• Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • Photo of Milford Sound in New Zealand
  • ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے لیے آپ کو اردو کی بورڈ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اپ گریڈنگ کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اردو پیڈ کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ پاک اردو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سسٹم پر انسٹال کر لیں پاک اردو انسٹالر

قادیانی شبہات کے جوابات (کامل )

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم

تیئسویں آیت:​

’’ یَاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ اِرْجِعِی اِلٰی رَبِّک رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ (الفجر:۲۷تا۳۰) ‘‘ {اے وہ جی جس نے چین پکڑ لیا پھر چل اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پھر شامل ہو میرے بندوں میں اور داخل ہو میری بہشت میں۔}

قادیانی استدلال:​

’’اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انسان جب تک فوت نہ ہو جائے گزشتہ لوگوں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہوسکتا۔ لیکن معراج کی حدیث سے جس کو بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی مبسوط طور پر اپنے صحیح میں لکھا ہے ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں داخل ہے (کیونکہ اس حدیث کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام شب معراج دوسرے آسمان پر ملے جب کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام جو بالاتفاق فوت ہوچکے ہیں۔ وہیں موجود تھے۔ چونکہ مسیح علیہ السلام بھی فوت شدہ لوگوں کے ساتھ پائے گئے۔ لہٰذا انہیں بھی فوت شدہ ہی تسلیم کرنا پڑے گا۔ مرتب) لہٰذا حسب دلالت صریحہ اس نص کے مسیح ابن مریم علیہ السلام کا فوت ہو جانا ماننا پڑے گا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۱۷،۶۱۸، خزائن ج۳ ص۴۳۳)
مرزاقادیانی کی وجہ استدلال یہ ہے کہ گزشتہ جماعت میں داخلہ تب مل سکتا ہے جب انسان مر جائے اور صحیح بخاری کی حدیث معراج سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت شدہ نبیوں کے گروہ میں شامل تھے۔ لہٰذا یہ نص وفات مسیح پر دلالت صریح رکھتی ہے۔
جواب: ۱… ناظرین! مرزاقادیانی کا صغریٰ وکبریٰ دونوں غلط ہیں۔ صحیح بخاری کی اسی حدیث پر جس کا مرزاقادیانی نے حوالہ دیا ہے اگر تدبر کرتے تو اس غلطی پر وہ جلد مطلع ہو جاتے۔ مرزاقادیانی فرمائیے نبیوں کی فوت شدہ جماعت میںحضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھنے والا کون تھا۔ ظاہر ہے ہمارے سید ومولیٰ حضرت محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دنیوی حیات میں تھے۔ پس جس طرح محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزشتہ انبیاء کے گروہ میں داخل ہونا۔ داخلہ مل جانے کے بعد کچھ تفاوت نہیں کہ تھوڑی دیر کے لئے ہو یا زیادہ دیرکے لئے اسی طرح مسیح علیہ السلام بھی اس وقت اس گروہ میں موجود تھے۔ اس غلطی کے بعد دوسری غلطی مرزاقادیانی کی یہ ہے کہ انہوںنے اس آیت سے استدلال کیا۔ اگر وہ ’’ یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ اَوْرِیَا اَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِیْ ‘‘ دونوں پر چشم بصیرت سے نظر فرماتے تو ان کو صداقت کا نور درخشاں نظر آتا۔ پہلی آیت میں عیسیٰ علیہ السلام مخاطب ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام میں جسم اور روح دونوں شامل ہیں اور دوسری میں صرف نفس یعنی روح مخاطب ہے۔ پہلی آیت میں ’’ رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘‘ ہے اور دوسری میں ارجعی دنیا بھر کی لغات میں تلاش کر لو نہ رجوع بمعنی رفع ملے گا اور نہ رفع بمعنی رجوع پھر ایک کو دوسرے سے کیا مناسبت ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ رفع کے معنی کلام الٰہی میں وہی ہیں جو اس کے لغوی اور حقیقی معنی ہیں اور مرزاقادیانی نے اپنی تقویت کے لئے لفظ کو اس کے اصلی معنی سے پھیر کر کچھ کا کچھ بنادیا ہے۔
مرزاقادیانی آپ نے ’’ رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘‘ کو ’’ اِرْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکَ ‘‘ کے ہم معنی بنادیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ’’ اِرْجِعِیْ اِلٰی رَبِّ کَ‘‘ اور ’’ اِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ‘‘ بھی ہم معنی ہیں تو آپ کیا جواب دیں گے؟
جواب: ۲… نیز مرزاقادیانی نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ایک ہی پیالہ میں مسیح کے ساتھ گوشت کھایا ہے۔ دیکھئے۔ (تذکرہ ص۴۲۷) نیز یہ بھی لکھا کہ میں نے کئی مرتبہ مسیح کے ساتھ ایک دسترخوان پر کھانا کھایا۔ نورالقرآن۔ یہ بات انہوں نے اور کسی بھی نبی کے متعلق نہیں لکھی تو معلوم ہوا کہ مسیح بحالت حیات ہیں۔ کیونکہ اکل وشرب زندوں کے ساتھ ہی متعلق ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہواکہ زندہ متوفی کے ساتھ ملاقات کر سکتا ہے۔ ورنہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو بھی مردار تسلیم کریں۔
چوبیسیویں آیت: ’’ اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ (الروم:۴۰) ‘‘ {اﷲ وہی ہے جس نے تم کو بنایا، پھر تم کو روزی دی، پھر تم کو مارتا ہے پھر تم کو جلائے گا۔}
قادیانی استدلال: ’’اس آیت میں اﷲتعالیٰ اپنا قانون قدرت یہ بتلاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں صرف چار واقعات ہیں۔ پہلے وہ پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر تکمیل اور تربیت کے لئے روحانی اور جسمانی طور پر رزق مقدر اسے ملتا ہے۔ پھر اس پر موت وارد ہوتی ہے۔ پھر وہ زندہ کیا جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس آیت میں کوئی ایسا کلمہ استثنائی نہیں جس کی رو سے مسیح علیہ السلام کے واقعات خاصہ باہر رکھے گئے ہوں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۱۹، خزائن ج۳ ص۴۳۴)
الجواب: ناظرین یہ سچ ہے کہ ان واقعات چارگانہ میں کل مخلوق داخل ہے۔ مگر حرف ’’ ثم ‘‘ جو ہر حالت کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ بتاتا ہے کہ یہ تمام واقعات آن واحد ہی میں شخص واحد پر گزر نہیں لیتے۔ بلکہ ان سب میں تراخی (دیر اور فاصلہ) اور ترتیب کا ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستمعین کے لئے آیت: ’’ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ‘‘ کے الفاظ صیغہ ماضی کے ساتھ ہیں اور ’’ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ‘‘ کے الفاظ صیغہ مضارع سے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ گو مستمع پر دو واقعے گزر گئے ہوں۔ مگر دو امور آئندہ پیش آئیں گے۔ پس جب آیت کا مفہوم زندہ جانداروں کی وفات بالفعل کا مقتضی نہیں بلکہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ سب نے مرجانا ہے اور سب پر ان واقعات چارگانہ نے گزر لینا ہے تو وفات مسیح پر استدلال کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ مسلمانوں کا اعتقاد یہ ہے تکمیل وترتیب کی حدود مختلف رزق مقسوم کے مناسب حال ہوتا ہے۔ اس لئے آج کل حضرت مسیح علیہ السلام ’’ ثم رزقکم ‘‘ کے مصداق حال ہیں؟
اس کے بعد ’’ ثم یمیتکم ‘‘ کے مرحلہ میں داخل ہوں گے اور پھر سب کے ساتھ ’’ ثم یحییکم ‘‘ کے مرحلہ میں ’’ فلا اشکال ولا استدلال ‘‘

پچیسویں آیت:​

’کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوْالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ (الرحمن:۲۶،۲۷) ‘‘ {جو کوئی ہے زمین پر فنا ہونے والا ہے اور باقی رہے گا منہ تیرے رب کا بزرگی اور عظمت والا۔}

قادیانی استدلال:​

مطلب یہ کہ ہر یک جسم خاکی کو نابود ہونے کی طرف ایک حرکت ہے اور کوئی وقت اس حرکت سے خالی نہیں، وہی حرکت بچہ کو جوان کر دیتا ہے اور جوان کو بڈھا اور بڈھے کو قبر میں ڈال دیتی ہے اور اس قانون قدرت سے کوئی باہر نہیں، خداتعالیٰ نے ’’ فَانٍ ‘‘ کا لفظ اختیار کیا ’’ یَفْنِیْ ‘‘ نہیں کہا تاکہ معلوم ہو کہ فنا ایسی چیز نہیں کہ آئندہ کسی زمانہ میں یک دفعہ واقعہ ہوگی۔ بلکہ سلسلہ فنا کا ساتھ ساتھ جاری ہے۔ لیکن ہمارے مولوی یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام اسی فانی جسم کے ساتھ جس میں بموجب نص صریح ہر دم فنا کام کر رہی ہے بلاتغیر وتبدل آسمان پر بیٹھا ہے اور زمانہ اس پر اثر نہیں کرتا۔ حالانکہ اﷲتعالیٰ نے اس آیت میں بھی مسیح علیہ السلام کو کائنات الارض سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔
(ازالہ اوہام ص۶۱۹،۶۲۰، خزائن ج۳ ص۴۳۴)
الجواب: ۱… ناظرین ہمارا ایمان ہے کہ ہر شئے کے ساتھ فنا لگی ہوئی ہے۔ ہم مرزاقادیانی کے بیان کو سچ جانتے ہیں کہ ’’ یَفْنِیْ ‘‘ کی جگہ ’’ فَانٍ ‘‘ کا لفظ اختیار کرنے میں یہی بلاغت اور حکمت تھی۔ مگر مرزاقادیانی یہ فرمائیں کہ اس میں وفات بالفعل کی دلیل کہاں ہے۔ یہ بھی جناب ممدوح کا مولوی صاحبان پر افتراء محض ہے کہ مسیح بلاتغیر وتبدل آسمان پر بیٹھا ہے۔ ہاں! ہم یہ ضرور اعتقاد رکھتے ہیں کہ زمانہ کے تغیروتبدل کا اثر بعض جسموں پر (غیرمعمولی کہو، خرق عادات کے طور پر سمجھو) ایسا خفیف ہوتا ہے کہ وہ اثر نہ خود اس جسم کو محسوس ہوتا ہے اور نہ اس کے دیکھنے والے کو۔ اصحاب کہف جب ۳۰۹ برس کے بعد اٹھے تو انہوں نے اپنے خواب کی درازی مدت کو صرف ’’یَوْمَ اَوْ بَعْضَ یَوْم‘‘ خیال کیا تھا۔ علیٰ ہذا! جب ان میں سے ایک بزار میں گیا۔ تو بازار والے بھی جسمی ساخت وغیرہ سے اس کو اپنے ہی زمانہ کا ایک شخص سمجھ کر (کیونکہ ان کو بھی کوئی ایسا تغیر نہ معلوم ہوا جس سے وہ ان کو گزشتہ چار صدیوں کا آدمی خیال کر لیتے) اور ان کے ہاتھ میں نہایت پرانے عہد کا سکہ دیکھ کر دوردراز کے خیالات میں پھنس گئے تھے۔ تغیروتبدل کے اثر کا تفاوت طبقات ارض پر بھی ہے۔ گرم ولایت میں مردوزن جلد جوان ہو جاتے ہیں اور سرد میں ان سے کئی سال بعد۔ گرم ولایت کے رہنے والے جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ سرد ولایت کے بہ دیر، آسمانی زمین پر رہنے والوں میں تغیر وتبدل ایسا کم اور غیرمحسوس ہے جس کے لئے کسر اعشاریہ کے صفر بھی مشکل سے کفایت کر سکتے ہیں۔
جواب: ۲… کون نہیں جانتا کہ ’’ کُلُّ مِنْ ‘‘ کی تحت میں آسمان کے فرشتے بھی شامل ہیں اور مرزاقادیانی بھی جانتے ہیں کہ ’’ فان ‘‘ کا اثر ان پر بھی ہے۔ یعنی سلسلہ فنا ان کے ساتھ ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔ مگر یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ہزاروں برس سے عبادت کرنے والے ہنوز ایسے زمانہ تک جس کی حد انسانی وہم وگمان سے برتر ہے، زندہ رہیں گے۔ اب مرزاقادیانی کے نزدیک اگر مولوی صاحبان نے مسیح علیہ السلام کے جسم پر جو زمینی آسمان پر ہے۔ نامعلوم تغیروتبدل کا تانزول ہونا مان لیا ہے اور اس ماننے سے ان کی توحید اور ان کی اطاعت قرآن کریم کے دعویٰ باطل ہوگئے ہیں تو کیا خود مرزاقادیانی پر وہی اعتقاد دربارۂ فرشتگان رکھنے میں وہی اعتراض عائد نہ ہوں گے۔ ’’ سُبْحَانَ اللّٰہِ قَضَی الرَّجَلُ عَلٰی نَفْسِہٖ ‘‘ اسی کو کہتے ہیں۔
جواب: ۳… آفتاب ومہتاب زمین وآسمان سیدنا مسیح علیہ السلام سے قبل کے ہیں کیا ان پر فنا آگئی یا آئے گی؟ اگر آئے گی تو مسیح علیہ السلام پر بھی آئے گی۔ بحث تو امکان میں نہیں بلکہ وقوع میں ہے۔
جواب: ۴… ویسے بھی ہر کلیہ مخصوص البعض ہوتا ہے۔ دیکھئے اس چہارگو نہ کلیہ کو کہ اس میں تو تمام مخلوقات داخل بھی نہیں ہوتے۔ کیونکہ کوئی وجود حیات سے قبل ہی ختم ہو جاتا ہے اور کوئی بعد حیات وقبل الرزق، اور کوئی مرحلہ رزق کے کسی حصہ میں۔یعنی ابتدا میں، وسط میں یا انتہاء میں پھر ہر مرحلہ یکساں نہیںتو معلوم ہوا کہ ہر ضابطہ اور کلیہ استغراقی نہیں ہوتا بلکہ بطور جنس کے ہوتا ہے۔ استثنائی صورتیں متعدد ہوتی ہیں۔
نیز ’’ کل من علیہا فان ‘‘ کا دائرہ تأثیر ابتداء سے چلا آرہا ہے جو کہ آخرکار صور اوّل تک منتہی ہو جائے گا تو اس وقت ’’ کل من علیہا فان ‘‘ اور ’’ لمن الملک الیوم ‘‘ کا اعلان ہوگا۔ اس وقت واقعۂ کوئی بھی زندہ نہ ہوگا نہ مسیح نہ کوئی اور فرد مخلوق۔ ’’ فلا نزاع ولا جدال ‘‘

چھبیسویں آیت:​

’’ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَہَرٍ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلَیْکٍ مُّقْتَدِرٍ (القمر:۵۴،۵۵) ‘‘ {جو لوگ ڈرانے والے ہیں باغوں میں ہیں اورنہروں میں۔ بیٹھے سچی بیٹھک میں نزدیک بادشاہ کے جس کا سب پر قبضہ ہے۔}

قادیانی استدلال:​

’’اب ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ خداتعالیٰ نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے، یعنی خداتعالیٰ کے پاس پہنچنا اور جنت میں داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیا ہے۔ سو اگر ’’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کے یہی معنی ہیں جو مسیح علیہ السلام خداتعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا تو بلاشبہ جنت میں بھی داخل ہو گیا۔ جیسے کہ دوسری آیت: ’’ اِرْجِعِیْ اِلَی رَبِک ‘‘ جو ’’ رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘‘ کے ہم معنی ہے۔ بصراحت اسی پر دلالت کر رہی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف اٹھائے جانا اور گزشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہو جانا اور بہشت میں داخل ہو جانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں۔ پس اس آیت سے بھی مسیح ابن مریم علیہ السلام کا فوت ہونا ہی ثابت ہوا۔ فالحمد للّٰہ الذی احق الحق وابطل الباطل ونصر عبدہ اید ما مورہ ‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۲۱، خزائن ج۳ ص۴۳۵)
جواب: ۱… اس آیت مستدلہ کا تعلق مرنے کے بعد سے نہیں بلکہ روز قیامت سے ہے۔ الفاظ قرآنی یہ ہیں: ’’ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْھٰی وَاَمَرَّ اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلَالٍ وَسُعُرْ ‘‘ آگے چار آیتیں مجرمین ہی کے بیان میں ارشاد فرما کر فرمایا۔ ’’ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَنَہَ ر‘‘ معزز ناظرین نہ صرف مرزاقادیانی کا ترجمہ ہی غلط ہے بلکہ یہ بھی کہ مرزاقادیانی نے اسی آیت کی بناء پر جو یہ اصول قائم کیا تھا (حالانکہ الفاظ میں اس اصول کی طرف صراحت تو کیا دلالت بھی نہیں) کہ انسان مرنے کے ساتھ ہی بہشت میں چلا جاتا ہے وہ سراپا غلط ہے۔ قرآن مجید میں ہے: ’ ’یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَئْتِ وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ o وَاُزْ لِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ o ہٰذَا مَاتُوْعَدُوْنَ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ o مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَجَآئَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ o نِادْخُلُوْہَا بِسَلَامِ ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ (ق:۳۰تا۳۴) ‘‘ جس روز ہم جہنم کو پوچھیں گے تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کیا اور کچھ بھی ہے؟ اور (جس روز) متقین کے واسطے جنت کو آراستہ کر کے قریب لائیں گے۔ یہ وہ بہشت ہے جس کا وعدہ ہررجوع کنندہ (احکام کے) محافظ کو دیاگیا تھا جو شخص بن دیکھے رحمن سے ڈرا اور رجوع کرنے والے دل سے ساتھ آیا۔ اس کو اس بہشت میں سلامتی کے ساتھ داخل کر دو۔ یہ دن یوم خلود ہے۔ یہ آیت کس قدر مرزاقادیانی کے تلازم اور ایک آن کے مسئلہ کو باطل کر رہی ہے۔ احادیث صحیحہ میں بھی بڑی تفصیل وتشریح ہے سب کی جامع ایک ہی حدیث ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں سب سے پہلے دروازہ جنت جاکر کھٹکھٹاؤں گا۔ رضوان پوچھے گا آپ کون ہیں۔ میں کہوں گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم رضوان دروازہ کھول دے گا اور کہے گا۔ مجھے یہی حکم تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لئے دروازہ نہ کھولوں؟ اگر مرزاقادیانی کا یہ مذہب ٹھیک ہے تو ان کو اس حدیث کے بعد بتلانا پڑے گا کہ وفات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تک جس قدر برگزیدگان خداانتقال کرتے رہے وہ سب کہاں جنت کے باہر رہے۔ یہ تمام تقریر تو مرزاقادیانی کی اصولی غلطی ظاہر کرنے کے لئے لکھی گئی۔
جواب: ۲… اب یہ عرض ہے کہ آیت: مستدلہ مرزاقادیانی کے دعویٰ پر ذرا دلیل نہیں۔ بالفرض ان کا یہ بیان صحیح ہے کہ انسان مرتے ہی جنت میں داخل ہو جاتا ہے تو وفات مسیح پر یہ کیا دلیل ہے۔ برگزیدہ بندوں میں داخل ہونا اگر دلیل وفات ہوتی تو شب معراج میں ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وفات پانا ایک مسلم واقع ہوتا۔ جب ایسا نہیں ہوا تو آپ کا یہ استدلال ایسا بودا اور ضعیف ہے۔ جس کو دعویٰ سے ذرا مناسبت نہیں۔
جواب: ۳… مرزاقادیانی اپنی کوتاہ عقلی سے سمجھے بیٹھے ہیں کہ آسمان پر صرف جنت ہے اور کوئی جگہ اور خطہ نہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ آسمان تو سات ہیں۔ اب ہر آسمان تمام کا تمام جنت میں مانیں گے؟ مرزاقادیانی آسمان ایک نہایت وسیع وعریض مقامات ہیں۔ اس میں خدا جانے کیا کیا ہے۔ رفع سماء سے دخول جنت لازم نہیں آتا۔ دیکھئے سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب معراج پر تشریف لے گئے تو بے شمار مقامات کی سیر کے بعد جنت کی سیرفرمائی وہاں منازل صحابہi ملاحظہ فرمائے۔ مسیح علیہ السلام کا رفع آسمانوں پر ہوا نہ کہ جنت موعودہ میں۔ فافہم !
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم

ستائیسویں آیت:​

’’ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰی اُوْلٰئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَP لَایَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَہَا وَہُمْ فِیْ مَا اشْتَہَتْ اَنْفُسُہُمْ خٰلِدُوْنَ (الانبیاء:۱۰۱،۱۰۲) ‘‘ {جن کے لئے پہلے سے ٹھہر چکی ہماری طرف سے نیکی وہ اس سے دور رہیں گے۔ نہیں سنیں گے اس کی آہٹ اور وہ اپنے جی کے مزوں میں سدا رہیں گے۔}

قادیانی استدلال:​

’’اس آیت سے مراد حضرت عزیر علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام ہیں ان کا بہشت میں داخل ہو جانا اس سے ثابت ہوتا ہے۔ جس سے ان کی موت بپایہ ثبوت پہنچتی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۲۲، خزائن ج۳ ص۴۳۵)
جواب: ۱… مضمون آیت یہ ہے کہ نیک بندے بہشت میں داخل ہوں گے۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام مر گئے مرتے ہی بہشت میں داخل ہونے کا غلط ہونا ثابت ہو چکا۔ بالفرض یہ عقیدہ صحیح درست ہے تاہم اس اصول سے کہ مردے فوراً داخل بہشت ہوتے ہیں۔ وفات مسیح بالفعل کہاں ثابت ہوگئی؟
جواب: ۲… یہ سلسلۂ کلام روز حشر کے بعد کے ساتھ متعلق ہے جو امر حشر کے بعد سے متعلق ہو اس کے فرضی نتائج سے دنیا میں عقیدہ کا اثبات احمقوں کی جنت کے باسی کی ہی چال ہو سکتی ہے۔

اٹھائیسویں آیت:​

’’ اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُمُ الْمَوْتَ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَہُ (نساء:۷۸) ‘‘ {یعنی جس جگہ تم ہو اسی جگہ موت تمہیں پکڑے گی اگرچہ تم بڑے مرتفع برجوں میں بودوباش اختیار کرو۔}

قادیانی استدلال:​

’’اس آیت سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں۔ یہی سنت اﷲ ہے اور اس جگہ بھی استثناء کے طور پر کوئی ایسی عبارت بلکہ ایک ایسا کلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا۔ پس بلاشبہ یہ اشارۃ النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔ موت کے تعاقب سے مراد زمانہ کا اثر ہے جو ضعف اور پیری یا ارضی وآفات مخبر الی الموت تک پہنچانا ہے۔ اس سے کوئی نفس مخلوق خالی نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۲۲، خزائن ج۳ ص۴۳۶)
جواب: ۱… یہاں بھی مرزاقادیانی نے تحریف قرآنی کا ارتکاب کر کے غلط نتیجہ کشید کرنے کی نامراد کوشش کی ہے۔ اس کے لئے سب سے پہلے آیت کے صحیح معنی ومفہوم پر نظرکرنا ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کرامi کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے۔ کفار مکہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے مقابلہ کے لئے تیاری کا حکم فرمایا تو بعض کمزور طبع حضرات یا منافقین نے جنگ سے جی چرانا چاہا۔ ان کی تنبیہ کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں۔ کئی رکوع اسی مضمون سے متعلق نازل ہوئے۔ ان میں یہ آیت کریمہ بھی ہے کہ ’’جنگ میں جانے سے جی چرا کر تم موت سے نہیں بچ سکتے۔ موت تو کہیں بھی آسکتی ہے۔ اگرچہ بلند وبالا برجوں میں کیوں نہ رہو پھر بھی موت آئے گی۔‘‘ اب اس آیت میں موت کا آنا یقینی ہے اس کا بیان ہورہا ہے۔ یہ کہاں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔
جواب: ۲… تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ تمام مخلوق کی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔ بحث اس میں ہے کہ اس وقت زندہ ہیں یا فوت ہوگئے۔ مرزاقادیانی کا مؤقف ہے کہ فوت ہوگئے۔ اس آیت میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے ثابت ہو کہ وہ فوت ہوگئے۔ پس مرزاقادیانی کا یہ دجل اور تحریف ہے۔ مرزاقادیانی کے دل کا چور بھی مرزاقادیانی کو ملامت کرتا تھا کہ تم غلط استدلال کر رہے ہو۔ اس لئے مجبوراً اسے کہنا پڑا۔ ’’یہ اشارۃ النص بھی مسیح بن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔‘‘ مرزاقادیانی نے غلط کہا اس میں اشارۃ النص نہیں بلکہ مرزاقادیانی کی ’ ’شرارۃ النفس ‘‘ نے اسے اس تحریف پر مجبور کیا ہے۔
جواب: ۳… مرزاقادیانی کا کہنا کہ ’’موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں۔‘‘ یہاں بھی مرزاقادیانی کو یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح مسلمان وکافر امتی اور نبی کی کیفیت موت میں فرق ہے۔ اس طرح زمین پر رہنے والے اور آسمان پر رہنے والے اجسام کے لوازم موت یا اثرات میں بھی فرق ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نفخۂ جبرائیل علیہ السلام سے پیدا ہوئے۔ اس لئے آسمانوں پر قیام فرشتوں کی طرح ان کے جسم مبارک پر اثرات کے مرتب کا فرق ظاہر وباہر ہے۔ مرزا کا مرشد ابلیس بھی اگر اب تک زندہ ہے تو اس کے جسم پر اثرات موت ولوازم موت میں مرزاقادیانی کی نسبت تفاوت ہے تو زمین پر رہنے والوں اور ساکنان سماء کا اجسام پر لوازم موت کے تفاوت اثرات سے انکار نہیں کرنا چاہئے؟‘‘
جواب: ۴… ’’اور زمانہ سے جسم پر لوازم موت وارد ہوتے ہیں۔‘‘ یہ صرف مرزاقادیانی کا عقیدہ نہیں بلکہ کفار مکہ، مادہ پرست، منکرین بعث یہی کہتے تھے۔ ’’ وَقَالُوْا مَاہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَا اِلَّا الدَّہْرُ (جاثیہ:۲۴) ‘‘ وہ (کفار) کہتے تھے کہ ہمیں دنیوی زندگانی ہی کافی ہے۔ ہم مرتے اور پیدا ہوتے ہیں اور حوادث زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتے ہیں۔ کفار مکہ ومنکرین بعث حوادث زمانہ کو موت اور لوازم موت سمجھتے تھے۔ یہی راگ آج مرزاقادیانی الاپ رہا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کے نزدیک موت صرف اور صرف مشیت الٰہی ’’ یفعل ما یشاء ‘‘ اور ’’ مشیت ‘‘ ذات باری کی مرضی ومنشاء پر منحصر ہے۔ کوئی ماں کے پیٹ سے مردہ برآمد ہوا۔ کوئی چند ساعات، کوئی چند سال، کوئی چند صدیاں، جس کو جتنا چاہے زندہ رکھے، یہ خالق کی مرضی پر منحصر ہے۔ جب چاہے جس کو چاہے موت دے۔ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ ان کی وفات کے وقوع کا اس آیت میں اشارہ یا شائبہ تک نہیں۔ پس مرزاقادیانی ’’ خسرالدنیا والآخرۃ ‘‘ کا مصداق ہے۔
جواب: ۵… مرزاقادیانی نے اپنی غلط برآری کے لئے آیت میں تحریف کر کے اشارۃ النص ثابت کرنا چاہی۔ جب کہ ’’ صراحۃ النص بل رفعہ اللّٰہ (قرآن) ان عیسٰی لم یمت (حدیث) ان ینزل فیکم (حدیث) ‘‘ کی موجودگی اس بات پر دلیل بیّن ہے کہ مرزاقادیانی نے یہاں بھی تحریف سے کام لیا ہے۔
جواب: ۶… ’’ یدرککم الموت ‘‘ یہ مضارع ہے۔ موت تم کو پائے گی نہ کہ پاچکی۔ مضارع کو ماضی میں لینا، عیسیٰ علیہ السلام جن کی تخصیص منقولی ثابت ہوچکی۔ ان کو عموم میں ثابت کرنا قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔

انتیسویں آیت:​

’’ وَمَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْ (الحشر:۷) ‘‘ {اور جو دے تم کو رسول سولے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو۔}

قادیانی استدلال:​

’’یعنی رسول جو کچھ تمہیں علم ومعرفت عطاء کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔ لہٰذا اب ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں کیا فرمایا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۲۳، خزائن ج۳ ص۴۳۶)
جواب: ۱… آئیے مرزاقادیانی اسی آیت پر عمل کریں اور دیکھیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیات مسیح اور نزول مسیح علیہ السلام کے بارہ میں کیا فرمایا ہے۔
۱… امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ سے مروی ہے: ’’ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لِلْیَہُوْدِ اِنَّ عِیْسٰی علیہ السلام لَمْ یَمُتْ وَاِنَّہٗ رَاجِعٌ اِلَیْکُمْ قَبْلَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶،۵۷۶، ابن جریر ج۳ ص۲۸۹)
’’رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو (جو وفات عیسیٰ کے قائل تھے) فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز نہیں مرے اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔‘‘ حدیث میں ’’ لَمْ یَمُتْ ‘‘ کا لفظ غور طلب ہے کیونکہ ’’ لَمْ ‘‘ نفی تاکید کے لئے آتا ہے اور مضارع کو بمعنی ماضی کر دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ اس وقت تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے۔ اس حدیث پر شاید جرح ہوسکتی ہے کہ مرسل ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ نے صحابی کا نام نہیں لیا۔ مگر یہ جرح مرزاقادیانی اور ان کے اخوان کی طرف سے تو ہو نہیں سکتی۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے ’’مباحثہ الحق لدھیانہ‘‘ میں تسلیم کیا ہے۔ ’’مجردضعف حدیث کا بیان کرنا اس کو بکلی اثر سے روک نہیں سکتا۔‘‘ مرسل حدیث بکلی پایۂ اعتبار سے خالی اور بے اعتبار محض نہیں ہوتی، اب رہے اہل حدیث۔ وہ بھی اس حدیث پر کچھ جرح نہیں کرسکتے۔ کیونکہ امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ سے بروایت صحیح ثابت ہو چکا ہے کہ جب وہ روایت حدیث ارسال کرتے ہیں تو اس حدیث کے راوی حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم ہوتے ہیں۔ مگر بنی امیہ کے خلاف شورش کے خوف سے آپ نام نہیں لیا کرتے تھے۔ اس سے واضح ہوا کہ حدیث بالا مرفوع ہے اور اس کی سند بھی جید اور عالی ہے۔ مرزاقادیانی اگر ’’ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ ‘‘ پر ایمان رکھتے ہیں تو اس حدیث کے سامنے سر اطاعت خم کریں۔
۲… (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب خروج الدجال) کی حدیث میں ہے: ’’ لَیْسَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عِیْسٰی نَبِیٌّ وَاِنَّہٗ نَازِلٌ ‘‘ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہی عیسیٰ تم میں نازل ہوں گے۔ ان الفاظ کو مرزاقادیانی ایمانی نظر سے دیکھیں کہ کس کا آنا ثابت ہوتا ہے اور کس کی زندگی واضح ہے؟
۳… امام احمد کی (مسند، ابن ماجہ ص۲۹۹، باب خروج الدجال) میں ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں شب معراج کو حضرت ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سپرد کیا گیا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبرنہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فیصلہ دیاگیا۔ انہوں نے کہا قیامت کے وقت کی خبر تو خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں! خدا نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا اور میرے ہاتھ میں شمشیر برہنہ ہوگی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو یوں پگھلنے لگے گا۔ جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔
مرزاقادیانی کیا یہ احادیث ’’ مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ ‘‘ میں داخل ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو آپ ان پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ اگر آپ کے نزدیک ’’ مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ ‘‘ میں جملہ احادیث نبوی میں سے صرف وہ دو حدیثیں داخل ہیں جو آپ نے اس آیت کے تحت میں لکھی ہیں تو واضح ہو کہ یہ وہ حدیثیں بھی آپ کے مدعا کے لئے ذرا مثبت نہیں۔
۱… (ترمذی ج۲ ص۱۹۵، ابواب الدعوات) کی یہ حدیث آپ نے پیش کی ہے کہ ’’ اَعَمارِ امتی ما بین الستِیْن الی السَّبْعِیْنَ وَاَقلہُمْ مَنْ یَجُوْزُ ذٰلِک ‘‘ جس کا ترجمہ بھی آپ نے صحیح کیا ہے کہ: ’’میری امت کی اکثر عمریں ساٹھ سے ستر برس تک ہوں گی اور ایسے لوگ کمتر ہوں گے جو ان سے تجاوز کریں۔‘‘ میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اقلہم میں داخل ہیں۔ نزول کے بعد جب امت میں عملاً شمار ہوں گے تب تو چالیس پینتالیس کے عرصہ میں ان کا وصال ہو جائے گا۔ پھر یہ حدیث کیا دلیل آپ کے لئے ہے؟
۲… دوسری حدیث (مسلم ج۲ ص۳۱۰، ابواب الفضائل) کی یہ پیش کی ہے: ’’ مَا عَلَی الْاَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوْسَۃٍ یَاْتِیْ عَلَیْہَا مَائۃ سنۃ وَہِیَ حَیَّۃٌ ‘‘ جو زمین کے اوپر جاندار ہے۔ ایسی مخلوق نہیں کہ اس پر سوبرس گزریں اور وہ زندہ ہو۔ ’ ’مَا عَلَی الْاَرْضِ ‘‘ کا لفظ بتاتا ہے کہ یہ حکم صرف ان نفوس منفوسہ کے لئے ہے جو اس وقت زمین پر موجود تھے۔ ورنہ ’’مَا عَلَی الْاَرْضِ‘‘ کی شرط لغو ٹھہرتی ہے۔ بلکہ زیادہ تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ متکلم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تخصیص کرنے کے وقت حضرت مسیح علیہ السلام کا ضرور خیال گزرا ہے اور اس لئے ایسے الفاظ استعمال فرمائے جو روئے زمین کے کل انسانوں پر تو حاوی ہوسکیں۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام اس سے مستثنیٰ بھی رہیں۔ لفظ الارض پر جن علماء نے علمی بحث کی ہے اور آیات ربانی کے قرائن سے الارض کے الف لام کو یقین کے لئے قرار دیا ہے۔ اس بحث میں تو مرزاقادیانی الارض کو ربع مسکون پر بھی اطلاق نہ کر سکیں گے۔ بلکہ جزیرۂ عرب ہی مختص ہو جائے گا۔ الغرض یہ احادیث بھی آپ کے لئے کچھ ممدومعاون نہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی ’ ’مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ ‘‘ کے امر واجب الاذعان کو جو نہایت وسیع اور عام ہے صرف دو حدیثوں کے اندر (جن کو آپ نے بہزار دقت اپنے مفید بنایا تھا مگر اس میں بھی کامیاب نہ ہوئے) محدود جانتے ہیں۔ بلکہ جہاں کہیں رسول معصوم کے ارشادات جن کی اطاعت ہم پر فرض کی گئی ہے ان کے اوہام نفسانی کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس جگہ آپ نہایت دلیری اور جرأت سے احادیث رسول پر مخالفانہ حملہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی نگاہ میں احادیث نبوی کی وقعت کو پرکاہ سے بھی کم ظاہر کر دیں۔ اس بیان کے ثبوت میں کہ انہوں نے کس طرح پر جابجا احادیث نبویہ پر حملے کئے ہیں اور کیسے کیسے پیرایہ میں ان کا ساقط الاعتبار ہونا زوروشور سے تحریر کیا ہے۔ مجھے زیادہ حوالے دینے کی ضرورت نہیں۔ میں اس جگہ صرف اس قدر دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ’’ مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ ‘‘ کا امر واجب الاذعان اس وقت فراموش ہوجایا کرتا ہے۔
جواب: ۲… مرزاقادیانی اور اس کے پیروکار یہ بھی خیال فرمالیں کہ آج تک بے شمار ائمہ دین، مجددین، ملہمین، مفسرین، متکلمین ہوئے ہیں انہوں نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی۔ سنا اور سمجھا، انہوں نے جو اس کا مفہوم لیا اور اپنایا اس کے حوالہ سے جو اس کا مصداق ومفہوم ہوگا وہ ہمیں سو فیصد تسلیم ومنظور۔ اس کے سوا ہم کسی بھی وسوسے اور شبہے کو سننے کے لئے ہرگز تیار نہیں۔ لائیے پوری امت سے ایک آدمی پیش کریں جس نے اس آیت سے وفات مسیح علیہ السلام مراد لی ہو۔ ایک مفسر قیامت تک پوری قادیانی امت اس مؤقف پر یہاں پیش نہیں کرسکتی۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم

تیسویں آیت:​

’’ اَوْتَرْقٰی فِی السَّمَآئِ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَؤْہٗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنی اسرائیل:۹۳) ‘‘ {یا چڑھ جائے تو آسمان میں اور ہم نہ مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو جب تک نہ اتار لائے ہم پر ایک کتاب جس کو ہم پڑھ لیں تو کہہ سبحان اﷲ! میں کون ہوں مگر ایک آدمی ہوں بھیجا ہوا۔}

قادیانی استدلال:​

’’اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انہیں صاف صاف جواب ملا کہ یہ عادت اﷲ نہیں کہ کسی خاکی جسم کو آسمان پر لے جائے۔ اب اگر جسم خاکی کے ساتھ ابن مریم علیہ السلام کا آسمان پرجانا صحیح مان لیا جائے تو یہ جواب مذکورہ بالا سخت اعتراض کے لائق ٹھہر جائے گا اور کلام الٰہی میں تناقض اور اختلاف لازم آئے گا۔ لہٰذا قطعی اور یقینی یہی امر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بجسدہ عنصری آسمان پر نہیں گئے بلکہ موت کے بعد آسمان پر گئے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۲۵، خزائن ج۳ ص۴۳۷)
جواب: ’’یہ بات نہیں ہے کہ ہرکس وناکس خدا کا پیغمبر بن جائے اور ہر ایک پر وحی نازل ہوجایا کرے۔ اس کی طرف قرآن شریف نے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے: ’’ وَاِذَا جَآئَ تْہُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَا اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِP اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رَسَالَتَہٗ (الانعام:۱۲۴) ‘‘ یعنی جس وقت کوئی نشان کفار کو دکھائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب تک خود ہم پر ہی کتاب نازل نہ ہو تب تک ایمان نہ لائیں گے۔ خدا خوب جانتا ہے کہ کس جگہ اور کس محل پر رسالت کو رکھنا چاہئے۔‘‘ (براہین احمدیہ حاشیہ ص۱۶۹، خزائن ج۱ ص۱۸۱)
الغرض مرزائی مصنف کی پیش کردہ آیت سے بشر رسول کا آسمان پر جانا ناممکن الحال ثابت نہیں ہوتا۔
مرزاقادیانی سے کوئی پوچھے صاحب اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ آسمان پر لے جانا عادت اﷲ نہیں بلکہ اس آیت سے تو یہ معلوم ہوا کہ آسمان پر چلا جانا انسانی قدرت سے تو بالاتر ہے لیکن خداتعالیٰ قادر ہے اگر کسی نبی کو چاہئے آسمان پر لے جاسکتا ہے بھلا یہ مسلمان کب کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے آپ آسمان پر جابیٹھے۔ مسلمانوں کا تو یہ عقیدہ ہے۔ ’ ’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْ ہِ‘‘ اﷲ نے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے اٹھایا ہے۔ ہاں! شاید یہ شبہ ہو کہ پھر کیوں کفار کے مطالبہ کے موافق یہ معجزہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ظاہر نہ کیاگیا تاکہ وہ ایمان لے آتے۔ کفار کے مطالبہ کو کیوں روکا گیا۔ کیا وہ یہ کہتے تھے کہ تم اپنی ہی قدرت سے یہ کرشمہ دکھلاؤ ان کا ہرگز یہ خیال نہ تھا تاکہ یہ جواب دے دیا جاتا کہ بذات خود مجھ میں یہ قدرت نہیں۔ ہاں! اﷲتعالیٰ اس پر قادر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کفار مکہ کے یہ سوالات کسی غرض صحیح اور تحقیق حق پر مبنی نہ تھے۔ بلکہ محض تعنت اور عناد پر مبنی تھے۔ ان کے ظاہر ہونے پر ایمان لانا ہرگز مقصود نہ تھا۔ چنانچہ سوال ہوتا ہے: ’’ اَوْتَاْتِیَ بِاللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیْلًا (بنی اسرائیل:۹۲) ‘‘ یعنی اﷲ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے گواہ لاؤ جو محال قطعی ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھیں لیکن کفار ہمارے رسول کے آسمان پر چڑھ جانے کے معجزہ کی درخواست پر جمے نہیں رہے بلکہ اس کے ساتھ یہ چاہا کہ پھر ہمارے سامنے آسمان سے اترو اور ہر ایک کے نام خدا کی طرف سے نوشتہ اور کتاب لے کر آؤ کہ ہم اس کو پڑھیں۔ یعنی ہم پر بھی خدا کی کتاب نازل کر، کہ اے فلاں بن فلاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ۔ یعنی گویا رسول بنادے۔ حالانکہ یہ خدا کا کام ہے کہہ دے کہ میں تو بشر اور خود اس کا رسول ہوں کسی کو نبی اور رسول بنانا اور خدا کی طرف سے اس کے نام کتاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اﷲ کے اختیار میں ہے۔ مگر میرا اﷲ پاک ہے کہ ایسے گندے اورناپاک روحوں کو اپنا نوشتہ اور اپنی کتاب بھیج کر رسول بنائے یا ان کے سامنے شہادت دینے آئے۔ معاذ اﷲ!
جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’ ’قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَا اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسٰلَتَہٗ (الانعام:۱۲۴) ‘‘ یعنی کفار مکہ نے کہا ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ ہم کو بھی دیا جائے مثل اس کے جو اﷲ کے رسولوں کو دیاگیا ہے۔ یعنی رسالت ووحی وکتاب ومعجزے وغیرہ۔ فرمادیجئے کہ اﷲ کوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت کو رکھے۔ یعنی تمہارے جیسے گندے اور ناپاک اور خبیث النفس رسالت کے کب قابل ہیں اور بعض سوال ممکن بھی تھے اور وہی معجزے طلب کئے تھے جو پہلے رسولوں سے ظاہر ہوچکے۔ لیکن محض تعنت اور عناد پر مبنی تھے۔ ان کے ظاہر ہونے پر ایمان لانا ہرگز مقصود نہ تھا۔ جیسے شق القمر کا معجزہ ظاہر کیاگیا مگر انہوں نے پھر بھی جھٹلایا۔ چنانچہ خود ارشاد خداوندی ہے۔ ’’ وَمَا مَنَعَنَا اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیَاتِ اِلَّا اَنْ کَذَّبَ بِہَا الْاَوَّلُوْنَ (بنی اسرائیل:۵۹) قولہ تعالٰی وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَآئَ تْہُمْ اَیٰۃٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِہَا قُلْ اِنَّمَا الْاَیَاتُ عِنْدَ اللّٰہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ اَنَہَا اِذَا جَآئَ تْ لَایُؤْمِنُوْنَP وَنُقَلِّبُ اَفْئِدَتَہُمْ وَاَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (الانعام:۱۰۹،۱۱۰) ‘‘ {نہیں روکا ہم کو کہ ہم معجزوں کو بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگ جھٹلا چکے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں اﷲ کی تاکید سے کہ اگر ان کو ایک معجزہ پہنچے تو البتہ اس پر ایمان لائیں۔ فرمادیجئے کہ معجزے تو اﷲ کے پاس ہیں اور تم مسلمان کیا خبررکھتے ہو کہ جب معجزے آئیں گے تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور آنکھیں جیسے ایمان نہیں لائے پہلی بار۔}
غرض یہ سوال محض عناد پر مبنی تھے لیکن اگر ان فرمائشی معجزات کو پورا بھی کر دیا جاتا تب بھی وہ ایمان نہ لاتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پھر وہ بالکل تباہ اور برباد کر دئیے جاتے۔ کیونکہ اقتراحی معجزے کے بعد امہال اور استدراج نہیں ہوتا جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ پیش آچکا ہے۔
اگر کہا جائے گو آسمان پر چڑھایا جانا ممکن تو ہے اور اﷲتعالیٰ جس کو چاہے آسمان پر پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ خدا کے نزدیک کوئی چیز انہونی نہیں۔ لیکن یہ عام سنت جاریہ اور عام عادت اﷲ کے خلاف ہے۔ مگر یہ مرزاقادیانی ہرگز نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ (حقیقت الوحی ص۴۹،۵۰، خزائن ج۲۲ ص۵۲) میں لکھتے ہیں: ’’اس قدر زور سے صدق اور وفا کی راہوں پر چلتےہیں کہ ان کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہو جاتی ہے گویا ان کا خدا ایک الگ خدا ہے جس سے دنیا بے خبر ہے اور ان سے خداتعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسروں سے وہ ہرگز نہیں کرتا جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام۔‘‘
پس جب انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خدا کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسرے سے نہیں۔ ان کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہوتی ہے تو پھر رفع عیسیٰ علیہ السلام وزیادتی عمر بلاارذل عمر پر کیوں تعجب ہے۔ ’’ اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ (آل عمران:۵۹) ‘‘ جب آدم علیہ السلام زمین سے جنت میں، پھر جنت سے زمین پر آچکے ہیں۔ ایسے عیسیٰ علیہ السلام کا زمین سے آسمان پر، پھر آسمان سے زمین پر آنا ہوگا۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم

باب ششم … حیات عیسیٰ علیہ السلام اور بزرگان امت​

قرآن وسنت کی طرح پوری امت کے اکابر بھی حضرت سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی حیات، رفع الیٰ السماء، نزول من السماء عند قرب الساعۃ کے قائل ہیں۔ اس پر ہمارے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی مستقل تصنیف ہے۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا عقیدہ چودہ صدیوں کے مجددین واکابر امت کی نظر میں‘‘ اس تصنیف میں ترتیب وار چودہ صدیوں کے سینکڑوں اکابر کی تحریرات وتصریحات کو یکجا کر دیا ہے۔ یہ تصنیف (تحفہ قادیانیت ج۳ ص۱تا۲۶۴) پر طبع شدہ ہے۔ قادیانی دجال جس طرح قرآن وحدیث میں تحریف کے تیر چلاتے ہیں۔ اسی طرح اکابرین امت کی عبارات کو سیاق وسباق سے کاٹ کر یہودیوں کے کان کترتے ہیں۔ جن اکابر پر قادیانی وفات مسیح کا الزام دیتے ہیں۔ ذیل میں ہم فقط ان کی تحریفات کے جوابات عرض کرتے ہیں۔

حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم​

ایسا ہی حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم پر قادیانیوں نے بہتان باندھا ہے کہ انہوں نے وفات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کے خطبہ میں کہا: ’’ لقد قبض الیلۃ عرج فیہا بروح عیسٰی ابن مریم ‘‘ (طبقات کبریٰ ج۳ ص۲۸، مرزائی پاکٹ بک ص۲۰۵)
جواب: ۱… ’’طبقات ابن سعد‘‘ کا ایک قول نقل کرنا ہی دلیل صداقت سمجھا جائے؟ قرآنی وتفسیری، حدیثی ہزاروں اقوال کے مقابلہ میں ایک قول کو عقیدہ کے لئے بنیاد بنانا قادیانی الحاد کی دلیل ہے۔
جواب: ۲… چونکہ خود اسی کتاب کا مصنف قائل حیات مسیح علیہ السلام ہے جیسا کہ (ج۱ ص۴۵) پر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کا قول دربارہ مثبت حیات مسیح نقل کر کے مصنف نے اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ وہو ہذا!
’’ وان اللّٰہ رفع بجسدہ وانہ حی الان وسیرجع الی الدنیا فیکون فیہا ملکا ثم یموت کما یموت الناس ‘‘ یعنی تحقیق مسیح بمع جسم کے اٹھایا گیا ہے۔ ولا ریب وہ اس وقت زندہ ہے۔ دنیا کی طرف آئے گا اور بحالت شاہانہ زندگی بسر کرے گا پھر دیگر انسانوں کی طرح فوت ہوگا۔
اس روایت نے فیصلہ کردیا کہ رفع سے مراد رفع جسمی ہے اور اگر حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم والی روایت درست ہے تو اس کا بھی یہی مطلب ہے۔ جس سے مراد یہ ہوگی کہ ’’ عرج فیہا بروح اللّٰہ عیسٰی ابن مریم ‘‘ یعنی عیسیٰ بن مریم روح اﷲ اٹھایا گیا۔
ایسا ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ عموماً روایات میں الفاظ مقدم ومؤخر، ملفوظ ومقدر اور قدرے مختلف ہوجایا کرتےہیں اور تو اور خود صحیح بخاری کی احادیث میں بھی ایسا موجود ہے۔ چنانچہ ہم حدیث ’’ حدیث لا تفضلونی علی موسٰی ‘‘ کسی نے ’’ لاتفضلونی ‘‘ کہا کسی راوی نے ’’ لاتخیرونی ‘‘ کہا۔ کسی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ دیگر انبیاء کو بھی شامل کیا۔ ’’ تخیروا بین انبیاء اللّٰ ہ‘‘ وغیرہ۔
خود یہی زیر تنقید روایت مختلف طریقوں سے کتابوں میں مرقوم ہے۔ درمنثور والے نے ’’ لیلۃ قبض موسٰ ی‘‘ درج کیا ہے۔ (درمنثور ج۲ ص۳۶) اور یہ صاحب درمنثور قادیانیوں کے مسلمہ مجدد ہیں۔
الغرض ایسی غیرمعتبر روایات میں فیصلہ کا صحیح طریق یہی ہے کہ جو بات احادیث صحیحہ وقرآن کے مطابق ہووہی صحیح سمجھی جائے۔ باقی کو غلط ومردود قرار دیا جائے۔
جواب: ۳… اب اسی بارے میں ایک اور روایت (مستدرک حاکم ج۴ ص۱۲۱، باب ۱۸۴۴ قتل علی لیلۃ انزل القرآن، روایت نمبر۴۷۴۲) پر روایت ہے۔ جسے درمنثور نے بھی نقل کیا ہے: ’’ عن الحریث سمعت الحسن بن علی یقول قتل لیلۃ انزل القراٰن ولیلۃ اسری بعیسٰی ولیلۃ قبض موسٰی ‘‘ (درمنثور ج۲ ص۳۶) حریث رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کہتے ہیں میں نے حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے سنا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم اس رات قتل کئے گئے جس رات قرآن اترا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سیر کرائے گئے اور موسیٰ علیہ السلام قبض کئے گئے۔
حضرات! غور فرمائیے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم جو شہید ہوگئے تھے۔ قتل کا لفظ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو وفات پوگئے ہوئے تھے قبض کا استعمال ہوا۔ مگر مسیح علیہ السلام چونکہ زندہ جسم اٹھائے گئے تھے اس لئے ان کے حق میں اسری فرمایا گیا۔ ’’ السّرایۃ اذا قطعۃ بالسیر ‘‘ جب کوئی شخص چل کر مسافت طے کرے اس کو سرایت بولتے ہیں۔ خود قرآن پاک میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بمع مومنین کے راتوں رات مصر سے نکلے یہ خروج بحکم خدا تھا۔ ’’ فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلاً اِنَّکُمْ مُتَّبَعُوْنَ (دخان:۲۳) ‘‘ {لے چل میرے بندوں کو راتوں رات تحقیق تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔}
اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق وارد ہے کہ: ’’ فَاَسْرِ بِاَہْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّیْلِ (سورۂ الحجر:۶۵) ‘‘ {لے نکل اپنے اہل کو ایک حصہ رات میں۔}
حاصل یہ کہ اگر حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کا خطبہ امرواقع ہے تو یقینا اس کا یہی مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بمعہ جسم اٹھائے گئے اور یہی حق ہے جو قرآن وحدیث کے مطابق ہے۔

عجیب تائید الٰہی​

مرزائیوں نے اس روایت کو وفات مسیح کی دلیل ٹھہرایا تھا۔ خدا کی قدرت کہ یہی حیات مسیح کی مثبت ہوگئی۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ مرزاقادیانی کاذب تھے۔ دلیل یہ کہ اس روایت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات صاف مذکور ہے۔ حالانکہ مرزاقادیانی انہیں زندہ مانتے ہیں۔ (نورالحق حصہ اوّل ص۵۰، خزائن ج۸ ص۶۹)

حضرت امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ​

ایسا ہی حضرت امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ پر قادیانیوں نے افتراء کیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ دلیل یہ کہ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کا خطبہ جس میں وفات مسیح علیہ السلام مذکور ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کی روایت متوفیک، ممیتک کو بخاری میں نقل کیا ہے۔
جواب: ۱… ہم ثابت کر آئے ہیں کہ صحابہ کرامi خاص کر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کو قائلین وفات مسیح قرار دینا قطعاً جھوٹ ہے۔ ان کی روایت سے وفات ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ دیگر بیسیوں روایات سے حیات ثابت ہے۔ پس اس بودی دلیل پر بنیاد قائم کر کے امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کو قائل وفات کہنا یقینا پرلے سرے کی جہالت ہے۔ سنو! امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کی روایت جس میں نزول مسیح کا ذکر اور ان کے ابھی تک زندہ ہونے کا تذکرہ اور آخر زمانہ میں نازل ہونے کا اظہار موجود ہے۔ یعنی وہ روایت جس میں آیت: ’’ اِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنُنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ‘‘ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم نے مسیح علیہ السلام کے حیات ہونے پر دلیل بنایا ہے (اور مرزاقادیانی نے غصہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کو غبی فہم قرآن میں ناقص درایت سے حصہ نہ رکھنے والا قرار دیا ہے۔ (اعجاز احمدی ص۱۸، خزائن ج۱۹ ص۱۲۷) کو نقل کر کے اور اسی طرح دیگر صحابہ کی روایات جن میں نزول مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے۔ بخاری شریف میں نقل کر کے ان پر کوئی جرح یا انکار نہ کرتے ہوئے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے اور کیوں نہ ہوتے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قسم کھاکر نزول مسیح علیہ السلام کا اظہار فرماتے ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم آیت قرآن کے ساتھ اس پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ خود اس روایت کو بخاری شریف میں درج فرماتے ہیں۔
جواب: ۲… امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر نزول تک کے واقعات کو صحیح بخاری میں نقل کیا ہے اور مختلف باب باندھے ہیں۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں: (۱)’’باب قول اللّٰہ تعالٰی وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ‘‘ (۲)’’باب وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِکَۃُ‘‘ (۳)’’باب وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِکَۃُ یَامَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہٗ الْمَسِیْحُ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ‘‘ (۴)’’باب قولہ یَا اَہْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ‘‘ (۵)’’باب وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ‘‘ (۶)’’باب نزول عیسٰی ابن مریم علیہما السلام‘‘
پھر ہر ایک باب کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث لائے ہیں۔ آخری باب کے شروع پر کوئی آیت قرآن نہیں لکھی کیونکہ اس باب میں جو حدیث لائے اس کے اندر خود آیت: ’’وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ‘‘ سے تمسک کیا ہوا ہے۔
حضرات! غور فرمائیے کہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ اسی مسیح ابن مریم علیہ السلام کی آمد کے قائل ہیں جس کا ذکر مختلف ابواب میں کیا ہے یا کسی اور شخص کے لئے؟
جواب: ۳… نیز بخاری شریف میں نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا باب تو ہم نے دیکھا ساری دنیا کے مرزائی مل کر امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں وفات مسیح بن مریم کا باب دکھا سکتے ہیں؟ نہیں اور قیامت تک نہیں تو پھر قادیانی چیف گرو لاٹ پادری مرزااور قادیانیوں کو امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی کرتے شرم آنا چاہئے۔ لیکن شرم اور قادیانیت آپس میں ضد ہیں۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ تو کیا ان کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھا کہ ان احادیث نبویہ میں سوائے مسیح ابن مریم علیہما السلام کے کسی آئندہ پیدا ہونے والے پنجابی شخص مریض مراقی کی آمد کا تذکرہ ہے۔ حاصل یہ کہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔
جواب: ۴… اس پر مزید تشفی کے لئے ہم ان کی تاریخ سے ان کا فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ یُدْفَنُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَصَاحِبَیْہِ فَیَکُوْنُ قَبْرُہٗ رَابِعً ا‘‘ (درمنثور ج۲ ص۲۴۵)
۵… ’’ لیدفن عیسٰی بن مریم مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی بیتہ ‘‘ عیسیٰ بن مریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ شریف میں دفن ہوں گے۔ (تاریخ الکبیر للبخاری ج۱ ص۲۶۳ نمبر۸۳۹)

امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ​

ایسا ہی امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ پر قادیانیوں نے جھوٹ باندھا ہے کہ وہ بھی وفات کے قائل تھے۔ اس پر مجمع البحار وشرح اکمال الاکمال سے نقل کیا ہے کہ: ’’ قال مالک مات عیسٰی ‘‘
جواب: ۱… اوّل تو یہ قول بے سند ہے کوئی سند اس کی بیان نہیں کی گئی۔ پس کیسے سمجھا جائے کہ اس جگہ مالک سے مراد امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں اور یہ روایت صحیح ہے؟
جواب: ۲… بعض سلف کا یہ بھی مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے جانے سے قبل سلائے گئے تھے۔ چنانچہ لفظ توفی کے یہ بھی ایک معنی ہیں۔ ’’ وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّہَارِ (انعام:۶۰) ‘‘ اﷲ وہ ذات ہے جو رات کو تمہیں سلا دیتا ہے اور جانتا ہے جو تم دن میں کماتے ہو۔ پس اگر یہ فی الواقع امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے تو اس سے مراد سلانا ہے۔ ’’کیونکہ مات کے معنی لغت میں ’’نَامَ‘‘ بھی ہیں۔ دیکھو قاموس‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۳۹، خزائن ج۳ ص۴۴۵)
جواب: ۳… ’’ وفی العتبیۃ قال مالک بین الناس قیام یستمعون لاقامۃ الصلٰوۃ فتغشاہم غمامۃ فاذا انزل عیسٰی ‘‘ (شرح اکمال الاکمال ج۱ ص۴۴۶)
’’عتبیہ میں ہے کہ کہا مالک رحمہ اللہ تعالیٰ نے لوگ نماز کے لئے تکبیر کہہ رہے ہوں گے کہ ایک بدلی چھا جائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔‘‘ اس تصریح کے اسی کتاب میں ہوتے ہوئے بھی کوئی دجال حضرت امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کو وفات مسیح علیہ السلام کا قائل قرار دے تو دلائل کی دنیا میں اسے کون قائل کر سکتا ہے؟ الغرض امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ حیات مسیح ونزول فی آخرالزمان کے قائل تھے۔ چنانچہ آپ کے مقلدین معتقد ہیں۔ حیات مسیح علیہ السلام کے۔ علامہ زرقانی مالکی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں: ’ ’رفع عیسٰی وہو حی علی الصحیح ‘‘
(شرح مواہب لدنیہ ج۵ ص۳۵۱، یہاں ص۳۴۶سے۳۵۴تک حیات مسیح کی تفصیل درج ہے)
نیز علامہ زرقانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے (شرح مواہب ج۱ ص۱۱۶، نزول مسیح ج۶ ص۱۶۳، حیات مسیح ج۸ ص۲۹۶) پر مسیح علیہ السلام کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تدفین کا ذکر کیا ہے۔
نوٹ: اور واضح ہو کہ کتاب عتبیہ امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کی نہیں ہے بلکہ امام عبدالعزیز اندلسی قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ جس کی وفات ۲۵۴ میں ہوئی۔ (کشف الظنون ج۱ ص۱۰۶،۱۰۷)

حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ وحضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ​

مذکورہ بالا ائمہ کرام کے متعلق بھی قادیانیوں نے بلاثبوت افتراء کیا ہے کہ یہ سب اس مسئلہ میں خاموش تھے لہٰذا وفات مسیح کے قائل تھے۔
جواب: ۱… ’’ نزول عیسٰی علیہ السلام من المساء حق کائن ‘‘
(فقہ اکبر مؤلفہ امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ ص۵۴، مطبوعہ گوجرانوالہ)
جواب: ۲… امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کی مسند میں تو بیسیوں احادیث حیات مسیح کی موجود ہیں۔ لہٰذا ان کو قائل وفات گرداننا انتہائی ڈھٹائی اس کے لئے (مسند احمد ج۱ ص۳۷۵، ج۲ ص۲۲، ۳۹، ۶۸، ۸۳، ۱۲۲، ۱۲۶، ۱۴۴، ۱۵۴، ۱۶۶، ۲۴۵، ۲۷۲، ۲۹۰، ۲۹۸، ۲۹۹، ۳۳۶، ۳۹۴، ۴۰۶، ۴۱۱، ۴۳۷، ۴۸۲، ۴۹۴، ۵۱۳، ۵۳۸، ۵۴۰، ج۳ ص۳۴۵، ۳۶۸، ۳۸۴، ۴۲۰ ج۴ ص۱۸۱، ۱۸۲، ۲۱۶، ۲۱۷، ۳۹۰، ۴۲۹، ج۵ ص۱۳،۱۶، ۲۷۴، ج۶ ص۷۵) پر نظرکی جائے تو چمکتی دمکتی ۳۹روایات نظر آجائیں گی۔ امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کی مسند کی کوئی جلد حیات مسیح کی روایات سے خالی نہیں۔ لہٰذا ان کو قائل وفات گرداننا انتہائی ڈھٹائی ہے۔

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ تعالیٰ​

امام ابن حزم رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلاف بھی غیروں کی کتابوں کی بناء پر قادیانیوں نے اتہام باندھا ہے۔ حالانکہ وہ برابر حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔
۱… ’’ ان عیسٰی ابن مریم سینزل ‘‘ (المحلی ج۱ ص۹۴) اس مقام پر اس صراحت کے بعد وہ ’’ نزول عیسیٰ بن مریم الیٰ الارض ‘‘ کی احادیث لائے ہیں۔
۲… ’’ فکیف یستجیز مسلم ابن یثبت بعدہ علیہ السلام نبیا فی الارض حاشا ما استثناہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الاثار المسندۃ الثابتۃ عن نزول عیسٰی ابن مریم فی اخر الزمان ‘‘
(کتاب الفصل ج۳ ص۱۱۴)
یعنی کسی مسلمان سے کس طرح جائز ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زمین میں کسی نبی کو ثابت کرے۔ الّٰا اسے جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث صحیحہ ثابتہ میں مستثنیٰ کر دیا ہو۔ عیسیٰ بن مریم کے آخری زمانہ میں نازل ہونے کے بارے میں۔
۳… ’’ واما من قال ان بعد محمدٍ صلی اللہ علیہ وسلم نبیا غیر عیسٰی ابن مریم فانہ لا یختلف اثنان فی تکفیرہ (الفصل فی الملل والاہوا والنحل ج۲ ص۲۶۹، باب فیمن یکفر) ‘‘ جو شخص اس بات کا قائل ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سوائے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کے کوئی اور نبی ہے۔ (مثلاً غلام احمد قادیانی) اس شخص کے کفر میں امت محمدیہ میں سے دو کس بھی مخالف نہیں۔
(الفصل ج۱ ص۱۰۱) پر امام حزم رحمہ اللہ تعالیٰ نے وفاۃ کی دو قسمیں بیان کیں۔ ایک نیند اور دوسری موت۔ ’’ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ ‘‘ میں موت کے معنی کو متعین کر کے ان کے رفع جسمی کے قائل ہیں کہ ان پر چند ساعتوں کے لئے موت واقع ہوئی۔ اس وقت وہ زندہ ہیں۔ آسمانوں پر موجود ہیں۔ نازل ہوں گے پوری امت کی طرح وہ اس کے قائل ہیں۔
۴… ’’ ان عیسٰی علیہ السلام لم یقتل ولم یصلب ولٰکن توفاہ اللّٰہ عزوجل ثم رفعہ الیہ… ومن قال انہ علیہ السلام قتل او صلب فہو کافر مرتد حلال دمہ ومالہ لتکذیبہ القرآن وخلافہ الاجماع (المحلی ج۱ ص۱۰۱) ‘‘ عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل ہوئے نہ صلیب پر چڑھائے گئے۔ بلکہ اﷲتعالیٰ نے ان کو وفات دے کر پھر زندہ کیا اور اپنی طرف اٹھالیا اور جو ان کے قتل یا صلیب پر چڑھائے جانے کا قائل ہو (جیسے مرزاقادیانی) وہ کافر ومرتد ہے۔ واجب القتل ہے۔ اس لئے وہ قرآن کی تکذیب اور اجماع (امت) کے خلاف کرنے والا ہے۔
۵… احادیث صحیحہ سے نزول مسیح کے قائل ہیں۔ (الفصل ج۱ ص۹۵)
۶… تورات وانجیل عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بعد باطل ہوگئیں۔ (الفصل ج۱ ص۲۳۶)
۷… مسیح علیہ السلام کے حواری ان کے رفع کے بعد تین سو سال بے خانماں رہے۔
(الفصل ج۱ ص۲۵۳)
۸… (الفصل ج۱ ص۳۳۹) پر ہے کہ قسطنطنیہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے تین سو سال بعد فتح ہوا۔
۹… (الفصل ج۳ ص۱۹۱) پر ہے کہ جو لوگ (جیسے مرزائی) کہتے ہیں کہ اس امت میں کوئی عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوسکتا ہے۔ وہ بے حیاء ہے جو غیر نبی کو نبی پر فضیلت دے (جیسے مرزاقادیانی، ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ معاذ اﷲ) ان تصریحات کے بعد ابن حزم کو وفات کا قائل قرار دینا صریحاً ڈھٹائی ہے۔

مولانا عبدالحق محدث دہلوی اور نواب صدیق حسن خان​

ایسا ہی مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ اور مولانا نواب صدیق حسن خاں قنوجی رحمہ اللہ تعالیٰ پر قادیانیوں نے افتراء کیا کہ انہوں نے عمر مسیح ۱۲۰ برس لکھی ہے۔ لہٰذا وہ وفات کے اقراری ہیں۔
الجواب: یہ بزرگ حیات کے قائل ہیں۔ البتہ ان کا یہ خیال ہے کہ مسیح علیہ السلام کا ۳۳برس کی عمر میں رفع نہیں ہوا۔ ایک سو بیس کی عمر میں وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور زندہ اٹھائے گئے ہیں۔
’’ ونزول عیسیٰ بن مریم ویاد کرد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرود آمدن عیسیٰ را از آسمان برزمین۔ ‘‘
(کتاب اشعۃ اللمعات ج۴ ص۳۴۴، مصنفہ شیخ عبدالحق دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ )
ایسا ہی (ج۴ ص۳۷۳) پر مسیح کا آسمان سے نازل ہونا لکھا ہے۔ ایسا ہی تفسیر حقانی میں لکھا ہے: ’’اور یہ حق ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب قیامت کے قریب نازل ہوں گے سو اس وقت سوا دین حق کے اور کوئی دنیا پر غالب نہ ہوگا۔ اس وقت یہود بھی اس جلال وشوکت کو دیکھ کرایمان لائیں گے اور یہ معنی اس حدیث سے ثابت ہیں کہ جس کو بخاری ومسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے نقل کیا کہ قیامت کے قریب عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ موقوف کردیں گے۔‘‘ (تفسیر حقانی سورۃ نساء زیر آیت ’’وان من اہل الکتاب‘‘)
اور نواب صدیق حسن خاں نے تو اپنی کتاب (حجج الکرامہ) میں نزول وحیات مسیح علیہ السلام پر ایک مستقل باب باندھا۔ جس میں آیت: ’’ وان من اہل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ ‘‘ سے استدلال کیا ہے۔ یہ بات (حجج الکرامہ ص۴۲۲تا۴۳۴) پر محیط ہے۔ اس سے بیسویں آیات واحادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم واقوال صحابہi سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے اور آسمانوں سے قرب قیامت نزول اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ طیبہ میں تدفین کی روز روشن کی طرح صراحتیں ہیں۔ اس کے باوجود بھی کوئی بدنصیب قادیانی، مولانا نواب صدیق حسن خان کو وفات مسیح کا قائل قرار دیتا ہے تو اس کا علاج ’’ویقتل الخنزیر‘‘ ہی ہے۔ فافہم!

امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ​

اس بزرگ امام پر قادیانیوں نے بھی ہاتھ صاف کیا ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام کو وفات شدہ خیال کرتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے ’’مدارج السالکین‘‘ میں ’’ لَوْکَانَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی حَیَّیْنِ ‘‘ اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے، حدیث نقل کی ہے۔
الجواب: امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہرگز اس قول کو حدیث نہیں کہا بلکہ یہ ان کا اپنا قول ہے۔ مطلب ان کا اس قول سے نہ ثبوت حیات دینا مطلب ہے نہ وفات کا تذکرہ، بلکہ مقصود ان کا یہ ہے کہ اگر آج زمین پر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام موجود ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے۔ یعنی زمین کی زندگی کو فرض کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی ثابت کرنا چاہی ہے نہ کہ وفات کا اظہار۔ چنانچہ وہ اسی عبارت میں جسے مرزائی خیانت سے نقل نہیں کرتے۔ آگے چل کر نزول مسیح علیہ السلام کا اقرار فرماتے ہیں۔ ’’ ومحمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث الی جمیع الثقلین فرسالتہ عامۃ لجمیع الجن والانس فی کل زمان ولوکان موسٰی وعیسٰی حیین لکانا من اتباعہ واذا نزل عیسٰی ابن مریم فانما یحکم بشریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ (مدارج السالکین ج۲ ص۳۱۳، مطبوعہ مصر ج۲ ص۲۴۳)
’’یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تمام کافہ جن وانس کے لئے اورہر زمانے کے لئے ہے۔ بالفرض اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام (آج زمین پر) زندہ ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے اور جب عیسیٰ بن مریم نازل ہوگا تو وہ شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی عمل کرے گا۔‘‘
مرزائیو! اپنی اغراض کو پورا کرنے کے لئے کسی کے اصل مفہوم کو بگاڑنا بعید از شرافت ہے۔ سنو! اگر اس قول سے ضرور وفات ہی ثابت کرنا چاہو گے تو ساتھ ہی مرزاقادیانی کی رسالت بھی چھوڑنی پڑے گی۔ کیونکہ وہ حیات موسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔ حالانکہ اس قول میں موسیٰ علیہ السلام کی وفات مذکور ہے۔ ’’ فما جوابکم فہو جوابنا ‘‘
بالآخر ہم امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتب سے بعبارۃ النص حیات مسیح کا ثبوت پیش کرتے ہیں جس سے ہر ایک دانا جان لے گا کہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ کا وہی مطلب ہے جو ہم نے اوپر لکھا ہے وفات مقصود نہیں۔
۱… ’’ وہذا المسیح ابن مریم حی لم یمت وغذاؤہ من جنس غذا الملٰئکۃ ‘‘
(کتاب التبیان مصنفہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ ص۱۳۹)
مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ ابھی فوت نہیں ہوئے اور ان کی غذا فرشتوں کی غذا جیسی ہے۔
۲… ’’ وانہ رفع المسیح الیہ ‘‘ (ص۲۲ کتاب مذکورہ)
تحقیق اﷲتعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھالیا۔
۳… ’’ وہو نازل من السماء فیحکم بکتاب اللّٰ ہ‘‘ اور وہ آسمان سے نازل ہوکر قرآن پر عمل کرے گا۔ (ہدایۃ المحیاریٰ مع ذیل الفاروق ص۴۳، مطبوعہ مصر)

حافظ محمد لکھوی رحمہ اللہ تعالیٰ​

اس بزرگ پر بھی قادیانیوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ وفات مسیح کا قائل تھا۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور افتراء بلکہ بے ایمانی ہے۔ وہ اپنی تفسیر (موسومہ محمدی ج۱ ص۲۹۱، زیر آیت: ’’ وَمَکَرُوْا وَمَکَرَاللّٰ ہ‘‘) پر لکھتے ہیں کہ جب یہود نے مسیح کو پکڑنا چاہا۔
تاں جبرائیل گھلیا رب لے گیا وچہ چوبارے
اس چھت اندر ہک باری اوتھوں ول آسماں سدھارے
سردار تنہاندے طیطیانوس نوں کیتا حکم زبانوں
جو چڑھے چبارے قتل کریں عیسیٰ نوں ماریں جانوں
جاں چڑھ ڈٹھس وچہ چبارے عیسیٰ نظر نہ آیا
شکل شباہت عیسیٰ دی رب طیطیانوس بنایا
انہاں ظن عیسیٰ نوں کیتا سولی فیر چڑھایا
ہک کہن جو مرد حواریاں تھیں ہک سولی مار دیوایا
یعنی خدا نے اس وقت جبرائیل بھیجا جو عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان پر لے گیا۔ جب طیطیانوس انہیں قتل کرنے کے ارادہ سے اندر گیا تو خدا نے اسے عیسیٰ علیہ السلام کی شکل بنادیا جسے سولی دیا گیا۔ اسی طرح اگلے صفحہ پر آیت ’’ انی متوفیک ورافعک ‘‘ کی تفسیر کرتے ہیں۔
جا کہیا خدا اے عیسیٰ ٹھیک میں تینوں پورا لیساں
تے اپنی طرف تینوں کنوں کفاراں پاک کریساں
توفی معنی قبض کرن شے صحیح سلامت پوری
تے عیسیٰ نوں رب صحیح سلامت لے گیا آپ حضوری
یعنی جب کہا اﷲتعالیٰ نے اے عیسیٰ میں تجھے پورا پورا لے کر اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ توفی کے معنی کسی چیز کو صحیح وسلامت پورا لینے کے ہیں۔ سو ایسا خدانے مسیح کو اپنے حضور میں بلالیا۔

ابن عربی رحمہ اللہ تعالیٰ​

اگرچہ مرزاقادیانی نے مسئلہ وحدۃ الوجود کے رد میں حضرت ابن العربی رحمہ اللہ تعالیٰ کو سب سے پہلا وجودی قرار دیا۔ (ملفوظات ج۳ ص۳۰۶)
پھر ان وجودیوں کو دہریہ قابل نفرت اور قابل کراہت قرار دیا۔ (ملفوظات ج۸ ص۵۳)
مگر جہاں ضرورت پڑی انہیں صاحب مکاشفات ولی اﷲ ظاہر کر کے اپنی اغراض نفسانیہ کو پورا بھی کیا ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ بزرگ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ اس پر تفسیر ’’عرائس البیان‘‘ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ خود یہی بات مشکوک ہے کہ یہ تفسیر ان کی ہے بھی یا نہیں پھر جو عبارت پیش کی جاتی ہے اس میں بھی وفات مسیح کا کوئی لفظ نہیں صرف یہ ہے کہ مسیح دوسرے بدن کے ساتھ اترے گا۔ اب دوسرے بدن کا مطلب ظاہر ہے جب تک حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر رہے۔ بوجہ طعام ارضی ان میں کثاد ہے۔ مگر اب صدہا برس کے بعد جب نازل ہوں گے تو یقینا روحانیت کا غلبہ تام ہوگا۔
حضرت ابن عربی رحمہ اللہ تعالیٰ تو حیات مسیح علیہ السلام کے اس قدر قائل ہیں کہ کوتاہ نظر انسان انہیں غلوتک پہنچا ہوا قرار دے گا۔ تفصیل کے لئے فتوحات مکیہ دیکھیں۔ اس جگہ صرف اختصار کے طور پر ایک دو عبارات پیش کرتا ہوں۔
’’ ان عیسٰی علیہ السلام ینزل فی ہذہ الامۃ فی اٰخرالزمان ویحکم بشریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۱۲۵، سوال:۱۴۵)
’’ انہ لم یمت الی الان بل رفعہ اللّٰہ الی ہذہ السماء واسکنہ فیہا ‘‘ (ج۳ ص۳۴۱، باب:۳۶۷)
ایسا ہی (ج۱ ص۱۳۵تا۱۴۴، ص۱۸۵تا۲۲۴، ج۲ ص۳تا۴۹، ص۱۲۵، ج۳ ص۵۱۳) وغیرہ میں حیات مسیح علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔

ابن جریر رحمہ اللہ تعالیٰ​

امام ابن جریر رحمہ اللہ تعالیٰ نے جا بجا اپنی تفسیر میں حیات مسیح کا ثبوت دیا ہے۔ چونکہ تفاسیر میں مختلف لوگوں کے اقوال نقل ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے کسی کا قول نقل کر دیا ہے کہ ’’ قدمات عیسیٰ ‘‘ مرزائیوں نے جھٹ اسے ابن جریر کا قول قرار دے دیا۔ حالانکہ ہم اس کتاب میں کئی ایک عبارتیں امام ابن جریر رحمہ اللہ تعالیٰ کی لکھ آئے ہیں۔ اس جگہ ایک اور تحریر نقل کی جاتی ہے۔ جس میں امام موصوف نے جمیع اقوال متعلقہ توفی مسیح لکھ کر بعد میں اپنا فیصلہ دیا ہے۔
’’ واولی ہذہ الاقوال بالصحۃ عندنا قول من قال معنی انی قابضک من الارض ورافعک علی التواتر الاخبار عن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ توفی کے متعلق جو بحث ہے کوئی کہتا ہے کہ توفی بمعنی نیند ہے اور کوئی کہتا ہے کہ توفی بمعنی موت ہے جو آخری زمانہ میں ہوگی۔ ان سب اقوال میں ہمارے نزدیک صحیح وہ قول ہے جو کہاگیا ہے کہ میں ’’زمین سے پورا پورا لینے والا ہوں۔‘‘ یہ معنی اس لئے اقرب الی الصواب ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث میں آیا کہ: ’’ انہ ینزل عیسٰی ابن مریم فیقتل الدجال ثم یمکث فی الارض ثم یموت ‘‘
(ج۳ ص۲۹۱، زیر آیت انی متوفیک)
بے شک وہ عیسیٰ بن مریم نازل ہوگا۔ پھر قتل کرے گا دجال کو پھر رہے گا زمین پر پھر وفات پائے گا۔
اس تحریر میں امام موصوف نے صاف فیصلہ کر دیا ہے کہ جس مسیح ابن مریم علیہما السلام کے بارے میں آیت ’’ انی متوفیک ورافعک ‘‘ وارد ہوئی، جس میں اختلاف کیا جاتا ہے وہی زمین سے اٹھایاگیا ہے اور وہی نازل ہوگا۔
مرزائیو! تمہارے نبی نے اس امام ہمام کو ’’رئیس المفسرین‘‘ اور ’’معتبر از ائمہ محدثین‘‘ لکھا ہے۔ آؤ اسی کی تحریرات پر فیصلہ کر لو۔ تم تو صرف دھوکا دینا چاہتے ہو، تمہیں ایمان وانصاف سے کیا کام؟

مصنف الیواقیت والجواہر​

قادیانیوں نے کہا ہے کہ یہ بھی وفات مسیح کے قائل ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ’’حدیث موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام‘‘ حیین نقل کی ہے۔
الجواب: پھر تو مرزاقادیانی کاذب ہیں۔ کیونکہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو زندہ لکھا ہے۔ ادھر ادھر کے یہودیانہ تصرف کی بجائے اگر صداقت مطلوب ہے تو آؤ ہم اس بارے میں اس بزرگ کی کتابوں پر تمہارے ساتھ شرط باندھتے ہیں جو کچھ ان میں ہو، ہمیں منظور۔ مگر ؎
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار تم سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں​
یہ بزرگ اپنی کتاب میں خود ہی یہ سوال کر کے کہ مسیح کے نازل ہونے پر کیا دلیل ہے۔ جواب دیتے ہیں: ’’ الدلیل علٰی نزولہ قولہ تعالٰی وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای حین ینزل ویجتمعون علیہ انکرت المعتزلۃ والفلاسفۃ والیہود والنصاریٰ (والمیرزائیہ۔ ناقل) عروجہ بجسدہ الی السماء وقال تعالٰی فی عیسٰی علیہ السلام وانہ لعلم للساعۃ والضمیر فی انہ راجع الٰی عیسٰی والحق انہ رفع بجسدہ الٰی السماء والایمان بذالک واجب قال اللّٰہ تعالٰی بل رفعہ اللّٰہ الیہ ‘‘ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۱۴۶)
’’دلیل نزول مسیح پر اﷲتعالیٰ کا قول ہے کہ نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب مگر ایمان لائے گا ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کے پیشتر اس کے مرنے کے یعنی وہ اہل کتاب جو نزول کے وقت جمع ہوں گے اور منکر ہیں معتزلی اور فلاسفہ ویہود ونصاریٰ (اور ہمارے زمانہ میں قادیانی متنبی وذریۃً۔ ناقل) مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کے۔ فرمایا اﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہ وہ نشانی ہے قیامت کی اور ضمیر ’’انہ‘‘ کی مسیح علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہ بمعہ جسم کے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور واجب ہے اس پر ایمان لانا کیونکہ خدا نے قرآن میں فرمایا کہ بلکہ اٹھالیا اﷲ نے اس کو۔‘‘
قادیانی دوستو! اس تحریر کو بغور پڑھو۔ دیکھو یہ تمہارا مسلمہ ومقبولہ امام اور ولی اﷲ ہے۔ کیا اب بھی ان پر افتراء ہوگا کہ وہ حیات مسیح علیہ السلام اور رفع ونزول کے قائل نہیں؟ شرم باید کرد۔

حیات مسیح، قادیانی اور مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ​

قادیانی: ’’ الہام الرحمن ‘‘ میں حضرت مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا انکار لکھا ہے۔
جواب: ۱… حضرت مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ مرد مجاہد تھے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ تعالیٰ کے شاگرد اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھی اور امام الہند حضرت شاہ ولی اﷲ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نظریات کے علمبردار تھے۔ ان کی طرف وفات مسیح کی نسبت کرنا زبردست زیادتی اور غلط بیانی ہے۔ بات کا تجزیہ کرنے سے قبل چند امور لائق توجہ ہیں۔
الف… مولانا صوفی عبدالحمید سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کے علوم وافکار‘‘ کے ص۷۸ پر تحریر کیا ہے کہ: ’’مولانا عبیداﷲ سندھی کی طرف منسوب تحریریں اکثر وہ ہیں جو املائی شکل میں ان کے تلامذہ نے جمع کی ہیں۔ مولانا کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی تحریرات اور بعض کتب بہت دقیق، عمیق اور فکر انگیز ہیں اور مستند بھی ہیں۔ لیکن املائی تحریروں پر پورا اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور بعض باتیں ان میں غلط بھی ہیں جن کو ہم املا کرنے والوں کی غلطی پر محمول کرتے ہیں۔ مولانا کی طرف ان کی نسبت درست نہ ہوگی۔‘‘
ب… مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ اور ان کے علوم وافکار ص۸۴ پر ہے کہ: ’’مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ ، مولانا شاہ ولی اﷲ رحمہ اللہ تعالیٰ اور مولانا شیخ الہند رحمہ اللہ تعالیٰ کے طریقہ سے باہر نہیں نکلے۔ یہ باتیں ایسی ہیں کہ املاء کرنے والوں نے مولانا سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کی تقریر کو یا تو سمجھا نہیں یا اپنے ذہن کے مطابق کشید کیا ہے۔ یہ قابل اعتبار نہیں اور نہ لائق اعتناء ہیں۔‘‘
ج… مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’الفرقان شاہ ولی اﷲ رحمہ اللہ تعالیٰ نمبر‘‘ کے اداریہ ص۴ پر نگاہ اوّلین کے تحت حضرت سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ’’جو بات میں ایسی کہوں جس کو حضرت شاہ ولی اﷲ رحمہ اللہ تعالیٰ ، شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ اور ان کے مستفیضین یا مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ دکھا سکوں تو میں اس کو ہر وقت واپس لینے کو تیار ہوں۔ میں ان اکابر کے علوم سے باہر نہیں جاتا۔ اگر فرق ہوتا ہے تو صرف تعبیر کا۔‘‘
ان وضاحتوں کے بعد اب ’’الہام الرحمن‘‘ کی ان عبارتوں کو دیکھا جائے جو وفات مسیح علیہ السلام کے متعلق ہیں تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ وفات مسیح کے عقیدہ کی مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت سو فیصد نہیں ہزارفیصد غلط ہے۔ اس لئے کہ مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ ، حضرت شاہ ولی اﷲ رحمہ اللہ تعالیٰ کے پیروکار اور حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ تعالیٰ کے شاگرد تھے۔ یہ تمام حضرات، حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔ مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ تعالیٰ ایسے بیسیوں علماء حضرت سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کے شاگرد ہیں جو سب حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے تو ثابت ہوا کہ مولانا کے اساتذہ ومشائخ وشاگرد جب سب حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں، اور خود مولانا سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ان کی رائے کے خلاف نہیں جاتا تو وہ پھر کیسے وفات مسیح کے قائل تھے؟
جواب: ۲… مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف جن کتب میں وفات مسیح کی نسبت کی گئی ہے ان میں سے ایک کتاب بھی مولانا سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کی اپنی تحریر کردہ نہیں۔ دوسرے لوگوں نے لکھ کر ان کی طرف نسبت کر دی ہے۔ دو کتابیں اس وقت میرے سامنے ہیں۔ ایک ان کے اپنے ہاتھ کی ہے دوسری انہوں نے مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی رحمہ اللہ تعالیٰ کو پڑھائی اور تحریر کرائی۔ ان میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ بیان کیاگیا ہے۔ جب ان کے ہاتھ سے تحریر کردہ کتاب میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ موجود ہے تو پھر دوسروں کی کسی بات کا کیا اعتبار ہے؟
چنانچہ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے افکار پر مشتمل ’’رسالہ محمودیہ‘‘ حضرت مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’ترجمہ عبیدیہ‘‘ کے نام سے تحریر کیا ہے۔ جس کے ص۲۶،۲۷ پر مولانا سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ فعسی ان تکون سارًا لافق الکمال غاشیًا لأقلیم القرب فلن یوجد بعدک الاولک دخل فی تربیتہ ظاہرًا وباطنًا حتی ینزل عیسٰی علیہ السلام ‘‘ تو عنقریب کمال کے افق کا سردار بن جائے گا اور قرب الٰہی کی اقلیم پر حاوی ہو جائے گا۔ تیرے بعد کوئی مقرب الٰہی ایسا نہیں ہوسکتا جس کی ظاہری وباطنی تربیت میں تیرا ہاتھ نہ ہو۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں۔
اسی طرح ’’الخیر الکثیر‘‘ جو حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی تصنیف ہے جس کا ترجمہ حضرت مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ نے املا کرایا ہے۔ تحقیق وترجمہ لکھنے والے مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں۔ حیدرآباد سندھ کی شاہ ولی اﷲ اکیڈمی سے سے شائع ہوا ہے۔ اس کے (ص۱۰۶) پر ہے: ’’اسی نوع کے امام عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ چیز ان کو جبرائیل علیہ السلام کی پھونک سے حاصل ہوئی ہے اور اس لئے معین ہوا ہے کہ نازل ہوکر دجال کو قتل کرے۔‘‘
اس کے (ص۱۱۷) پر ہے: ’’عیسیٰ علیہ السلام جب زمین پر نازل ہوں گے۔‘‘
ان تصریحات کے ہوتے ہوئے کوئی حضرت سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات مسیح کے عقیدہ کی طرف نسبت کرے اس سے بڑا اور کوئی ظلم نہیں ہوسکتا۔
جواب: ۳… ’’الہام الرحمن‘‘ جو موسیٰ جار اﷲ وغیرہ کی تحریر کردہ ہے غلط طور پر حضرت سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ اس کی ثقاہت کا یہ عالم ہے کہ محمد نور مرشد نے اس کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ: ’’مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ نے بعض تابعین کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔‘‘
اب جس کتاب میں مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف یہ روایت کی گئی ہواس کتاب کے غیر مستند ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے۔ اس لئے کہ مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کی ’’عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام، التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر مستند کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کے ہوتے ہوئے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کے شارح، قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کے علمبردار،حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کے متعلق جس کتاب میں ایسی بے سروپا، غلط ومن گھڑت روایت درج کی جاسکتی ہے تو ناممکن نہیں کہ اس میں مولانا سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف غلط روایت منسوب کر دی گئی ہو۔
جواب: ۴… مولانا عبدالحمید سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ پاکستان میں حضرت سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نظریات کے شارح اور ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ آپ نے اپنی کتاب ’’مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کے علوم وافکار‘‘ کے (ص۷۴،۷۵) پر اس مسئلہ کے متعلق تحریر فرمایا ہے: ’’مولوی محمدمعاویہ مرحوم آف کبیروالا بھی مولانا سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کے مشن اور کتب سے دلچسپی رکھتے تھے۔
انہوں نے الہام الرحمن ج۱،۲ کا اردو میں ترجمہ بھی شائع کرایا تھا۔ اس کی اشاعت کے وقت میں نے ان سے عرض کیا تھا کہ مولانا سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف مسئلہ وفات المسیح کی نسبت درست نہیں۔ اس کی کچھ وضاحت ہونی چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے اس کی طبع دوم کے وقت ایک مختصر سا مضمون شائع کرایا تھا۔ اصل میں وفات مسیح کا مسئلہ مرزائیوں، قادیانیوں اورلاہوریوں نے زیادہ اٹھایا تھا تاکہ وفات مسیح کو ثابت کرنے کے بعد ان تمام احادیث کی تاویل اپنے زعم فاسد کے مطابق مرزاقادیانی پر چسپاں کر سکیں اور یہ لوگ اسی عقیدہ فاسدہ کی بناء پر اور اجرائے نبوت کے قائل ہونے کی وجہ سے تمام طبقات امت کے نزدیک مرتد، کافر، زندیق اور خارج از اسلام ہیں۔ آج تک اہل اسلام میں سے کسی نے اس (حیات عیسیٰ علیہ السلام) کا انکار نہیں کیا اور قرب قیامت میں مسیح علیہ السلام کا نزول اجماعی عقیدہ ہے اور پھر یہ کہہ کر مغالطہ دینا کہ علم کلام کی کتابوں ’’شرح مواقف اور عضدیہ‘‘ وغیرہ میں اس کا ذکر نہیں کیاگیا۔ بہت غلط بات ہے جب کہ امام اعظم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ ، کی فقہ اکبر میں اور ’’بیان السنۃ‘‘ یا ’’عقیدۃ الطحاوی‘‘ میں اس کا ذکر موجود ہے جو علم کلام کا سب سے قدیم اور صحیح ماخذ ہے۔ پھر اس کا انکار کس طرح روا ہوسکتا ہے۔ اس کو بجز گمراہی اور کجروی کے اور کیا تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مولانا عبیداﷲ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ اور اس طرح مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ تعالیٰ اور بعض دیگر علماء کرام ایک اور بات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دین کو اﷲتعالیٰ نے مکمل کر دیا ہے۔ حضور خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر دین کی تکمیل ہوچکی ہے اور تکمیل دین کی آیت قرآن کریم میں نازل ہوچکی ہے۔ اب دین کی تکمیل کسی نئے ظہور پر موقوف نہیں۔ مسیح علیہ السلام اگر دوبارہ زمین پر آئیں گے یا مہدی علیہ الرضوان کا ظہور ہوگا تو یہ تکمیل دین کے لئے نہیں ہوگا بلکہ یہ قیامت کی علامات کے طور پر ہوگا۔ مسیح علیہ السلام کوئی نیا حکم جاری نہیں کریں گے۔ قرآن وسنت کے مطابق ہی عمل کریں گے اور اسی پر لوگوں کو کاربند بنائیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد قرآن وسنت پر عمل کرنا اور عمل کرانا یہ امت کا فریضہ ہے۔ یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں اور انتظار کریں کہ مسیح علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان کا ظہور ہوگا تو اس پر عمل مکمل ہوگا۔ یہ نظریہ باطل اور گمراہ کن ہے۔ یہ روافض اور اس قسم کے گمراہ لوگوں کا اعتقاد ہوسکتا ہے نہ کہ اہل ایمان کا۔‘‘ (ص۷۴،۷۵)

امام جبائی معتزلی​

مرزائی قائلین وفات میں امام جبائی کا نام بھی پیش کرتے ہیں۔ مگر باوجود معتزلی ہونے کے حیات مسیح اور رفع الی السماء کے قائل ہیں۔ سنو! ’’ قال الجبائی انہ لما رفع عیسٰی علیہ السلام ‘‘
(کشف الاسرار مطبوعہ مصر وعقیدۃ الاسلام ص۱۲۴)
صاحب کشف الاسرار علامہ جبائی سے ناقل ہیں کہ جبائی نے فرمایا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء ہوا تو یہود نے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں سے قتل کر دیا۔ لیجئے! جبائی معتزلی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل نہیں ہیں بلکہ وہ صاف صاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا مانتے ہیں۔
قادیانیوں نے ’’تاریخ طبری‘‘ سے لکھا ہے کہ کسی پہاڑ پر ایک قبر دیکھی گئی جس پر لکھا تھا کہ یہ مسیح رسول اﷲ کی قبر ہے۔
جواب: ۱… کیا کہنے ہیں اس دلیل بازی کے۔ کہاں قرآن وحدیث کی تصریحات اور کہاں اس قسم کی تفریحات۔ ہاں! جناب ایسی قبریں سینکڑوں بنی ہوئی ہیں۔ تمہارے نبی کے عقیدہ کی رو سے تو کشمیر میں بھی ہے اور وہی اصلی قبر ہے۔ پس اگر طبری والی روایت کو صحیح سمجھتے ہو تو پہلے کشمیر کے ڈھکوسلہ کا اعلان کردو۔ پھر ہم اس پر غور کریں گے۔
جواب: ۲… تفسیر ابن جریر کے متعدد حوالے گزر چکے ہیں کہ وہ حیات، رفع ونزول من السماء سیدنا مسیح ابن مریم کے قائل ہیں۔ ان حوالہ جات کے ہوتے ہوئے ابن جریر کو تاریخی روایت کی بناء پر ملزم گرداننا قادیانی سرشت کا خاصہ ہے۔
جواب: ۳… (عسل مصفٰی حصہ اوّل ص۴۶۸) مرزا خدابخش نے لکھا کہ: ’’گویہ قبر فرضی ہے اور بلاشک فرضی ہے۔‘‘
جواب: ۴… تاریخ طبری کی اس روایت میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے جو کذاب ہے۔ یہ موضوع ہے اور تاریخ میں موضوع روایات سے عقیدہ کا بت تراشنا قادیانی علم کلام کا شاہکار کارنامہ ہے۔
محمد بن اسحاق کے کذب کی بابت (القول المعمور فی شان الموعود ص۱۲۲،۱۲۳، ۱۷۳،۱۷۴) پر قادیانی سرور شاہ کی تصریحات ملاحظہ ہوں۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم

حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ​

ناظرین! مرزاغلام احمد قادیانی کی (کتاب البریہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱ حاشیہ) پر لکھا ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ حالانکہ یہ افتراء ہے۔ امام موصوف حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ ملاحظہ ہو: ’’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح اور زیارۃ القبور‘‘
۱… ’’ فبعث المسیح علیہ السلام رسلہ یدعونہم الٰی دین اﷲ تعالیٰ فذہب بعضہم فی حیاتہ فی الارض وبعضہم بعد رفعہ الٰی السماء فیدعرہم الٰی دین اﷲ ‘‘
(الجواب الصحیح ج۱ ص۱۱۶، طبع المجد التجاریۃ)
’’روم اور یونان وغیرہ میں مشرکین اشکال علویہ اور بتان زمین کو پوجتے تھے۔ پس مسیح علیہ السلام نے اپنے نائب بھیجے کہ وہ لوگوں کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ پس بعض مسیح علیہ السلام کی زندگی میں گئے اور بعض آپ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے۔‘‘
۲… ’’ ینزل عیسٰی بن مریم من السماء علی المنارۃ البیضا شرقی دمشق ‘‘
(ایضاً ص۱۷۷)
عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے سفید شرقی مینار پر دمشق میں نازل ہوں گے۔
۳… (ج۱ ص۳۴۹) پر ہے کہ وہ نزول کے بعد شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہوں گے۔
۴… (ج۲ ص۲۸۳تا۲۸۶) ’’وان من اہل الکتاب‘‘ سے سیدنا عیسیٰ بن مریم کے نزول الی الارض پر استدلال کیا ہے۔
۵… (ج۱ ص۳۲۴) پر نزول الی الارض کا اثبات ہے۔
۶… (ج۱ ص۲۸۷) پر ان کے رفع الی السماء کی صراحت ہے۔
۷… (ج۲ ص۲۸۵) پر توفی کی تین اقسام بتا کر روح مع الجسد ان کے رفع اور نزول الی الارض کا اثبات کیا ہے۔ ان تصریحات کے بعد کوئی بدنصیب ان کو وفات مسیح کا قائل قرار دے تو اس کی مرضی؟

مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ​

حضرت شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ تعالیٰ مکتوبات میں فرماتے ہیں۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد فرمود۔‘‘
(مکتوبات ۱۷، دفتر سوم ص۳۰۵، مطبوعہ سعید کمپنی کراچی)
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرما کر خاتم النّبیین کی شریعت کی پیروی کریں گے۔

پیران پیر رحمہ اللہ تعالیٰ​

سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ ’’غنیۃ الطالبین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ رفع اﷲ عزوجل عیسٰی علیہ السلام الیٰ السماء ‘‘ (مصری ج۲ ص۵۵)
یعنی اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا۔

خواجہ اجمیری رحمہ اللہ تعالیٰ​

حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد سنو۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام از آسمان فرود آید (انیس الارواح ص۹) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم اور عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام​

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے باسناد صحیح منقول ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا تو اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو مکان کے ایک دریچہ سے آسمان پر اٹھالیا اور ان ہی میں سے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہم شکل اور مشابہ بنادیا۔ یہودیوں نے اس کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر قتل کردیا اور مدعی ہوئے کہ ہم اپنے مدعا میں کامیاب ہوگئے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
۱… ’’ قال ابن ابی حاتم حدثنا احمد بن سنان حدثنا ابومعاویۃ عن الاعمش عن المنہال بن عمرو عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم قال لما اراد اﷲ ان یرفع عیسٰی الٰی السماء خرج علی اصحابہ وفی البیت اثنا عشر رجلا من الحواریین یعنی فخرج علیہم من عین فی البیت ورأسہ یقطر ماء فقال ان منکم من یکفر بی اثنی عشر مرۃ بعد ان امن بی قال ایکم یلقی علیہ شبہی فیقتل مکانی ویکون معی فی درجتی فقام شاب من احدثہم سنا فقال لہ اجلس ثم اعاد علیہم فقال ذالک الشاب فقال انا فقال ہو انت ذاک فالقی علیہ شبہ عیسٰی ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت الٰی السماء قال وجاء الطلب من الیہود فاخذوا الشبہ فقتل ثم صلبوہ الی اخر القصۃ وہذا اسناد صحیح الٰی ابن عباس ورواہ النسائی عن ابی کریب عن ابی معاویۃ وکذا ذکر غیر واحد من السلف انہ قال لہم ایکم یلقی شبہی فیقتل مکانی وہو رفیع فی الجنۃ ‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۹،۱۰)
’’ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے مروی ہے کہ جب حق تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو عیسیٰ علیہ السلام اس چشمہ سے کہ جو مکان میں تھا غسل فرماکر باہر تشریف لائے اور سرمبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ (بظاہر یہ غسل آسمان پر جانے کے لئے تھا جیسے مسجد میں آنے سے پہلے وضو کرتے ہیں) باہر مجلس میں بارہ حواریین موجود تھے۔ ان کو دیکھ کریہ ارشاد فرمایا کہ بے شک تم میں سے ایک شخص مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ کفر کرے گا بعد ازاں فرمایا کہ کون شخص تم میں سے اس پر راضی ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے اور وہ میری جگہ قتل کیا جائے اور میرے درجہ میں میرے ساتھ رہے یہ سنتے ہی ایک نوجوان کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو اس جاں نثاری کے لئے پیش کیا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا بیٹھ جا اور پھر عیسیٰ علیہ السلام نے اسی سابق کلام کا اعادہ فرمایا۔ پھر وہی نوجوان کھڑا ہوا اور عرض کیا، میں حاضر ہوں ؎
نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا تو ہی وہ شخص ہے اس کے فوراً ہی بعد اس نوجوان پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشندان سے آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ بعدازاں یہود کے پیادے عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے گھر میں داخل ہوئے اور اس شبیہ کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر گرفتار کیا اور قتل کر کے صلیب پر لٹکایا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سند اس کی صحیح ہے اور بہت سے سلف سے اسی طرح مروی ہے۔‘‘
اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے رفع الی السماء کا بذریعہ وحی پہلے ہی علم ہوچکا تھا اور یہ علم تھا کہ اب آسمان پر جانے کا تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے اور بظاہر یہ غسل آسمان پر جانے کے لئے تھا جیسا کہ عید میں جانے کے لئے غسل ہوتا ہے۔ بلکہ گمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت ذرہ برابر مضطرب اور پریشان نہ تھے بلکہ غایت درجہ سکون اور اطمینان میں تھے بلکہ نہایت درجہ شاداں وفرحاں تھے۔
۲… ’’ وان من اہل الکتٰب‘‘ میں عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے بھی باسناد صحیح یہی منقول ہے کہ ’’بہ‘‘ اور ’’موتہ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہیں۔ چنانچہ حافظ عسقلانی رحمہ اللہ تعالیٰ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں: ’’وبہذا جزم ابن عباس فیما رواہ ابن جریر من طریق سعید بن جبیر عنہ باسناد صحیح ومن طریق ابی رجاء عن الحسن قال قبل موت عیسٰی واللّٰہ انہ الآن لحی ولٰکن اذا ینزل امنوا بہ اجمعون ونقلہ عن اکثر اہل العلم ورجحہ ابن جریر وغیرہ ‘‘
(فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)
’’اسی کا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم نے جزم اور یقین کیا، جیسا کہ ابن جریر رحمہ اللہ تعالیٰ نے بروایت سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے باسناد صحیح روایت کیا ہے، اور بطریق ابی رجاء حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ سے اس آیت کی تفسیر قبل موت عیسیٰ کے منقول ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں واﷲ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آن میں بھی زندہ ہیں۔ جب نازل ہوں گے اس وقت ان پر سب ایمان لے آئیں گے اور یہی اکثر اہل علم سے منقول ہے اور اسی کو ابن جریر وغیرہ نے راجح قرار دیا ہے۔‘‘
۳… علامہ آلوسی رحمہ اللہ تعالیٰ روح المعانی میں لکھتے ہیں: ’’ والصحیح کما قال القرطبی ان اﷲ تعالیٰ رفعہ من غیر وفاۃ ولا نوم وہو الروایۃ الصحیحۃ عن ابن عباس ‘‘
(روح المعانی ج۳ ص۱۵۸، زیر آیت یا عیسیٰ انی متوفیک)
امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ اﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر موت اور بغیر نیند کے زندہ آسمان پراٹھالیا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کا صحیح قول یہی ہے۔
۴… امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا صاف مطلب یہی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے صحیح روایت یہی ہے کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور اس کے خلاف جو روایت ہے وہ ضعیف ہے۔ قابل اعتبار نہیں۔ ’’ قال الحافظ عماد الدین بن کثیر عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم قال لما اراد اللّٰہ ان یرفع عیسٰی الٰی السماء (الٰی ان قال) ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت الٰی السماء قال وجاء الطلب من الیہود فاخذوا الشبہ فقتلوہ ثم صلبوہ وہذا اسناد صحیح الٰی ابن عباس ‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۹)
حافظ عماد الدین بن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم فرماتے ہیں۔ جب اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو ایک شخص پر ان کی شباہت ڈال دی گئی اور وہ قتل کر دیا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشن دان سے آسمان پر اٹھالئے گئے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کے اس اثر کی سند صحیح ہے۔
۵… اور (تفسیر فتح البیان ج۲ ص۳۴۲) پر ہے کہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے سچ کہا کہ اس کی سند صحیح ہے۔ بے شک اس کے راوی بخاری کے راوی ہیں۔
۶… علامہ آلوسی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’ وَمَکَرُوْا وَمَکَرَاللّٰ ہُ‘‘ کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کا قول نقل کیا کہ مکر اﷲ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیاگیا۔
(روح المعانی ج۳ ص۱۵۷)
۷… تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے مروی ہے کہ: ’’ وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ ‘‘ سے نزول عیسیٰ علیہ السلام مراد ہے۔
۸… محمد بن سعد نے (طبقات کبریٰ ج۱ ص۴۴،۴۵) پر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کا ایک ثر نقل کیا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء کے بارے میں نص صریح ہے۔ ہم اس کو ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔ وہو ہذا!
’’ اخبرنا ہشام بن محمد بن السائب عن ابیہ عن ابی صالح عن ابن عبال قاص کان بین موسٰی بن عمران وعیسٰی بن مریم الف سنۃ وتسع مائۃ (الٰی ان قال) وان عیسٰی علیہ السلام حین رفع کان ابن اثنتین وثلاثین سنۃ وستۃ اشہر وکانت نبوتہ ثلاثین شہرا وان اللّٰہ رفعہ بجسدہ وانہ حی الان وسیرجع الٰی الدنیا فیکون فیہا ملکا ثم یموت کما یموت الناس ‘‘ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیانی زمانہ انیس سو سال ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جس وقت اٹھائے گئے تو ان کی عمر شریف ۳۲سال اور چھ ماہ کی تھی اور زمانۂ نبوت تیس ماہ تھا اور اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے جسم سمیت اٹھایا۔ دراں حالیکہ وہ زندہ تھے اور آئندہ زمانہ میں پھر وہ دنیا کی طرف واپس آئیں گے اور بادشاہ ہوں گے اور پھر چند روز بعد وفات پائیں گے۔ جیسے اورلوگ وفات پاتے ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کے اس قول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’رفع الٰی السماء‘‘ اور دوبارہ نزول صراحۃً معلوم ہوگیا۔ اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم نے ’’ سیرجع الی الدنیا ‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا جو رجوع سے مشتق ہے۔ جس کے معنی واپسی کے ہیں۔ یعنی جس طرح جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر گئے تھے اسی جسم کے ساتھ اسی طرح دوبارہ واپسی اور تشریف آوری ہوگی۔ خود بہ نفس نفیس وہ دنیا میں واپس تشریف لائیں گے کوئی ان کا مثیل اور شبیہ نہیں آئے گا۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم

خلاصۂ کلام​

یہ کہ اگر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ منقول ہے تو ان سے تقدیم وتاخیر بھی منقول ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نازل ہونا یہ بھی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے مروی ہے۔
مرزاقادیانی کو چاہئے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کے ان اقوال صریحہ کو بھی تسلیم کریں۔ حالانکہ ان اقوال کی اسانید نہایت صحیح اور قوی ہیں اورمتوفیک کی تفسیر جو ممیتک سے مروی ہے اس کی سند ضعیف ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم بھی متوفیک کے معنی موت کرتے تھے۔مذہب ان کا یہ تھا کہ:
۱… ’’ عن الضحاک عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم فی قولہ انی متوفیک الآیۃ رافعک ثم یمیتک فی اٰخرالزمان (الدرالمنثور ج۱ ص۳۶) ‘‘ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے آسمان پر زندہ اٹھانے والا ہوں۔ آخری زمانہ میں وفات دوں گا۔ درمنثور کا مصنف قادیانیوں کا مسلمہ مجدد ہے۔
۲… ’’ والصحیح ان اللّٰہ تعالٰی رفعہ من غیر وفاۃ ولانوم قال الحسن وابن زید وہو اختیار الطبری وہو الصحیح عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم (تفسیر ابی السعود) ‘‘ یعنی اصلیت یہ ہے کہ خدا نے مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا بغیر وفات کے اور بغیر نیند کے جیساکہ حسن اور ابن زید نے کہا اور اسی کو اختیارکیاہے طبری ابن جریر نے، اور یہی صحیح ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے۔
حاصل یہ کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم اس جگہ تقدیم وتاخیر کے قائل ہیں۔ یعنی رفع آسمانی ہو چکا، آئندہ وفات ہوگی۔ ’’چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم صحابی وعم زاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادتی علم قرآن کی دعا بھی فرمائی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵)

مرزا اور مرزائیوں کی گستاخانہ روش​

اپنے مطلب کو تو مرزاقادیانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کی خوب تعریف کی اور لکھا کہ وہ قرآن کو سب سے زیادہ اور اچھا سمجھتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ان کے حق میں دعا کی ہوئی تھی۔
(ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵)
مگر جونہی اس آیت پر پہنچے اور انہیں معلوم ہوا کہ میری نفسانیت کو توڑنے والے سب سے پہلے انسان حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم ہیں تو انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ سے فتویٰ لگا دیا کہ اس آیت میں تقدیم وتاخیر کے قائل متعصب، پلید، یہودی، لعنتی، محرف ہیں۔ (معاذ اﷲ۔ ناقل) (ضمیمہ نصرۃ الحق ص۱۷۸، خزائن ج۲۱ ص۳۴۷)
معاذ اﷲ، استغفراﷲ! کس قدر شوخی وگستاخی وبدتہذیبی ہے کہ ایک صحابی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ابن عم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور کئی ایک بہترین امت، مفسرین ومحدثین کو اختلاف آراء کی وجہ سے ہر ممکن دشنام کا حقدار بنایا ہے۔ سچ ہے کہ منافق کی علامت ہے کہ وہ بدگوئی میں اوّل نمبر ہوتا ہے۔
دفعیہ: علم نحو وادب وبلاغت کی کتابوں میں بالاتفاق موجود ہے کہ حرف واؤ میں ترتیب ضروری ولازمی نہیں ہوتی۔ ’’ الوا وللجمع المطلق قریب فیہا کافیہٖ وغیرہ ان الواو فی قولہ تعالٰی انی متوفیک ورافعک انہ لا تفید الترتیب فالایۃ تدل علٰی انہ تعالٰی یفعل بہ ہذا الافعال فاما کیف یفعل ومتٰی یفعل فالأمر فیہ مرقوف علی الدلیل وقد ثبت باالدلیل انہ حی ورد الخبر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ ینزل ویقتل الدجال ثم ان اللّٰہ یتوفی بعد ذالک (تفسیر کبیر) ‘‘ یعنی آیت ’’ انی متوفیک ورافعک ‘‘ میں واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہے۔ آیت میں اﷲتعالیٰ نے مسیح علیہ السلام سے کئی وعدے کئے ہیں۔ مگر یہ بات وہ کیسے کرے گا اور کب کرے گا یہ محتاج دلیل ہے اور البتہ دلیل سے ثابت ہوچکا ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہے اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر موجود ہے کہ وہ نازل ہوگا اور دجال کو قتل کرے گا۔ پھر اﷲتعالیٰ انہیں وفات دے گا۔

باب ہفتم … متفرق قادیانی شبہات کے جوابات​

قادیانی سوال:۱​

عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف آوری کے بعد نبی ہوں گے یا نہ؟ اگر ہوں گے تو پھر یہ ختم نبوت کے خلاف ہے۔ اگر نبی نہ ہوں تو پھر کیا وہ نبوت سے معزول ہو جائیں گے؟
جواب: عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری بحیثیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور خلیفہ کے ہوگی۔ یعنی امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نبی بن کر تشریف نہ لائیں گے۔ کیونکہ وہ صرف بنی اسرائیل کے نبی تھے جس پر قرآن شریف کی آیت: ’’ رسولاً الٰی بنی اسرائیل (البقرہ:۴۹) ‘‘ دلالت کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کافہ وعامہ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی یہ ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ اس لئے وہ صرف امتی اور خلیفہ ہوں گے۔ (بخاری شریف ج۱ ص۴۹۰، مسلم شریف ج۱ ص۸۸) پر ہے کہ: ’’ان ینزل فیکم عیسٰی ابن مریم حکمًا مقسطًا‘‘
اور ’’ابن عساکر‘‘ میں ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سے ’’ الا انہ خلیفتی فی امتی من بعدی (ابن عساکر ج۲۰ ص۱۴۴) ‘‘ کہ میری امت میں میرے خلیفہ ہوں گے۔ تشریف آوری کے وقت وہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نبی اور رسول کی حیثیت سے تشریف نہ لائیں گے بلکہ خلیفہ وامام ہوں گے۔ اس لئے ان کی تشریف آوری سے ختم نبوت کی خلاف ورزی لازم نہ آئے گی۔ باقی رہا یہ کہ وہ کیا نبوت سے معزول ہوجائیں گے؟ یہ بھی غلط ہے وہ نبوت سے معزول نہ ہوں گے بلکہ دوبارہ تشریف آوری کے بعد نبی اﷲ ہونے کے باوجود ان کی ڈیوٹی بدل جائے گی۔ جیسے پاکستان کے صدر مملکت، پاکستان کے سربراہ ہیں۔ اگر وہ برطانیہ تشریف لے جائیں تو صدر مملکت پاکستان ہونے کے باوجود برطانیہ تشریف لے جانے پر ان کو برطانیہ کے قانون کی پابندی لازم ہے۔ حالانکہ وہ صدر مملکت ہیں مگر وہاں جاکر ان کی حیثیت صدر مملکت ہونے کے باوجود مہمان کی ہوگی۔ اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ میں جو ان کی نبوت کا پیریڈ تھا اس میں وہ نبی تھے۔ کل جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں تشریف لائیں گے نبی ہونے کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت میں ان کی حیثیت امتی وخلیفہ کی ہوگی۔ اب وہ نہ نبوت سے معزول ہوئے نہ ان کے تشریف لانے سے ختم نبوت پر حرف آیا۔

قادیانی سوال:۲​

عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے کس شریعت پر عمل کریں گے۔ اپنی شریعت پر یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر؟
جواب: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد امتی ہونے کی حیثیت سے ہے تو ظاہر ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے۔ اس لئے ہمارے عقائد کی کتابوں میں ہے: ’’ یحکم بشر عنالا بشرعہ ‘‘ کہ وہ ہماری یعنی امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے اور خود بھی عمل پیرا ہوں گے نہ کہ اپنی شریعت پر۔ قرآن مجید میں ہے کہ اﷲ رب العزت قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے انعامات کا ذکرفرمائیں گے۔ ’’ اِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرَۃَ وَالْاِنْجِیْلَ (المائدہ:۱۱۰) ‘‘ کتاب وحکمت سے مراد قرآن وسنت ہے (جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کی مثالیں موجود ہیں) اب ظاہر ہے کہ تورات اور انجیل یہ تو ضرورت تھی ان کو اس وقت کی جب آپ ’’ رَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْ لَ‘‘ تھے۔ دوبارہ نزول من السماء پر منجانب اﷲ کتاب وسنت سکھایا جائے گا۔ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت وسیادت اور رہنمائی کے لئے۔ وہ کسی فرد بشر امتی سے قرآن وسنت نہیں پڑھیں گے۔ مگر چونکہ ضرورت ہوگی اس لئے منجانب اﷲ اس کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس لئے وہ جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو نبی ہونے کے باوجود ڈیوٹی بدل جائے گی۔ پہلے اپنی شریعت موسوی پر عمل پیرا تھے۔ اب شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمبردار ہوں گے۔

قادیانی سوال:۳​

کیا وہ شریعت محمدیہ آکر کسی سے پڑھیں گے یا ان کو وحی ہوگی اگر وحی ہوگی تو وحی کا دروازہ تو بند نہ ہوا؟
جواب: نبی دنیا میں کسی کا شاگرد نہیں ہوتا نبی کو تعلیم وتبلیغ خود اﷲ رب العزت فرماتے ہیں۔ (مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کی ایک یہ بھی دلیل ہے کہ وہ ایک نہیں کئی استادوں کے شاگرد تھے۔ جن میں مولوی فضل الٰہی، مولوی فضل احمد اور گل علی شیعہ بطور خاص مشہور ہیں۔ جیسا کہ سیرت المہدی ج۱ ص۲۵۱ میں مذکور ہے) نبی دنیا میں کسی کا شاگرد نہیں ہوتا۔ اسلامی تعلیمات اور دیگر کتب کی رو سے تو یہ ممکن ہے کہ ایک نبی دوسرے نبی سے بحکم وبمصلحت خداوندی چند خاص امور کی تفسیر ووضاحت کے لئے جائے مگر ایک نبی دنیا میں کسی غیر نبی کے دروازہ پر علم کی تحصیل کے لئے جائے تو اس سے بڑھ کر نبی اور نبوت کی اور زیادہ توہین نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کہ نبی ’’ معلم للناس ‘‘ ہوتا ہے نہ کہ متعلم من الناس۔
(مرزاقادیانی کا دوسروں کے دروازوں پر تحصیل علم کے لئے زانوئے تلمذ تہہ کرنا اس کے جھوٹے ہونے کے لئے کافی ہے اور مختاری کے امتحان میں فیل ہونا اس کی عزت میں اضافہ نہیں کرتا) حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ اﷲ کے نبی ہیں وہ دوبارہ نازل ہوکر کسی سے قرآن وحدیث یا شریعت محمدیہ کی تعلیم حاصل کریں یہ ناممکن اور ہمارے عقائد کے خلاف ہے۔ ان کے لئے قرآن وسنت کی تعلیم کا اﷲ کی طرف سے ہونا خود قرآن میں مذکور ہے۔ ’’ وَاِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ (المائدہ:۱۱۰) ‘‘
باقی رہا یہ سوال کہ کیا ان پر وحی نازل ہوگی تو جناب ان پر وحی نبوت نہ ہوگی وحی نبوت کادروازہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بند ہے۔ تو پھر ان کو شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کیسے ہوگا؟ اس کا اہتمام اﷲ رب العزت کے ذمہ ہے۔ اس اہتمام اور ان کی تعلیم کے لئے وحی نبوت نہ ہوگی، بلکہ الہام، کشف، مبشرات، القاء، علم لدنی ہے۔ بے شمار قدرت کے ذرائع ہیں جن کے ذریعہ اﷲ رب العزت ان کو شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا اہتمام فرما دیں گے۔ قادیانی بے فکر رہیں نہ وحی نبوت کی ضرورت ہے نہ کسی کے دروازے پر زانوئے تلمذ تہہ کر کے نبوت کو مذاق بنانے کی۔ قدرت کی طرف سے اس کا اہتمام ہوگا۔ قرآن مجید میں صراحتاً ہے کہ وحی نبوت کے علاوہ اور بھی وحی کے اقسام ہیں۔ مثلاً: ’’ وَاِذْ اَوْحَیْنَا اِلٰی اُمِّکَ (طٰہٰ:۳۸) وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلٰی النَّحْلِ (النحل:۶۸) ‘‘ ظاہر ہے کہ ام موسیٰ کی طرف یا نحل کی طرف وحی ہونے کے باوجود وہ وحی نبوت نہ تھی۔ پس قرآن کی ان آیات سے ثابت ہوا کہ وحی نبوت کے علاوہ بھی وحی ہے۔

قادیانی سوال:۴​

قادیانی کہتے ہیں کہ آپ کے عقیدہ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ زمین پر فرشتوں کے ذریعہ آئیں گے اور پھر مینار سے آگے ان کے لئے سیڑھی لائی جائے گی۔ کیا جو خدا ان کو مینار تک لایا ہے وہ صحن تک لانے پر قادر نہیں؟
جواب: پہلے تو ہماری نظر سے کوئی ایسی روایت نہیں گزری کہ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے سیڑھی لائی جائے گی بلکہ ’’ عند منارۃ البیضاء ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ مینارہ کے قریب نہ کہ مینارہ پر بفرض محال یہ روایت ہو بھی تو قدرت وحکمت میں فرق سمجھیں۔ قدرت علیحدہ چیز ہے حکمت علیحدہ چیز ہے۔ اﷲتعالیٰ ان کو صحن پر لانے پر بھی قادر ہیں۔ یہ قدرت کے خلاف نہیں مگر حکمت اسی میں ہے کہ ان کو مینار تک تو فرشتوں کے ذریعہ لایا جائے،آگے مسلمان ان کو خود سیڑھی لے کر مینار سے اتاریں۔ اس میں دو حکمتیں نظر آتی ہیں۔ (مشکوٰۃ شریف ص۵۳۷، باب المعجزات) کی متفق علیہ روایت کے مطابق نبی علیہ السلام سے جنگ حدیبیہ میں جب مسلمانوں کے لشکر میں پانی ختم ہوگیا۔ صحابہ کرامi نے اپنی پریشانی کا ذکر کیا رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ برتنوں میں سے بچا کھچا پانی اکٹھا کر کے لائیں۔ ایک پیالے میں پانی لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ کے جمع شدہ پانی میں ہاتھ مبارک ڈال دئیے جس سے پانچ انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ میں جمع شدہ پانی میں ہاتھ ڈال کر امت کو سبق دے رہے تھے کہ جو انسان کی ہمت میں ہے وہ خود کرے جہاں انسان کی ہمت جواب دے جائے، وہاں سے پھر انسان کو قدرت خداوندی پر نظر رکھنی چاہئے۔ بعینہٖ اسی طرح مینار سے اوپر آسمانوں تک انسان کی طاقت نہیں چلتی۔ جہاں انسان کی طاقت کام نہیں کر سکتی وہاں خداتعالیٰ کی قدرت کام کرے گی۔ جہاں پر انسان کی طاقت چل سکتی ہے وہ مینار سے نیچے سیڑھی لگاکر اپنی طاقت کو استعمال کریں گے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ہم اپنے سامنے اترتا دیکھیں گے تاکہ مسلمانوں کو یقین ہو کہ سچا مسیح وہ ہے جو سامنے آسمانوں سے اتریں گے جوقادیان میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہوکر کہتا ہے کہ میں مسیح ہوں۔ جھوٹ بولتا ہے۔

سچے مسیح اور جھوٹے مسیح کے درمیان فرق​

(۱)جب مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے تو آسمان سے نازل ہوں گے۔ جب کہ مرزاقادیانی ماں کے پیٹ سے نکلا۔ (۲)مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کے وقت دو فرشتے ان کے ساتھ ہوں گے۔ جب کہ مرزاقادیانی کی ماں کے پاس دائی تھی۔ (۳)مسیح علیہ السلام تشریف آوری پر ایسے محسوس ہوں گے جیسے غسل کر کے آئے ہوں۔ جب کہ مرزاقادیانی نفاس کے خون میں لت پت تھا۔ (۴)مسیح علیہ السلام نے تشریف آوری کے وقت احرام کی دو چادریں پہن رکھی ہوں گی۔ جب کہ مرزاقادیانی پیدائش کے وقت الف ننگا تھا۔ (۵)مسیح علیہ السلام تشریف آوری کے وقت خوش وخرم ہوں گے۔ جب کہ مرزاقادیانی پیدائش کے وقت چیں چیں کرتا ہوا نکلا۔ غرضیکہ مرزاقادیانی کے آنے کو حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مشابہت ومماثلت نہیں تو پھر اسے کیسے سچا سمجھ لیا جائے؟

قادیانی سوال:۵​

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شام دمشق میں نازل ہوں گے۔ اسرائیل بیت المقدس جائیں گے وہ پھر وہاں سے قتل دجال کے بعد مکہ مکرمہ سعودی عرب تشریف لائیں گے تو ان کے پاس نیشنلٹی کس ملک کی ہوگی، پاسپورٹ، این۔او۔سی زرمبادلہ کا کیا بنے گا؟
جواب: اس اشکال کا حل بھی تعلیمات اسلامیہ میں موجود ہے۔ (مشکوٰۃ شریف باب نزول مسیح ص۴۷۹) متفق علیہ روایت کے الفاظ یہ ہیں: ’’ ان ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلًا ‘‘ وہ حاکم ہوں گے اور حاکم بھی مرزاقادیانی کی طرح انگریز کے مدح سرا اور انگریز کی خوشامد اور لجاجت کی خجالت میں غرق نہ ہوں گے نہ ہی ملکہ وکٹوریہ کو برطانیہ میں خط لکھیں گے کہ تو زمین کا نور ہے اور میں آسمان کا نور ہوں۔ تیرے وجود کی برکت وکشش نے مجھے اوپر سے نیچے کھینچ لیا ہے۔
(ستارہ قیصریہ ص۶، خزائن ج۱۵ ص۱۱۷)
جس میں جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو فرض اور خود کو گورنمنٹ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا قرار دیا ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۱، اشتہار بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر) عیسیٰ علیہ السلام ایسے نہیں ہوں گے وہ حاکم عادل ہوں گے۔ ان کے نزول کے وقت ’’یہلک الملل کلہا الاملۃ واحدۃ الا وہی الاسلام‘‘ تمام ملتیں اور ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔ دین اسلام کی برتری اور شاہی ہوگی۔ پوری دنیا پر اسلام کا جھنڈا ہوگا۔ پوری دنیا اسلام کی وحدت واکائی اور ون یونٹ میں پروئی ہوگی اور اس کے حکمران حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت خلیفہ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے تو جب قیامت سے قبل نزول مسیح کے وقت تمام دنیا اسلام کے زیرنگیں ہوگی اور اس کے حکمران عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے تو ان سے اس وقت پاسپورٹ اور ویزا کی بحث کرنی عقل اور نقل کے خلاف ہے۔

قادیانی سوال:۶​

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خنزیروں کو قتل کریں گے؟ کیا خنزیر کو قتل کرنا ان کی شان کے خلاف نہیں؟
جواب: مسئلہ کو اس کی حقیقت کی روشنی میں صحیح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس سے صورتحال واضح ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باﷲ خود خنزیروں کو قتل نہیں کریں گے بلکہ ان کی تشریف آوری کے بعد جب دنیا میں خنزیر کھانے والی اور اس کا ریوڑ پالنے والی قوم نہ رہے گی بلکہ وہ مسلمان ہو جائیں گے تو ان کے مسلمان ہو جانے پر جو لوگ خنزیر پالنے والے تھے، وہی اس کو قتل کرنے والے ہوں گے۔ کیونکہ قتل خنزیر کا سبب عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ آپ کے حکم سے خنزیر قتل کئے جائیں گے اور آپ کے زمانہ بعد از نزول میں یہ سب کچھ ہوگا۔ اس لئے قتل کی نسبت آپ کی طرف کر دی گئی۔ مثلاً جنرل محمد ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی۔ حالانکہ پھانسی کا فیصلہ کرنے والا مشتاق احمد چیف جسٹس لاہور تھا اور پھانسی کا پھندا گلے میں ڈال کر بھٹو کو لٹکانے والا ’’تارا مسیح‘‘ مشہور جلاد تھا۔ مگر بایں ہمہ نسبت پھانسی کی جنرل ضیاء الحق کی طرف کی جاتی ہے اور کی جائے گی کہ یہ سب کچھ ان کے عہد اقتدار میں ہوا۔ حالانکہ اس نے خود پھانسی نہیں دی۔ اسی طرح جنرل ایوب خان نے ۶۵کی پاک بھارت جنگ میں فتح حاصل کی۔ حالانکہ لڑنے والے فوجی تھے ایوب کے حکم سے اس کے زمانہ میں فتح ہوئی۔ اس لئے فتح کی نسبت ایوب خان کی طرف کی جائے گی۔ یا بھٹو نے مرزائیت کو اقلیت قرار دیا۔ حالانکہ اقلیت کا ریزولیوشن کرنے والی قومی اسمبلی تھی مگر بھٹو صاحب کے زمانہ میں ہوا اس لئے اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے۔
اسی طرح خنزیر، عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں قتل ہوں گے مگر یہ برائی آپ کے زمانہ بعد از نزول میں اختتام پذیر ہوگی۔ اس لئے اس کا کریڈٹ احادیث میں آپ کو دیا گیا تو ایک برائی کو ختم کرنا اچھا فعل ہے نہ کہ قابل ملامت وباعث اعتراض؟ پھر کیا آپ نے کبھی یہ بھی سوچا کہ قتل تو خنزیر ہوں گے مگر پریشان قادیانی جماعت ہے۔ آخر کیوں؟ اور اگر قتل خنزیر سے بقول قادیانیوں کے عیسیٰ علیہ السلام کی توہین لازم آتی ہے تو پھر قادیانی جماعت کے مفتی صادق کی کتاب ذکر حبیب میں موجود ہے کہ مرزاقادیانی کے ایک مرید نے شکایت کی کہ لوگ مجھے کتا مار پیر کہتے ہیں۔ اس پر مرزاقادیانی نے کہا کہ اس میں کیا حرج ہے خدا نے مجھے سورمار کہا ہے۔ (ذکر حبیب ص۱۶۲)
اس طرح (تحفہ گولڑویہ ص۲۱۴، خزائن ج۱۷ ص۳۱۶) پر اپنے آپ کو سورمارنے والا کہا ہے۔ ان دونوں حوالہ جات میں مرزاقادیانی نے وہی بات کہی جو عیسیٰ علیہ السلام کے لئے باعث ملامت بتاتے ہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے لئے باعث ملامت ہے تو مرزاقادیانی کے لئے کیوں نہیں۔
اب ایک اور امر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (براہین احمدیہ ص۴۵،۴۶، خزائن ج۲۱ ص۵۸) پر لکھا ہے: ’’ان (عیسیٰ علیہ السلام) کی تعلیم میں خنزیر خوروں اور تین خدا بنانے کا حکم اب تک انجیلوں میں نہیں پایا جاتا۔ اسی طرح تورات میں بھی ہے کہ سور مت کھانا‘‘ اور (حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱) پر لکھتا ہے کہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام اگر آئیں گے تو سور کا گوشت کھائیں گے۔‘‘ معاذ اﷲ ثم معاذ اﷲ!
نیز (کشتی نوح ص۶۱، خزائن ج۱۹ ص۶۵ حاشیہ) پر مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’(عیسیٰ علیہ السلام) صلیب سے نجات پاکر کشمیر کی طرف چلے آئے… عیسائیوں پر سور کو جو توریت کے رو سے ابدی حرام تھا حلال کر دیا ہے۔‘‘
فرمائیے خود ہی مرزاقادیانی نے لکھا کہ شریعت عیسوی میں خنزیر خوری منع اور ابدی حرام ہے اور پھر خود لکھا کہ وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے تو سور کا گوشت کھائیں گے۔ معاذ اﷲ ثم معاذ اﷲ!
ایک چیز جو باقرار مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں جائز نہیں اس کی نسبت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کرنا توہین نبوت ہے یا نہ؟ (حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱) کی عبارت یہ ہے: ’’یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے جانے کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے لئے بیت اﷲ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا۔ معاذ اﷲ ثم معاذ اﷲ اور اسلام کے حلال اور حرام کی کچھ پروا نہیں رکھے گا کیا کوئی عقل تسلیم کرسکتی ہے کہ اسلام کے لئے یہ مصیبت کا دن پھر باقی رہے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ایسا بھی آئے گا۔‘‘
حوالہ نمبر:۲ (سیرت المہدی ج۳ ص۲۹۱،۲۹۲) پر ہے کہ: ’’مسیح موعود (مرزاقادیانی) اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئے گا اور لوگ اس کو ملنے کے لئے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ پھر وہ لوگ حیران ہوکر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے۔ پھر (مرزاقادیانی) فرماتے تھے کہ ایسے شخص کی آمد سے ساسینیوں اور گنڈیلوں (حرام خور) کو خوشی ہوسکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں مسلمانوں کو کیسے خوشی ہوسکتی ہے۔ یہ الفاظ بیان کر کے آپ (مرزاقادیانی) بہت ہنستے تھے۔ یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ (مرزاقادیانی) کی آنکھوں میں پانی آجاتا تھا۔‘‘
اندازہ فرمائیے کہ مرزاقادیانی مارے خوشی کے جس مفروضہ پر لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں اس مضمون کا کہیں احادیث میں ذکر ہے؟ یا یہ کہ یہ صرف اور صرف مرزاقادیانی کی خود ساختہ مفروضہ وموضوعہ کہانی ہے جو اس کے خبث باطن کی مظہر ہے۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم

قادیانی سوال:۷​

مرزائی کہتے ہیں کہ جب مرزاقادیانی نے صاف لکھ دیا ہے کہ یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ اب وہ جس بات کو خود غیرمعقول کہہ رہے ہیں آپ اسی کو کیوں ملزم ٹھہراتے ہیں یہ تو انصاف کا خون ہے۔
جواب: مرزاقادیانی کی یہ عبارت اردو ہے اردو جاننے والے دنیا میں کروڑوں انسان رہتے ہیں۔ کسی سے اس کا مفہوم پوچھ لیں۔ مرزاقادیانی یہ لکھتا ہے کہ یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے یعنی یہ کہ وہ نہیں آئے گا اس کا آنا عقل کے خلاف اور غیرمعقول بات ہے۔ کیونکہ اگر وہ آئے تو(۱)مسجد کی بجائے کلیساء کو جائے گا۔ (۲)مسلمان قرآن پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول کر بیٹھے گا۔ (۳)مسلمان بیت اﷲ کی طرف اور وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرے گا۔ (۴)شراب پئے گا۔ (۵)سور کا گوشت کھائے گا۔ (۶)اسلام کے حلال وحرام کی پابندی نہیں کرے گا۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا اس کا آنا غیرمعقول ہے۔ کیونکہ اگر وہ آئے گا تو اس کو یہ کام کرنے ہوں گے۔ ان کے باعث وہ کہتا ہے کہ ان کا آنا غیرمعقول ہے۔ اب فرمائیے کہ ایک ایسی چیزمثلاً خنزیر جو عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل میں بھی بقول مرزا منع ہے تو کیا عیسیٰ علیہ السلام آکر ایک حرام چیز کو کھانا شروع کر دیں گے؟ یہ وہ قادیانی تعلیمات ہیں جس کی بنیاد پر ہم اس کے کفر کا فتویٰ دیتے ہیں۔ باقی رہا مرزاقادیانی کا یہ اعتراض کہ مسلمان جب بیت اﷲ کی طرف رخ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرے گا۔ اس کا بھی احادیث میں جواب موجود ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کے دجل وفریب، کذب وتلبیس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں جواب عنایت فرمایا ہے۔ اب یہ کہ وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرے گا اس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں یہ جواب موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد پہلی نماز حضرت مہدی علیہ الرضوان کی اقتداء میں ادا فرمائیں گے۔ جب کہ باقی نمازیں عیسیٰ علیہ السلام خود پڑھائیں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔ امتی ہونے کے ناطے سے ان کا رخ بیت اﷲ کی طرف ہوگا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے مقتدی ہیں تو کیا عقلاً وشرعاً یہ ممکن ہے کہ امام کا رخ بیت اﷲ کی طرف اور مقتدی کا بیت المقدس کی طرف؟

قادیانی سوال:۸​

مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق قرآن مجید میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جب وہ نازل ہوں گے تو قرآنی آیات کا کیا بنے گا۔ یہ آیات تو پھر بھی یہ کہہ رہی ہوں گی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ کیا یہ منسوخ ہو جائیں گی؟
جواب: قرآن مجید میں اﷲ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے وعدے کئے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے وابستہ تھے۔ وہ وعدے پورے ہوئے۔ مگر آیات آج بھی موجود ہیں۔
(۱)’’الم غلبت الروم‘‘ (۲)’’اذا جاء نصر اللّٰہ‘‘ (۳)’’تبت یدا ابی لہب‘‘ (۴)’’لتدخلن المسجد الحرام‘‘ یہ تمام وعدے پورے ہوئے۔ جب بات پوری ہو جائے تو آیت بدل نہیں جاتی بلکہ وہ اور زیادہ شان سے چمکنے لگتی ہے کہ جن کا وعدہ تھا وہ پورا ہوگیا۔ قرآن مجید میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے خوشخبری دی۔ ’’مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ انا بشارۃ عیسٰی ‘‘ اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو وہ بھی فرمائیں گے کہ میں ان آیات کا بذات خود مصداق بن کر آیاہوں تو ان کے نزول سے ان آیات کی عملی تفسیر ہو جائے گی اور یہ آیات اور زیادہ شان سے چمکنے لگ جائیں گی نہ کہ منسوخ ہو جائیں گی۔

قادیانی سوال:۹​

مرزاقادیانی نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ ہم نے کہا کہ اگر تو مسیح موعود ہے تو مسیح موعود تو دجال کو قتل کریں گے تو اس نے کہا کہ قتل دجال تلوار سے نہیں قلم سے ہوگا۔
جواب: (مشکوٰۃ شریف باب قصۃ ابن صیاد ص۴۷۹ میں بحوالہ شرح السنۃ ج۷ ص۴۵۴، باب ذکر ابن صیاد) کے حوالے سے حدیث ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ’’ابن صیاد‘‘ کے متعلق مشہور ہوا کہ وہ دجال ہے۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تحقیق حال کے لئے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انہوں نے تلوار نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ اگر اجازت ہو تو میں اس کو قتل کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ دجال ہے تو تم اسے قتل نہیں کر سکتے۔ ’’لست صاحبہ‘‘ اس کو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی قتل کریں گے۔ اگر یہ دجال نہیں تو تم اپنے ہاتھ قتل ناحق سے کیوں رنگین کرتے ہو۔ اس حدیث شریف نے ثابت کر دیا کہ دجال سے لڑائی تلوار کے ساتھ ہوگی۔ ورنہ جس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم نے تلوار نکالی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیتے کہ اے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم یہ کیا کر رہے ہو اس سے تو جہاد قلم کے ساتھ ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کا تلوار نکالنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر یہ دجال ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔ اس کو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کرے گا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ دجال کے ساتھ لڑائی تلوار کے ساتھ ہوگی نہ کہ قلم کے ساتھ۔ جہاد باالسیف ہوگا ’’نہ کے قلم قتلے‘‘

قادیانی سوال:۱۰​

اگر دجال تلوار سے قتل ہوگا تو کہاں ہوگا؟
جواب: حدیث شریف میں ہے کہ دجال مقام (لد) پر قتل ہوگا۔ ’’لد‘‘ اس وقت اسرائیل میں واقع ہے۔ اسرائیلی ائیرفورس کا ائیربیس ہے۔ دجال کے ساتھ اس وقت سترہزار یہودیوں کی جماعت ہوگی۔ جو اس کے حامی اور مددگار ہوں گے۔ جس وقت سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اس وقت نہ اسرائیل کا کوئی وجود تھا اور نہ ہی مقام ’’لد‘‘ کو کوئی اہمیت حاصل تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر قربان جائیں کہ کس طرح آج اسرائیل میں ’’لد‘‘ کو اہمیت حاصل ہے۔ وہاں اس کی فوج کی چھاؤنی ہے۔ گویا دجال آخری وقت تک یہود کی فوج میں پناہ لینے کی کوشش کرے گا۔ یہاں ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ مرزاقادیانی ۱۹۰۸ء میں مرا اور پاکستان ۱۹۴۷ء میں بنا۔ پاکستان بننے کے دو سال بعد اسرائیل کی حکومت وجود میں آئی۔ جس وقت مرزاقادیانی زندہ تھا اس وقت اسرائیل کا وجود بھی نہ تھا۔ مرزاقادیانی کے مرنے کے اکتالیس سال بعد اسرائیل کی حکومت وجود میں آئی۔ مرزاقادیانی اپنی کتابوں میں اس بات کا مذاق اڑاتا ہے کہ ستر ہزار یہودی تو پوری دنیا میں نہیں ہیں اور وہ کس طرح دجال کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن اس بدبخت کو معلوم نہ تھا کہ ساری کائنات کا نظام بدل سکتا ہے۔
اﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ آج مرزاقادیانی کی قبر سے کوئی سوال کرے کہ اے بدبخت جن ستر ہزار یہودیوں سے متعلق حدیث کا مذاق اڑاتا تھا آج وہ نصف النہار کی طرح پوری ہوچکی ہے۔ اسرائیل میں ایک ستر ہزار نہیں بلکہ کئی سترہزار یہودی جمع ہیں۔

انزلنا الحدید کا جواب​

قادیانی سوال:۱۱​

نزول عیسیٰ علیہ السلام سے مراد آسمانوں سے نزول نہیں۔ اس لئے کہ انزلنا کا معنی قرآن میں پیدا کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ’’ انزلنا الحدید ‘‘ ہم نے لوہے کو پیدا کیا وغیرہ۔
جواب: الف… کسی بھی لفظ کا ایک حقیقی معنی ہوتا ہے۔ دوسرا مجازی۔ ہمیشہ ترجمہ کرتے وقت حقیقی معنی کو ترجیح ہوتی ہے۔ جہاں حقیقی معنی کرنا متعذر ہوں وہاں مجازی معنی لیا جاتا ہے۔
ب… اگر کہیں مجازی معنی مراد لیا جائے تو اس کا یہ مقصد نہیں ہوگا کہ اب حقیقی معنی کہیں بھی مراد نہیں لیا جائے گا جو شخص کسی مقام پر مجازی معنی کی وجہ سے حقیقی معنی کاانکار کرے وہ تحریف کا مرتکب ہوگا۔ جو باطل ہے۔
ج… اب دیکھیں کہ نزل، ینزل، نازل، نزول کا حقیقی معنی کیا ہے۔
علامہ راغب اصفہانی نے اپنی کتاب (مفردات ص۷۰۵) میں لکھا ہے: ’’ نزل النزول فی الاصل ہو انحطاط من علو ‘‘ نزول کا حقیقی معنی دراصل بلندی سے نیچے کی طرف آنا ہے۔
(مصباح اللغات ص۸۶۸) پر لکھا ہے: ’’ نزل، نزولاً من علو الی اسفل ‘‘ اترنا، اتارنا۔
قاضی بیضاوی نے لکھا ہے: ’’ والا نزال نقل الشیٔ من الاعلٰی الی الاسفل ‘‘ غرض یہ بات متعین ہے کہ نزل کا حقیقی معنی بلندی سے نیچے کی طرف اترنا ہے۔ قرآن مجید میں ثلاثی مجرد باب فعل یفعل کے وزن پر نزل ینزل ہمیشہ نزول کے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
ثلاثی مزید فیہ میں باب افعال: جیسے ’’ انزل، ینزل، انزالً ا‘‘
ثلاثی مزید فیہ میں باب تفعیل: جیسے ’’ نزل ینزل تنزیلاً ‘‘
ثلاثی مزید فیہ میں باب تفعل: جیسے ’’ تنزل، یتنزل، تنزلاً ‘‘
ثلاثی مزید میں اتارنا، اسباب وعلل مہیا کرنا، گویا خلق کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
۱… عیسیٰ علیہ السلام کے لئے لفظ نزل، ینزل آیا ہے۔ (ثلاثی مجرد) اس کا حقیقی معنی ہی ہمیشہ مراد ہوتا ہے۔ ان کے لئے یہ لفظ دوسرے معنوں میں کبھی آیا نہیں۔
۲… عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نزول کا حقیقی معنی لینے کے دلائل بھی موجود ہیں۔ مثلاً: ’’ ینزل اخی عیسٰی بن مریم من السماء ‘‘ (کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹، حدیث نمبر۳۹۷۲۶)
’’ لیہبطن ‘‘ مسلم فی کتاب الحج۔ (مسند احمد ج۲ ص۱۹۰، حاکم ج۲ ص۵۹۵، درمنثور ج۲ ص۳۵۰)
’’ ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم ‘‘ (ابن کثیر ج۱ ص۵۷۶، ۳۶۶، ابن جریر ج۳ ص۲۰۲)
’’ یاتی علیہ الفناء ‘‘ (ابن جریر ج۳ ص۱۰۸، درمنثور ج۲ ص۳)
اسی ایک ذات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام جن کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول کا لفظ فرمایا انہیں کے لئے آسمان سے اترنے کی وضاحت بھی کر دی۔ لفظ آسمان بھی حدیث میں آیا ہے۔ ہبوط نیچے آنا، راجع واپس آنا، لم یمت جو نہیں مرے جو مریں گے، جن پر فنا آئے گی۔ ان الفاظ کے استعمال نے ثابت کر دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نزول کا حقیقی معنی مراد ہے اور اوپر (آسمان) سے نیچے (زمین پر) آنا ہے۔
د… قرآن مجید میں جہاں ’’ اَنْزَلْنَا لَکُمُ الْاَنْعَامَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ لِبَاسً ا‘‘ ہے اور ان کا معنی اسباب وعلل مہیا کرنا، نازل کرنا، پیدا کرنا آیا ہے۔ وہاں ’’ اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَنَزَلَ بِہٖ الرُّوْحِ الْاَمِیْنَ، بِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاہٗ وَبِالْحَقِّ نَزَلْ، تَنَزَّلُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ ‘‘ بھی آیا ہے جس کا حقیقی معنی سوائے ’’ نزول من السماء ‘‘ کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اب جب شواہد موجود، قرائن موجود، امت نے چودہ سو سال سے جو عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نزول کے لفظ سے سمجھا وہ تعامل امت موجود ہے، تو یہاں حقیقی معنی نزول کا کرنے کے علاوہ چارہ ہی نہیں ہے۔
ھ… لفظ زکوٰۃ قرآن مجید میں کثرت سے صدقہ فرضیہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مگر بعض جگہ قرآن مجید میں طہارت، برکت، صلاحیت کے معنی میں استعمال ہوا ہے: ’’ خَیْرًا مِّنْہُ زَکٰوۃً وَّرَحْمَۃَ مَازَکٰی مِنْکُمْ ذَالِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ ‘‘ اب کوئی بدباطن یہ کہہ سکتا ہے کہ زکوٰۃ فرض نہیں ہے؟ فریضہ زکوٰۃ کا انکار کر دے اور کہے اس سے مراد طہارت ہے۔ دل کی طہارت، جسم کی طہارت وغیرہ اگر ایسے کوئی کہے تو وہ مردود ہوگا۔ جس طرح زکوٰۃ کو ہمیشہ طہارت کے معنی میں لینا مردود امر ہے۔ اس طرح ’’ اَنْزَلْنَا ‘‘ کا ’’ خَلَقْنَا ‘‘ کے معنی میں ہمیشہ لینا بھی مردود امر ہے۔
و… قادیانیوں سے ہمارا سوال ہے کہ اگر نزول کا معنی پیدا ہونا ہے تو پھر دجال یا حضرت مہدی کے لئے نزول کا لفظ کیوں نہیں آیا۔ ان کے لئے خروج یا ظہور کا لفظ کیوں آیا ہے؟
ز… مرزاقادیانی نے لکھاہے کہ: ’’حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جابیٹھے۔‘‘ (براہین احمدیہ ص۳۶۱، خزائن ج۱ ص۴۳۱)
اسی طرح مرزاقادیانی نے (ازالہ اوہام ص۴۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲) پر لکھا ہے: ’’مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہیں کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘
اب جناب آپ کے مرزاقادیانی نے ان عبارتوں میں رفع ونزول کا خود معنی متعین کر دیا ہے کہ رفع کا معنی رفع الی السماء اور نزول کا معنی آسمانوں سے نیچے زمین پر اترنا۔ اب بھی کوئی قادیانی نہ سمجھے تو جائے جہنم میں۔
اس طرح (مجمع البحار ج۴ ص۷۰۶) میں بھی ہے: ’’النزول والصعود والحرکات من صفات الاجسام‘‘ نزول وصعود صفات اجسام سے ہے۔ جس وقت اس کی نسبت اجسام خاکیہ کی طرف کی جائے گی تو اس سے نزول وصعود ’’بجسمہ‘‘ العنصری مراد لیا جائے گا۔ غرض نزول کے حقیقی معنی اعلیٰ سے اسفل کی طرف انتقال کے ہیں۔ دنیا کی کسی کتاب میں اس کا حقیقی معنی اس کے علاوہ نہیں دکھایا جاسکتا ہے۔
ح… ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے ابن جریر رحمہ اللہ تعالیٰ ، ابن ابی حاتم رحمہ اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ تین چیزیں زمین پر نازل کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک لوہے کا ہتھوڑا بھی تھا۔ اب تو نزول کا اس آیت: ’’انزلنا الحدید‘‘ میں حقیقی معنی ہوگا۔
جواب: ۲… (الف)قادیانی دجل وتحریف کے مطابق تسلیم کر لیں کہ معاذ اﷲ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نزول، پیدائش کے معنوں میں ہے۔ تو کیا قادیانی فرمائیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی پیدائش نہیں ہوئی۔ جن کی پیدائش کو صدیاں بیت چکی ہیں ان کے متعلق کہنا ینزل (بقول قادیانی) پیدا ہوں گے۔ چہ معنی دارد؟ ہے کوئی قادیانی جو اس عقدہ کو حل کرے؟
(ب)مرزائیوں کے نزدیک اگر ینزل سے مراد مرزاقادیانی کی تشریف آوری ہے تو پھر ان کا نزول کب مانیں؟ آیا:
۱۸۴۰ء = ماں کے پیٹ سے باہر نکلنے کو
۱۸۸۰ء = تاریخ دعویٰ مجددیت کو
۱۸۹۲ء = تاریخ دعویٰ مسیحیت کو
۱۹۰۱ء = تاریخ دعویٰ نبوت کو
پھربھی آپ کا گزارہ نہیں ہوگا جان نہیں چھوٹے گی۔ اس لئے کہ حدیث شریف میں جہاں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خوشخبری دی گئی ہے وہاں ’’کیف انتم یا کیف بکم‘‘ کے الفاظ ہیں۔ یعنی اس وقت تمہاری (مسلمانوں کی) خوشی کا کیا عالم ہوگا جب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے تو ان کا نزول خوشی عالم اسلام کا باعث ہوگا۔ اب اگر ان کے نزول سے مرزاقادیانی کی تشریف آوری اور اس سے مرزاقادیانی کی پیدائش ۱۸۴۰ء مراد ہے۔ اس وقت دنیا تو کیا خوش ہوگی، خود مرزاقادیانی بھی چیختا چلاتا، روتا دھوتا ماں کے پیٹ کے بضع سے برآمد ہوا تھا۔ اگر ۱۸۸۰ء دعویٰ مجددیت یا دعویٰ مسیحیت ۱۸۹۲ء مراد ہے تو اس وقت علماء کرام اور امت مسلمہ کے ایک دشمن، انگریز کے ایجنٹ وخود کاشتہ پودا کے نزول پر امت (مسلمانوں) کو خاک خوشی ہوئی۔ ۱۹۰۱ء مراد لیا جائے تو وہ سال تو مرزاقادیانی کے کفر اور اسلام دشمنی کے عین عروج کاسال ہے۔ اس پر مسلمانوں کو کیا خوشی ہوئی۔ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم (بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسٰی بن مریم)‘‘ اے مسلمانو! اس وقت تمہاری خوشی کا کیا عالم ہوگا جب تم میں ابن مریم علیہ السلام نازل ہوگا۔
غرض کسی اعتبار سے لیں، نزول کا حقیقی معنی لئے بغیر چارہ نہیں۔
جواب: ۳… اگر نزول کا معنی پیدائش ہی ہے تو تمام انبیاء پیدا ہوئے۔ کیا کسی نبی کے لئے قرآن وحدیث میں نزول کا لفظ آیا ہے۔ اگر نہیں تو یہ دلیل ہے اس بات کی، کہ نزول کا حقیقی معنی بلندی سے اترنا ہے، پیدائش نہیں؟ جہاں کہیں پیدائش کے معنی میں آیا ہے وہ مجازی ہے، اور یہاں عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مجازی معنی کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس لئے کہ (مسلم شریف ج۲ ص۴۰۱) پر ہے: ’’ اذ بعث اللّٰہ فیکم ابن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء ‘‘ جب کہ بھیجیں گے تم میں اﷲتعالیٰ ابن مریم علیہما السلام کو۔ پس وہ منارہ سفید کے نزدیک نازل ہوں گے۔ اگر نزول کا معنی پیدائش اور ابن مریم کا معنی مرزاغلام احمد قادیانی ہے تو پھر مرزاقادیانی کی ماں کو مرزاقادیانی کی پیدائش کے وقت منارہ پر جانا چاہئے تھا۔ خوب! اس حالت میں تو مرزاقادیانی پیدا ہونے سے قبل ہی ماں کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہوگا؟ اس لئے تو پنجابی میں کہتے ہیں: ’’تیرے جمن تے لعنت‘‘ یعنی اگر ایسے ہی کرتوت کرنے تھے تو اچھا تھا کہ تو پیدا ہی نہ ہوتا۔ قرآن مجید میں ۱۸۹ مقامات پر نزل بلندی سے نیچے اترنا آسمان سے زمین پر اترنے کے معنی میں آیا ہے۔ وہ آیات یہ ہیں۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم

( نَزَلَ از قرآن شریف)​


۱… ’’وَبِالْحَقِّ نَزَلَ (بنی اسرائیل ص۱۰۵)‘‘
۲… ’’نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ (الشعراء:۱۹۳)‘‘
۳… ’’وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ (حدید:۱۶)‘‘

(یَنْزِلُ)​

۴… ’’وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ (سباء:۲)‘‘
۵… ’’وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ (حدید:۴)‘‘

(نَزَّلَ)​

۶… ’’ذَالِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ (بقرہ:۱۷۶)‘‘
۷… ’’نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ (آل عمران:۳)‘‘
۸… ’’وَالْکِتَابِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ (نساء:۱۳۶)‘‘
۹… ’’مَا نَزَّلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ (اعراف:۷۱)‘‘
۱۰… ’’اِنَّ وَلِیِّ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتَابَ (اعراف:۱۹۶)‘‘
۱۱… ’’تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ (فرقان:۱)‘‘
۱۲… ’’وَلَئِنْ سَأَلْتَہُمْ مَنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (عنکبوت:۶۳)‘‘
۱۳… ’’اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ (زمر:۲۳)‘‘
۱۴… ’’وَاللّٰہُ نَزَّلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً بِقَدَرٍ (زخرف:۱۱)‘‘
۱۵… ’’ذَالِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِہُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضَ الْاَمْرِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَہُمْ (محمد:۲۶)‘‘
۱۶… ’’قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَائَ نَا نَذِیْرٌ فَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَانَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍ (ملک:۹)‘‘

(نُزِّلَ)​

۱۷… ’’وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ اٰیَۃَ مِّنْ رَّبِّہٖ (انعام:۳۷)‘‘
۱۸… ’’وَقَالُوْا یَا اَیُّہَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ (حجر:۶)‘‘
۱۹… ’’وَنُزِّلَ الْمَلَائِکَۃُ تَنْزِیْلًا (فرقان:۲۵)‘‘
۲۰… ’’وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٌ (زخرف:۳۱)‘‘
۲۱… ’’وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ (محمد:۲)‘‘

(نُزِّلَتْ)​

۲۲… ’’لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ (محمد:۲۰)‘‘

(نَزَّلَہٗ)​

۲۳… ’’فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ (بقرہ:۹۷)‘‘
۲۴… ’’قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّکَ بِالْحَقِّ (النمل:۱۰۲)‘‘

(یُنَزِّلُ)​

۲۵… ’’اَللّٰہُ بَغیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَائُ (بقرہ:۹۰)‘‘
۲۶… ’’بِمَا اَشْرَکُوْا بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَانًا (اٰل عمران:۱۵۱)‘‘
۲۷… ’’ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَائِدَۃً مِنَ السَّمَائِ (مائدہ:۱۱۲)‘‘
۲۸… ’’قُلْ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرً عَلٰی اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً (انعام:۳۷)‘‘
۲۹… ’’اِنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ بِاللّٰہِ مَالَمْ یُّنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَانًا (انعام:۸۱)‘‘
۳۰… ’’وَاَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَانًا (اعراف:۳۳)‘‘
۳۱… ’’وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمَائِ مَائً (انفال:۱۱)‘‘
۳۲… ’’یُنَزِّلُ الْمَلَائِکَۃُ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَائَ (نحل:۲)‘‘
۳۳… ’’وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ (نحل:۱۰۱)‘‘
۳۴… ’’وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَانًا (حج:۷۱)‘‘
۳۵… ’’وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَائِ (نور:۴۳)‘‘
۳۶… ’’وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ (لقمان:۳۴)‘‘
۳۷… ’’وَیُنَزِّلُ لَکُمْ مِنَ السَّمَائِ رِزْقًا (مؤمن:۱۳)‘‘
۳۸… ’’وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَائُ (شوریٰ:۲۷)‘‘

(یُنَزَّلَ)​

۳۹… ’’مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَبِّکُمْ (بقرہ:۱۰۵)‘‘
۴۰… ’’وَاَنْ تَسْئَلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَلَکُمْ (مائدہ:۱۰۱)‘‘
۴۱… ’’وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْہِمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمُبْلِسِیْنَ (روم:۴۹)‘‘

(نَزَّلْنَا)​

۴۲… ’’وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا (بقرہ:۲۳)‘‘
۴۳… ’’اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ (نساء:۴۷)‘‘
۴۴… ’’وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَابًا فِیْ قِرْطَاسِ (انعام:۷)‘‘
۴۵… ’’وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَا اِلَیْہِمُ الْمَلَائِکَۃَ (انعام:۱۱۱)‘‘
۴۶… ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ (حجر:۹)‘‘
۴۷… ’’وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْ ئٍ (نحل:۸۹)‘‘
۴۸… ’’لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِنَ السَّمَائِ مَلَکًا رَّسُوْلًا (بنی سرائیل:۹۵)‘‘
۴۹… ’’وَنَزَّلْنَاہُ تَنْزِیْلًا (بنی اسرائیل:۱۰۶)‘‘
۵۰… ’’وَنَزَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی (طٰہٰ:۸۰)‘‘
۵۱… ’’وَلَوْ نَزَّلْنَاہُ عَلٰی بَعْضِ الْاَعْجَمِیِّیْنَ (شعرا:۱۹۸)‘‘
۵۲… ’’وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَائِ مَائً مُّبَارَکًا (ق:۹)‘‘
۵۳… ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًا (دہر:۲۳)‘‘

(اَنْزَلَ)​

۵۴… ’’اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَا اَنَزَلَ اللّٰہُ (بقرہ:۹۰)‘‘
۵۵… ’’وَمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَائِ مِنْ مَّائٍ (بقرہ:۱۶۴)‘‘
۵۶… ’’وَاِذَ قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ (بقرہ:۱۷۰)‘‘
۵۷… ’’وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتَاَب بِالْحَقِّ (بقرہ:۲۱۳)‘‘
۵۸… ’’وَمَا اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَۃِ (بقرہ:۲۳۱)‘‘
۵۹… ’’وَاَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ (اٰل عمران:۳)‘‘
۶۰… مِنْ قَبْلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ (اٰل عمران:۴)‘‘
۶۱… ’’ہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ (اٰل عمران:۷)‘‘
۶۲… ’’ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ بَّعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً (اٰل عمران:۱۵۴)‘‘
۶۳… ’’وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالُوْا اِلٰی مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ (نساء:۶۱)‘‘
۶۴… ’’وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتَابَ (نساء:۱۱۳)‘‘
۶۵… ’’وَالْکِتَابِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ (نساء:۱۳۶)‘‘
۶۶… ’’لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْہَدُ بِمَا اَنْزَلَ اِلَیْکَ (نساء:۱۶۶)‘‘
۶۷… ’’وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُوْلٰئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ (مائدہ:۴۴)‘‘
۶۸… ’’وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُوْلٰئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ (مائدہ:۴۵)‘‘
۶۹… ’’وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمُ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُؤْلٰئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ (مائدہ:۴۷)‘‘
۷۰… ’’فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ (مائدہ:۴۸)‘‘
۷۱… ’’وَاْحذَرْہُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْ بَّعْضِ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکَ (مائدہ:۴۹)‘‘
۷۲… ’’وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالُوْا اِلٰی مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ (مائدہ:۱۰۴)‘‘
۷۳… ’’اِذْ قَالُوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْئٍ (انعام:۹۱)‘‘
۷۴… ’’وَہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (انعام:۹۹)‘‘
۷۵… ’’وَہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلًا (انعام:۱۱۴)‘‘
۷۶… ’’ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا (توبہ:۲۶)‘‘
۷۷… ’’فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ (توبہ:۴۰)‘‘
۷۸… ’’وَاَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ (توبہ:۹۷)‘‘
۷۹… ’’قُلْ اَرَئَیْتُمْ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ لَکُمْ (یونس:۵۹)‘‘
۸۰… ’’مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ (یوسف:۴۰)‘‘
۸۱… ’’اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (رعد:۱۷)‘‘
۸۲… ’’وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (ابراہیم:۳۲)‘‘
۸۳… ’’وَہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (نحل:۱۰)‘‘
۸۴… ’’وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ مَاذَا اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (نحل:۲۴)‘‘
۸۵… ’’وَقِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقُوْا مَاذَا اَنْزَلَ رَبُّکُمْ (نحل:۳۰)‘‘
۸۶… ’’وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (نحل:۶۵)‘‘
۸۷… ’’قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا اَنْزَلَ ہٰؤُلَائِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (بنی اسرائیل:۱۰۲)‘‘
۸۸… ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہٖ الْکِتَابَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا (کہف:۱)‘‘
۸۹… ’’وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (طٰہٰ:۵۳)‘‘
۹۰… ’’اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (حج:۶۳)‘‘
۹۱… ’’وَلَوْشَائَ اللّٰہُ لَاَنْزَلَ مَلَائِکَۃً (مؤمنون:۲۴)‘‘
۹۲… ’’وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (نمل:۶۰)‘‘
۹۳… ’’وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَاَنْزَلَ اللّٰہُ (لقمان:۲۱)‘‘
۹۴… ’’اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (فاطر:۲۷)‘‘
۹۵… ’’اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً (زمر:۲۱)‘‘
۹۶… ’’قَالُوْا لَوْ شَائَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلَائِکَۃً (حٰم سجدہ:۱۴)‘‘
۹۷… ’’وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتَابٍ (شوریٰ:۱۵)‘‘
۹۸… ’’اَللّٰہُ الَّذِیْ اَنْزَلَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ (شوریٰ:۱۷)‘‘
۹۹… ’’وَمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَائِ مِنْ رِّزْقٍ (جاثیہ:۵)‘‘
۱۰۰… ’’ہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمَؤْمِنِیْنَ (فتح:۴)‘‘
۱۰۱… ’’فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلَہٗ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ (فتح:۱۸)‘‘
۱۰۲… ’’مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ (نجم:۲۳)‘‘
۱۰۳… ’’قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ (طلاق:۱۰،۱۱)‘‘

(اُنْزِلَتْ)​

۱۰۴… ’’وَمَا اُنْزِلَتِ التَّوْرَاۃُ وَالْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ بَّعْدِہٖ (اٰل عمران:۶۵)‘‘
۱۰۵… ’’وَاِذَا اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ (توبہ:۸۶)‘‘
۱۰۶… ’’وَاِذَا مَا اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ فَمِنْہُمْ مَنْ یَّقُوْلُ اَیُّکُمْ زَادَتْہُ ہٰذِہٖ اِیْمَانًا (توبہ:۱۲۴)‘‘
۱۰۷… ’’وَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ (قصص:۸۷)‘‘

(اَنْزَلْتُمُوْہُ)​

۱۰۸… ’’ئَ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (واقعہ:۶۹)‘‘

(اَنْزَلَہٗ)​

۱۰۹… ’’اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ (نساء:۱۶۶)‘‘
۱۱۰… ’’قُلْ اَنْزَلَہٗ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِرَّّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (فرقان:۶)‘‘
۱۱۱… ’’ذَالِکَ اَمْرُ اللّٰہِ اَنْزَلَہٗ اِلَیْکُمْ (طلاق:۵)‘‘

(اَنْزَلْنَا)​

۱۱۲… ’’فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَائِ (بقرہ:۵۹)‘‘
۱۱۳… ’’وَلَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ (بقرہ:۹۹)‘‘
۱۱۴… ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَا اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ (بقرہ:۱۵۹)‘‘
۱۱۵… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ (نساء:۱۰۵)‘‘
۱۱۶… ’’وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا (نساء:۱۷۴)‘‘
۱۱۷… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاۃَ (مائدہ:۴۴)‘‘
۱۱۸… ’’وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ (مائدہ:۴۸)‘‘
۱۱۹… ’’وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقَضِیَ الْاَمْرُ (انعام:۸)‘‘
۱۲۰… ’’فَاَنْزَلْنَا بِہِ الْمَائَ (اعراف:۵۷)‘‘
۱۲۱… ’’وَاَنْزَلْنَا عَلَیْہِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی (اعراف:۱۶۰)‘‘
۱۲۲… ’’وَمَا اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ وَیَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ (انفال:۴۱)‘‘
۱۲۳… ’’فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکِّ مِمَّآ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ (یونس:۹۴)‘‘
۱۲۴… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا (یوسف:۲)‘‘
۱۲۵… ’’وَکَذَالِکَ اَنْزَلْنٰہَ حُکْمًا عَرَبِیًّا (رعد:۳۷)‘‘
۱۲۶… ’’کِتَابٌ اَنْزَلْنَاہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النّوْرِ (ابراہیم:۱)‘‘
۱۲۷… ’’فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَائِ مَائً (حجر:۲۲)‘‘
۱۲۸… ’’کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ (حجر:۹۰)‘‘
۱۲۹… ’’وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ (نحل:۴۴)‘‘
۱۳۰… ’’وَمَا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ (نحل:۶۴)‘‘
۱۳۱… ’’وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاہُ (بنی اسرائیل:۱۰۵)‘‘
۱۳۲… ’’وَاضْرِبْ لَہُمْ مَثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَائٍ اَنْزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَائِ (کہف:۴۵)‘‘
۱۳۳… ’’وَمَا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی (طٰہٰ:۲)‘‘
۱۳۴… ’’وَکَذَالِکَ اَنْزَلْنَاہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا (طٰہٰ:۱۱۳)‘‘
۱۳۵… ’’لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ کِتَابًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ (انبیاء:۱۰)‘‘
۱۳۶… ’’وَہٰذَا ذِکْرٌ مُبَارَکٌ اَنْزَلْنَاہُ (انبیاء:۵۰)‘‘
۱۳۷… ’’فَاِذَا اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَائَ اہْتَزَّتْ (حج:۵)‘‘
۱۳۸… ’’وَکَذَالِکَ اَنْزَلْنَاہُ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ (حج:۱۶)‘‘
۱۳۹… ’’وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَائِ مَائً بِقَدَرٍ (مومنون:۱۸)‘‘
۱۴۰… ’’سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنَاہَا وَفَرَضْنٰہَا (نور:۱)‘‘
۱۴۱… ’’وَاَنْزَلْنَا فِیْہَا اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ (نور:۱)‘‘
۱۴۲… ’’وَلَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ (نور:۳۴)‘‘
۱۴۳… ’’لَقَدْ اَنْزَلْنَا اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ (نور:۴۶)‘‘
۱۴۴… ’’وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَائِ مَآئً طَہُوْرًا (فرقان:۴۸)‘‘
۱۴۵… ’’وَکَذَالِکَ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ (عنکبوت:۴۷)‘‘
۱۴۶… ’’اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ (روم:۲۵)‘‘
۱۴۷… ’’وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَائِ مَائً (لقمان:۱۰)‘‘
۱۴۸… ’’وَمَا اَنْزَلْنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْ بَّعْدِہٖ مِّنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَائِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ (یٰسین:۲۸)‘‘
۱۴۹… ’’کِتَابٌ اَنْزَلْنَاہُ اِلَیْکَ مُبَارَکٌ (صٓ:۲۹)‘‘
۱۵۰… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ (زمر:۲)‘‘
۱۵۱… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ (زمر:۴۱)‘‘
۱۵۲… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ (دخان:۳)‘‘
۱۵۳… ’’وَقَدْ اَنْزَلْنَا اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ (مجادلہ:۵)‘‘
۱۵۴… ’’لَوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ (حشر:۲۱)‘‘
۱۵۵… ’’فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِ الَّذِیْ اَنْزَلْنَا (تغابن:۸)‘‘
۱۵۶… ’’وَاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَائً ثَجَّاجًا (نباء:۱۴)‘‘
۱۵۷… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃٍ الْقَدْرِ (قدر:۱)‘‘

(اُنْزِلَ)​

۱۵۸… ’’وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (بقرہ:۴)‘‘
۱۵۹… ’’وَمَا اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ہَارُوْتَ وَمَارُوْتَ (بقرہ:۱۰۲)‘‘
۱۶۰… ’’قُوْلُوْا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ (بقرہ:۱۳۶)‘‘
۱۶۱… ’’اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ (بقرہ:۲۸۵)‘‘
۱۶۲… ’’وَقَالَتْ طَّائِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوْا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ (آل عمران:۷۲)‘‘
۱۶۳… ’’اُنْزِلَتْ التَّوْرَاۃُ وَالْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ بَّعْدِہٖ (آل عمران:۶۵)‘‘
۱۶۴… ’’قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ (آل عمران:۸۴)‘‘
۱۶۵… ’’وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ (آل عمران:۱۹۹)‘‘
۱۶۶… ’’اَلَمْ تَرَا اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (نساء:۶۰)‘‘
۱۶۷… ’’لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْہَدُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ (نساء:۱۶۶)‘‘
۱۶۸… ’’وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ (مائدہ:۵۹)‘‘
۱۶۹… ’’وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَبِّکُمْ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِّنْ رَبِّکَ طُغْیَانًا وَّکُفْرًا (مائدہ:۶۸)‘‘
۱۷۰… ’’وَلَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالنَّبِیِّ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِیَائَ (مائدہ:۸۱)‘‘
۱۷۱… ’’وَاِذَا سَمِعُوْا مَا اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ (مائدہ:۸۳)‘‘
۱۷۲… ’’وَقَالُوْا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ (انعام:۸)‘‘
۱۷۳… ’’قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتَابَ الَّذِیْ جَائَ بِہٖ مُوْسٰی (انعام:۹۱)‘‘
۱۷۴… ’’اُنْزِلَ الْکِتَابُ عَلٰی طَائِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا (انعام:۱۵۷)‘‘
۱۷۵… ’’لَوْ اَنَّا اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْکِتَابَ لَکُنَّا اَہْدٰی مِنْہُمْ (انعام:۱۵۸)‘‘
۱۷۶… ’’کِتَابٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ (اعراف:۲)‘‘
۱۷۷… ’’وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِیْ اُنْزِلَ مَعَہٗ (اعراف:۱۵۷)‘‘
۱۷۸… ’’وَیَقُوْلُوْنَ لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَبِّہٖ (یونس:۲۰)‘‘
۱۷۹… ’’لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ کَنْزٌ (ہود:۱۲)‘‘
۱۸۰… ’’فَاعْلَمُوْا اَنَّمَا اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰہِ (ہود:۱۴)‘‘
۱۸۱… ’’وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَبِّہٖ (رعد:۷)‘‘
۱۸۲… ’’اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ہُوَ اَعْمٰی (رعد:۱۹)‘‘
۱۸۳… ’’وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلاَ اُنْزِلَ اِلَیْہِ اٰیَۃً مِّنْ رَبِّہٖ (رعد:۲۷)‘‘
۱۸۴… ’’وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَفْرَحُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ (رعد:۳۶)‘‘
۱۸۵… ’’وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَائَ نَا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلَائِکَۃُ (فرقان:۲۱)‘‘
۱۸۶… ’’وَقُوْلُوْا اٰمَنَّا بِالَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَاُنْزِلَ اِلَیْکُمْ (عنکبوت:۴۶)‘‘
۱۸۷… ’’وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ الَّذِیْ اُنْزَلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ ہُوَ الْحَقُّ (سبا:۶)‘‘
۱۸۸… ’’ئَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ بَیْنِنَا (صٓ:۸)‘‘
۱۸۹… ’’وَاتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَبِّکُمْ (زمر:۵۵)‘‘

ان تمام ۱۸۹آیات میں نزول کے معنی اترنے کے ہیں۔ اگر چند مقامات پر نزل مجازاً اسباب وعلل مہیا کرنا یا پیدا ہونے کے معنی میں آیا ہے تو ان تمام آیات میں حقیقی معنی کو ترک کرنا دجل نہیں تو اور کیا ہے۔
علامات مسیح علیہ السلام اور مرزاقادیانی
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم

علامات مسیح علیہ السلام اور مرزاقادیانی​

قادیانی سوال:۱۲​

علامات مسیح ومرزاقادیانی سے متعلق بحث۔
جواب: احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کے متعلق ۱۷۵علامات ہیں جو موجودہ طبع ’’ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ‘‘ کے ساتھ بطور ضمیمہ کے شائع ہوئی ہیں۔ جس کا اردو ایڈیشن ’’علامات قیامت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے نام سے عام ملتا ہے۔ یہ ترجمہ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ نے کیا ہے، ان علامات میں سے چند ایک پیش خدمت ہیں۔
۱… حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آنے والے کا نام عیسیٰ علیہ السلام ہوگا۔ مرزاقادیانی کا نام غلام احمد قادیانی تھا۔ آنے والا بغیرباپ کے پیدا ہوا۔ مرزاقادیانی کے چھ فٹ کا غلام مرتضیٰ نامی ایک شخص باپ بیان کیا جاتا ہے۔
۲… آنے والے کا لقب مسیح روح اﷲ، کلمۃ اﷲ ہے۔ مرزاقادیانی کا لقب کوئی نہ تھا یا زیادہ سے زیادہ وہی سورمار جس کا حوالہ پہلے گزر چکا ہے۔
۳… آنے والے کی والدہ کا نام مریم ہے۔ مرزاقادیانی کی والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ اس کا لقب گھسیٹی مشہور عام بیان کیا جاتا ہے۔
۴… آنے والے کی والدہ کی عصمت وعفت کی قرآن مجید نے گواہی دی۔ مرزاقادیانی کی ماں کی کہانی اس وقت کے لوگوں کو معلوم ہوگی۔ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ مگر جس کا بیٹا اتنا مقدر والا تھا کہ اس کے صاحبزادے مرزامحمود کو مرزاقادیانی کے ایک مرید جو اس کو خط میں مسیح موعود لکھتے ہیں اور پھر وہ خط مرزامحمود نے اپنے خطبہ جمعہ میں لوگوں کو سنایا اور پھر مرزائی اخبار الفضل قادیان مورخہ ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء کو ص۷ کالم۱ پر شائع ہوا جس میں ہے کہ: ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ولی اﷲ ہے اور ولی اﷲ بھی کبھی کبھی زنا کیا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہے۔‘‘
یہ چراغ بی بی کے صاحبزادے کے کمالات ہیں تو غرض یہ کہ مرزاقادیانی میں ایک نشانی بھی عیسیٰ علیہ السلام والی نہ پائی جاتی تھی۔
۵… اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ مرزاقادیانی کی ماں کے پیٹ سے نکلا۔
۶… وہ فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کرآئیں گے مرزاکو دائی نے وصول کیا۔
۷… عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہوگا۔ گویا غسل کر کے آئے ہیں جب کہ مرزانفاس کے خون میں لت پت تھا۔
۸… مسیح علیہ السلام نے تشریف آوری کے وقت دوچادریں پہن رکھی ہوں گی۔ جب کہ مرزاقادیانی پیدائش کے وقت الف ننگا تھا۔
۹… مسیح علیہ السلام تشریف آوری کے وقت خوش وخرم ہوں گے۔ جب کہ مرزاقادیانی چیں چیں کرتا ہوا نکلا۔
غرض یہ کہ ۱۷۵علامات میں سے کوئی ایک علامت بھی مرزاقادیانی میں نہ پائی جاتی تھی کہ مرزاقادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ کسی قسم کی مشابہت نہیں رکھتا تھا۔

قادیانیوں سے دس سوال​

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰) پر لکھا ہے۔
۱… وہ دو زرد چادروں کے ساتھ اترے گا۔
۲… نیز یہ کہ وہ فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔
۳… نیز یہ کہ کافر اس کے دم سے مریں گے۔
۴… نیز یہ کہ وہ ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا وہ غسل کر کے ابھی حمام سے نکلا ہے اور پانی کے قطرے اس کے سر پر موتی کے دانے کی طرح ٹپکتے نظر آئیں گے اور یہ کہ دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔
۵… نیز یہ کہ وہ صلیب کو توڑے گا۔
۶… نیز یہ کہ وہ خنزیر کو قتل کرے گا۔
۷… نیز یہ کہ وہ نکاح کرے گا اور اس کی اولاد ہوگی۔
۸… نیز یہ کہ وہی ہے جو دجال کا قاتل ہوگا۔
۹… نیز یہ کہ مسیح موعود قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ فوت ہوگا۔
۱۰… اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں داخل ہوگا۔
یہ دس علامات خود مرزاقادیانی نے سیدنا مسیح علیہ السلام کی تسلیم کی ہیں۔ مرزاقادیانی کی تحریف سے ہٹ کر ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ، اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، لیکن، لہٰذا، استعارہ، کنایہ کی بھول بھلیوں سے نکل کر ساری دنیا کے قادیانی ان علامات مسیح علیہ السلام میں سے کوئی ایک علامت مرزاقادیانی میں دکھا سکتے ہیں؟

علامات مسیح علیہ السلام پر قادیانی تحریفات کے جوابات​

قادیانی سوال:۱۳​

علامت نمبر:۱… عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت کیا حالت ہوگی؟
جواب: جس وقت وہ نازل ہوں گے اس وقت انہوں نے دو زرد رنگ کی چادریں پہن رکھی ہوں گی۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ زرد رنگ کی چادروں سے مراد بیماری ہے۔
’’مجھے بھی دو مرض لاحق ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں دوران سر اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰ کثرت پیشاب کی تشریح مرزاقادیانی کی دوسری کتاب نسیم دعوت ص۷۰، خزائن ج۱۹ ص۴۳۴) پر ہے: ’’بعض دفعہ سو سو مرتبہ ایک ایک دن میں پیشاب آتا ہے اور بوجہ اس کے پیشاب میں شکر ہے اور کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے۔‘‘
اب آپ انصاف فرمائیں کہ دنیا کی کسی لغت کی کتاب میں چادر کا معنی بیماری ہے؟ فقیر نے سعودی عرب، انڈونیشیا، سنگاپور، ملائیشیاء، تھائی لینڈ، برطانیہ، سری لنکا، شام، مصر، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، کینیڈا کا سفر کیا ہے۔ آج تک مجھے کوئی ایسی کتاب نہیں ملی جس میں چادر کا معنی بیماری لکھا ہو اور وہ بھی پیشاب کی۔ وہ بھی ایسے جیسے ٹوٹا ہوا لوٹا جو ہر وقت بہتا رہتا ہے۔ سوچئے کہ کس طرح مرزاقادیانی نے احادیث کا مذاق اڑایا ہے؟ دوران سر کو مرزاقادیانی نے ہسٹیریا سے تعبیر کیا ہے۔ جیسے اس کی بیوی کا بیان ہے جو (سیرت المہدی ج۱ ص۱۶،۱۷) پر درج ہے۔ ’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل (پسر مرزا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا… اس کے بعد آپ (مرزا) کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہوگئے۔‘‘

قادیانی سوال:۱۴​

علامت نمبر:۲… مرزاقادیانی نے علامات مسیح بیان کرتے ہوئے علامت نمبر۲ میں دو فرشتوں سے مراد دو غیبی طاقتیں لیا ہے۔
جواب: یہ حدیث کے ساتھ مرزاقادیانی کا ’’ناروا استہزا‘‘ ہے۔ دو فرشتوں سے مراد حقیقتاً دو فرشتے ہیں جو اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ساتھ بھیجیں گے۔ ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔ عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ ایک دفعہ مرزاقادیانی نے کہا کہ فرشتوں سے مراد میرے یہ دو آدمی ہیںجو مجھے ملے ہیں۔ جب قادیانی جماعت اختلاف کا شکار ہوئی اور قادیانی ولاہوری جماعت میں بٹ گئی تو مرزابشیرالدین نے کہا کہ لاہوری منافق ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان میں تو وہ بھی ہے جن کو حضرت نے فرشتہ قرار دیا تھا۔

قادیانی سوال:۱۵​

علامت نمبر:۳… عیسیٰ علیہ السلام کے دم سے کافر مریں گے۔ مرزاقادیانی نے اس کی توجیہ یہ کی کہ اس کی وجہ سے کافر ہلاک ہوں گے۔
جواب: بالکل ٹھیک ہے اس میں کیا حرج ہے۔ حدیث کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی دجال پگھلنا شروع ہو جائے گا۔ جیسے نمک پانی میں اور جہاں تک ان کی سانس پہنچے گی کافر مرتے جائیں گے۔ یہ حدیث ظاہر پر محمول ہے بالکل اسی طرح وقوع ہوگا۔ آج انسان نے ایسی چیزیں ایجاد کی ہیں جیسے اشک آور گیس جہاں تک اس کا اثر پہنچتا ہے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسا ’’بم‘‘ تیار ہوچکا ہے۔ اگر وہ چلا دیا جائے تو تمام دنیا کے آکسیجن جلنے کے باعث دم گھٹنے سے مر جائے۔ یہ ساری انسان کی طاقت ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اﷲتعالیٰ کی قدرت اور نصرت ہوگی۔ ان سے کیا کچھ نہ ہوگا۔ انسانی طاقت سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ خدا کی قدرت سے کیوں نہ ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پوری ہوگی۔

قادیانی سوال:۱۶​

علامت نمبر:۴… حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا وہ غسل کر کے آیا ہے کہ گویا موتی ٹپک رہے ہیں۔ مرزاقادیانی نے (حقیقت الوحی ص۳۰۸، خزائن ج۲۲ ص۳۲۱) پر توضیح کی ہے کہ وہ تضرع وزاری ایسی کرے گا کہ گویا اس سے باربار غسل کرے گا اور پاک غسل کے پاک قطرے موتیوں کی طرح اس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں۔
جواب: ۱… تمام انبیاء علیہم السلام اﷲتعالیٰ کی بارگاہ میں تضرع وزاری کرتے ہیں تو ان کے متعلق کیوں نہیں کہاگیا کہ ان کے سر کے بالوں سے موتیوں کی طرح پانی ٹپکتا تھا، اس سے ثابت ہوا کہ یہ تضرع کا عمل نہیں بلکہ حقیقی پانی کا ٹپکنا مراد ہے۔
جواب: ۲… توبہ وزاری سے پانی آنکھوں سے ٹپکتا ہے نہ کہ سر سے۔
جواب: ۳… مرزاقادیانی کا یہ عذر سفید کذب وافتراء اور تحریف فی الحدیث ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات اس طرح گرتے ہوں گے کہ ابھی غسل کر کے تشریف لائے ہیں۔ اس کی محدثین نے دو توجیہات کی ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔
۱… جس وقت تشریف لے گئے تھے اس وقت غسل کر کے فارغ ہوئے تھے کہ آسمانوں پر اٹھا لئے گئے تو جب آسمانوں پر گئے تو سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ جب واپس تشریف لائیں گے تو بھی بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا، آج کل کی سائنس نے یہ مسئلہ بھی حل کر دیا کہ واٹر کولر میں چوبیس گھنٹہ پانی جوں کا توں رہتا ہے۔ خراب نہیں ہوتا۔ فریج میں کسی چیز کو ہفتہ بھر جوں کا توں رکھا جاسکتا ہے۔ اگر کسی چیز کو کولڈ اسٹور میں رکھ دیں تو جوں کی توں سال بھر رہے گی خراب نہیں ہوگی۔ اگر انسان اپنی عقل وہمت سے کسی چیز کو سنبھالنا جاہے جوں کا توں ایک دن ایک ہفتہ ایک سال تک سنبھال سکتا ہے۔ مگر رب کریم کی قدرت کو دیکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام جس حالت میں گئے تھے جوں کے توں اسی حالت میں تشریف لائیں گے۔ انسان کی ہمت کی جہاں انتہاء ہوتی ہے رب العزت کی قدرت کی وہاں سے ابتداء ہوتی ہے۔ جب تشریف لے گئے تھے تو بھی بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا جب واپس تشریف لائیں گے تو بھی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔
ْ ۲… توجیہ یہ لکھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بال مبارک ایسے نرم ونازک گھنگریالے اور تاب دار ہوں گے کہ ان پر نظر نہ ٹھہر سکے گی۔ ایسے محسوس ہوتا ہوگا کہ سر کے بالوں سے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ اگرچہ ان کو تری نہ پہنچی۔ یہ دونوں توضیحات صحیح ہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔

قادیانی سوال:۱۷​

علامت نمبر:۵… حضرت عیسیٰ علیہ السلام، دجال کے مقابلہ میں خانہ کعبہ کا طواف کریں گے۔ (استغفراﷲ) یعنی یہ کہ دجالی طاقتیں چور کی طرح بیت اﷲ کا طواف کریں گی، ان کے مقابلہ میں عیسیٰ علیہ السلام طواف کریں گے۔ یعنی ان کو مٹا دیں گے۔ (حقیقت الوحی ص۳۱۰، خزائن ج۲۲ ص۳۲۳)
جواب: حدیث شریف پر افتراء ہے یہ مرزاقادیانی کے ذہن کی پیداوار ہے۔ آج تک کسی محدث نے یہ مطلب نہیں لکھا، مرزاقادیانی کی یہ تاویل باطل ہے۔ احادیث اور خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے خلاف ہے۔ حدیث میں ہے کہ دجال ہر جگہ جائے گا، مگر مکہ اور مدینہ نہیں جائے گا۔ جب کہ مرزاقادیانی کہتا ہے کہ چوروں کی طرح بیت اﷲ کا طواف کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قتل دجال سے فراغت کے بعد عیسیٰ علیہ السلام مکہ مکرمہ آئیں گے۔ حج یا عمرہ یا دونوں کریں گے۔ بیت اﷲ سے فارغ ہونے کے بعد روضہ طیبہ پر آئیں گے۔ وہ سلام کہیں گے میں سنوں گا میں جواب دوں گا وہ سنیںگے، تفصیل کے لئے دیکھئے۔
’’ التصریح، بما تواتر فی نزول المسیح‘
اب ان الفاظ کو سامنے رکھیں تو مرزائیوں کی کوئی تاویل نہیں چل سکتی، ہاں! البتہ مرزاقادیانی کی یہ تاویل خود قادیانیوں پر فٹ ہے کہ دعویٰ نبوت کرنے والا دجال اور وہ ہے مرزاقادیانی، اسے ماننے والی دجالی طاقت ان کے ہو گئے دو گروہ۔ تو دجالی طاقت کی بجائے دو طاقتیں ہوگئے، ان کے حرم کعبہ پر جانے پر پابندی ہے تو یہ چوروں کی طرح چوری جاکر طواف کرتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام ان کے مقابل پر آکر طواف کریں گے، یعنی ان کو مٹادیں گے اس لئے جب حقیقی مسیح آجائے گا تو جھوٹے مسیح کو ماننے والا کوئی نہیں رہے گا۔ پس مرزاقادیانی کی تاویل خود مرزائیوں پرفٹ آتی ہے۔

قادیانی سوال:۱۸​

علامت نمبر:۶… حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے، مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰) پر یہ کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ صلیبی عقیدہ کو توڑے گا۔ مرزاقادیانی نے اپنی اس کتاب کے (ص۳۱۱، خزائن ج۲۲ ص۳۲۴) میں اس کی تاویل یہ کی ہے کہ صلیب سے مراد لکڑی سونا چاندی نہیں بلکہ صلیبی عقیدہ کو توڑیں گے۔
جواب: یہودی عیسائی جو مقابلہ کریں گے مارے جائیں گے۔ باقی ماندہ مسلمان ہو جائیں گے تو جب صلیب والے نہ رہے تو صلیب کب رہے گی؟ جو صلیب کے پرستار تھے وہ مسلمان ہوکر صلیب شکن بن جائیں گے۔ اس لئے یہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوگا۔ آپ کے حکم سے ہوگا۔ اس لئے صلیب شکنی کی آپ کی طرف نسبت کر دی گئی۔ باقی مرزاقادیانی کا یہ تاویل کرنا کہ صلیبی عقیدہ کو توڑے گا۔ یہ باطل ہے اس لئے کہ بقول مرزاقادیانی کے اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو وفات شدہ کہہ کر عیسائیوں کے عقیدہ کو توڑا اس سے عیسائیوں کی صحت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ دنیا میں ایک بھی مسیحی، عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا منکر نہیں ہے تو اس سے عیسائیوں کا عقیدہ کب ٹوٹا؟ پس ثابت ہوا کہ صلیب شکنی سے مراد حقیقی صلیب کو توڑنا ہے نہ کہ صلیبی عقیدہ کو۔
۲… اگر کسر صلیب سے مراد صلیبی عقیدہ کو توڑنا ہے تو ’’ وما صلبوہ ‘‘ کہہ کر قرآن مجید اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کسر صلیب فرمادی۔ پس ثابت ہوا کہ حدیث میں ’’یکسر الصلیب‘‘ کی نسبت سیدنا مسیح علیہ السلام کی طرف حقیقی صلیب کو توڑنا ہی مراد ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام صلیب پرست مسلمان ہو جائیں گے تو صلیب کو پوجنے والے اس کو توڑنے والے ہوں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کے زمانہ میں ہوگا اس لئے وہ کاسر صلیب قرار پائیں گے۔

قادیانی سوال:۱۹​

علامت نمبر:۷… نیز یہ کہ وہ بیوی کرے گا اور اس کی اولاد ہوگی۔ اس کی مرزاقادیانی نے (انجام آتھم ص۳۳۷، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ) پر یہ تاویل لکھی ہے: ’’(اس پیشین گوئی کی محمدی بیگم والی) تصدیق کے لئے جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے۔ ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ یعنی مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہرہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خرابی نہیں بلکہ تزوج سے مراد ایک خاص تزوج جو بطور نشان ہوگا۔ اس جگہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں۔‘‘
جواب: مرزاقادیانی نے محمدی بیگم سے شادی کے شوق میں حدیث شریف میں تحریف کی ہے ورنہ حدیث شریف میں ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ محض اس لئے فرمایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رفع سے قبل شادی نہیں کی تھی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ نزول کے بعد شادی کی سنت پر عمل کریں گے اور یہ کہ ان کی اولاد ہوگی (ایک روایت کے مطابق دو صاحبزادے ہوں گے ایک کا نام محمد، دوسرے کا نام موسیٰ رکھیں گے) دوسرا یہ کہ مرزائیوں کا یہ اعتراض ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اتنا لمبا قیام کریں گے تو مرور زمانہ کا ان کی صحت پر ایسا اثر ہوگا کہ وہ پیر فرتوت ہوگئے ہوں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث شریف میں یہ جواب دیا کہ وہ اتنے طاقتور ہوں گے کہ وہ شادی کریں گے اوراتنے ہمت والے ہوں گے کہ ان کی اولاد بھی ہوگی۔ مرور زمانہ کا واپسی پران پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ باقی رہی یہ بات کہ اس سے مراد محمدی بیگم تو اس کا جوحال ہوا وہ سب جانتے ہیں۔

قادیانی سوال:۲۰​

علامت نمبر:۸… عیسیٰ علیہ السلام، دجال کو قتل کریں گے۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۱۳، خزائن ج۲۲ ص۳۲۶) پر اس کی تاویل یہ کی ہے کہ دجال کو قتل کریں گے اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے ظہور سے دجالی فتنہ روبزوال ہو جائے گا۔
جواب: ۱… دجال سے مراد حقیقتاً قتل دجال ہے۔ جیسا کہ (مشکوٰۃ شریف ص۴۷۹) کی حدیث سوال نمبر:۹ کے ذیل میں درج کی جاچکی ہے۔
جواب: ۲… مرزاقادیانی کی یہ تاویل بھی غلط ہے اس لئے کہ یہ خود کو مسیح کہتا ہے اور اپنے ظہور سے دجالی فتنہ کے روبزوال ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے زمانہ میں تو درکنار اس کے مرنے کے بعد بھی عیسائیت مزید ترقی کرتی گئی، حوالہ یہ ہے کہ: ’’کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت ہندوستان میں عیسائیوں کے ۱۳۷؍مشن کام کر رہے ہیں، یعنی ہیڈمشن ان کی برانچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہیڈ مشنوں میں ۱۸۰ سے زیادہ پادری کام کر رہے ہیں۔ ۴۰۳؍ہسپتال ہیں جن میں ۵۰۰؍ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔ ۴۳؍پریس ہیں اور تقریباً ۲۰؍اخبارات مختلف زبانوں میں چھپتے ہیں۔ ۵۱؍کالج، ۴۱۷؍ہائی سکول اور ۴؍ٹریننگ کالج ہیں۔ ان میں ۶۰۰۰۰؍طالب علم تعلیم پاتے ہیں۔ مکتی فوج میں ۳۰۸؍یورپین اور ۲۸۸؍ہندوستانی مناد کام کر رہے ہیں۔ اس کے ماتحت ۵۰۷؍پرائمری اسکول ہیں جن میں ۱۸۶۷۵؍طالب علم ہیں۔ ۱۸؍بستیاں اور ۱۱؍اخبارات ان کے اپنے ہیں۔ اس فوج کے مختلف اداروں کے ضمن میں ۳۲۹۰؍آدمیوں کی پرورش ہورہی ہے اور ان سب کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ روزانہ دو سو چوبیس مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان میں عیسائی ہورہے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان کیا کر رہے ہیں؟ تو وہ اس کام کو شاید قابل توجہ بھی نہیں سمجھتے۔ احمدی جماعت کو سوچنا چاہئے کہ عیسائی مشنوں کے اس قدر وسیع جال کے مقابلہ میں اس کی مساعی کی حیثیت کیا ہے۔ ہندوستان بھر میں ہمارے دو درجن مبلغ ہیں اور وہ بھی جن حالات میں کام کر رہے ہیں انہیں ہم لوگ خوب جانتے ہیں۔‘‘ (اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۹؍جون ۱۹۱۴ء ص۵)
نوٹ: مرزاقادیانی ۱۹۰۸ء میں مرا تھا۔ یہ مرزائیوں کے اخبار ۱۹۴۱ء کی رپورٹ ہے کہ عیسائیت ترقی کر رہی ہے۔ اس کے مرنے کے ۳۳سال کے بعد کی رپورٹ نے ثابت کر دیا کہ دجالی فتنہ روبزوال ہونے والی اس کی تاویل بھی غلط ہے۔ ان سطور کی تحریر کے وقت امریکہ کا صدر بش صلیب پرست، عراق، افغانستان میں جو اودہم مچائے ہوئے ہے وہ مرزاقادیانی ملعون کی تاویل بد کے ابطال کے لئے کافی ہے۔
 

محمد اسامہ حفیظ

رکن ختم نبوت فورم

قادیانی سوال:۲۱​

علامت نمبر:۹… کیا مرزاقادیانی کو یہ تسلیم تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ طیبہ میں دفن ہوں گے۔
جواب: (ازالہ اوہام ص۴۷۰، خزائن ج۳ ص۳۵۲) اس میں مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔‘‘ اب فرمائیں کہ مرزاقادیانی کو یہ نشانی تسلیم تھی یا نہ؟ اگر تھی تو اس میں پوری ہوئی یا نہ؟ اگر نہیں تو تسلیم کریں کہ مرزاقادیانی جھوٹا تھا۔ ایک بات اور بھی عرض کرتا ہوں کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘ (تذکرہ طبع دوم ص۵۸۴، طبع چہارم ص۵۹۱)
پہلے اس مرزاقادیانی کے الہام پر غور کریں کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ اگر یہ الہام رحمانی ہوتا تو الہام میں ’’یا‘‘ کا لفظ نہ ہوتا۔ یہاں پر لفظ ’’یا‘‘ شک کے لئے استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ خدائی کلام شک سے پاک ہوتاہے۔ اس میں لفظ ’’یا‘‘ دلیل ہے اس بات کی کہ مرزاقادیانی کو الہام، رحمان سے نہیں بلکہ شیطان سے ہوا۔
۲… اگر رحمانی الہام ہوتا تو مرزاقادیانی مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ میں سے کسی شہر میں فوت ہوا۔ کہاں فوت ہوا اور کس حالت میں، یہ سب کو معلوم ہے۔ مرزاقادیانی نے اس کی تاویل یہ کی کہ مکی فتح ہوگی یا مدنی، ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں، مرنے کا معنی فتح کرنا دنیا کی کسی لغت میں دکھا دیں تو کرم ہوگا۔ اگر دکھا دو تو پھر میری درخواست ہوگی کہ اگر موت کا معنی فتح ہے تو تمام قادیانی زہر کا پیالہ پی کر اکٹھے مرجائیں تاکہ سب کی اکٹھی فتح ہو جائے یا یہ کہ دنیا آپ کے شر سے بچ جائے۔ ایک بات یہ بھی یاد رکھیں کہ نبی کو فوت ہونے سے پہلے اختیار دیا جاتا ہے۔ ’’بخاری شریف‘‘ میں موسیٰ علیہ السلام اور ملک الموت کا واقعہ ایک مشہور امر ہے کہ بغیر اجازت کے فرشتہ نبی کے گھر قدم نہیں رکھتا اور جھوٹے کو لیٹرین سے نہیں اٹھنے دیتا۔ ایک یہ بھی درخواست ہے کہ نبی جہاں فوت ہو وہیں دفن ہوتا ہے۔ اگر مرزاقادیانی نبی تھا تو جہاں قے اور دستوں کی کشتی سے مرزاقادیانی کی موت واقع ہوئی وہاں پر دفن ہوتا۔ پھر مرزائی اس پر سلام پڑھنے کے لئے وہاں تشریف لے جاتے تو دستوں اور اجابتوں کی جگہ کو بھی رنگ لگ جاتے۔

قادیانی سوال:۲۲​

علامت نمبر:۱۰… مسیح موعود کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ فوت ہوگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں داخل کیا جائے گا۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۱۳، خزائن ج۲۲ ص۳۲۶) پر اس کی تاویل یہ کی کہ اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب ہوگا۔ ظاہری تدفین مراد نہیں اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ طیبہ کھولا گیا تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین لازم آئے گی۔
جواب: روضہ طیبہ کی دیواروں کو توڑا نہیں جائے گا۔ ایک دیوار جالی مبارک والی ہے جہاں پر کھڑے ہوکر درود وسلام پڑھا جاتا ہے۔ اس میں تو دروازہ موجود ہے۔ مسلم سربراہان اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام کے لئے کھولا جاتا ہے۔ آگے والی دیوار مبارک جس پر پردہ مبارک ہے۔ قبور مقدسہ تک جتنی دیواریں یا پردے ہیں ان سب میں دروازے موجود ہیں۔ بعد میں ان کو چن دیا گیا۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین ہوگی تو معمولی سی کوشش سے ان دروازوں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہ ہوگی۔ نیز یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اقدس کو پورا کرنے کے لئے تمام رکاوٹوں کو دور کرناآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عین اطاعت ہے نہ کہ توہین، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے ساتھ دفن کی جاؤں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ کیونکہ وہاں چار قبروں (میری، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم ، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم ، عیسیٰ علیہ السلام) کے سوا اور جگہ ہی نہیں۔ (کنزالعمال بہ حاشیہ مسند احمد ج۶ ص۵۷، ابن عساکر ج۲ ص۱۵۴)
یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کا مرض الوفات تھا تو آپ نے فرمایا کہ میری تدفین جنت البقیع میں ہو۔ آپ کے عزیزوں نے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ایک قبر مبارک کی جگہ باقی ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے فرمایا کہ اس کی ریزرویشن نبی علیہ السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمادی ہے۔ وہی یہاں پر دفن ہوں گے۔ چنانچہ آج تک روضہ شریف میں وہ جگہ، پکار پکار کر مرزائیت کے غلط عقائد کا اعلان کر رہی ہے تو یہ حدیث شریف ظاہر کر رہی ہے کہ قبر کا معنی مقبرہ ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ (کتاب الجنائز ص۱۴۳) پر ایک ساتھ دو حدیثیں ہیں ایک ہی امر سے متعلق ایک حدیث شریف میں قبر کا لفظ ہے۔ دوسری حدیث میں ’’مقبرہ‘‘ کا لفظ ہے۔ ایک ہی امر کے لئے ایک حدیث میں قبر اور دوسری میں اسی امر سے متعلق مقبرہ کا لفظ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ قبر بمعنی مقبرہ بھی مستعمل ہے۔
(مرقات برحاشیہ مشکوٰۃ کتاب الفتن ص۵۱۳) پر ہے کہ: ’’ فیدفن فی الحجرۃ الشریفۃ ‘‘ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ قبر بمعنی مقبرہ ہے۔ قرآن مجید میں بھی بعض جگہ ’’فی‘‘ بمعنی مع کا مستعمل ہے۔ جیسے فرمایا: ’’بورک من فی النار‘‘ (نمل) یعنی موسیٰ علیہ السلام پر برکت نازل کی گئی جو آگ کے قریب تھا، نہ کہ اندر۔ چنانچہ (تفسیر کبیر ج۶ ص۴۳۶) پر اسی آیات کے تحت علامہ رازی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ وہذا اقرب لان القریب من الشی قدیقال انہ فیہ ‘‘ کبھی کبھار قریب ترین کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بھی اس میں ہے۔
خود (ازالہ اوہام ص۴۷۰، خزائن ج۳ ص۳۵۲) پر مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔‘‘ اس حوالہ میں بھی مرزاقادیانی نے قبر بمعنی مقبرہ یعنی روضہ کے تسلیم کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: ’’ فیدفن عیسٰی معی فی قبری ‘‘ کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوں گے۔ اس کا یہی معنی ہے کہ میرے ساتھ میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔

۲۳؍احادیث شریف سے سیدنا مسیح علیہ السلام کی ۲۰؍تصریحات​

۱… ’’سیدنا عیسیٰ علیہ السلام‘‘ تفسیر فتح العزیز میں سورۃ التین کے ذیل میں ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے متعلق ہے کہ جب وہ بیت المقدس کی زیارت اور مسجد اقصیٰ میں نماز سے فارغ ہوئیں تو جبل زیت پر چڑھیں۔ وہاں نماز پڑھی اور فرمایا: ’’ ہذا الجبل ہو الذی رفع منہ عیسٰی علیہ السلام الی السماء ‘‘ یہ وہ پہاڑ ہے جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اٹھائے گئے۔ اس لئے مسیحی حضرات آج تک اس پہاڑ کی قدرومنزلت کرتے ہیں۔ (التصریح طبع ملتان ص۲۵۸)
۲… لم یمت: حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ: ’’ ان عیسٰی لم یمت ‘‘ عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے۔ (التصریح ص۲۴۳، بحوالہ ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶، ۵۷۶، ابن جریر ج۳ ص۲۸۹)
۳… رجوع: اسی روایت میں ہے: ’’ انہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ ‘‘ کہ وہ قیامت سے قبل تم (امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ) میں دوبارہ واپس لوٹیں گے۔ (حوالہ مذکور)
۴… یاتی علیہ الفنا: ربیع بن انس بکرمی تابعی رحمہ اللہ تعالیٰ مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ سے گفتگو کے دوران فرمایا: ’’ان عیسٰی یاتی علیہ الفناء‘‘ کہ عیسیٰ علیہ السلام پر فنا (موت) آئے گی۔
(التصریح ص۲۳۷، الدر المنثور ج۲ ص۳)
۵… نزول: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول کی صراحت فرمائی جیسے: ’’ کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم ‘‘ (بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)
(اے امت محمدیہ) اس وقت تمہاری (خوشی کی) کیا حالت ہوگی جب تم میں ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) نازل ہوں گے۔
۶… بعثت الٰی الارض: اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کو بعثت سے تعبیر کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی: ’’ اذ بعث اللّٰہ عیسٰی ابن مریم ‘‘ پھر اﷲتعالیٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجیں گے۔
(مسلم ج۱ ص۴۰۰، باب ذکرالدجال عن نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم )
۷… ہبوط: ’’ لیہبطن عیسٰی ابن مریم حکمًا عدلً ا‘‘
(کنزالعمال ج۱۴ ص۳۳۵، حدیث نمبر۳۸۸۵۱، ابن عساکر ج۲۰ ص۱۴۴)
اس میں ہبوط الی الارض کا ذکر ہے۔
۸… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسیٰ علیہ السلام: ’’ لم یکن بینی وبینہ نبی انہ نازل ‘‘
(کنزالعمال ج۴ ص۳۳۶، حدیث نمبر۳۸۸۵۶، ابن عساکر ج۲۰ ص۹۱)
وہ عیسیٰ علیہ السلام کہ میرے اور جن کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہی نازل ہوں گے۔
۹… عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیحدہ علیحدہ شخصیات: ’’ کیف بکم اذ نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم ‘‘ (کنز العمال ج۱۴ ص۳۳۴، حدیث نمبر۳۸۸۴۵، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)
تمہاری کیا حالت ہوگی کہ جب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام اور سیدنا مہدی کو دو علیحدہ علیحدہ شخصیات بیان کیاگیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ’’فیکم‘‘ اور مہدی کے متعلق ’’ منکم ‘‘ کے الفاظ ہیں۔
۱۰… پہلی نماز امامت مہدی میں: عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو سیدنا مہدی علیہ الرضوان ان سے عرض کریں گے: ’’ تعال صل لنا ‘‘ تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے آپ پڑھائیں: ’’ تکرمۃ لہٰذہ الامۃ ‘‘ (کنزالعمال ج۱۴ ص۳۳۴، حدیث نمبر۳۸۸۴۶، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)
۱۱… باقی نمازوں کی امامت: پہلی نماز کے علاوہ زندگی بھر بقیہ نمازوں کی امامت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: ’’ اذا نزل ابن مریم فیکم فامکم ‘‘
(کنزالعمال ج۱۴ ص۳۳۲، حدیث نمبر۳۸۸۴۰، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)
جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو امامت کرائیں گے۔
۱۲… نزول من السماء: ’’ینزل اخی عیسٰی بن مریم من السماء‘‘
(کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹، حدیث نمبر۳۹۷۲۶، ابن عساکر ج۲۰ ص۱۴۹)
۱۳… تین شخصیتیں علیحدہ علیحدہ: ’’ کیف تہلک امۃ انا اولہا والمہدی وسطہا والمسیح آخرہا (مشکوٰۃ ص۵۸۳، باب ثواب ہذہ الامۃ) ‘‘ وہ امت کیونکر ہلاک ہو گی جس کے اوّل میں میں (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) اور درمیان میں مہدی (علیہ الرضوان) اور آخر میں مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) ہوں۔
۱۴… نزول کے بعد عرصۂ قیام: عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد دنیا میں پینتالیس سال قیام فرمائیں گے۔ (التصریح ص۲۴۰، مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
بعض روایات میں چالیس سال کا بھی ذکر ہے۔ ان میں اختلاف نہیں۔ جنہوں نے کسر شمار کی پینتالیس فرمادیا۔ جنہوں نے کسر شمار نہیں کی چالیس فرمادیا۔
۱۵… پھر فوت ہوں گے: ’’ ثم یتوفی ‘‘ پھر فوت ہوں گے۔
(التصریح ص۱۴۰، ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب ذکر الدجال)
۱۶… نماز جنازہ وتدفین: ’’ فیصلی علیہ المسلمون ویدفنونہ ‘‘
(التصریح ص۱۴۰،۱۲۰، مسند احمد ج۲ ص۴۳۷)
پس مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔
۱۷… روضہ شریف میں تدفین: ’’ فیدفن معہ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن ہوں گے۔
(ترمذی ج۲ ص۲۰۲)
۱۸… قبر مبارک کی جگہ باقی ہے: ’’ فقال ابو مودود قد بقی فی البیت موضع قبر ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ طیبہ میں ایک قبر مبارک کی جگہ باقی ہے۔ (ترمذی ج۲ ص۲۰۲)
۱۹… چوتھی قبر مبارک ہوگی: ’’ لیدفن عیسٰی بن مریم مع رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعً ا‘‘ (درمنثور ج۲ ص۲۴۵،۲۴۶)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ساتھیوں (سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم ) کے ساتھ دفن ہوں گے اور ان کی قبر مبارک چوتھی ہوگی۔
۲۰… آپ نہ، عیسیٰ علیہ السلام: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے اپنے ساتھ دفن ہونے کی اجازت بخشیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہاں (۱)میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم )، (۲)ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم ، (۳)عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم ، (۴)عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے۔ (التصریح ص۸۳،۲۲۷، کنزالعمال ج۱۴ ص۶۲۰، حدیث نمبر۳۹۷۲۸)
قارئین ان تصریحات کے بعد بھی کوئی قادیانی نہ مانے تو ہم اسے حوالہ بخدا کرتے ہیں۔

قادیانی سوال:۲۴​

حدیث شریف میں ہے کہ مومن قبر میں رکھا جاتا ہے تو حد نگاہ تک اس کی قبر فراخ ہو جاتی ہے اور گنہگار کی قبر یہاں تک تنگ ہو جاتی ہے کہ مردہ کی پسلیاں آپس میں مل جاتی ہیں تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک فراخ ہوتے ہوتے قادیان تک پہنچ گئی۔ مرزاقادیانی قادیان میں دفن ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ طیبہ میں دفن ہوئے۔ (العیاذ باﷲ)
جواب: ۱… حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے فرمایا کہ مجھے جنت البقیع میں دفن کیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روضہ طیبہ میں جو چوتھی قبر مبارک کی جگہ خالی ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مخصوص ہے۔ اس حدیث شریف سے یہ بات ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تدفین کی خصوصیت مراد ہے۔ ورنہ تو جنت البقیع اور پورے مدینہ والے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن ہوئے۔
۲… پھر یہ بھی سوچا کہ مدینہ طیبہ سے قادیان جانا ہو تو راستہ میں جدہ، کراچی، حیدرآباد، سکھر، صادقآباد، رحیم یارخان، بہاول پور، ملتان، خانیوال، ساہیوال، قصور، لاہور، بٹالہ آتے ہیں۔ اس کے بعد پھر قادیان آتا ہے تو جدہ سے لے کر قادیان تک جتنے غیرمسلم دفن ہیں کیا وہ روضہ طیبہ کی فراخی کے باعث اسی میں داخل ہیں؟
۳… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنھم کے ساتھ دفن ہوں گے۔ محدثین نے صراحت کی کہ چوتھی قبر عیسیٰ علیہ السلام کی ہوگی۔ پس ثابت ہوا کہ قبر مبارک کی معنوی وسعت مراد نہیں بلکہ روضہ طیبہ جہاں اور دو حضرات کی قبور مبارکہ ہیں وہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین مراد ہے۔
 
Top