہوا تھا۔ کہ یُدْنٰی مِنْکَ الْفَضْلُ (یعنی فضل تیرے قریب کیا جائے گا) اس کے ایک معنی حضرت صاحب نے یہ بھی لکھے ہیں۔ کہ فضل احمد کی شکل سے مشابہت رکھنے والا بچہ پیدا ہو گا نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مبارک احمد مرحوم کے متعلق مجھے شُبہ ہے کہ وہ بقول میر صاحب سلطانی ٹائپ میں شامل نہیں تھا۔ بلکہ فضلی ٹائپ میں شامل تھا یا شاید بین بین ہو گا۔ واللّٰہ اعلم۔
{ 629} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ غلیل سے جو پرندے مارے جاتے ہیں۔ ان کی بابت حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام فرمایا کرتے تھے۔ کہ تکبیر پڑھ کر مار لیا کرو اور فرماتے تھے کہ غلیل اور بندوق کا حکم بھی تِیر کی طرح ہے۔ یعنی اگر جانور ذبح سے پہلے ہی مر جائے تو وہ حلال ہے۔ یہ ذکر اس بات پر چلا تھا۔ کہ بھائی عبدالرحیم صاحب اکثر پرندے غلیل سے مار کر لایا کرتے تھے۔ مَیں نے عرض کیا کہ کئی پرندے وہیں ذبح سے پہلے مر جاتے ہیں۔ تو بھائی جی ان کو حرام سمجھ کر چھوڑ آتے ہیں۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ تکبیر پڑھ کر مار لیا کریں۔ پھر اگر ذبح سے پہلے مر بھی جائیں تو جائز ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جاوے یعنی اس کے ذبح کرنے کا موقعہ نہ ملے۔ تو تکبیر پڑھنے کی صُورت میں وہ جائز ہے یہ مراد نہیں کہ ذبح کا موقعہ ہو مگر پھر بھی ذبح نہ کیا جائے۔
{ 630} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام نے میرے علم میں بذریعہ ریل حسب ذیل جگہوں کا سفر کیا ہے۔
گورداسپور۔ پٹھانکوٹ۔ امرتسر۔ لاہور۔ سیالکوٹ۔ جموں۔ جہلم۔ دہلی۔ لدھیانہ۔ جالندھر۔ انبالہ چھائونی۔ فیروز پور چھائونی۔ پٹیالہ۔ ملتان اور علی گڑھ۔ اور حضرت صاحب نے ہوشیارپور کا مشہور سفر بذریعہ سڑک کیا تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب یکّہ پر ڈلہوزی بھی تشریف لے گئے تھے۔ نیز سنّور بھی گئے تھے مگر وہ پٹیالہ کے سفر کا حصہ ہی تھا۔
{631} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حکیم عبیداللہ صاحب بسمل مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ خاکسار (یعنی بسمل صاحب) کا عقیدہ معتزلہ کے قریب قریب تھا۔ گو والدین حنفی مذہب اور نقشبندی مشرب تھے۔ لیکن بعض اساتذہ کی تلقین سے میرا عقیدہ رفض اور اعتزال کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ اور ’’ ارجح المطالب‘‘ کے چھاپنے پر مجھ کو ناز تھا۔ کہ یکایک میرے مہربان دوست مفتی محمد صادق صاحب سے مجھ کو حضرت مسیح موعودؑ کی تصنیف کتاب ’’ سرّ الخلافہ ‘‘ عاریتاً ہاتھ آئی۔ اس کتاب کے مطالعہ نے ایک ہی دن میں میرے عقیدے میں انقلابِ عظیم پیدا کر دیا۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ کتاب دیکھ رہا تھا۔ نیند کا غلبہ ہو گیا۔ اور سو گیا۔ خواب میں جناب امام حسینؓ کی زیارت ہوئی کہ ایک بلند مقام پر استادہ ہیں اور ایک صاحب سے فرما رہے ہیں کہ مرزا صاحب کو جا کر خبر کردو کہ مَیں آ گیا ہوں۔ صبح اُٹھ کر مَیں نے قادیان کا تہیّہ کر لیا اور لاہور سے حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسٰے کے ساتھ قادیان آیا۔ رات بٹالہ میں گزاری۔ صبح جب دارالامان پہنچا تو مولوی سیّد عبداللطیف صاحب شہید سے مہمان خانہ میں ملاقات ہوئی۔ ان کا چہرہ دیکھتے ہی وہ رات کے خواب کی شبیہ آنکھوں میں آ گئی ۔ مگر اللہ رے غفلت! ایک خیال تھا کہ فوراً دل سے اُتر گیا۔ حضرت اقدس علیہ السلام ہنوز برآمد نہ ہوئے تھے۔ کہ مسجد مبارک میں جا کر حضور کی تشریف آوری کا انتظار کرنے لگا۔ اتنے میں حضرت حکیم الامت (یعنی حضرت مولوی نورالدین صاحب۔ خاکسار مؤلف) تشریف لے آئے۔ ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی۔ کہ دروازہ کُھلا اور آفتابِ رسالت بیت الشرف سے برآمد ہوا۔ خاکسار درود پڑھتا ہوا آگے ہوا۔ اور دست بوس حاصل کیا۔ دسترخوان بچھا اور حقائق و معارف کا دریا بہنے لگا۔ عصمت انبیاء کا مسئلہ حضور نے اس وضاحت سے حل فرمایا۔ کہ میرا دل وجد کرنے لگ گیا۔ یہ عجالہ اس کی تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بعض علماء کا مذہب ہے کہ انبیاء محفوظ ہوتے ہیں اور بعض کا خیال ہے کہ قبل از بعثت محفوظ ہوتے ہیں۔ اور بعد از بعثت معصُوم۔ اور بعض کے نزدیک صغائر سے محفوظ اور کبائر سے معصوم ہوتے ہیں اور بعض کے نزدیک محض تبلیغ وحی میں معصوم اور دیگر کبائر و صغائر میں محفوظ ہوتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی تقریر اس شرح و بسط کے ساتھ تھی۔ کہ جس کے اعادہ کے لئے وقت کی ضرورت ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اُسکی پوری تفصیل خاکسار شاید ادا بھی نہ کر سکے۔ تناولِ طعام کے بعد حضرت حرم سرائے میں تشریف لے گئے۔ مسجد سے اکثر اصحاب چلے گئے۔ اور ایک گھنٹہ کے بعد حضرت پھر برآمد ہوئے۔ اور مولوی عبدالکریم صاحب کو یاد فرمایا۔ مولوی صاحب کے حاضر ہونے کے بعد ارشاد فرمایا۔ اس وقت یہ شعر الہام ہوا ہے۔
’’ چو دَورِ خسروی آغاز کردند مُسلماں را مُسلماں باز کردند‘‘
خاکسار نے عرض کیا۔ دَورِ خُسروی ایک صدی کے بعد شروع ہو گا۔ جیسا کی حضرت عیسٰے علیہ السلام کے بعد قسطنطین اعظم کے عہد سے شروع ہوا تھا۔ حضرت نے فرمایا۔ نہیں جلد شروع ہو گا۔ پھر مَیں نے عرض کیا۔ مسلماں را مسلماں بازکردند کے معنے شاید یہ ہیں کہ غیر احمدیوں کو احمدی بنایا جائے گا۔ فرمایا اس کے معنے اَور ہیں ،وقت پر دیکھ لو گے۔
پھر جب ملکانہ میں مسلمانوں کے مرتد گروہ خلیفۂ ثانی کے عہد میں دوبارہ مسلمان ہوئے۔ تو یاد آگیا کہ مصرع الہامی کے معنے درحقیقت مسلمانوں کو جو ارتداد کی بلا میں مبتلاء ہو چکے ہیں۔ پھر مسلمان کرنے کے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ مَیں نے اس پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھ لیا۔
دوسرے روز مہمانخانہ میں خاکسار ایک نووارد مہمان سے ملا۔ اس کے پاس فارسی دُرّثمین کا مطالعہ کرنے کو بیٹھ گیا۔ کتاب کو کھولتے ہی اس شعر پر نگاہ جا اٹکی۔
کر بلائے است سیر ہر آنم صد حسین است درگریبانم
یہ شعر پڑھ کر سوچ رہا تھا۔ کہ مہمانخانہ کے دروازہ پر نظر پڑی۔ دیکھا کہ مولانا سیّد عبداللطیف صاحب تشریف لا رہے ہیں۔ مَیں اُٹھ کر ان سے ملاقات کرنے کو گیا۔ پھر جب سیّد صاحب مذکور کابل میں پہنچ کر شہید ہو گئے۔ تو اس شعر کے معنے خاکسار پر ظاہر ہوئے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ مولوی عبیداللہ بسمل جو ابھی چند دن ہوئے قریباً نوے سال کی عمر میں فوت ہوئے ہیں فارسی اور تاریخ کے نہایت کامل استاد تھے۔ حتٰی کہ مَیں نے مولوی محمد اسمٰعیل صاحب فاضل سے سُنا ہے کہ ان کے متعلق ایک دفعہ حضرت خلیفہ اوّلؓ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب فارسی کے اتنے بڑے عالم ہیں کہ مجھے رشک ہوتا کہ کاش مجھے یہ علم عربی میں حاصل ہوتا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی صاحب مرحوم شاعر بھی تھے اور بہت زندہ دل تھے۔ شروع شروع میں مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں مدرس بھی رہ چکے ہیں۔ چنانچہ مَیں بھی ان سے پڑھا ہوں۔ اُردو میں بھی نہایت ماہر تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے آمین۔ محررہ ۹/ اکتوبر ۱۹۳۸ئ۔
نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی صاحب کی خواب میں جو یہ ذکر ہے کہ خواب میں امام حسینؓ نے یہ کہا کہ مرزا صاحب سے کہدو کہ مَیں آگیا ہوں اس میں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ جو قریب کے زمانہ میں ہونے والی تھی۔ واللّٰہ اعلم۔
{632} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹرغلام احمد صاحب۔ آئی۔ ایم۔ ایس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔ کہ میرے والد شیخ نیاز محمد صاحب انسپکٹر پولیس سندھ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کے بعد اندر تشریف لے جا رہے تھے تو مَیں نے ایک کپڑا حضرت صاحب کو دیا۔ جو کہ حضرت ام المؤمنین کے لئے تھا۔ حضور نے میری طرف چنداں توجہ نہ کی اور نہ ہی نظر اُٹھا کر دیکھا کہ کس نے دیا ہے۔ اس کے بعد ایک دن میری والدہ صا حبہ نے مجھ سے ذکر کیا۔ کہ ایک دفعہ حضرت اُمّ المؤمنین نے ان سے فرمایا کہ ایک دن حضرت صاحب ہنستے ہوئے اندر تشریف لائے اور ایک کپڑا مجھے دے کر فرمایا۔ کہ معلوم ہے یہ کپڑا تمہیں کس نے دیا ہے؟ پھر فرمایا۔ یہ اسی کے بیٹے نے دیا ہے جس نے تمہارے ٹرنک لیکھرام کی تلاشی کے وقت توڑے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ شیخ نیاز محمد صاحب میاں محمد بخش کے لڑکے ہیں۔ جو حضرت صاحب کے زمانہ میں کئی سال تک بٹالہ میں تھا نہ دار رہے تھے۔ اور سخت مخالف تھے۔ حضرت صاحب کو اس خیال سے کس قدر رُوحانی سرور حاصل ہوا ہو گا۔ کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخالفین کی اولاد کو پکڑ پکڑ کر حضور کے قدموں میں گرا رہا ہے۔
{ 633} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور کو الہام ہوا۔ ’’ لَکَ خِطَابُ الْعِزَّۃِ ‘‘۔ ایک عزت کا خطاب۔ ایک عزت کا خطاب۔ اس کے ساتھ ایک بڑا نشان ہو گا۔‘‘ چنانچہ ان چاروں فقروں کو ایک کاغذ پر خوشخط لکھوا کر مسجد مبارک کی شمالی دیوار پر لگوا دیا گیا۔ جہاں یہ کاغذ مدّت تک لگا رہا۔ اسی طرح ایک دفعہ ایک الہام ’’ غَثَمَ غَثَمَ غَثَمَ لَہٗ دَفَعَ اِلَیْہِ مِنْ مَّالِہٖ دَفْعَۃً ‘‘ ہوا۔ تو اس کو بھی اسی طرح لگوایا تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا طریق تھا کہ بعض الہامات یا فقرات وغیرہ یاد دہانی یا دُعا یا یادگار کے لئے مسجد یا مکان کے کسی حصہ میں آویزاں کروا دیتے تھے۔
{ 634} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی سابق کلرک محکمہ ریلوے لاہور نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ ایک سفر میں لاہور اسٹیشن پر اُترے تو ایک مسجد میں جو ایک چبوترے کی شکل میں تھی۔ آرام کے لئے بیٹھ گئے یہ مسجد اس جگہ تھی جہاں اب پلیٹ فارم نمبر ۴ ہے۔ پنڈت لیکھرام وہاں آیا۔ اور اس نے حضرت صاحب کو جھک کر سلام کیا تو حضورنے اس سے منہ پھیر لیا۔ دوسری مرتبہ پھر اس نے اسی طرح کیا۔ پھر بھی آپ نے توجہ نہ فرمائی۔ اس پر بعض خدام نے عرض کیا کہ حضور! پنڈت لیکھرام سلام کے لئے حاضر ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفٰی ﷺ کو گالیاں دینے والے کا ہم سے کیا تعلق ہے؟ اسی طرح وہ سلام کا جواب حاصل کرنے میں ناکام چلا گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ اسی واقعہ کا ذکر بروایت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی روایت نمبر ۲۸۱ میں بھی ہو چکا ہے۔
{ 635} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم تاجر لاہور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت کی اور دعوت کا اہتمام خاکسار کے سپرد کیا۔ پلائو نرم پکا۔ غفلت باورچیوں کی تھی۔ شیخ صاحب کھانا کھلانے کے وقت عذرخواہی کرنے لگے کہ بھائی غلام حسین کی غفلت سے پلائو خراب ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ کہ گوشت۔ چاول۔ مصالحہ اور گھی سب کچھ اس میں ہے۔ اور مَیں گلے ہوئے چاولوں کو پسند کرتا ہوں۔ یہ آپ کی ذرّہ نوازی کی دلیل ہے۔ کہ غلطی پر بھی خوشی کا اظہار فرمایا۔ ممکن ہے کہ حضور دانے دار پلائو کو پسند فرماتے ہوں۔ لیکن خاکسار کو ملامت سے بچانے کے لئے ایسا فرمایاہو۔
{ 636} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے صبح کے قریب جگایا۔ اور فرمایا۔ کہ مجھے ایک خواب آیا ہے۔ مَیں نے پوچھا کیا خواب ہے۔ فرمایا۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف نمک چُنا ہوا ہے۔ مَیں نے تعبیر پوچھی۔ تو کتاب دیکھ کر فرمایا۔ کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ اس کے بعد مَیں چار دن یہاں رہا۔ میر ے سامنے ایک منی آرڈر آیا۔ جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا۔ مجھے اصل رقم یاد نہیں۔ جب مجھے خواب سُنائی۔ تو ملاوامل اور شرم پت کو بھی بلا کر سُنائی۔ جب منی آرڈر آیا۔ تو ملاوامل و شرم پت کو بلایا ۔ اور فرمایا۔ کہ لو بھئی یہ منی آرڈر آیا ہے۔ جا کر ڈاکخانہ سے لے آئو۔ ہم نے دیکھا تو منی آرڈر بھیجنے والے کا پتہ اس پر درج نہیں تھا۔ حضرت صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا کہ کس نے بھیجا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ آجکل کے قواعد کے رُو سے رقم ارسال کنندہ کو اپنا پتہ درج کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ممکن ہے اس زمانہ میں یہ قاعدہ نہ ہو۔ یا مرزا دین محمد صاحب کو پتہ نہ لگا ہو۔
{ 637} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مَیں اپنے گائوں سیکھواں سے قادیان آیا۔ حضور علیہ السَّلام کی عادت تھی کہ گرم موسم میں عموماً شام کے وقت مسجد مبارک کے شاہ نشین پر تشریف فرما ہوتے اور حضور کے اصحاب بھی حاضر رہتے۔ اس روز عشاء کی نماز کے بعد آپ شاہ نشین پر تشریف فرما ہوئے۔ میر ناصر نوابؓ صاحب نے قادیان کے بعض گھمار طبقہ کی بیعت کا ذکر کیا۔ اور کہا کہ یہ لوگ حضرت صاحب سے کوئی خاص تعلق پیدا نہیں کرتے مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے میر صاحب موصوف کے کلام کے جواب میں کہا۔ کہ دیہاتی لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ اسی اثنا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ ہو گئی۔ تو آپ نے فرمایا۔ کہ کیا بات ہے مولوی صاحب نے میر صاحب اور ان کی گفتگو کا تذکرہ کر دیا۔ اس پر حضرت صاحب نے مولوی عبدالکریم صاحب کی تائید فرمائی اور فرمایا۔ کہ میر صاحب دیہات کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ مَیں اس وقت مجلس میں اپنی کمزوریوں کو یاد کر کے اور یہ خیال کر کے کہ مَیں بھی دیہاتی ہوں مغموم و محزون بیٹھا ہوا تھا۔ لیکن اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ میاں جمال الدین صاحب و میاں امام الدین و میاں خیرالدین تو ایسے نہیں ہیں۔ جب حضور نے ہم تین بھائیوں کو عام دیہاتیوں سے مستثنیٰ کر دیا تو میرے تمام ہموم دور ہو گئے۔ اور میرا دل خوشی سے بھر گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی اعراب لوگوں کا ایمان اسی طرح کا ہوتا تھا۔ مگر ان سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ جو نبی کی صحبت سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اور خدا کے فضل سے ہماری جماعت کے اکثر دیہاتی نہایت مخلص ہیں۔ دراصل ایمان کی پختگی کا مدار شہری یا دیہاتی ہونے پر نہیں بلکہ صحبت اور استفاضہ اور پھر علم و عرفان پرہے۔ لیکن چونکہ نبی سے دُور رہنے والے دیہاتیوں کو یہ موقعے کم میسر آتے ہیں۔ اس لئے وہ عموماً کمزور رہتے ہیں۔ بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن شریف میں جو اعراب کا لفظ آتا ہے۔ اس کے معنے دیہاتی کے نہیں ہیں۔ بلکہ اس سے مجلس نبوی سے دور رہنے والے بادیہ نشین لوگ مراد ہیں۔
{ 638} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی۔ ایسی کہ دم نہ آتا تھا۔ البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان مُنہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی۔ تاکہ آرام سے پڑھ سکیں۔
{ 639} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب مسواک بہت پسند فرماتے تھے۔ تازہ کیکر کی مسواک کیا کرتے تھے۔ گو التزاماً نہیں۔ وضو کے وقت صرف انگلی سے ہی مسواک کر لیا کرتے تھے۔ مسواک کئی دفعہ کہہ کر مجھ سے بھی منگائی ہے۔ اور دیگر خادموں سے بھی منگوا لیا کرتے تھے۔ اور بعض اوقات نماز اور وضو کے وقت کے علاوہ بھی استعمال کرتے تھے۔
{ 640} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ماہ رمضان کی ۲۷ تاریخ تھی۔ منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری بھی سیکھواں سے قادیان آئے ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح نماز فجر کے لئے تشریف لائے اور فرمایا۔ کہ آج شب گھر میں دردِ زہ کی تکلیف تھی (ہمشیرہ مبارکہ بیگم اسی شب میں پیدا ہوئی تھیں خاکسار مؤلف) دعا کرتے کرتے لیکھرام سامنے آ گیا۔ اس کے معاملہ میں بھی دعا کی گئی۔ اور فرمایا۔ کہ جو کام خدا کے منشاء میں جلد ہو جانے والا ہو۔ اس کے متعلق دُعا میں یاد کرایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کے چوتھے روز لیکھرام مارا گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ۱۸۹۷ء مطابق ۱۳۱۴ھ کا واقعہ ہے۔ مبارکہ بیگم ۲۷؍رمضان ۱۳۱۴ھ کو پیدا ہوئی تھیں۔ جو غالباً ۲؍ مارچ ۱۸۹۷ء کی تاریخ تھی۔ اور لیکھرام عید کے دوسرے دن ۶؍مارچ بروز ہفتہ زخمی ہو کر ۶ اور ۷ کی درمیانی شب کو بعد نصف شب اس دُنیا سے رخصت ہوا تھا۔ مبارکہ بیگم کی ولادت کی دُعا کے وقت حضرت صاحب کے سامنے عالمِ توجہ میں لیکھرام کا آجانا اور حضرت صاحب کا اس کے معاملہ میں بھی دُعا کرنا اور پھر اس کا چار روز کے اندر اندر مارا جانا ایک عجیب تصّرف الٰہی ہے۔ جس کے تصوّر سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔
{ 641} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ روایت نمبر ۱۱ حصہ اوّل طبع دوم اور روایت نمر ۳۶۰ حصہ دوم میں ہمشیرہ مبارکہ بیگم کی پیدائش کے دن میں اختلاف ہے۔ یعنی مقدم الذکر روایت میں منگل سے بعد والی رات مذکور ہے اور مؤخر الذکر روایت میں منگل سے پہلی رات بیان کی گئی ہے اس کے متعلق مجھے مولانا محمد اسمٰعیل صاحب فاضل نے بتایا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ وہ منگل سے پہلی رات تھی۔ اور مولوی صاحب کی دلیل یہ ہے کہ حضرت صاحب نے تریاق القلوب میں لکھا ہے کہ مبارکہ بیگم ۲۷؍رمضان ۱۳۱۴ھ کو پیدا ہوئی تھیں۔ اور تفصیلی طور پر حساب کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال ۲۷؍رمضان کو منگل کا دن تھا۔ اور چونکہ قمری مہینوں میں رات دن سے پہلے شمار ہوتی ہے۔ اس لئے ثابت ہوا۔ کہ وہ منگل کے دن سے پہلی رات تھی۔ اور شمسی حساب کی رُو سے وہ یکم مارچ اور ۲؍مارچ ۱۸۹۷ء کی درمیانی رات بنتی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی بعض تحریرات سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ لیکھرام کے قتل کی اطلاع قادیان میں اسی دن آئی تھی جس دن مبارکہ بیگم کا عقیقہ تھا اور مندرجہ بالا حساب سے پیدائش کے بعد عقیقہ کا ساتواں دن پیر کا دن بنتا ہے جو ۸ ؍مارچ کا دن تھا۔ لیکن حضرت صاحب کے ایک اشتہار سے پتہ لگتا ہے کہ لیکھرام کے قتل کی اطلاع قادیان میں ۹؍مارچ کو آئی تھی۔ پس یا تو عقیقہ بجائے ساتویں دن کے آٹھویں دن ہوا ہو گا۔ اور یا ۹؍مارچ کی باقاعدہ اخباری اطلاع سے پہلے کوئی زبانی اطلاع ۸؍ مارچ کو آ گئی ہو گی۔ واللّٰہ اعلم۔
{ 642} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ مَیں قبل از دعویٰ بھی حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کر تا تھا۔ غالباً انہی ایام کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ مجھے ایک خواب آیا کہ حضرت صاحب ہماری سیکھواں کی مسجد میں تشریف لائے ہیں۔ میرے ذہن میں اس وقت یہ آیا کہ حضرت صاحب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان کیا کرتے ہیں کہ آپ بلند قامت تھے مگر حضرت صاحب تو خود بھی بلند قامت ہیں۔ اسی وقت میرا ذہن اس بات کی طرف منتقل ہو گیا کہ یہ رسُول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ مَیں نے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بیان کی۔ آپ نے فرمایا۔ کہ قسم کھا کر بیان کرو۔ چنانچہ میرے ایسا کرنے پر آپ ایک چھوٹی کاپی نکال لائے اور اُس میں یہ خواب اپنے قلم سے درج کی۔ اور فرمایا کہ اگر کوئی انسان فنافی الرسول ہو جائے تو درحقیقت وہ وہی بن جاتا ہے۔ اور فرمایا کہ ’’ ہمارا ارادہ ہے کہ ایسی خوابوں کو کتابی صُورت میں شائع کیا جائے‘‘۔
{ 643} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی فخرالدین صاحب پنشنر حال محلہ دارالفضل قادیان نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ غالباً ۱۸۹۸ء یا ۱۸۹۹ء کا واقعہ ہے۔ کہ پہلی دفعہ خاکسار قادیان آیا۔ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حضور انور کی زیارت کے لئے ہر وقت دل میں تڑپ رہتی تھی لیکن حضور کی مصروفیت دینی کی و جہ سے سوائے نمازوں یا صبح کی سیر کے موقعہ نہیں ملتا تھا۔ ایک دن صبح ۸۔۹ بجے کے درمیان چھوٹی مسجد (مسجدمبارک) میں بیٹھا تھا کہ ساتھ کے شمالی کمرہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز سُنائی دی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کسی مرد کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں۔مَیں نے دریچے کی دراڑوں سے دیکھا۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت اقدس ٹہل رہے ہیں۔ اور کوئی راج مکان کی مرمت یا سفیدی کر رہا ہے۔ باتوں باتوں میں آریوں کی مخالفت کا ذکر آ گیا اور قادیان کے آریوں کی ایذادہی کے ضمن میں آپ نے اس مستری کو مخاطب کرکے فرمایا۔ ہمارا دل چاہتا ہے کہ جہاں ان لوگوں کی مڑھیاں ہیں وہاں گائیوں کے ذبح کرنے کے لئے مذبح بنایا جائے۔ بس یہ فقرہ تھا جو مَیں نے سُنا۔اور آج حضور کی اس بات کو پورا ہوتے دیکھتا ہوں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے معجزہ کے طور پر مذبح اسی جگہ کے قریب بنایا۔ جہاں ہندوئوں کی مڑھیاں ہوا کرتی تھیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بالعموم حضرت مسیح موعود علیہ السلام جملہ غیر مذاہب کے لوگوں کی بہت دلداری فرماتے تھے اور ان کی دل شکنی سے پرہیز فرماتے تھے۔ لیکن جب قادیان کے غیر مسلموں کی ایذارسانی حد سے گذر گئی تو پھر آپ نے کسی علیحدگی کے وقت میں ایمانی غیرت میں یہ الفاظ کہہ دئیے ہوں گے۔ جو خدا نے پورے کر دئیے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن مڑھیوں کا اس روایت میں ذکر ہے وہ اب چند سال سے دوسری جگہ منتقل ہو گئی ہیں۔ مگر یہ جگہ بدستور مڑہیوں کی یاد میں محفوظ ہے۔ اور اب آ کر اسی کے قریب مذبح بنا ہے۔
{ 644} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی امام الدین صاحب آف گولیکی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ خاکسار کا لڑکا قاضی محمدظہور الدین اکمل ایام تعلیم انٹرنس میں گجرات کے ہائی سکول میں پڑھتا تھا۔ وہ سخت بیمار ہو گیا۔ چنانچہ آئندہ ترقی نہ کر سکا۔ ہر چند علاج معالجہ کے علاوہ فقراء سے دعائیں کروائیں۔ مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔ آخر ایک ماہر طبیب نے میری والدہ مرحومہ اور مجھے الگ بلا کر کہہ دیا کہ آپ اس لڑکے کی ادویہ پر کچھ زیادہ خرچ نہ کریں۔ کیونکہ اب تپِ دق دوسرے درجہ میں ہے جو کہ جلد ہی تیسرے درجہ تک پہنچ کر بالکل مایوس کردیگا۔ اب صبر کریں۔ ادھر عالموں اور مشائخوں نے بھی ناامید کر دیا۔ اور صبر ہی کو کہا۔ اگرچہ مَیں ان دنوں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مرید ہو گیا تھا۔ مگر کچھ شکوک تھے اور کچھ موانع دنیوی تھے آخر مَیں مولوی غلام رسول صاحب راجیکی کے ہمراہ جو ان ایام میں میرے پاس پڑھتے تھے۔ قادیان دارالامان میں آیا اور ہم نے مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کھانا کھایا۔ اسی اثناء میں مَیں نے حضور سے عرض کر دی۔ کہ حضور میرا لڑکا بعارضہ تپِ دق بیمار ہے اور اطبّا نے مایوس کر دیا ہے اور مَیں نے یہ بات سُنی ہوئی ہے۔ کہ ’’سُؤْرُ الْمُؤْمِنِ شَفَائٌ ‘‘ یعنی مومن سے بچا ہوا کھانا شفا ہوتا ہے۔ اس لئے آپ کے پس خوردہ کا سائل ہوں۔ حضور نے تناول فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ اٹھا لو۔ یہ الفاظ سُنتے ہی مولوی غلام رسول صاحب نے فوراً دسترخوان سے حضرت اقدس کا پس خوردہ اٹھا لیا اور روٹی کے بھورے بنا کر محفوظ کر لئے۔ اور گولیکی جا کر آہستہ آہستہ برخوردار کو کھلانے شروع کر دئیے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اُسے شفا دے دی۔ یہ واقعہ تقریباً ۱۸۹۸ء کا ہے۔
{ 645} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھے سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مسیح ؑ کے بے باپ پیدا ہونے کا ذکر تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے مسیحؑ کو بے باپ پیدا کیا تاکہ یہ ظاہر کرے کہ اب بنی اسرائیل میں ایک مرد بھی ایسا باقی نہیں رہا جس کے نطفہ سے ایک پیغمبر پیدا ہو سکے۔ اور اب اس قوم میں نبوّت کا خاتمہ ہے اور آئندہ بنی اسمٰعیل میں نبی پیدا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے اس نکتہ کو اپنی بعض کتابوں میں بھی بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ خدا نے بنی اسرائیل سے نبوّت کا انعام تدریجاً چھینا ہے۔ اوّل اوّل حضرت یحیٰی کو ایک بوڑھے اور مایوس شخص کے گھر خارق عادت طور پر پیدا کیا۔ جس سے یہ جتانا منظور تھا۔ کہ اب بنی اسرائیل سے نبوّت کا انعام نکلنے والا ہے اور وہ اپنے اعمال کی و جہ سے محروم ہو چکے ہیں۔ صرف خدا کے فضل نے سنبھال رکھا ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیحؑ کو ایک ایسی عورت کے بطن سے پیدا کیا۔ جسے کبھی کسی مرد نے نہیں چھوا تھا اور چونکہ نسل کا شمار پدری جانب سے ہوتا ہے اس لئے گویا بڑی حد تک بنی اسرائیل سے نبوت کو چھین لیا۔ اور آخر آنحضرت ﷺ کو پیدا کرکے نبوّت کو کلّی طور پر بنواسمٰعیل کی طرف منتقل کر لیا گیا۔
{ 646} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ عربی خطبہ الہامیہ جو آپ نے بقرعید کے موقعہ پر بیان فرمایا تھا۔ وہ خطبہ الہامیہ کتاب کا صرف باب اوّل ہی ہے۔ باقی کتاب الہامی خطبہ نہیں ہے۔ اس خطبہ کے بعد آپ نے ایک دفعہ فرمایا کہ بعض لوگ اسے حفظ کر لیں۔ اس پر خاکسار اور مولوی محمد علی صاحب نے اسے حفظ کر لیا تھا۔ حضور فرماتے تھے کہ ہم کسی دن مسجد کی مجلس میں سُنیں گے مگر اس کے سُننے کا موقعہ نہ ہوا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ خطبہ الہامیہ ۱۹۰۰ء کی عید اضحٰی کے موقعہ پر ہوا تھا اور اصل الہامی خطبہ مطبوعہ کتاب کے ابتدائی ۳۸ صفحات میں آ گیا ہے۔ اگلا حصہ عام تصنیف ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ خطبہ الہامیہ سے یہ مراد نہیں کہ اس خطبہ کا لفظ لفظ الہام ہوا۔ بلکہ یہ کہ وہ خدا کی خاص نصرت کے ماتحت پڑھا گیا اور بعض بعض الفاظ الہام بھی ہوئے۔
{ 647} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جہلم کے سفر میں خاکسار حضرت صاحب کے ہمراہ تھا۔ راستہ میں اسٹیشنوں پر لوگ اس کثرت سے حضرت صاحب کو دیکھنے کے لئے آتے تھے۔ کہ ہم سب تعجب کرتے تھے کہ ان لوگوں کو کس نے اطلاع دے دی ہے۔ بعض نہایت معمولی اسٹیشنوں پر بھی جو بالکل جنگل میں واقع تھے بہت کثرت سے لوگ پہنچ گئے تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی خاص کشش ان کو کھینچ کر لائی ہے۔ جہلم پہنچ کر تو حد ہی ہو گئی۔ جہاں تک نظر جاتی تھی آدمی ہی آدمی نظر آتے تھے۔ لوگوں کے لئے حضرت صاحب کو دیکھنے کے واسطے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ حضرت کو ایک مکان کی چھت پر بٹھا دیا گیا ورنہ اور کوئی طریق اس وقت اختیار کرنا بو جہ اژدہام کے ناممکن تھا۔ اس سفر میں سیّد عبداللطیف صاحب شہید بھی حضرت کے ہمراہ تھے۔ احاطہ کچہری میں مجھ سے حضور باتیں کر رہے تھے کہ عجب خان صاحب تحصیلدار نے فرطِ محبت سے حضور کی خدمت میں ہاتھ دینے کے لئے عرض کی۔ حضور نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ عجب خان صاحب نے حضور کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔ یہ سفر جہلم کرم دین جہلمی کے مقدمہ میں پیش آیا تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ عجب خان صاحب تحصیلدار زیدہ ضلع پشاور کے رہنے والے تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں۔ افسوس کہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کے بعد وہ خلافت سے منحرف ہو کر غیر مبایعین کے گروہ میں شامل ہو گئے تھے۔
{ 648} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جھاڑی بوٹی کے بیر (کوکن بیر) حضرت جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآئِ کی خدمت میں خاکسار نے تُحفۃً پیش کئے۔ اس کے کچھ وقت بعد حضور تھوڑی دیر کے لئے لیٹے تو دائیں جانب شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم پائوں دبا رہے تھے اور بائیں طرف خاکسار تھا۔ خاکسار کا ہاتھ اتفاقاً حضور کی جیب سے چُھو گیا۔ تو فرمایا۔ یہ وہی بیر ہیں جو آپ میرے لئے لائے تھے۔ مَیں ان کو بہت پسند کرتا ہوں۔ جب حضرت اقدس اندر تشریف لے گئے۔ تو شیخ صاحب نے فرمایا۔ بھئی تم بڑے خوش نصیب ہو۔ کہیں سے مانگ کر ایک دھیلے کے بیر لائے ہو اور حضرت اقدس سے پروانہ خوشنودی حاصل کر لیا۔ مَیں تو سات روپیہ کے انگور لایا تھا۔ اس کا ذکر ہی نہیں ہوا۔ مَیں نے عرض کی کہ آپ کو مطبوعہ سرٹیفیکیٹ ازالہ اوہام اور انجامِ آتھم میں مِل چکا ہے اور خاکسار کو زبانی سرٹیفیکیٹ مل گیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ ہدیہ کی قبولیّت اور اس پر خوشنودی کسی کے بس کی بات نہیں ۔یہ دینے والے کی نیت اور اخلاص پرمبنی ہے۔ جس میں ہدیہ کی قیمت کا کوئی دخل نہیں۔ ویسے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم حضرت صاحب کے لئے بہت کثرت سے ہدیے لاتے تھے۔ اور حضرت صاحب ان پر خوش تھے۔
{ 649} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مفتی فضل الرحمن صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ دورانِ مقدمہ گورداسپور میں رات کے دو بجے کے قریب مَیں اپنے کمرہ میں سویا ہوا تھا کہ کسی نے میرا پائوں دبایا۔ مَیں فوراً جاگ اُٹھا۔ اندھیرا تھا۔ مَیں نے پوچھاکون ہے؟ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ میاں فضل الرحمن! مولوی یار محمد صاحب ابھی قادیان سے آئے ہیں۔ وہ بتلاتے ہیں۔ کہ والدہ محمود احمد بہت بیمار ہیں۔ مَیں خط لکھتا ہوں۔ آپ جلدی گھوڑا تیار کریں اور ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا جواب لائیں۔ چنانچہ مَیں نے اُٹھ کر کپڑے پہنے۔ اور گھوڑے کو دانہ دیا۔ اور حضور علیہ السَّلام اپنے کمرہ میں خط لکھتے رہے۔ جب مَیں گھوڑا تیار کر چکا۔ تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے صبح کی اذان کہی۔ اور مَیں خط لیکر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ اور فوراً قادیان پہنچا۔ یہاں اس وقت چھوٹی مسجد میں نمازِ صبح پڑھی جا رہی تھی۔ مَیں نے گھر پر فوراً دستک دی اور لفافہ ام المؤمنین علیہا السلام کے ہاتھ میں دیا اور عرض کیا کہ مولوی یار محمد صاحب نے وہاں جا کر آپ کی علالت کا ذکر کیا تو حضور نے مجھے فوراً روانہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ الحمدللہ مَیں تو اچھی بھلی ہوں۔ ان کو کوئی غلطی لگی ہو گی۔ مَیں نے عرض کیا کہ لفافہ میں سے خط آپ نکال لیں اور لفافہ پر مجھے اپنے قلم سے خیریت لکھ دیں۔ چنانچہ آپ نے خیریت لکھدی۔ اور مَیں لیکر فوراً واپس ہوا۔ جب میں گورداسپور پہنچا۔ تو گھوڑا باندھ کر خط لیکر اندر گیا۔ تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے فرضوں سے سلام پھیرا تھا۔ مَیں نے السَّلام علیکم کہا۔ تو حضور اقدس نے فرمایا۔ کہ کیا آپ ابھی یہیں ہیں مَیں نے عرض کیا۔ کہ حضور مَیں تو جواب بھی لے آیا ہوں۔ فرمایا۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ مَیں نے رسید پیش کی۔ تو حضرت اقدس اس امر پر تمام دن ہنستے اور متعجب ہوتے رہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ جو واقعات پُرانی کتابوں میں جنّات کے متعلق پڑھتے تھے۔ یہ واقعہ اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے۔ کہ صبح کی اذان کے وقت مفتی صاحب گورداسپور سے چلے اور سولہ سترہ میل کے فاصلہ پر قادیان پہنچے اور پھر اس قدر فاصلہ دوبارہ طے کرکے واپس گورداسپور پہنچ گئے اور ہنوزابھی صبح کی نماز ختم ہی ہوئی تھی۔ یہ درست ہے کہ مفتی صاحب نے جوانی کے عالم میں گھوڑے کو خوب بھگایا ہو گا۔ اور وہ ماشاء اللہ خوب شاہسوار ہیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اذان اور نماز میں اس دن غیر معمولی توقف ہو گیا ہو۔ یا اذان غلطی سے کسی قدر قبل از وقت دیدی گئی ہو۔ یا مفتی صاحب ختم نماز سے تھوڑی دیر بعد پہنچے ہوں۔ مگر انہوں نے سمجھ لیا ہو کہ بس ابھی نماز ختم ہوئی ہے وغیرذالک۔ مگر پھر بھی تینتیس چونتیس میل کے سفر کا اذان اور ختم نماز کے درمیان یا اس کے جلد بعد طے ہو جانا بظاہر نہایت تعّجب انگیز ہے۔ واللّٰہ اعلم۔ تاہم کوئی بات تعجب انگیز ہوئی ضرور ہے۔ کیونکہ مفتی صاحب یہ واقعہ متعدد دفعہ سُنا چکے ہیں۔ چنانچہ ایک دفعہ میرے سامنے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اللہ کو بھی سُنایا تھا۔ اور حضرت امیرالمؤمنین حیرت کا اظہار کرکے خاموش ہو گئے تھے اور خود مفتی صاحب بھی بہت تعّجب کیا کرتے ہیں کہ ایسا کیونکر ہو گیا مگر کہا کرتے ہیں کہ واقعہ یہی ہے۔ اگر کسی قدر اندازے کی غلطی اور کسی قدر یاد کی غلطی اور کسی قدر بیان کی بے احتیاطی کی بھی گنجائش رکھی جائے۔ تو پھر بھی یہ واقعہ بہت تعّجب کے قابل ہے۔
{ 650} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بیان کیا۔ ایک دفعہ ایام جلسہ میں سیرسے واپسی پر جہاں اب مدرسہ تعلیم الاسلام ہے۔ حضور علیہ السلام تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر گئے۔ ایک دوست نے چادر بچھا دی جس کو پنجابی میں لوئی کہتے ہیں ۔ اس پر حضور علیہ السلام بیٹھ گئے۔ مگر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو ابھی بچہ تھے کھڑے رہے اس پر حضور علیہ السلام نے دیکھ کر فرمایا: میاں محمود ! تم بھی بیٹھ جائو۔ اس پر آپ چادر پر بیٹھ گئے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا عام طریق یہ تھا کہ یا تو اپنے بچوں کو صرف نام لے کر بلاتے تھے اور یا خالی میاں کا لفظ کہتے تھے۔ میاں کے لفظ اور نام کو ملا کر بولنا مجھے یاد نہیں مگر ممکن ہے کسی موقعہ پر ایسا بھی کہا ہو۔
{ 651} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اوّل ؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ فلاں غیر احمد ی مولوی حضرت صاحبزادہ صاحب (یعنی حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کے مضامین رسالہ تشحیذ الاذہان میں پڑھ کر لکھتا ہے کہ مرزا صاحب کے بعد ان کا بیٹا ان کی دکان چلائے گا۔ حضور علیہ السلام نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف نظر اٹھا کر صرف دیکھا اور زبانی کچھ نہ فرمایا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دعا فرما رہے ہیں۔
{ 652} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاجاموں میں مَیں نے اکثر ریشمی ازار بند پڑا ہوا دیکھا ہے اور ازار بند میں کنجیوں کا گچھا بندھا ہوتا تھا۔ ریشمی ازار بند کے متعلق بعض اوقات فرماتے تھے کہ ہمیں پیشاب کثرت سے اور جلدی جلدی آتا ہے تو ایسے ازار بند کے کھولنے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔
{ 653} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا ایک دفعہ حکیم فضل دین صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور مجھے قرآن پڑھایا کریں آپ نے فرمایا اچھا وہ چاشت کے قریب مسجد مبارک میں آجاتے اور حضرت صاحب ان کو قرآن مجید کا ترجمہ تھوڑا سا پڑھا دیاکرتے تھے یہ سلسلہ چند روز ہی جاری رہا پھر بند ہو گیا۔ عام درس نہ تھا صرف سادہ ترجمہ پڑھاتے تھے۔ یہ ابتدائی زمانہ مسیحیت کا واقعہ ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسی طریق پر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میاں عبداللہ صاحب سنوری کو بھی کچھ حصہ قرآن شریف کا پڑھایا تھا۔
{ 654} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نماز نہ پڑھا سکے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ بھی موجود نہ تھے۔ تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ مَیں نماز کس طرح سے پڑھائوں؟ حضور نے فرمایا حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا۔ ہاں حضور۔ فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی۔ آپ پڑھائیے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو، نواقض وضو میں نہیں سمجھا جاتا۔
{ 655} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سل دق کے مریض کے لئے ایک گولی بنائی تھی۔ اس میں کونین اور کافور کے علاوہ افیون۔ بھنگ اور دھتورہ وغیرہ زہریلی ادویہ بھی داخل کی تھیں اور فرمایا کرتے تھے کہ دوا کے طور پر علاج کے لئے اور جان بچانے کے لئے ممنوع چیز بھی جائز ہو جاتی ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ شراب کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ تھا۔ کہ ڈاکٹر یا طبیب اگر دوائی کے طور پر دے تو جائز ہے۔ مگر باوجود اس کے آپ نے اپنے پڑدادا مرزا گل محمد صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں ان کی مرض الموت میں کسی طبیب نے شراب بتائی۔ مگر انہوں نے انکار کیا اور حضرت صاحب نے اس موقعہ پر ان کی تعریف کی ہے کہ انہوں نے موت کو شراب پر ترجیح دی۔ اس سے معلوم ہوا۔ کہ فتویٰ اور ہے اور تقویٰ اور۔
{ 656} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب ایک دفعہ سالانہ جلسہ پر تقریر کرکے جب واپس گھر تشریف لائے۔ تو حضرت میاں صاحب سے (خلیفۃ المسیح الثانی ایدہُ اللہ تعالٰی) جن کی عمر اس وقت ۱۰۔۱۲سال کی ہوگی۔ پوچھا کہ میاں یاد بھی ہے کہ آج میں نے کیا تقریر کی تھی۔ میاں صاحب نے اس تقریر کو اپنی سمجھ اور حافظہ کے موافق دہرایا۔ تو حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے خوب یاد رکھا ہے۔
{ 657} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ایام جلسہ میں حضور علیہ السلام سیر کے لئے تشریف لے گئے۔ ایک شخص نے آیت شریفہ اَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنَاہُ (الانعام:۱۲۳) الخ کا مطلب حضور علیہ السلام سے دریافت کیا۔ مرزا یعقوب بیگ صاحب بھی اس وقت پاس موجود تھے۔ انہوں نے اس شخص سے کہا کہ حضرت مولوی صاحب (خلیفہ اولؓ) سے اس آیت کا مطلب پوچھ لینا۔ اس نے ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کرکے کہا۔ کہ مَیں تو صرف حضرت صاحب کا ہی مرید ہوں اور کسی کا نہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے تبسّم فرما کر فرمایا کہ ہر شخص کا مذاق علیحدہ ہوتا ہے۔ اور پھر اس آیت شریفہ کے معنے بیان فرمائے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم نے اپنی طرف سے یہ خیال کرکے اس شخص کو روکا ہو گا۔ کہ ایسی معمولی بات کے لئے حضرت صاحب کو تکلیف نہیں دینی چاہئیے۔ مگر حضرت صاحب نے اس کی دلداری کے لئے اس کی طرف توجہ فرمائی۔ اور ویسے بھی جبکہ ایک قرآنی آیت کے معنی کا سوال تھا تو آپ نے مناسب خیال فرمایا کہ خود اس کی تشریح فرماویں۔ ویسے عام فقہی مسائل میں حضرت صاحب کا یہی طریق ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص کوئی مسئلہ پوچھتا تھا تو آپ فرما دیتے تھے کہ مولوی صاحب سے پوچھ لیں یا مولوی صاحب پاس ہوتے تو خود انہیں فرما دیتے کہ مولوی صاحب یہ مسئلہ کیسے ہے نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ جو لوگ خلافتِ ثانیہ کے موقعہ پر ٹھوکر کھا گئے۔ ان میں میرے خیال میں دو شخص ایسے تھے کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ سے بہت محبت تھی اور آپ بھی ان سے محبت فرماتے تھے۔ ایک مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم اور دوسرے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم۔ مگر افسوس کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر انہیں ٹھوکر لگ گئی۔
{ 658} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا ایک دفعہ خاکسار نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی۔ کہ عبداللہ چکڑالوی مجھے کہتا تھا۔ کہ آیت کُلُّ شَیْ ئٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ (القصص:۸۹) سے ثابت ہے کہ رُوحیں فنا ہو جاتی ہیں اور کہیں آتی جاتی نہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ اس کے معنے تو یہ ہیں۔ کہ ہر شے معرضِ ہلاکت اور فنا میں ہے سوائے خدا کی توجہ اور حفاظت کے یعنی کُلُّ شَیْ ئٍ ھَالِکٌ اِلَّا بِوَجْھِہٖ۔ پھر فرمایا۔اگر رُوحوں کو بقا ہے تو وہ بھی خدا کی موھبت ہے اور اگر ایک آن کے لئے کسی وقت ان پر فنا آ جائے تو بھی کوئی حرج نہیں۔
{ 659} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے بیان کیا کہ مَیں ۱۸۹۰ء کے قریب موضع جگت پور کولیاں تحصیل گورداسپور میں پٹواری تھا۔۹۱ء میں کوشش کرکے مَیں نے اپنی تبدیلی موضع سیکھواں تحصیل گورداسپور میں کروالی۔ اس وقت مَیں احمدی نہیں تھا۔ لیکن حضرت صاحب کا ذکر سُنا ہوا تھا۔ مخالفت تو نہیں تھی۔ لیکن زیادہ تر یہ خیال روک ہوتا تھا کہ علماء سب حضرت صاحب کے مخالف ہیں۔ سیکھواں جا کر میری واقفیت میاں جمال الدین و امام الدین و خیرالدین صاحبان سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے حضرت صاحب کی کتاب ازالہ اوہام پڑھنے کے لئے دی۔ مَیں نے دعا کرنے کے بعد کتاب پڑھنی شروع کی۔ اس کے پڑھتے پڑھتے میرے دل میں حضرت صاحب کی صداقت میخ کی طرح گڑ گئی اور سب شکوک رفع ہو گئے۔ اس کے چند روز بعد مَیں میاں خیر الدین کے ساتھ قادیان گیا تو گول کمرے کے قریب پہلی دفعہ حضرت صاحب کی زیارت کی۔ حضرت صاحب کو دیکھ کر مَیںنے میاں خیر دین صاحب کو کہا کہ یہ شکل جھوٹوں والی نہیں ہے۔ چنانچہ مَیں نے بیعت کر لی۔ بیعت کرنے کے بعد کثرت سے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ اور شاذو نادر ہی کبھی کوئی دن گذرتا تھا کہ مَیں مع میاں جمال الدین وغیرہ قادیان نہ آتا۔ ورنہ ہر روز قادیان آنا ہمارا معمول تھا۔ اگر کبھی عشاء کے وقت بھی قادیان آنے کا خیال آتا تو اسی وقت ہم چاروں چل پڑتے اور باوجود سردیوں کے موسم کے نہر میں سے گزر کر قادیان پہنچ جاتے۔ اگر ہم میں سے کوئی کسی روز کسی مجبوری کی وجہ سے قادیان نہ پہنچ سکتا۔ تو باقی پہنچ جاتے۔ اور واپس جا کر غیر حاضر کو سب باتیں سُنا دیتے۔ مَیں حضرت صاحب کے قریباً سب سفروں میں حضرت کے ہمراہ رہا ہوں۔ مثلاً جہلم۔ سیالکوٹ۔ لاہور۔ گورداسپُور۔ پٹھانکوٹ وغیرہ ،چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ میرے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ معلوم نہیں میاں عبدالعزیز ملازمت کا کام کس وقت کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمیشہ قادیان میں ہی نظر آتے ہیں۔
{ 660} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کرم دین کے مقدمہ میں گورداسپور تشریف لائے ہوئے تھے اور احاطہ کچہری میں جامن کے درختوں کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ شیخ علی احمد صاحب وکیل و مولوی محمد حسین صاحب ریڈر اور ایک اور شخص جس کا نام مجھے یاد نہیں۔ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ آپ اس مقدمہ میں راضی نامہ کر لیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ میری طرف سے راضی نامہ کیا معنی رکھتا ہے۔ یہ تو کرم دین کا کام ہے جس نے دعویٰ کیا ہوا ہے۔ ان لوگوں کے بار بار کہنے کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔ کہ مَیں تو جو کچھ کر رہا ہوں۔ خدا کے فرمانے کے مطابق کر رہا ہوں ۔ اور خدا مجھ سے اسی طرح باتیں کرتا ہے جس طرح کہ اس وقت مَیں آپ سے باتیں کر رہا ہوں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء کا یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ وہ کسی لڑائی کی ابتداء اپنی طرف سے نہیں کرتے۔ لیکن جب دوسرے کی طرف سے ابتداء ہوتی ہے تو پھر وہ صلح کے لئے بھی اپنی طرف سے ابتداء نہیں کرتے۔ جب تک دوسرا فریق اس کے لئے خود نہ جُھکے۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم
{ 661} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمدابراہیم صاحب محلہ دارالفضل قادیان نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عید کا دن تھا۔ آدمیوں کی کثرت تھی۔ مَیں حضرت صاحب سے بہت دُور فاصلہ پر تھا۔ حضور لوگوں سے مصافحہ کر رہے تھے۔ مَیں نے بھی چاہا کہ حضور سے مصافحہ کروں مگر آدمیوں کی بھیڑ تھی۔ حضور نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔ کہ حافظ صاحب! یہیں ٹھہرو مَیں آتا ہوں۔ حضور میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے مصافحہ کیا۔ اور اکثر حضور علیہ السِّلام ،السِّلام علیکم پہلے کہا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ حافظ صاحب آنکھوں سے نابینا ہیں اور پُرانے اور مخلص صحابہ میں سے ہیں۔ ایک دفعہ مَیں نے انہیں دیکھا کہ وہ حضرت صاحب کو اس مکان کے راستے سے ملنے کے لئے گئے تھے۔ جس میں آج کل مَیں رہتا ہوں۔ اس وقت نہ معلوم کس مصلحت سے حضرت صاحب نے حافظ صاحب سے فارسی زبان میں گفتگو فرمائی تھی۔
{ 662} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمد ابراہیم صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ جب مَیں پہلی دفعہ ۱۹۰۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملا ہوں تو حضور سیر کو جارہے تھے۔ اس وقت آپ نے فرمایا۔ کہ مجھے آج الہام ہوا ہے۔ ’’حَرْبًا مُھَیَّجًا‘‘ ز جس کے معنے ہیں کہ لڑائی کے لئے تیاری کرو۔ حضور جب سیر سے واپس تشریف لائے اور بعد میں ظہر کی نماز کے لئے آئے۔ تو اس وقت آپ کے ہاتھ میں اشتہار تھا۔ آپ نے فرمایا۔ کہ یہ اشتہار ابھی آریوں کی طرف سے آیا ہے۔ جس میں بہت گالیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اور اس میں یہ بات بھی لکھی ہوئی تھی کہ اگر ہم سے مناظرہ و مباحثہ نہ کرو گے تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارا مذہب جھوٹا ہے۔ اور تمہارے پاس کوئی سچائی نہیں ہے۔ اکثر دفعہ ایسا ہوتا تھا۔ کہ حضور صبح کو کوئی الہام سُناتے تھے۔ اور معًا اس کا ظہور ہو جاتا تھا۔ مَیں جب سے حضور کے پاس آیا ہوں۔ کبھی حضور نے بارش کے لئے دُعا نہیں کی۔ بلکہ جب کبھی بارش کی ضرورت ہوتی تو آپ فرماتے اب تو سخت گرمی ہے اور بارش کی ضرورت ہے اسی دن چند گھنٹے بعد بارش ہونی شروع ہو جاتی۔ اور اس کے بعد اس موسم میں پھر کبھی گرمی کی نوبت نہ پہنچتی۔ ایک دو دن کا وقفہ کرکے پھر بارش ہو جایا کرتی۔
{ 663} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے صدقہ ناجائز خیال فرماتے تھے۔
{ 664} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السَّلام فرماتے تھے۔ کہ انبیاء کے لئے عصمت ہے۔ وہ ہمیشہ گناہ سے پاک ہوتے ہیں۔ مگر چونکہ وہ دوسرے لوگوں کے لئے نمونہ ہیں۔ تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور دوسرے لوگ بھی گناہوں سے پاک ہو سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے حفاظت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ انبیاء گناہ سے معصوم ہوتے ہیں۔ اور انبیاء کے سوا اور لوگ جو اتنی ترقی کر لیتے ہیں کہ گناہ کرنے سے بکلّی آزاد اور پاک ہو جاتے ہیں۔ ان کو محفوظ کہا جاتا ہے۔
{ 665} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان مُرتد بڑا خواب بین شخص تھا۔ اس کے دماغ کی بناوٹ ہی ایسی تھی۔ کہ ذرا اُونگھ آئی اور خواب آیا یا الہام ہوا۔ وہ یا تو ابتداء زمانہ طالب علمی میں قادیان آیا کرتا تھا۔ یا پھر ایک مدّتِ دراز کے بعد لمبی رخصت لے کر قادیان آیا اور یہاں وہ حضرت صاحب کو ہر روز مغرب و عشاء کے درمیان اپنی تفسیر سُنایا کرتا تھا اور داد چاہتا تھا۔ جو جو باتیں اور عقائد اور اعتراض عبد الحکیم خاں نے مرتد ہوتے وقت بیان کئے ہیں وہ سب آجکل غیر مبایعین میں موجود ہیں۔ دراصل ان لوگوں کو اس نے ہلاک کیا اور خود اس کو اس کی خواب بینی اور بلعمی صفات نے ہلاک کیا۔ چنانچہ ایک دفعہ اِن لوگوں نے یہ تجویز پیش کی۔ کہ ریویو میں حضرت صاحب کا اور احمدیّت کی خصوصیات کا ذکر نہ ہو بلکہ عام اسلامی مضامین ہوں تاکہ اشاعت زیادہ ہو۔ اخبار وطن میں بھی یہ تحریک چھپی تھی۔ جس پر حضرت صاحب نے نہایت ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور فرمایا تھا کہ ہمیں چھوڑ کر کیا آپ مُردہ اسلام کو پیش کریں گے؟ عبدالحکیم خاں نے حضور کو لکھا تھا۔ کہ آپ کا وجود خادمِ اسلام ہے نہ کہ عین اسلام۔ مگر حضرت صاحب کے اس فقرہ نے اس کی تردید کر دی کہ دراصل آپ کا وجود ہی روح اسلام ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ مسئلہ بہت باریک ہے کہ کسی مذہب میں اس مذہب کے لانے والے کے وجود کو کس حد تک اور کس رنگ میں داخل سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر بہرحال یہ ایک مسلّم صداقت ہے کہ نبی کے وجود سے مذہب کو جُدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دونوں باہم اس طرح پروئے ہوئے ہوتے ہیں جس طرح ایک کپڑے کا تانا اور بانا ہوتا ہے جن کے علیحدہ کرنے سے کپڑے کی تار پود بکھر جاتی ہے۔ بے شک بعض خام طبع موحّدین اسے شرک قرار دے سکتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال خود شرک میں داخل ہے کہ ایک خدائی فعل کے مقابلہ میں اپنے خیال کو مقدم کیا جائے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوابوں کا مسئلہ بھی بڑا نازک ہے۔ کئی خوابیں انسان کی دماغی بناوٹ کا نتیجہ ہوتی ہیں اور اکثر لوگ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔
{ 666} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں اس عاجز نے نمازوں میں اور خصوصاً سجدوں میں لوگوں کو آجکل کی نسبت بہت زیادہ روتے سُنا ہے۔ رونے کی آوازیں مسجد کے ہر گوشہ سے سُنائی دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے اپنی جماعت کے اس رونے کا فخر کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ جس نماز سے پہلے حضرت صاحب کی کوئی خاص تقریر اور نصیحت ہو جاتی تھی۔ اس نماز میں تو مسجد میں گویا ایک کُہرام برپا ہو جاتا تھا۔ یہاں تک کہ سنگدل سے سنگدل آدمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے تھے۔ ایک جگہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ دن میں کم از کم ایک دفعہ تو انسان خدا کے حضور رولیا کرے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کے لئے خلوت میں بیٹھ کر نعماء الٰہی کو یاد کرنا اور انبیاء و اولیاء کے حالات اور ان کی قربانیوں کو آنکھوں کے سامنے لانا خوب نسخہ ہے۔
{ 667} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ مجھے حضور کے ساتھ ریل میں سفر کرنے کا اتفاق نصیب ہوا۔ جیسا کہ عام لوگ ریل میں سوار ہر کر باہر سے آنے والے مسافروں سے تُرش رُوئی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ اس وقت بھی بعض اصحاب نے یہ رویہ اختیار کیا۔ ان میں سے یہ ناچیز بھی تھا۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسافر کے لئے جگہ خالی کردی۔ اور مجھے یوں مخاطب کیا کہ اخلاق دکھانے کا یہی موقعہ ہے۔ اس پر مَیں بہت شرمسار ہوا۔ یہ آپ کے اخلاقِ فاضلہ میں سے ایک عام مثال ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ پنجابی میں ایک بڑی سچّی مثل ہے کہ ’’ یا راہ پیا جانے یا وا پیا جانے‘‘ یعنی کسی شخص کے اخلاق کی اصل حالت دو موقعوں پر ظاہر ہوتی ہے یا تو سفر میں جبکہ اکثر صورتوں میں انسان ننگا ہو جاتا ہے اور یا جب کسی شخص کے ساتھ معاملہ پڑے تو اس وقت انسان کی اغراض اُسے اصلی صورت میں ظاہر کر دیتی ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اصل اخلاق یہ ہیں کہ خرابی کی طرف کھینچنے والی طاقتیں موجود ہوں اور پھر انسان اچھے اخلاق پر قائم رہے مثلاً خیانت کے موقعے موجود ہوں اور پھر انسان دیانتدار رہے۔ ورنہ عام حالات میں تو ہر شخص دیانتدار نظر آتا ہے۔ ریل میں بھی یہی صورت پیش آتی ہے۔ کہ چونکہ جگہ کی تنگی ہوتی ہے۔ اس لئے لوگ اپنے آرام کی خاطر دوسرے مسافروں کے آنے پر بداخلاقی دکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہی اخلاق دکھانے کا موقعہ ہوتا ہے ورنہ کھلی جگہ کے ہوتے ہوئے دوسروں کی آئوبھگت کرنا کوئی اعلیٰ خُلق نہیں۔
{ 668} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمد ابراہیم صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام اپنے خاص کمرہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ کمرہ بھی چھوٹا تھا اور ہماری جماعت کے اکثر معزز لوگ حضور سے خاص مشورہ کے لئے آئے ہوئے تھے۔ مَیں بھی ملاقات کی غرض سے گیا۔ جگہ کی تنگی کی و جہ سے مَیں جوتے ایک طرف کرکے جگہ بنانے لگا۔ حضور نے مجھے دیکھا اور فرمایا کہ آپ آگے آ جائیے، جگہ میرے پاس موجود ہے۔ اگرچہ جگہ بہت تنگ تھی۔ مگر حضور کے الفاظ سُن کر لوگ خود پیچھے ہٹنے شروع ہو گئے اور حضور نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔
{ 669} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمد ابراہیم صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ جب میری پہلی بیوی فوت ہو گئی۔ تو مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دعا کے لئے عرض کیا۔ آپ نے فرمایا۔ مَیں دعا کروں گا۔ بعض دوستوں نے کہا۔ کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہئے کہ حضور آپ کے لئے رشتہ کا انتظام فرماویں۔مَیں نے جواب دیا کہ مَیں نے دعا کے لئے عرض کر دیا ہے۔ انشاء اللہ آسمان سے ہی انتظام ہو جائے گا۔ ابھی بیس دن گذرے تھے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے پاس گجرات کے ضلع سے ایک خط آیا۔ کہ حافظ صاحب سے دریافت کریں کہ اگر رشتہ کی ضرورت ہو تو ایک رشتہ موجود ہے۔ حضرت مولوی صاحب نے بغیر میرے پوچھنے کے اپنی طرف سے خط لکھدیا کہ ہم کو منظور ہے اور مجھے فرمانے لگے کہ آپ کی شادی کا انتظام ہو گیا ہے۔ مَیں نے پوچھا۔ حضور کہاں۔ فرمایا۔ آپ کو اس سے کیا؟ آخر وہ معاملہ جنابِ الٰہی نے نہایت خیروخوبی سے تکمیل کو پہنچایا اور ہمارے لئے نہایب بابرکت ثابت ہوا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے جو حافظ صاحب کی اطلاع کے بغیر از خود رشتہ طے کر لیا تو اس کی و جہ یہ تھی کہ آپ کو یقین تھا کہ حافظ صاحب کو آپ کا ہر فیصلہ منظور ہو گا۔ ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بالغ مرد کی رضا مندی کے بغیر بھی رشتہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک خاص تعلق کا اظہار تھا۔
{ 670} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک مرتبہ نماز استسقاء ہوئی تھی۔ یہ نماز اس بڑکے درخت کے نیچے ہوئی تھی جہاں گذشتہ سالوں میں جلسہ گاہ مستورات تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس بڑکے نیچے اور اس کے ساتھ والے میدان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کئی دفعہ عید بھی ہوئی تھی۔ اور جنازے بھی اکثر یہیں ہوا کرتے تھے۔ اس طرح یہ بڑ بھی گویا ہماری ایک ملّی یادگار ہے۔ یہ بڑ اس راستہ پر پُل کے قریب ہے جو قادیان کی پُرانی آبادی سے دارالانوار کی طرف کو جاتا ہے۔
{ 671} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ لدھیانہ میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سے کہا کہ آپ اسلام پر ایک پبلک لیکچر دیں۔ چنانچہ مولوی صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ مَیں نے اپنے اس زمانہ کے علم کے مطابق بڑے زور شور سے لیکچر دیا اور حضرت صاحب بھی اس میں شریک ہوئے۔ مولوی صاحب فرماتے تھے۔ کہ اس وقت تک مَیں نے ابھی بیعت نہ کی تھی۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے حضرت صاحب سے قدیم تعلقات تھے جو غالباً حضرت خلیفہ اولؓ کے واسطہ سے قائم ہوئے تھے۔ مگر مولوی صاحب موصوف نے بیعت کچھ عرصہ بعد کی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب جماعت کے بہترین مقررین میں سے تھے۔ اور آواز کی غیر معمولی بلندی اور خوش الحانی کے علاوہ ان کی زبان میں غیر معمولی فصاحت اور طاقت تھی جو سامعین کو مسحور کر لیتی تھی۔
{ 672} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج نہیں کیا۔ اعتکاف نہیں کیا۔ زکوٰۃ نہیں دی تسبیح نہیں رکھی۔ میرے سامنے ضَبْ یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔ صدقہ نہیں کھایا۔ زکوٰۃ نہیں کھائی۔ صرف نذرانہ اور ہدیہ قبول فرماتے تھے۔ پِیروں کی طرح مصلّٰی اور خرقہ نہیں رکھا۔ رائج الوقت درود و وظائف (مثلاً پنج سُورہ۔ دعائے گنج العرش۔ درود تاج۔ حزب البحر۔ دعائے سریانی وغیرہ) نہیں پڑھتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں تھا۔ کیونکہ ساری جائداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے ہاتھ میں تھی اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا۔ اور اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے ۔ دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی مخدوش تھا۔ تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی کہ حج کریں۔ چنانچہ حضرت والدہ صاحبہ نے آپ کے بعد آپ کی طرف سے حج بدل کروا دیا۔ اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل غالباً بیٹھے ہوں گے مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیت کے نہیں بیٹھ سکے۔ کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔ اور زکوٰۃ اس لئے نہیں دی کہ آپ کبھی صاحبِ نصاب نہیں ہوئے۔ البتہ حضرت والدہ صاحبہ زیور پر زکوٰۃ دیتی رہی ہیں اور تسبیح اور رسمی وظائف وغیرہ کے آپ قائل ہی نہیں تھے۔
{ 673} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں مائی اوپیا تھا۔ اسی و جہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔ مگر نزدیک سے آخر عمر تک باریک حروف بھی پڑھ لیتے تھے۔ اور عینک کی حاجت محسوس نہیں کی۔ اور وراثۃً آنکھوں کی یہ حالت حضرت صاحب کی تمام اولاد میں آئی ہے کہ دُور کی نظر کمزور ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد ہے کہ کبھی رمضان یا عید میں پہلی رات کا چاند دیکھنا ہوتا تھا تو آپ کسی دوست کی عینک منگا کر دیکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔
{ 674} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک روز حضرت صاحب مسجد مبارک کی چھت پر بیٹھے ہوئے کچھ گفتگو فرما رہے تھے۔ ان دنوں قادیان میں طاعون شروع تھا۔ بعض لوگوں نے جو قادیان کے گھمار وغیرہ تھے، آ کر بیعت کر لی۔ تو میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے کہا۔ ’’ اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّنِفَاقًا ‘‘ (التوبہ:۹۷) کہ اعرابی ایسے ویسے ہی ہوتے ہیں یعنی ان لوگوں کو کوئی سمجھ نہیں ہوتی۔ ڈر کے مارے یا دیکھا دیکھی بیعت کر لیتے ہیں اور دل میں ایمان نہیں ہوتا۔ حضرت صاحب نے میر صاحب کے جب یہ الفاظ سُنے۔ تو فرمایا۔ میر صاحب! سب لوگ یکساں نہیں ہوتے۔ جیسے مثلاً سیکھواں والے ہیں۔ اس طرح حضور نے ہم تینوں بھائیوں کو اس طبقہ سے مستثنیٰ کر دیا۔ جو ہماری انتہائی خوشی کا باعث ہوا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہی روایت میاں خیر دین صاحب کی زبانی نمبر ۶۳۷ کے ماتحت بھی گذر چکی ہے۔
{ 675} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام نے ایک دن فرمایا ۔کہ جس طرح بلّی کو چوہوں کے ساتھ ایک طبعی مناسبت ہے کہ جس وقت دیکھتی ہے حملہ کرتی ہے۔ اسی طرح مسیح کو دجال کے ساتھ طبعی نفرت ہے کہ جس وقت دیکھتا ہے حملہ کرتا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ کے دل میں اس زمانہ کی مادیت اور دہریت کے خلاف کس قدر جوش تھا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہاں بلّی چوہے کی مثال صرف ایک خاص رنگ کی کیفیت کے اظہار کے لئے بیان کی گئی ہے۔ ورنہ اصل امر سے اس مثال کو کوئی تعلق نہیں۔ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: ـ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَھَا (البقرۃ:۲۷)
{ 676} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔ اے جالندھری نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۹۱۔۱۸۹۰ء تھا جب مَیں پہلی مرتبہ قادیان حاضر ہوا۔ ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسالہ فتح اسلام کی پہلی کاپی کے پروف دیکھ رہے تھے۔ مَیں ابھی بچہ ہی تھا آپ نے میرے دائیں ہاتھ کی کلائی پکڑ کر میری بیعت قبول فرمائی اور الفاظِ بیعت بھی اس وقت بعد کے الفاظ سے مختلف تھے۔ جن میں سے ایک فقرہ یاد رہ گیا۔ کہ ’’ میں منہیّات سے بچتا رہوں گا‘‘۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ماسٹر صاحب موصوف سکھ سے مسلمان ہوئے ہیں۔ اور خدا کے فضل سے تبلیغ کے نہایت دلدادہ ہیں۔ ابھی گذشتہ ایام میں انہیں اس بات کے لئے جیل خانہ میں جانا پڑا کہ انہوں نے باوا نانکؒ صاحب کو مسلمان لکھا تھا۔ مگر انہوں نے اس تکلیف کو نہایت بشاشت اور خوشی سے برداشت کیا۔
{ 677} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔ اے نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۳ء کے قریب مَیں نے چند نو مسلموں کی طرف سے دستخط کروا کر ایک اشتہار شائع کیا۔جس کا عنوان ’’ قادیان اور آریہ سماج‘‘ تھا۔ اس اشتہار سے پنجاب میں شور پڑ گیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا۔ ’’ حَرْبًا مُّھَیَّجًا‘‘ ز یعنی جنگ کو جوش دیا گیا ہے۔اس پر قادیان کے آریوں نے بھی جلسہ کیا۔ اس کے جواب میں حضرت صاحب نے اپنی کتاب ’’ نسیم دعوت ‘‘ تالیف فرمائی۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کا ذکر روایت نمبر ۶۶۲ میں بھی ہو چکا ہے۔
{ 678} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال نے مجھ سے بیان کیا کہ جب بچپن میں قادیان میں میری آمد و رفت شروع ہوئی تو مَیں مرزا غلام مرتضیٰ صاحب اور مرزا غلام قادر صاحب کو تو خوب جانتا تھا اور ان سے ملتا تھا۔ مگر حضرت صاحب کو نہیں جانتا تھا کیونکہ وہ گوشہ نشین تھے۔ صرف مسجد میں نماز کے لئے جاتے تھے۔ وَاِلَّا کبھی نظر نہیں آتے تھے۔ کمرہ بند رکھ کر اس کے اندر رہتے تھے۔ مَیں نے پہلی دفعہ حضرت صاحب کو اس وقت دیکھا۔ جب مَیں ایک دفعہ گھر سے دادا صاحب یعنی مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کا کھانا لایا۔ اس وقت مَیں نے دیکھا کہ حضرت صاحب سیڑھیوں سے چڑھ کر اپنے کمرہ میں چلے گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ مَیں نے تعجب کیا کہ یہ کون شخص ہے۔ اس پر مَیں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کون ہے۔ تو بتایا گیا کہ دادا صاحب کا چھوٹا لڑکا ہے۔ نیز مرزا دین محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ دادا صاحب کی وفات کے وقت میری عمر گیارہ سال کی تھی۔
{ 679} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ جب مَیں نے حضرت صاحب کو پہلے دن دیکھا تو مجھے آپ سے ملنے کا شوق پیدا ہوا۔ سو دوسرے دن غالبًا جب ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت صاحب گھر آئے اور کمرہ میں جانے لگے۔ تو مَیں پیچھے ہو لیا۔ اور جب کمرہ کا دروازہ بند کرنے لگے۔ مَیں نے اس کے اندر ہاتھ دیدیا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا۔ کیوں بھئی کیا کام ہے؟ مَیں نے کہا۔ صرف ملنا ہے۔ فرمایا۔ اچھا آجائو۔ چنانچہ مَیں کمرہ میں چلا گیا اور حضرت صاحب نے دروازہ بند کر لیا۔ حضرت صاحب نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا کہ مَیں مرزا نظام الدین صاحب کا پھوپھی زاد بھائی اور مرزا نتھا بیگ صاحب کا بیٹا لنگروال سے ہوں۔ اس پر حضرت نے مجھے پہچان لیا۔ اس کے بعد مَیں آپ کے پاس آنے جانے لگا۔ اور آپ کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے لگ گیا۔ پھر اس کے بعد حضرت صاحب کا کھانا بھی مَیں ہی اندر سے لاتا اور کھلاتا تھا۔ گھر میں سب کھانے کا انتظام والدہ صا حبہ مرزا سلطان احمد صاحب کے سپرد تھا۔ اس کے قبل حضرت صاحب نے ایک چھکا رکھا ہوتا تھا۔ جس میں کھانا وغیرہ رکھدیا جاتا تھا اور حضرت صاحب اُسے اُوپر چوبارہ میں کھینچ لیتے تھے۔ اس طرح میری حضرت صاحب کے ساتھ بہت محبت ہو گئی اور حضرت صاحب نے مجھے فرمایا۔ تم میرے پاس ہی سو رہا کرو اور بعض دفعہ مَیں کھانے میں بھی شریک ہو جاتا تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ مرزا دین محمد صاحب کی ہمشیرہ مرزا نظام الدین صاحب کے عقد میں تھیں۔ یہ شادی بہت پرانی تھی۔ یعنی مرزا دین محمد صاحب کے ہوش سے قبل ہوئی تھی۔ مرزا دین محمد صاحب کی سگی پھوپھی مرزا غلام محی الدین صاحب کے گھر تھیں۔ گویا مرزا نظام الدین صاحب مرزا دین محمد صاحب کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے۔
{ 680} بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں میری آمدو رفت حضرت صاحب کے پاس ہوئی۔ ان ایام میں حضرت صاحب اپنے موروثیوں وغیرہ کے ساتھ مقدمات کی پَیروی کے لئے جایا کرتے تھے۔ کیونکہ دادا صاحب نے یہ کام آپ کے سپرد کیا ہوا تھا۔ تایا صاحب باہر ملازم تھے۔ جب حضرت صاحب بٹالہ جاتے مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔ جب گھر سے نکلتے تو گھوڑے پر مجھے سوار کر دیتے تھے۔ خود آگے آگے پیدل چلے جاتے۔ نوکر نے گھوڑا پکڑا ہوا ہوتا تھا۔ کبھی آپ بٹالہ کے راستہ والے موڑ پر سوار ہو جاتے اور کبھی نہر پر۔ مگر اس وقت مجھے اتارتے نہ تھے۔ بلکہ فرماتے تھے کہ تم بیٹھے رہو۔ مَیں آگے سوار ہو جائونگا۔ اس طرح ہم بٹالہ پہنچتے۔ ان ایّام میں بٹالہ میں حضرت صاحب کے خاندان کا ایک بڑا مکان تھا۔ یہ مکان یہاں محلہ اچری دروازے میں تھا۔ اُس میں آپ ٹھہرتے تھے۔ اس مکان میں ایک جولاہا حفاظت کے لئے رکھا ہوا تھا۔ مکان کے چوبارہ میں آپ رہتے تھے۔ شام کو اپنے کھانے کے لئے مجھے دو پیسے دیدیتے تھے۔ ان دنوں میں بھٹیاری جھیوری کی دکان سے دو پیسے میں دو روٹی اور دال مل جاتی تھی۔ وہ روٹیاں مَیں لا کر حضرت صاحب کے آگے رکھ دیتا تھا۔ آپ ایک روٹی کی چوتھائی یا اس سے کم کھاتے ۔باقی مجھے کہتے کہ اس جولاہے کو بلائو۔ اسے دیدیتے اور مجھے میرے کھانے لئے چار آنہ دیتے تھے اور سائیس کو دو آنہ دیتے تھے۔ اس وقت نرخ گندم کا روپیہ سوا روپیہ فی من تھا۔ بعض دفعہ جب تحصیل میں تشریف لے جاتے تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔ جب تین یا چار بجتے تو تحصیل سے باہر آتے تو مجھے بلا کر ایک روٹی کھانے کے ناشتہ کے لئے دیدیتے اور خود آپ اس وقت کچھ نہ کھاتے۔ تحصیل کے سامنے کنوئیں پر وضو کرکے نماز پڑھتے اور پھر تحصیلدار کے پاس چلے جاتے اور جب کچہری برخاست ہو جاتی تو واپس چلے آتے۔
جب بٹالہ سے روانہ ہوتے تو پھر بھی مجھے سارا رستہ سوار رکھتے۔ خود کبھی سوار ہوتے اور کبھی پیدل چلتے۔ پیشاب کی کثرت تھی۔ اس لئے گاہے بگاہے ٹھہر کر پیشاب کرتے تھے۔
 
Top